News & Blog

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری قدرت کی تنبیہ، قرآن کی رہنمائی اور انسانیت کے لیے ایک سبق ڈاکٹر اسد اللہ خان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاختِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ “بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور رات دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 190) ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ “خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا، اس سبب سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔” (سورۃ الروم: 41) بے بس انسان اور آفاقی سچائی دنیا روزانہ جاگتی ہے، لیکن ہر صبح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض صبحیں سورج کی روشنی کے ساتھ امید لے کر آتی ہیں، اور بعض صبحیں زمین کی لرزش کے ساتھ انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلا جاتی ہیں۔ کہیں زلزلہ آتا ہے، کہیں سیلاب بستیوں کو نگل جاتا ہے، کہیں آسمان آگ برساتا ہے، کہیں سمندر اپنی حدود توڑ دیتا ہے، اور کہیں ایک معمولی سا وائرس پوری دنیا کی طاقت، معیشت اور ٹیکنالوجی کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرتا ہے۔ ان واقعات کو اگر صرف “قدرتی آفات” کہہ کر اخبار کے ایک صفحے تک محدود کر دیا جائے تو شاید ہم بہت بڑی حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ مومن کے لیے یہ صرف خبریں نہیں ہوتییں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ قرآن انہیں “آیات” کہتا ہے؛ ایسی نشانیاں جو انسان کو اس کے رب، اس کی کمزوری، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں۔ آج کا انسان چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے، مصنوعی ذہانت کو اپنی عقل کا جانشین سمجھنے لگا ہے، اور چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے پر فخر کرتا ہے۔ اس نے فلک بوس عمارتیں کھڑی کر لیں، سمندر کی تہوں میں اتر گیا، پہاڑوں کو چیر کر شاہراہیں بنا دیں، مگر وہ اب بھی ایک ایسے معمولی سے زلزلے کے سامنے بے بس ہے جو چند لمحوں میں اس کی برسوں کی محنت، دولت، منصوبے اور غرور کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ یہی انسانی حقیقت ہے جسے قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔ ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ “انہوں نے اللہ کی قدر ویسی نہ پہچانی جیسی پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی۔” (سورۃ الزمر: 67) دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں مٹیں، بعض اوقات ایک جھٹکے نے پوری سلطنتوں کو قصۂ پارینہ بنا دیا۔ قومِ عاد اپنی طاقت پر ناز کرتی تھی، قومِ ثمود اپنے پہاڑ تراش کر محلات بنانے پر فخر کرتی تھی، فرعون اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتا تھا، قارون اپنی دولت پر اکڑتا تھا، مگر قدرت نے سب کو ایک لمحے میں تاریخ کا سبق بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھا؟ ﴿أفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ “کیا وہ زمین میں چلتے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے تھے؟” (سورۃ یوسف: 109) یہ سوال صرف تاریخ پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کے لیے ہے۔ سانحات، اخلاقی حس اور دل کا زلزلہ گزشتہ دنوں دنیا کے ایک خطے میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک مرتبہ پھر یہی سبق دہرایا۔ چند لمحوں میں مضبوط عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے، والدین اپنی اولاد کو ڈھونڈتے رہ گئے، اور وہ لوگ جو چند منٹ پہلے معمول کی زندگی گزار رہے تھے، اچانک موت اور زندگی کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ ایسے مناظر ہر حساس انسان کی آنکھ نم کر دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناظر ہمارے دل بھی بدلتے ہیں؟ افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب سانحات کو بھی ایک “وائرل ویڈیو” کی طرح دیکھنے لگا ہے۔ چند لمحے افسوس، چند دعائیں، چند تبصرے، اور پھر اگلی خبر؛ گویا انسانی جان کی حرمت بھی خبروں کی رفتار کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ» “زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔” (جامع الترمذی، حدیث: 1924) اسلام نے ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بنایا بلکہ دردِ دل رکھنے والا انسان بنایا ہے۔ مومن وہ ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، جو مصیبت زدہ کی مدد کرے، جو بھوکے کو کھانا کھلائے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے، بے گھر کے لیے پناہ بنے اور مصیبت کے وقت انسانیت کا سہارا بنے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ» “مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6011؛ صحیح مسلم، حدیث: 2586) یہی وہ معیار ہے جس پر ہمیں اپنے ایمان کو پرکھنا چاہیے۔ اگر دنیا کے کسی کونے میں آنے والی آفت ہمارے دل کو نہ ہلائے، اگر کسی ماں کی آہ ہمارے ضمیر کو نہ جگائے، اگر کسی یتیم بچے کے آنسو ہمیں بے چین نہ کریں، تو ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ قدرت کی ہر تنبیہ ہمیں دو سوالوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: پہلا سوال یہ کہ اگر آج یہ آزمائش ان پر آئی ہے تو کیا یقین ہے کہ کل ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے گی؟ اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال، اگر آج ہماری زندگی کا زلزلہ آ جائے، اگر موت اچانک ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہو، تو کیا ہم اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال کسی جغرافیے، کسی قوم، کسی مذہب یا کسی زبان کا نہیں؛ یہ ہر انسان کا

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری Read More »

چلو اسکول، ناکامی سیکھیں!

جب تعلیم کا پہلا دروازہ ہی احساسِ محرومی میں کھلنے لگے داخلوں کی دوڑ، بچپن کی پہلی شکست اور تعلیم کے بدلتے ہوئے چہرے کی داستان ڈاکٹر اسد اللہ خان وہ صبح، جس دن ایک بچہ پہلی بار ہار گیا صبح کے سات بج رہے تھے۔ بارش ابھی تھمی ہی تھی اور کھڑکی کے شیشوں پر بارش کے چند قطرے اب بھی ایسے ٹھہرے ہوئے تھے جیسے کسی نے وقت کو چند لمحوں کے لیے روک دیا ہو۔ گلی میں اسکول بس کے ہارن کی آواز گونجی تو چار سالہ ساجد اچانک بستر سے اچھل کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی ننھی سی پانی کی بوتل اٹھائی، الماری سے نیلے رنگ کا ننھا سا بیگ نکالا، اسے اپنی پشت پر لٹکایا اور آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ وہ خود کو بار بار دیکھ رہا تھا؛ کبھی بیگ سیدھا کرتا، کبھی اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا، اور کبھی تصور ہی تصور میں کسی ٹیچر کو “گڈ مارننگ میم” کہہ کر مسکرا دیتا۔ اسے یقین تھا کہ آج وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح اسکول جائے گا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکول جانے کے لیے صرف معصومیت کافی نہیں رہی، اب اس کے لیے ایک ایسا امتحان ضروری ہے جس کی نہ اسے خبر ہے، نہ اس کے معنی معلوم ہیں، اور نہ اس کے نتائج۔ وہ تو صرف اتنا جانتا ہے کہ اسکول میں دوست ملتے ہیں، رنگ برنگی کتابیں ہوتی ہیں، جھولے ہوتے ہیں، اور شاید ایک ایسی ٹیچر بھی جو ماں کی طرح پیار کرتی ہوگی۔ لیکن اسی وقت گھر کے دوسرے کمرے میں ایک اور منظر چل رہا تھا۔ کھانے کی میز پر داخلہ فارم، آدھار کارڈ کی فوٹو کاپیاں، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، بجلی کا بل، بینک اسٹیٹمنٹ، پاسپورٹ سائز تصاویر، پین کارڈ، اور نہ جانے کتنے کاغذات بکھرے ہوئے تھے۔ ساجد کی ماں بار بار ایک فائل کھول کر بند کر رہی تھی۔ باپ خاموش بیٹھا تھا—ایک ایسی خاموشی جس کے اندر کئی طوفان تھے۔ وہ بار بار گھڑی دیکھتا، پھر فائل دیکھتا، پھر اپنے بیٹے کو اور پھر نہ جانے کیوں اپنی ذات کو تکنے لگتا۔ آج امتحان ساجد کا نہیں، بلکہ اس کے والدین کا تھا۔ ان کی زبان، انگریزی، ملازمت، آمدنی، رہن سہن، لباس، شخصیت اور شاید ان کے سماجی مرتبے کا بھی امتحان تھا۔ یہ وہ امتحان تھا جس کا نصاب کسی کتاب میں نہیں ملتا اور جس کی تیاری کسی استاد کے پاس نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ صرف “داخلہ ملا” یا “داخلہ نہیں ملا” نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات ایک ننھے سے دل میں یہ پہلا احساس بھی چھوڑ جاتا ہے کہ شاید وہ دوسروں سے کم تر ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بچپن پہلی بار زندگی کے سامنے ہارنے لگتا ہے۔ داخلے کا موسم یا والدین کا امتحان؟ ہم نے تعلیم کو ہمیشہ روشنی، امید اور مساوات کی علامت سمجھا ہے۔ اسکول وہ جگہ تھی جہاں معاشرے کے ہر طبقے کا بچہ ایک ہی بینچ پر بیٹھ کر یہ سیکھتا تھا کہ علم انسانوں کے درمیان فرق نہیں کرتا۔ استاد وہ شخصیت تھا جو نام، نسب یا آمدنی نہیں پوچھتا تھا، بلکہ صرف یہ دیکھتا تھا کہ سامنے بیٹھا بچہ سیکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ لیکن وقت نے تعلیم کا چہرہ بدل دیا ہے۔ آج بہت سے شہروں میں اسکول کا دروازہ علم سے پہلے سماجی شناخت کو دیکھنے لگا ہے۔ داخلہ فارم اب صرف بچے کی معلومات نہیں مانگتے، بلکہ والدین کی معاشی حیثیت، پیشہ، زبان، تعلیمی قابلیت اور طرزِ زندگی تک جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ایک چار سالہ بچے کی قسمت کا فیصلہ واقعی اس کے والدین کی تنخواہ، انگریزی لہجے یا ڈرائنگ روم کے سائز سے ہونا چاہیے؟ ہندوستان میں ہر سال جون کا مہینہ صرف تعلیمی سال کے آغاز کی خبر نہیں لاتا، بلکہ لاکھوں گھروں میں امید اور مایوسی کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد، پونے، چنئی اور کولکاتا جیسے بڑے شہروں میں ہر سال داخلوں کے موسم میں یہی بے چینی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اخبارات میں رات بھر لگنے والی قطاروں، محدود نشستوں اور نرسری داخلوں کے لیے قائم خصوصی کوچنگ سینٹرز پر مسلسل خبریں شائع ہوتی ہیں۔ عدالتوں، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ ابتدائی تعلیم کے دروازے پر انصاف کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود سب سے زیادہ خاموش وہ بچہ ہوتا ہے جس کے نام پر یہ پوری جنگ لڑی جا رہی ہوتی ہے۔ بچپن کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ کامیابی اور ناکامی کی لغت سے بے خبر ہوتا ہے۔ چار سال کا بچہ نہ میرٹ جانتا ہے، نہ ویٹنگ لسٹ۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ سامنے والے گھر کا علی آج اسکول گیا ہے، لہٰذا وہ بھی جانا چاہتا ہے۔ لیکن جب بڑوں کی دنیا اس کی راہ میں اپنی شرطیں اور دیواریں کھڑی کر دیتی ہے، تو وہ کچھ نہیں سمجھتا۔ وہ صرف اتنا پوچھتا ہے: “ابو… میرا اسکول کب شروع ہوگا؟” یہ سوال بظاہر چھوٹا ہے، مگر ایک حساس باپ کے لیے اس کا جواب پوری زندگی کے مشکل ترین سوالوں میں سے ایک بن جاتا ہے۔ میرے ایک دوست ہیں، نام بدل کر انہیں راشد کہہ لیتے ہیں۔ پیشہ صحافت، کتابوں سے محبت، سچ بولنے کی عادت اور اپنے چار سالہ بیٹے ساجد سے بے پناہ عشق۔ جس دن شہر کے ایک معروف اسکول میں انٹرویو تھا، اس دن راشد نے اپنی بہترین قمیص پہنی اور بیوی نے فائل ترتیب دی۔ ہر کاغذ اپنی جگہ موجود تھا، مگر ایک چیز کہیں درج نہیں تھی: اپنے بچے کے لیے ایک باپ کی محبت، کیونکہ اس محبت کا کوئی خانہ فارم میں موجود نہیں تھا۔ ہمارے معاشرے کا شاید ہی کوئی اور امتحان ہو جس کی تیاری تین سالہ بچہ کم اور اس کے والدین زیادہ کرتے ہوں۔ گھر میں روزانہ مشق ہوتی؛ “گڈ مارننگ”، “تھینک یو”، “ایپل، بال، کیٹ”۔ ماں تصویریں دکھاتی، باپ رنگ یاد کراتا، دادا دعائیں دیتا اور دادی نظر اتارتی۔ انٹرویو شروع ہوا تو راشد کے مطابق چند رسمی سوالات کے بعد گفتگو کا رخ اچانک بدل

