جب اسکول ہی ناکام تو بچے کیسے ہوں گے کامیاب؟
ڈاکٹر اسد اللہ خان ایک پرانا رونا، ایک نیا زخم معیارِ تعلیم کا رونا کوئی نیا تو ہے نہیں، منموہن سنگھ بھی رو چکے اور کپل سبّل بھی، لیکن ابھی فرق نہیں پڑا۔ شاید اسی لیے اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ موقع بہ موقع اس عنوان پر ماتم ضروری ہو جاتا ہے۔ بات خدا لگتی ہے — ہمارے اردو اسکولوں کا انتظامیہ ہو کہ اساتذہ، بس اسی زعم میں جیے جا رہے ہیں کہ اپنے یہاں تو سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ معیار کے جھنجھٹ میں کون پڑے؟ ہمارے تو سبھی اسکول معیاری ہیں۔ جب کہ عالم یہ ہے کہ معیاری اسکول کی کسوٹی پر پرکھے جائیں تو چند ایک کو چھوڑ کر بیشتر اسکول کسی شمار قطار میں ہی نہیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ انہیں خبر بھی نہیں کہ اچھے اسکول کے لیے پیمانے کیا ہیں — اور جاننے کی کوئی تڑپ بھی نہیں۔ شہر کے مشہور انگریزی اخبار میں چھپی اس خبر نے ذی شعور اور بیدار شہریوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا: رواں تعلیمی سال میں ممبئی کے اسکولوں کی سالانہ جانچ میں ایک تہائی سے زائد اسکول ناکام رہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کی جانب سے ۳۲۲۸ اسکولوں میں سے صرف ۳۸۹ اسکول ہی درجہ A سے کامیاب قرار دیے گئے — یعنی محض ۱۳ فیصد۔ یہ اعداد و شمار کوئی معمولی تشویش نہیں، یہ ہمارے پورے تعلیمی ڈھانچے پر ایک فرد جرم ہے۔ افسوس کہ اردو حلقوں میں اس خبر کی بازگشت بھی نہیں سنی گئی۔ ہمیں تو احتساب کرتے رہنے کی پرانی بیماری ہے۔ اسی لیے آئینہ پونچھنے کے بجائے ہم اپنے چہرے کے دھبوں کی خبر لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۶ء تک — کیا بدلا، کیا نہیں بدلا؟ وقت گزرا، سال بدلے، حکومتیں آئیں اور گئیں۔۔۔مگر اسکول کے دروازے پر وہی پرانا سوال کھڑا ہے جب ۲۰۰۹ء میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ممبئی کے ۳۲۲۸ اسکولوں میں سے صرف ۳۸۹ یعنی محض ۱۳ فیصد اسکول A گریڈ سے کامیاب ہوئے، تو یہ ایک دھچکا تھا — ایک تکلیف دہ آئینہ جس میں ہم نے اپنا چہرہ دیکھنے سے منہ موڑ لیا۔ اس وقت سوچا گیا کہ شاید ایک نسل میں حالات بدل جائیں گے۔ اب پندرہ سال بعد، ۲۰۲۶ء میں، آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی کوئی بنیادی تبدیلی آئی — یا بس کاغذات پر اعداد بدلے؟ پندرہ سال بعد UDISE+ 2024-25 اور ASER 2024 کی رپورٹیں ہمارے سامنے ہیں۔ آئیے آٹھ اہم پیمانوں پر ایمانداری سے دیکھتے ہیں — کیا بدلا، کیا وہی رہا، اور کیا اب بھی بحران ہے۔ ۱۔ اسکولوں کا معیار — نظامِ جانچ بدلا ضرور ہے لیکن تعلیمی معیار کا بحران اپنی جگہ برقرار ہے!!! ۲۰۰۹ء میں مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کی اس جانچ نے ممبئی کے اسکولوں کی درجہ بندی کی تھی — اور نتیجہ سب کے سامنے تھا: صرف ۱۳ فیصد اسکول A گریڈ کے قابل۔ یہ اعداد ایک نظام کی ناکامی کا اعتراف تھے۔ اب ۲۰۲۴-۲۵ء میں صورتحال یہ ہے کہ وہ پرانا A/B/C/D/E درجہ بندی کا نظام اب موجود نہیں — UDISE+ نے اسکولوں کی جانچ کا پورا طریقہ کار بدل دیا ہے۔ اب اسکولوں کو ان کے انفرا اسٹرکچر، داخلے، اساتذہ کی تعداد اور ڈیجیٹل سہولیات کی بنیاد پر Online Report Card ملتا ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی بہتری کی علامت ہے مگر سوال وہی ہے کہ کیا نظام بدلنے سے حقیقت بدلی؟ دکھ کی بات یہ ہے کہ ASER 2024 کی رپورٹ ، جو لاکھوں بچوں پر زمینی سروے کے بعد بنائی گئی ، بتاتی ہے کہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تیسری جماعت کے ۷۶.۶ فیصد بچے دوسری جماعت کا متن نہیں پڑھ سکتے۔ یعنی اسکول کا کارڈ بدل گیا ، بچے کا نتیجہ نہیں بدلا۔ ۲۔ بیت الخلاء کی دستیابی میں کچھ بہتری ہوئی مگر وہ نامکمل ہے ، صفائی کا سوال جوں کا توں منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ ۲۰۰۹ء میں ملک کے اسکولوں میں بیت الخلاء کی دستیابی ۶۳ فیصد سے بھی کم تھی — اور جو تھے وہ اکثر ناقابلِ استعمال۔ یہ وہ وقت تھا جب لڑکیاں صرف اس لیے اسکول چھوڑ دیتی تھیں کہ بلوغت کے بعد ان کی بنیادی ضرورت کا کوئی انتظام نہ تھا۔ اب UDISE+ 2024-25 کے مطابق ۹۸.۶ فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء موجود ہے — یہ واقعی ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ مگر اعداد کی تہہ میں اترتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ‘موجود ہونا’ اور ‘قابلِ استعمال ہونا’ دو الگ چیزیں ہیں۔ ASER 2024 بتاتی ہے کہ ۲۰۲۴ء میں صرف ۷۲ فیصد اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے کام کرنے والا اور صاف بیت الخلاء موجود تھا — یعنی ۲۶ فیصد میں بیت الخلاء تھا ہی نہیں یا بند پڑا تھا۔ دیوار اور دروازہ لگ گیا، صفائی اور دیکھ بھال نہیں آئی۔ اور سب سے اہم بات: Swachh Bharat Mission کے تحت ارب روپے خرچ ہوئے — مگر وہ لڑکیاں جو آج بھی ناقابلِ استعمال بیت الخلاء کی وجہ سے پریشان ہوتی ہیں، انہیں کاغذی اعداد سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بہتری ادھوری ہے مگر صفائی اور دیکھ بھال کا مسئلہ اب بھی باقی ہے۔ ۳۔ کہیں کہیں نل موجود لیکن پینے کا پانی نداردہے ۔ ۲۰۰۹ء میں پینے کے صاف پانی کی سہولت اسکولوں میں بڑے پیمانے پر غیر موجود تھی۔ بچے گھر سے پانی لاتے تھے، گرمیوں میں پیاسے رہتے تھے، اور بے ہوشی کے واقعات کوئی نادر بات نہ تھے۔اب UDISE+ 2024-25 کا دعویٰ ہے کہ ۹۹ فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی دستیاب ہے — یہ اعداد کاغذوں پر انقلاب ہے۔ مگر یہاں بھی وہی سوال: ‘دستیاب’ کی تعریف کیا ہے؟ کیا پانی صاف ہے؟ کیا روزانہ ملتا ہے؟ کیا برتن صاف ہیں؟ بہت سے اسکولوں میں نل لگا ہے مگر پانی نہیں آتا، یا آتا ہے تو آلودہ آتا ہے۔ ASER 2024 نے پینے کے پانی کی دستیابی ۷۷.۷ فیصد درج کی — یعنی کاغذوں کے ۹۹ فیصد اور زمینی حقیقت کے ۷۷.۷ فیصد کے درمیان ۲۱ فیصد کا فرق ہے۔ یہ فرق ہی اصل کہانی ہے۔ یہ ظاہری بہتری ہے مگر کاغذ اور زمین کے درمیان کا فرق خطرناک ہے۔ ۴۔ اسکولوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے معاملے میں بڑی پیش رفت ہوئی
جب اسکول ہی ناکام تو بچے کیسے ہوں گے کامیاب؟ Read More »









