یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر۔۔۔ تعلیمی نظام میں نقب زنی کی اندرونی کہانی

ڈاکٹر اسداللہ خان (ممبئی)

ہندوستان میں قابلیت اور میرٹ کی بالادستی کا جو بھرم برسوں سے قائم تھا، وہ اب مکمل طور پر چکنا چور ہو چکا ہے۔ جو باتیں کبھی کوچنگ سینٹرز کی بند گلیوں میں سرگوشیوں کی صورت میں سنی جاتی تھیں، اب مرکزی تحقیقاتی ادارے (CBI) نے انہیں پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

قومی اہلیت و داخلہ ٹیسٹ (NEET-UG 2026) اب ذہانت، محنت اور راتوں کی بیداری کا امتحان نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسی کھلی نیلامی بن چکا ہے جہاں مستقبل کے ڈاکٹروں نے اپنی ڈگریاں اور سٹیتھوسکوپ (Stethoscopes) محنت سے نہیں، بلکہ کروڑوں روپے نقد دے کر خریدے۔

لاتور کا گٹھ جوڑ — دو مرکزی کردار

اس منظم اور شرمناک گھپلے کے پیچھے مہاراشٹر میں کوچنگ کے سب سے بڑے گڑھ، لاتور کا ایک خطرناک گٹھ جوڑ کام کر رہا تھا۔ اس گینگ کے دو مرکزی کردار ہیں — پہلا شری پی وی کلکرنی (NTA کا سابق انسائیڈر اور ریٹائرڈ کیمسٹری پروفیسر) اور دوسرا شیوراج موٹیگاؤنکر (ریناکائی کیمسٹری کلاسز – RCC کا ارب پتی مالک)۔

اس سازش کے طریقہ کار نے ہمارے پورے امتحانی ڈھانچے کی کمزوریوں کو ننگا کر دیا ہے۔ پی وی کلکرنی کوئی عام دلال نہیں تھا، بلکہ وہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے اس پینل کا حصہ تھا جس کا کام پیپرز کی تیاری، سیٹنگ اور ترجمہ کرنا تھا۔

سی بی آئی (CBI) کی تحقیقات کے مطابق، 3 مئی کو ہونے والا کیمسٹری کا اصل پیپر امتحان سے پورے 10 دن پہلے، یعنی 23 اپریل 2026 کو ہی لیک کر دیا گیا تھا۔ دس دنوں تک اس ملک کے لاکھوں بچوں کا مستقبل چند ضمیر فروشوں کے رحم و کرم پر تھا۔

امیرزادوں کے لیے خفیہ نیٹ ورک — The Elite Track

پیپر کی فروخت کے دو بڑے طریقے وضع کیے گئے۔ امیرزادوں کے لیے خفیہ نیٹ ورک جس میں کلکرنی نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بڑے بڑے امیر ڈاکٹروں، تاجروں اور بااثر سیاست دانوں کے بچوں کو جمع کیا۔ اپریل کے آخری ہفتے میں ان چیدہ چیدہ طلبہ کو پونے میں کلکرنی کی نجی رہائش گاہ پر لایا گیا۔

یہاں پیپر کی کوئی فوٹو کاپی یا پرنٹ آؤٹ نہیں دیا گیا (تاکہ کوئی تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر وائرل نہ کر دے)۔ کلکرنی نے خود ایک ایک سوال، اس کے چاروں آپشنز اور درست جوابات (Answer Keys) طلبہ کو زبانی لکھوائے۔ بچوں نے انہیں سادہ نوٹ بکس پر اپنے ہاتھ سے لکھا۔ سی بی آئی نے بعد میں یہی نوٹ بکس برآمد کیں، جن کے سوالات NTA کے اصل پیپر سے 100 فیصد میچ کر رہے تھے۔

عوام کے لیے “گیس پیپر” کا ڈرامہ — The Mass Track

دوسری طرف ایک ڈرامہ رچا گیا جس میں عوام کے لیے “گیس پیپر” کا کھیل تھا۔ یہیں سے شیوراج موٹیگاؤنکر اور اس کے ادارے “RCC” کا گندا کھیل شروع ہوتا ہے۔ موٹیگاؤنکر اور کلکرنی پرانے واقف کار تھے، لیکن ماضی میں ان کے درمیان شدید کاروباری دشمنی تھی۔ مگر اس بار، کروڑوں روپے کمانے کے لیے دونوں نے پرانی دشمنی بھلا کر ہاتھ ملا لیا۔

موٹیگاؤنکر نے اس چوری شدہ پیپر کو براہ راست بانٹنے کے بجائے، اس کے 42 بالکل اصل سوالات کو اپنے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے آخری “موک ٹیسٹ” (Mock Test) میں شامل کر دیا۔ اس نے اپنے ہزاروں طلبہ کو بتایا کہ یہ اس کی “برسوں کی مہارت اور پیشگوئی” کا نتیجہ ہے۔ مقصد یہ تھا کہ جب اصل امتحان میں یہی سوالات آئیں، تو اس کے ادارے کا رزلٹ سب سے اوپر رہے اور اگلے سال اس کی 100 کروڑ روپے کی کوچنگ سلطنت میں داخلوں کی لائن لگ جائے۔

لیکن یہ چوری اس وقت پکڑی گئی جب ایک چوکنے والدین نے پولیس میں شکایت درج کروائی اور خود موٹیگاؤنکر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں وہ فخریہ انداز میں بچوں سے پوچھ رہا تھا کہ “بتاؤ، ہمارے موک ٹیسٹ سے کتنے سوالات امتحان میں آئے؟”

بین ریاستی مافیا — جال کہاں تک پھیلا تھا؟

لاتور کا یہ گینگ کوئی چھوٹا موٹا گروہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک بین ریاستی (Multi-State) مافیا تھا جس کے تار دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ کلکرنی کے علاوہ، سی بی آئی نے پونے کی ایک اور پروفیسر منیشا واگھمارے اور منیشا مینڈھارے کو بھی گرفتار کیا، جنہوں نے مبینہ طور پر بائیولوجی (Biology) کا پیپر لیک کرنے میں مدد کی تھی۔

خریدار تھے ڈاکٹرز اور ان کے بچے۔ یہ ریکیٹ صرف ان امیروں کے لیے تھا جو کروڑوں کی بولی لگا سکتے تھے۔ ناندیڑ کے ایک نامور تاجر کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جس نے اپنی بیٹی کے لیے 5 لاکھ روپے نقد دیے تھے۔ جبکہ راجستھان کے سیکر (Sikar) اور جے پور میں ایک ایک پیپر کی قیمت 10 سے 15 لاکھ روپے وصول کی جا رہی تھی۔

سی بی آئی نے اب تک جے پور، سیکر، گروگرام، ناسک، پونے اور اہیلیہ نگر سے 9 کلیدی ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جو اس امتحانی چوری کو ایک کارپوریٹ بزنس کی طرح چلا رہے تھے۔

24 لاکھ خوابوں کا اجتماعی قتل

اس بدعنوان اور غلیظ نظام کا سب سے بڑا اور دردناک خمیازہ ملک کے معصوم اور محنتی طلبہ کو بھگتنا پڑا۔ جب پیپر بڑے پیمانے پر لیک ہوا، تو حکومت کو مجبوراً 12 مئی کو یہ امتحان منسوخ کرنا پڑا اور اب دوبارہ امتحان (Re-exam) لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

24 لاکھ طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا۔ ملک بھر کے 24 لاکھ سے زائد میڈیکل کے خواہشمند طلبہ، جنہوں نے دن رات ایک کر کے پڑھائی کی تھی، آج ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ غریب خاندانوں پر معاشی بوجھ الگ پڑا۔ دوبارہ امتحان دینے کے لیے لاکھوں غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں کو دوبارہ سفر، ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں، جن کی جیبیں پہلے ہی خالی ہو چکی تھیں۔

اس افراتفری اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے کئی طلبہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو چکے ہیں، اور راجستھان میں ایک طالب علم نے اس صدمے کو برداشت نہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہ صرف ایک خودکشی نہیں، بلکہ اس کرپٹ نظام کے ہاتھوں ایک قتل ہے۔

میرٹ کا گلا، سرمائے کی عیاشی

جب ملک کے بڑے بڑے کوچنگ مافیا امتحانی بورڈز کے اندر بیٹھے افسران کو خرید لیتے ہیں، تو وہاں “قابلیت” (Merit) کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا نظام تعلیم اب علم بانٹنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ سرمایہ داروں کی عیاشی کا اکھاڑا بن چکا ہے۔

آخر کب تک اس ملک کے غریب اور مڈل کلاس بچوں کے مستقبل کی اس طرح سرِعام نیلامی ہوتی رہے گی؟

ہر سال لاکھوں والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگا دیتے ہیں، اپنی خواہشات کا گلا گھونٹتے ہیں، تاکہ ان کا بچہ 18-18 گھنٹے پڑھ کر ایک معزز ڈاکٹر بن سکے۔ وہ بچہ اس امید پر راتوں کو جاگتا ہے کہ “اگر میں محنت کروں گا، تو مجھے میرا حق ملے گا۔”

لیکن یہ امید ایک دھوکہ ہے! یہ ایک ایسا جال ہے جس میں ایماندار بچوں کو صرف الجھائے رکھا جاتا ہے، جبکہ میڈیکل کی اصل سیٹیں پونے کے بند کمروں اور لاتور کے لگژری کوچنگ سینٹرز میں پہلے ہی فروخت ہو چکی ہوتی ہیں۔

کلکرنی اور موٹیگاؤنکر جیسے لوگ استاد نہیں، تعلیمی مافیا کے سرغنہ ہیں۔ انہوں نے لاکھوں بچوں کے خون پسینے اور ان کے آنسوؤں پر اپنی تجوریاں بھریں۔ جب ایک کسان کا بیٹا گاؤں کی مدہم روشنی میں کیمسٹری کے فارمولے رٹ رہا تھا، اس وقت ایک امیر ڈاکٹر کا بیٹا پونے کے ایک بنگلے میں چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے اصل امتحانی پیپر اپنی کاپی میں اتار رہا تھا۔

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) ایک ناکام اور کھوکھلا ادارہ بن چکی ہے، جسے چند لالچی دلال جب چاہیں اپنے اشاروں پر نچا سکتے ہیں۔ صرف سی بی آئی کی انکوائری بٹھا دینا یا اگلے سال سے کمپیوٹر پر ٹیسٹ لے لینا اس کینسر کا علاج نہیں ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ اس سرمایہ دارانہ کوچنگ کلچر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جس نے تعلیم کو ایک منڈی بنا دیا ہے۔ اگر یہ حکومت اور یہ نظام بچوں کے لیے ایک امتحانی پیپر کی حفاظت نہیں کر سکتے، تو انہیں ہمارے بچوں کی قابلیت کو جانچنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔

حکمرانوں، اداروں اور معاشرے سے چند کھلے سوالات

حکمرانوں اور پالیسی سازوں سے: جب ایک کسان اپنی زمین بیچ کر اور ایک مزدور اپنی زندگی بھر کی کمائی لٹا کر اپنے بچے کو پڑھاتا ہے، تو کیا وہ یہ رقم کتابوں اور تعلیم کے لیے دیتا ہے یا آپ کے امتحانی نظام میں بیٹھے چوروں اور دلالوں کی تجوریاں بھرنے کے لیے؟

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے اعلیٰ حکام سے: اگر ملک کی سب سے بڑی امتحانی ایجنسی چند کرپٹ پروفیسروں اور کوچنگ مافیا کے سامنے اتنی ہی بے بس اور لاچار ہے، تو کروڑوں روپے کے فنڈز اور سیکیورٹی کے بڑے بڑے دعووں کا ڈھونگ آخر کس کے لیے رچایا جاتا ہے؟

معاشرے کے ضمیر سے: جب ایک محنتی اور غریب طالب علم امتحان گاہ سے باہر نکل کر معلوم کرتا ہے کہ اس کا مستقبل لکھنے سے پہلے ہی بک چکا تھا، اور وہ مایوسی میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے—تو ہم اسے ایک خودکشی کہیں گے، یا اس کرپٹ تعلیمی نظام کے ہاتھوں ایک اعلانیہ قتل؟

پیپر خریدنے والے امیر ڈاکٹروں اور سرمایہ داروں سے: جب آپ کے بچے چوری کے پیپرز اور بیساکھیوں کے سہارے ڈاکٹر بنیں گے، تو وہ کل ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج کریں گے یا انسانی جانوں کا سودا کر کے اس چوری کی قیمت وصول کریں گے؟

اگر اس ملک میں ایک غریب کا بچہ اپنی قابلیت، دن رات کی محنت اور ایمانداری کے بل بوتے پر ایک معزز پیشہ اختیار نہیں کر سکتا، تو پھر یہ “برابری اور میرٹ” کا آئینی وعدہ صرف کتابوں کی زینت کیوں ہے؟
کیا اب قابلیت کا معیار صرف اور صرف بینک بیلنس رہ گیا ہے؟

— ڈاکٹر اسداللہ خان، ممبئی

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *