Urdu

دیوار اور سائبان

ہندوستانی گھرانوں میں تربیتِ اولاد کے طریقے، اُن کے اثرات اور اصلاح کی راہیں ڈاکٹر اسد اللہ خان ایک ہی گلی ہے اور دو گھر۔ دونوں کے بچے ایک ہی اسکول سے ایک ہی خبر لے کر لوٹے ہیں: ریاضی کے پرچے میں ناکامی۔ پہلے گھر کا دروازہ کھلتے ہی آواز بلند ہوتی ہے، طعنوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے، اور بچہ کاپی سینے سے چھپائے دیوار سے لگ جاتا ہے۔ دوسرے گھر میں باپ پرچہ ہاتھ میں لیتا ہے، بیٹے کو پاس بٹھاتا ہے اور دھیمے لہجے میں صرف اتنا پوچھتا ہے: “یہ سوال تمھیں مشکل کیوں لگا؟” دس برس بعد پہلا بچہ جھوٹ بولنے میں طاق ہو چکا ہوگا اور دوسرا سوال کرنے میں۔ فرق پرچے کا نہ تھا، فرق تربیت کا تھا۔ چالیس برس تک درس گاہوں میں بچوں کو پڑھتے، بگڑتے اور سنورتے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ایوانوں میں نہیں، دسترخوانوں پر ہوتے ہیں۔ اسکول بعد میں آتا ہے، گھر پہلے آتا ہے؛ استاد بعد میں ملتا ہے، ماں باپ پہلے ملتے ہیں۔ اور جو سبق گھر کی دہلیز پر پڑھا دیا جائے، دنیا کی کوئی جماعت اسے آسانی سے مٹا نہیں سکتی۔ عام گفتگو میں تربیت کا مطلب کھلانا پلانا، فیس بھرنا اور شادی تک پہنچا دینا سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ پرورش جسم کی خدمت ہے اور تربیت شخصیت کی تعمیر۔ ماہرینِ نفسیات نے اس تعمیر کو دو ستونوں پر کھڑا دیکھا ہے۔ پہلا ستون شفقت ہے: بچے کی بات سننا، اس کے جذبات کو وزن دینا، اس کی پکار پر لبیک کہنا۔ دوسرا ستون نظم ہے: حد مقرر کرنا، توقع رکھنا اور اصول پر قائم رہنا۔ انہی دو ستونوں کے اتار چڑھاؤ سے تربیت کے سارے رنگ بنتے ہیں۔ جہاں دونوں موجود ہوں وہاں شخصیت بنتی ہے؛ جہاں ایک ہو اور دوسرا غائب، وہاں شخصیت لنگڑاتی ہے؛ اور جہاں دونوں مفقود ہوں وہاں بچہ پلتا ضرور ہے، بنتا نہیں۔ گزشتہ صدی کے وسط میں امریکی ماہرِ نفسیات ڈایانا بومرینڈ نے والدین کے رویوں کا منظم مطالعہ کر کے تین طرزیں متعین کیں، جن میں بعد کے محققین میکوبی اور مارٹن نے چوتھی کا اضافہ کیا۔ آج دنیا بھر کی تعلیمی اور نفسیاتی تحقیق انہی چار خانوں کو بنیاد بناتی ہے۔ میں انھیں چار استعاروں میں دیکھتا ہوں۔ پہلی طرز دیوار ہے، جسے علمی زبان میں آمرانہ تربیت کہتے ہیں۔ حکم اونچا، شفقت خاموش۔ بچے سے توقعات آسمان چھوتی ہیں مگر مکالمے کا دروازہ بند رہتا ہے۔ “کیوں” پوچھنا گستاخی ہے، اختلاف بغاوت ہے، اور خاموش تعمیل ہی واحد قابلِ قبول جواب۔ دوسری طرز سائبان ہے: مشفقانہ مگر بااصول تربیت۔ یہاں اصول اتنے ہی پختہ ہیں مگر ان کے ساتھ وجہ بھی بتائی جاتی ہے، بچے کی رائے سنی جاتی ہے، اور حد سے تجاوز پر گرفت محبت کے لہجے میں ہوتی ہے۔ سائبان دھوپ روکتا ہے، روشنی نہیں روکتا۔ تیسری طرز کھلا آسمان ہے: بے قید لاڈ، جسے تحقیق کی اصطلاح میں متساہل تربیت کہا جاتا ہے۔ محبت بے حساب، اصول ندارد۔ بچہ جو مانگے حاضر، جو کرے معاف۔ بظاہر یہ آزادی ہے، درحقیقت بے سائبانی ہے، کیونکہ کھلے آسمان تلے دھوپ بھی سیدھی پڑتی ہے اور بارش بھی۔ چوتھی طرز ویرانہ ہے: غفلت شعار تربیت۔ نہ شفقت نہ نظم؛ ماں باپ موجود ہیں مگر حاضر نہیں۔ روٹی کپڑے کا انتظام ہے، دل کا کوئی انتظام نہیں۔ یہ چاروں راستے ایک ہی دہلیز سے نکلتے ہیں مگر چار مختلف انسانوں تک پہنچتے ہیں۔ ہندوستان کی روایتی تربیت صدیوں سے بزرگوں کے ادب، خاموش اطاعت اور خاندان کے اجتماعی فیصلوں پر قائم رہی ہے۔ اس نظام کی اپنی برکتیں تھیں: رشتوں کی گرمی، بزرگوں کا سایہ، مشترکہ خاندان کی وہ درس گاہ جہاں دادی کی کہانی اور چچا کی نگرانی مفت میسر تھی۔ مگر اسی نظام کے پہلو میں ایک سخت سچائی بھی چھپی رہی: بچے کی رائے کو رائے سمجھا ہی نہیں گیا۔ تحقیق اس تاثر کی تصدیق کرتی ہے۔ جنوبی ہندوستان کے دیہی سرکاری اسکولوں کے ساڑھے چار سو کے قریب نوعمر طلبہ پر کیے گئے ایک مطالعے میں آمرانہ طرز سب سے زیادہ رائج پائی گئی، اگرچہ مشفقانہ بااصول طرز اس سے کچھ ہی پیچھے تھی۔ کیرالا کے ایک ضلعی مطالعے نے یہ اضافہ کیا کہ جن گھروں میں ماں باپ دونوں موجود ہوں اور وسائل نسبتاً بہتر ہوں وہاں مکالمے والی تربیت زیادہ ملتی ہے، جبکہ تنگ دستی اور تنہا والدین کے گھروں میں سختی کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ گویا آمریت ہمیشہ مزاج نہیں ہوتی، اکثر مجبوری بھی ہوتی ہے: تھکے ہوئے والدین کے پاس مکالمے کا وقت نہیں بچتا، صرف حکم کی طاقت بچتی ہے۔ مگر تصویر بدل رہی ہے، اور جس رخ پر بدل رہی ہے وہ اطمینان سے زیادہ فکر کا مقام ہے۔ شہری متوسط گھرانوں کے حالیہ مشاہدات بتاتے ہیں کہ نئی نسل کے والدین میں بے قید لاڈ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جس معاشرے نے کل بچے کی زبان بند رکھی تھی، وہ آج اس کی ہر ضد کے آگے ہتھیار ڈال رہا ہے۔ دیوار گری تو اس کی جگہ سائبان تعمیر نہ ہوا؛ سیدھا کھلا آسمان آ گیا۔ ایک انتہا کا ردِعمل دوسری انتہا بن گیا، اور اعتدال دونوں زمانوں میں اجنبی رہا۔ مسلم معاشرے کا منظر اس عمومی تصویر سے الگ نہیں، مگر اس میں دو رنگ زیادہ گہرے ہیں۔ ہمارے ہاں بڑے پیمانے کی مستند تحقیق کم ہوئی ہے، لیکن دستیاب مطالعات اور میرا چار دہائیوں کا مشاہدہ ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں: ہمارے گھروں میں بالعموم دو انتہائیں ساتھ ساتھ آباد ہیں۔ ایک طرف وہ آمریت ہے جس نے دین جیسے لطیف موضوع کو بھی حکم کے لہجے میں ڈھال دیا۔ نماز ڈانٹ کر پڑھوائی جاتی ہے، قرآن خوف کے سائے میں یاد کرایا جاتا ہے، اور حیا سمجھانے کے بجائے تھوپ دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ عبادت جسم پر نافذ ہو جاتی ہے، دل میں نہیں اترتی؛ اور گھر کی نگرانی ختم ہوتے ہی وہ فرائض بھی رخصت ہو جاتے ہیں جو صرف نگرانی کے دم سے قائم تھے۔ دوسری طرف وہ غفلت آمیز لاڈ ہے جو خاص طور پر بیٹوں کے حصے میں آتا ہے: بیٹی پر ضابطے سخت، بیٹے پر سب

دیوار اور سائبان Read More »

قحطِ معلّم

تدریس کے مسائل، خواتین اساتذہ کی مشکلات اور اچھے استاد کی نایابی — ایک نوحہ بھی، ایک نسخہ بھی ڈاکٹر اسد اللہ خان کسی درسگاہ کی سب سے قیمتی چیز اس کی عمارت نہیں ہوتی، نہ اس کا کتب خانہ، نہ تجربہ گاہ، نہ کمپیوٹر سے سجا ہوا کمرہ۔ سب سے قیمتی چیز وہ انسان ہوتا ہے جو صبح کی گھنٹی بجتے ہی جماعت میں داخل ہوتا ہے اور جس کے علم، لہجے اور کردار سے ایک پوری نسل کی صورت گری ہوتی ہے۔ عمارت میں دراڑ آ جائے تو مرمت ممکن ہے؛ استاد کے معیار میں دراڑ آ جائے تو اس کی مرمت پر پوری قوم کی کئی دہائیاں صرف ہو جاتی ہیں۔ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ درس و تدریس اور ادارہ سازی میں گزارنے کے بعد میں پورے اطمینان سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا اصل بحران وسائل کا نہیں، انسانوں کا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار ہر سال نئے اسکولوں، نئی عمارتوں اور نئے کمپیوٹروں کی خوش خبری سناتے ہیں، مگر جماعت کے کمرے میں کھڑے اس شخص کے بارے میں خاموش رہتے ہیں جس کے بغیر یہ ساری چیزیں بے جان ڈھانچے سے زیادہ کچھ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے پاس اسکول بہت ہیں، استاد کم ہیں؛ اور استاد مل بھی جائیں تو اچھا استاد نایاب ہے۔ تدریس محض معلومات کی منتقلی کا نام نہیں۔ اگر معلومات پہنچا دینا ہی تدریس ہوتی تو کتاب، ریڈیو اور اسکرین کب کے استاد کی جگہ لے چکے ہوتے۔ تدریس دراصل ایک ذہن کا دوسرے ذہن کو جگانے کا عمل ہے؛ ایک ایسا شعوری، منظم اور بامقصد فن جس میں معلم اپنے علم، اپنی شخصیت اور اپنے طریقِ کار کے ذریعے متعلم کے اندر سمجھنے، سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت بیدار کرتا ہے۔ تعلیم ایک وسیع سمندر ہے جو گھر، معاشرے اور تجربے سے بھی حاصل ہوتی ہے، مگر تدریس اس سمندر میں چلنے والی وہ کشتی ہے جسے ایک تربیت یافتہ ناخدا سمت دیتا ہے۔ اسی لیے تدریس بیک وقت سائنس بھی ہے اور فن بھی۔ سائنس اس لیے کہ اس کے پیچھے نفسیات، عمرانیات اور علمِ تعلیم کے مسلمہ اصول کام کرتے ہیں؛ فن اس لیے کہ ان اصولوں کو ہر بچے کے مزاج، ماحول اور استعداد کے مطابق برتنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ اور اس کی اہمیت کا اندازہ صرف ایک جملے سے کر لیجیے: دنیا کا ہر پیشہ اپنے ماہرین خود پیدا نہیں کرتا؛ سب کے ماہرین استاد پیدا کرتا ہے۔ طبیب، مہندس، منصف، سپاہی اور خود معلم — ہر ایک کسی نہ کسی جماعت کے کمرے سے گزر کر ہی وہاں تک پہنچا ہے جہاں وہ آج کھڑا ہے۔ ماہرینِ تعلیم نے تدریس کے کئی طریقے متعین کیے ہیں، اور ہر طریقہ دراصل اس سوال کا جواب ہے کہ جماعت کے کمرے کا مرکز کون ہو — استاد یا بچہ؟ خطابتی یا لکچر طریقہ سب سے قدیم ہے: استاد بولتا ہے، طلبہ سنتے ہیں۔ رٹنے پر مبنی طریقہ اس سے ایک قدم آگے کی پستی ہے: طلبہ سنتے بھی نہیں، صرف یاد کرتے ہیں اور امتحان کے پرچے پر انڈیل کر بھول جاتے ہیں۔ ان کے مقابل سوال و جواب کا استفہامی طریقہ ہے، جس کی جڑیں سقراط کے مکالموں اور ہماری اپنی درس گاہوں کی صحبتوں تک جاتی ہیں؛ سرگرمی پر مبنی طریقہ ہے، جس میں بچہ کر کے سیکھتا ہے؛ انکشافی اور تعمیری طریقہ ہے، جس میں علم بچے کو تھمایا نہیں جاتا بلکہ اس کے اندر تعمیر ہونے دیا جاتا ہے؛ باہمی تعاون کا طریقہ ہے، جس میں طلبہ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں؛ اور اب ٹیکنالوجی سے مربوط مخلوط تدریس ہے، جس میں اسکرین معاون ہے، متبادل نہیں۔ان طریقوں میں کوئی مطلقاً اچھا یا برا نہیں؛ اچھا استاد وہ ہے جو موقع، مضمون اور بچے کو دیکھ کر طریقہ بدلنا جانتا ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پورا نظام برسہا برس صرف ایک ہی طریقے پر جم جائے — اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی ہوا ہے۔ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ رائج طریقہ آج بھی خطابت اور رٹنے کا وہی پرانا امتزاج ہے: استاد لکھواتا ہے، بچہ اتارتا ہے، امتحان یادداشت کو تولتا ہے اور نتیجہ فہم کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے استعداد پر مبنی تعلیم کے خواب دکھائے ہیں، نصابی دستاویزات میں تعمیری اور سرگرمی پر مبنی تدریس کے الفاظ جگمگاتے ہیں، مگر جماعت کے کمرے کی زمینی حقیقت اب بھی تختۂ سیاہ، املا اور نقل کے مثلث میں قید ہے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ہمارے ہاں پالیسی اکیسویں صدی میں پہنچ گئی ہے اور تدریس انیسویں صدی میں ٹھہری ہوئی ہے۔ مہاراشٹر بھی اس عمومی تصویر سے مختلف نہیں۔ ریاست نے سرگرمی پر مبنی تعلیم اور تعمیری طریقِ تدریس کے سرکاری منصوبے ضرور اپنائے ہیں، مگر بھری ہوئی جماعتیں، اساتذہ کی کمی اور امتحانی دباؤ اسے عملاً وہیں لے آتے ہیں جہاں سے چلی تھی۔ خود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے اعلیٰ ثانوی درجات میں ایک ایک استاد کے حصے میں اوسطاً سینتیس طلبہ آتے ہیں، جبکہ قومی تعلیمی پالیسی زیادہ سے زیادہ تیس کی حد مقرر کرتی ہے۔ جس کمرے میں پچاس ساٹھ بچے بیٹھے ہوں وہاں دنیا کا بہترین تربیت یافتہ استاد بھی سرگرمی نہیں کرا سکتا؛ وہ صرف آواز بلند کر سکتا ہے۔ رٹنے کا طریقہ ہماری پسند نہیں، ہماری مجبوریوں کا حاصل ہے — اور یہی اس کا سب سے خطرناک پہلو ہے، کیونکہ مجبوری رفتہ رفتہ عادت بن جاتی ہے اور عادت عقیدہ۔ تازہ ترین سرکاری جائزے (یوڈائس پلس 2024ء-25ء) کے مطابق ملک میں اساتذہ کی تعداد پہلی بار ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند سنگِ میل ہے، مگر اسی برس پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً دس لاکھ تدریسی اسامیاں خالی پڑی ہیں، جن میں ساڑھے سات لاکھ اسامیاں ابتدائی درجات کی ہیں — یعنی عین اس مرحلے کی، جہاں بچہ پڑھنا لکھنا اور گننا سیکھتا ہے۔ اٹھارہ ریاستوں کے اپنے فراہم کردہ اعداد کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے زائد منظور شدہ اسامیوں پر تقرری ہی نہیں ہوئی۔ اور المیہ صرف دیہی یا

قحطِ معلّم Read More »

ایک چھت، کئی جزیرے

آج کا بچہ کمزور نہیں، تنہا ہو گیا ہے ڈاکٹر اسد اللہ خان بعض حادثے کسی ایک دن پیش نہیں آتے؛ وہ برسوں خاموشی سے جنم لیتے ہیں۔ ان کی کوئی آواز نہیں ہوتی، کوئی دھماکہ نہیں ہوتا، کوئی اخبار انہیں سرخی نہیں بناتا۔ وہ آہستہ آہستہ گھروں کے در و دیوار میں اترتے ہیں، گفتگو کے وقفوں میں بسیرا کرتے ہیں، رشتوں کے بیچ خاموش فاصلے بچھاتے ہیں اور ایک دن اچانک ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم زندگی سمجھتے رہے، اس کی روح کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ انسانی تہذیب کی سب سے پہلی درسگاہ کوئی مدرسہ، کوئی مکتب، کوئی جامعہ نہیں تھی؛ ایک گھر تھا۔ پہلی کتاب ماں کا چہرہ تھی، پہلا سبق باپ کی انگلی، پہلی لائبریری بزرگوں کی یادداشت، پہلی درسگاہ آنگن، اور پہلا نصاب محبت۔ زبان بولنے سے پہلے بچہ لہجوں کو پڑھتا ہے، الفاظ سمجھنے سے پہلے نگاہوں کی گرمی محسوس کرتا ہے، اور تعلیم شروع ہونے سے بہت پہلے تعلقات کی زبان سیکھ لیتا ہے۔ اسی لیے ہر تہذیب کی اصل تعمیر اینٹ اور پتھر سے نہیں، گھروں کی خاموش تربیت سے ہوتی ہے۔ مگر تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں ٹوٹتیں؛ کبھی کبھی وہ آسائشوں کے بوجھ تلے بھی بکھر جاتی ہیں۔ ہم نے اپنے شہروں کو بلند کیا، مگر اپنے آنگن چھوٹے کر دیے۔ ہم نے رفتار کو ترقی کا دوسرا نام دے دیا، یہاں تک کہ فرصت ہمیں ناکامی محسوس ہونے لگی۔ ہم نے رابطوں کی بے شمار راہیں کھولیں، مگر ملاقات کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہوتے گئے۔ فاصلے کم ہوتے گئے، قربتیں گھٹتی گئیں۔ آوازیں بڑھتی گئیں، گفتگو کم ہوتی گئی۔ روشنی زیادہ ہوئی، مگر چہروں کی شناسائی مدھم پڑ گئی۔ شام کا ایک منظر دیکھیے۔ ایک گھر ہے۔ دروازہ کھلا ہے، روشنی جل رہی ہے، باورچی خانے سے کھانے کی خوشبو آ رہی ہے، دیوار پر گھڑی اپنی رفتار سے چل رہی ہے، سب افراد اپنی اپنی جگہ موجود ہیں، مگر گھر کے اندر ایک عجیب قسم کی خاموشی ہے؛ ایسی خاموشی جس میں اختلاف نہیں، لیکن اشتراک بھی نہیں۔ والد اپنے سامنے کھلے ہوئے لیپ ٹاپ پر جھکے ہیں۔ دنیا کے کئی شہروں سے ای میلیں آ رہی ہیں، مگر ان کے برابر بیٹھا بیٹا آج اسکول میں پیش آنے والا ایک واقعہ سنانے کے لیے مناسب لمحہ تلاش کرتے کرتے خاموش ہو چکا ہے۔ والدہ ایک مختصر ویڈیو سے دوسری مختصر ویڈیو تک سفر کر رہی ہیں۔ دنیا بھر کے چہروں سے وہ واقف ہیں، مگر شاید انہیں یہ خبر نہیں کہ ان کی بیٹی کی مسکراہٹ پچھلے چند ہفتوں سے پہلے جیسی نہیں رہی۔ بڑا بیٹا کانوں میں ہیڈفون لگائے ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں ہزاروں آوازیں ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی اس کا نام لے کر اسے نہیں پکارتا۔ سب سے چھوٹا بچہ فرش پر بیٹھا اپنی ننھی انگلیوں سے اسکرین پر ایک مجازی دنیا تعمیر کر رہا ہے۔ وہ جیت بھی رہا ہے، ہار بھی رہا ہے، خوش بھی ہو رہا ہے، ناراض بھی، مگر اس کے ہر جذبے کا گواہ ایک الگورتھم ہے، انسان نہیں۔ یہ منظر کسی ایک گھر کا نہیں۔ یہ ہمارے عہد کا اجتماعی پورٹریٹ ہے۔ کمرہ ایک ہے۔ چھت ایک ہے۔ دسترخوان ایک ہے۔ خاندان ایک ہے۔ مگر ہر فرد اپنی اپنی اسکرین کی روشنی میں ایک الگ جزیرہ بن چکا ہے۔ درمیان میں ایک خاموش سمندر ہے۔ اس سمندر پر کبھی مکالمے کی کشتیاں چلتی تھیں۔ اب نوٹیفکیشن کی لہریں ہیں، مگر آوازِ دل کا کوئی ملاح نہیں۔ پھر یہی معاشرہ، جو اس خاموش تبدیلی کا برسوں سے خاموش تماشائی رہا، اچانک ایک دن عدالت لگا لیتا ہے۔ فیصلہ سنایا جاتا ہے: “آج کا بچہ ضدی ہے۔” “آج کا بچہ بے صبر ہے۔” “آج کا بچہ موبائل کا عادی ہے۔” “آج کا بچہ کتاب سے دور ہو گیا ہے۔” فیصلہ سنانے میں ہم نے کبھی دیر نہیں کی۔ دیر ہمیشہ اس سوال میں ہوئی جو ہر فیصلے سے پہلے پوچھا جانا چاہیے تھا: یہ سب ہوا کیوں؟ یہ مضمون اسی سوال کی تلاش ہے۔ یہ کسی بچے کے خلاف فردِ جرم نہیں۔ یہ موبائل کے خلاف اعلانِ جنگ بھی نہیں۔ یہ والدین، اساتذہ یا اسکولوں کے خلاف نوحہ بھی نہیں۔ یہ ہماری پوری تہذیب کے سامنے رکھا ہوا ایک آئینہ ہے۔ آئینہ الزام نہیں دیتا۔ وہ صرف چہرہ دکھاتا ہے۔ اگر چہرے پر گرد ہو تو قصور آئینے کا نہیں ہوتا۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم پہلی مرتبہ اپنے بچوں کو نہیں، اپنے آپ کو دیکھیں۔ کیونکہ تاریخ کا ایک بے رحم اصول ہے: ہر نسل اپنی اولاد کو صرف جائیداد، عمارتیں اور ڈگریاں ورثے میں نہیں دیتی؛ وہ اپنا طرزِ احساس بھی منتقل کرتی ہے۔اگر ایک نسل سننا چھوڑ دے تو اگلی نسل بولنا چھوڑ دیتی ہے۔ اگر ایک نسل مکالمہ بھول جائے تو اگلی نسل خاموشی کو زبان بنا لیتی ہے۔ اور اگر ایک نسل محبت کے اظہار کو مؤخر کرتی رہے تو اگلی نسل تعلقات پر یقین کھونے لگتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے اس مضمون کا سفر شروع ہوتا ہے۔ ایک بچے سے نہیں؛ ایک گھر سے۔ اور ایک ایسے سوال سے، جس کا جواب شاید ہمارے زمانے کی سب سے بڑی تعلیمی، سماجی اور اخلاقی ضرورت بن چکا ہے: آخر آج کا بچہ واقعی کمزور ہوا ہے… یا ہم نے اسے تنہا چھوڑ دیا ہے؟ دنیا کی ہر عدالت میں فیصلہ سنانے سے پہلے ایک اصول ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ الزام لگانے والے سے پوچھا جاتا ہے کہ اس کے پاس ثبوت کیا ہے، گواہ کون ہے، اور کیا اس نے مقدمے کا دوسرا رخ بھی سنا ہے؟ لیکن عجیب بات ہے کہ جب معاملہ بچوں کا آتا ہے تو ہم اس بنیادی انصاف کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ یہاں فیصلہ پہلے لکھا جاتا ہے، سماعت بعد میں ہوتی ہے، اور اکثر تو سماعت ہوتی ہی نہیں۔ ہم کہتے ہیں: “آج کا بچہ بدل گیا ہے۔” یہ جملہ جتنا مختصر ہے، اتنا ہی خطرناک بھی۔ اس لیے نہیں کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ پوری حقیقت نہیں۔ ہر تبدیلی کی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ کوئی درخت ایک رات میں خشک نہیں ہوتا، کوئی دریا

ایک چھت، کئی جزیرے Read More »

اُستاد — قوم کی روح، نسلوں کا معمار

اُستاد — قوم کی روح، نسلوں کا معمار نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی صورتِ حال ڈاکٹر اسد اللہ خان زمین کے سینے میں بیج بونے والے کا نام کوئی نہیں جانتا — مگر جب شجر پھل لاتا ہے تو سارا جہان اُسے سراہتا ہے۔ استاد کا مقام بھی ایسا ہی ہے۔ وہ نسلوں کو سیراب کرتا ہے، لیکن اُس کی پیاس کو کوئی نہیں پوچھتا۔ وہ آنے والوں کے لیے راستے روشن کرتا ہے، لیکن اپنی راہ میں خود اندھیرا سہتا ہے۔ میں نے چار دہائیوں سے زائد عرصے میں تعلیم کے اُس چہرے کو دیکھا ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ وہ چہرہ جو اعلانیہ بیانات کی پیچھے چھپ جاتا ہے، جو سرکاری اعداد و شمار کے خانوں میں سما نہیں پاتا، جو سیاست کے گلیاروں میں نہیں بلکہ کلاس روم کی تنگ دیواروں کے درمیان زندہ ہے۔ یہ چہرہ استاد کا ہے — ہندوستان کے اُس استاد کا جو ہر صبح ایک نئی اُمید لے کر اسکول جاتا ہے اور ہر شام خاموش تھکاوٹ لے کر لوٹتا ہے۔ یہ مضمون کسی خاص ادارے کی شکایت نہیں، کسی فرد کی مذمت نہیں، کسی نظریاتی سیاست کا حصہ نہیں۔ یہ اُس تعلیمی ضمیر کی آواز ہے جو برسوں سے سوچتا آیا ہے: کیا ہم واقعی اپنے اساتذہ کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا وہ تعلیم جو ہم دیتے ہیں، پہلے خود اُن پر لاگو ہوتی ہے جو اسے دیتے ہیں؟ استاد کی آواز دبانا صرف ایک انسان کو خاموش کرنا نہیں — یہ آنے والی ہزار نسلوں کے حق کو غصب کرنا ہے۔ ہندوستان کی تعلیمی تاریخ میں نجی اداروں کا کردار ہمیشہ سے دو رُخا رہا ہے۔ ایک طرف وہ اداروں نے ہیں جنہوں نے سرکاری نظام کی خامیوں کو پُر کیا، غریب بستیوں میں علم کی شمعیں جلائیں، اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں میں معیاری تعلیم کو عام کیا۔ دوسری طرف وہ رجحانات ہیں جنہوں نے تعلیم کو ایک تجارتی منصوبے میں ڈھال لیا، جہاں اسکول کی عمارتیں بڑھتی رہیں، فیسوں کے بورڈ چمکتے رہے، لیکن اُن دیواروں کے اندر کام کرنے والا استاد کھوکھلا ہوتا رہا۔ اے ایس ای آر رپورٹ ۲۰۲۳ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں پانچویں جماعت کے چالیس فیصد سے زائد بچے دوسری جماعت کی کتاب نہیں پڑھ پاتے۔ یہ اعداد ہمیں چونکاتے ہیں — مگر ہم کم ہی یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ استاد جسے تعلیم دینی ہے، خود کس حال میں ہے- رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ جن ممالک میں اساتذہ کو پیشہ ورانہ آزادی اور ادارتی احترام ملتا ہے، وہاں طلبہ کی کارکردگی خود بخود بلند ہو جاتی ہے۔ لیکن جہاں استاد محض ایک مزدور کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے، وہاں تعلیم کا معیار بھی اُسی کی اُجرت جتنا گر جاتا ہے۔ UDISE+ کے اعداد کے مطابق ہندوستان میں نجی اسکولوں کی تعداد میں گزشتہ دہائی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اسی تناسب سے اساتذہ کی تنخواہوں، تحفظِ ملازمت اور پیشہ ورانہ کیفیت میں بہتری نہیں آئی۔ یہ وہ ناہمواری ہے جو نظامِ تعلیم کو بنیادی سطح پر کمزور کر رہی ہے۔جب نجی تعلیم کی عمارتیں اونچی ہوتی جائیں اور استاد کی قدر پست ہوتی جائے — تو وہ عمارتیں صرف دیواریں ہیں، درسگاہیں نہیں۔ سب سے پہلی اور سب سے گہری بیماری یہ ہے کہ بہت سے نجی ادارے تعلیم کو سیوا نہیں، سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ منافع کو علم پر مقدم رکھے، تو اُس کا پہلا شکار استاد ہوتا ہے۔ تنخواہ کم سے کم رکھی جاتی ہے، آواز دبائی جاتی ہے، اور جب تک استاد فرمانبردار رہے — وہ ”قابل” ہے، جب وہ سوچنے لگے — وہ ”مسئلہ” بن جاتا ہے۔ یہ ذہنیت اُس تاریخی غلطی کا تسلسل ہے جسے فیلسوفِ تعلیم جان ڈیوی نے ”علم کی بازاری” کہا تھا۔ جب ہم دنیا بھر میں تعلیم کے لئے نطر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ فن لینڈ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ استاد کو سب سے پہلے ماننا پڑتا ہے۔ وہاں نصاب سازی میں استاد کی رائے حتمی ہوتی ہے، پالیسی میں اُس کا تجربہ بنیاد بنتا ہے۔ اور نتیجہ؟ فن لینڈ کا تعلیمی نظام برسوں سے عالمی درجہ بندی میں سرِ فہرست ہے۔ ہمارے یہاں حال یہ ہے کہ جو روزانہ چالیس چالیس بچوں کے درمیان بیٹھتا ہے، اُس سے ایک پالیسی نہیں پوچھی جاتی۔ فیصلے وہ کرتے ہیں جنہوں نے سالوں سے کوئی کلاس روم نہیں دیکھا۔ رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ نے بچوں کے حقوق کی ضمانت دی — ایک تاریخی قدم۔ لیکن اُس ایکٹ میں وہ استاد گم ہو گیا جس کے بغیر یہ حق کھوکھلا ہے۔ نجی اسکولوں میں کام کرنے والے لاکھوں اساتذہ کے لیے من مانی برخواستگی کے خلاف کوئی مؤثر قانونی ڈھال نہیں۔ یہ خلاء ادارہ داروں کو لامحدود اختیار دیتا ہے اور استاد کو ایک ایسے جزیرے پر چھوڑتا ہے جہاں کوئی مددگار ساحل نہیں۔ دوسری طرف ایک اور المیہ ہے جو کم ظاہر مگر کم تکلیف دہ نہیں — غیرتدریسی بوجھ کا وہ پہاڑ جو آج کے استاد کے کندھوں پر لاد دیا گیا ہے۔ آج کا استاد درس گاہ میں کھڑا ضرور ہے، مگر اُس کا ذہن، اُس کا وقت اور اُس کی توانائی کلاس روم میں نہیں — کاغذوں، اسکرینوں اور سرکاری خانوں میں بکھری ہوئی ہے۔ UDISE+ کا ڈیٹا، مِڈ ڈے میل کا حساب کتاب، ڈیجیٹل حاضری کا اندراج، سرکاری اسکیموں کی نگرانی، والدین کی شکایات کا ازالہ، حکومتی مہمات میں لازمی شرکت — یہ سب ذمہ داریاں اُسی ایک انسان سے وصول کی جاتی ہیں جس سے بیک وقت یہ توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ اُس کے تدریسی نتائج سو فیصد ہوں، ہر بچہ سیکھے، کوئی پیچھے نہ رہے۔ یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے — کہ ایک ہی انسان سے وہ سب مانگا جائے جو پوری ایک ٹیم کے بس کا کام ہے؟یہ تعلیم کے مقاصد کے ساتھ بھی گہرا مذاق ہے۔استاد پر غیرتدریسی بوجھ ڈالنا ایسا ہی ہے جیسے جراح سے آپریشن کے ساتھ ساتھ ہسپتال کی صفائی بھی مانگی جائے. انسانی نفسیات ایک بنیادی سچائی پر قائم ہے: جب کوئی شخص اپنی آواز سے محروم کر دیا جائے، تو وہ صرف خاموش نہیں ہوتا — وہ

اُستاد — قوم کی روح، نسلوں کا معمار Read More »

گھر کا آنگن — شخصیت کی پہلی درس گاہ

گھر کا آنگن — شخصیت کی پہلی درس گاہ پُرسکون گھر بچے کے اعتماد، کردار اور تعلیمی کامیابی کی اصل بنیاد کیوں ہے؟ ڈاکٹر اسد اللہ خان بچہ اسکول بعد میں داخل ہوتا ہے، تربیت پہلے پا چکا ہوتا ہے۔ دنیا کی قدیم ترین درس گاہ وہ ہے جس کا نہ کوئی نصاب ہے، نہ گھنٹی، نہ داخلہ فارم، نہ سالانہ امتحان؛ مگر اس کے پڑھائے ہوئے سبق عمر بھر ساتھ چلتے ہیں۔ اس درس گاہ کا نام گھر ہے۔ ماں کی گود اس کی پہلی جماعت ہے، باپ کا رویہ اس کا نصاب، دسترخوان اس کی تجربہ گاہ، اور گھر کی فضا وہ ان لکھی کتاب جسے بچہ پڑھتا نہیں، جیتا ہے۔ ہم اسکول بدلتے ہیں، ٹیوشن بڑھاتے ہیں، نصاب پر بحث کرتے ہیں اور فیسوں کا موازنہ کرتے ہیں؛ مگر جس چار دیواری میں بچہ اپنی عمر کا سب سے بڑا حصہ گزارتا ہے، اس کی فضا پر غور کرنے کی زحمت کم ہی اٹھاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کا بچہ کس اسکول میں پڑھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کا گھر اسے کیا پڑھا رہا ہے؟ ’’بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم انہیں سکھاتے ہیں؛ وہ سیکھتے ہیں جو ہم ان کے سامنے جی کر دکھاتے ہیں۔‘‘ گزشتہ نصف صدی میں تعلیم پر جتنی گفتگو ہوئی، اس کا مرکز و محور اسکول رہا۔ عمارتیں، بورڈ، نتائج، درجہ بندیاں، سمارٹ کلاسیں — گویا بچے کی تقدیر کا سارا فیصلہ صبح آٹھ سے دوپہر تین بجے کے درمیان ہوتا ہے۔ مگر تعلیمی تحقیق کی دنیا اس مفروضے کو کب کی رد کر چکی ہے۔ امریکہ میں ۱۹۶۶ء کی مشہور کولمین رپورٹ نے، جو ہزاروں اسکولوں اور لاکھوں طلبہ کے مطالعے پر مبنی تھی، یہ چونکا دینے والا نتیجہ پیش کیا کہ بچے کی تعلیمی کارکردگی پر اس کے خاندانی پس منظر کا اثر اسکول کے وسائل سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرِ نفسیات یوری برونفن برینر نے اپنے معروف ماحولیاتی نظریے میں بچے کو دائروں کے مرکز میں رکھا: سب سے اندرونی اور سب سے طاقت ور دائرہ خاندان ہے؛ اسکول، محلہ اور معاشرہ بعد کے حلقے ہیں۔ گویا بچہ اسکول کی پیداوار نہیں، گھر کی تخلیق ہے؛ اسکول تو اس تخلیق کو تراشتا بھر ہے۔ جس بنیاد پر عمارت کھڑی ہونی ہے، وہ بنیاد گھر کے آنگن میں رکھی جاتی ہے۔ پھر یہ غفلت پیدا کیسے ہوئی کہ ہم نے تربیت کا سارا بوجھ اسکول کے کندھوں پر ڈال دیا؟ اس کی پہلی جڑ وہ خاموش مفروضہ ہے جو ہمارے ذہنوں میں بیٹھ گیا: تعلیم ایک خدمت ہے جو خریدی جا سکتی ہے۔ جب والدین فیس ادا کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کردار سازی کی ذمے داری بھی اسی رسید میں شامل ہے۔ دوسری جڑ معاشی دباؤ ہے: روزگار کی دوڑ نے گھروں سے فرصت چھین لی، اور فرصت کے بغیر تربیت ممکن نہیں، کیونکہ تربیت لمحوں میں نہیں، رفاقت میں ہوتی ہے۔ تیسری جڑ خاندانی ڈھانچے کی تبدیلی ہے۔ مشترکہ خاندان اپنی تمام خامیوں کے باوجود بچے کو رشتوں کی ایک پوری کائنات دیتا تھا: دادی کی کہانی، چچا کی شفقت، بہن بھائیوں کی رفاقت۔ سمٹتے ہوئے گھرانوں میں بچہ اکثر دو مصروف بڑوں اور ایک روشن اسکرین کے حوالے ہے۔ اور چوتھی جڑ سب سے نازک ہے: ہم نے گھر کو رہنے کی جگہ تو رکھا، جینے کی جگہ نہیں رہنے دیا۔ جہاں مکین ایک چھت تلے الگ الگ دنیاؤں میں بستے ہوں، وہ عمارت مکان تو ہے، گھر نہیں۔ جب استاد کی نگاہ جماعت پر پڑتی ہے تو اسے صرف چہرے نہیں، گھروں کے موسم دکھائی دیتے ہیں۔ ہر بچہ اپنے بستے کے ساتھ ایک اَن دیکھا بوجھ بھی اٹھائے آتا ہے وہ اپنے گھر کی فضا بھی ساتھ لاتا ہے۔ جس بچے نے رات گھر میں تکرار سنی ہو، وہ صبح سبق پر توجہ نہیں دے سکتا، خواہ استاد کتنا ہی ماہر ہو۔ فکر مند ذہن سیکھنے کے لیے آزاد نہیں ہوتا؛ وہ پہلے اپنی حفاظت کے سوال حل کرتا ہے، پھر ریاضی کے۔ اسی لیے تجربہ کار معلم جانتے ہیں کہ کمزور نتائج کی جڑیں اکثر کاپیوں میں نہیں، آنگنوں میں ہوتی ہیں۔ گھر کا اثر صرف سکون تک محدود نہیں؛ زبان اور تجسس بھی وہیں پروان چڑھتے ہیں۔ امریکی محققین ہارٹ اور رزلے کے مشہور مطالعے نے دکھایا کہ جن گھروں میں بچوں سے کثرت سے بات کی جاتی ہے، وہ اسکول پہنچنے سے پہلے ہی الفاظ کے اتنے بڑے ذخیرے کے مالک ہوتے ہیں کہ کم گو گھرانوں کے بچے برسوں ان کا ساتھ نہیں پا سکتے۔ دسترخوان کی گفتگو دراصل ایک غیر رسمی نصاب ہے: وہاں بچہ سوال کرنا، اختلاف سننا، رائے بنانا اور لفظ برتنا سیکھتا ہے۔ جس گھر میں کتاب نظر آتی ہے، وہاں بچہ پڑھنے کو زندگی کا حصہ سمجھتا ہے؛ جس گھر میں کتاب صرف بستے میں بند ہو، وہاں پڑھائی محض سزا کی ایک صورت بن جاتی ہے۔ ’’کمزور نتائج کی جڑیں اکثر کاپیوں میں نہیں، آنگنوں میں ہوتی ہیں۔‘‘ جدید نفسیات نے جس حقیقت کو تجربہ گاہوں میں ثابت کیا، دانائے راز مائیں اسے صدیوں سے جانتی تھیں: بچے کو سب سے پہلے کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ تحفظ کا احساس ہے۔ جان بولبی کے نظریۂ وابستگی کے مطابق جس بچے کو ابتدائی برسوں میں ایک مستحکم، شفیق اور قابلِ اعتماد سہارا میسر آتا ہے، وہ دنیا کو تجربہ گاہ سمجھ کر اس میں اترتا ہے؛ اور جسے یہ سہارا نہیں ملتا، وہ دنیا کو خطرہ سمجھ کر اپنے آپ میں سمٹ جاتا ہے۔ اعتماد کوئی تقریری مقابلہ جیتنے سے نہیں آتا؛ وہ اس یقین سے آتا ہے کہ میرے پیچھے ایک محفوظ آنگن ہے جہاں میری ناکامی پر بھی دروازہ کھلا ملے گا۔ البرٹ بنڈورا کی تحقیق نے دوسری حقیقت آشکار کی: بچہ سب سے زیادہ مشاہدے سے سیکھتا ہے۔ والدین کا غصہ ضبط کرنا اسے ضبط سکھاتا ہے، ان کی بدکلامی اسے بدکلامی۔ نصیحت کان تک جاتی ہے، کردار دل میں اترتا ہے۔ اور تیسری حقیقت سب سے سنگین ہے: بچپن کے تلخ تجربات پر ہونے والی وسیع طبی تحقیق بتاتی ہے کہ گھریلو کشیدگی کا مسلسل دباؤ بڑھتے ہوئے دماغ کی ساخت تک پر اثر انداز ہوتا ہے؛

گھر کا آنگن — شخصیت کی پہلی درس گاہ Read More »

’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘

’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘ عقیدت سے ذمہ داری تک — ایک لفظ کے فرق میں چھپا پورا عہد نامہ ڈاکٹر اسد اللہ خان زبانیں کبھی کبھی ایک حرف کے فرق میں پوری تاریخ سمو دیتی ہیں۔ ’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘ — بظاہر دونوں ترکیبیں جڑواں معلوم ہوتی ہیں، مگر ان کے درمیان صرف ایک لفظ کا نہیں، ایک پوری سمت کا فاصلہ ہے۔ ’’ہمارے‘‘ کہتے ہی گردن پیچھے مڑتی ہے اور نگاہ ماضی کے اُس روشن دریچے پر جا ٹھہرتی ہے جہاں عقیدت بستی ہے؛ ’’ہم‘‘ کہتے ہی وہی گردن سیدھی ہو جاتی ہے، اور آنکھ حال کے اُس دروازے پر جم جاتی ہے جہاں ذمہ داری دستک دے رہی ہے۔ پہلی ترکیب نسبت ہے، دوسری شناخت؛ پہلی میں ہم کسی کے شاگرد ہیں، دوسری میں کسی کے معمار۔ یہ مضمون انہی دو ترکیبوں کے درمیان پھیلے ہوئے سفر کی روداد ہے — وہ سفر جو ایک شاگرد کی جھکی ہوئی نظر سے شروع ہوتا ہے اور ایک معلم کے بوجھل کندھوں پر آ کر ٹھہرتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں سے تعلیم کے مستقبل کا راستہ نکلتا ہے۔ ’’’’ہمارے‘‘ میں نگاہ ماضی کی طرف مڑتی ہے؛ ’’ہم‘‘ میں ذمہ داری حال کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔‘‘ ’’ہمارے اساتذہ‘‘ کہتے ہی حافظے کی الماری سے کچھ چہرے خود بخود اتر آتے ہیں۔ وہ ہستیاں جنہوں نے اُس وقت ہماری انگلی تھامی جب ہمیں قلم تھامنا بھی نہیں آتا تھا۔ ان کے پاس نہ لیپ ٹاپ تھا، نہ سمارٹ بورڈ، نہ تدریسی تربیت کے جدید سرٹیفکیٹ؛ ان کے پاس صرف ایک سرمایہ تھا — خالص خلوص۔ اور تجربہ گواہ ہے کہ خلوص وہ واحد تدریسی وسیلہ ہے جس کا کوئی نعم البدل آج تک ایجاد نہیں ہو سکا۔ ان کا ہدف نصاب کی تکمیل نہیں، شخصیت کی تعمیر تھا۔ وہ سبق کے ساتھ سلیقہ پڑھاتے تھے اور کتاب کے ساتھ کردار۔ ان کی سختی میں بھی شفقت کی آنچ ہوتی تھی؛ ان کی ڈانٹ بگاڑنے کے لیے نہیں، سنوارنے کے لیے اترتی تھی، اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سختی سے نہ بچے بگڑتے تھے، نہ والدین شکایت لے کر آتے تھے۔ راقم اپنی گیارہ برس کی اسکولی تعلیم کی گواہی دے سکتا ہے کہ اس پورے عرصے میں ایک واقعہ بھی ایسا یاد نہیں جس میں کسی استاد کو طلبہ یا والدین کے سامنے جواب دہ ہونا پڑا ہو۔ اچھے اور کم اچھے معلم اُس زمانے میں بھی تھے، مگر تکریم فرداً فرداً نہیں بٹتی تھی؛ وہ ’’استاد‘‘ کے منصب کے ساتھ آتی تھی، اور اس منصب کی چھاؤں میں سب برابر کے شریک تھے۔ اور انہی ہستیوں میں ایک ہستی ایسی بھی تھی جو راقم کے لیے دوہری نسبت رکھتی تھی — خان نصیب اللہ سر، جو ہمارے کلاس ٹیچر بھی تھے، اردو زبان دانی کے استاد بھی، اور میرے والد بھی۔ گھر میں جن کی انگلی تھام کر چلنا سیکھا تھا، جماعت میں انہی کی نگاہ کے سامنے پڑھنا سیکھا؛ گویا میری تربیت کے دونوں کنارے ایک ہی دریا سے سیراب ہوئے۔ جس ڈوب کر وہ نظمیں پڑھتے اور پڑھاتے تھے، وہ منظر دہائیاں گزرنے کے بعد بھی حافظے سے نہیں اترا: ماں کے موضوع پر نظم پڑھاتے تو خود ان کی آنکھیں بھیگ جاتیں، اور پوری جماعت پر ایک ایسی خاموشی اتر آتی جس میں سبق سے زیادہ کچھ اور منتقل ہو رہا ہوتا تھا۔ ہم اسی دن سمجھ گئے تھے کہ شاعری صرف پڑھنے کی نہیں، محسوس کرنے کی چیز ہے — اور یہ کہ جو معلم خود نہ پگھلے، وہ کسی دل کو نہیں پگھلا سکتا۔ غزل کی تشریح کراتے تو معنی کی تہوں میں اتنی گہرائی تک اتر جاتے کہ کلاس روم کی دیواریں غائب ہو جاتیں اور پوری جماعت ان کے ساتھ دنیا جہان کی سیر پر نکل جاتی — کبھی کسی شعر کی رعایت سے تاریخ کا دروازہ کھلتا، کبھی کسی تلمیح سے جغرافیے کا۔ مگر یہی نرم دل معلم نظم و ضبط اور تربیت کے باب میں کسی مصالحت کا روادار نہ تھا؛ وہاں ان کا معیار ایک انچ نہ ہلتا تھا۔ آنکھ میں آنسو اور اصول میں چٹان — نہ جانے وہ کیسی شخصیات تھیں جو ان دو انتہاؤں کو ایک ہی سینے میں سمو لیتی تھیں۔ شاید یہی وہ کیمیا تھی جو نصاب کو تربیت اور تدریس کو تاثیر بنا دیتی تھی۔ آج یہ قلم جس زبان میں رواں ہے، سچ پوچھیے تو وہ زبان انہی کے سبق کی امانت ہے، اور یہ مضمون اس امانت کی ایک قسط سے زیادہ کچھ نہیں۔ آج ہم زندگی کے جس مقام پر بھی کھڑے ہیں، وہ انہی ہستیوں کی سختیوں، دعاؤں اور ان تھک محنت کا ثمر ہے۔ ان کا احسان اتارا نہیں جا سکتا؛ صرف آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ پٹھان سر تاریخ پڑھاتے تھے اور جماعتِ پنجم میں ہمارے کلاس ٹیچر تھے۔ ایک بار بیٹ آفیسر ضمیر صاحب کے معائنے کی خبر آئی تو انہوں نے وہ اہتمام کیا جسے آج کی تدریسی اصطلاح میں شاید حکمتِ عملی کہا جائے: سبق سمجھایا گیا، دہرایا گیا، اور پھر نشستیں اس سلیقے سے ترتیب دی گئیں کہ کچھ ذہین بچے اگلی صفوں میں، کچھ درمیان میں اور کچھ پچھلی بنچوں پر بٹھا دیے گئے — تاکہ معائنہ کرنے والے کی نگاہ جدھر اٹھے، جواب ادھر سے آئے۔ معائنے کے دن ضمیر صاحب کمرۂ جماعت میں داخل ہوئے، ادھر ادھر نظر دوڑائی اور تاریخ کی کتاب اٹھا کر سوالات کرنے لگے۔ ہر گوشے سے بچے اچک اچک کر جواب دے رہے تھے، اور پہلی بنچ پر بیٹھا راقم ہر سوال پر ہاتھ اٹھائے دیتا تھا۔ وہ ہر بار میرا ہاتھ نرمی سے نیچے کر دیتے اور پچھلی نشستوں سے پوچھتے جاتے۔ آخر ہر سوال پر اٹھتا ہوا یہ ہاتھ دیکھ کر انہوں نے مجھے تھاما، باہر لے گئے، اور شفقت سے بازو گردن میں ڈال کر بولے: بہت قابل ہو، پٹھان سر نے سب کچھ پڑھا دیا ہے، چلو بتاؤ — پہلا مغل بادشاہ کون؟ میں نے کہا: بابر۔ اس کا بیٹا؟ ہمایوں۔ اس کا بیٹا؟ اکبر۔ اس کا بیٹا؟ جہانگیر۔ اس کا بیٹا؟ شاہ جہاں۔ اس کا بیٹا؟ اورنگ زیب۔ اور اورنگ زیب کا بیٹا؟ — اب میں خاموش تھا۔ انہوں نے پیار سے گال

’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘ Read More »

چراغِ جستجو کو، اک رہنما چاہیے

چراغِ جستجو کو، اک رہنما چاہیے بچوں کی جستجو اور اساتذہ کے تجربے کے درمیان وہ خاموش پُل، جسے ہم نے پہچاننا چھوڑ دیا از: ڈاکٹر اسداللہ خان تعلیم کے بارے میں ہمارے عہد میں سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال عموماً ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کتنے اسکول قائم ہوئے؟ کتنے بچے داخل ہیں؟ نتائج کا تناسب کیا ہے؟ ڈراپ آؤٹ کی شرح کتنی ہے؟ نئی عمارتیں کتنی بنیں؟ کتنی اسمارٹ کلاسیں قائم ہوئیں؟ کتنے ٹیبلیٹ تقسیم ہوئے؟ کتنے پورٹل فعال ہوئے؟ بلاشبہ یہ تمام سوال اپنی جگہ اہم ہیں، کیونکہ کسی بھی تعلیمی نظام کی ظاہری کیفیت کا اندازہ انہی اعداد و شمار سے لگایا جاتا ہے۔ لیکن ان تمام سوالوں کے شور میں ایک ایسا سوال خاموشی سے کہیں کھو گیا ہے، جو درحقیقت تعلیم کی روح سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ آخر کلاس روم کے اندر وہ کون سی قوت ہے جو ایک بچے کے اندر سیکھنے کی حقیقی خواہش پیدا کرتی ہے؟ وہ کون سا لمحہ ہے جب معلومات، علم میں ڈھلتی ہے، علم فہم میں تبدیل ہوتا ہے اور فہم، شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے؟ وہ کون سی روشنی ہے جو محض الفاظ کو معنی عطا نہیں کرتی بلکہ انسان کے باطن کو بھی روشن کر دیتی ہے۔ یہ سوال اس لیے کم پوچھا جاتا ہے کہ اس کا جواب کسی چارٹ، کسی گراف یا کسی سرکاری رپورٹ میں نہیں ملتا۔ جس حقیقت کو اعداد میں قید نہ کیا جا سکے، اسے پالیسی کی زبان میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔ حالانکہ تعلیم کی اصل جان انہی غیر مرئی حقیقتوں میں پوشیدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کی بنیاد نصاب، عمارت، ٹیکنالوجی یا امتحانات پر نہیں، بلکہ ایک ایسے خاموش انسانی رشتے پر قائم ہوتی ہے جو ایک استاد اور اس کے شاگرد کے درمیان اعتماد، احترام، محبت اور رہنمائی کی صورت میں پروان چڑھتا ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جس کے بغیر علم محض معلومات رہ جاتا ہے، چاہے کلاس روم میں جدید ترین اسمارٹ بورڈ نصب ہوں یا مصنوعی ذہانت کی بے شمار سہولتیں موجود ہوں۔ آج کا بچہ شاید انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ باخبر بچہ ہے۔ اس کی انگلیوں کی ایک جنبش اسے تاریخ، جغرافیہ، سائنس، فلسفہ، ادب اور دنیا بھر کے علوم تک چند لمحوں میں پہنچا دیتی ہے۔ کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب وہ چند سیکنڈ میں تلاش نہ کر سکے، کوئی واقعہ ایسا نہیں جس کی خبر اس تک فوراً نہ پہنچ جائے۔ لیکن ایک بنیادی حقیقت آج بھی اپنی جگہ قائم ہے: معلومات اور سمجھ ایک چیز نہیں ہوتیں۔ یہ دونوں اتنے ہی مختلف ہیں جتنا کسی نقشے کو دیکھ لینا اور واقعی اس سفر سے گزر جانا۔ نقشہ راستہ دکھا سکتا ہے، مگر سفر کا تجربہ نہیں دے سکتا۔ معلومات ذہن بھر سکتی ہیں، مگر بصیرت پیدا نہیں کر سکتیں۔ آج کے بچے کا سب سے بڑا بحران معلومات کی کمی نہیں، بلکہ معلومات کی فراوانی ہے۔ اس کے پاس جواب تو بے شمار ہیں، مگر سوالوں کی ترتیب نہیں۔ اس کے سامنے علم کا ایک وسیع سمندر موجود ہے، مگر سمت دکھانے والا قطب نما کہیں کھو گیا ہے۔ وہ ہر موضوع پر کچھ نہ کچھ جانتا ہے، لیکن یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ کون سی بات اہم ہے، کون سی غیر ضروری؛ کس اطلاع پر یقین کیا جائے اور کس دعوے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نئی نسل معلومات کے ایک بے کنار دریا میں تیرنے کے بجائے اس میں بہتی چلی جا رہی ہو۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پانی کم ہے، مسئلہ یہ ہے کہ انہیں تیرنا سکھانے والا کوئی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک استاد کی موجودگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ معلومات کا انبار انسان کو عالم نہیں بناتا. علم بھی اس وقت تک حکمت میں تبدیل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ ایک صاحبِ بصیرت رہنما موجود نہ ہو۔ حقیقی سمجھ کہاں سے جنم لیتی ہے؟ تعلیمی نفسیات برسوں کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ حقیقی سمجھ — جسے آج Deep Comprehension کہا جاتا ہے — اُس وقت جنم لیتی ہے جب بچہ کسی نئے تصور کو اپنے ذاتی تجربات، اپنے جذبات، اپنے مشاہدات اور اپنی زندگی سے جوڑنے لگتا ہے۔ یہ ربط کسی سرچ انجن، کسی ویڈیو یا کسی الگورتھم کے ذریعے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ربط ایک ایسے استاد پیدا کرتا ہے جو صرف مضمون نہیں جانتا بلکہ بچے کو بھی جانتا ہے؛ جو صرف سبق نہیں پڑھاتا بلکہ ذہنوں کو پڑھنا بھی جانتا ہے؛ جو بچے کی الجھن کو محسوس کرتا ہے، اس کے سوال کو سمجھتا ہے اور پھر اس کی ذہنی سطح کے مطابق اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسی حقیقت کو معروف ماہرِ تعلیم Lev Vygotsky نے اپنی مشہور نظریاتی تعبیر Zone of Proximal Development میں بیان کیا تھا۔ ان کے نزدیک ہر بچہ اپنی موجودہ صلاحیت سے کچھ آگے بڑھنے کی استعداد رکھتا ہے، لیکن اس اگلے مرحلے تک پہنچنے کے لیے اسے ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں تک لے جائے جہاں وہ اکیلا نہیں پہنچ سکتا۔ وہ رہنما کوئی اسکرین نہیں ہوتا، کوئی الگورتھم نہیں ہوتا، کوئی مصنوعی ذہانت نہیں ہوتی — وہ ایک حساس، باشعور، صاحبِ تجربہ اور انسان دوست استاد ہوتا ہے۔ اسی لیے شاید آج کے تعلیمی منظرنامے کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ بچوں کے ہاتھوں میں کتنی معلومات موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان معلومات کے اس بے کنار سمندر میں ان کی رہنمائی کون کر رہا ہے؟ استاذ کا تجربہ ،وہ خاموش علم جو کتاب میں نہیں ملتا، یہ تجربہ کوئی سند نہیں جسے دیوار پر آویزاں کر دیا جائے، نہ یہ کسی ورکشاپ کا سرٹیفکیٹ ہے اور نہ چند روزہ تربیتی کورس کا حاصل۔ حقیقی تجربہ برسوں کی مسلسل تدریس، سیکڑوں بچوں کی نفسیات کو سمجھنے، ہزاروں سوالوں کا سامنا کرنے، بے شمار ناکامیوں سے سیکھنے اور ہر روز اپنے آپ کو بہتر بنانے کے عمل سے جنم لیتا ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جسے نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ چند مہینوں میں حاصل

چراغِ جستجو کو، اک رہنما چاہیے Read More »

جب اسکول ہی ناکام تو بچے کیسے ہوں گے کامیاب؟

ڈاکٹر اسد اللہ خان ایک پرانا رونا، ایک نیا زخم معیارِ تعلیم کا رونا کوئی نیا تو ہے نہیں، منموہن سنگھ بھی رو چکے اور کپل سبّل بھی، لیکن ابھی فرق نہیں پڑا۔ شاید اسی لیے اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ موقع بہ موقع اس عنوان پر ماتم ضروری ہو جاتا ہے۔ بات خدا لگتی ہے — ہمارے اردو اسکولوں کا انتظامیہ ہو کہ اساتذہ، بس اسی زعم میں جیے جا رہے ہیں کہ اپنے یہاں تو سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ معیار کے جھنجھٹ میں کون پڑے؟ ہمارے تو سبھی اسکول معیاری ہیں۔ جب کہ عالم یہ ہے کہ معیاری اسکول کی کسوٹی پر پرکھے جائیں تو چند ایک کو چھوڑ کر بیشتر اسکول کسی شمار قطار میں ہی نہیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ انہیں خبر بھی نہیں کہ اچھے اسکول کے لیے پیمانے کیا ہیں — اور جاننے کی کوئی تڑپ بھی نہیں۔ شہر کے مشہور انگریزی اخبار میں چھپی اس خبر نے ذی شعور اور بیدار شہریوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا: رواں تعلیمی سال میں ممبئی کے اسکولوں کی سالانہ جانچ میں ایک تہائی سے زائد اسکول ناکام رہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کی جانب سے ۳۲۲۸ اسکولوں میں سے صرف ۳۸۹ اسکول ہی درجہ A سے کامیاب قرار دیے گئے — یعنی محض ۱۳ فیصد۔ یہ اعداد و شمار کوئی معمولی تشویش نہیں، یہ ہمارے پورے تعلیمی ڈھانچے پر ایک فرد جرم ہے۔ افسوس کہ اردو حلقوں میں اس خبر کی بازگشت بھی نہیں سنی گئی۔ ہمیں تو احتساب کرتے رہنے کی پرانی بیماری ہے۔ اسی لیے آئینہ پونچھنے کے بجائے ہم اپنے چہرے کے دھبوں کی خبر لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۶ء تک — کیا بدلا، کیا نہیں بدلا؟ وقت گزرا، سال بدلے، حکومتیں آئیں اور گئیں۔۔۔مگر اسکول کے دروازے پر وہی پرانا سوال کھڑا ہے جب ۲۰۰۹ء میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ممبئی کے ۳۲۲۸ اسکولوں میں سے صرف ۳۸۹ یعنی محض ۱۳ فیصد اسکول A گریڈ سے کامیاب ہوئے، تو یہ ایک دھچکا تھا — ایک تکلیف دہ آئینہ جس میں ہم نے اپنا چہرہ دیکھنے سے منہ موڑ لیا۔ اس وقت سوچا گیا کہ شاید ایک نسل میں حالات بدل جائیں گے۔ اب پندرہ سال بعد، ۲۰۲۶ء میں، آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی کوئی بنیادی تبدیلی آئی — یا بس کاغذات پر اعداد بدلے؟ پندرہ سال بعد UDISE+ 2024-25 اور ASER 2024 کی رپورٹیں ہمارے سامنے ہیں۔ آئیے آٹھ اہم پیمانوں پر ایمانداری سے دیکھتے ہیں — کیا بدلا، کیا وہی رہا، اور کیا اب بھی بحران ہے۔ ۱۔ اسکولوں کا معیار — نظامِ جانچ بدلا ضرور ہے لیکن تعلیمی معیار کا بحران اپنی جگہ برقرار ہے!!! ۲۰۰۹ء میں مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کی اس جانچ نے ممبئی کے اسکولوں کی درجہ بندی کی تھی — اور نتیجہ سب کے سامنے تھا: صرف ۱۳ فیصد اسکول A گریڈ کے قابل۔ یہ اعداد ایک نظام کی ناکامی کا اعتراف تھے۔ اب ۲۰۲۴-۲۵ء میں صورتحال یہ ہے کہ وہ پرانا A/B/C/D/E درجہ بندی کا نظام اب موجود نہیں — UDISE+ نے اسکولوں کی جانچ کا پورا طریقہ کار بدل دیا ہے۔ اب اسکولوں کو ان کے انفرا اسٹرکچر، داخلے، اساتذہ کی تعداد اور ڈیجیٹل سہولیات کی بنیاد پر Online Report Card ملتا ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی بہتری کی علامت ہے مگر سوال وہی ہے کہ کیا نظام بدلنے سے حقیقت بدلی؟ دکھ کی بات یہ ہے کہ ASER 2024 کی رپورٹ ، جو لاکھوں بچوں پر زمینی سروے کے بعد بنائی گئی ، بتاتی ہے کہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تیسری جماعت کے ۷۶.۶ فیصد بچے دوسری جماعت کا متن نہیں پڑھ سکتے۔ یعنی اسکول کا کارڈ بدل گیا ، بچے کا نتیجہ نہیں بدلا۔ ۲۔ بیت الخلاء کی دستیابی میں کچھ بہتری ہوئی مگر وہ نامکمل ہے ، صفائی کا سوال جوں کا توں منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ ۲۰۰۹ء میں ملک کے اسکولوں میں بیت الخلاء کی دستیابی ۶۳ فیصد سے بھی کم تھی — اور جو تھے وہ اکثر ناقابلِ استعمال۔ یہ وہ وقت تھا جب لڑکیاں صرف اس لیے اسکول چھوڑ دیتی تھیں کہ بلوغت کے بعد ان کی بنیادی ضرورت کا کوئی انتظام نہ تھا۔ اب UDISE+ 2024-25 کے مطابق ۹۸.۶ فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء موجود ہے — یہ واقعی ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ مگر اعداد کی تہہ میں اترتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ‘موجود ہونا’ اور ‘قابلِ استعمال ہونا’ دو الگ چیزیں ہیں۔ ASER 2024 بتاتی ہے کہ ۲۰۲۴ء میں صرف ۷۲ فیصد اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے کام کرنے والا اور صاف بیت الخلاء موجود تھا — یعنی ۲۶ فیصد میں بیت الخلاء تھا ہی نہیں یا بند پڑا تھا۔ دیوار اور دروازہ لگ گیا، صفائی اور دیکھ بھال نہیں آئی۔ اور سب سے اہم بات: Swachh Bharat Mission کے تحت ارب روپے خرچ ہوئے — مگر وہ لڑکیاں جو آج بھی ناقابلِ استعمال بیت الخلاء کی وجہ سے پریشان ہوتی ہیں، انہیں کاغذی اعداد سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بہتری ادھوری ہے مگر صفائی اور دیکھ بھال کا مسئلہ اب بھی باقی ہے۔ ۳۔ کہیں کہیں نل موجود لیکن پینے کا پانی نداردہے ۔ ۲۰۰۹ء میں پینے کے صاف پانی کی سہولت اسکولوں میں بڑے پیمانے پر غیر موجود تھی۔ بچے گھر سے پانی لاتے تھے، گرمیوں میں پیاسے رہتے تھے، اور بے ہوشی کے واقعات کوئی نادر بات نہ تھے۔اب UDISE+ 2024-25 کا دعویٰ ہے کہ ۹۹ فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی دستیاب ہے — یہ اعداد کاغذوں پر انقلاب ہے۔ مگر یہاں بھی وہی سوال: ‘دستیاب’ کی تعریف کیا ہے؟ کیا پانی صاف ہے؟ کیا روزانہ ملتا ہے؟ کیا برتن صاف ہیں؟ بہت سے اسکولوں میں نل لگا ہے مگر پانی نہیں آتا، یا آتا ہے تو آلودہ آتا ہے۔ ASER 2024 نے پینے کے پانی کی دستیابی ۷۷.۷ فیصد درج کی — یعنی کاغذوں کے ۹۹ فیصد اور زمینی حقیقت کے ۷۷.۷ فیصد کے درمیان ۲۱ فیصد کا فرق ہے۔ یہ فرق ہی اصل کہانی ہے۔ یہ ظاہری بہتری ہے مگر کاغذ اور زمین کے درمیان کا فرق خطرناک ہے۔ ۴۔ اسکولوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے معاملے میں بڑی پیش رفت ہوئی

جب اسکول ہی ناکام تو بچے کیسے ہوں گے کامیاب؟ Read More »

استاد: مصلوب فرشتہ

عہدِ حاضر میں معلم کی مظلومیت، مسئولیت اور معراج کا نوحہ اور احتساب نامہ ڈاکٹر اسد اللہ خان جو معلم ہو وہ مفکر ہو، جو مفکر ہو وہ آزاد ہو — اور جو آزاد نہ ہو وہ نہ خود جی سکتا ہے نہ دوسروں کو جینا سکھا سکتا ہے ہر عہد اپنے استاد کو ایک نئے صلیب پر چڑھاتا ہے۔ کبھی غربت کی صلیب، کبھی غلامی کی، کبھی پورٹل اور ڈیٹا کی، اور کبھی اپنی ہی ذات کے زوال کی۔ یہ مضمون دو مختلف لمحوں، دو مختلف موسموں اور دو مختلف کیفیتوں میں لکھا گیا تھا — ایک میں استاد مظلوم تھا، دوسرے میں اس کی اپنی ذمہ داری زیرِ بحث تھی۔ مگر جب دونوں آوازوں کو ایک ساتھ سنا جائے تو ایک ہی سچائی ابھرتی ہے: استاد آج دہری چکی میں پس رہا ہے — ایک طرف نظام اسے غلام بناتا ہے، دوسری طرف ذمہ داری کا بوجھ اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔ یہ تحریر اسی دوہرے سچ کا حساب ہے۔ باب اول: ہڈپسر کا سبق — جب استاد، پیون سے بھی کم تھا ہم پونہ میں ہڈپسر کے مقام پر ایک تعلیمی کانفرنس میں مدعو تھے۔ ہمیں لینے کے لیے جو صاحب اسٹیشن پر آئے، ان کے لباس اور انداز سے ہرگز یہ گمان نہ گزرا کہ وہ ایک استاد ہیں۔ انہوں نے ہمارا سامان اٹھایا، بڑی عقیدت سے اپنے اسکوٹر پر بٹھایا اور جلسہ گاہ تک لے آئے۔ کانفرنس کے دوران وہ یہاں وہاں دوڑتے رہے، مہمانوں کے ہاتھ دھلواتے رہے، اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ پلیٹیں دھو رہے تھے جب کہ ان کے ساتھی کھانا پروسنے میں مصروف تھے۔ کانفرنس میں اساتذہ کی ذمہ داریوں پر خوب دھواں دھار تقریریں ہوئیں، اور میزبان چیئرمین کو اس دور کے سرسید کا خطاب دیا گیا۔ ہم اسے پیون ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ واپسی کے آدھے راستے میں ان کے اسکوٹر کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ دم لینے کو ہم نے انہیں چائے کی دعوت دی، اور چائے کی چسکیوں کے دوران جو حقائق سامنے آئے، انہوں نے ہمیں حیرت کے سمندر میں غرق کر دیا۔ یہ دبلا پتلا نوجوان، جس کی تعلیمی لیاقت بی۔اے، بی۔ایڈ تھی، ایک معاون مدرّس تھا — مگر اسکول میں اس کی اور اس کے ساتھیوں کی اوقات پیون سے بدتر تھی۔ کئی برسوں سے وہ اس اسکول میں ملازم تھا، 5-7 ہزار روپے ماہوار کا یہ غلام اسکول کے لیے ریتی گارا بھی ڈھو چکا تھا اور دیواروں کو رنگ و روغن بھی کر چکا تھا۔ اگر کبھی اپنا حق مانگے تو اسکول سے نکال دیا جائے۔ پوری تنخواہ مانگنے کی مجال تو کیا، وہ اسکوٹر میں تیل بھروانے کے لیے بھی اپنے آقا کے سامنے گڑگڑانے پر مجبور تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ رخصت ہوتے وقت پیٹرول کے پیسے مانگنے پر چیئرمین صاحب کی اہلیہ نے اسے بری طرح ڈانٹا تھا، اور اب وہ اسی کی سزا آدھے راستے سے اسکوٹر گھسیٹ کر بھگت رہا تھا۔ اپنی بے بسی کی داستان سناتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ عین اسی لمحے ہمارے کانوں میں کانفرنس کے ان مقالوں کی گونج سنائی دے رہی تھی جن میں اساتذہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا تھا۔ یہ صرف ایک ہڈپسر کی کہانی نہیں — یہ ریاست بھر کے بیشتر اردو اسکولوں کا نوحہ ہے۔ مردم شماری ہو، سروے ہو، الیکشن کی ڈیوٹی ہو، شناختی کارڈ بانٹنے ہوں یا جھونپڑوں کے فوٹو پاس — ہر سرکاری کام انہی کے کندھوں پر آ کر ٹکتا ہے۔ اور جب وہ یہ غیر تدریسی کام کرنے ہفتوں، مہینوں کے لیے جماعتوں سے غائب رہتے ہیں تو انہی جماعتوں کا کباڑہ ہو جاتا ہے۔ نتیجہ؟ کھیپ کی کھیپ برباد۔ “ہم اسکول کی بنیاد کے پتھر ہیں، ہم نے اپنے لہو سے اسے سینچا ہے — لیکن کیا ہے ہماری اوقات؟” باب دوم: عہدِ جدید کا غلام — جب پورٹل، عزت سے بڑا ہو گیا ہڈپسر کے اس استاد کی زنجیر آج بھی نہیں ٹوٹی — صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ کل وہ پلیٹیں دھو رہا تھا، آج وہ اسکرین پر ڈیٹا بھر رہا ہے۔ کل اسکوٹر کا پیٹرول مانگنے پر ڈانٹ پڑتی تھی، آج GPS لوکیشن نہ ملنے پر تنخواہ روک لی جاتی ہے۔ آج ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے گہرا بحران نصاب کا نہیں، عمارت کا نہیں، وسائل کا نہیں — استاد کا ہے۔ وہ استاد جو صدیوں سے تہذیب کا امین اور روح کا مربی رہا، آج آہستہ آہستہ ایک انتظامی کارکن، ڈیٹا آپریٹر اور پورٹل ملازم میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اسکول گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے بند ہو جاتے ہیں، کلاس روم خاموش ہو جاتے ہیں، بچے آزاد ہو جاتے ہیں — مگر استاد آزاد نہیں ہوتا۔ اس کے موبائل پر پیغامات جاری رہتے ہیں، واٹس ایپ گروپس زندہ رہتے ہیں، پورٹل کھلے رہتے ہیں اور نئے احکامات کسی بھی وقت اس کا سکون منسوخ کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ کے لیے آخری پیریڈ کبھی نہیں آیا۔ یہ محض ٹائم ٹیبل کا آخری پیریڈ نہیں — یہ زندگی کا وہ وقفہ ہے جس کے بعد انسان کو سکون، غور و فکر اور اپنے وجود کی طرف لوٹنے کا موقع ملتا ہے۔ جدید استاد کی زندگی سے یہ موقع چھن چکا ہے۔ اعداد و شمار کی زبان میں دیکھیں تو بھارت میں ایک کروڑ سے زائد اساتذہ تعلیمی نظام سے وابستہ ہیں، اور ان میں سے ساٹھ فیصد سے زیادہ غیر تدریسی فرائض کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ایک استاد، اکیلے، پانچ جماعتوں کو پڑھانے، کھانا پکوانے، ڈیٹا بھرنے اور مردم شماری کرنے کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ UDISE+، DIKSHA، MDM، SATS، NISHTHA اور ULLAS جیسے درجنوں پورٹلز پر اتنا وقت صرف ہوتا ہے کہ حقیقی تدریسی وقت سکڑتا چلا جاتا ہے۔ ایک استاد کے الفاظ یاد رکھنے کے قابل ہیں: شام چار بجے کی گھنٹی بجتی ہے مگر میں پھر بھی نہیں جاتا — ابھی پورٹل باقی ہے۔ دسمبر 2025 میں مہاراشٹر کے وزیرِ تعلیم نے وزیرِ اعلیٰ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو بوتھ لیول آفیسر اور دیگر انتخابی کاموں سے فوری چھٹکارا دیا

استاد: مصلوب فرشتہ Read More »

دستِ خضر سے شمعِ ہدایت ہی چھن گئی!

استعداد کا قحط، اساتذہ کی آن لائن تجارت اور نئی نسل کا فکری قتلِ عام ڈاکٹر اسد اللہ خان اطلاعات و معلومات کا یہ دھماکہ خیز دور، جہاں مصنوعی ذہانت انسانی سوچ کے متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے، وہاں ایک ایسے استاد کی ضرورت تھی جو مادی ترقی کے اس دور میں نئی نسل کے ضمیر کا نگہبان بنتا۔ قوموں کی تعمیرِ نو میں استاد کا وجود ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے، کیونکہ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ روح کی تراش خراش کرتا ہے۔ کارِ معلمی دراصل کارِ نبوت ہے، جس کا منصب تقدس اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن افسوس! آج سن 2026ء کے ہندوستان میں جب ہم اپنے تعلیمی ڈھانچے اور اساتذہ کی تربیت کے نظام (Teacher Education) پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ رہبر ہی جب راہزن بن جائیں، تو کارواں کی تباہی کا گلہ کس سے کیا جائے؟ ہم نے جس دور میں بی ایڈ کالجوں کی بولیوں کا رونا رویا تھا، وہ تو محض نقد رقم اور چند ہزار روپے کی ہیرا پھیری کا ابتدائی دور تھا۔ آج کا دور تو ڈیجیٹل مافیا اور ادارہ جاتی بدعنوانی کا وہ مہیب سمندر ہے جس نے پورے ملک کے مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آج میڈیا کی سرخیاں اور عدالتوں کے فیصلے گواہ ہیں کہ اساتذہ کی تیاری سے لے کر ان کی تعیناتی تک کا پورا نظام کینسر کی آخری اسٹیج پر کھڑا ہے۔ مہاراشٹرا کا ٹی اے آئی ٹی (TAIT) اور ٹی ای ٹی (TET) ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب مہاراشٹرا ٹیچرز ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (TET) میں ہزاروں ایسے اساتذہ کے نام سامنے آئے جنہوں نے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر کمپیوٹرائزڈ رزلٹ شیٹس میں اپنے نمبر بڑھوائے۔ جو استاد خود ایک اہلکار کو چائے پانی کے نام پر رشوت دے کر، یا سرور ہیک کروا کر پاس ہوا ہو، وہ پونے، ناگپور یا ممبئی کے اسکولوں میں بیٹھ کر اگلی نسل کو دیانت داری کا کیا سبق دے گا؟ اتر پردیش میں اساتذہ کی بھرتی ٹیچر بھرتی کے امتحانات اور بہار کے بی پی ایس سی ٹیچر امتحانات کے دوران بلیو ٹوتھ ڈیوائسز، سالور گینگز (Solver Gangs) اور پیپر لیک کے جو شرمناک واقعات سامنے آئے، انہوں نے میرٹ کا جنازہ نکال دیا۔ دسویں جماعت کی کتاب کا درست تلفظ نہ کر پانے والے، اور بلیک بورڈ پر انگریزی میں ایجوکیشن کی ہجے غلط لکھنے والے لوگ لاکھوں روپے کی بولی لگا کر اسکولوں میں ‘مستقبل کے معمار’ بن کر بیٹھ گئے۔ بی ایڈ اور ایم ایڈ کالجز اب تعلیم گاہیں نہیں، شادی ہالوں کی طرح نفع بخش کاروبار ہیں۔ نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن اور یونیورسٹیوں کی جو معائنہ ٹیمیں آتی ہیں، ان کے لیے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام اور ڈیجیٹل ٹرانسفرز کے ذریعے پہلے ہی سب کچھ طے کر دیا جاتا ہے۔ کالج میں نہ لائبریری ہے، نہ لیبارٹری، نہ لیسن پلان کا وجود—بس سال کے آخر میں ایک سرٹیفائیڈ مزدور تیار کر کے مارکیٹ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ استاد جب خود علم کے سمندر سے محروم ہو، تو وہ دوسروں کی پیاس کیا بجھائے گا؟ آج جو فوج ان ٹریننگ کالجوں سے نکل رہی ہے، وہ تعلیم کی غیر پیداواری پروڈکٹ ہے۔ یہ وہ بھیڑ ہے جو کسی اور پیشے میں جگہ نہ پا سکی، تو آخری حربے کے طور پر معلمی کے مقدس پیشے میں گھس آئی۔ روایتی تعلیمی نظام کا استاد اپنی ذات میں ایک چلتی پھرتی درسگاہ ہوا کرتا تھا۔ اس کا اصل سرمایہ اس کا ذاتی مطالعہ، کتابوں سے گہرا تعلق، لائبریریوں سے وابستگی اور علم کے لیے نہ ختم ہونے والی پیاس ہوتی تھی۔ اس کی شخصیت میں وقار، گفتار میں سنجیدگی اور کردار میں ایسی پختگی ہوتی تھی جو طلبہ کے لیے خود ایک زندہ نمونہ بن جاتی تھی۔ اس کے نزدیک تدریس صرف نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ طالب علم کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت، فکری بالیدگی اور کردار کی تعمیر کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ امتحانات بھی اس کے نزدیک محض نمبر حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ وہ سخت محنت، گہری فکر، اصل علم اور دیانت دارانہ جانچ کے ذریعے طالب علم کی حقیقی صلاحیت کو پرکھنے کا پیمانہ ہوتے تھے۔ اس کے برعکس، جدید دور کا نام نہاد سرٹیفائیڈ استاد ایک ایسے نظام کی پیداوار بنتا جا رہا ہے جہاں خود مطالعہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ کتابوں کی جگہ گوگل سرچ، تحقیقی مطالعے کی جگہ واٹس ایپ یونیورسٹی، اور علمی گفتگو کی جگہ سوشل میڈیا کے مختصر کلپس اور ریلز نے لے لی ہے۔ کلاس روم، جو کبھی علم و حکمت کا مرکز تھا، اب بعض اوقات محض رسمی حاضری اور وقت گزاری کا مقام بن کر رہ گیا ہے۔ تدریس کا مقصد بھی طالب علم کی فکری اور اخلاقی تربیت کے بجائے صرف حاضری مکمل کرنا، تنخواہ حاصل کرنا اور فوٹو کاپی شدہ نوٹس تقسیم کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لینا رہ گیا ہے۔ اسی زوال کا سب سے افسوسناک اظہار امتحانی نظام میں دکھائی دیتا ہے، جہاں کبھی محنت، استعداد اور علمی قابلیت کامیابی کا معیار ہوا کرتی تھی، وہاں آج پیپر لیک، سالور گینگز، غیر قانونی ذرائع، نقل، اور جعلی کامیابیوں کی منڈی نے میرٹ کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ نتیجتاً ایسے افراد تدریس جیسے مقدس پیشے میں داخل ہو رہے ہیں جن کے پاس ڈگریاں تو موجود ہیں، مگر نہ علم کی گہرائی ہے، نہ تحقیق کی صلاحیت، نہ کردار کی مضبوطی اور نہ ہی نئی نسل کی رہنمائی کا شعور۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو روایتی معلم اور جدید سرٹیفائیڈ استاد کے درمیان ایک فکری، اخلاقی اور تہذیبی خلیج پیدا کر دیتا ہے، اور یہی خلیج آج ہمارے پورے تعلیمی نظام کے زوال کی سب سے بڑی علامت بن چکی ہے۔ جذباتی اور فکری دیوالیہ پن ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہماری اگلی نسلیں گونگی اور ذہنی طور پر اپاہج ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس معلومات نہیں ہیں، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس صحیح رہبر نہیں ہے۔ جب ایک استاد کلاس روم میں جا کر

دستِ خضر سے شمعِ ہدایت ہی چھن گئی! Read More »