یہ تحریر اس معاشرے کے نام ہے جو اپنے بچوں سے مستقبل تو مانگتا ہے، مگر انہیں انصاف نہیں دیتا۔
کبھی کبھی قومیں جنگوں سے تباہ نہیں ہوتیں،بلکہ امتحان گاہوں میں خاموشی سے مر جاتی ہیں۔
ایک کمرہ۔ایک میز۔ایک ایڈمٹ کارڈ۔پانی کی بوتل کے ساتھ رکھا ہوا خواب۔اور سامنے بیٹھا ایک اٹھارہ سالہ نوجوان — جس کی آنکھوں میں ڈاکٹر بننے کی ضد ہے، ماں کی امید ہے، باپ کے قرض کی نمی ہے، اور معاشرے کے طعنے کا خوف ہے۔پھر اچانک اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دو سالہ جہاد کو کسی واٹس ایپ گروپ نے “فارورڈ” کر دیا تھا۔اور ریاست کہتی ہے”سسٹم آلودہ پایا گیا۔”
کیا خوب لفظ ہے — آلودہ۔
گویا یہ کوئی دریا تھا جس میں غلطی سے گندگی آگئی۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دریا نہیں، پورا نظام ہی ایک سیوریج لائن میں تبدیل ہو چکا ہے۔ہمارانظام جو امتحان نہیں لیتا، اعصاب نچوڑتاہے۔
ہندوستان میں تعلیم اب علم کا سفر نہیں رہی،یہ ایک نفسیاتی شکنجہ بن چکی ہے۔یہاں طالبِ علم کتاب نہیں پڑھتا،بلکہ اپنی ذہنی قبر کھودتا ہے۔
صبح کے کوچنگ ٹیسٹ۔رات کے MCQs۔یوٹیوب لیکچرز۔ریویژن شیٹس۔اور ان سب کے درمیان ایک نوجوان کی آہستہ آہستہ مرتی ہوئی شخصیت۔
NEET اب امتحان نہیں رہا؛
یہ ہندوستانی متوسط طبقے کے بچوں کے لیے ایک جدید کولوسیم (Colosseum) بن چکا ہے، جہاں ہزاروں نوجوانوں کو ایک دوسرے کے خلاف پھینک دیا جاتا ہے — تاکہ آخر میں صرف چند لوگ “قابل” قرار دیے جائیں۔اور پھر ایک دن پتا چلتا ہے کہ مقابلہ علم سے نہیں،”پیپرلیک” سے تھا۔
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے ڈائریکٹر جنرل صاحب فرماتے ہیں کہ ہم بدعنوان عناصر کو کسی سطح پر برداشت نہیں کریں گے۔یہ جملہ اتنا ہی خوبصورت ہے جتنا کسی جلتے ہوئے اسپتال کے باہر لگےبینرپر لکھا ہوا یہ جملہ کہ مریضوں کی صحت ہماری اولین ترجیح ہے۔
سوال یہ نہیں کہ آپ “برداشت” نہیں کریں گے۔سوال یہ ہے کہ آپ دیکھ کیوں نہیں سکےراجستھان میں 120 سوالات گردش کرتے رہے۔واٹس ایپ پر “گیس پیپر” بکتا رہا۔مراکز پر مافیا متحرک رہااور NTA شاید “شفافیت” کے سیمینار میں مصروف تھی۔
یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ٹائی ٹینک کے کپتان کا بیان آئے کہ جہاز ڈوبا ضرور، مگر نظم و ضبط بہترین تھا۔
جب ادارے جواب دہ نہ رہیں، تو قومیں بیمار ہو جاتی ہیں
تقریباً ہر بحران کے بعدیہی ایک ڈرامہ دہرایا جاتا ہے CBIتحقیقات کرے گی۔کمیٹی بنے گی۔سخت کارروائی ہوگی۔زیرو ٹولرنس ہوگا۔سسٹم مضبوط ہوگا۔اور پھر ڈھاک کے تین پات،پھر اگلے سال ایک نیا لیک سامنے آ جاتا ہے۔یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
قومیں اس وقت زوال پذیر نہیں ہوتیں جب ان کے پل ٹوٹتے ہیں بلکہ اس وقت جب ان کےادارے سچ بولنا چھوڑ دیتے ہیں۔
کیا ہمارے ملک یہ پہلی بار ہوا؟جی نہیں۔ویاپم اسکینڈل تویاد ہےنا؟جہاں امتحان نہیں، زندگیاں لیک ہو گئی تھیں۔اورAIPMTیاد ہے؟یا REETیاد ہے؟ریاستی بھرتیوں کے لیکس یاد ہیں؟یہ حادثات نہیں۔یہ ایک تسلسل ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے ہر سال ایک عمارت گر جائے اور انجینئر کہےکہ ہمیں افسوس ہے، مگر تعمیراتی معیار پر ہمارا مکمل اعتماد ہے۔
اور ملک کی کوچنگ انڈسٹری وہ تو خوابوں کا ایسابازار ہےجس نے ذہنی غلامی کی فیکٹری کھول رکھی ہے،جہاں تعلیم اب عبادت نہیں رہی بلکہ سرمایہ کاری بن چکی ہے۔
کسی غریب باپ سے پوچھیے جواپنی بیٹی کو کوچنگ بھیجنے کے لیے موٹر سائیکل بیچ دیتا ہے۔کسی ماں سے پوچھیے جو اپنے زیورگروی رکھ دیتی ہے۔کسی طالبِ علم سے پوچھیے جو دو سال تک شادیوں، عیدوں، دوستوں، نیند اور خوشی سے کنارہ کش ہو جاتا ہے۔پھراسے بتایا جاتا ہے معاف کیجیے گا، امتحان دوبارہ ہوگا.
دوبارہ امتحان؟یا دوبارہ اذیت؟ریاست نے فیس واپس کر دی۔لیکن کیا وہ وقت واپس کرے گی؟کیا وہ اعتماد واپس کرے گی؟کیا وہ وہ راتیں واپس کرے گی جن میں بچے خاموشی سے روتے رہے؟
یہ صرف پیپر لیک نہیں، سماجی معاہدے کا انہدام ہے
وہ معاہدہ جس کے تحت ہر ریاست ایک خاموش وعدےکی پابند اور اس پر قائم ہوتی ہے کہ اگر تم محنت کرو گے، تو تمہیں انصاف ملے گا۔ لیکن جب یہ وعدہ ٹوٹتا ہے،تو صرف امتحان نہیں ٹوٹتا پورا سماجی اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔پھر نوجوان محنت پر یقین کھو دیتا ہے۔پھر “سورس” قابلیت سے بڑا ہو جاتا ہے۔پھر “سیٹنگ” محنت سے زیادہ قیمتی ہو جاتی ہےاور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں قومیں اندر سے گلنا شروع ہو جاتی ہیں۔
کسی نے کہا کمپیوٹرائزڈ امتحان ہو؟
صاحب، وائرس مشین میں نہیں، ضمیر میں ہے۔
اب نئی بحث یہ ہے کہ امتحان CBT ہوگا یا Pen-Paper۔کتنی دلچسپ بات ہے۔گویا مسئلہ دروازے کے تالے کا ہے،چور کے ارادے کا نہیں۔جب نیتیں فروخت ہو جائیں،تو سرور بھی بکتا ہے، سسٹم بھی بکتا ہے، اور مستقبل بھی۔آپ Artificial Intelligence لا سکتے ہیں،لیکن Character Intelligence کہاں سے لائیں گے؟
آج ہمارےطلبہ، انسان نہیں رہ گئے بلکہ قومی تجربہ گاہ کے چوہے بن گئے ہیں؟
یہ نسل عجیب دور میں پیدا ہوئی ہے۔اسے بچپن میں کہا گیاکہ محنت کرو، کامیاب ہو جاؤ گے۔پھر جوانی میں بتایا گیاکہ معاف کرنا، پیپر لیک ہوگیا تھا۔
ہمارانوجوان اب کتابوں سے نہیں تھکالیکن ناانصافی سے تھک چکاہے۔وہ سوالوں سے نہیں ڈرتالیکن سسٹم سے ڈرتا ہے۔
آج اس ملک کا سب سے بڑا المیہ ناخواندگی نہیں،بلکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا انصاف سے مایوس ہو جانا ہے۔سب سے خطرناک چیز کرپشن نہیں ہوتی۔سب سے خطرناک چیز معمول بن چکی کرپشن ہوتی ہے۔
اب ہمیں حیرت نہیں ہوتی۔اب لیک یعنی پرچوں کا قبل ازوقت افشاں ہوجانا خبر نہیں، روایت بن چکا ہے۔یہی زوال کی آخری علامت ہوتی ہےجب قوم ظلم پر غصہ کرنا چھوڑ دے۔میں پوچھناچاہتاہوں کہ کیا ایسے ڈاکٹر انسانیت بچائیں گے؟
سوچیے،اگر ڈاکٹر بننے کی بنیاد ہی دھوکہ، لیک، خرید و فروخت اور مافیا ہو،تو کل یہی لوگ آپریشن تھیٹر میں کیا کریں گے؟جس معاشرے میں داخلہ بدعنوانی سے ہو،وہاں خدمت بھی کاروبار بن جاتی ہے۔
یہ صرف امتحان کا بحران نہیں،یہ آنے والی نسلوں کی طبی اخلاقیات (Medical Ethics) کا بحران ہے۔
تاریخ کی عدالت بہت بے رحم ہوتی ہے
سلطنتیں ہمیشہ جنگوں سے نہیں مرتیں۔کبھی کبھی وہ اپنی یونیورسٹیوں میں مر جاتی ہیں۔روم اس وقت نہیں گرا جب دشمن دروازے پر آیا،وہ اس وقت گرا جب قابلیت کی جگہ چاپلوسی نے لے لی۔اندلس اس وقت نہیں بکھرا جب فوج کمزور ہوئی،وہ اس وقت بکھرا جب علمی دیانت کمزور ہوئی۔اور آج ہندوستان ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔کیا یہاں ڈاکٹر وہ بنے گا جو ذہین ہے؟یا وہ جس کے فون میں پیپر پہلے سے موجود تھا؟
مسئلہ صرف NEETکاایک امتحان نہیں، بلکہ یہ ایک تہذیبی مقدمہ ہے۔
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے کہا:”سسٹم آلودہ تھا۔”
نہیں صاحب۔آلودہ صرف امتحان نہیں۔آلودہ ترجیحات ہیں۔آلودہ احتساب ہے۔آلودہ سیاست ہے۔آلودہ وہ خاموشی ہے جس نے کرپشن کو معمول بننے دیا۔
یاد رکھیے،تہذیبیں حملوں سے کم، اور اندرونی بے ایمانی سے زیادہ تباہ ہوتی ہیں۔آج ہندوستان کے لاکھوں نوجوان صرف دوبارہ امتحان نہیں دے رہے،وہ اپنے اعتماد کا پوسٹ مارٹم کر رہے ہیں اور اگر اب بھی اس ملک نے ادارہ جاتی دیانت، شفافیت، اور اخلاقی احتساب کی بنیاد دوبارہ تعمیر نہ کی تو آنے والی نسلیں کتابوں میں صرف یہ نہیں پڑھیں گی کہ NEET کاپیپر لیک ہوا تھابلکہ وہ یہ پڑھیں گی کہ ایک ملک نےاوراس کے نظام نے اپنے بچوں کی محنت کو واٹس ایپ فارورڈ میں تبدیل ہونے دیا تھا۔
روکو سورج کو خودکشی سے
— اسداللہ خان، تھانے

