ہندوستان کے تعلیمی بحران کا فکری محاسبہ
ڈاکٹر اسد اللہ خان
آج کل ہندوستان کے تعلیمی نظام کی جن خرابیوں پربحث کی جارہی ہے، وہ بلاشبہ اہم ہیں۔ پیپر لیک، امتحانی بدعنوانی، رٹّا سسٹم، ناقص اسکول انفراسٹرکچر، کمزور تدریسی معیار اور روزگار سے محروم گریجویٹس، یہ سب تلخ حقیقتیں ہیں۔لیکن بطور ایک معلم اور چالیس برس سے زائد عرصہ تعلیم کے میدان میں دشت نوردی کرنے والے شخص کے طور پر جو کچھ ہم نے دیکھا ہے یا سمجھا ہےان سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسئلہ ان تمام خرابیوں سے بھی زیادہ گہرا ہے۔
ہمارا اصل بحران تعلیمی نہیں، فکری بحران ہے۔ہم نے تعلیم کو امتحان سمجھ لیا ہے۔ہم نے اسکول کو عمارت سمجھ لیا ہے۔ہم نے استاد کو ملازم سمجھ لیا ہےاور ہم نے طالب علم کو رول نمبر بنا دیا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ پورا نظام اپنی روح کھو چکا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب تعلیم کا مقصد انسان بنانا تھا۔آج تعلیم کا مقصد نمبر بن گیا ہے۔ایک زمانہ تھا جب اسکول شخصیت سازی کے مراکز ہوتے تھے۔آج وہ کوچنگ سنٹروں کے توسیعی دفاتر بنتے جا رہے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب استاد ذہنوں کو روشن کرتا تھا۔آج اس سے نتائج پیدا کرنے والی مشین بننے کی توقع کی جاتی ہے۔
تعلیم صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں ہے۔اگر معلومات ہی تعلیم ہوتیں تو گوگل دنیا کا سب سے بڑا استاد ہوتا۔اگر یادداشت ہی ذہانت ہوتی تو کمپیوٹر سب سے بڑے مفکر ہوتے۔
تعلیم دراصل سوچنے کی صلاحیت پیدا کرنے کا نام ہے۔سوال پوچھنے کا حوصلہ پیدا کرنے کا نام ہے۔کردار سازی کا نام ہے۔اخلاقی شعور پیدا کرنے کا نام ہے۔معاشرتی ذمہ داری کا احساس بیدار کرنے کا نام ہے۔
افسوس کہ ہمارا پورا تعلیمی نظام ابھی تک انیسویں صدی کے امتحانی ماڈل پر کھڑا ہے جبکہ دنیا اکیسویں صدی کی مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
آج کا بچہ ChatGPT، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی مسابقت کی دنیا میں داخل ہو رہا ہے۔لیکن ہم اب بھی اس سے پوچھ رہے ہیں،
تعریف لکھیے۔
فرق لکھیے۔
خالی جگہ پُر کیجیے۔
صحیح جواب پر نشان لگائیے۔
یہ سوالات مستقبل نہیں بناتے۔یہ صرف امتحانی کاپیاں بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا طالب علم سوچ سکتا ہے؟کیا وہ مسئلہ حل کر سکتا ہے؟کیا وہ اختلافِ رائے کو برداشت کر سکتا ہے؟کیا وہ ٹیم کے ساتھ کام کر سکتا ہے؟کیا وہ اخلاقی فیصلے لے سکتا ہے؟کیا وہ اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کر سکتا ہے؟
اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر چاہے وہ 95 فیصد نمبر لے آئے، تعلیمی نظام ناکام ہے۔ہم نے دیہی علاقوں سے لے کر شہری بستیوں تک ہزاروں طلبہ کو دیکھا ہے۔ہم ایسے بچے سے مل چکے ہیں جو وسائل سے محروم ہیں لیکن ذہانت سے مالا مال ہیں۔ہم نے ایسے ادارے بھی دیکھے ہیں جن کے پاس عمارتیں ہیں مگر تعلیمی روح نہیں۔اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ تعلیم کی پہلی اصلاح نصاب سے نہیں بلکہ استاد سے شروع ہونی چاہیے۔ایک بہترین استاد ایک کمزور عمارت میں بھی معجزہ پیدا کر سکتا ہے۔لیکن ایک غیر تربیت یافتہ استاد جدید ترین کیمپس کو بھی ناکام بنا سکتا ہے۔اس لیے قومی سطح پر اساتذہ کی تربیت کو سب سے بڑی ترجیح بنانا ہوگی۔دوسری ضرورت اسکولوں کو سیاسی اور بیوروکریٹک مداخلت سے آزاد کرنا ہے۔تعلیم کو فائلوں کے ذریعے نہیں، تعلیمی ماہرین کے ذریعے چلایا جانا چاہیے۔تیسری ضرورت تعلیم کو کردار، اقدار اور قوم سازی کے ساتھ جوڑنے کی ہے۔
صرف STEM کافی نہیں۔صرف AI کافی نہیں۔صرف Coding کافی نہیں۔اگر انسانیت، اخلاق، دیانت داری، ذمہ داری اور سماجی شعور پیدا نہ ہو تو ٹیکنالوجی بھی تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
آج ہندوستان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کتنے بچے امتحان پاس کر رہے ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس قسم کے انسان پیدا کر رہے ہیں۔اگر ہم نے اس سوال کا صحیح جواب تلاش کر لیا تو پیپر لیک، نقل، بدعنوانی اور بے روزگاری جیسے مسائل خود بخود کم ہونے لگیں گے۔تعلیم کی حقیقی کامیابی ڈگریوں کی تعداد میں نہیں بلکہ ایسے انسانوں کی تعداد میں ہوتی ہے جو معاشرے کو بہتر بنا سکیں کیونکہ قوموں کا مستقبل پارلیمنٹوں میں نہیں بنتاوہ خاموش کلاس روموں میں بنتا ہے۔وہ استاد کے ہاتھوں میں بنتا ہے۔وہ طالب علم کے ذہن میں بنتا ہےاور وہ اس تعلیمی فلسفے میں بنتا ہے جو انسان کو صرف کامیاب نہیں بلکہ باکردار بناتا ہے۔
آج ہندوستان کو تعلیمی اصلاحات سے زیادہ تعلیمی بیداری کی ضرورت ہےورنہ ہم امتحانات تو لیتے رہیں گے، لیکن مستقبل کھوتے رہیں گے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس مقام تک پہنچے کیسے؟یہ بحران کسی ایک وزیر، کسی ایک حکومت، کسی ایک بورڈ یا کسی ایک پالیسی کی پیداوار نہیں ہے۔یہ کئی دہائیوں پر محیط ان غلط ترجیحات کا نتیجہ ہے جن میں عمارتوں کو تعلیم سمجھ لیا گیا، نصاب کو علم سمجھ لیا گیا اور امتحانات کو قابلیت کا پیمانہ قرار دے دیا گیا۔ہم نے اسکول تو بنائے لیکن تعلیمی ثقافت پیدا نہ کر سکے۔ہم نے نصاب تو مرتب کیے لیکن تجسس پیدا نہ کر سکے۔ہم نے امتحانات تو منعقد کیے لیکن فکر پیدا نہ کر سکے۔ہم نے ڈگریاں تو تقسیم کیں لیکن بصیرت پیدا نہ کر سکے۔
آج ہمارے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے والا بچہ سوال پوچھنے کے فطری جذبے کے ساتھ آتا ہے، مگر نظام اسے جواب رٹنے کی مشین بنا کر باہر نکالتا ہے۔وہ بچہ جو آسمان کو دیکھ کر پوچھتا ہے کہ ستارے کیوں چمکتے ہیں، چند سال بعد صرف اتنا جانتا ہے کہ امتحان میں کتنے نمبر حاصل کرنے ہیں۔وہ بچہ جو تتلی کے رنگوں پر حیران ہوتا ہے، اسے چند برسوں میں صرف صحیح آپشن پر ٹک لگانا سکھا دیا جاتا ہے۔یہ تعلیمی ناکامی نہیں، انسانی صلاحیتوں کا قتل ہے۔
دنیا کی بڑی اقوام نے اپنی ترقی کا سفر اس وقت شروع کیا جب انہوں نے تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم سازی کا سب سے مؤثر ہتھیار سمجھا۔جاپان کی تعمیر فیکٹریوں میں شروع نہیں ہوئی تھی، کمرۂ جماعتوں میں ہوئی تھی۔جرمنی کی طاقت صرف اس کی صنعتوں سے نہیں آئی بلکہ اس کے تحقیقی اداروں سے آئی۔جنوبی کوریا کی معاشی ترقی کی بنیاد اس کے تعلیمی انقلاب نے رکھی۔فن لینڈ نے اپنے بچوں پر اعتماد کیا، اپنے اساتذہ کو عزت دی اور امتحانات کے بوجھ کو کم کیا، نتیجتاً وہ دنیا کے بہترین تعلیمی نظاموں میں شمار ہونے لگا۔
افسوس کہ ہندوستان میں آج بھی تعلیمی کامیابی کو فیصد، رینک اور میرٹ لسٹ کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے۔کسی اسکول کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے کہ کتنے بچے نوے فیصد سے اوپر آئے؟لیکن یہ سوال شاذ و نادر ہی پوچھا جاتا ہے کہ کتنے بچے بہتر انسان بنے؟کتنے بچوں میں دیانت داری پیدا ہوئی؟کتنے بچوں نے معاشرے کی خدمت کا جذبہ سیکھا؟کتنے بچوں نے اختلاف کے باوجود احترام کرنا سیکھا؟
کتنے بچوں نے سچ بولنے کی ہمت پیدا کی؟
یہ وہ سوالات ہیں جو کسی بھی قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں۔
مجھے اکثر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے تعلیم کو معاشی ترقی کا ذریعہ تو بنایا لیکن انسانی ترقی کا ذریعہ بنانا بھول گئے۔ہم انجینئر بنا رہے ہیں مگر انسان نہیں۔ہم ڈاکٹر بنا رہے ہیں مگر کردار نہیں۔ہم مینیجر بنا رہے ہیں مگر قیادت نہیں۔ہم ماہرین پیدا کر رہے ہیں مگر شہری نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی بعض اوقات معاشرتی ذمہ داری، اخلاقی دیانت اور قومی شعور کے میدان میں کمزور دکھائی دیتے ہیں۔
اگر تعلیم انسان کے اندر اخلاقی قوت پیدا نہ کرے تو وہ محض معلومات کا بوجھ بن جاتی ہے۔علم جب کردار سے جدا ہو جائے تو طاقت تو پیدا کرتا ہے لیکن حکمت نہیں اور طاقت بغیر حکمت کے ہمیشہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے اس دور میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ انسان کی اصل برتری کیا ہے؟اگر معلومات کمپیوٹر کے پاس زیادہ ہیں، اگر حساب کتاب مشینیں بہتر کر سکتی ہیں، اگر ڈیٹا کا تجزیہ الگورتھم زیادہ تیزی سے کر سکتے ہیں تو پھر انسان کی انفرادیت کہاں ہے؟
اس کا جواب اخلاقیات میں ہے۔اس کا جواب تخلیقی صلاحیت میں ہے۔اس کا جواب ہمدردی میں ہے۔اس کا جواب کردار میں ہے۔اس کا جواب انسانیت میں ہےاور یہی وہ عناصر ہیں جو تعلیم کو محض تدریس سے بلند کرکے تربیت کا درجہ دیتے ہیں۔
میری نظر میں ہندوستان کی سب سے بڑی تعلیمی اصلاح نصاب کی تبدیلی نہیں، ذہن کی تبدیلی ہے۔اساتذہ کو صرف مضمون پڑھانے والے افراد کے بجائے قوم کے معمار سمجھنا ہوگا۔والدین کو صرف نمبروں کے تعاقب سے نکل کر شخصیت سازی کی فکر کرنی ہوگی۔پالیسی سازوں کو تعلیم کو انتخابی وعدوں کے بجائے قومی بقا کا مسئلہ سمجھنا ہوگااور طلبہ کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ تعلیم کا مقصد صرف کامیاب زندگی نہیں بلکہ با معنی زندگی ہے۔
جس دن ہم نے تعلیم کو دوبارہ انسان سازی کا عمل بنا دیا، اسی دن ہمارے امتحانات بھی بہتر ہو جائیں گے، ہماری جامعات بھی بہتر ہو جائیں گی، ہماری معیشت بھی مضبوط ہو جائے گی اور ہمارا معاشرہ بھی زیادہ مہذب، زیادہ بااخلاق اور زیی نظریے سے عظیم بنتی ہیں اور جب تعلیمی نظریہ کمزور ہو جائے تو مضبوط عمارتیں، جدید لیبارٹریاں اور شاندار نصاب بھی قوموں کو زوال سے نہیں بچا سکتے
آخری بات! پیپر لیک ایک حادثہ ہے، مگر فکری دیوالیہ پن ایک سانحہ ہے،اور آج ہندوستان کو حادثوں سے زیادہ اس سانحے کا سامنا ہے۔