چلو اسکول، ناکامی سیکھیں! Read More »

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا!

ڈاکٹر اسد اللہ خان آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے باوجود نوکری پا لینا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ آپ میں سینکڑوں صلاحیتیں ہوں، مگر اگر ایک بھی “کمی” نظر آ جائے — کوئی جسمانی معذوری، کوئی کمزوری، کوئی “داغ” — تو پورا چراغ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کام ناممکن نہیں ہوتا، مگر مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ مجھے ایک ایسے ہی ہونہار نوجوان کا قصہ یاد آتا ہے۔ ملک کے ایک ممتاز انجینئرنگ ادارے سے فارغ التحصیل، تعلیمی ریکارڈ اِس قدر شاندار کہ کاغذات دیکھتے ہی ایک بڑی کمپنی نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لینے کا ارادہ کر لیا۔ مگر جب انٹرویو میں یہ کھلا کہ وہ نوجوان قوتِ سماعت کی ایک بیماری میں مبتلا ہے، تو وہی کمپنی — جو ابھی ابھی اُس کی ذہانت پر فریفتہ تھی — چپ چاپ قدم پیچھے کھینچ لائی۔ ڈگری، محنت اور قابلیت — سب ایک “طبی رپورٹ” کے سامنے ہار گئے۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ معذوری جسم کی ہوتی ہے، حوصلے کی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی، اُن میں سے بیشتر نے “کمی” کو “طاقت” میں بدلا۔ آئیے آج ایسے ہی دس روشن چراغوں کی داستانیں سنتے ہیں — جن کی لَو آندھیوں میں بھی بجھی نہیں، بلکہ اور تیز ہوئی۔ عظمت اور ہمت کی روشن مثالیں انسان اگر سچے دل سے کچھ کرنے کا ارادہ کر لے تو جسمانی اعضاء کی محرومی اس کے خوابوں کے آڑے کبھی نہیں آ سکتی۔ تاریخ اور حال کے افق پر ایسے کئی درخشندہ ستارے چمک رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت کے بلبوتے پر طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ شری کانت بولا (Srikanth Bolla): پیدائشی طور پر مکمل نابینا شری کانت بولا کو بچپن ہی سے انتہائی غربت اور سماجی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دسویں جماعت کے بعد سائنس پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، تو بھارتی نظامِ تعلیم نے ان کے نابینا ہونے کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے اس ناانصافی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چھ ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد کامیابی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گیارہویں جماعت میں ۹۸ فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا۔ جب ملک کے مایہ ناز ادارے آئی آئی ٹی (IIT) نے بھی انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا، تو انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ایم آئی ٹی (MIT) کا رخ کیا اور وہاں داخلہ پانے والے پہلے بین الاقوامی نابینا طالب علم بن گئے۔ بھارت واپس آ کر انہوں نے “بولانٹ انڈسٹریز” (Bollant Industries) قائم کی جو ماحول دوست مصنوعات بناتی ہے اور جہاں سیکڑوں معذور افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ آج شری کانت کروڑوں روپے کی کمپنی کے مالک اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک عالمی رول ماڈل ہیں۔ سدھا چندرن (Sudha Chandran): محض ۱۶ سال کی عمر میں ایک خوفناک سڑک حادثے اور ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سدھا چندرن کی دائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ایک کلاسیکل رقاصہ کے لیے یہ مصیبت کسی موت سے کم نہ تھی کیونکہ ان کا پورا کیریئر پاؤں کی تھرکنے سے وابستہ تھا۔ مگر سدھا نے بیساکھیوں کے سہارے جینے کو ٹھکرا دیا اور “جائپور فٹ” (مصنوعی ٹانگ) لگوا کر انتہائی شدید تکلیف کے باوجود دوبارہ رقص سیکھنا شروع کیا۔ مشق کے دوران اکثر ان کے زخموں سے خون بہہ نکلتا تھا، مگر ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اسٹیج پر واپسی کی اور ایسا شاندار رقص پیش کیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ آج وہ نہ صرف ایک عالمی شہرت یافتہ رقاصہ ہیں بلکہ بھارتی فلم و ٹیلی ویژن کی ایک مانی ہوئی اور کامیاب اداکارہ بھی بن چکی ہیں۔ ایرا سنگھل (Ira Singhal): ریڑھ کی ہڈی کی ایک نایاب بیماری “اسکولیوسس” (Scoliosis) کی وجہ سے ایرا سنگھل کے دونوں بازوؤں کی حرکت انتہائی محدود تھی۔ انہوں نے اپنی اس کمزوری کو پڑھائی کے آڑے نہیں آنے دیا اور ۲۰۱۰ میں ملک کا سب سے مشکل امتحان یو پی ایس سی (UPSC) پاس کیا، مگر انتطامیہ نے ان کی جسمانی حالت کا بہانہ بنا کر انہیں سرکاری ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔ ایرا نے اس امتیازی سلوک کو چپ چاپ قبول کرنے کے بجائے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (CAT) میں کیس دائر کیا اور چار سال تک ایک صبر آزما قانونی جنگ لڑ کر اپنا حق جیتا۔ انہوں نے ۲۰۱۴ میں دوبارہ امتحان دیا اور اس بار نہ صرف کامیاب ہوئیں بلکہ پورے ملک میں پہلی پوزیشن (Rank 1) حاصل کر کے جنرل کیٹیگری میں ٹاپ کیا۔ آج وہ ایک بہترین اور نڈر سول سروسز آفیسر کے طور پر ملک کی خدمت کر رہی ہیں۔ ارونیما سنہا (Arunima Sinha): قومی سطح کی والی بال کھلاڑی ارونیما سنہا کی زندگی میں ۲۰۱۱ میں اس وقت اندھیرا چھا گیا جب کچھ چوروں نے انہیں چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا، جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ہسپتال کے بستر پر جہاں لوگ ان پر ترس کھا رہے تھے اور انہیں “بے چاری” سمجھ رہے تھے، انہوں نے وہیں لیٹے لیٹے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کا ناقابل یقین فیصلہ کیا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی انہوں نے پہلی بھارتی خاتون ایورسٹ فاتح بچیندری پال سے سخت ٹریننگ شروع کی۔ سرپھرے عزم کی بدولت ۲۰۱۳ میں وہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی دنیا کی پہلی معذور خاتون بنیں اور اس کے بعد انہوں نے دنیا کے تمام ۷ براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں پر کامیابی سے اپنے ملک کا ترنگا لہرایا۔ تاریخ کے مزید روشن ستارے نک وجیسک (Nick Vujicic): آسٹریلیا میں ۱۹۸۲ میں پیدا ہونے والے نک وجیسک کی جسمانی حالت دیکھ کر لوگ کانپ اٹھتے تھے کیونکہ وہ بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں ہم جماعتوں کی ایذا رسانی اور شدید ذہنی اذیت سے تنگ آ کر محض ۱۰ سال کی عمر میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی اور روتے ہوئے اپنی ماں سے پوچھا تھا کہ

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا! Read More »

تعلیم کے ذریعے ۔۔۔ تعمیر یا تخریب ؟ ۔۔۔

ڈاکٹر اسد اللہ خان بچوں کو آپ اسکول کیوں بھیجتے ہیں؟ یہ سوال سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، اپنے باطن میں اتنا ہی طوفان سموئے ہوئے ہے۔ یہ ایک سوال نہیں، ایک تہذیب کا احتساب ہے۔ ایک تڑپتے ہوئے باپ کا، ایک فکرمند ماں کا اور ایک بکھرتی ہوئی قوم کا وہ مقدمہ ہے جو آج اپنے ہی ہاتھوں اپنی نسل کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے اور اسے خبر بھی نہیں! جب بھی کسی باپ کی آنکھوں میں جھانک کر یہ پوچھا جائے تو جواب ایک ہی لے میں، ایک ہی بے فکری سے آتا ہے: ”بچے پڑھ لکھ کر کچھ بن جائیں۔” لیکن کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے کہ اس ”کچھ بننے” کا خواب کب کا سکڑ کر محض چند ہزار یا چند لاکھ کی کمائی کا ہدف بن چکا ہے؟ شخصیت کی تعمیر، کردار کی پرورش، ذہن کی روشنی — یہ الفاظ اب صرف اسکولوں کے چمکدار بروشروں میں خوبصورت فونٹ میں چھپتے ہیں، کسی کے دل میں نہیں اترتے۔ والدین بچوں کو اسکول ایسے بھیجتے ہیں جیسے خط کو لفافے میں بند کر کے پوسٹ باکس میں ڈال دیا جائے — کہ اب آگے کا ذمہ ڈاکخانے کا ہے، ہمارا کام ختم ہوا۔ سال ۲۰۲۶ء کا یہ وہ لحظہ ہے جب اس سوال کی گہرائی ہماری برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا طوفان اب دروازے پر دستک نہیں دے رہا، وہ تو ہمارے بیڈرومز اور کلاس رومز کے اندر آ بیٹھا ہے۔ ChatGPT اور Gemini اب ہر چوتھی جماعت کے بچے کی جیب میں ہیں، ہر اسمارٹ فون کے اندر موجود ہیں۔ وہ ہر سوال کا جواب چند سیکنڈ میں اگل دیتے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ آپ کے بچے کا حافظہ کتنا تیز ہے اور وہ کتنے جواب جانتا ہے — اب رونے کا مقام یہ ہے کہ کیا وہ سوچنا بھی جانتا ہے؟ کیا ہم ہڈ ماس کے انسان بنا رہے ہیں یا مائیکرو چپس سے چلنے والے بے جان آلے؟ اسکول کی چہار دیواری: درسگاہ یا عقوبت خانہ؟ جس اسکول میں دیر سے آنے کی سزا یہ ہو کہ آٹھ دس کلو کا بستہ کاندھوں پر لاد کر میدان کے دس چکر لگوائے جائیں — وہاں بچے کے قدم اسکول کی طرف شوق سے بڑھیں گے یا خوف سے؟ جس کلاس میں ایک کی غلطی پر پچاس بچوں کے معصوم ہاتھوں پر بید مار کر لال کر دیا جائے، وہاں محبت کا کون سا پھول اگے گا؟ وہاں صرف اور صرف انتقام کا کانٹا پروان چڑھے گا۔ یہ جسمانی اور ذہنی تشدد اب صرف ماضی کا قصہ نہیں رہا، بلکہ آج ہمارے آس پاس روز کا معمول بن چکا ہے۔ ملک کے الگ الگ کونوں سے آنے والی حالیہ خبریں پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے: بنگلورو کا وحشیانہ واقعہ: ابھی حال ہی میں بنگلورو کے ایک نجی اسکول میں محض دو دن غیر حاضر رہنے پر پانچویں جماعت کے ایک معصوم ۹ سالہ بچے کو اسکول کے انتظامیا نے پلاسٹک کے پائپ سے اس بے رحمی سے پیٹا کہ اس کے پورے جسم پر نیل پڑ گئے، اور حد تو یہ ہے کہ اسے کئی گھنٹوں تک ایک اندھیرے کمرے میں اکیلا بند کر کے تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ جب دکھی والدین نے جواب مانگا، تو انہوں نے ڈھٹائی سے کہا: “ہمارے ہاں ڈسپلن سکھانے کا یہی طریقہ ہے!” آندھرا پردیش میں معصومیت پر وار: چتور کے ایک اسکول میں چھٹی جماعت کی ۱۱ سالہ بچی کلاس میں کسی سے بات کر رہی تھی۔ تیش میں آکر استاد نے اس کی طرف اسکول کا بھاری بستہ اٹھا کر پھینکا۔ بستے کے اندر موجود اسٹیل کا لنچ باکس بچی کے سر پر اتنی زور سے لگا کہ وہ وہیں چکرا کر گر گئی۔ بعد میں جب درد نہ رکا تو ہسپتال کے اسکین میں معلوم ہوا کہ اس معصوم بچی کے سر کی ہڈی (Skull) میں فریکچر آچکا ہے۔ کرناٹک کی بربریت: ایک اور دل سوز لہر اس وقت دوڑی جب ایک رہائشی اسکول (Residential School) کے استاد نے ۹ سال کے ایک چھوٹے سے بچے کو صرف اس لیے زمین پر گرا کر بے رحمی سے لاتوں اور تھپڑوں سے پیٹا کیونکہ اس نے ہاسٹل سے اپنے گھر فون کرنے کی “جسارت” کی تھی۔ وہ معصوم بچہ استاد کے پیروں میں گر کر روتے ہوئے معافیاں مانگ رہا تھا، لیکن اس جلاد کا دل نہیں پگھلا۔ یہ چند مثالیں تو وہ ہیں جو میڈیا کی نظر چڑھیں اور ایف آئی آر تک پہنچیں، ورنہ روزانہ ہزاروں معصوم روحیں ان چہار دیواریوں کے پیچھے سسکتی ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ ہم ڈسپلن کے نام پر بچوں کو تہذیب نہیں سکھا رہے، بلکہ ان کے اندر کے انسان کو قتل کر رہے ہیں۔ یہ تو وہ جسمانی وحشت ہے جو نظر آ جاتی ہے، لیکن اب جو نئی ڈیجیٹل بربریت آئی ہے، اس نے روحوں کو ایسے زخم دیے ہیں جن کا کوئی ایکسرے نہیں ہو سکتا۔ ممبرا، کلیان اور بھیونڈی کے بعض انگریزی اسکولوں میں اب بچوں کے ہوم ورک کا ‘آن لائن ریکارڈ’ رکھا جاتا ہے۔ بچہ رات کو تھک کر سو گیا، ہوم ورک ادھورا رہ گیا۔ صبح کلاس واٹس ایپ گروپ میں، جہاں پچاس دیگر والدین موجود ہیں، بچے کا نام سرخ حروف میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہو۔ ستر سال پہلے اسکولوں میں سزا کے طور پر بچے کے گلے میں تختی لٹکائی جاتی تھی جس پر لکھا ہوتا تھا: ‘I am Donkey’۔ آج وہ تختی ڈیجیٹل ہو گئی ہے — اسکول ایپ پر ریڈ الرٹ، پیرنٹ پورٹل پر نام، ڈیش بورڈ پر رسوائی! ذریعہ بدل گیا، اساتذہ کی وحشیانہ ذہنیت نہیں بدلی۔ کیا یہ تعلیم ہے؟ یا کسی نازک، معصوم آئینے پر پتھر مار مار کر اسے چکنا چور کرنا اور پھر اس کے ملبے کو پالش کر کے کہنا کہ دیکھو ہم نے کتنا چمکدار شیشہ بنایا ہے؟ انگریزی کا بت اور والدین کا سجدہ ہماری قوم نے انگریزی زبان کے ساتھ جو رشتہ جوڑا ہے، وہ اب زبان کا رشتہ نہیں رہا، وہ اندھی پوجا بن چکا ہے۔ ایک ایسا بت

تعلیم کے ذریعے ۔۔۔ تعمیر یا تخریب ؟ ۔۔۔ Read More »

جب معمارِ قوم کا خواب سرِ بازار نیلام ہوا!

