تعلیم کی حقیقی روح؟؟؟ — The True Spirit of Education

تعلیم کی حقیقی روح؟؟؟ The True Spirit of Education

ڈاکٹر اسد اللہ خان

کیا ہندوستان صلاحیتوں کے معاملے میں قحط الرجال سے گزر رہا ہے؟ کیا اب نہرو یا گاندھی، ٹیگور یا وویکانند جیسی کوئی عبقری شخصیت اس سرزمین پر جنم نہیں لے گی؟ یہ سوال محض سوال نہیں، ایک تہذیب کی چیخ ہے۔

سوالات کی لہریں

کیا اب ٹیگور یا وویکانند جیسا کوئی فلسفی اس بھارت ورش میں جنم نہیں لے گا؟ کیا قاری محمد طیب، مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، مولانا احمد رضا خاں، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، سر سید احمد خان، سر راس مسعود اور حکیم عبدالحمید جیسی عظیم شخصیات سے یہ سرزمین خالی رہے گی؟ کیا اب رامانجم، ڈاکٹر ہومی بھابھا، ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر رادھا کرشنن اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسی شخصیات نہیں پیدا ہوں گی؟

جب ان سوالات کے کنکروں سے خیالات کی سمٹتی پھیلتی لہروں میں ارتعاش پیدا کیا گیا تو سوچ کی لہریں وسیع تر ہوتی چلی گئیں۔ یہ لہریں چونکا دینے والی بھی تھیں اور ڈرا دینے والی بھی۔ ذہن کو سوچ پر ابھارنے والے اور دماغ پر بار بار کچوکے لگانے والے ان سوالات کی یہ لہریں حساس ذہنوں کو پریشانی میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ ان کے جوابات کی تلاش میں ہم نے بڑی امید کے ساتھ اپنی نئی نسل کی طرف دیکھا، اپنے اسکول و کالجز پر بھی نظریں دوڑائیں، اپنی تعلیم گاہوں اور کیمپس کا بھی جائزہ لیا مگر افسوس ناامیدی، مایوسی، خوف اور یاسیت کے سائے گہرے ہی ہوتے چلے گئے۔

حالات ہی کچھ ایسے ہیں

آج جس قسم کا ماحول ہمارے اطراف ہے، ہمارے گھروں میں ہے، ہماری تعلیم گاہوں میں ہے وہ کوئی بہت امید افزاء ماحول نہیں ہے۔ اب ہم اپنی نئی نسل سے رامانجم، ہومی بھابھا، ذاکر حسین، رادھا کرشنن یا مولانا آزاد بن جانے کی امید نہیں کر سکتے۔ کسی عبقری شخصیت کے پیروں کی دھول ہی ہو جانے کی امید بھی ان سے باندھی نہیں جا سکتی۔

گھر گھر بکھرتے خاندان۔۔۔ کالج کالج طلباء و طالبات کی ہوس ناک نگاہیں۔۔۔ مکتب مکتب حرص و طمع کا شکار غیر ذمہ دار اساتذہ۔۔۔ سوچ در سوچ خدمت کی جگہ لالچ کا تصور۔۔۔ تہذیب و تمدن کے نام پر عریانیت۔۔۔ علم و تعلم کے نام پر فحاشی و بے حیائی کی ترغیب۔۔۔ محنت و مشقت کے تصور سے خالی بے مقصد زندگیاں۔۔۔

اور دوسری طرف۔۔۔ شور و غل، ہنگامے، ہڑتالیں، بند، توڑ پھوڑ، فسادات، مار دھاڑ، غنڈہ گردی، انکاؤنٹر؟ ان میں سے کیا نہیں ہے ہمارے اطراف، ہمارے گھروں میں، ہمارے کالجوں اور کیمپس کے دامن میں؟ کیا درس پا رہی ہیں ان سے ہماری نئی اور آئندہ نسلیں؟ ایسے حالات میں کہاں سے ملیں گے وہ فلسفیانہ اذہان؟ کہاں سے ملیں گی وہ رہنمایانہ قابلیتیں؟ کہاں سے ابھریں گی وہ عبقری شخصیتیں؟ کہاں سے آئیں گی وہ دانشورانہ صلاحیتیں؟

نوجوانوں کا تصورِ حیات

کیا ہے ہمارے نوجوانوں کا تصورِ حیات؟ یہی نا۔۔۔ کہ وہ بہت جلدی بہت ہی امیر بن جانا چاہتے ہیں۔ یہ منٹوں اور سیکنڈوں میں بغیر کسی محنت و جدوجہد کے لاکھوں اور کروڑوں کے خواب دیکھتے ہیں۔ یہ اپنی خیالی دنیا میں عالیشان بنگلے، گاڑیاں، ہوٹل بازی، عیاشی، یار باشی، قمار بازی اور مئے نوشی کے سپنے بنتے ہیں۔

پرتعیش زندگی کا تصور ان کے رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے۔ گھر گھر پہنچتی مغربی تہذیب سے متاثر ان کے اذہان مغرب زدہ تخریب کا شکار ہوتے جا رہے ہیں اور سر چڑھ کر بولنے والے صارفیت کے جادو نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ ”سب کچھ دکھتا ہے“ کا کلچر فروغ پا رہا ہے۔ اشتہاری کمپنیوں نے بھی ہماری نئی نسل کی حس کو خوب اچھی طرح پہچان کر اسی طرز پر اشتہارات بنوائے ہیں۔ اشیائے صرف خوب بکتی جا رہی ہیں اور Consumerism کو خوب بڑھایا جا رہا ہے۔

اسی اشتہار بازی کے ذریعے نمائش زندگی کا مقصد بنتی جا رہی ہے۔ جس کے لئے ماں باپ کے بیڈ روم تک میں جھانکنے کی ترغیب دلائی جا رہی ہے۔ نسلی خلیج یعنی Generation Gap کو دور کرنے کے نام پر گھر کے بڑے کیا کر رہے ہیں؟ بے حیائی کے ساتھ لڑکے اور لڑکیوں کے آپسی ملاپ اور دوستی کے نام پر کھلم کھلا اختلاط پر بے شرمی سے قہقہے لگائے جاتے ہیں۔ شاباش اور بہت خوب کے ذریعے نوجوانوں کو اور زیادہ جوش دلایا جاتا ہے۔

بدتمیزی، بداخلاقی اور بے حیائی کی یہ طوفانی لہریں خطرے کے سارے نشانوں کو پار کر چکی ہیں۔ سماج کی بے حسی اور خاموشی اس بڑھتے نظریئے پر توثیق کی مہر ثبت کرتی ہے۔

مخلوط تعلیم کے نام پر

آئیں دیکھیں رادھا کرشنن! اپنے خوابوں کے ہندوستان کو جن تعلیمی تبدیلیوں کے وہ خواہاں تھے ہم ان میں کہاں تک کامیاب ہو پائے ہیں؟ مخلوط تعلیم (Co-education) کے نام پر کھلم کھلا ملاپ۔۔۔ پھر ہنسی مذاق۔۔۔ مرد و زن کے ہم آہنگ قہقہے۔۔۔ دوستی کے نام پر ہاتھوں کا کاندھوں تک پہنچنا۔۔۔ پارکوں میں سجاوٹ بننا۔۔۔ ریستوران میں پر تکلف شاموں کی خواہش۔۔۔ اور پھر تنہائی کی مانگ۔۔۔ ہم کتنا آگے نکل آئے ہیں؟

کون کہتا ہے کہ ہندوستان غریب ملک ہے۔ آئیں دیکھیں غریبی ہٹاؤ کا خواب دیکھنے والے کہ کس طرح کالج جانے والے بچے بے جا اخراجات اور اسراف کے ذریعے اپنی عیاشی کا بل اپنے ماں باپ کے کاندھوں پر رکھ رہے ہیں؟ دکھاوا، نمود، نمائش کے دلدل میں کیسے دھنستے جا رہے ہیں؟ صنفِ مخالف (Opposite Sex) سے دوستی کا یہ کلچر اتنا ترقی پا چکا ہے کہ اب ایک سے زائد گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ رکھنا باعثِ عزت و افتخار سمجھا جا رہا ہے۔ پرانے کپڑوں کی طرح دوست بدلنے کا یہ ماحول آخر کس کلچر کو فروغ دے رہا ہے۔

Rose day, Valentine day, Saree day, Tie day, Traditional day, Friendship day کے نام پر ہر دوسرے تیسرے دن کالج میں ہونے والی تقریبات میں کھل کر اپنی خواہشات کا اظہار اور ہر دو صورت میں اس کی تکمیل و تسکین۔ آخر کیا کچھ نہیں ہے کہ جنہیں دیکھ کر وہ آنکھیں ازخود بند نہ ہو جائیں کہ جن میں شرم کا پانی ابھی مرا نہیں ہے!

کلاس روم سے کینٹین تک

کلاسوں میں بے توجہی کا شکار یہ بچے کلاسوں سے فرار چاہتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں Lecture Bunking Culture فروغ پا رہا ہے۔ کلاسوں سے غائب رہنا اور ان غیر حاضر بچوں کی جگہ کسی دوسرے طالب علم کا اس کی حاضری لگا دینا یعنی Proxy Culture عام ہوتا جا رہا ہے۔

وہ قدیم نسلیں جنہوں نے اضافی تعلیمی مواد کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنے زیادہ تر اوقات کو لائبریریوں کی کتابوں سے دھول صاف کرنے میں صرف کیا تھا، آج انہیں اپنے نوجوانوں میں اس لائبریری کلچر کو مرتے دیکھ کر حیرت تو ضرور ہوتی ہوگی۔ آج جو کلچر فروغ پا رہا ہے وہ ہے کینٹین کلچر۔۔۔ کیونکہ اب کتابیں دوست، ساتھی یا ہمدم و رفیق نہیں رہیں بلکہ اب تو وہ صرف نشستوں اور گدّوں کا کام دیتی ہیں۔ اب کتابوں اور ان کے مضامین پر علمی تبصرے اور مباحثے نہیں ہوتے بلکہ اب بے تکی اور گھٹیا باتوں پر لایعنی تبصروں اور ان کے اختتام پر بے ڈھنگے قہقہوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔

ہماری اس Fast food Generation کو کتابیں کھنگالنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہیں تو Ready made material کی لت لگ چکی ہے۔

اور دوسری طرف جب بازار میں موجود گھٹیا قسم کی سستی کتابیں امتحانی ضرورتوں کو پورا کر رہی ہیں تو حصولِ علم کے لئے سر کھپانے کی فکر کسے ہو سکتی ہے؟ اور اگر اس سے بھی بات نہ بنے تو امتحانی پرچے کو قبل از وقت ظاہر کروا لینے کا انتظام کیجئے، اگر اس پر بھی بات نہ بنے تو امتحانی مرکز پر نقل کا سہارا میسر کرایا جا سکتا ہے، اور اگر اس پر بھی بات نہ بنے تو امتحان کے بعد پرچہ جانچنے والے کے گھر جا کر جوڑ توڑ کیجئے۔ یہ ہیں اونچی سے اونچی ڈگری حاصل کرنے کے آسان مدارج!

رول ماڈل کا بحران

ٹیگور اور آزاد کو اپنا رول ماڈل مان کر بحرالعلوم سے سیراب ہونے کی فکر اب کسے ہے؟ اور ہو بھی کیسے سکتی ہے جب ان کے رول ماڈل تو وہ ننگ دھڑنگ فلمی ستارے ہیں جو ان کے خالی کشکول میں تہذیب و تمدن کے سکے تو نہیں ڈال رہے لیکن خود تہذیب و اخلاق سے ننگے ہوکر لاکھوں اور کروڑوں سمیٹ رہے ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل کی عقلوں پر ایسے بھاری پتھر پڑے ہیں کہ جن کے نیچے ہمارے تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی ورثے سے معلومات کا شوق دب کر مر رہا ہے۔

یہ تڑپتے تو ہیں مگر فلموں اور سیریلوں کی شوٹنگ دیکھنے کے لئے۔ یہ تڑپتے تو ہیں مگر اپنے من پسند فلمی ستارے کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس پر ذرہ برابر حیرت نہیں ہوتی جب کوئی مشہور تعلیمی ادارہ اپنے اسکول کے بچوں کو پکنک کے نام پر کسی تاریخی مقام کی سیر کو نہیں لے جاتا، کسی معلوماتی مقام پر بھی نہیں لے جاتا بلکہ وہ انہیں فلموں کی شوٹنگ دکھانے لے جاتا ہے۔

بے حسی کی چادر

ایسے پرفتن حالات میں بھی ہم بے حسی کی چادر تانے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اسی لئے اب ہم تیار ہیں اس کے نتائج بھگتنے کے لئے جو سامنے آتے جا رہے ہیں۔ کیسی بے شرمی ہے کہ گیارہویں جماعت میں پڑھنے والی لڑکی ماں کی موجودگی میں اپنی پسند کے فلمی اداکار کے لئے کچھ بھی کر ڈالنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔

ایسے ہی ماحول میں تربیت پا کر اسکولوں اور کالجوں کی دہلیزیں پار کرنے والی لڑکیوں کے کرتوت دیکھ کر شریف گھرانوں کے لوگ حیرت و استعجاب کے سمندر میں غرق ہو جاتے ہیں۔ حیرت کا اظہار تو اس وقت بھی نہیں کیا جاتا جب پرائمری اسکول کے بچے Sanitary Napkins پر اعلانیہ بحث کرتے ہیں۔ ہم تو اتنے بے حس ہوتے جا رہے ہیں کہ اب آئے دن اپنے سماج میں قومِ لوط کے شرمناک شوق کو بھی عام ہوتے دیکھ کر نہیں شرماتے۔

اسے زندگی کا حصہ سمجھا جانے لگا ہے۔ ایسے حالات میں کیا ہم یہ سمجھیں کہ اب یہی ہمارا کلچر ہے، یہی ہماری تہذیب ہے، یہی ہماری سبھیتا ہے؟

آواز اٹھائیے

تعلیمی بیداری کے علمبرداروں کو جگائیے اور پوچھئے ان سے کہ کیا اسی ماحول کا ایندھن بنانے کے لئے ہم اپنے جگر گوشوں کو میدانِ تعلیم میں آگے بڑھائیں؟ ارے صاحب! اگر برائی کے اس ماحول کو ختم کر دینے کی صلاحیت آپ میں نہیں ہے تو کم از کم ان کے خلاف آواز ہی اٹھائیے تاکہ آپ کی سننے اور ماننے والے یہ محسوس تو کر سکیں کہ یہ غلط ہے۔ آخر کب تک ہماری بے حسی اور خاموشی کے سبب ہمارے نوجوانوں کی کھیپ درکھیپ اس دلدل کی نذر ہوتی رہے گی؟

تعلیم کا حقیقی مقصد

قبل اس کے کہ تعلیمی بیداری کا پرچم لہرائیں یہ زیادہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اپنی نئی نسلوں کو تعلیم کے حقیقی مقصد سے آشنا کروائیں۔ نئی نسلوں میں تعلیم کی حقیقی روح پھونکے بغیر آخر ہم کس برتے پر ملک گیری کے خواب دیکھتے ہیں؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ ملک گیری کے لئے اخلاق کی ضرورت ہوتی ہے؟ کیا ہمیں نہیں معلوم کہ ملک گیری کی حامل شخصیات صحیح فطرت پر ہوتی ہیں، قوتِ تخیل، قوتِ عاقلہ و ناطقہ رکھتی ہیں؟

آج ہمارا سماج جس انارکی سے دوچار ہے اس کے خاتمے کے لئے بہترین انسانی مواد کی تیاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ لالچی، خود غرض اور بے ایمان معاشی حیوانوں کی تیاری تعلیم کا مقصد نہیں ہے۔ تعلیم کا صحیح مقصد انسان سازی و انسانی ذہن سازی ہے، انسان کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی تربیت ہی انسان کے سیرت و کردار کی تعمیر ہے، انسان کو اللہ کا صالح بندہ بنانا ہے۔

تعلیم کے ذریعے انفرادی شخصیت کی نشوونما کے ساتھ ساتھ اس بندے میں خود آگہی، خود شناسی، خدا شناسی، معرفتِ الٰہی اور معرفتِ حشر و نشر پیدا کرنا ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہمیں انسانی نفس کا تزکیہ مطلوب ہے۔ انسانی روح کی تطہیر ہمارا مقصد ہے۔

ہماری دانست میں جو تعلیمی نظام مندرجہ بالا مقاصد کے حصول میں معاون و مددگار ہے وہ نظام یقیناً انسانی زندگیوں کی تعمیر کر سکتا ہے۔ ان میں تنقیدی، تحقیقی اور اجتہادی صلاحیتوں کی نشوونما کے ساتھ ساتھ انہیں مثالی انسان بنا سکتا ہے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب تعلیم کی حقیقی روح کو مان کر حصولِ علم کو اہمیت دی جائے، نا کہ ڈگریوں کے حصول کو۔ کیونکہ یہ علم ہی ہے جو انسانوں کو جانوروں سے ممیز کرتا ہے، یہ علم ہی ہے جو ہمارے اشرف المخلوقات ہونے کا سبب ہے۔

اگر تعلیم کی حقیقی روح کو سمجھا گیا اور سمجھایا بھی گیا تو یقیناً حالات بدلیں گے اور زمانے میں ایک انقلابِ حال ہوگا۔ اسی بھارت ورش میں ایک بار پھر نہرو، گاندھی اور ٹیگور جیسی عبقری شخصیات جنم لیں گی۔۔۔ میر، غالب اور اقبال کو سمجھنے اور سمجھانے والوں کا قحط نہیں ہوگا۔ (انشاء اللہ)

ڈاکٹر اسد اللہ خان

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *