Urdu

جب اسکول ہی ناکام تو بچے کیسے ہوں گے کامیاب؟

ڈاکٹر اسد اللہ خان ایک پرانا رونا، ایک نیا زخم معیارِ تعلیم کا رونا کوئی نیا تو ہے نہیں، منموہن سنگھ بھی رو چکے اور کپل سبّل بھی، لیکن ابھی فرق نہیں پڑا۔ شاید اسی لیے اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ موقع بہ موقع اس عنوان پر ماتم ضروری ہو جاتا ہے۔ بات خدا لگتی ہے — ہمارے اردو اسکولوں کا انتظامیہ ہو کہ اساتذہ، بس اسی زعم میں جیے جا رہے ہیں کہ اپنے یہاں تو سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ معیار کے جھنجھٹ میں کون پڑے؟ ہمارے تو سبھی اسکول معیاری ہیں۔ جب کہ عالم یہ ہے کہ معیاری اسکول کی کسوٹی پر پرکھے جائیں تو چند ایک کو چھوڑ کر بیشتر اسکول کسی شمار قطار میں ہی نہیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ انہیں خبر بھی نہیں کہ اچھے اسکول کے لیے پیمانے کیا ہیں — اور جاننے کی کوئی تڑپ بھی نہیں۔ شہر کے مشہور انگریزی اخبار میں چھپی اس خبر نے ذی شعور اور بیدار شہریوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا: رواں تعلیمی سال میں ممبئی کے اسکولوں کی سالانہ جانچ میں ایک تہائی سے زائد اسکول ناکام رہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کی جانب سے ۳۲۲۸ اسکولوں میں سے صرف ۳۸۹ اسکول ہی درجہ A سے کامیاب قرار دیے گئے — یعنی محض ۱۳ فیصد۔ یہ اعداد و شمار کوئی معمولی تشویش نہیں، یہ ہمارے پورے تعلیمی ڈھانچے پر ایک فرد جرم ہے۔ افسوس کہ اردو حلقوں میں اس خبر کی بازگشت بھی نہیں سنی گئی۔ ہمیں تو احتساب کرتے رہنے کی پرانی بیماری ہے۔ اسی لیے آئینہ پونچھنے کے بجائے ہم اپنے چہرے کے دھبوں کی خبر لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۶ء تک — کیا بدلا، کیا نہیں بدلا؟ وقت گزرا، سال بدلے، حکومتیں آئیں اور گئیں۔۔۔مگر اسکول کے دروازے پر وہی پرانا سوال کھڑا ہے جب ۲۰۰۹ء میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ممبئی کے ۳۲۲۸ اسکولوں میں سے صرف ۳۸۹ یعنی محض ۱۳ فیصد اسکول A گریڈ سے کامیاب ہوئے، تو یہ ایک دھچکا تھا — ایک تکلیف دہ آئینہ جس میں ہم نے اپنا چہرہ دیکھنے سے منہ موڑ لیا۔ اس وقت سوچا گیا کہ شاید ایک نسل میں حالات بدل جائیں گے۔ اب پندرہ سال بعد، ۲۰۲۶ء میں، آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی کوئی بنیادی تبدیلی آئی — یا بس کاغذات پر اعداد بدلے؟ پندرہ سال بعد UDISE+ 2024-25 اور ASER 2024 کی رپورٹیں ہمارے سامنے ہیں۔ آئیے آٹھ اہم پیمانوں پر ایمانداری سے دیکھتے ہیں — کیا بدلا، کیا وہی رہا، اور کیا اب بھی بحران ہے۔ ۱۔ اسکولوں کا معیار — نظامِ جانچ بدلا ضرور ہے لیکن تعلیمی معیار کا بحران اپنی جگہ برقرار ہے!!! ۲۰۰۹ء میں مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کی اس جانچ نے ممبئی کے اسکولوں کی درجہ بندی کی تھی — اور نتیجہ سب کے سامنے تھا: صرف ۱۳ فیصد اسکول A گریڈ کے قابل۔ یہ اعداد ایک نظام کی ناکامی کا اعتراف تھے۔ اب ۲۰۲۴-۲۵ء میں صورتحال یہ ہے کہ وہ پرانا A/B/C/D/E درجہ بندی کا نظام اب موجود نہیں — UDISE+ نے اسکولوں کی جانچ کا پورا طریقہ کار بدل دیا ہے۔ اب اسکولوں کو ان کے انفرا اسٹرکچر، داخلے، اساتذہ کی تعداد اور ڈیجیٹل سہولیات کی بنیاد پر Online Report Card ملتا ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی بہتری کی علامت ہے مگر سوال وہی ہے کہ کیا نظام بدلنے سے حقیقت بدلی؟ دکھ کی بات یہ ہے کہ ASER 2024 کی رپورٹ ، جو لاکھوں بچوں پر زمینی سروے کے بعد بنائی گئی ، بتاتی ہے کہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تیسری جماعت کے ۷۶.۶ فیصد بچے دوسری جماعت کا متن نہیں پڑھ سکتے۔ یعنی اسکول کا کارڈ بدل گیا ، بچے کا نتیجہ نہیں بدلا۔ ۲۔ بیت الخلاء کی دستیابی میں کچھ بہتری ہوئی مگر وہ نامکمل ہے ، صفائی کا سوال جوں کا توں منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ ۲۰۰۹ء میں ملک کے اسکولوں میں بیت الخلاء کی دستیابی ۶۳ فیصد سے بھی کم تھی — اور جو تھے وہ اکثر ناقابلِ استعمال۔ یہ وہ وقت تھا جب لڑکیاں صرف اس لیے اسکول چھوڑ دیتی تھیں کہ بلوغت کے بعد ان کی بنیادی ضرورت کا کوئی انتظام نہ تھا۔ اب UDISE+ 2024-25 کے مطابق ۹۸.۶ فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء موجود ہے — یہ واقعی ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ مگر اعداد کی تہہ میں اترتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ‘موجود ہونا’ اور ‘قابلِ استعمال ہونا’ دو الگ چیزیں ہیں۔ ASER 2024 بتاتی ہے کہ ۲۰۲۴ء میں صرف ۷۲ فیصد اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے کام کرنے والا اور صاف بیت الخلاء موجود تھا — یعنی ۲۶ فیصد میں بیت الخلاء تھا ہی نہیں یا بند پڑا تھا۔ دیوار اور دروازہ لگ گیا، صفائی اور دیکھ بھال نہیں آئی۔ اور سب سے اہم بات: Swachh Bharat Mission کے تحت ارب روپے خرچ ہوئے — مگر وہ لڑکیاں جو آج بھی ناقابلِ استعمال بیت الخلاء کی وجہ سے پریشان ہوتی ہیں، انہیں کاغذی اعداد سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بہتری ادھوری ہے مگر صفائی اور دیکھ بھال کا مسئلہ اب بھی باقی ہے۔ ۳۔ کہیں کہیں نل موجود لیکن پینے کا پانی نداردہے ۔ ۲۰۰۹ء میں پینے کے صاف پانی کی سہولت اسکولوں میں بڑے پیمانے پر غیر موجود تھی۔ بچے گھر سے پانی لاتے تھے، گرمیوں میں پیاسے رہتے تھے، اور بے ہوشی کے واقعات کوئی نادر بات نہ تھے۔اب UDISE+ 2024-25 کا دعویٰ ہے کہ ۹۹ فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی دستیاب ہے — یہ اعداد کاغذوں پر انقلاب ہے۔ مگر یہاں بھی وہی سوال: ‘دستیاب’ کی تعریف کیا ہے؟ کیا پانی صاف ہے؟ کیا روزانہ ملتا ہے؟ کیا برتن صاف ہیں؟ بہت سے اسکولوں میں نل لگا ہے مگر پانی نہیں آتا، یا آتا ہے تو آلودہ آتا ہے۔ ASER 2024 نے پینے کے پانی کی دستیابی ۷۷.۷ فیصد درج کی — یعنی کاغذوں کے ۹۹ فیصد اور زمینی حقیقت کے ۷۷.۷ فیصد کے درمیان ۲۱ فیصد کا فرق ہے۔ یہ فرق ہی اصل کہانی ہے۔ یہ ظاہری بہتری ہے مگر کاغذ اور زمین کے درمیان کا فرق خطرناک ہے۔ ۴۔ اسکولوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے معاملے میں بڑی پیش رفت ہوئی

جب اسکول ہی ناکام تو بچے کیسے ہوں گے کامیاب؟ Read More »

استاد: مصلوب فرشتہ

عہدِ حاضر میں معلم کی مظلومیت، مسئولیت اور معراج کا نوحہ اور احتساب نامہ ڈاکٹر اسد اللہ خان جو معلم ہو وہ مفکر ہو، جو مفکر ہو وہ آزاد ہو — اور جو آزاد نہ ہو وہ نہ خود جی سکتا ہے نہ دوسروں کو جینا سکھا سکتا ہے ہر عہد اپنے استاد کو ایک نئے صلیب پر چڑھاتا ہے۔ کبھی غربت کی صلیب، کبھی غلامی کی، کبھی پورٹل اور ڈیٹا کی، اور کبھی اپنی ہی ذات کے زوال کی۔ یہ مضمون دو مختلف لمحوں، دو مختلف موسموں اور دو مختلف کیفیتوں میں لکھا گیا تھا — ایک میں استاد مظلوم تھا، دوسرے میں اس کی اپنی ذمہ داری زیرِ بحث تھی۔ مگر جب دونوں آوازوں کو ایک ساتھ سنا جائے تو ایک ہی سچائی ابھرتی ہے: استاد آج دہری چکی میں پس رہا ہے — ایک طرف نظام اسے غلام بناتا ہے، دوسری طرف ذمہ داری کا بوجھ اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔ یہ تحریر اسی دوہرے سچ کا حساب ہے۔ باب اول: ہڈپسر کا سبق — جب استاد، پیون سے بھی کم تھا ہم پونہ میں ہڈپسر کے مقام پر ایک تعلیمی کانفرنس میں مدعو تھے۔ ہمیں لینے کے لیے جو صاحب اسٹیشن پر آئے، ان کے لباس اور انداز سے ہرگز یہ گمان نہ گزرا کہ وہ ایک استاد ہیں۔ انہوں نے ہمارا سامان اٹھایا، بڑی عقیدت سے اپنے اسکوٹر پر بٹھایا اور جلسہ گاہ تک لے آئے۔ کانفرنس کے دوران وہ یہاں وہاں دوڑتے رہے، مہمانوں کے ہاتھ دھلواتے رہے، اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ پلیٹیں دھو رہے تھے جب کہ ان کے ساتھی کھانا پروسنے میں مصروف تھے۔ کانفرنس میں اساتذہ کی ذمہ داریوں پر خوب دھواں دھار تقریریں ہوئیں، اور میزبان چیئرمین کو اس دور کے سرسید کا خطاب دیا گیا۔ ہم اسے پیون ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ واپسی کے آدھے راستے میں ان کے اسکوٹر کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ دم لینے کو ہم نے انہیں چائے کی دعوت دی، اور چائے کی چسکیوں کے دوران جو حقائق سامنے آئے، انہوں نے ہمیں حیرت کے سمندر میں غرق کر دیا۔ یہ دبلا پتلا نوجوان، جس کی تعلیمی لیاقت بی۔اے، بی۔ایڈ تھی، ایک معاون مدرّس تھا — مگر اسکول میں اس کی اور اس کے ساتھیوں کی اوقات پیون سے بدتر تھی۔ کئی برسوں سے وہ اس اسکول میں ملازم تھا، 5-7 ہزار روپے ماہوار کا یہ غلام اسکول کے لیے ریتی گارا بھی ڈھو چکا تھا اور دیواروں کو رنگ و روغن بھی کر چکا تھا۔ اگر کبھی اپنا حق مانگے تو اسکول سے نکال دیا جائے۔ پوری تنخواہ مانگنے کی مجال تو کیا، وہ اسکوٹر میں تیل بھروانے کے لیے بھی اپنے آقا کے سامنے گڑگڑانے پر مجبور تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ رخصت ہوتے وقت پیٹرول کے پیسے مانگنے پر چیئرمین صاحب کی اہلیہ نے اسے بری طرح ڈانٹا تھا، اور اب وہ اسی کی سزا آدھے راستے سے اسکوٹر گھسیٹ کر بھگت رہا تھا۔ اپنی بے بسی کی داستان سناتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ عین اسی لمحے ہمارے کانوں میں کانفرنس کے ان مقالوں کی گونج سنائی دے رہی تھی جن میں اساتذہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا تھا۔ یہ صرف ایک ہڈپسر کی کہانی نہیں — یہ ریاست بھر کے بیشتر اردو اسکولوں کا نوحہ ہے۔ مردم شماری ہو، سروے ہو، الیکشن کی ڈیوٹی ہو، شناختی کارڈ بانٹنے ہوں یا جھونپڑوں کے فوٹو پاس — ہر سرکاری کام انہی کے کندھوں پر آ کر ٹکتا ہے۔ اور جب وہ یہ غیر تدریسی کام کرنے ہفتوں، مہینوں کے لیے جماعتوں سے غائب رہتے ہیں تو انہی جماعتوں کا کباڑہ ہو جاتا ہے۔ نتیجہ؟ کھیپ کی کھیپ برباد۔ “ہم اسکول کی بنیاد کے پتھر ہیں، ہم نے اپنے لہو سے اسے سینچا ہے — لیکن کیا ہے ہماری اوقات؟” باب دوم: عہدِ جدید کا غلام — جب پورٹل، عزت سے بڑا ہو گیا ہڈپسر کے اس استاد کی زنجیر آج بھی نہیں ٹوٹی — صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ کل وہ پلیٹیں دھو رہا تھا، آج وہ اسکرین پر ڈیٹا بھر رہا ہے۔ کل اسکوٹر کا پیٹرول مانگنے پر ڈانٹ پڑتی تھی، آج GPS لوکیشن نہ ملنے پر تنخواہ روک لی جاتی ہے۔ آج ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے گہرا بحران نصاب کا نہیں، عمارت کا نہیں، وسائل کا نہیں — استاد کا ہے۔ وہ استاد جو صدیوں سے تہذیب کا امین اور روح کا مربی رہا، آج آہستہ آہستہ ایک انتظامی کارکن، ڈیٹا آپریٹر اور پورٹل ملازم میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اسکول گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے بند ہو جاتے ہیں، کلاس روم خاموش ہو جاتے ہیں، بچے آزاد ہو جاتے ہیں — مگر استاد آزاد نہیں ہوتا۔ اس کے موبائل پر پیغامات جاری رہتے ہیں، واٹس ایپ گروپس زندہ رہتے ہیں، پورٹل کھلے رہتے ہیں اور نئے احکامات کسی بھی وقت اس کا سکون منسوخ کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ کے لیے آخری پیریڈ کبھی نہیں آیا۔ یہ محض ٹائم ٹیبل کا آخری پیریڈ نہیں — یہ زندگی کا وہ وقفہ ہے جس کے بعد انسان کو سکون، غور و فکر اور اپنے وجود کی طرف لوٹنے کا موقع ملتا ہے۔ جدید استاد کی زندگی سے یہ موقع چھن چکا ہے۔ اعداد و شمار کی زبان میں دیکھیں تو بھارت میں ایک کروڑ سے زائد اساتذہ تعلیمی نظام سے وابستہ ہیں، اور ان میں سے ساٹھ فیصد سے زیادہ غیر تدریسی فرائض کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ایک استاد، اکیلے، پانچ جماعتوں کو پڑھانے، کھانا پکوانے، ڈیٹا بھرنے اور مردم شماری کرنے کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ UDISE+، DIKSHA، MDM، SATS، NISHTHA اور ULLAS جیسے درجنوں پورٹلز پر اتنا وقت صرف ہوتا ہے کہ حقیقی تدریسی وقت سکڑتا چلا جاتا ہے۔ ایک استاد کے الفاظ یاد رکھنے کے قابل ہیں: شام چار بجے کی گھنٹی بجتی ہے مگر میں پھر بھی نہیں جاتا — ابھی پورٹل باقی ہے۔ دسمبر 2025 میں مہاراشٹر کے وزیرِ تعلیم نے وزیرِ اعلیٰ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو بوتھ لیول آفیسر اور دیگر انتخابی کاموں سے فوری چھٹکارا دیا

استاد: مصلوب فرشتہ Read More »

دستِ خضر سے شمعِ ہدایت ہی چھن گئی!

استعداد کا قحط، اساتذہ کی آن لائن تجارت اور نئی نسل کا فکری قتلِ عام ڈاکٹر اسد اللہ خان اطلاعات و معلومات کا یہ دھماکہ خیز دور، جہاں مصنوعی ذہانت انسانی سوچ کے متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے، وہاں ایک ایسے استاد کی ضرورت تھی جو مادی ترقی کے اس دور میں نئی نسل کے ضمیر کا نگہبان بنتا۔ قوموں کی تعمیرِ نو میں استاد کا وجود ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے، کیونکہ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ روح کی تراش خراش کرتا ہے۔ کارِ معلمی دراصل کارِ نبوت ہے، جس کا منصب تقدس اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن افسوس! آج سن 2026ء کے ہندوستان میں جب ہم اپنے تعلیمی ڈھانچے اور اساتذہ کی تربیت کے نظام (Teacher Education) پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ رہبر ہی جب راہزن بن جائیں، تو کارواں کی تباہی کا گلہ کس سے کیا جائے؟ ہم نے جس دور میں بی ایڈ کالجوں کی بولیوں کا رونا رویا تھا، وہ تو محض نقد رقم اور چند ہزار روپے کی ہیرا پھیری کا ابتدائی دور تھا۔ آج کا دور تو ڈیجیٹل مافیا اور ادارہ جاتی بدعنوانی کا وہ مہیب سمندر ہے جس نے پورے ملک کے مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آج میڈیا کی سرخیاں اور عدالتوں کے فیصلے گواہ ہیں کہ اساتذہ کی تیاری سے لے کر ان کی تعیناتی تک کا پورا نظام کینسر کی آخری اسٹیج پر کھڑا ہے۔ مہاراشٹرا کا ٹی اے آئی ٹی (TAIT) اور ٹی ای ٹی (TET) ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب مہاراشٹرا ٹیچرز ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (TET) میں ہزاروں ایسے اساتذہ کے نام سامنے آئے جنہوں نے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر کمپیوٹرائزڈ رزلٹ شیٹس میں اپنے نمبر بڑھوائے۔ جو استاد خود ایک اہلکار کو چائے پانی کے نام پر رشوت دے کر، یا سرور ہیک کروا کر پاس ہوا ہو، وہ پونے، ناگپور یا ممبئی کے اسکولوں میں بیٹھ کر اگلی نسل کو دیانت داری کا کیا سبق دے گا؟ اتر پردیش میں اساتذہ کی بھرتی ٹیچر بھرتی کے امتحانات اور بہار کے بی پی ایس سی ٹیچر امتحانات کے دوران بلیو ٹوتھ ڈیوائسز، سالور گینگز (Solver Gangs) اور پیپر لیک کے جو شرمناک واقعات سامنے آئے، انہوں نے میرٹ کا جنازہ نکال دیا۔ دسویں جماعت کی کتاب کا درست تلفظ نہ کر پانے والے، اور بلیک بورڈ پر انگریزی میں ایجوکیشن کی ہجے غلط لکھنے والے لوگ لاکھوں روپے کی بولی لگا کر اسکولوں میں ‘مستقبل کے معمار’ بن کر بیٹھ گئے۔ بی ایڈ اور ایم ایڈ کالجز اب تعلیم گاہیں نہیں، شادی ہالوں کی طرح نفع بخش کاروبار ہیں۔ نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن اور یونیورسٹیوں کی جو معائنہ ٹیمیں آتی ہیں، ان کے لیے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام اور ڈیجیٹل ٹرانسفرز کے ذریعے پہلے ہی سب کچھ طے کر دیا جاتا ہے۔ کالج میں نہ لائبریری ہے، نہ لیبارٹری، نہ لیسن پلان کا وجود—بس سال کے آخر میں ایک سرٹیفائیڈ مزدور تیار کر کے مارکیٹ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ استاد جب خود علم کے سمندر سے محروم ہو، تو وہ دوسروں کی پیاس کیا بجھائے گا؟ آج جو فوج ان ٹریننگ کالجوں سے نکل رہی ہے، وہ تعلیم کی غیر پیداواری پروڈکٹ ہے۔ یہ وہ بھیڑ ہے جو کسی اور پیشے میں جگہ نہ پا سکی، تو آخری حربے کے طور پر معلمی کے مقدس پیشے میں گھس آئی۔ روایتی تعلیمی نظام کا استاد اپنی ذات میں ایک چلتی پھرتی درسگاہ ہوا کرتا تھا۔ اس کا اصل سرمایہ اس کا ذاتی مطالعہ، کتابوں سے گہرا تعلق، لائبریریوں سے وابستگی اور علم کے لیے نہ ختم ہونے والی پیاس ہوتی تھی۔ اس کی شخصیت میں وقار، گفتار میں سنجیدگی اور کردار میں ایسی پختگی ہوتی تھی جو طلبہ کے لیے خود ایک زندہ نمونہ بن جاتی تھی۔ اس کے نزدیک تدریس صرف نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ طالب علم کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت، فکری بالیدگی اور کردار کی تعمیر کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ امتحانات بھی اس کے نزدیک محض نمبر حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ وہ سخت محنت، گہری فکر، اصل علم اور دیانت دارانہ جانچ کے ذریعے طالب علم کی حقیقی صلاحیت کو پرکھنے کا پیمانہ ہوتے تھے۔ اس کے برعکس، جدید دور کا نام نہاد سرٹیفائیڈ استاد ایک ایسے نظام کی پیداوار بنتا جا رہا ہے جہاں خود مطالعہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ کتابوں کی جگہ گوگل سرچ، تحقیقی مطالعے کی جگہ واٹس ایپ یونیورسٹی، اور علمی گفتگو کی جگہ سوشل میڈیا کے مختصر کلپس اور ریلز نے لے لی ہے۔ کلاس روم، جو کبھی علم و حکمت کا مرکز تھا، اب بعض اوقات محض رسمی حاضری اور وقت گزاری کا مقام بن کر رہ گیا ہے۔ تدریس کا مقصد بھی طالب علم کی فکری اور اخلاقی تربیت کے بجائے صرف حاضری مکمل کرنا، تنخواہ حاصل کرنا اور فوٹو کاپی شدہ نوٹس تقسیم کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لینا رہ گیا ہے۔ اسی زوال کا سب سے افسوسناک اظہار امتحانی نظام میں دکھائی دیتا ہے، جہاں کبھی محنت، استعداد اور علمی قابلیت کامیابی کا معیار ہوا کرتی تھی، وہاں آج پیپر لیک، سالور گینگز، غیر قانونی ذرائع، نقل، اور جعلی کامیابیوں کی منڈی نے میرٹ کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ نتیجتاً ایسے افراد تدریس جیسے مقدس پیشے میں داخل ہو رہے ہیں جن کے پاس ڈگریاں تو موجود ہیں، مگر نہ علم کی گہرائی ہے، نہ تحقیق کی صلاحیت، نہ کردار کی مضبوطی اور نہ ہی نئی نسل کی رہنمائی کا شعور۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو روایتی معلم اور جدید سرٹیفائیڈ استاد کے درمیان ایک فکری، اخلاقی اور تہذیبی خلیج پیدا کر دیتا ہے، اور یہی خلیج آج ہمارے پورے تعلیمی نظام کے زوال کی سب سے بڑی علامت بن چکی ہے۔ جذباتی اور فکری دیوالیہ پن ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہماری اگلی نسلیں گونگی اور ذہنی طور پر اپاہج ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس معلومات نہیں ہیں، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس صحیح رہبر نہیں ہے۔ جب ایک استاد کلاس روم میں جا کر

دستِ خضر سے شمعِ ہدایت ہی چھن گئی! Read More »

بچےّ ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے!!!

جدید سماجی زوال، ڈیجیٹل یلغار اور معصومیت کا قتلِ عام ڈاکٹر اسداللہ خان دہلی پبلک اسکول کے اس پرانے ایم ایم ایس اسکینڈل کو گزرے برسوں بیت گئے، جسے کبھی سماج نے ایک غیر متوقع زلزلہ سمجھا تھا۔ اس وقت لوگ چونکے تھے کہ پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے۔ لیکن آج، سن 2026ء کے اس مہیب ڈیجیٹل دور میں جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو وہ پرانا واقعہ محض ایک معصومانہ لغزش محسوس ہوتا ہے۔ آج پانی سر سے اونچا نہیں ہوا، بلکہ پورا معاشرہ ہی اخلاقی دیوالیہ پن اور بے ہنگم ٹیکنالوجی کے طوفان میں غرق ہو چکا ہے۔ اب چونکنے کا وقت بھی گزر گیا، اب تو صرف ماتم کا دور ہے۔ کل کا بچہ وقت سے پہلے بالغ ہو رہا تھا، مگر آج کا بچہ وقت سے پہلے “چالباز” اور مجرمانہ ذہنیت کا حامل ہو رہا ہے۔ کل معصومیت داغدار ہوئی تھی، آج معصومیت کا بیج ہی دجالی ٹیکنالوجی کی بھٹی میں جھلس کر راکھ ہو چکا ہے۔آج ہندوستان، بالخصوص مہاراشٹرا اور ملک کے دیگر حصوں سے روزانہ جو خبریں اخبارات کی سرخیاں بنتی ہیں، وہ روح کو کپکپا دینے کے لیے کافی ہیں۔ ممبئی اور پونے جیسے میٹرو شہروں میں نویں اور دسویں جماعت کے معصوم نظر آنے والے بچے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا ایپس پر جعلی پروفائلز بنا کر اپنے ہی ہم جماعتوں یا بڑوں کو “ہنی ٹریپ” کر رہے ہیں اور لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں اب کسی کیمرے سے چوری چھپے ویڈیو بنانے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ اسکول کے بچے اپنے ہی دوستوں اور اساتذہ کی تصاویر کو چند سیکنڈز میں “ڈیپ فیک” ٹیکنالوجی کے ذریعے نازیبا تصاویر اور ویڈیوز میں تبدیل کر کے وائرل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ مہاراشٹرا سائبر سیل کے ریکارڈز ایسے نابالغ مجرموں کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ بچوں کے بستوں سے اب صرف مانع حمل ادویات ہی نہیں نکلتیں، بلکہ ان کے موبائل والٹس میں لاکھوں روپے کی ڈیجیٹل کرنسی اور آن لائن سستے نشے سپلائی کرنے والے نیٹ ورکس کے لنکس ملتے ہیں، جن کا سراغ لگانا قانون کے لیے بھی دردِ سر بن چکا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلور یا کولکتہ کا کوئی نام نہاد باوقار اسکول اب اس وبا سے محفوظ نہیں ہے۔ کچی عمر کی “ماریا” اب گلی کے نکر پر راکی کا انتظار نہیں کرتی، وہ ڈیٹنگ ایپس کے خفیہ چیٹ رومز میں رات بھر ورچوئل عریانیت کا سودا کرتی ہے۔ “پشپا” اب صرف بستہ لے کر گھر سے غائب نہیں ہوتی، وہ آن لائن گھوٹالے کے ذریعے سرحد پار بیٹھے مجرموں کے چنگل میں پھنس کر انسانی اسمگلنگ کا ایندھن بن جاتی ہے۔ عریانیت کا نیا روپ: او ٹی ٹی اور پرائیویٹ اسکرینز ہماری نسل نے جس “ایڈیٹ باکس” یعنی ٹیلی ویژن کا رونا رویا تھا، وہ تو اب ڈرائنگ روم کا ایک بے ضرر شو پیس بن کر رہ گیا ہے۔ اب اصل فتنہ ہر بچے کی جیب میں موجود “ذاتی اسکرین” ہے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر سنسرشپ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جو مواد پگھلا کر بچوں کے ذہنوں میں اتارا جا رہا ہے، اس نے حیا اور پاکیزگی کے مفاہیم ہی بدل دیے ہیں۔انسٹاگرام ریلز پر چند “لائکس” اور “ویوز” کے لیے بارہ چودہ سال کی بچیوں کا نیم برہنہ رقص اور لڑکوں کا گینگسٹر کلچر کو آئیڈیل بنانا اب ایک عام چلن ہے۔ انٹرنیٹ اب معلومات کا ذریعہ نہیں، شہوت، خشونت اور ذہنی گندگی کا وہ سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ نفسیاتی زوال اور خودکشیوں کا سیلاب جب ایک کچا اور ناپختہ ذہن اس مہیب دلدل میں قدم رکھتا ہے، تو وہ اس کے انجام سے بے خبر ہوتا ہے۔ وہ صرف ایک “تجربہ” کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ تجربہ اسے ایک ایسے اندھے کنویں میں دھکیل دیتا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ پہلے جھجک مرتی ہے، پھر حیا رخصت ہوتی ہے، پھر عقل کا چراغ گل ہوتا ہے اور آخر کار جب وہ عملی اقدام کی ذلت میں پھنستا ہے، تو بلیک میلنگ، بدنامی اور ذہنی دباؤ اسے موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے تازہ ترین اعداد و شمار گواہ ہیں کہ ملک میں نابالغ بچوں میں خودکشی کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ پچھلی دہائی کے مقابلے میں نشہ آور اشیاء کا استعمال اسکول کے بچوں میں دگنا ہو چکا ہے۔ کم عمر بچے اب جرائم کی دنیا کا صرف ایندھن نہیں ہیں، بلکہ وہ شوٹر، سپلائر اور ہیکر بن کر ابھر رہے ہیں۔ سماج کے دانشور اب بھی وہی پرانا راگ الاپ رہے ہیں: “سیکس ایجوکیشن۔” مگر سوال یہ ہے کہ کیا سیکس ایجوکیشن اس طوفان کو روک سکتی ہے؟ ہمارے اسکولوں کا نظام، جہاں اساتذہ خود اخلاقی زوال کا شکار ہیں یا اس موضوع کی حساسیت سے ناواقف ہیں، وہاں یہ تعلیم صرف ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے۔ حکومتیں نصاب بدلتی ہیں، کلاسیں چلاتی ہیں، لیکن نتیجہ؟ معصوم ذہنوں کو وقت سے پہلے وہ سب کچھ پتا چل جاتا ہے جس کی انہیں ضرورت بھی نہیں تھی۔ یہ علاج نہیں، بلکہ کچے ذہنوں میں جنسی جراثیم کی دانستہ پیوند کاری ہے۔ کام بننے کے بجائے مزید بگڑ جاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی کے ایک انتہائی مہنگے اور نامور انٹرنیشنل اسکول کا ایک واقعہ سامنے آیا، جس نے پولیس اور ماہرینِ نفسیات دونوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ دسویں جماعت کے تین لڑکوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ٹولز استعمال کر کے اپنی ہی ہم جماعت لڑکیوں کی تصاویر کو نازیبا اور برہنہ تصاویر میں تبدیل کر دیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ان چودہ پندرہ سال کے بچوں نے ان تصاویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر ان لڑکیوں سے لاکھوں روپے اور مہنگے گجٹس کا مطالبہ کیا۔ جب ایک لڑکی نے ڈپریشن میں آ کر خودکشی کی کوشش کی، تب جا کر یہ عقدہ کھلا۔ ذرا سوچیے، جس عمر میں بچے کھلونوں اور پڑھائی کے تناؤ سے گزرتے تھے، اس عمر میں وہ سائبر کرائم اور بلیک میلنگ کے ماسٹر مائنڈ بن چکے ہیں۔ نابالغوں میں

بچےّ ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے!!! Read More »

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری قدرت کی تنبیہ، قرآن کی رہنمائی اور انسانیت کے لیے ایک سبق ڈاکٹر اسد اللہ خان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاختِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ “بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور رات دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 190) ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ “خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا، اس سبب سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔” (سورۃ الروم: 41) بے بس انسان اور آفاقی سچائی دنیا روزانہ جاگتی ہے، لیکن ہر صبح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض صبحیں سورج کی روشنی کے ساتھ امید لے کر آتی ہیں، اور بعض صبحیں زمین کی لرزش کے ساتھ انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلا جاتی ہیں۔ کہیں زلزلہ آتا ہے، کہیں سیلاب بستیوں کو نگل جاتا ہے، کہیں آسمان آگ برساتا ہے، کہیں سمندر اپنی حدود توڑ دیتا ہے، اور کہیں ایک معمولی سا وائرس پوری دنیا کی طاقت، معیشت اور ٹیکنالوجی کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرتا ہے۔ ان واقعات کو اگر صرف “قدرتی آفات” کہہ کر اخبار کے ایک صفحے تک محدود کر دیا جائے تو شاید ہم بہت بڑی حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ مومن کے لیے یہ صرف خبریں نہیں ہوتییں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ قرآن انہیں “آیات” کہتا ہے؛ ایسی نشانیاں جو انسان کو اس کے رب، اس کی کمزوری، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں۔ آج کا انسان چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے، مصنوعی ذہانت کو اپنی عقل کا جانشین سمجھنے لگا ہے، اور چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے پر فخر کرتا ہے۔ اس نے فلک بوس عمارتیں کھڑی کر لیں، سمندر کی تہوں میں اتر گیا، پہاڑوں کو چیر کر شاہراہیں بنا دیں، مگر وہ اب بھی ایک ایسے معمولی سے زلزلے کے سامنے بے بس ہے جو چند لمحوں میں اس کی برسوں کی محنت، دولت، منصوبے اور غرور کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ یہی انسانی حقیقت ہے جسے قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔ ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ “انہوں نے اللہ کی قدر ویسی نہ پہچانی جیسی پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی۔” (سورۃ الزمر: 67) دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں مٹیں، بعض اوقات ایک جھٹکے نے پوری سلطنتوں کو قصۂ پارینہ بنا دیا۔ قومِ عاد اپنی طاقت پر ناز کرتی تھی، قومِ ثمود اپنے پہاڑ تراش کر محلات بنانے پر فخر کرتی تھی، فرعون اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتا تھا، قارون اپنی دولت پر اکڑتا تھا، مگر قدرت نے سب کو ایک لمحے میں تاریخ کا سبق بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھا؟ ﴿أفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ “کیا وہ زمین میں چلتے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے تھے؟” (سورۃ یوسف: 109) یہ سوال صرف تاریخ پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کے لیے ہے۔ سانحات، اخلاقی حس اور دل کا زلزلہ گزشتہ دنوں دنیا کے ایک خطے میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک مرتبہ پھر یہی سبق دہرایا۔ چند لمحوں میں مضبوط عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے، والدین اپنی اولاد کو ڈھونڈتے رہ گئے، اور وہ لوگ جو چند منٹ پہلے معمول کی زندگی گزار رہے تھے، اچانک موت اور زندگی کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ ایسے مناظر ہر حساس انسان کی آنکھ نم کر دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناظر ہمارے دل بھی بدلتے ہیں؟ افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب سانحات کو بھی ایک “وائرل ویڈیو” کی طرح دیکھنے لگا ہے۔ چند لمحے افسوس، چند دعائیں، چند تبصرے، اور پھر اگلی خبر؛ گویا انسانی جان کی حرمت بھی خبروں کی رفتار کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ» “زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔” (جامع الترمذی، حدیث: 1924) اسلام نے ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بنایا بلکہ دردِ دل رکھنے والا انسان بنایا ہے۔ مومن وہ ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، جو مصیبت زدہ کی مدد کرے، جو بھوکے کو کھانا کھلائے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے، بے گھر کے لیے پناہ بنے اور مصیبت کے وقت انسانیت کا سہارا بنے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ» “مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6011؛ صحیح مسلم، حدیث: 2586) یہی وہ معیار ہے جس پر ہمیں اپنے ایمان کو پرکھنا چاہیے۔ اگر دنیا کے کسی کونے میں آنے والی آفت ہمارے دل کو نہ ہلائے، اگر کسی ماں کی آہ ہمارے ضمیر کو نہ جگائے، اگر کسی یتیم بچے کے آنسو ہمیں بے چین نہ کریں، تو ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ قدرت کی ہر تنبیہ ہمیں دو سوالوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: پہلا سوال یہ کہ اگر آج یہ آزمائش ان پر آئی ہے تو کیا یقین ہے کہ کل ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے گی؟ اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال، اگر آج ہماری زندگی کا زلزلہ آ جائے، اگر موت اچانک ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہو، تو کیا ہم اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال کسی جغرافیے، کسی قوم، کسی مذہب یا کسی زبان کا نہیں؛ یہ ہر انسان کا

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری Read More »

چلو اسکول، ناکامی سیکھیں!

جب تعلیم کا پہلا دروازہ ہی احساسِ محرومی میں کھلنے لگے داخلوں کی دوڑ، بچپن کی پہلی شکست اور تعلیم کے بدلتے ہوئے چہرے کی داستان ڈاکٹر اسد اللہ خان وہ صبح، جس دن ایک بچہ پہلی بار ہار گیا صبح کے سات بج رہے تھے۔ بارش ابھی تھمی ہی تھی اور کھڑکی کے شیشوں پر بارش کے چند قطرے اب بھی ایسے ٹھہرے ہوئے تھے جیسے کسی نے وقت کو چند لمحوں کے لیے روک دیا ہو۔ گلی میں اسکول بس کے ہارن کی آواز گونجی تو چار سالہ ساجد اچانک بستر سے اچھل کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی ننھی سی پانی کی بوتل اٹھائی، الماری سے نیلے رنگ کا ننھا سا بیگ نکالا، اسے اپنی پشت پر لٹکایا اور آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ وہ خود کو بار بار دیکھ رہا تھا؛ کبھی بیگ سیدھا کرتا، کبھی اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا، اور کبھی تصور ہی تصور میں کسی ٹیچر کو “گڈ مارننگ میم” کہہ کر مسکرا دیتا۔ اسے یقین تھا کہ آج وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح اسکول جائے گا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکول جانے کے لیے صرف معصومیت کافی نہیں رہی، اب اس کے لیے ایک ایسا امتحان ضروری ہے جس کی نہ اسے خبر ہے، نہ اس کے معنی معلوم ہیں، اور نہ اس کے نتائج۔ وہ تو صرف اتنا جانتا ہے کہ اسکول میں دوست ملتے ہیں، رنگ برنگی کتابیں ہوتی ہیں، جھولے ہوتے ہیں، اور شاید ایک ایسی ٹیچر بھی جو ماں کی طرح پیار کرتی ہوگی۔ لیکن اسی وقت گھر کے دوسرے کمرے میں ایک اور منظر چل رہا تھا۔ کھانے کی میز پر داخلہ فارم، آدھار کارڈ کی فوٹو کاپیاں، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، بجلی کا بل، بینک اسٹیٹمنٹ، پاسپورٹ سائز تصاویر، پین کارڈ، اور نہ جانے کتنے کاغذات بکھرے ہوئے تھے۔ ساجد کی ماں بار بار ایک فائل کھول کر بند کر رہی تھی۔ باپ خاموش بیٹھا تھا—ایک ایسی خاموشی جس کے اندر کئی طوفان تھے۔ وہ بار بار گھڑی دیکھتا، پھر فائل دیکھتا، پھر اپنے بیٹے کو اور پھر نہ جانے کیوں اپنی ذات کو تکنے لگتا۔ آج امتحان ساجد کا نہیں، بلکہ اس کے والدین کا تھا۔ ان کی زبان، انگریزی، ملازمت، آمدنی، رہن سہن، لباس، شخصیت اور شاید ان کے سماجی مرتبے کا بھی امتحان تھا۔ یہ وہ امتحان تھا جس کا نصاب کسی کتاب میں نہیں ملتا اور جس کی تیاری کسی استاد کے پاس نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ صرف “داخلہ ملا” یا “داخلہ نہیں ملا” نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات ایک ننھے سے دل میں یہ پہلا احساس بھی چھوڑ جاتا ہے کہ شاید وہ دوسروں سے کم تر ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بچپن پہلی بار زندگی کے سامنے ہارنے لگتا ہے۔ داخلے کا موسم یا والدین کا امتحان؟ ہم نے تعلیم کو ہمیشہ روشنی، امید اور مساوات کی علامت سمجھا ہے۔ اسکول وہ جگہ تھی جہاں معاشرے کے ہر طبقے کا بچہ ایک ہی بینچ پر بیٹھ کر یہ سیکھتا تھا کہ علم انسانوں کے درمیان فرق نہیں کرتا۔ استاد وہ شخصیت تھا جو نام، نسب یا آمدنی نہیں پوچھتا تھا، بلکہ صرف یہ دیکھتا تھا کہ سامنے بیٹھا بچہ سیکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ لیکن وقت نے تعلیم کا چہرہ بدل دیا ہے۔ آج بہت سے شہروں میں اسکول کا دروازہ علم سے پہلے سماجی شناخت کو دیکھنے لگا ہے۔ داخلہ فارم اب صرف بچے کی معلومات نہیں مانگتے، بلکہ والدین کی معاشی حیثیت، پیشہ، زبان، تعلیمی قابلیت اور طرزِ زندگی تک جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ایک چار سالہ بچے کی قسمت کا فیصلہ واقعی اس کے والدین کی تنخواہ، انگریزی لہجے یا ڈرائنگ روم کے سائز سے ہونا چاہیے؟ ہندوستان میں ہر سال جون کا مہینہ صرف تعلیمی سال کے آغاز کی خبر نہیں لاتا، بلکہ لاکھوں گھروں میں امید اور مایوسی کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد، پونے، چنئی اور کولکاتا جیسے بڑے شہروں میں ہر سال داخلوں کے موسم میں یہی بے چینی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اخبارات میں رات بھر لگنے والی قطاروں، محدود نشستوں اور نرسری داخلوں کے لیے قائم خصوصی کوچنگ سینٹرز پر مسلسل خبریں شائع ہوتی ہیں۔ عدالتوں، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ ابتدائی تعلیم کے دروازے پر انصاف کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود سب سے زیادہ خاموش وہ بچہ ہوتا ہے جس کے نام پر یہ پوری جنگ لڑی جا رہی ہوتی ہے۔ بچپن کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ کامیابی اور ناکامی کی لغت سے بے خبر ہوتا ہے۔ چار سال کا بچہ نہ میرٹ جانتا ہے، نہ ویٹنگ لسٹ۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ سامنے والے گھر کا علی آج اسکول گیا ہے، لہٰذا وہ بھی جانا چاہتا ہے۔ لیکن جب بڑوں کی دنیا اس کی راہ میں اپنی شرطیں اور دیواریں کھڑی کر دیتی ہے، تو وہ کچھ نہیں سمجھتا۔ وہ صرف اتنا پوچھتا ہے: “ابو… میرا اسکول کب شروع ہوگا؟” یہ سوال بظاہر چھوٹا ہے، مگر ایک حساس باپ کے لیے اس کا جواب پوری زندگی کے مشکل ترین سوالوں میں سے ایک بن جاتا ہے۔ میرے ایک دوست ہیں، نام بدل کر انہیں راشد کہہ لیتے ہیں۔ پیشہ صحافت، کتابوں سے محبت، سچ بولنے کی عادت اور اپنے چار سالہ بیٹے ساجد سے بے پناہ عشق۔ جس دن شہر کے ایک معروف اسکول میں انٹرویو تھا، اس دن راشد نے اپنی بہترین قمیص پہنی اور بیوی نے فائل ترتیب دی۔ ہر کاغذ اپنی جگہ موجود تھا، مگر ایک چیز کہیں درج نہیں تھی: اپنے بچے کے لیے ایک باپ کی محبت، کیونکہ اس محبت کا کوئی خانہ فارم میں موجود نہیں تھا۔ ہمارے معاشرے کا شاید ہی کوئی اور امتحان ہو جس کی تیاری تین سالہ بچہ کم اور اس کے والدین زیادہ کرتے ہوں۔ گھر میں روزانہ مشق ہوتی؛ “گڈ مارننگ”، “تھینک یو”، “ایپل، بال، کیٹ”۔ ماں تصویریں دکھاتی، باپ رنگ یاد کراتا، دادا دعائیں دیتا اور دادی نظر اتارتی۔ انٹرویو شروع ہوا تو راشد کے مطابق چند رسمی سوالات کے بعد گفتگو کا رخ اچانک بدل

چلو اسکول، ناکامی سیکھیں! Read More »

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا!

ڈاکٹر اسد اللہ خان آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے باوجود نوکری پا لینا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ آپ میں سینکڑوں صلاحیتیں ہوں، مگر اگر ایک بھی “کمی” نظر آ جائے — کوئی جسمانی معذوری، کوئی کمزوری، کوئی “داغ” — تو پورا چراغ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کام ناممکن نہیں ہوتا، مگر مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ مجھے ایک ایسے ہی ہونہار نوجوان کا قصہ یاد آتا ہے۔ ملک کے ایک ممتاز انجینئرنگ ادارے سے فارغ التحصیل، تعلیمی ریکارڈ اِس قدر شاندار کہ کاغذات دیکھتے ہی ایک بڑی کمپنی نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لینے کا ارادہ کر لیا۔ مگر جب انٹرویو میں یہ کھلا کہ وہ نوجوان قوتِ سماعت کی ایک بیماری میں مبتلا ہے، تو وہی کمپنی — جو ابھی ابھی اُس کی ذہانت پر فریفتہ تھی — چپ چاپ قدم پیچھے کھینچ لائی۔ ڈگری، محنت اور قابلیت — سب ایک “طبی رپورٹ” کے سامنے ہار گئے۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ معذوری جسم کی ہوتی ہے، حوصلے کی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی، اُن میں سے بیشتر نے “کمی” کو “طاقت” میں بدلا۔ آئیے آج ایسے ہی دس روشن چراغوں کی داستانیں سنتے ہیں — جن کی لَو آندھیوں میں بھی بجھی نہیں، بلکہ اور تیز ہوئی۔ عظمت اور ہمت کی روشن مثالیں انسان اگر سچے دل سے کچھ کرنے کا ارادہ کر لے تو جسمانی اعضاء کی محرومی اس کے خوابوں کے آڑے کبھی نہیں آ سکتی۔ تاریخ اور حال کے افق پر ایسے کئی درخشندہ ستارے چمک رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت کے بلبوتے پر طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ شری کانت بولا (Srikanth Bolla): پیدائشی طور پر مکمل نابینا شری کانت بولا کو بچپن ہی سے انتہائی غربت اور سماجی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دسویں جماعت کے بعد سائنس پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، تو بھارتی نظامِ تعلیم نے ان کے نابینا ہونے کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے اس ناانصافی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چھ ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد کامیابی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گیارہویں جماعت میں ۹۸ فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا۔ جب ملک کے مایہ ناز ادارے آئی آئی ٹی (IIT) نے بھی انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا، تو انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ایم آئی ٹی (MIT) کا رخ کیا اور وہاں داخلہ پانے والے پہلے بین الاقوامی نابینا طالب علم بن گئے۔ بھارت واپس آ کر انہوں نے “بولانٹ انڈسٹریز” (Bollant Industries) قائم کی جو ماحول دوست مصنوعات بناتی ہے اور جہاں سیکڑوں معذور افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ آج شری کانت کروڑوں روپے کی کمپنی کے مالک اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک عالمی رول ماڈل ہیں۔ سدھا چندرن (Sudha Chandran): محض ۱۶ سال کی عمر میں ایک خوفناک سڑک حادثے اور ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سدھا چندرن کی دائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ایک کلاسیکل رقاصہ کے لیے یہ مصیبت کسی موت سے کم نہ تھی کیونکہ ان کا پورا کیریئر پاؤں کی تھرکنے سے وابستہ تھا۔ مگر سدھا نے بیساکھیوں کے سہارے جینے کو ٹھکرا دیا اور “جائپور فٹ” (مصنوعی ٹانگ) لگوا کر انتہائی شدید تکلیف کے باوجود دوبارہ رقص سیکھنا شروع کیا۔ مشق کے دوران اکثر ان کے زخموں سے خون بہہ نکلتا تھا، مگر ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اسٹیج پر واپسی کی اور ایسا شاندار رقص پیش کیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ آج وہ نہ صرف ایک عالمی شہرت یافتہ رقاصہ ہیں بلکہ بھارتی فلم و ٹیلی ویژن کی ایک مانی ہوئی اور کامیاب اداکارہ بھی بن چکی ہیں۔ ایرا سنگھل (Ira Singhal): ریڑھ کی ہڈی کی ایک نایاب بیماری “اسکولیوسس” (Scoliosis) کی وجہ سے ایرا سنگھل کے دونوں بازوؤں کی حرکت انتہائی محدود تھی۔ انہوں نے اپنی اس کمزوری کو پڑھائی کے آڑے نہیں آنے دیا اور ۲۰۱۰ میں ملک کا سب سے مشکل امتحان یو پی ایس سی (UPSC) پاس کیا، مگر انتطامیہ نے ان کی جسمانی حالت کا بہانہ بنا کر انہیں سرکاری ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔ ایرا نے اس امتیازی سلوک کو چپ چاپ قبول کرنے کے بجائے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (CAT) میں کیس دائر کیا اور چار سال تک ایک صبر آزما قانونی جنگ لڑ کر اپنا حق جیتا۔ انہوں نے ۲۰۱۴ میں دوبارہ امتحان دیا اور اس بار نہ صرف کامیاب ہوئیں بلکہ پورے ملک میں پہلی پوزیشن (Rank 1) حاصل کر کے جنرل کیٹیگری میں ٹاپ کیا۔ آج وہ ایک بہترین اور نڈر سول سروسز آفیسر کے طور پر ملک کی خدمت کر رہی ہیں۔ ارونیما سنہا (Arunima Sinha): قومی سطح کی والی بال کھلاڑی ارونیما سنہا کی زندگی میں ۲۰۱۱ میں اس وقت اندھیرا چھا گیا جب کچھ چوروں نے انہیں چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا، جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ہسپتال کے بستر پر جہاں لوگ ان پر ترس کھا رہے تھے اور انہیں “بے چاری” سمجھ رہے تھے، انہوں نے وہیں لیٹے لیٹے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کا ناقابل یقین فیصلہ کیا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی انہوں نے پہلی بھارتی خاتون ایورسٹ فاتح بچیندری پال سے سخت ٹریننگ شروع کی۔ سرپھرے عزم کی بدولت ۲۰۱۳ میں وہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی دنیا کی پہلی معذور خاتون بنیں اور اس کے بعد انہوں نے دنیا کے تمام ۷ براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں پر کامیابی سے اپنے ملک کا ترنگا لہرایا۔ تاریخ کے مزید روشن ستارے نک وجیسک (Nick Vujicic): آسٹریلیا میں ۱۹۸۲ میں پیدا ہونے والے نک وجیسک کی جسمانی حالت دیکھ کر لوگ کانپ اٹھتے تھے کیونکہ وہ بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں ہم جماعتوں کی ایذا رسانی اور شدید ذہنی اذیت سے تنگ آ کر محض ۱۰ سال کی عمر میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی اور روتے ہوئے اپنی ماں سے پوچھا تھا کہ

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا! Read More »

تعلیم کے ذریعے ۔۔۔ تعمیر یا تخریب ؟ ۔۔۔

ڈاکٹر اسد اللہ خان بچوں کو آپ اسکول کیوں بھیجتے ہیں؟ یہ سوال سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، اپنے باطن میں اتنا ہی طوفان سموئے ہوئے ہے۔ یہ ایک سوال نہیں، ایک تہذیب کا احتساب ہے۔ ایک تڑپتے ہوئے باپ کا، ایک فکرمند ماں کا اور ایک بکھرتی ہوئی قوم کا وہ مقدمہ ہے جو آج اپنے ہی ہاتھوں اپنی نسل کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے اور اسے خبر بھی نہیں! جب بھی کسی باپ کی آنکھوں میں جھانک کر یہ پوچھا جائے تو جواب ایک ہی لے میں، ایک ہی بے فکری سے آتا ہے: ”بچے پڑھ لکھ کر کچھ بن جائیں۔” لیکن کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے کہ اس ”کچھ بننے” کا خواب کب کا سکڑ کر محض چند ہزار یا چند لاکھ کی کمائی کا ہدف بن چکا ہے؟ شخصیت کی تعمیر، کردار کی پرورش، ذہن کی روشنی — یہ الفاظ اب صرف اسکولوں کے چمکدار بروشروں میں خوبصورت فونٹ میں چھپتے ہیں، کسی کے دل میں نہیں اترتے۔ والدین بچوں کو اسکول ایسے بھیجتے ہیں جیسے خط کو لفافے میں بند کر کے پوسٹ باکس میں ڈال دیا جائے — کہ اب آگے کا ذمہ ڈاکخانے کا ہے، ہمارا کام ختم ہوا۔ سال ۲۰۲۶ء کا یہ وہ لحظہ ہے جب اس سوال کی گہرائی ہماری برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا طوفان اب دروازے پر دستک نہیں دے رہا، وہ تو ہمارے بیڈرومز اور کلاس رومز کے اندر آ بیٹھا ہے۔ ChatGPT اور Gemini اب ہر چوتھی جماعت کے بچے کی جیب میں ہیں، ہر اسمارٹ فون کے اندر موجود ہیں۔ وہ ہر سوال کا جواب چند سیکنڈ میں اگل دیتے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ آپ کے بچے کا حافظہ کتنا تیز ہے اور وہ کتنے جواب جانتا ہے — اب رونے کا مقام یہ ہے کہ کیا وہ سوچنا بھی جانتا ہے؟ کیا ہم ہڈ ماس کے انسان بنا رہے ہیں یا مائیکرو چپس سے چلنے والے بے جان آلے؟ اسکول کی چہار دیواری: درسگاہ یا عقوبت خانہ؟ جس اسکول میں دیر سے آنے کی سزا یہ ہو کہ آٹھ دس کلو کا بستہ کاندھوں پر لاد کر میدان کے دس چکر لگوائے جائیں — وہاں بچے کے قدم اسکول کی طرف شوق سے بڑھیں گے یا خوف سے؟ جس کلاس میں ایک کی غلطی پر پچاس بچوں کے معصوم ہاتھوں پر بید مار کر لال کر دیا جائے، وہاں محبت کا کون سا پھول اگے گا؟ وہاں صرف اور صرف انتقام کا کانٹا پروان چڑھے گا۔ یہ جسمانی اور ذہنی تشدد اب صرف ماضی کا قصہ نہیں رہا، بلکہ آج ہمارے آس پاس روز کا معمول بن چکا ہے۔ ملک کے الگ الگ کونوں سے آنے والی حالیہ خبریں پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے: بنگلورو کا وحشیانہ واقعہ: ابھی حال ہی میں بنگلورو کے ایک نجی اسکول میں محض دو دن غیر حاضر رہنے پر پانچویں جماعت کے ایک معصوم ۹ سالہ بچے کو اسکول کے انتظامیا نے پلاسٹک کے پائپ سے اس بے رحمی سے پیٹا کہ اس کے پورے جسم پر نیل پڑ گئے، اور حد تو یہ ہے کہ اسے کئی گھنٹوں تک ایک اندھیرے کمرے میں اکیلا بند کر کے تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ جب دکھی والدین نے جواب مانگا، تو انہوں نے ڈھٹائی سے کہا: “ہمارے ہاں ڈسپلن سکھانے کا یہی طریقہ ہے!” آندھرا پردیش میں معصومیت پر وار: چتور کے ایک اسکول میں چھٹی جماعت کی ۱۱ سالہ بچی کلاس میں کسی سے بات کر رہی تھی۔ تیش میں آکر استاد نے اس کی طرف اسکول کا بھاری بستہ اٹھا کر پھینکا۔ بستے کے اندر موجود اسٹیل کا لنچ باکس بچی کے سر پر اتنی زور سے لگا کہ وہ وہیں چکرا کر گر گئی۔ بعد میں جب درد نہ رکا تو ہسپتال کے اسکین میں معلوم ہوا کہ اس معصوم بچی کے سر کی ہڈی (Skull) میں فریکچر آچکا ہے۔ کرناٹک کی بربریت: ایک اور دل سوز لہر اس وقت دوڑی جب ایک رہائشی اسکول (Residential School) کے استاد نے ۹ سال کے ایک چھوٹے سے بچے کو صرف اس لیے زمین پر گرا کر بے رحمی سے لاتوں اور تھپڑوں سے پیٹا کیونکہ اس نے ہاسٹل سے اپنے گھر فون کرنے کی “جسارت” کی تھی۔ وہ معصوم بچہ استاد کے پیروں میں گر کر روتے ہوئے معافیاں مانگ رہا تھا، لیکن اس جلاد کا دل نہیں پگھلا۔ یہ چند مثالیں تو وہ ہیں جو میڈیا کی نظر چڑھیں اور ایف آئی آر تک پہنچیں، ورنہ روزانہ ہزاروں معصوم روحیں ان چہار دیواریوں کے پیچھے سسکتی ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ ہم ڈسپلن کے نام پر بچوں کو تہذیب نہیں سکھا رہے، بلکہ ان کے اندر کے انسان کو قتل کر رہے ہیں۔ یہ تو وہ جسمانی وحشت ہے جو نظر آ جاتی ہے، لیکن اب جو نئی ڈیجیٹل بربریت آئی ہے، اس نے روحوں کو ایسے زخم دیے ہیں جن کا کوئی ایکسرے نہیں ہو سکتا۔ ممبرا، کلیان اور بھیونڈی کے بعض انگریزی اسکولوں میں اب بچوں کے ہوم ورک کا ‘آن لائن ریکارڈ’ رکھا جاتا ہے۔ بچہ رات کو تھک کر سو گیا، ہوم ورک ادھورا رہ گیا۔ صبح کلاس واٹس ایپ گروپ میں، جہاں پچاس دیگر والدین موجود ہیں، بچے کا نام سرخ حروف میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہو۔ ستر سال پہلے اسکولوں میں سزا کے طور پر بچے کے گلے میں تختی لٹکائی جاتی تھی جس پر لکھا ہوتا تھا: ‘I am Donkey’۔ آج وہ تختی ڈیجیٹل ہو گئی ہے — اسکول ایپ پر ریڈ الرٹ، پیرنٹ پورٹل پر نام، ڈیش بورڈ پر رسوائی! ذریعہ بدل گیا، اساتذہ کی وحشیانہ ذہنیت نہیں بدلی۔ کیا یہ تعلیم ہے؟ یا کسی نازک، معصوم آئینے پر پتھر مار مار کر اسے چکنا چور کرنا اور پھر اس کے ملبے کو پالش کر کے کہنا کہ دیکھو ہم نے کتنا چمکدار شیشہ بنایا ہے؟ انگریزی کا بت اور والدین کا سجدہ ہماری قوم نے انگریزی زبان کے ساتھ جو رشتہ جوڑا ہے، وہ اب زبان کا رشتہ نہیں رہا، وہ اندھی پوجا بن چکا ہے۔ ایک ایسا بت

تعلیم کے ذریعے ۔۔۔ تعمیر یا تخریب ؟ ۔۔۔ Read More »

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا!

محنت کرے انسا ن تو کیا ہو نہیں سکتا! ڈاکٹر اسد اللہ خان آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے باوجود نوکری پا لینا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ آپ میں سینکڑوں صلاحیتیں ہوں، مگر اگر ایک بھی ‘کمی’ نظر آ جائے — کوئی جسمانی معذوری، کوئی کمزوری، کوئی ‘داغ’ — تو پورا چراغ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کام ناممکن نہیں ہوتا، مگر مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ مجھے ایک ایسے ہی ہونہار نوجوان کا قصہ یاد آتا ہے۔ ملک کے ایک ممتاز انجینئرنگ ادارے سے فارغ التحصیل، تعلیمی ریکارڈ اِس قدر شاندار کہ کاغذات دیکھتے ہی ایک بڑی کمپنی نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لینے کا ارادہ کر لیا۔ مگر جب انٹرویو میں یہ کھلا کہ وہ نوجوان قوتِ سماعت کی ایک بیماری میں مبتلا ہے، تو وہی کمپنی — جو ابھی ابھی اُس کی ذہانت پر فریفتہ تھی — چپ چاپ قدم پیچھے کھینچ لائی۔ ڈگری، محنت اور قابلیت — سب ایک ‘طبی رپورٹ’ کے سامنے ہار گئے۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ معذوری جسم کی ہوتی ہے، حوصلے کی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی، اُن میں سے بیشتر نے ‘کمی’ کو ‘طاقت’ میں بدلا۔ آئیے آج ایسے ہی دس روشن چراغوں کی داستانیں سنتے ہیں — جن کی لَو آندھیوں میں بھی بجھی نہیں، بلکہ اور تیز ہوئی۔ عظمت اور ہمت کی روشن مثالیں انسان اگر سچے دل سے کچھ کرنے کا ارادہ کر لے تو جسمانی اعضاء کی محرومی اس کے خوابوں کے آڑے کبھی نہیں آ سکتی۔ تاریخ اور حال کے افق پر ایسے کئی درخشندہ ستارے چمک رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت کے بلبوتے پر طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ شری کانت بولا (Srikanth Bolla): پیدائشی طور پر مکمل نابینا شری کانت بولا کو بچپن ہی سے انتہائی غربت اور سماجی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دسویں جماعت کے بعد سائنس پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، تو بھارتی نظامِ تعلیم نے ان کے نابینا ہونے کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے اس ناانصافی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چھ ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد کامیابی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گیارہویں جماعت میں ۹۸ فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا۔ جب ملک کے مایہ ناز ادارے آئی آئی ٹی (IIT) نے بھی انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا، تو انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ایم آئی ٹی (MIT) کا رخ کیا اور وہاں داخلہ پانے والے پہلے بین الاقوامی نابینا طالب علم بن گئے۔ بھارت واپس آ کر انہوں نے ‘بولانٹ انڈسٹریز’ (Bollant Industries) قائم کی جو ماحول دوست مصنوعات بناتی ہے اور جہاں سیکڑوں معذور افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ آج شری کانت کروڑوں روپے کی کمپنی کے مالک اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک عالمی رول ماڈل ہیں۔ سدھا چندرن (Sudha Chandran): محض ۱۶ سال کی عمر میں ایک خوفناک سڑک حادثے اور ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سدھا چندرن کی دائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ایک کلاسیکل رقاصہ کے لیے یہ مصیبت کسی موت سے کم نہ تھی کیونکہ ان کا پورا کیریئر پاؤں کی تھرکنے سے وابستہ تھا۔ مگر سدھا نے بیساکھیوں کے سہارے جینے کو ٹھکرا دیا اور ‘جائپور فٹ’ (مصنوعی ٹانگ) لگوا کر انتہائی شدید تکلیف کے باوجود دوبارہ رقص سیکھنا شروع کیا۔ مشق کے دوران اکثر ان کے زخموں سے خون بہہ نکلتا تھا، مگر ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اسٹیج پر واپسی کی اور ایسا شاندار رقص پیش کیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ آج وہ نہ صرف ایک عالمی شہرت یافتہ رقاصہ ہیں بلکہ بھارتی فلم و ٹیلی ویژن کی ایک مانی ہوئی اور کامیاب اداکارہ بھی بن چکی ہیں۔ ایرا سنگھل (Ira Singhal): ریڑھ کی ہڈی کی ایک نایاب بیماری ‘اسکولیوسس’ (Scoliosis) کی وجہ سے ایرا سنگھل کے دونوں بازوؤں کی حرکت انتہائی محدود تھی۔ انہوں نے اپنی اس کمزوری کو پڑھائی کے آڑے نہیں آنے دیا اور ۲۰۱۰ میں ملک کا سب سے مشکل امتحان یو پی ایس سی (UPSC) پاس کیا، مگر انتطامیہ نے ان کی جسمانی حالت کا بہانہ بنا کر انہیں سرکاری ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔ ایرا نے اس امتیازی سلوک کو چپ چاپ قبول کرنے کے بجائے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (CAT) میں کیس دائر کیا اور چار سال تک ایک صبر آزما قانونی جنگ لڑ کر اپنا حق جیتا۔ انہوں نے ۲۰۱۴ میں دوبارہ امتحان دیا اور اس بار نہ صرف کامیاب ہوئیں بلکہ پورے ملک میں پہلی پوزیشن (Rank 1) حاصل کر کے جنرل کیٹیگری میں ٹاپ کیا۔ آج وہ ایک بہترین اور نڈر سول سروسز آفیسر کے طور پر ملک کی خدمت کر رہی ہیں۔ ارونیما سنہا (Arunima Sinha): قومی سطح کی والی بال کھلاڑی ارونیما سنہا کی زندگی میں ۲۰۱۱ میں اس وقت اندھیرا چھا گیا جب کچھ چوروں نے انہیں چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا، جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ہسپتال کے بستر پر جہاں لوگ ان پر ترس کھا رہے تھے اور انہیں ‘بے چاری’ سمجھ رہے تھے، انہوں نے وہیں لیٹے لیٹے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کا ناقابل یقین فیصلہ کیا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی انہوں نے پہلی بھارتی خاتون ایورسٹ فاتح بچیندری پال سے سخت ٹریننگ شروع کی۔ سرپھرے عزم کی بدولت ۲۰۱۳ میں وہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی دنیا کی پہلی معذور خاتون بنیں اور اس کے بعد انہوں نے دنیا کے تمام ۷ براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں پر کامیابی سے اپنے ملک کا ترنگا لہرایا۔ تاریخ کے مزید روشن ستارے نک وجیسک (Nick Vujicic): آسٹریلیا میں ۱۹۸۲ میں پیدا ہونے والے نک وجیسک کی جسمانی حالت دیکھ کر لوگ کانپ اٹھتے تھے کیونکہ وہ بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں ہم جماعتوں کی ایذا رسانی اور شدید ذہنی اذیت سے تنگ آ کر محض ۱۰ سال کی عمر میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا! Read More »

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری قدرت کی تنبیہ، قرآن کی رہنمائی اور انسانیت کے لیے ایک سبق ڈاکٹر اسد اللہ خان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاختِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ “بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور رات دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 190) ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ “خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا، اس سبب سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔” (سورۃ الروم: 41) بے بس انسان اور آفاقی سچائی دنیا روزانہ جاگتی ہے، لیکن ہر صبح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض صبحیں سورج کی روشنی کے ساتھ امید لے کر آتی ہیں، اور بعض صبحیں زمین کی لرزش کے ساتھ انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلا جاتی ہیں۔ کہیں زلزلہ آتا ہے، کہیں سیلاب بستیوں کو نگل جاتا ہے، کہیں آسمان آگ برساتا ہے، کہیں سمندر اپنی حدود توڑ دیتا ہے، اور کہیں ایک معمولی سا وائرس پوری دنیا کی طاقت، معیشت اور ٹیکنالوجی کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرتا ہے۔ ان واقعات کو اگر صرف “قدرتی آفات” کہہ کر اخبار کے ایک صفحے تک محدود کر دیا جائے تو شاید ہم بہت بڑی حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ مومن کے لیے یہ صرف خبریں نہیں ہوتییں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ قرآن انہیں “آیات” کہتا ہے؛ ایسی نشانیاں جو انسان کو اس کے رب، اس کی کمزوری، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں۔ آج کا انسان چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے، مصنوعی ذہانت کو اپنی عقل کا جانشین سمجھنے لگا ہے، اور چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے پر فخر کرتا ہے۔ اس نے فلک بوس عمارتیں کھڑی کر لیں، سمندر کی تہوں میں اتر گیا، پہاڑوں کو چیر کر شاہراہیں بنا دیں، مگر وہ اب بھی ایک ایسے معمولی سے زلزلے کے سامنے بے بس ہے جو چند لمحوں میں اس کی برسوں کی محنت، دولت، منصوبے اور غرور کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ یہی انسانی حقیقت ہے جسے قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔ ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ “انہوں نے اللہ کی قدر ویسی نہ پہچانی جیسی پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی۔” (سورۃ الزمر: 67) دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں مٹیں، بعض اوقات ایک جھٹکے نے پوری سلطنتوں کو قصۂ پارینہ بنا دیا۔ قومِ عاد اپنی طاقت پر ناز کرتی تھی، قومِ ثمود اپنے پہاڑ تراش کر محلات بنانے پر فخر کرتی تھی، فرعون اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتا تھا، قارون اپنی دولت پر اکڑتا تھا، مگر قدرت نے سب کو ایک لمحے میں تاریخ کا سبق بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھا؟ ﴿أفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ “کیا وہ زمین میں چلتے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے تھے؟” (سورۃ یوسف: 109) یہ سوال صرف تاریخ پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کے لیے ہے۔ سانحات، اخلاقی حس اور دل کا زلزلہ گزشتہ دنوں دنیا کے ایک خطے میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک مرتبہ پھر یہی سبق دہرایا۔ چند لمحوں میں مضبوط عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے، والدین اپنی اولاد کو ڈھونڈتے رہ گئے، اور وہ لوگ جو چند منٹ پہلے معمول کی زندگی گزار رہے تھے، اچانک موت اور زندگی کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ ایسے مناظر ہر حساس انسان کی آنکھ نم کر دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناظر ہمارے دل بھی بدلتے ہیں؟ افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب سانحات کو بھی ایک “وائرل ویڈیو” کی طرح دیکھنے لگا ہے۔ چند لمحے افسوس، چند دعائیں، چند تبصرے، اور پھر اگلی خبر؛ گویا انسانی جان کی حرمت بھی خبروں کی رفتار کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ» “زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔” (جامع الترمذی، حدیث: 1924) اسلام نے ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بنایا بلکہ دردِ دل رکھنے والا انسان بنایا ہے۔ مومن وہ ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، جو مصیبت زدہ کی مدد کرے، جو بھوکے کو کھانا کھلائے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے، بے گھر کے لیے پناہ بنے اور مصیبت کے وقت انسانیت کا سہارا بنے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ» “مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6011؛ صحیح مسلم، حدیث: 2586) یہی وہ معیار ہے جس پر ہمیں اپنے ایمان کو پرکھنا چاہیے۔ اگر دنیا کے کسی کونے میں آنے والی آفت ہمارے دل کو نہ ہلائے، اگر کسی ماں کی آہ ہمارے ضمیر کو نہ جگائے، اگر کسی یتیم بچے کے آنسو ہمیں بے چین نہ کریں، تو ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ قدرت کی ہر تنبیہ ہمیں دو سوالوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: پہلا سوال یہ کہ اگر آج یہ آزمائش ان پر آئی ہے تو کیا یقین ہے کہ کل ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے گی؟ اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال، اگر آج ہماری زندگی کا زلزلہ آ جائے، اگر موت اچانک ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہو، تو کیا ہم اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال کسی جغرافیے، کسی قوم، کسی مذہب یا کسی زبان کا نہیں؛ یہ ہر انسان کا

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری Read More »