(مہاراشٹرا ٹی ای ٹی امتحان: امتحانی نظام کی ارتھی پر ایک ادبی نوحہ) ڈاکٹر اسد اللہ خان تاریخ کے صفحات جب بھی کسی قوم کی تنزلی کی داستان رقم کرتے ہیں، تو سب سے پہلی ضرب اس کے نظامِ تعلیم پر لگاتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک اور دردناک خبر ہے۔ ایک ایسے معاشرے کے لیے جہاں استاد کو “معمارِ قوم” مانا جاتا ہے، وہاں استاد بننے کے امتحان (TET) کی حرمت کا سرِ بازار نیلام ہو جانا کسی المیے سے کم نہیں۔ آج ریاستِ مہاراشٹرا کے ضلع تھانے سے آنے والی خبر محض ایک امتحان کی منسوخی کی اطلاع نہیں ہے، بلکہ یہ اس دھرتی کے لاکھوں ہونہار، محنتی اور بے گناہ نوجوانوں کے خوابوں کا قتلِ عام ہے۔ یہ استاد کی عظمت، علم کی حرمت اور عدل و انصاف کے جنازے کی وہ شہ سرخیاں ہیں، جنہیں دیکھ کر قلم خون کے آنسو روتا ہے اور زبان گنگ رہ جاتی ہے۔ علم کی منڈی اور ضمیر کے سوداگر کتنی ستم ظریفی ہے کہ جس امتحان کا مقصد معاشرے کو “صالح اور ایماندار معمار” فراہم کرنا تھا، اسی امتحان کا پرچہ امتحانی مراکز تک پہنچنے سے پہلے ہی چند ٹکوں کے عوض ضمیر کے سوداگروں کی تجوریوں کی زینت بن گیا۔ پولیس کا تھانے میں چھاپہ مارنا، سوالیہ پرچوں کا ضبط ہونا اور چند کالی بھیڑوں کا حراست میں لیا جانا—یہ اس گلے سڑے نظام کی وہ بدبو ہے جو اب پورے معاشرے کا دم گھونٹ رہی ہے۔ تعلیم جو روشنی کا مینار تھی، آج اسے ہوس اور بدعنوانی کے اندھیروں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جب رہزن ہی پاسبان بن جائیں، تو قافلے کا لٹ جانا حیرت انگیز نہیں رہتا۔ ان امتحانی پرچوں کو بیچنے والوں نے صرف کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں بیچے، انہوں نے اس ٹیچر طالب علم کی راتوں کی نیندیں بیچی ہیں جو مٹی کے تیل کے دیے کی مدہم روشنی میں کتابیں چاٹ رہا تھا۔ انہوں نے اس بوڑھے باپ کی پونجی بیچی ہے جس نے اپنے بچے کو ‘شکشک’ (استاد) بنانے کے لیے اپنی کمر سیدھی نہیں ہونے دی۔ امتحانی نظام کا تاریک ماضیِ:تھانے کا یہ حالیہ واقعہ کوئی پہلی لغزش نہیں ہے، بلکہ یہ اس طویل اور گہرے کینسر کی ایک نئی علامت ہے جو مہاراشٹرا اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشنز (MSCE) کو اندر سے کھوکھلا کر چکا ہے۔ اگر ہم ماضی کے اوراق الٹیں، تو TET امتحانات کی تاریخ بدعنوانی اور گھوٹالوں کی سیاہی سے لت پت نظر آتی ہے۔تھانے کا یہ حالیہ سانحہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہرے کینسر کی ایک ہولناک کڑی ہے جو مہاراشٹرا اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشنز کی رگوں میں برسوں سے سرایت کیے ہوئے ہے۔ مہاراشٹرا کا امتحانی نظام خصوصاً اس وقت رہنِ ستم ہوا جب پونے سائبر پولیس نے ماضی کے امتحانات میں ہونے والی ایسی سنسنی خیز دھاندلیوں کا پردہ فاش کیا جس نے پورے تعلیمی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ انکشافات محض سرسری بے ضابطگیاں نہیں تھیں، بلکہ میرٹ کے مقتل میں قابلیت کا باقاعدہ اور منظم قتلِ عام تھا، جہاں عہدیداروں اور دلالوں کے گٹھ جوڑ نے ہر بار کامیابی کے نئے طریقے ایجاد کیے۔ اس گھوٹالے کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ امتحانی بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار ہی رشوت خوری کے بازار میں سب سے بڑے خریدار نکلے۔ اس منظم لوٹ مار کا ایک بدترین باب سال 2018 کے ٹی ای ٹی امتحان میں رقم کیا گیا۔ اس دوران ضمیر کے سوداگروں نے چوری چھپے امتحانی نظام کے دل یعنی او ایم آر (OMR) شیٹس کے ساتھ مجرمانہ ہیر پھیر کی۔ وہ امیدوار جو قابلیت کی دوڑ میں بری طرح ناکام (فیل) ہو چکے تھے، راتوں رات ان کے کھوٹے سکوں کو کھرے نوٹوں کے عوض کامیابی کے تمغوں میں بدل دیا گیا۔ جب پولیس نے اس گھناونے کھیل کی تہیں اکھاڑیں، تو قانون کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں؛ تحقیقات کے بعد 1,663 ایسے فرضی امیدواروں کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوا جنہوں نے رشوت کے بلبوتے پر کامیابی کی سند خریدی تھی، جس کے بعد ان پر تاحیات امتحانی پابندی عائد کر دی گئی۔ ابھی اس زخم کی سیاہی چھٹی بھی نہ تھی کہ سال 2019 کا ٹی ای ٹی امتحان اس تعلیمی تاریخ کا سب سے بڑا اور ہولناک دھچکا ثابت ہوا۔ اس بار سازش کاروں نے دستی ہیر پھیر کے بجائے براہِ راست ڈیجیٹل نظام پر شب خون مارا اور کمپیوٹرائزڈ رزلٹ ڈیٹا بیس کے اندر گھس کر نمبروں کے ہندسے بدل دیے۔ یہ بدعنوانی کا وہ طوفان تھا جس نے قابلیت کی ہر دیوار کو منہدم کر دیا۔ اس سازش کے نتیجے میں 7,880 نااہل امیدواروں کو غیر قانونی طور پر ‘کامیاب’ قرار دے کر اسناد بانٹ دی گئیں، جنہیں بعد میں سنگین تحقیقات کے بعد منسوخ کرنا پڑا۔ اس پورے ریکیٹ کا سب سے لرزہ خیز اور حیرت انگیز پہلو وہ گرفتاریاں تھیں جنہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ باڑھ ہی کھیت کو کھا رہی ہے۔ جب قانون کا شکنجہ کسا، تو اس نظام کے سب سے بڑے پاسبان ہی رہزن نکلے۔ امتحانی بورڈ کے سابق کمشنر سکھدیو ڈیرے، پونے کے اسسٹنٹ کمشنر، اور امتحانات کا انتظام سنبھالنے والی ‘جی اے سافٹ ویئر کمپنی’ کے اعلیٰ ڈائریکٹرز ایک ایک کر کے سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔ ان مقتدر کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کی گرفتاری نے یہ مہرِ تصدیق ثبت کر دی کہ امتحانی نظام پر سے اب طلبہ کا اعتماد سو فیصد اٹھ چکا ہے، اور جس محکمے کو قوم کا مستقبل سنوارنا تھا، اس کی اپنی ساکھ اب تاریخ کے سب سے گہرے ملبے کے نیچے دفن ہو چکی ہے۔ ان پچھلے گھوٹالوں کے دوران لگ بھگ 9,500 سے زائد ایسے اساتذہ کی فہرست جاری کی گئی تھی جنہوں نے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر فرضی اسناد حاصل کیں اور ریاست کے اسکولوں میں نوکریاں حاصل کر لیں۔ یہ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ جب امتحانی نظام کے چوکیدار ہی چور بن جائیں، تو قابلیت اور میرٹ کی موت یقینی ہو جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے طلبہ کی مایوسی کے اس منظر کا!مہینوں کی ریاضت، دن رات کی بیداری، کتابوں سے عشق اور آنکھوں میں ایک روشن

جب معمارِ قوم کا خواب سرِ بازار نیلام ہوا! Read More »

जब मेमार-ए-क़ौम का ख़्वाब सर-ए-बाज़ार नीलाम हुआ!

(महाराष्ट्र टी ई टी इम्तिहान: इम्तिहानी निज़ाम की अर्थी पर एक अदबी नौहा) डॉ. असदुल्लाह ख़ान तारीख़ के सफ़्हात जब भी किसी क़ौम की तनज़्ज़ुली की दास्तान रक़म करते हैं, तो सबसे पहली ज़र्ब उसके निज़ाम-ए-तालीम पर लगाते हैं। यह एक इंतिहाई नाज़ुक और दर्दनाक ख़बर है। एक ऐसे मुआशरे के लिए जहाँ उस्ताद को “मेमार-ए-क़ौम” माना जाता है, वहाँ उस्ताद बनने के इम्तिहान (TET) की हुरमत का सर-ए-बाज़ार नीलाम हो जाना किसी आलमिये से कम नहीं। आज रियासत-ए-महाराष्ट्र के ज़िला ठाणे से आने वाली ख़बर महज़ एक इम्तिहान की मंसूखी की इत्तिला नहीं है, बल्कि यह इस धरती के लाखों होनहार, मेहनती और बेगुनाह नौजवानों के ख़्वाबों का क़त्ल-ए-आम है। यह उस्ताद की अज़मत, इल्म की हुरमत और अद्ल-ओ-इंसाफ़ के जनाज़े की वह सुर्ख़ियाँ हैं, जिन्हें देखकर क़लम ख़ून के आँसू रोता है और ज़बान गूंगी रह जाती है। इल्म की मंडी और ज़मीर के सौदागर कितनी सितम-ज़रीफ़ी है कि जिस इम्तिहान का मक़सद मुआशरे को “सालिह और ईमानदार मेमार” फ़राहम करना था, उसी इम्तिहान का परचा इम्तिहानी मराकिज़ तक पहुँचने से पहले ही चंद टकों के एवज़ ज़मीर के सौदागरों की तिजोरियों की ज़ीनत बन गया। पुलिस का ठाणे में छापा मारना, सवालिया परचों का ज़ब्त होना और चंद काली भेड़ों का हिरासत में लिया जाना—यह उस गले-सड़े निज़ाम की वह बदबू है जो अब पूरे मुआशरे का दम घोंट रही है। तालीम जो रौशनी का मीनार थी, आज उसे हवस और बदउनवानी के अंधेरों ने अपनी लपेट में ले लिया है। जब रहज़न ही पासबान बन जाएँ, तो क़ाफ़िले का लुट जाना हैरत-अंगेज़ नहीं रहता। इन इम्तिहानी परचों को बेचने वालों ने सिर्फ़ काग़ज़ के चंद टुकड़े नहीं बेचे, उन्होंने उस टीचर तालिब-ए-इल्म की रातों की नींदें बेची हैं जो मिट्टी के तेल के दीए की मदहम रौशनी में किताबें चाट रहा था। उन्होंने उस बूढ़े बाप की पूँजी बेची है जिसने अपने बच्चे को ‘शिक्षक’ (उस्ताद) बनाने के लिए अपनी कमर सीधी नहीं होने दी। इम्तिहानी निज़ाम का तारीखी सिलसिला-ए-घोटाले यह पहली बार नहीं हुआ! ठाणे का यह हालिया वाक़िआ कोई पहली लग़्ज़िश नहीं है, बल्कि यह उस तवील और गहरे कैंसर की एक नई अलामत है जो महाराष्ट्र स्टेट काउंसिल ऑफ़ एग्ज़ामिनेशन्स (MSCE) को अंदर से खोखला कर चुका है। अगर हम माज़ी के औराक़ उलटें, तो TET इम्तिहानों की तारीख़ बदउनवानी और घोटालों की सियाही से लथपथ नज़र आती है। ठाणे का यह हालिया सानिहा कोई अचानक पेश आने वाला वाक़िआ नहीं है, बल्कि यह उस गहरे कैंसर की एक हौलनाक कड़ी है जो महाराष्ट्र स्टेट काउंसिल ऑफ़ एग्ज़ामिनेशन्स की रगों में बरसों से सरायत किए हुए है। महाराष्ट्र का इम्तिहानी निज़ाम ख़ुसूसन उस वक़्त रहन-ए-सितम हुआ जब पुणे साइबर पुलिस ने माज़ी के इम्तिहानों में होने वाली ऐसी सनसनीख़ेज़ धांधलियों का पर्दा फ़ाश किया जिसने पूरे तालीमी ढाँचे को हिला कर रख दिया। यह इन्किशाफ़ात महज़ सरसरी बे-ज़ाब्तगियाँ नहीं थीं, बल्कि मेरिट के मक़्तल में क़ाबिलियत का बाक़ायदा और मुनज़्ज़म क़त्ल-ए-आम था, जहाँ ओहदेदारों और दलालों के गठजोड़ ने हर बार कामयाबी के नए तरीक़े ईजाद किए। इस घोटाले की जड़ें इतनी गहरी थीं कि इम्तिहानी बोर्ड के आला ओहदेदार ही रिश्वतख़ोरी के बाज़ार में सबसे बड़े ख़रीदार निकले। इस मुनज़्ज़म लूट-मार का एक बदतरीन बाब साल 2018 के टी ई टी इम्तिहान में रक़म किया गया। इस दौरान ज़मीर के सौदागरों ने चोरी-छिपे इम्तिहानी निज़ाम के दिल यानी ओ एम आर (OMR) शीट्स के साथ मुजरिमाना हेर-फेर की। वह उम्मीदवार जो क़ाबिलियत की दौड़ में बुरी तरह नाकाम (फ़ेल) हो चुके थे, रातों-रात उनके खोटे सिक्कों को खरे नोटों के एवज़ कामयाबी के तमग़ों में बदल दिया गया। जब पुलिस ने इस घिनौने खेल की तहें उखाड़ीं, तो क़ानून की आँखें भी खुली की खुली रह गईं; तहक़ीक़ात के बाद 1,663 ऐसे फ़र्ज़ी उम्मीदवारों का भीयानक चेहरा बेनक़ाब हुआ जिन्होंने रिश्वत के बलबूते पर कामयाबी की सनद ख़रीदी थी, जिसके बाद उन पर ताहयात इम्तिहानी पाबंदी आइद कर दी गई। अभी इस ज़ख़्म की सियाही छूटी भी न थी कि साल 2019 का टी ई टी इम्तिहान इस तालीमी तारीख़ का सबसे बड़ा और हौलनाक धक्का साबित हुआ। इस बार साज़िशकारों ने दस्ती हेर-फेर के बजाय बराह-ए-रास्त डिजिटल निज़ाम पर शबख़ून मारा और कम्प्यूटरीकृत रिज़ल्ट डेटाबेस के अंदर घुसकर नंबरों के हिंदसे बदल दिए। यह बदउनवानी का वह तूफ़ान था जिसने क़ाबिलियत की हर दीवार को मुन्हदिम कर दिया। इस साज़िश के नतीजे में 7,880 नाअहल उम्मीदवारों को ग़ैर-क़ानूनी तौर पर ‘कामयाब’ क़रार देकर असनाद बाँट दी गईं, जिन्हें बाद में संगीन तहक़ीक़ात के बाद मंसूख़ करना पड़ा। इस पूरे रैकेट का सबसे लरज़ा-ख़ेज़ और हैरत-अंगेज़ पहलू वह गिरफ़्तारियाँ थीं जिन्होंने यह साबित कर दिया कि बाड़ ही खेत को खा रही है। जब क़ानून का शिकंजा कसा, तो इस निज़ाम के सबसे बड़े पासबान ही रहज़न निकले। इम्तिहानी बोर्ड के साबिक़ कमिश्नर सुखदेव डेरे, पुणे के असिस्टेंट कमिश्नर, और इम्तिहानों का इंतिज़ाम सँभालने वाली ‘जी ए सॉफ़्टवेयर कम्पनी’ के आला डायरेक्टर्स एक-एक करके सलाख़ों के पीछे पहुँच गए। इन मुक़्तदर कुर्सियों पर बैठे लोगों की गिरफ़्तारी ने यह मुहर-ए-तस्दीक़ सब्त कर दी कि इम्तिहानी निज़ाम पर से अब तलबा का एतमाद सौ फ़ीसद उठ चुका है, और जिस महकमे को क़ौम का मुस्तक़बिल सँवारना था, उसकी अपनी साख़ अब तारीख़ के सबसे गहरे मलबे के नीचे दफ़्न हो चुकी है। इन पिछले घोटालों के दौरान लगभग 9,500 से ज़्यादा ऐसे असातिज़ा की फ़ेहरिस्त जारी की गई थी जिन्होंने लाखों रुपये की रिश्वत देकर फ़र्ज़ी असनाद हासिल कीं और रियासत के स्कूलों में नौकरियाँ हासिल कर लीं। यह अअदाद-ओ-शुमार गवाह हैं कि जब इम्तिहानी निज़ाम के चौकीदार ही चोर बन जाएँ, तो क़ाबिलियत और मेरिट की मौत यक़ीनी हो जाती है। ज़रा तसव्वुर कीजिए तलबा की मायूसी के उस मंज़र का! महीनों की रियाज़त, दिन-रात की बेदारी, किताबों से इश्क़ और आँखों में एक रौशन मुस्तक़बिल का ख़्वाब लिए जब हज़ारों तलबा इम्तिहानगाह की तरफ़ क़दम बढ़ा रहे हों, और अचानक उनके कानों में यह आवाज़ गूँजे: “इम्तिहान मंसूख़ कर दिया गया है क्योंकि परचा पहले ही बिक चुका था!” यह सुनकर उन मासूम दिलों पर क्या गुज़री होगी? जब एक ग़रीब और क़ाबिल उम्मीदवार पिछले घोटालों के उन 9,543 फ़र्ज़ी

जब मेमार-ए-क़ौम का ख़्वाब सर-ए-बाज़ार नीलाम हुआ! Read More »

نفرتوں کے اندھیرے میں محبت کا چراغ

بھیونڈی کے مسلمانوں نے انسانیت، اخوت اور ہندوستانی تہذیب کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ڈاکٹراسداللہ خان آج کے دور میں جب اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر ہر طرف نفرت، تعصب، فرقہ واریت اور تقسیم کی خبریں زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں، ایسے میں اگر کہیں محبت، اخوت، خدمت اور انسانیت کی خوشبو بکھرتی ہے تو وہ صرف ایک واقعہ نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے لیے امید کا چراغ بن جاتا ہے۔ بھیونڈی کی سرزمین نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ ہندوستان کی اصل روح نفرت میں نہیں بلکہ محبت میں، تقسیم میں نہیں بلکہ اتحاد میں، اور مذہبی برتری میں نہیں بلکہ انسانی برابری میں پوشیدہ ہے۔ نیٹ (NEET) جیسے قومی سطح کے اہم امتحان کے موقع پر بھیونڈی کے مسلمانوں، مساجد، مدارس، جماعت خانوں، تعلیمی اداروں اور نوجوان رضاکاروں نے جس عظیم ظرف، وسیع القلبی اور بے مثال مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا، وہ صرف ایک انتظامی خدمت نہیں بلکہ انسانیت کے ماتھے کا جھومر اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا روشن استعارہ بن گیا۔ شدید گرمی کا دن تھا اور ملک کے مختلف شہروں سے سینکڑوں والدین اپنے بچوں کو NEET کے امتحان دلوانے کے لیے بھیونڈی پہنچے تھے۔ گرمی، بھیڑ، ٹریفک اور لمبا انتظار؛ ہر شخص ذہنی طور پر ایک مشکل دن کے لیے تیار تھا، لیکن جیسے ہی وہ امتحانی مراکز کے آس پاس پہنچے، ان کے سامنے ایک ایسا منظر تھا جس کی شاید انہوں نے کبھی توقع بھی نہ کی ہوگی۔ مساجد کے دروازے کھلے ہوئے تھے، مدارس کے ہال مہمانوں سے بھرے ہوئے تھے اور جماعت خانوں میں پانی، چائے، کولڈ ڈرنکس اور ناشتے کا انتظام کیا جا چکا تھا اور مسجدیں صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ انسانیت کی پناہ گاہیں بن گئیں۔ رضاکار ہر آنے والے کو اپنا مہمان سمجھ کر خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا تھا کہ آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور کوئی یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ آپ کس زبان یا کس ریاست سے آئے ہیں۔ وہ صرف ایک بات جانتے تھے کہ یہ ہمارے مہمان ہیں، اور مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ مولانا نے صرف دروازے ہی نہیں، اپنے دل بھی کھول دیے۔ دارالعلوم دینیات، مسجد اور مدرسہ کے ذمہ داران نے صرف ہال مہیا نہیں کیے بلکہ ایک ایسا کام کیا جس نے ہزاروں دل جیت لیے۔ مولانا قاری غلام نے طلبہ کے کمروں کو بھی خالی کروا دیا تاکہ دور دراز سے آنے والے والدین چند گھنٹے سکون سے آرام کر سکیں۔ زمین پر بچھی ہوئی سادہ چٹائیاں شاید دنیا کے کسی مہنگے ہوٹل کے نرم بستروں سے کہیں زیادہ قیمتی محسوس ہو رہی تھیں، کیونکہ وہاں آرام کے ساتھ عزت، احترام اور محبت بھی موجود تھی۔ یہ وہ جذبہ تھا جو کتابوں میں نہیں پڑھایا جاتا، یہ کردار مدارس کی حقیقی تعلیم کا آئینہ تھا۔ مہندی کے چند نقوش اور محبت کے ہزاروں رنگ: بھیونڈی کے خاتون رضاکاروں نے ایک ایسا خوبصورت منظر بھی پیش کیا جس نے ہر دیکھنے والے کا دل موہ لیا۔ امتحان کے دوران انتظار کرتی ہوئی ہندو ماؤں اور بہنوں کے ہاتھوں پر مہندی لگائی جا رہی تھی۔ بظاہر یہ ایک معمولی عمل تھا لیکن حقیقت میں یہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، بھائی چارے اور ثقافتی حسن کی ایک خاموش مگر نہایت مؤثر علامت تھی۔ محبت کا اظہار ہمیشہ بڑی تقریروں سے نہیں ہوتا، کبھی کبھی مہندی کا ایک چھوٹا سا نقش بھی دلوں کے درمیان صدیوں کے فاصلے مٹا دیتا ہے۔ بہت سے والدین نے اعتراف کیا کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب وہ کسی مسجد یا مدرسے کے اندر داخل ہوئے تھے۔ ان کے ذہنوں میں نہ جانے کتنے سوال، خدشات اور غلط فہمیاں تھیں، لیکن چند لمحوں میں ہی وہ تمام فاصلے ختم ہو گئے۔ صلاح الدین ایوبی اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج میں قیام کرنے والے تھانے کے رہائشی نریش شرما جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کہا: ہمارا خیال جس محبت، عزت اور خلوص کے ساتھ رکھا گیا، وہ ہماری زندگی کا ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔ یہ انسانیت کی بہترین مثال ہے۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ برسوں سے ذہنوں میں قائم ہونے والی دیواروں کے گرنے کی آواز تھی۔ جب احترام نے مذہب کی تمام سرحدیں مٹا دیں: وہ منظر یقیناً دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر دینے والا تھا جب کئی ہندو بزرگوں نے محبت اور احترام کے جذبے سے متاثر ہو کر مولانا صاحبان کے قدم چھو لیے۔ تو مولانا قاری غلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا: یہ اللہ کا گھر ہے… اور اللہ کا گھر سب کا گھر ہے۔ آپ بلا جھجھک اندر آئیے، یہ آپ کا بھی اپنا گھر ہے۔ یہ چند الفاظ شاید ہزاروں خطبات سے زیادہ مؤثر تھے۔ اصل ہندوستان یہی ہے: نریش شرما کی ایک بات پورے واقعے کا خلاصہ بن گئی۔ انہوں نے کہا: براہِ کرم اس واقعے میں مذہب کو درمیان میں نہ لائیں۔ نہ مولانا صاحبان نے مذہب کی بات کی، نہ ہم نے۔ یہ صرف انسانوں کی طرف سے انسانوں کی خدمت تھی۔ یہی ہندوستان کی اصل پہچان ہے اور یہی وہ تہذیب ہے جس نے صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات کو ایک دھاگے میں پرو رکھا ہے۔ بھیونڈی نے صرف امتحان نہیں سنبھالا… قوم کو راستہ دکھا دیا: اس پورے عمل میں صرف مساجد ہی نہیں بلکہ رئیس ہائی اسکول، صمدیہ ہائی اسکول، صلاح الدین ایوبی اردو ہائی اسکول، مختلف جماعت خانے، دینی ادارے اور بھیونڈی اسٹوڈنٹس ہیلپ فورم جیسے نوجوانوں کے گروہ بھی برابر شریک رہے۔ یہ کسی ایک فرد یا ایک ادارے کی خدمت نہیں تھی بلکہ پورے شہر کی اجتماعی انسان دوستی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا؟ اگر بھیونڈی یہ مثال قائم کر سکتا ہے تو ملک کا ہر شہر ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ مذہبی مقامات کو انسانیت کے مراکز بنائیں۔ تہواروں کو دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنائیں۔ نوجوانوں کی مشترکہ ٹیمیں قائم ہوں۔ بچوں کو ایک دوسرے سے ملائیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیم بھی یہی ہے: اسلام نے انسانیت کی خدمت کو عبادت قرار دیا ہے۔ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے: جو شخص ایک

نفرتوں کے اندھیرے میں محبت کا چراغ Read More »

جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں!

کبھی کبھی ایک خبر صرف خبر نہیں ہوتی۔وہ ایک سوال ہوتی ہے جو پورے معاشرے کے ضمیر کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔کبھی کوئی رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ان کروڑوں نوجوانوں کی خاموش چیخ ہوتی ہے جن کے خواب کسی دفتر کی میز، کسی بدعنوان اہلکار کی جیب، کسی خفیہ واٹس ایپ گروپ یا کسی منظم مافیا کے ہاتھوں نیلام ہو چکے ہوتے ہیں۔ حال ہی میں ہندوستان کے ایک ممتاز قومی اخبار کی تحقیق نے ملک کے امتحانی نظام کے ایک ایسے تاریک پہلو سے پردہ اٹھایا ہے جس نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ پورے ملک کے سنجیدہ اذہان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔تحقیق کے مطابق 2002 سے 2025 تک ایسے پینتالیس بڑے امتحانات کے پرچے لیک ہوئے جن میں ہر امتحان میں ایک لاکھ سے زائد امیدوار شریک تھے۔ کروڑوں نوجوانوں کی محنت، امیدیں اور مستقبل ان امتحانات سے وابستہ تھے۔ مگر اصل المیہ صرف پرچوں کا لیک ہونا نہیں۔اصل المیہ یہ ہے کہ ان پینتالیس بڑے مقدمات میں صرف دو مقدمات سزا تک پہنچ سکے۔ جی ہاں، صرف دو! باقی مقدمات یا تو تحقیقات کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئے، یا عدالتی راہداریوں میں برسوں تک سرگرداں رہے، یا پھر وقت کی گرد نے ان کے نشانات تک دھندلا دیے۔اس لیے آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ پرچے کس نے لیک کیے؟ اصل سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام میں انصاف کہاں لیک ہو گیا؟ ایک قوم کے خوابوں کی قیمت کتنی ہوتی ہے؟ کسی متوسط یا غریب گھرانے کے دروازے پر دستک دیجیے۔آپ کو ایک نوجوان ملے گا جو رات گئے تک کتابوں میں گم رہتا ہے۔اس کی میز پر نصابی کتابیں ہوں گی۔دیواروں پر خوابوں کے نقشے آویزاں ہوں گے۔ماں کی دعائیں اس کے ساتھ ہوں گی۔باپ کی امیدیں اس کے مستقبل سے وابستہ ہوں گی۔گھر کے اخراجات کم کر کے کوچنگ کی فیس ادا کی گئی ہوگی۔بہن نے اپنی خواہشات ملتوی کی ہوں گی۔والد نے اضافی وقت کام کیا ہوگا۔اور پھر ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ امتحان کا پرچہ امتحان سے پہلے ہی فروخت ہو چکا تھا۔ سوچیے!اس لمحے صرف ایک سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوتا۔اس لمحے ایک نوجوان کا اعتماد لیک ہو جاتا ہے۔ایک خاندان کی امید لیک ہو جاتی ہے۔ایک ماں کی دعا زخمی ہو جاتی ہے اور ایک قوم کے مستقبل پر ثبت اعتماد کا مہر بند لفافہ پھٹ جاتا ہے۔ جانچ کے نظام پر اعتماد کا بحران! جب امتحان کی کاغذی پرچیوں کے ساتھ بچوں کا مستقبل اور والدین کی راتوں کی نیندیں بھی بازار میں بکنے لگیں، تو پورے جانچ کے نظام پر سے ایک نسل کا بھروسہ ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے۔ امتحان کسی بھی تعلیمی نظام کی روح ہوتے ہیں۔یہ محض نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ صلاحیت، محنت، قابلیت اور کردار کی جانچ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔طالب علم جب امتحانی ہال میں داخل ہوتا ہے تو دراصل وہ ریاست کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ کرتا ہے۔اسے یقین ہوتا ہے کہ امتحان منصفانہ ہوگا،سوالات محفوظ ہوں گے،جانچ غیر جانب دار ہوگی اور کامیابی صرف قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ملے گی۔ مگر جب امتحانات بار بار منسوخ ہونے لگیں، سوالیہ پرچے لیک ہونے لگیں اور نتائج متنازع بننے لگیں تو نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک نہایت خطرناک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی میری محنت ہی میری کامیابی کا فیصلہ کرے گی؟ یہ بظاہر ایک سادہ سوال ہے، مگر درحقیقت پورے تعلیمی فلسفے کو چیلنج کرتا ہے۔ کسی بھی تعلیمی نظام کی اصل طاقت اس کی عمارتیں، ٹیکنالوجی یا نصاب نہیں ہوتے،اس کی اصل طاقت اس کی ساکھ ہوتی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک—فن لینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور جاپان—نے صرف وسائل کی بنیاد پر ترقی نہیں کی بلکہ امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو اپنی قومی ترقی کا ستون بنایا۔اگر ہندوستان جیسے عظیم ملک میں نوجوان امتحانی نظام پر اعتماد کھو دیں تو اس کا نقصان صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے انسانی سرمائے (Human Capital) کو متاثر کرتا ہے۔ اس لئے یہ صرف امتحان کا بحران نہیں۔یہ Meritocracy یعنی قابلیت اور اہلیت پر مبنی معاشرتی نظام کا بحران ہے۔ کیا یہ عوامی اداروں میں احتساب کی ناکامی نہیں ہے؟ کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل قوت اس کے اداروں کی شفافیت اور جواب دہی میں پوشیدہ ہوتی ہے لیکن جب ہزاروں گرفتاریاں ہوں، سینکڑوں چارج شیٹس داخل ہوں، لاکھوں امیدوار متاثر ہوں اور پھر بھی سزائیں نہ ہونے کے برابر ہوں تو ایک بنیادی سوال سر اٹھاتا ہے کہ آخر ذمہ دار کون ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے معاشروں میں اکثر چھوٹے کردار پکڑے جاتے ہیں جبکہ بڑے کردار نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔کسی واٹس ایپ گروپ کے منتظم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔کسی درمیانی درجے کے ملازم کو معطل کر دیا جاتا ہے۔مگر وہ ادارہ جاتی کمزوریاں، وہ پالیسی خامیاں اور وہ انتظامی ناکامیاں جنہوں نے اس جرم کو ممکن بنایا، اکثر احتساب کے دائرے سے باہر رہ جاتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے متزلزل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔احتساب صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں۔احتساب دراصل اس پورے نظام کی اصلاح کا نام ہے جو جرم کو جنم دیتا ہے۔ جب تک تحقیقات بروقت نہیں ہوں گی، مقدمات غیر ضروری تاخیر کا شکار رہیں گے، ذمہ دار افسران جواب دہ نہیں ہوں گے اور اصلاحات مستقل بنیادوں پر نافذ نہیں کی جائیں گی، تب تک ہر نیا امتحان ایک نئے خطرے کے ساتھ منعقد ہوگا۔ تعلیمی اداروں کا سب سے بڑا سرمایہ ان کی عمارتیں نہیں بلکہ ان کی Credibility ہوتی ہے اور Credibility کی بنیاد ہمیشہ Accountability پر قائم ہوتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ نوجوان نسل پر امتحانی بدانتظامی کے کیا نفسیاتی اثرات ہوں گے؟ اس پورے بحران کا سب سے کم زیرِ بحث مگر سب سے سنگین پہلو نوجوانوں کی ذہنی صحت ہے۔ہر سال لاکھوں نوجوان مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔وہ برسوں کوچنگ سینٹروں میں وقت گزارتے ہیں۔وہ اپنی نیند، آرام، تفریح اور سماجی زندگی قربان کر دیتے ہیں۔وہ اپنی شناخت کو اپنے امتحانی نتائج کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔ پھر اچانک انہیں بتایا جاتا ہے کہ امتحان

جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں! Read More »

तअलीम: इंसान बनाने का फ़न या इम्तिहान पास कराने की मशीन?

इल्म वो है जो इंसान को इंसान बनाए, न कि वो जो उसे मशीन बना दे डॉ. असदुल्लाह ख़ान ज़िन्दगी में कभी-कभी ऐसा होता है कि आप कोई तहरीर हाथ में लेते हैं और पढ़ते-पढ़ते अचानक रुक जाते हैं। क़लम नीचे रख देते हैं। आँखें बंद कर लेते हैं। और दिल के किसी गहरे गोशे से एक आवाज़ आती है कि यही तो मैं कह रहा था। हुआ यूँ कि आज के टाइम्ज़ ऑफ़ इंडिया में NCERT के डायरेक्टर, प्रोफ़ेसर दिनेश प्रसाद सकलानी का मज़मून पढ़ा तो यूँ महसूस हुआ जैसे मेरे दिल-व-दिमाग़ में मुद्दतों से गर्दिश करने वाले ख़यालात को किसी और ने लफ़्ज़ों के क़ालब में ढाल दिया हो। हर सतर, हर इस्तिदलाल और हर सवाल मेरे अपने फ़िक्री सफ़र की बाज़गश्त मालूम हुआ। मुझे मीर का वो मिसरा याद आ गया जो उर्दू शाअरी की सबसे लतीफ़ नफ़्सियाती दरयाफ़्तों में से एक है — “मैंने यह जाना कि गोया यह भी मेरे दिल में है।” यह मिसरा महज़ एक शेरी तजुर्बे का बयान नहीं — यह उस कैफ़ियत का नाम है जब कोई बात आपके अन्दर इतनी गहरी उतर चुकी हो कि आप उसे अपनी समझते ही नहीं, और फिर जब कोई दूसरा इंसान वही बात कह दे तो आप चौंक उठते हैं। वो लिखते हैं कि रट्टा लगाना कभी हिन्दुस्तान की रूह नहीं रहा। कि इस सरज़मीन ने नचिकेता को पैदा किया जिसने मौत से सवाल किया, गार्गी पैदा की जिसने ब्रह्मनों के सरदार को ख़ामोश किया, कनाद पैदा किया जिसने ऐटम का तसव्वुर दिया, सुश्रुत पैदा किया जिसने जिराही सिखाई, आर्य भट्ट पैदा किया जिसने सिफ़र दरयाफ़्त किया — और यह सब रट्टे से नहीं, सवाल से, तजुर्बे से, मुशाहिदे से, दलील से पैदा हुए। यह पढ़कर मैंने सोचा — क्या यह सिर्फ़ तअलीम की कहानी है? नहीं। यह हमारी पूरी तहज़ीबी रूह की कहानी है। अगर आज नचिकेता किसी इस्कूल में दाख़िल हो जाए तो क्या होगा? वही नचिकेता जिसने मौत के देवता यमराज के दरवाज़े पर तीन दिन और तीन रात खड़े रहकर इल्म तलब किया था। वही नचिकेता जिसके सवालों ने कठ उपनिशद को जन्म दिया। वो बच्चा जो मौत से न डरा, क्या वो हमारे निसाब की तंग गलियों में साँस ले पाता? क्या आज का उस्ताद उसकी हौसला-अफ़ज़ाई करता? क्या आज के इस्कूल में उसके लिए कोई जगह होती? या उसे यह कहकर ख़ामोश करा दिया जाता कि “यह सवाल निसाब में नहीं है, इम्तिहान में नहीं आएगा, वक़्त ज़ाया मत करो।” यह सवाल महज़ एक फ़र्ज़ी तसव्वुर नहीं। यह हमारे पूरे निज़ाम-ए-तअलीम के लिए एक बेरहम आईना है। असल मसला यह नहीं कि हमारे बच्चे क्या पढ़ रहे हैं। असल और बुनियादी मसला यह है कि हम उन्हें सोचने दे रहे हैं या नहीं। हिन्दुस्तानी इल्मी रिवायत की गहराइयाँ जब हम हिन्दुस्तानी इल्मी रिवायत की गहराइयों में उतरते हैं तो एक अनोखा और फ़ख़्र-अंगेज़ मंज़र सामने आता है। यहाँ इल्म कभी भी एक मुर्दा मालूमात का ज़ख़ीरा नहीं रहा। यहाँ सवाल इबादत था, मुकालमा तअलीम था, तलाश-ए-हक़ीक़त ज़िन्दगी का मक़सद थी। उपनिशदों के अज़ीम मुबाहिसे देखिए — जहाँ उस्ताद शागिर्द को जवाब नहीं देता था, बल्कि सवाल पूछता था। नालंदा और तक्षशिला की मेहान दर्सगाहों को देखिए जहाँ दुनिया के कोने-कोने से तालिब-ए-इल्म आते थे — न डिग्री के लिए, बल्कि इल्म की प्यास बुझाने के लिए। नालंदा में दस हज़ार से ज़ाइद तालिब-ए-इल्म और दो हज़ार असातिज़ा थे। वहाँ का कुतुब-ख़ाना इतना अज़ीम था कि जब उसे जलाया गया तो वो तीन माह तक जलता रहा। नालंदा का कुतुब-ख़ाना तीन माह तक जलता रहा — क्योंकि इल्म वहाँ काग़ज़ों में नहीं, रूहों में महफ़ूज़ था फिर ऐसा क्या हुआ? यह वो सवाल है जो हर मुहिब्ब-ए-तअलीम की नींद उड़ा देता है। ऐसा क्या हुआ कि सवाल करने वाली क़ौम रट्टा करने वाली क़ौम बन गई? 1835ء में जब लॉर्ड मैकाले ने अपना वो बदनाम-ए-ज़माना “मिनट” लिखा तो उसने सिर्फ़ एक निसाब नहीं बदला — उसने एक पूरी क़ौम के सोचने का अन्दाज़ बदल दिया। उसने लिखा कि हमें ऐसे अफ़राद चाहिएँ जो “ख़ून और रंग में हिन्दुस्तानी हों लेकिन ज़ौक़, राय, अख़्लाक़ और अक़्ल में अंग्रेज़ हों।” आहिस्ता-आहिस्ता तअलीम ज़िन्दगी की तैयारी के बजाय इम्तिहान की तैयारी बन गई। इस्कूल शख़्सियत-साज़ी के मराकिज़ के बजाय इम्तिहानी कारख़ाने बन गए। 1947ء में हमने सियासी आज़ादी हासिल की लेकिन ज़हनी आज़ादी? वो अभी भी नो-आबादियाती ज़ंजीरों में जकड़ी हुई थी। हमने इस्कूल बनाए, इमारतें बनाईं, निसाब बनाए लेकिन इंसान बनाना भूल गए आज का दौर — जब मोबाइल मालूमात देता है, मगर हिकमत नहीं आज हम एक ऐसे अहद में जी रहे हैं जहाँ एक मोबाइल फ़ोन सेकंडों में वो मालूमात फ़राहम कर सकता है जिसे कभी हासिल करने में पूरी ज़िन्दगी लग जाती थी। ऐसे में अगर हमारी तअलीम का वाहिद मक़सद मालूमात याद कराना है तो फिर उस्ताद की, इस्कूल की, यूनिवर्सिटी की ज़रूरत ही क्या रह जाएगी? World Economic Forum की 2023ء की रिपोर्ट बताती है कि अगले पाँच सालों में 23 फ़ीसद मुलाज़मतें तबदील हो जाएँगी। आज जो बच्चा पहली जमाअत में बैठा है, वो 2040ء की दुनिया में काम करेगा। McKinsey Global Institute की तहक़ीक़ के मुताबिक़ आने वाले बरसों में AI उन तमाम कामों को कर सकेगी जो महज़ “याद करने” पर मुन्हसिर हैं। जो इंसान बाक़ी रहेगा, वो वही होगा जो सोच सकता है, तख़्लीक़ कर सकता है, महसूस कर सकता है। हमने बच्चों को क्या दिया? मैंने देखा कि एक बच्चा जो घर में हज़ार सवाल पूछता है, जो परिंदों को देखकर हैरान होता है, जो आसमान की तरफ़ देखकर सितारों के बारे में पूछता है — वही बच्चा इस्कूल में आने के चंद सालों के बाद ख़ामोश हो जाता है। वो सवाल करना छोड़ देता है। क्यों? क्योंकि हमने उसे सिखा दिया कि सवाल परेशान-कुन है, ख़ामोशी क़ाबिल-ए-तअरीफ़ है। आज भी एक बच्चे की ज़हानत उसके सवालों से नहीं बल्कि उसके नम्बरों से नापी जाती है। हमने उन्हें बताया कि जवाब क्या है, मगर यह नहीं सिखाया कि जवाब तक पहुँचा कैसे जाता है। हमने उन्हें मालूमात दीं, मगर हिकमत नहीं दी। हमने मालूमात दीं, हिकमत नहीं दी — हक़ाइक़ याद कराए, हक़ीक़त तलाश करना नहीं सिखाया नम्बरों की दौड़

तअलीम: इंसान बनाने का फ़न या इम्तिहान पास कराने की मशीन? Read More »

नफ़रतों के अँधेरे में मुहब्बत का चराग़

भीवंडी के मुसलमानों ने इंसानियत, अख़ुव्वत और हिन्दुस्तानी तहज़ीब की एक नई तारीख़ रक़म कर दी डॉ. असदुल्लाह ख़ान आज के दौर में जब अख़बारात, टेलीविज़न और सोशल मीडिया पर हर तरफ़ नफ़रत, तअस्सुब, फ़िर्क़ापरस्ती और तक़सीम की ख़बरें ज़्यादा नुमायाँ नज़र आती हैं, ऐसे में अगर कहीं मुहब्बत, अख़ुव्वत, ख़िदमत और इंसानियत की ख़ुशबू बिखरती है तो वो सिर्फ़ एक वाक़िआ नहीं रहता बल्कि पूरी क़ौम के लिए उम्मीद का चराग़ बन जाता है। भीवंडी की सरज़मीन ने एक मर्तबा फिर साबित कर दिया कि हिन्दुस्तान की असल रूह नफ़रत में नहीं बल्कि मुहब्बत में, तक़सीम में नहीं बल्कि इत्तिहाद में, और मज़हबी बर्तरी में नहीं बल्कि इंसानी बराबरी में पोशीदा है। नीट (NEET) जैसे क़ौमी सतह के अहम इम्तिहान के मौक़े पर भीवंडी के मुसलमानों, मसाजिद, मदारिस, जमाअत ख़ानों, तअलीमी इदारों और नौजवान रज़ाकारों ने जिस अज़ीम ज़र्फ़, वसीउल-क़ल्बी और बेमिसाल मेहमान-नवाज़ी का मुज़ाहरा किया, वो सिर्फ़ एक इंतिज़ामी ख़िदमत नहीं बल्कि इंसानियत के माथे का जूमर और हिन्दुस्तान की गंगा-जमुनी तहज़ीब का रौशन इस्तिआरा बन गया। शदीद गर्मी का दिन था और मुल्क के मुख़्तलिफ़ शहरों से सैकड़ों वालिदैन अपने बच्चों को NEET के इम्तिहान दिलवाने के लिए भीवंडी पहुँचे थे। गर्मी, भीड़, ट्रैफ़िक और लम्बा इन्तिज़ार — हर शख़्स ज़हनी तौर पर एक मुश्किल दिन के लिए तैयार था, लेकिन जैसे ही वो इम्तिहानी मराकिज़ के आस-पास पहुँचे, उनके सामने एक ऐसा मंज़र था जिसकी शायद उन्होंने कभी तवक़्क़ो भी न की होगी। मसाजिद के दरवाज़े खुले हुए थे, मदारिस के हॉल मेहमानों से भरे हुए थे और जमाअत ख़ानों में पानी, चाय, कोल्ड ड्रिंक्स और नाश्ते का इन्तिज़ाम किया जा चुका था और मस्जिदें सिर्फ़ इबादत-गाहें नहीं बल्कि इंसानियत की पनाह-गाहें बन गईं। रज़ाकार हर आने वाले को अपना मेहमान समझ कर ख़ुश-आमदीद कह रहे थे। कोई यह नहीं पूछ रहा था कि आप किस मज़हब से ताल्लुक़ रखते हैं और कोई यह नहीं देख रहा था कि आप किस ज़बान या किस रियासत से आए हैं। वो सिर्फ़ एक बात जानते थे कि “ये हमारे मेहमान हैं, और मेहमान अल्लाह की रहमत होते हैं।” मौलाना ने सिर्फ़ दरवाज़े ही नहीं, अपने दिल भी खोल दिए। दारुल-उलूम दीनियात, मस्जिद और मदरसे के ज़िम्मेदारान ने सिर्फ़ हॉल मुहैया नहीं किए बल्कि एक ऐसा काम किया जिसने हज़ारों दिल जीत लिए। मौलाना क़ारी ग़ुलाम ने तलबा के कमरों को भी ख़ाली करवा दिया ताकि दूर-दराज़ से आने वाले वालिदैन चंद घंटे सुकून से आराम कर सकें। ज़मीन पर बिछी हुई सादा चटाइयाँ शायद दुनिया के किसी मँहगे होटल के नर्म बिस्तरों से कहीं ज़्यादा क़ीमती महसूस हो रही थीं, क्योंकि वहाँ आराम के साथ इज़्ज़त, एहतिराम और मुहब्बत भी मौजूद थी। यह वो जज़्बा था जो किताबों में नहीं पढ़ाया जाता, यह किरदार मदारिस की हक़ीक़ी तअलीम का आईना था। मेहँदी के चंद नक़ूश और मुहब्बत के हज़ारों रंग भीवंडी के ख़ातून रज़ाकारों ने एक ऐसा ख़ूबसूरत मंज़र भी पेश किया जिसने हर देखने वाले का दिल मोह लिया। इम्तिहान के दौरान इन्तिज़ार करती हुई हिन्दू माओं और बहनों के हाथों पर मेहँदी लगाई जा रही थी। बज़ाहिर यह एक मामूली अमल था लेकिन हक़ीक़त में यह हिन्दुस्तान की मुश्तरका तहज़ीब, भाईचारे और सक़ाफ़ती हुस्न की एक ख़ामोश मगर निहायत मुअस्सर अलामत थी। मुहब्बत का इज़हार हमेशा बड़ी तक़रीरों से नहीं होता, कभी-कभी मेहँदी का एक छोटा सा नक़्श भी दिलों के दरमियान सदियों के फ़ासले मिटा देता है। बहुत से वालिदैन ने एतिराफ़ किया कि यह उनकी ज़िन्दगी का पहला मौक़ा था जब वो किसी मस्जिद या मदरसे के अन्दर दाख़िल हुए थे। उनके ज़हनों में न जाने कितने सवाल, ख़दशात और ग़लतफ़हमियाँ थीं, लेकिन चंद लम्हों में ही वो तमाम फ़ासले ख़त्म हो गए। जब पहली मर्तबा मस्जिद में क़दम रखा तो कैफ़ियत कुछ और थी और थोड़ी ही देर में ख़ौफ़, मुहब्बत में बदल गया। सलाहुद्दीन अय्यूबी उर्दू हाई स्कूल व जूनियर कॉलेज में क़याम करने वाले ठाणे के रहाइशी नरेश शर्मा जज़्बात पर क़ाबू न रख सके। उन्होंने कहा: “हमारा ख़याल जिस मुहब्बत, इज़्ज़त और ख़ुलूस के साथ रखा गया, वो हमारी ज़िन्दगी का ना-क़ाबिल-ए-फ़रामोश तजुर्बा है। यह इंसानियत की बेहतरीन मिसाल है।” यह सिर्फ़ एक जुमला नहीं था, यह बरसों से ज़हनों में क़ायम होने वाली दीवारों के गिरने की आवाज़ थी। जब एहतिराम ने मज़हब की तमाम सरहदें मिटा दीं वो मंज़र यक़ीनन देखने वालों की आँखें नम कर देने वाला था जब कई हिन्दू बुज़ुर्गों ने मुहब्बत और एहतिराम के जज़्बे से मुतअस्सिर होकर मौलाना साहिबान के क़दम छू लिए। बाज़ ख़वातीन ने हिचकिचाते हुए कहा: “हम पहली मर्तबा मस्जिद के अन्दर आई हैं।” तो मौलाना क़ारी ग़ुलाम ने मुस्कुराते हुए फ़रमाया: “यह अल्लाह का घर है… और अल्लाह का घर सबका घर है। आप बला-झिझक अन्दर आइए, यह आपका भी अपना घर है।” यह चंद अल्फ़ाज़ शायद हज़ारों ख़ुत्बात से ज़्यादा मुअस्सर थे। असल हिन्दुस्तान यही है नरेश शर्मा की एक बात पूरे वाक़िए का ख़ुलासा बन गई। उन्होंने कहा: “बराह-ए-करम इस वाक़िए में मज़हब को दरमियान में न लाएँ। न मौलाना साहिबान ने मज़हब की बात की, न हमने। यह सिर्फ़ इंसानों की तरफ़ से इंसानों की ख़िदमत थी।” यही हिन्दुस्तान की असल पहचान है और यही वो तहज़ीब है जिसने सदियों से मुख़्तलिफ़ मज़ाहब, ज़बानों, सक़ाफ़तों और रिवायात को एक धागे में पिरो रखा है। भीवंडी ने सिर्फ़ इम्तिहान नहीं सँभाला… क़ौम को रास्ता दिखा दिया इस पूरे अमल में सिर्फ़ मसाजिद ही नहीं बल्कि रईस हाई स्कूल, समदिया हाई स्कूल, सलाहुद्दीन अय्यूबी उर्दू हाई स्कूल, मुख़्तलिफ़ जमाअत ख़ाने, दीनी इदारे और भीवंडी स्टूडेंट्स हेल्प फ़ोरम जैसे नौजवानों के गुरोह भी बराबर शरीक रहे। यह किसी एक फ़र्द या एक इदारे की ख़िदमत नहीं थी बल्कि पूरे शहर की इज्तिमाई इंसान-दोस्ती थी। यह वो सबक़ है जिसकी आज हिन्दुस्तान को सबसे ज़्यादा ज़रूरत है। अब सवाल यह है कि आगे क्या? अगर भीवंडी यह मिसाल क़ायम कर सकता है तो मुल्क का हर शहर ऐसा क्यों नहीं कर सकता? अगर एक इम्तिहान के दिन मस्जिदों के दरवाज़े सबके लिए खुल सकते हैं तो फिर दूसरे मवाक़े पर क्यों नहीं? आइए हम सब चंद अमली अह्द करें: मज़हबी मक़ामात को इंसानियत के मराकिज़ बनाएँ। मसाजिद, मंदिर, गुरुद्वारे,

नफ़रतों के अँधेरे में मुहब्बत का चराग़ Read More »