نوجوان، خودکشی اور ہماری اجتماعی بے حسی کا المیہ

ڈاکٹر اسداللہ خان (ممبئی)

انسانی تہذیب کی تاریخ میں بعض ادوار ایسے آتے ہیں جب معاشرے بظاہر ترقی کی معراج پر ہوتے ہیں مگر اندر سے شکست و ریخت کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔ سڑکیں روشن ہوتی ہیں مگر ذہن تاریک، عمارتیں بلند ہوتی ہیں مگر کردار پست، معلومات کا سمندر موجزن ہوتا ہے مگر روحیں پیاسی رہ جاتی ہیں۔

آج ہم ایک ایسے ہی عہد کے مسافر ہیں—ایک ایسا دور جہاں انسان نے چاند پر قدم رکھ دیا مگر اپنے ہی دل کی ویرانی کو آباد نہ کر سکا۔ جہاں Artificial Intelligence نے حیرت انگیز ترقی کر لی مگر انسانی جذبات کی شکستگی کا علاج اب بھی نایاب ہے۔ جہاں رابطے بے شمار ہیں مگر تعلقات مر چکے ہیں۔ جہاں ہر ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے مگر ہر دل میں خاموش اضطراب۔ اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس تہذیبی طوفان کا سب سے پہلا شکار ہماری نوجوان نسل بن رہی ہے۔

یہ وہ نسل ہے جس کے کاندھوں پر مستقبل کی تعمیر تھی، مگر آج وہی نسل ذہنی دباؤ، وجودی بحران، تعلیمی خوف، ڈیجیٹل انتشار اور روحانی خلا کے بوجھ تلے خاموشی سے بکھر رہی ہے۔

آج کا نوجوان بظاہر ہنستا ہے مگر اندر سے ٹوٹا ہوا ہے۔ وہ دوستوں کے ہجوم میں جتنا گھرتا جا رہا ہے تنہائیاں اتنا ہی اس کا تعاقب کر رہی ہیں۔ وہ Online ہے مگر اپنی ذات سے Disconnect ہو چکا ہے۔ اس کے پاس معلومات بہت ہیں مگر معنی نہیں، خواہشات بہت ہیں مگر سمت نہیں، مصروفیات بہت ہیں مگر مقصد نہیں۔

پیپر لیک اور لاکھوں خوابوں کا لیک

چند دن قبل NEET-UG 2026 کے پیپر لیک اور امتحان کی منسوخی کے بعد پورے ملک میں اضطراب کی ایک لہر دوڑ گئی۔ تقریباً 23 لاکھ طلبہ و طالبات کے خواب، محنت، نیندیں اور مستقبل اچانک غیر یقینی کی دھند میں ڈوب گئے۔ یہ صرف ایک امتحان کی منسوخی نہیں تھی، بلکہ لاکھوں نوجوان ذہنوں کے اعتماد، نفسیاتی استحکام اور امید پر ایک کاری ضرب تھی۔

رپورٹس کے مطابق، گوا میں ایک 17 سالہ NEET امیدوار نے امتحان کی منسوخی کے بعد خودکشی کر لی۔ ادھر اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں 20 سالہ طالب علم شدید ذہنی دباؤ کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔ دہلی میں ایک نوجوان طالبہ کی موت کو بھی NEET کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی بحران سے جوڑا جا رہا ہے۔ ادھر راجستھان کے کوچنگ مرکز “کوٹا” میں 2024 کے دوران درجنوں طلبہ نے خودکشی کی، جن میں کئی NEET اور JEE کے امیدوار تھے۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان بھر سے نوجوانوں کی خودکشی کے واقعات نے پورے سماج کی روح کو زخمی کر دیا ہے۔

بورڈ امتحانات کے نتائج، NEET اور JEE جیسے مقابلہ جاتی امتحانات، کوچنگ کلچر، والدین کی غیر محسوس توقعات، سوشل میڈیا کا تقابلی زہر، اور مستقبل کا خوف—یہ سب مل کر نوجوان ذہنوں کو ایک ایسے نفسیاتی شکنجے میں قید کر رہے ہیں جہاں بعض اوقات ایک نتیجہ پوری زندگی سے بڑا محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایک کاغذ کا لیک ہونا دراصل لاکھوں خوابوں کا لیک ہونا تھا۔ ایک امتحان کا Cancel ہونا صرف Academic Crisis نہیں تھا بلکہ Emotional Collapse تھا۔

کوسہ ممبرا کا صدمہ

اور عین اُسی ہنگامۂ اضطراب میں، کوسہ ممبرا کی فضا سے اُٹھنے والی ایک خبر نے جیسے پورے سماج کی روح کو لرزا دیا۔ ایک ایسی خبر جس نے دلوں کی دھڑکنوں کو منجمد اور سوچ کی رگوں کو سُن کر دیا۔

