زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری
زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری قدرت کی تنبیہ، قرآن کی رہنمائی اور انسانیت کے لیے ایک سبق ڈاکٹر اسد اللہ خان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاختِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ “بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور رات دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 190) ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ “خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا، اس سبب سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔” (سورۃ الروم: 41) بے بس انسان اور آفاقی سچائی دنیا روزانہ جاگتی ہے، لیکن ہر صبح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض صبحیں سورج کی روشنی کے ساتھ امید لے کر آتی ہیں، اور بعض صبحیں زمین کی لرزش کے ساتھ انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلا جاتی ہیں۔ کہیں زلزلہ آتا ہے، کہیں سیلاب بستیوں کو نگل جاتا ہے، کہیں آسمان آگ برساتا ہے، کہیں سمندر اپنی حدود توڑ دیتا ہے، اور کہیں ایک معمولی سا وائرس پوری دنیا کی طاقت، معیشت اور ٹیکنالوجی کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرتا ہے۔ ان واقعات کو اگر صرف “قدرتی آفات” کہہ کر اخبار کے ایک صفحے تک محدود کر دیا جائے تو شاید ہم بہت بڑی حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ مومن کے لیے یہ صرف خبریں نہیں ہوتییں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ قرآن انہیں “آیات” کہتا ہے؛ ایسی نشانیاں جو انسان کو اس کے رب، اس کی کمزوری، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں۔ آج کا انسان چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے، مصنوعی ذہانت کو اپنی عقل کا جانشین سمجھنے لگا ہے، اور چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے پر فخر کرتا ہے۔ اس نے فلک بوس عمارتیں کھڑی کر لیں، سمندر کی تہوں میں اتر گیا، پہاڑوں کو چیر کر شاہراہیں بنا دیں، مگر وہ اب بھی ایک ایسے معمولی سے زلزلے کے سامنے بے بس ہے جو چند لمحوں میں اس کی برسوں کی محنت، دولت، منصوبے اور غرور کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ یہی انسانی حقیقت ہے جسے قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔ ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ “انہوں نے اللہ کی قدر ویسی نہ پہچانی جیسی پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی۔” (سورۃ الزمر: 67) دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں مٹیں، بعض اوقات ایک جھٹکے نے پوری سلطنتوں کو قصۂ پارینہ بنا دیا۔ قومِ عاد اپنی طاقت پر ناز کرتی تھی، قومِ ثمود اپنے پہاڑ تراش کر محلات بنانے پر فخر کرتی تھی، فرعون اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتا تھا، قارون اپنی دولت پر اکڑتا تھا، مگر قدرت نے سب کو ایک لمحے میں تاریخ کا سبق بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھا؟ ﴿أفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ “کیا وہ زمین میں چلتے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے تھے؟” (سورۃ یوسف: 109) یہ سوال صرف تاریخ پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کے لیے ہے۔ سانحات، اخلاقی حس اور دل کا زلزلہ گزشتہ دنوں دنیا کے ایک خطے میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک مرتبہ پھر یہی سبق دہرایا۔ چند لمحوں میں مضبوط عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے، والدین اپنی اولاد کو ڈھونڈتے رہ گئے، اور وہ لوگ جو چند منٹ پہلے معمول کی زندگی گزار رہے تھے، اچانک موت اور زندگی کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ ایسے مناظر ہر حساس انسان کی آنکھ نم کر دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناظر ہمارے دل بھی بدلتے ہیں؟ افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب سانحات کو بھی ایک “وائرل ویڈیو” کی طرح دیکھنے لگا ہے۔ چند لمحے افسوس، چند دعائیں، چند تبصرے، اور پھر اگلی خبر؛ گویا انسانی جان کی حرمت بھی خبروں کی رفتار کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ» “زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔” (جامع الترمذی، حدیث: 1924) اسلام نے ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بنایا بلکہ دردِ دل رکھنے والا انسان بنایا ہے۔ مومن وہ ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، جو مصیبت زدہ کی مدد کرے، جو بھوکے کو کھانا کھلائے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے، بے گھر کے لیے پناہ بنے اور مصیبت کے وقت انسانیت کا سہارا بنے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ» “مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6011؛ صحیح مسلم، حدیث: 2586) یہی وہ معیار ہے جس پر ہمیں اپنے ایمان کو پرکھنا چاہیے۔ اگر دنیا کے کسی کونے میں آنے والی آفت ہمارے دل کو نہ ہلائے، اگر کسی ماں کی آہ ہمارے ضمیر کو نہ جگائے، اگر کسی یتیم بچے کے آنسو ہمیں بے چین نہ کریں، تو ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ قدرت کی ہر تنبیہ ہمیں دو سوالوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: پہلا سوال یہ کہ اگر آج یہ آزمائش ان پر آئی ہے تو کیا یقین ہے کہ کل ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے گی؟ اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال، اگر آج ہماری زندگی کا زلزلہ آ جائے، اگر موت اچانک ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہو، تو کیا ہم اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال کسی جغرافیے، کسی قوم، کسی مذہب یا کسی زبان کا نہیں؛ یہ ہر انسان کا
زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری Read More »









