Urdu

تعلیم:انسان بنانے کا فن یا امتحان پاس کرانے کی مشین؟

علم وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے، نہ کہ وہ جو اسے مشین بنا دے ڈاکٹر اسداللہ خان زندگی میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی تحریر ہاتھ میں لیتے ہیں اور پڑھتے پڑھتے اچانک رک جاتے ہیں۔ قلم نیچے رکھ دیتے ہیں۔ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اور دل کے کسی گہرے گوشے سے ایک آواز آتی ہے کہ یہی تو میں کہہ رہاتھا۔ ہوا یوں کہ آج کے ٹائمز آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر، پروفیسر دنیش پرساد سکلانی کا مضمون پڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے میرے دل و دماغ میں مدتوں سے گردش کرنے والے خیالات کو کسی اور نے لفظوں کے قالب میں ڈھال دیا ہو۔ ہر سطر، ہر استدلال اور ہر سوال میرے اپنے فکری سفر کی بازگشت معلوم ہوا۔ ایسا لگا گویا میرے لاشعور میں پوشیدہ تصورات، میرے دل کی دھڑکنوں اور میرے تعلیمی فلسفے کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دیا گیا ہو۔ میں نے مضمون نہیں پڑھا، بلکہ اپنے ہی خیالات کو ایک نئے قلم سے لکھا ہوا پایا۔ مجھے میر کا وہ مصرع یاد آ گیا جو اردو شاعری کی سب سے لطیف نفسیاتی دریافتوں میں سے ایک ہے “میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے”۔ یہ مصرع محض ایک شعری تجربے کا بیان نہیں — یہ اس کیفیت کا نام ہے جب کوئی بات آپ کے اندر اتنی گہری اتر چکی ہو کہ آپ اسے اپنی سمجھتے ہی نہیں، اور پھر جب کوئی دوسرا انسان وہی بات کہہ دے تو آپ چونک اٹھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ رَٹّا لگانا کبھی ہندوستان کی روح نہیں رہا۔ کہ اس سرزمین نے نچیکیتا کو پیدا کیا جس نے موت سے سوال کیا، گارگی پیدا کی جس نے برہمنوں کے سردار کو خاموش کیا، کناد پیدا کیا جس نے ایٹم کا تصور دیا، سشروت پیدا کیا جس نے جراحی سکھائی، آریہ بھٹ پیدا کیا جس نے صفر دریافت کیا — اور یہ سب رَٹّے سے نہیں، سوال سے، تجربے سے، مشاہدے سے، دلیل سے پیدا ہوئے۔ اور کہ پھر ایک نوآبادیاتی طوفان آیا اور اس نے اس روایت کو چھین لیا۔ علم کی جگہ ملازمت نے لے لی۔ سوال کی جگہ رَٹّے نے لے لی۔ تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی۔ یہ پڑھ کر میں نے سوچا — کیا یہ صرف تعلیم کی کہانی ہے؟ نہیں۔ یہ ہماری پوری تہذیبی روح کی کہانی ہے۔ اگر آج نچیکیتا کسی اسکول میں داخل ہو جائے تو کیا ہوگا؟ وہی نچیکیتا جس نے موت کے دیوتا یمراج کے دروازے پر تین دن اور تین رات کھڑے رہ کر علم طلب کیا تھا۔ وہی نچیکیتا جس کے سوالوں نے کٹھ اُپنشد کو جنم دیا اور جس کی جستجو نے آنے والی نسلوں کے لیے فکر کا ایک لافانی سرچشمہ کھول دیا۔ وہ بچہ جو موت سے نہ ڈرا، کیا وہ ہمارے نصاب کی تنگ گلیوں میں سانس لے پاتا؟ کیا آج کا استاد اس کی حوصلہ افزائی کرتا؟ کیا آج کے اسکول میں اس کے لیے کوئی جگہ ہوتی؟ یا اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا کہ یہ سوال نصاب میں نہیں ہے، امتحان میں نہیں آئے گا، وقت ضائع مت کرو۔ یہ سوال محض ایک فرضی تصور نہیں۔ یہ ہمارے پورے نظامِ تعلیم کے لیے ایک بے رحم آئینہ ہے جس میں ہم اپنی خامیاں دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے بچے کیا پڑھ رہے ہیں۔ اصل اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں سوچنے دے رہے ہیں یا نہیں۔ جب ہم ہندوستانی علمی روایت کی گہرائیوں میں اترتے ہیں تو ایک انوکھا اور فخر انگیز منظر سامنے آتا ہے۔ یہاں علم کبھی بھی ایک مُردہ معلومات کا ذخیرہ نہیں رہا۔ یہاں سوال عبادت تھا، مکالمہ تعلیم تھا، تلاشِ حقیقت زندگی کا مقصد تھی۔ اُپنشدوں کے عظیم مباحثے دیکھیے — جہاں استاد شاگرد کو جواب نہیں دیتا تھا، بلکہ سوال پوچھتا تھا۔ گارگی اور یاجنوالکیہ کے درمیان وہ تاریخی فکری مناظرہ دیکھیے جس میں ایک خاتون نے براہمنوں کے سردار کو ایسے سوالوں سے جھنجھوڑا کہ وہ خاموش ہو گئے۔ آچاریہ کناد کے ایٹم کے تصور کو دیکھیے جو آج کی جدید طبیعیات کا پیشرو تھا۔ آریہ بھٹ کے ریاضیاتی انکشافات دیکھیے جو اپنے عہد سے صدیوں آگے تھے۔ نالندہ اور تکشیلا کی مہان درسگاہوں کو دیکھیے جہاں دنیا کے کونے کونے سے طالبِ علم آتے تھے — نہ ڈگری کے لیے، بلکہ علم کی پیاس بجھانے کے لیے۔ نالندہ میں دس ہزار سے زائد طالبِ علم اور دو ہزار اساتذہ تھے۔ وہاں کا کتب خانہ اتنا عظیم تھا کہ جب اسے جلایا گیا تو وہ تین ماہ تک جلتا رہا۔ یہ صرف عمارتیں نہیں تھیں — یہ ایک تہذیبی دماغ تھا، ایک زندہ روح تھی جو ہزاروں انسانوں کی فکر سے مل کر بنی تھی۔ ہمارے آباء نے کتابوں کو مقدس ضرور سمجھا، مگر سوچنے کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔ وہ جانتے تھے کہ بند دروازے والا ذہن علم کا نہیں، خوف کا گھر بنتا ہے۔ پھر ایسا کیا ہوا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر محب تعلیم کی نیند اڑا دیتا ہے۔ ایسا کیا ہوا کہ سوال کرنے والی قوم رَٹّا کرنے والی قوم بن گئی؟ ایسا کیا ہوا کہ تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی؟ ایسا کیا ہوا کہ فہم کی جگہ نمبروں نے اور علم کی جگہ سرٹیفکیٹ نے لے لی؟ اس سوال کا جواب ہمیں نوآبادیاتی تاریخ کے تاریک اوراق میں ملتا ہے۔ ۱۸۳۵ء میں جب لارڈ میکالے نے اپنا وہ بدنامِ زمانہ منٹ لکھا تو اس نے صرف ایک نصاب نہیں بدلا — اس نے ایک پوری قوم کے سوچنے کا انداز بدل دیا۔ آہستہ آہستہ تعلیم زندگی کی تیاری کے بجائے امتحان کی تیاری بن گئی۔ اسکول شخصیت سازی کے مراکز کے بجائے امتحانی کارخانے بن گئے۔ اور استاد — علم کا وہ چراغ جو تاریکیوں میں روشنی دیتا تھا — نصاب مکمل کرنے والا ملازم بنتا گیا۔ ۱۹۴۷ء میں ہم نے سیاسی آزادی حاصل کی لیکن ذہنی آزادی؟ وہ ابھی بھی نوآبادیاتی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ ہم نے عمارتیں بدل دیں، پرچم بدل دیا، حکمران بدل دیے مگر تعلیم کا وہ نوآبادیاتی

تعلیم:انسان بنانے کا فن یا امتحان پاس کرانے کی مشین؟ Read More »

ممبئی لوکل ٹرین کا ایک المیہ، خاموش معاشرہ اور مرتی ہوئی انسانیت

ڈاکٹر اسد اللہ خان کچھ دن پہلے پوری دنیا سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھی۔ لوگ حفاظتی چشمے خرید رہے تھے، دوربینیں لگا رہے تھے اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائے اس نادر فلکیاتی منظر کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن افسوس… ہم آسمان پر چھانے والے چند لمحوں کے اندھیرے کو تو دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنے دلوں، اپنے معاشرے اور اپنی تہذیب پر چھا جانے والے دائمی اندھیرے کو محسوس نہیں کرتے۔ سورج پر لگنے والا گرہن چند منٹوں میں ختم ہو جاتا ہے، مگر انسان کے ضمیر پر لگنے والا گرہن نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ ممبئی کی لوکل ٹرین میں پیش آنے والا مینک لوہار کا المناک قتل اسی اندرونی گرہن کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی، ہمارے بکھرتے ہوئے سماجی رشتوں اور مرتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے۔ ممبئی لوکل… صرف ٹرین نہیں، پورے شہر کا دل ہے ممبئی کی لوکل ٹرین کو لوگ محض ایک ٹرانسپورٹ سسٹم سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ شہر کی شہ رگ ہے۔ یہ روزانہ لاکھوں خوابوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ کوئی مزدور اپنے بچوں کی روٹی کے لیے سفر کر رہا ہوتا ہے، کوئی طالب علم اپنے مستقبل کی تلاش میں نکلتا ہے، کوئی ماں اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے جا رہی ہوتی ہے، اور کوئی نوجوان اپنی پہلی ملازمت کے خواب سجا رہا ہوتا ہے۔ کوئی نوجوان اپنی پہلی تنخواہ کے خواب سجاتا ہے۔ان ہی ڈبوں میں کتنی دعائیں سفر کرتی ہیں، کتنی امیدیں بیٹھتی ہیں، کتنے منصوبے جنم لیتے ہیں۔ یہ ٹرین صرف جسموں کو نہیں بلکہ امیدوں، خوابوں، ذمہ داریوں اور مستقبل کو ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک پہنچاتی ہے۔ مگر جب اسی ٹرین کے اندر خون بہنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ صرف ایک مسافر نہیں مرا، بلکہ پورا معاشرہ زخمی ہوا ہے۔ صرف ایک جملہ… ایک درخوست اور ایک زندگی ہمیشہ کے لئے خاموش کر دی گئی۔ منگل، ۲۳ جون کی وہ رات بظاہر ہر رات کی طرح معمول کی تھی۔ چرچ گیٹ سے نالاسوپارا جانے والی فاسٹ لوکل اپنی رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ فرسٹ کلاس کوچ میں عام دنوں کی طرح لوگ بیٹھے تھے؛ کسی کے کانوں میں ائیر فون تھے، کوئی موبائل پر مصروف تھا، اور کوئی تھکن سے اونگھ رہا تھا۔ اسی دوران بائیس سالہ مینک لوہار نے صرف اتنی سی گزارش کی کہ دروازہ بند کر دیا جائے۔ سوچیے… صرف ایک جملہ۔ صرف ایک گزارش۔ “براہِ کرم دروازہ بند کر دیجیے۔” کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ جملہ موت کی سزا بن سکتا ہے؟ لیکن ممبئی کی اس لوکل ٹرین میں ایسا ہی ہوا۔ یہ ایک معمولی درخواست تھی، لیکن سامنے کھڑا شخص ۳۰ سالہ، ممبئی ائیر پورٹ کے کارگو سیکشن میں کام کرنے والا روشن سورنا، معمولی ذہنی کیفیت میں نہیں تھا۔ اس کے اندر شاید برسوں کا غصہ، ناکامیاں، مایوسیاں، شراب کا نشہ، اور انا کا زہر جمع تھا۔ ایک لمحے میں چاقو نکلا، چند سیکنڈ میں کئی وار ہوئے، اور ایک ہنستا کھیلتا نوجوان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ایک بائیس سالہ نوجوان، جس کے والدین نے شاید صبح اسے دعاؤں کے ساتھ گھر سے رخصت کیا ہوگا، جس کی ماں نے شام کو اس کے پسندیدہ کھانے کا سوچا ہوگا، جس کے خواب ابھی حقیقت بننے ہی والے تھے… چند لمحوں میں خون میں نہلا دیا گیا۔ قاتل صرف ایک شخص نہیں تھا…؟ اخبارات لکھیں گے کہ قاتل فلاں شخص تھا، پولیس چارج شیٹ داخل کرے گی، اور عدالت سزا سنائے گی۔ لیکن اگر ہم صرف اتنا سمجھ کر مطمئن ہو جائیں تو شاید ہم اصل مجرم کو کبھی نہ پہچان سکیں۔ سوال یہ ہے کہ اس بوگی میں بیٹھے ہوئے درجنوں مسافر کیا کر رہے تھے؟ کیا ان میں سے کوئی ایک شخص بھی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا؟ کیا چار پانچ افراد مل کر قاتل کو قابو نہیں کر سکتے تھے؟ یا پھر ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انسان صرف اپنی جان بچانے کا نام ہے؟ یہ خاموش تماشائی کون تھے؟ ہم… آپ… ہم سب۔ قاتل صرف ایک شخص تھا… یا ہم سب؟ پولیس اپنی کارروائی مکمل کر لے گی۔ تب شاید عدالت قاتل کو سزا دے۔ اور پھر اخبارات نئی سرخیاں تلاش کر لیں گے۔ لیکن ایک سوال شاید کبھی ختم نہ ہو۔ جب مینک زمین پر گرا تھا… جب اس پر وار ہو رہے تھے… جب وہ زندگی اور موت کے درمیان آخری سانسیں لے رہا تھا… تب اس بوگی میں بیٹھے ہوئے درجنوں لوگ کیا کر رہے تھے؟ کیا ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے؟ کیا ان کی زبانیں گونگی ہو گئی تھیں؟ یا پھر ان کے دلوں سے انسانیت رخصت ہو چکی تھی؟ یہ سوال صرف ان مسافروں سے نہیں… یہ سوال ہم سب سے ہے۔ ہم کب اتنے بے بس، اتنے خوف زدہ اور اتنے خود غرض ہو گئے کہ ایک انسان کو مرتا دیکھ کر بھی خاموش بیٹھے رہے؟ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک شخص نے چاقو چلایا، مگر درحقیقت پورا معاشرہ خاموش کھڑا رہا۔ دنیا میں سب سے خطرناک آواز گولی کی نہیں ہوتی… سب سے خطرناک آواز اچھے لوگوں کی خاموشی کی ہوتی ہے۔ اب ہمیں انسانوں سے نہیں، ان کے غصے سے ڈر لگتا ہے آج اگر کوئی شخص ٹرین میں بلند آواز میں موبائل چلا رہا ہو… اگر کوئی بدتمیزی کر رہا ہو… اگر کوئی دوسروں کو تکلیف پہنچا رہا ہو… تو اکثر لوگ خاموش رہتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ غلط کو صحیح سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ اب ہمیں قانون سے زیادہ انسانوں کے اندر چھپے ہوئے غصے سے خوف آنے لگا ہے۔ ہر شخص سوچتا ہے… “اگر میں نے کچھ کہا تو؟” “اگر سامنے والا ذہنی دباؤ کا شکار ہوا تو؟” “اگر اس کے ہاتھ میں چاقو ہوا تو؟” “اگر کل اخبار میں میری تصویر چھپ گئی تو؟” سوچیے… جس معاشرے میں صحیح بات کہنا جان کا خطرہ بن جائے، وہاں تہذیب زندہ کیسے رہ سکتی ہے؟ یہ خوف صرف ایک فرد کا نہیں، یہ پورے شہر کی نفسیات بن چکا ہے۔ ہم سب کے اندر ایک خاموش جنگ جاری

ممبئی لوکل ٹرین کا ایک المیہ، خاموش معاشرہ اور مرتی ہوئی انسانیت Read More »

ماں کے ایک جملے نے آئی آئی ٹی تک پہنچا دیا!!!

“جو بھی کرو گے، وہ درست ہوگا!” ایک ماں کا یقین، ایک باپ کے پسینے، ایک استاد کی رہنمائی اور ایک پینٹر بیٹے کے خواب کی لازوال داستان ایک پینٹر کا خواب: میں رنگ کرتا رہا دیواریں دوسروں کی، تاکہ میرا بیٹا رنگ بھر سکے اپنے خوابوں میں۔ یہ محنت کرتا رہا دن رات، تاکہ وہ پڑھ سکے دن رات، اور اس نے محنت کو عبادت بنا دیا۔ انگریزی نہیں آتی تھی، مگر ہمت تھی۔ سرکاری اسکول میں پڑھا، NMMS اسکالرشپ ملی۔ روزانہ 8 گھنٹے محنت، موک ٹیست میں ناکامیاں۔ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب سب کچھ چھوڑنے کا سوچا! تب ماں نے کہا: “جو بھی کرو گے، وہ درست ہوگا!” اور ایک دن — جے ای ای ایڈوانسڈ میں کامیابی! نتیجہ صرف ساگر کا نہیں تھا… یہ ایک والد کا پسینہ تھا، ایک ماں کی دعا تھی، ایک استاد کا اعتماد تھا، ایک سرکاری اسکول کا سہارا تھا، اور ہندوستان کے کروڑوں غریب گھروں کے خواب کا چین جانا تھا۔ محترم والدین! اپنے بچوں کو صرف نصیحتیں نہ دیں بلکہ یقین دیں۔ صرف نتائج نہ پرکھیں، ان کا جذبہ اور اعتماد پیدا کریں۔ یقین رکھیں، اپنے بچوں کو یقین دلائیں کہ وہ بھی بن سکتے ہیں۔ عزیز طلبہ! اگر راستہ مشکل ہے تو آپ ہو منزل بڑی ہے۔ ناکامی رفتار کم کرتی ہے، سفر ختم نہیں کرتی۔ اپنے خوابوں کو پالنے سے مت چھوڑو، ایک دن دنیا تہاری نتائج دیکھے گی۔ مگر اللہ تہاری جدوجہد دیکھ رہا ہے۔ “جو بھی کرو گے، وہ درست ہوکے… بس پڑھائی جاری رکھو!” تحریر: ڈاکٹر اسداللہ خان Asadullahkhanschoolasadullahkhanschool.org

ماں کے ایک جملے نے آئی آئی ٹی تک پہنچا دیا!!! Read More »

بے بصیرت نسل نو مانگے زندگی کی ضمانت

جین زی، تعلیمی نظام اور مستقبل کے خوف کی نفسیات ڈاکٹر اسد اللہ خان کبھی کبھی معاشروں میں آنے والی تبدیلیاں شور مچا کر نہیں آتیں۔ وہ خاموشی سے نسلوں کے رویوں میں اترتی ہیں۔ پھر ایک دن ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بدل چکی ہے۔ آج دنیا بھر میں ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ انجینئر کاروبار سیکھ رہا ہے، ڈاکٹر یوٹیوب چینل چلا رہا ہے، استاد آن لائن کورس بیچ رہا ہے، طالب علم شیئر مارکیٹ سمجھ رہا ہے، اور یونیورسٹی سے فارغ ہونے والا نوجوان ملازمت ڈھونڈنے سے پہلے “Passive Income” کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آخر ایسی کون سی تبدیلی رونما ہوئی ہے کہ ایک پوری نسل نوکری سے پہلے “Exit Plan” تیار کر رہی ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ آج کا نوجوان کسی کمپنی میں داخل ہونے سے پہلے اس دن کے بارے میں سوچ رہا ہے جب وہ کمپنی اسے نکال دے گی؟ آخر وہ کون سا خوف ہے جو اس نسل کے لاشعور میں بیٹھ گیا ہے؟ پچھلی نسلوں کا خواب سادہ تھا۔ پڑھو، اچھی ڈگری حاصل کرو، اچھی نوکری حاصل کرو، گھر بناؤ، بچوں کو پڑھاؤ اور ریٹائر ہو جاؤ۔ یہی کامیابی تھی، یہی استحکام تھا، یہی زندگی کا نقشہ تھا۔ لیکن آج کا نوجوان اس نقشے پر یقین نہیں رکھتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بڑی بڑی ڈگریاں بے روزگاری کی ضمانت بن سکتی ہیں۔ اس نے دیکھا کہ کورونا کی ایک لہر نے کروڑوں ملازمتیں ختم کر دیں۔ اس نے دیکھا کہ مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں وہ کام کر رہی ہے جو کبھی ہزاروں افراد کیا کرتے تھے۔ اس نے دیکھا کہ کئی برسوں کی وفاداری کے بعد بھی ایک ای میل انسان کو بے روزگار بنا سکتی ہے۔ چنانچہ اس نسل نے ایک نیا سبق سیکھ لیا: “کسی ایک چیز پر انحصار خطرناک ہے۔” لیکن یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔ کیا واقعی مسئلہ صرف روزگار کا ہے، یا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ تعلیمی بحران بھی ہے۔ کیونکہ ہماری پوری تعلیمی مشینری اب بھی بیسویں صدی کے لیے بچوں کو تیار کر رہی ہے جبکہ دنیا اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم اب بھی بچوں سے پوچھتے ہیں: “بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ ڈاکٹر؟ انجینئر؟ پائلٹ؟ استاد؟ افسر؟” مگر شاید اب سوال بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ آج کا سوال یہ ہونا چاہیے: “تم کون سی صلاحیتیں پیدا کرو گے جو ہر دور میں تمہیں زندہ رکھ سکیں؟” یہاں ہماری تعلیم کی ایک بنیادی کمزوری سامنے آتی ہے۔ ہم بچوں کو امتحان پاس کرنا سکھاتے ہیں، مسائل حل کرنا نہیں۔ ہم انہیں معلومات دیتے ہیں، بصیرت نہیں دیتے۔ ہم انہیں نوکری حاصل کرنا سکھاتے ہیں، مواقع پیدا کرنا نہیں سکھاتے۔ ہم انہیں یادداشت دیتے ہیں، تخلیق نہیں دیتے۔ آج کا نوجوان ایک اہم سوال پوچھ رہا ہے۔ شاید وہ الفاظ میں بیان نہ کر سکے لیکن اس کے اندر یہ سوال مسلسل موجود ہے: “اگر میری ڈگری مجھے تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر مجھے کیا چیز محفوظ بنا سکتی ہے؟” اس سوال کا جواب صرف ملازمت نہیں، صرف کاروبار نہیں، صرف سرمایہ کاری نہیں، بلکہ صلاحیتوں کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کو ہر دور میں کارآمد بنا دے۔ Communication Skills، Critical Thinking، Problem Solving، Leadership، Digital Literacy، Entrepreneurship، Character Building اور سب سے بڑھ کر Learning Agility یعنی مسلسل سیکھتے رہنے کی صلاحیت۔ بدقسمتی سے ہمارے بہت سے تعلیمی ادارے اب بھی صرف نصاب مکمل کرنے کو تعلیم سمجھتے ہیں۔ جبکہ آنے والی دنیا میں نصاب سے زیادہ اہم “قابلیت” ہوگی، امتحان سے زیادہ اہم “مہارت” ہوگی اور ڈگری سے زیادہ اہم “Value Creation” ہوگی۔ یہ بھی ایک دلچسپ المیہ ہے کہ Gen Z کو Work-Life Balance کی نسل کہا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ شاید یہ نسل اپنے والدین سے زیادہ کام کر رہی ہے۔ دن میں نوکری، رات میں فری لانسنگ، ہفتہ وار کانٹینٹ کری ایشن، سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ اور ساتھ میں نئی مہارتیں سیکھنے کی کوشش۔ یہ سب کیوں؟ کیونکہ انہیں کام سے نفرت نہیں، انہیں غیر یقینی مستقبل سے خوف ہے۔ ایک معلم کی حیثیت سے مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ کہیں ہم نوجوانوں کو صرف آمدنی پیدا کرنے والی مشینیں نہ بنا دیں۔ کیونکہ زندگی صرف مالی آزادی کا نام نہیں، زندگی مقصد کا نام بھی ہے، اخلاق کا نام بھی ہے، خدمت کا نام بھی ہے، کردار کا نام بھی ہے، معاشرے کی تعمیر کا نام بھی ہے۔ اگر تعلیم صرف پیسہ کمانا سکھائے اور انسان بننا نہ سکھائے تو وہ تعلیم نہیں، محض تربیتِ معاش ہے۔ آنے والے زمانے کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ کون سی ملازمت باقی رہے گی، بلکہ یہ ہوگا کہ کون سا انسان ہر تبدیلی کے باوجود اپنی افادیت برقرار رکھ سکے گا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیمی اداروں کو اپنا پورا فلسفہ ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔ ہمارا مقصد صرف ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا تاجر پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے انسان پیدا کرنا ہونا چاہیے جو حالات کے غلام نہ ہوں بلکہ حالات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ شاید اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ Gen Z نوکریوں کو مسترد نہیں کر رہی۔ وہ کام سے فرار نہیں چاہتی، محنت سے بھی نہیں بھاگ رہی۔ وہ دراصل ایک ایسی دنیا میں زندہ رہنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے جہاں کوئی چیز مستقل نہیں رہی۔ اور شاید اس پوری کہانی کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ مستقبل ان لوگوں کا نہیں ہوگا جن کے پاس صرف ڈگریاں ہوں گی، بلکہ ان کا ہوگا جن کے پاس سیکھنے، بدلنے اور نئے راستے بنانے کی صلاحیت ہوگی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم کا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔ “زمانہ بدلنے سے پہلے اگر تعلیم نہ بدلے، تو پھر زمانہ تعلیم کو بے معنی بنا دیتا ہے۔” Asadullahkhanschoolasadullahkhanschool.org

بے بصیرت نسل نو مانگے زندگی کی ضمانت Read More »

محنت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا!!

جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 کے نتائج اور نوجوان نسل کے لیے کامیابی کا منشور ڈاکٹر اسد اللہ خان کچھ نتائج ایسے ہوتے ہیں جو صرف چند طلبہ کی کامیابی کی داستان نہیں سناتے بلکہ پوری نوجوان نسل کے لیے پیغام بن جاتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ خواب کیسے پورے ہوتے ہیں، منزلیں کیسے حاصل کی جاتی ہیں اور کن کمزوریوں سے بچ کر انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔وہ صرف یہ نہیں بتاتے کہ کون کامیاب ہوا، بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کامیابی تک پہنچنے والوں نے کون سی عادتیں اپنائیں، کن مشکلات کا سامنا کیا اور کس طرح اپنی کمزوریوں پر قابو پایا۔ حال ہی میں جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 کے نتائج کا اعلان ہوا۔ایک لاکھ اناسی ہزار سے زائد طلبہ اس امتحان میں شریک ہوئے۔ان میں سے تقریباً ستاون ہزار طلبہ کامیاب قرار پائے۔لیکن پورے ملک کی توجہ تین نوجوانوں پر مرکوز ہو گئی۔ شُبھم کمار (AIR-1)، کبیر چھلّر (AIR-2) اور جاتن چاہر (AIR-3)۔ جب ہم ان کی کامیابیوں کے پیچھے جھانکتے ہیں تو ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے۔ان میں سے کسی نے کامیابی کا راز غیر معمولی ذہانت کو قرار نہیں دیا۔کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ چوبیس گھنٹے پڑھتے تھے۔ کسی نے شارٹ کٹ، جادوئی فارمولا یا کسی خفیہ تکنیک کا ذکر نہیں کیا۔بلکہ تینوں کی زبان پر تقریباً ایک ہی پیغام تھا، Dedication, Discipline and Consistencyیعنی وابستگی، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی۔یہی کامیابی کا اصل نسخہ ہے۔ بہار کے ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے شُبھم کمار نے 360 میں سے 330 نمبر حاصل کرکے پورے ہندوستان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ان کے والد ہارڈویئر کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ان کے خاندان میں انجینئر بننے کا خواب ابھی پہلی نسل کا خواب تھا۔شُبھم نے ایک ایسی بات کہی جو ہر طالب علم کو زندگی بھر یاد رکھنی چاہیے کہ کامیابی لمبے وقت تک پڑھنے میں نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور سیکھنے کے عمل پر اعتماد میں ہے۔یہ جملہ ہمارے پورے تعلیمی نظام کے لیے آئینہ ہے۔ کبیر چھلّر نے 329 نمبر حاصل کیےوہ صرف ایک نمبر سے پہلی پوزیشن سے پیچھے رہ گیالیکن ان کی سوچ انہیں لاکھوں طلبہ سے آگے لے گئی۔اس نے کبھی نمبروں کے پیچھے دوڑنے کی کوشش نہیں کی۔وہ Concepts کو سمجھنے پر توجہ دیتے رہے۔ہر امتحان کے بعد اپنی غلطیوں کا تجزیہ کرتے۔کمزوریوں کی فہرست بناتے اور پھر انہیں دور کرنے پر کام کرتے۔اس نے ثابت کیاکہ کامیاب طلبہ غلطیاں نہیں چھپاتے، بلکہ غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ جتن چاہر نے ساتویں جماعت سے اپنی علمی بنیادیں مضبوط کرنا شروع کر دی تھیں۔اس نے اولمپیاڈز میں حصہ لیا۔سائنس، فلکیات، کیمسٹری اور دیگر علمی سرگرمیوں میں خود کو مصروف رکھا۔پھر ایک مرحلے پر وہ ٹائیفائیڈ کا شکار ہو گئے۔امتحانات چھوٹ گئے۔کلاسیں متاثر ہوئیں۔مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔خاندان اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ دوبارہ کھڑے ہوئے اور پورے ہندوستان میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ جتن نے بتایا کہ ناکامی، بیماری یا مشکلات کامیابی کی راہ بند نہیں کرتیں، ہمت ہار دینا کامیابی کی راہ بند کرتا ہے۔ ہمارے طلبہ امتحانات میں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں؟ بطور معلم چالیس سال سے زیادہ عرصے کے تجربے کے بعد میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج کے طلبہ کی سب سے بڑی کمزوری کم ذہانت نہیں ہے۔بلکہ بے مقصد موبائل استعمال، سوشل میڈیا کی لت، غیر منظم مطالعہ، وقت کا زیاں، رٹّے پر انحصار، کمزور مطالعہ عادات، نیند کی کمی ، خود احتسابی کا فقدان، جلد نتائج حاصل کرنے کی خواہش ،یہ وہ خامیاں ہیں جو ذہین ترین طلبہ کو بھی ناکامی کی طرف لے جاتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں ، بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم کیا کریں؟ ان ٹاپرس کی باتیں سننے کے بعد یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہمیں کامیابی کے لئے ایک لائحۂ عمل بنانا ہوگا ۔کچھ اصولوں کو اپنی زندگی میں اختیارکرنا ہوگا مثلاً ۱. روزانہ کے اہداف مقرر کریں۔بغیر ہدف کے پڑھائی، بغیر نقشے کے سفر کی طرح ہے۔ ۲-. موبائل کا وقت محدود کریں۔مطالعہ کے دوران موبائل مکمل بند رکھیں۔ ۳-. غلطیوں کی ڈائری بنائیں-ہر امتحان کے بعد اپنی غلطیاں لکھیں۔ٹاپرز یہی کرتے ہیں۔ ۴-. تمامConcepts سمجھیں۔رٹّا وقتی نمبر دلا سکتا ہے۔فہم زندگی بھر کامیابی دیتا ہے۔ ۵. روزانہ Revision کریں۔پڑھنا ضروری ہے۔مگر دہرانا اس سے زیادہ ضروری ہے۔ ۶. اچھی نیند لیں۔نیند ضائع کرنا محنت نہیں بلکہ نقصان ہے۔ ۷-ہلکی جسمانی ورزش کریں۔صحت مند جسم ہی طویل علمی سفر برداشت کر سکتا ہے۔ ۸-اساتذہ سے سوال پوچھیں۔جو طالب علم سوال پوچھنے سے ڈرتا ہے وہ سیکھنے سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔ ۸-مستقل مزاجی اپنائیں۔روزانہ دو گھنٹے کی مستقل پڑھائی، دس گھنٹے کی غیر مستقل پڑھائی سے بہتر ہے۔ ۹-خود پر یقین رکھیں۔دنیا آپ پر یقین کرے یا نہ کرے، آپ کو خود پر یقین ہونا چاہیے۔ اس موقع پر والدین سے یہ گذارش کرنا چاہوں گاکہ اپنے بچوں پر صرف نمبروں کا دباؤ نہ ڈالیں۔ان کے اندر سیکھنے کی محبت پیدا کریں۔ان کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں۔ان کی محنت کو سراہیں۔ان کی غلطیوں پر رہنمائی کریں۔ان کی کامیابی کے سفر میں ان کے ساتھی بنیں، جج نہیں۔ وہیں اساتذہ سے یہ التجا ہے کہ آپ صرف نصاب مکمل نہ کریں بلکہ طلبہ کے اندر خواب بھی پیدا کریں۔اعتماد پیدا کریں۔سوچنے کی صلاحیت پیدا کریں۔کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ایک عظیم استاد ہزاروں زندگیاں بدل سکتا ہے۔ میرے عزیز طلبہ! یاد رکھو!شُبھم، کبیر اور جتن کسی دوسرے سیارے سے نہیں آئے تھے۔وہ بھی تمہاری طرح عام بچے تھے۔فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اپنی عادتوں کو غیر معمولی بنا لیا۔انہوں نے وقت کی قدر کی۔انہوں نے مستقل مزاجی اختیار کی۔انہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا۔انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور یہی چیز انہیں لاکھوں طلبہ سے ممتاز بنا گئی۔آج اگر تم موبائل کے استعمال کو قابو میں لے لو، اپنی توجہ کو محفوظ کر لو، اپنے وقت کی حفاظت کر لو اور روزانہ تھوڑا سا بہتر بننے کا عہد کر لو تو یقین جانو آنے والا ہندوستان تمہارا منتظر ہےکیونکہ کامیابی قسمت کے دروازے پر نہیں ملتی۔کامیابی محنت، نظم و ضبط، مستقل مزاجی

محنت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا!! Read More »

تعلیم کی حقیقی روح کی تلاش!!!

ڈاکٹر اسداللہ خان عصرِ حاضر کا ہندوستان ایک ایسے فکری و تہذیبی موڑ پر کھڑا ہے جہاں مادی ترقی کی چکا چوند تو عروج پر ہے، مگر ہماری اخلاقی اور تعلیمی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہوتی جا رہی ہیں۔ آج جب ہم اپنے تعلیمی گلستان پر نظر ڈالتے ہیں، تو وہاں علم کی خوشبو کے بجائے امتحانات کا دھواں اور مقابلوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ تعلیم کی حقیقی روح جو امتحانی پرچوں اور میرٹ لسٹوں کے نیچے دب کر دم توڑ چکی ہے،آج اس کی بازیافت کی پکارنےبے چین کردیا ہے ۔ انسانی تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو کائنات کے سب سے بڑے معلمِ اعظم پر نازل ہونے والا پہلا الہامی حکم “امتحان دو”نہیں تھا۔ لوحِ محفوظ سے انسانیت کے نام جو پہلا ابدی پیغام اترا، وہ تھا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ حکم ہواپڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔اس پہلے آسمانی سبق کا مقصد نمبرات کی دوڑ نہیں بلکہ شعور کی بیداری تھا۔ اس کا اولین حاصل کوئی دنیاوی ملازمت نہیں بلکہ خالق و مخلوق کی معرفت تھا۔ اسلام کی پوری علمی تاریخ اسی محور کے گرد گھومتی ہے۔ جب تک تعلیم ایک عبادت تھی، بغداد، قرطبہ، غرناطہ، سمرقند، بخارا اور دہلی کے مدارس سے ایسے نابغۂ روزگار انسان پیدا ہوتے تھے جو محض ڈگری یافتہ ملازم نہیں، بلکہ کائنات کے اسرا و رموز کو بے نقاب کرنے والے فلاسفر، موجد اور محقق تھے۔ امام غزالیؒ، ابن رشدؒ، ابن خلدونؒ، شاہ ولی اللہؒ اور سر سید احمد خانؒ کی علمی و فکری عظمت کا راز معلومات کے انبار میں نہیں، بلکہ ان کی فکر کی اس وسعت میں تھا جو زندگی اور کائنات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی تھی۔ مگر افسوس! صدیوں کے اس سفر میں ہم نے اس اصلِ اثاثہ کو کہیں کھو دیا۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ گوگل ہماری جیبوں میں تو موجود ہے لیکن حکمت ہمارے دلوں سے رخصت ہو چکی ہے۔ ہمارے پاس معلومات کے انبار ہیں مگر فکری گہرائی کا قحط ہے۔ ہم نے ذہنوں کو اندھا دھند معلومات سے بھرنا تو سیکھ لیا، مگر شخصیتوں کو تراشنا اور کردار کو تعمیر کرنا یکسر بھلا دیا۔ آج کا ہندوستان تعلیمی نظام کے نام پر ایک ایسی کارگاہ میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں انسان نہیں، بلکہ “امتحانی جنگجو” (Exam Warriors) تیار کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں NEET، JEE، CUET، SSC اور HSC جیسے قومی سطح کے امتحانات کے گرد پیدا ہونے والے پیپر لیک، امتحانی مافیا، رشوت ستانی اور سنگین بدعنوانیوں کے تنازعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن المیہ دیکھیے کہ ہمارا سماج اور پالیسی ساز صرف اس نظام کی ظاہری شاخوں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں، کوئی بھی اس ناسور کی اصل جڑ تک پہنچنے کی زحمت نہیں کر رہا۔ اصل بحران پیپر لیک ہونا نہیں ہے، بلکہ اصل بحران یہ ہے کہ ہمارا پورا تعلیمی ڈھانچہ اپنی روح سے محروم ہو چکا ہے۔ ہم نے تعلیم کو محض “معلومات کی منتقلی” (Information Transfer) کا نام دے دیا ہے، جبکہ تعلیم تو بنیادی طور پر “انسان سازی” (Human Making) کا ایک مقدس عمل تھا۔ آج ایک معصوم بچے کا پانچ سال کی عمر میں اسکول کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بچپن کا دائرہ تنگ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ناتواں کندھوں پر کتابوں کا بھاری بستہ لاد کر اسے ایک ایسی لامتناہی اور اندھی دوڑ میں دھکیل دیا جاتا ہے جہاں ہر اگلا موڑ پچھلے سے زیادہ بے رحم ہوتا ہے: پری پرائمری سے پرائمری کی دوڑ، پرائمری سے سیکنڈری کی مشقت، سیکنڈری سے جونیئر کالج کا تناؤ، جونیئر کالج سے انٹرنس امتحانات کے عذاب تک اور آخر میں روزگار کی منڈی میں خود کو بیچنے کا مقابلہ ،اس پوری تگ و دو میں اوراس طویل مسافت کے کسی بھی موڑ پرکوئی ہمدرد استاد یا نظامِ تعلیم اس بچے سے یہ نہیں پوچھتاکہ تم کیا سوچتے ہو؟ تمہارے دل کے جذبات کیا ہیں؟ تمہارے انفرادی خواب کیا ہیں؟ اور تم ایک انسان کے طور پر کیسے بن رہے ہو؟ پورا نظامِ حکومت، اسکول اور والدین صرف ایک ہی رٹ لگائے بیٹھے ہیں کہ تمہارے پرسنٹائل کتنے آئے؟ میرٹ لسٹ میں تمہارا رینک کیا ہے؟ یہی وہ تاریک لمحہ ہے جہاں تعلیم سسک سسک کردم توڑ دیتی ہے اور “امتحان” ایک جلاد کی طرح زندہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ فکرمند اذہان ان امتحانات کو سماجی کنٹرول کا ہتھیارقرار دیتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو لاکھوں نوجوانوں کی زندگی کے سب سے خوبصورت، تخلیقی اور سنہرے سالوں کو تین گھنٹے کے ایک بے جان پرچے میں قید کر دیتا ہے۔ اس امتحانی جنون کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میں “کوچنگ انڈسٹری” کے نام سے ایک متوازی اور ظالمانہ تعلیمی سلطنت قائم ہو چکی ہے۔ کروڑوں روپے کے اس کاروبار میں معصوم بچوں کا بچپن فروخت ہو رہا ہے، نوجوانوں کی صلاحیتیں گروی رکھی جا رہی ہیں، اور ان کے اچھوتے خواب اس منڈی میں کوڑیوں کے دام نیلام ہو رہے ہیں۔ پھر جب کوٹا (Kota) جیسے تعلیمی مراکز سے معصوم بچوں کی خودکشیوں کی خبریں آتی ہیں، جب نوجوان نسل شدید ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر موت کو گلے لگاتی ہے، تو یہ سماج حیرت کا اظہار کرتا ہے! ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم نے انہیں جینا سکھایا ہی کب تھا؟ ہم نے تو انہیں صرف مقابلہ کرنا سکھایا تھا۔ ہم نے انہیں کامیابی کے طریقے تو رٹائے، مگر زندگی کا حقیقی مطلب نہیں بتایا۔ ہم نے انہیں نوکری کے لیے تو تیار کیا، مگر ایک ذمہ دار شہری اور باوقار انسان بننے کا گر نہیں سکھایا۔ اگر ہم غور و فکر کی آنکھوں سے دیکھیں تو کائنات کی کوئی بھی عظیم تبدیلی رٹّے بازی سے نہیں آئی۔ قرآن کریم کی آیاتِ بینات کا ایک بڑا حصہ انسان کو بار بار تدبر، تفکر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔ کلامِ الٰہی پکار پکار کر کہتا ہے کہ قرآن کا طالب علم وہ ہے جو اندھی تقلید نہیں کرتا، بلکہ کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے، اپنے نفس کو پڑھتا ہے، تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے اور سوال پوچھتا ہے۔ اگر تعلیم

تعلیم کی حقیقی روح کی تلاش!!! Read More »

جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں!

کبھی کبھی ایک خبر صرف خبر نہیں ہوتی۔وہ ایک سوال ہوتی ہے جو پورے معاشرے کے ضمیر کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔کبھی کوئی رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ان کروڑوں نوجوانوں کی خاموش چیخ ہوتی ہے جن کے خواب کسی دفتر کی میز، کسی بدعنوان اہلکار کی جیب، کسی خفیہ واٹس ایپ گروپ یا کسی منظم مافیا کے ہاتھوں نیلام ہو چکے ہوتے ہیں۔ حال ہی میں ہندوستان کے ایک ممتاز قومی اخبار کی تحقیق نے ملک کے امتحانی نظام کے ایک ایسے تاریک پہلو سے پردہ اٹھایا ہے جس نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ پورے ملک کے سنجیدہ اذہان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔تحقیق کے مطابق 2002 سے 2025 تک ایسے پینتالیس بڑے امتحانات کے پرچے لیک ہوئے جن میں ہر امتحان میں ایک لاکھ سے زائد امیدوار شریک تھے۔ کروڑوں نوجوانوں کی محنت، امیدیں اور مستقبل ان امتحانات سے وابستہ تھے۔ مگر اصل المیہ صرف پرچوں کا لیک ہونا نہیں۔اصل المیہ یہ ہے کہ ان پینتالیس بڑے مقدمات میں صرف دو مقدمات سزا تک پہنچ سکے۔ جی ہاں، صرف دو! باقی مقدمات یا تو تحقیقات کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئے، یا عدالتی راہداریوں میں برسوں تک سرگرداں رہے، یا پھر وقت کی گرد نے ان کے نشانات تک دھندلا دیے۔اس لیے آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ پرچے کس نے لیک کیے؟ اصل سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام میں انصاف کہاں لیک ہو گیا؟ ایک قوم کے خوابوں کی قیمت کتنی ہوتی ہے؟ کسی متوسط یا غریب گھرانے کے دروازے پر دستک دیجیے۔آپ کو ایک نوجوان ملے گا جو رات گئے تک کتابوں میں گم رہتا ہے۔اس کی میز پر نصابی کتابیں ہوں گی۔دیواروں پر خوابوں کے نقشے آویزاں ہوں گے۔ماں کی دعائیں اس کے ساتھ ہوں گی۔باپ کی امیدیں اس کے مستقبل سے وابستہ ہوں گی۔گھر کے اخراجات کم کر کے کوچنگ کی فیس ادا کی گئی ہوگی۔بہن نے اپنی خواہشات ملتوی کی ہوں گی۔والد نے اضافی وقت کام کیا ہوگا۔اور پھر ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ امتحان کا پرچہ امتحان سے پہلے ہی فروخت ہو چکا تھا۔ سوچیے!اس لمحے صرف ایک سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوتا۔اس لمحے ایک نوجوان کا اعتماد لیک ہو جاتا ہے۔ایک خاندان کی امید لیک ہو جاتی ہے۔ایک ماں کی دعا زخمی ہو جاتی ہے اور ایک قوم کے مستقبل پر ثبت اعتماد کا مہر بند لفافہ پھٹ جاتا ہے۔ جانچ کے نظام پر اعتماد کا بحران! جب امتحان کی کاغذی پرچیوں کے ساتھ بچوں کا مستقبل اور والدین کی راتوں کی نیندیں بھی بازار میں بکنے لگیں، تو پورے جانچ کے نظام پر سے ایک نسل کا بھروسہ ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے۔ امتحان کسی بھی تعلیمی نظام کی روح ہوتے ہیں۔یہ محض نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ صلاحیت، محنت، قابلیت اور کردار کی جانچ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔طالب علم جب امتحانی ہال میں داخل ہوتا ہے تو دراصل وہ ریاست کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ کرتا ہے۔اسے یقین ہوتا ہے کہ امتحان منصفانہ ہوگا،سوالات محفوظ ہوں گے،جانچ غیر جانب دار ہوگی اور کامیابی صرف قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ملے گی۔ مگر جب امتحانات بار بار منسوخ ہونے لگیں، سوالیہ پرچے لیک ہونے لگیں اور نتائج متنازع بننے لگیں تو نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک نہایت خطرناک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی میری محنت ہی میری کامیابی کا فیصلہ کرے گی؟ یہ بظاہر ایک سادہ سوال ہے، مگر درحقیقت پورے تعلیمی فلسفے کو چیلنج کرتا ہے۔ کسی بھی تعلیمی نظام کی اصل طاقت اس کی عمارتیں، ٹیکنالوجی یا نصاب نہیں ہوتے،اس کی اصل طاقت اس کی ساکھ ہوتی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک—فن لینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور جاپان—نے صرف وسائل کی بنیاد پر ترقی نہیں کی بلکہ امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو اپنی قومی ترقی کا ستون بنایا۔اگر ہندوستان جیسے عظیم ملک میں نوجوان امتحانی نظام پر اعتماد کھو دیں تو اس کا نقصان صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے انسانی سرمائے (Human Capital) کو متاثر کرتا ہے۔ اس لئے یہ صرف امتحان کا بحران نہیں۔یہ Meritocracy یعنی قابلیت اور اہلیت پر مبنی معاشرتی نظام کا بحران ہے۔ کیا یہ عوامی اداروں میں احتساب کی ناکامی نہیں ہے؟ کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل قوت اس کے اداروں کی شفافیت اور جواب دہی میں پوشیدہ ہوتی ہے لیکن جب ہزاروں گرفتاریاں ہوں، سینکڑوں چارج شیٹس داخل ہوں، لاکھوں امیدوار متاثر ہوں اور پھر بھی سزائیں نہ ہونے کے برابر ہوں تو ایک بنیادی سوال سر اٹھاتا ہے کہ آخر ذمہ دار کون ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے معاشروں میں اکثر چھوٹے کردار پکڑے جاتے ہیں جبکہ بڑے کردار نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔کسی واٹس ایپ گروپ کے منتظم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔کسی درمیانی درجے کے ملازم کو معطل کر دیا جاتا ہے۔مگر وہ ادارہ جاتی کمزوریاں، وہ پالیسی خامیاں اور وہ انتظامی ناکامیاں جنہوں نے اس جرم کو ممکن بنایا، اکثر احتساب کے دائرے سے باہر رہ جاتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے متزلزل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔احتساب صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں۔احتساب دراصل اس پورے نظام کی اصلاح کا نام ہے جو جرم کو جنم دیتا ہے۔ جب تک تحقیقات بروقت نہیں ہوں گی، مقدمات غیر ضروری تاخیر کا شکار رہیں گے، ذمہ دار افسران جواب دہ نہیں ہوں گے اور اصلاحات مستقل بنیادوں پر نافذ نہیں کی جائیں گی، تب تک ہر نیا امتحان ایک نئے خطرے کے ساتھ منعقد ہوگا۔ تعلیمی اداروں کا سب سے بڑا سرمایہ ان کی عمارتیں نہیں بلکہ ان کی Credibility ہوتی ہے اور Credibility کی بنیاد ہمیشہ Accountability پر قائم ہوتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ نوجوان نسل پر امتحانی بدانتظامی کے کیا نفسیاتی اثرات ہوں گے؟ اس پورے بحران کا سب سے کم زیرِ بحث مگر سب سے سنگین پہلو نوجوانوں کی ذہنی صحت ہے۔ہر سال لاکھوں نوجوان مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔وہ برسوں کوچنگ سینٹروں میں وقت گزارتے ہیں۔وہ اپنی نیند، آرام، تفریح اور سماجی زندگی قربان کر دیتے ہیں۔وہ اپنی شناخت کو اپنے امتحانی نتائج کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔ پھر اچانک انہیں بتایا جاتا ہے کہ امتحان

جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں! Read More »

جب زبان صرف سیاست نہیں، قوموں کے مستقبل کا سوال بن جائے!!!

مہاراشٹر کے ایس ایس سی نتائج، مراٹھی کی بحث، اور ہماری لسانی ذمہ داریوں کا محاسبہ ڈاکٹر اسد اللہ خان اعداد و شمار بظاہر خاموش ہوتے ہیں مگر ان کی خاموشی میں پورے معاشروں کی کہانیاں بولتی ہیں۔ہر فیصد کے پیچھے ہزاروں خواب ہوتے ہیں، ہر نتیجے کے پیچھے برسوں کی تعلیمی جدوجہد، اور ہر تعلیمی رپورٹ کے پس منظر میں ایک قوم کی فکری ترجیحات پوشیدہ ہوتی ہیں۔ایک محقق کے لیے اعداد صرف ریاضیاتی حقیقت نہیں ہوتے، بلکہ وہ سماج کے ذہنی رجحانات، تہذیبی وابستگیوں اور تعلیمی سمتوں کو سمجھنے کی کنجیاں ہوتے ہیں۔اسی لیے بعض امتحانی نتائج محض کامیابی اور ناکامی کی خبر نہیں دیتے، بلکہ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ قومیں اپنی زبانوں، اپنی کتابوں، اپنے تعلیمی اداروں اور اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ کس نوعیت کا تعلق استوار کر رہی ہیں۔ مہاراشٹر کے ایس ایس سی امتحان 2026 کے نتائج کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہاں بحث صرف نمبروں کی نہیں، زبان، تہذیب، تعلیم اور شناخت کے باہمی رشتے کی ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کے ایس ایس سی امتحان 2026 کے نتائج نے بھی ایسا ہی ایک مکالمہ چھیڑ دیا ہے۔ایک طرف اردو بحیثیت پہلی زبان 95.47 فیصد کامیابی کے ساتھ نمایاں رہی، جبکہ دوسری جانب مراٹھی بحیثیت پہلی زبان 92.57 فیصد نتائج کے ساتھ ریاست بھر میں بحث و مباحثے کا موضوع بن گئی۔ظاہری طور پر یہ فرق صرف چند فیصد کا معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے پس منظر میں زبان، تعلیم، تہذیب، شناخت، سیاست اور مستقبل کے کئی اہم سوالات پوشیدہ ہیں۔ یہ سوال صرف اردو یا مراٹھی کا نہیں،بلکہ یہ سوال ہر اس زبان کا ہے جس کے سہارے کوئی قوم سوچتی، محسوس کرتی، خواب دیکھتی اور اپنی شناخت قائم رکھتی ہے۔آج سوال یہ نہیں کہ کس زبان نے زیادہ نمبر حاصل کیے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری نئی نسل زبانوں سے اپنا رشتہ کھو رہی ہے؟کیا کتاب کی جگہ اسکرین نے لے لی ہے؟کیا مطالعہ کی جگہ محض معلومات نے لے لی ہے؟اور کیا زبان اب تہذیب کے بجائے صرف امتحان کا ایک مضمون بن کر رہ گئی ہے؟ مراٹھی کے نتائج نے ایک عجیب ریاستی بے چینی کو جنم دیا ۔ایس ایس سی کے نتائج کے بعد مہاراشٹر کے متعدد اخبارات، اداریوں اور ٹی وی مباحثوں میں ایک سوال بار بار سنائی دیاکہ آخر وہ زبان جو مہاراشٹر کی سرکاری، تاریخی اور تہذیبی زبان ہے، اس کے نتائج مسلسل تشویش کا باعث کیوں بن رہے ہیں؟ دس لاکھ سے زائد طلبہ نے مراٹھی بحیثیت پہلی زبان امتحان دیا، لیکن ہزاروں طلبہ اس مضمون میں کامیاب نہ ہو سکے۔یہ محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں تھا۔یہ ایک تہذیبی اضطراب تھا۔اخبارات نے اس کی مختلف وجوہات بیان کیں۔کسی نے مطالعہ کے زوال کو ذمہ دار قرار دیا۔کسی نے موبائل کلچر اور مختصر ویڈیوز کی یلغار کو۔کسی نے انگریزی میڈیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کو موردِ الزام ٹھہرایااور کچھ ماہرین تعلیم نے نصاب، تدریسی حکمتِ عملی اور اساتذہ کی تربیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔لیکن شاید اصل مسئلہ ان تمام عوامل سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ زبانیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے بولنے والے کم ہو جائیں،زبانیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے پڑھنے والے کم ہو جائیں۔ اسی دوران اردو کے نتائج نے بھی تعلیم دوست حلقوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔اردو کو پہلی زبان کے طور پر منتخب کرنے والے طلبہ کی تعداد مراٹھی کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن کامیابی کا تناسب نمایاں طور پر بلند رہا۔یہ یقیناً اردو اساتذہ، والدین اور طلبہ کی محنت کا اعتراف ہے۔لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک اور حقیقت بھی پوشیدہ ہے۔اردو ابھی تک محض نصابی زبان نہیں بنی۔وہ آج بھی گھروں کی گفتگو میں زندہ ہے۔مساجد کے خطبات میں زندہ ہے۔ادبی محفلوں میں زندہ ہے۔اخبارات اور رسائل میں زندہ ہے۔شاعری، نعت، افسانے اور دینی لٹریچر میں زندہ ہے۔اسی لیے شاید اردو کے نتائج ہمیں ایک اہم سبق دیتے ہیں۔جب زبان صرف امتحان کا مضمون بن جائے تو نمبر کم ہونے لگتے ہیں، اور جب زبان تہذیب، مطالعہ اور شناخت بن جائے تو نتائج خود بلند ہونے لگتے ہیں۔لیکن اردو والوں کے لیے بھی یہ وقت جشن سے زیادہ احتساب کا ہے۔کیا ہمارے بچے واقعی اردو پڑھ رہے ہیں؟کیا ان کے گھروں میں کتابیں موجود ہیں؟کیا وہ اردو اخبارات سے واقف ہیں؟کیا وہ غالب، اقبال، حالی، شبلی، فیض، فراق اور منٹو کے نام جانتے ہیں؟اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر صرف امتحانی کامیابی ہماری منزل نہیں ہو سکتی۔ ایس ایس سی نتائج کے ساتھ ہی مہاراشٹر میں ایک اور زبان سے متعلق بحث زور پکڑ گئی۔رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے بنیادی مراٹھی زبان جاننے کی شرط۔اس موضوع نے اخبارات، سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل پیدا کیا۔حامیوں کا کہنا تھا کہ عوامی خدمات فراہم کرنے والوں کو ریاست کی زبان آنی چاہیے۔مخالفین کا استدلال تھا کہ روزگار کو زبان سے مشروط کرنا مناسب نہیں۔دونوں طرف دلائل موجود تھے۔دونوں طرف جذبات بھی تھے۔ اس پورے مباحثے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تقریباً تمام سنجیدہ ماہرینِ تعلیم، ادبی شخصیات اور پالیسی ساز ایک بنیادی نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ زبان کا مسئلہ محض سیاست کا مسئلہ نہیں بلکہ تعلیم، مطالعہ اور تہذیب کا مسئلہ ہے۔ کوئی زبان صرف قانون کے زور پر زندہ نہیں رہ سکتی اور نہ ہی صرف جذباتی نعروں سے ترقی کر سکتی ہے۔ دادا بھوسے نے مراٹھی تعلیم کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، لکشمی کانت دیشمکھ نے مادری زبان کی بنیاد کو اہم قرار دیا، ایکناتھ شندے نے کتاب اور لائبریری کلچر کی حمایت کی، جبکہ راج ٹھاکرے نے لسانی شناخت کے تحفظ کو ضروری بتایا۔ ان مختلف آراء کا مشترکہ پیغام یہی ہے کہ زبانوں کی بقا کا راستہ تعلیمی معیار، مطالعہ کی عادت، ادبی شعور اور معاشرتی وابستگی سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ صرف قانونی جبر یا سیاسی نعروں سے۔ لیکن شاید اس بحث کا سب سے متوازن اور تعمیری نقطۂ نظر یہ ہے کہ زبان کا احترام ضروری ہے، لیکن زبان کی ترقی صرف قانون کے سہارے نہیں ہوتی۔ زبان اُس وقت مضبوط ہوتی

جب زبان صرف سیاست نہیں، قوموں کے مستقبل کا سوال بن جائے!!! Read More »

تعلیم کی گمشدہ روح؟؟؟

ہندوستان کے تعلیمی بحران کا فکری محاسبہ ڈاکٹر اسد اللہ خان آج کل ہندوستان کے تعلیمی نظام کی جن خرابیوں پربحث کی جارہی ہے، وہ بلاشبہ اہم ہیں۔ پیپر لیک، امتحانی بدعنوانی، رٹّا سسٹم، ناقص اسکول انفراسٹرکچر، کمزور تدریسی معیار اور روزگار سے محروم گریجویٹس، یہ سب تلخ حقیقتیں ہیں۔لیکن بطور ایک معلم اور چالیس برس سے زائد عرصہ تعلیم کے میدان میں دشت نوردی کرنے والے شخص کے طور پر جو کچھ ہم نے دیکھا ہے یا سمجھا ہےان سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسئلہ ان تمام خرابیوں سے بھی زیادہ گہرا ہے۔ ہمارا اصل بحران تعلیمی نہیں، فکری بحران ہے۔ہم نے تعلیم کو امتحان سمجھ لیا ہے۔ہم نے اسکول کو عمارت سمجھ لیا ہے۔ہم نے استاد کو ملازم سمجھ لیا ہےاور ہم نے طالب علم کو رول نمبر بنا دیا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ پورا نظام اپنی روح کھو چکا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب تعلیم کا مقصد انسان بنانا تھا۔آج تعلیم کا مقصد نمبر بن گیا ہے۔ایک زمانہ تھا جب اسکول شخصیت سازی کے مراکز ہوتے تھے۔آج وہ کوچنگ سنٹروں کے توسیعی دفاتر بنتے جا رہے ہیں۔ایک زمانہ تھا جب استاد ذہنوں کو روشن کرتا تھا۔آج اس سے نتائج پیدا کرنے والی مشین بننے کی توقع کی جاتی ہے۔ تعلیم صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں ہے۔اگر معلومات ہی تعلیم ہوتیں تو گوگل دنیا کا سب سے بڑا استاد ہوتا۔اگر یادداشت ہی ذہانت ہوتی تو کمپیوٹر سب سے بڑے مفکر ہوتے۔ تعلیم دراصل سوچنے کی صلاحیت پیدا کرنے کا نام ہے۔سوال پوچھنے کا حوصلہ پیدا کرنے کا نام ہے۔کردار سازی کا نام ہے۔اخلاقی شعور پیدا کرنے کا نام ہے۔معاشرتی ذمہ داری کا احساس بیدار کرنے کا نام ہے۔ افسوس کہ ہمارا پورا تعلیمی نظام ابھی تک انیسویں صدی کے امتحانی ماڈل پر کھڑا ہے جبکہ دنیا اکیسویں صدی کی مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ آج کا بچہ ChatGPT، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی مسابقت کی دنیا میں داخل ہو رہا ہے۔لیکن ہم اب بھی اس سے پوچھ رہے ہیں، تعریف لکھیے۔فرق لکھیے۔خالی جگہ پُر کیجیے۔صحیح جواب پر نشان لگائیے۔ یہ سوالات مستقبل نہیں بناتے۔یہ صرف امتحانی کاپیاں بھرنے میں مدد دیتے ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا طالب علم سوچ سکتا ہے؟کیا وہ مسئلہ حل کر سکتا ہے؟کیا وہ اختلافِ رائے کو برداشت کر سکتا ہے؟کیا وہ ٹیم کے ساتھ کام کر سکتا ہے؟کیا وہ اخلاقی فیصلے لے سکتا ہے؟کیا وہ اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کر سکتا ہے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر چاہے وہ 95 فیصد نمبر لے آئے، تعلیمی نظام ناکام ہے۔ہم نے دیہی علاقوں سے لے کر شہری بستیوں تک ہزاروں طلبہ کو دیکھا ہے۔ہم ایسے بچے سے مل چکے ہیں جو وسائل سے محروم ہیں لیکن ذہانت سے مالا مال ہیں۔ہم نے ایسے ادارے بھی دیکھے ہیں جن کے پاس عمارتیں ہیں مگر تعلیمی روح نہیں۔اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ تعلیم کی پہلی اصلاح نصاب سے نہیں بلکہ استاد سے شروع ہونی چاہیے۔ایک بہترین استاد ایک کمزور عمارت میں بھی معجزہ پیدا کر سکتا ہے۔لیکن ایک غیر تربیت یافتہ استاد جدید ترین کیمپس کو بھی ناکام بنا سکتا ہے۔اس لیے قومی سطح پر اساتذہ کی تربیت کو سب سے بڑی ترجیح بنانا ہوگی۔دوسری ضرورت اسکولوں کو سیاسی اور بیوروکریٹک مداخلت سے آزاد کرنا ہے۔تعلیم کو فائلوں کے ذریعے نہیں، تعلیمی ماہرین کے ذریعے چلایا جانا چاہیے۔تیسری ضرورت تعلیم کو کردار، اقدار اور قوم سازی کے ساتھ جوڑنے کی ہے۔ صرف STEM کافی نہیں۔صرف AI کافی نہیں۔صرف Coding کافی نہیں۔اگر انسانیت، اخلاق، دیانت داری، ذمہ داری اور سماجی شعور پیدا نہ ہو تو ٹیکنالوجی بھی تباہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ آج ہندوستان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کتنے بچے امتحان پاس کر رہے ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ ہم کس قسم کے انسان پیدا کر رہے ہیں۔اگر ہم نے اس سوال کا صحیح جواب تلاش کر لیا تو پیپر لیک، نقل، بدعنوانی اور بے روزگاری جیسے مسائل خود بخود کم ہونے لگیں گے۔تعلیم کی حقیقی کامیابی ڈگریوں کی تعداد میں نہیں بلکہ ایسے انسانوں کی تعداد میں ہوتی ہے جو معاشرے کو بہتر بنا سکیں کیونکہ قوموں کا مستقبل پارلیمنٹوں میں نہیں بنتاوہ خاموش کلاس روموں میں بنتا ہے۔وہ استاد کے ہاتھوں میں بنتا ہے۔وہ طالب علم کے ذہن میں بنتا ہےاور وہ اس تعلیمی فلسفے میں بنتا ہے جو انسان کو صرف کامیاب نہیں بلکہ باکردار بناتا ہے۔ آج ہندوستان کو تعلیمی اصلاحات سے زیادہ تعلیمی بیداری کی ضرورت ہےورنہ ہم امتحانات تو لیتے رہیں گے، لیکن مستقبل کھوتے رہیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس مقام تک پہنچے کیسے؟یہ بحران کسی ایک وزیر، کسی ایک حکومت، کسی ایک بورڈ یا کسی ایک پالیسی کی پیداوار نہیں ہے۔یہ کئی دہائیوں پر محیط ان غلط ترجیحات کا نتیجہ ہے جن میں عمارتوں کو تعلیم سمجھ لیا گیا، نصاب کو علم سمجھ لیا گیا اور امتحانات کو قابلیت کا پیمانہ قرار دے دیا گیا۔ہم نے اسکول تو بنائے لیکن تعلیمی ثقافت پیدا نہ کر سکے۔ہم نے نصاب تو مرتب کیے لیکن تجسس پیدا نہ کر سکے۔ہم نے امتحانات تو منعقد کیے لیکن فکر پیدا نہ کر سکے۔ہم نے ڈگریاں تو تقسیم کیں لیکن بصیرت پیدا نہ کر سکے۔ آج ہمارے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے والا بچہ سوال پوچھنے کے فطری جذبے کے ساتھ آتا ہے، مگر نظام اسے جواب رٹنے کی مشین بنا کر باہر نکالتا ہے۔وہ بچہ جو آسمان کو دیکھ کر پوچھتا ہے کہ ستارے کیوں چمکتے ہیں، چند سال بعد صرف اتنا جانتا ہے کہ امتحان میں کتنے نمبر حاصل کرنے ہیں۔وہ بچہ جو تتلی کے رنگوں پر حیران ہوتا ہے، اسے چند برسوں میں صرف صحیح آپشن پر ٹک لگانا سکھا دیا جاتا ہے۔یہ تعلیمی ناکامی نہیں، انسانی صلاحیتوں کا قتل ہے۔ دنیا کی بڑی اقوام نے اپنی ترقی کا سفر اس وقت شروع کیا جب انہوں نے تعلیم کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم سازی کا سب سے مؤثر ہتھیار سمجھا۔جاپان کی تعمیر فیکٹریوں میں شروع نہیں ہوئی تھی، کمرۂ جماعتوں میں ہوئی تھی۔جرمنی کی طاقت صرف اس کی صنعتوں سے نہیں آئی بلکہ اس کے تحقیقی اداروں سے آئی۔جنوبی

تعلیم کی گمشدہ روح؟؟؟ Read More »

اساتذہ کو حقیر مت جانو!

ایک اینکر کے جملے سے اٹھنے والا طوفان اور قوم کے اصل معماروں کا مقدمہ ڈاکٹر اسداللہ خان کبھی کبھی ایک جملہ صرف جملہ نہیں ہوتا، وہ ایک سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔کبھی کبھی ایک تبصرہ صرف ایک فرد کے خلاف نہیں ہوتا، وہ ایک پورے طبقے کے وقار کو چیلنج کر دیتا ہےاور کبھی کبھی ایک ٹی وی اسٹوڈیو میں بولے گئے چند الفاظ کروڑوں دلوں میں اس لیے اتر جاتے ہیں کہ وہ محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ احترام اور تحقیر کے درمیان لکیر کھینچ دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں معروف نیوز اینکر انجنا اوم کشیپ کے یوٹیوب اساتذہ اور آن لائن معلمین کے بارے میں دیے گئے تبصروں نے پورے ملک میں ایک غیر معمولی بحث کو جنم دیا۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے بعض “اسٹار ٹیچرز” کو محض “ایکسپلینر” قرار دیتے ہوئے ان پر ویوز، شہرت اور کاروباری مفادات کے حصول کا الزام عائد کیا۔ ان کے ان تبصروں کے بعد جو ردِعمل سامنے آیا وہ صرف چند اساتذہ کا ردِعمل نہیں تھا بلکہ لاکھوں طلبہ، والدین، تعلیمی حلقوں اور سماجی مبصرین کی آواز تھی۔ لیکن اصل سوال انجنا اوم کشیپ نہیں ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی استاد کی عظمت کو سمجھتے ہیں؟ استاد کون ہے؟ اگر کسی قوم کی سب سے طاقتور شخصیت کا انتخاب کرنا ہو تو شاید لوگ کسی وزیر اعظم، کسی صنعت کار، کسی میڈیا ہاؤس کے مالک یا کسی عالمی شہرت یافتہ شخصیت کا نام لیں۔لیکن تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور شخصیت دراصل استاد ہے۔اس لیے کہ سیاست دان قانون بناتا ہے، مگر استاد قانون بنانے والے ذہن پیدا کرتا ہے،صنعت کار فیکٹری بناتا ہے، مگر استاد انجینئر پیدا کرتا ہے،ڈاکٹر علاج کرتا ہے، مگر ڈاکٹر کو بھی استاد ہی تیار کرتا ہے،صحافی سوال اٹھاتا ہے، مگر سوال اٹھانے کی صلاحیت بھی استاد ہی عطا کرتا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو استاد صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ تمام پیشوں کی بنیاد ہے۔ اکیسویں صدی میں استاد کی اہمیت کم نہیں، کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ایک زمانہ تھا جب استاد معلومات کا واحد ذریعہ تھا۔آج گوگل ہے، یوٹیوب ہے، مصنوعی ذہانت ہے، ہزاروں ویب سائٹس ہیں۔ تو کیا استاد غیر ضروری ہو گیا؟ ہرگز نہیں۔آج استاد کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ آج کا مسئلہ معلومات کی کمی نہیں بلکہ معلومات کا سیلاب ہے۔آج نوجوان کے پاس معلومات تو بے شمار ہیں مگر رہنمائی کم ہے۔آج استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا۔وہ جھوٹ اور سچ میں فرق سکھاتا ہے۔وہ تنقیدی سوچ پیدا کرتا ہے۔وہ جذباتی استحکام دیتا ہے۔وہ خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔وہ ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑا ہونا سکھاتا ہے۔گوگل معلومات دے سکتا ہے،مصنوعی ذہانت جواب دے سکتی ہےلیکن ایک شکست خوردہ نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ صرف استاد ہی کہہ سکتا ہے “بیٹا! تم ایک امتحان میں ناکام ہوئے ہو، زندگی میں نہیں۔” حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے تعلیمی منظرنامے میں آن لائن تعلیم نے ایک خاموش انقلاب برپا کیا ہے۔ایک معتبر اخبار نے اپنے اداریے میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ آخر لاکھوں طلبہ یوٹیوب اساتذہ پر اعتماد کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب صرف سبسکرائبرز یا ویوز میں نہیں بلکہ ہندوستانی تعلیم کی زمینی حقیقتوں میں پوشیدہ ہے۔کئی دہائیوں تک اعلیٰ معیار کی کوچنگ صرف بڑے شہروں اور صاحبِ استطاعت طبقوں تک محدود رہی۔دہلی، کوٹا، حیدرآباد یا پونے کے طلبہ کے مواقع کچھ اور تھے جبکہ ایک چھوٹے گاؤں، قصبے یا غریب گھر کے بچے کے مواقع کچھ اور۔ پھر یوٹیوب آیا اور پہلی بار علم نے طبقاتی دیواریں توڑ دیں۔آج اگر بہار کے ایک گاؤں کا بچہ، راجستھان کی ایک طالبہ، اتر پردیش کا ایک مزدور زادہ یا جھارکھنڈ کا ایک نوجوان بغیر لاکھوں روپے خرچ کیے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کر سکتا ہے تو اس میں ان آن لائن اساتذہ کا بھی کردار ہے جنہوں نے علم کو عمارتوں سے آزاد کرکے اسکرینوں تک پہنچا دیا۔ قومیں ٹی آر پی سے نہیں، اساتذہ سے بنتی ہیں، آپ نے دیکھا ہوگا کہ ٹی وی مباحثے چند گھنٹوں بعد ختم ہو جاتے ہیں،سوشل میڈیا ٹرینڈ چند دن بعد مر جاتے ہیں لیکن ایک استاد کا اثر نسلوں تک زندہ رہتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب جاپان جنگ کے بعد تباہ ہوا تو اس نے اپنے اساتذہ کو مرکز بنایا۔جب سنگاپور نے ترقی کی راہ اختیار کی تو استاد کو عزت دی۔فن لینڈ کے تعلیمی معجزے کی بنیاد استاد کے مقام پر رکھی گئی۔کسی بھی قوم کے عروج کا راستہ اس کے تعلیمی اداروں سے گزرتا ہے اور تعلیمی اداروں کی روح استاد ہوتا ہے۔ میڈم آپ تنقید کیجئے، لیکن تحقیر نہیں. ہم مانتے ہیں کہ ہر یوٹیوبر استاد نہیں ہوتا۔یہ بھی درست ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں شہرت، کاروبار اور سنسنی خیزی کے عناصر موجود ہیں۔یہ بھی صحیح ہے کہ کچھ آن لائن تخلیق کار تنازعات اور توجہ حاصل کرنے کے لیے اشتعال انگیز مواد بھی استعمال کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چند مثالوں کی بنیاد پر پورے طبقۂ اساتذہ کو مشکوک قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر چند ڈاکٹر غلط ہوں تو کیا پوری طب مشکوک ہو جاتی ہے؟اگر چند صحافی غیر ذمہ دار ہوں تو کیا پوری صحافت پر سوال اٹھا دیا جاتا ہے؟اگر نہیں، تو پھر چند مثالوں کی بنیاد پر لاکھوں معلمین کی خدمات کو کیوں نظر انداز کیا جائے؟ اس تنازعے کا سب سے اہم پہلو وہ ردِعمل تھا جو طلبہ کی جانب سے سامنے آیا۔سوشل میڈیا پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ نے اپنے اساتذہ کے حق میں آواز بلند کی۔کسی نے بتایا کہ یوٹیوب کے ایک استاد نے اسے پہلی نوکری دلانے میں مدد کی،کسی نے بتایا کہ وہ کوچنگ کی فیس ادا نہیں کر سکتا تھا مگر آن لائن تعلیم نے اس کا خواب بچا لیا،کئی نے یہ بھی بتایا کہ کووڈ کے دوران جب اسکول بند تھے تو انہی اساتذہ نے اس کی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا۔یہ محض جذباتی ردِعمل نہیں تھا بلکہ اعتماد کا اظہار تھا اور اعتماد خریدا نہیں جاتا، کمایا جاتا ہے۔ انجنا جی! استاد کو کم مت آنکیے۔ آپ ایک سینئر صحافی ہیں۔صحافت جیسے عظیم پیشے سے وابستہ

اساتذہ کو حقیر مت جانو! Read More »