ایک نوجوان ڈاکٹر… محض اٹھائیس، تیس برس کی عمر… تین معصوم بچوں کی ماں… وہی ڈاکٹر جس نے کورونا کی تاریک ترین راتوں میں خوف کے بجائے خدمت کا چراغ جلائے رکھا، جو موت کے سائے میں بھی لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے دن رات اسپتالوں میں کھڑی رہی، جس نے اپنے سکون، اپنی نیند، اپنی راحت سب انسانیت کے نام کر دیے— مگر شاید اپنی ہی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا علاج نہ ڈھونڈ سکی۔

اور پھر ایک دن، جب پورا ملک نوجوان ذہنوں کی خودکشیوں کی خبروں سے ابھی سنبھل بھی نہ پایا تھا، یہ صدمہ بھی سننے میں آیا کہ ممبرا کی ایک بلند عمارت کی چھٹی منزل سے وہ خاموشی کے ساتھ نیچے اتر گئی… ہمیشہ کے لیے۔

یہ صرف ایک عورت کی موت نہیں تھی، یہ ہمارے عہد کے تھکے ہوئے ذہن، خاموش اذیت، اور اندر سے ٹوٹتی ہوئی نسل کا نوحہ تھا۔ یہ خبریں نہیں… یہ ایک تہذیب کی چیخیں ہیں۔ یہ اس سماج کا نوحہ ہیں جس نے انسان کو Performance Machine تو بنا دیا مگر انسان رہنے کا حق چھین لیا۔

کیا ہم بچوں کو صرف کامیابی سکھا رہے ہیں، زندگی نہیں؟

ہمارا تعلیمی نظام شاید اب علم و تعلم کی فضا نہیں بنا رہا، صرف مقابلہ پیدا کر رہا ہے۔ ہم بچوں کو یادداشت ضرور دے رہے ہیں مگر بصیرت نہیں۔ ہم انہیں نمبرز سکھا رہے ہیں مگر صبر نہیں۔ ہم انہیں Career دے رہے ہیں مگر Character نہیں۔

آج ایک طالب علم کتاب سے زیادہ Comparison سے خوفزدہ ہے۔ وہ نصاب سے کم اور Expectations سے زیادہ دباؤ میں ہے۔ اسے یہ نہیں سکھایا گیا کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں، کم نمبر انسان کی قیمت کا پیمانہ نہیں، اور ایک امتحان خدا کا آخری فیصلہ نہیں۔

آج کا نوجوان محض امتحان نہیں دے رہا، وہ والدین کی امیدوں کا بوجھ اٹھا رہا ہے، سماج کی دوڑ میں اپنی شناخت تلاش کر رہا ہے، ڈیجیٹل دنیا میں اپنی حیثیت ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور خاموشی سے Anxiety، Depression اور Emotional Burnout سے لڑ رہا ہے۔

اسلام کی نظر میں انسان… نمبر نہیں، امانت ہے

اسلام انسان کو صرف جسم نہیں بلکہ روح، شعور، جذبات اور امانت سمجھتا ہے۔

“وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ”
(اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی)

اسلام نے خودکشی کو حرام قرار دیا کیونکہ زندگی انسان کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ امانت ہے،

“وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا”
(اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بڑا مہربان ہے)

— سورۃ النساء: 29

لیکن اسلام صرف حکم نہیں دیتا، وہ انسان کی نفسیات کو بھی سمجھتا ہے۔ اسلام جانتا ہے کہ بعض اوقات انسان کا ذہن اس قدر زخمی ہو جاتا ہے کہ اس کی سوچنے، برداشت کرنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو جاتی ہے۔ اسی لیے کسی مرحوم کے بارے میں آخری فیصلے صادر کرنا دین کی روح کے خلاف ہے۔ اسلام کا مزاج نفرت نہیں، رحمت ہے۔ فتویٰ نہیں، فہم ہے۔ ملامت نہیں، مرہم ہے۔

نوجوانی — امت کی سب سے بڑی قوت

اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ امت کے عظیم ترین کردار نوجوان تھے۔ محمد بن قاسم صرف سترہ برس کی عمر میں تاریخ کے افق پر ابھرے۔ صلاح الدین ایوبی نے جوانی میں بیت المقدس کی آزادی کا خواب دیکھا۔ حضرت علیؓ، حضرت اسامہؓ، حضرت مصعبؓ—یہ سب نوجوان تھے مگر ان کے سینوں میں مقصدیت کا سمندر موجزن تھا۔

آج کا نوجوان بھی اگر چاہے تو دنیا بدل سکتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ اپنی توانائی کو فضول مشاغل سے نکالے، اپنی روح کو مقصد سے جوڑے، اور اپنی ذات کو محض “Career” نہیں بلکہ “Mission” بنائے۔

لیکن آج انسان کے پاس وقت کم نہیں، ارتکاز کم ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ نوجوان پڑھنا نہیں چاہتے، مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ذہن ہزار ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ مختصر ویڈیوز، مسلسل Notifications، آن لائن گیمنگ، مصنوعی شہرت، Virtual Validation—یہ سب نوجوان ذہن کو اس حد تک منتشر کر رہے ہیں کہ گہری سوچ، مطالعہ، صبر اور یکسوئی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔

آج نوجوان، ہزاروں Followers رکھتے ہیں مگر ایک مخلص دوست نہیں، روزانہ گھنٹوں Scroll کرتے ہیں مگر خود کو نہیں پڑھتے، ہر چیز جانتے ہیں مگر خود کو نہیں جانتے۔ یہ صرف Attention Crisis نہیں، یہ Identity Crisis ہے۔

اقبال کا شاہین اور آج کا نوجوان

علامہ اقبال نے نوجوان کو شاہین سے تشبیہ دی تھی کیونکہ شاہین، بلندی کا عاشق ہوتا ہے، مردار پر نہیں جیتا، آندھیوں سے گھبراتا نہیں، اور تنہائی میں اپنی قوت پیدا کرتا ہے۔

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

— علامہ اقبال

آج بھی نوجوانوں کے اندر بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مگر انہیں صرف ڈگری نہیں، مقصد چاہیے۔ صرف نوکری نہیں، وژن چاہیے۔ صرف کامیابی نہیں، سکون چاہیے۔

والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری

والدین، اساتذہ اور معاشرے کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر خاموش بچہ مطمئن نہیں ہوتا۔ ہر ہنستا ہوا نوجوان خوش نہیں ہوتا، اور ہر کامیاب نظر آنے والا انسان اندر سے مضبوط نہیں ہوتا۔

والدین کو چاہیے — بچوں سے صرف نمبر نہ پوچھیں، ان کی کیفیت بھی پوچھیں۔ ان پر اپنی ادھوری خواہشات مسلط نہ کریں۔ ان کے دوست بنیں، صرف نگران نہیں۔

اساتذہ کو چاہیے — طلبہ کو صرف نصاب نہیں، زندگی بھی سکھائیں۔ کلاس روم کو خوف نہیں، اعتماد کی جگہ بنائیں۔

معاشرے کو چاہیے — ذہنی بیماری کو مذاق نہ سمجھے، Therapy کو معیوب نہ سمجھے، اور نوجوانوں کو صرف مشورے نہیں، سہارا دے۔ کبھی کبھی صرف ایک جملہ، “میں تمہارے ساتھ ہوں،” کسی انسان کی زندگی بچا سکتا ہے۔

اسلام مایوسی کا مذہب نہیں

“لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ”
(اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو)

زندگی میں ناکامیاں آئیں گی، دروازے بند ہوں گے، لوگ چھوڑ جائیں گے، خواب ٹوٹیں گے—مگر یہی زندگی ہے۔ اصل کامیابی کبھی نہ گرنے میں نہیں، بلکہ ہر بار گر کر دوبارہ اٹھنے میں ہے۔ مایوسی، ڈپریشن یا انتشار نہیں بلکہ نماز، دعا، قرآن، ذکر، اچھی صحبت، والدین کی محبت، استاد کی شفقت، اور مقصد سے جڑی ہوئی زندگی انسان کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔

اٹھو! آج بھی وقت ہے

مانا کہ ہماری یونیورسٹیاں ڈگریاں تو دے رہی ہیں مگر سکون نہیں، ہمارے اسکول ذہین دماغ تو پیدا کر رہے ہیں مگر مضبوط اعصاب نہیں، ہمارے نوجوان کامیاب تو ہو رہے ہیں مگر جینے سے تھک رہے ہیں—تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ کہیں ہم ترقی کے نام پر انسانیت تو نہیں ہار رہے؟

قومیں صرف انفراسٹرکچر سے نہیں بنتیں۔ تہذیبیں صرف معیشت سے زندہ نہیں رہتیں۔ معاشرے صرف ٹیکنالوجی سے محفوظ نہیں ہوتے۔ قومیں اُس وقت زندہ رہتی ہیں جب ان کے نوجوان امید سے بھرے ہوں، مقصد سے جڑے ہوں، روحانی طور پر مضبوط ہوں اور انہیں یہ یقین ہو کہ ان کی زندگی صرف نمبر، نوکری اور دنیاوی کامیابی کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم امانت ہے۔

اگر ہم نے اپنے نوجوانوں کے خاموش زخموں کو پہچان لیا، اگر ہم نے تعلیم کو انسان دوست بنا لیا، اگر ہم نے دلوں کو نمبروں سے زیادہ اہم سمجھ لیا، تو شاید آنے والی نسلیں ہمیں معاف کر دیں۔ ورنہ آنے والی نسلیں یہ نوحہ لکھیں گی کہ ہم نے اپنے بچوں کو کامیابی کے تمام ہنر سکھائے، مگر زندگی جینے کا سلیقہ نہ دے سکے۔

کل جب تاریخ ہمارے زمانے کا محاسبہ کرے گی تو شاید لکھے کہ انہوں نے اپنے بچوں کو اُڑنا تو سکھایا، مگر گرنے کے بعد اٹھنا نہ سکھا سکے۔ کہ ہم نے اپنی اولاد کو مشینوں سے بات کرنا تو سکھا دیا، مگر اپنے زخموں سے گفتگو کرنا نہ سکھایا۔ کہ ہم نے بچوں کو کامیاب انسان تو بنایا، مگر پُرسکون انسان نہ بنا سکے۔

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

— ڈاکٹر اسداللہ خان، ممبئی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *