تعلیم:انسان بنانے کا فن یا امتحان پاس کرانے کی مشین؟
علم وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے، نہ کہ وہ جو اسے مشین بنا دے ڈاکٹر اسداللہ خان زندگی میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی تحریر ہاتھ میں لیتے ہیں اور پڑھتے پڑھتے اچانک رک جاتے ہیں۔ قلم نیچے رکھ دیتے ہیں۔ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اور دل کے کسی گہرے گوشے سے ایک آواز آتی ہے کہ یہی تو میں کہہ رہاتھا۔ ہوا یوں کہ آج کے ٹائمز آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر، پروفیسر دنیش پرساد سکلانی کا مضمون پڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے میرے دل و دماغ میں مدتوں سے گردش کرنے والے خیالات کو کسی اور نے لفظوں کے قالب میں ڈھال دیا ہو۔ ہر سطر، ہر استدلال اور ہر سوال میرے اپنے فکری سفر کی بازگشت معلوم ہوا۔ ایسا لگا گویا میرے لاشعور میں پوشیدہ تصورات، میرے دل کی دھڑکنوں اور میرے تعلیمی فلسفے کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دیا گیا ہو۔ میں نے مضمون نہیں پڑھا، بلکہ اپنے ہی خیالات کو ایک نئے قلم سے لکھا ہوا پایا۔ مجھے میر کا وہ مصرع یاد آ گیا جو اردو شاعری کی سب سے لطیف نفسیاتی دریافتوں میں سے ایک ہے “میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے”۔ یہ مصرع محض ایک شعری تجربے کا بیان نہیں — یہ اس کیفیت کا نام ہے جب کوئی بات آپ کے اندر اتنی گہری اتر چکی ہو کہ آپ اسے اپنی سمجھتے ہی نہیں، اور پھر جب کوئی دوسرا انسان وہی بات کہہ دے تو آپ چونک اٹھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ رَٹّا لگانا کبھی ہندوستان کی روح نہیں رہا۔ کہ اس سرزمین نے نچیکیتا کو پیدا کیا جس نے موت سے سوال کیا، گارگی پیدا کی جس نے برہمنوں کے سردار کو خاموش کیا، کناد پیدا کیا جس نے ایٹم کا تصور دیا، سشروت پیدا کیا جس نے جراحی سکھائی، آریہ بھٹ پیدا کیا جس نے صفر دریافت کیا — اور یہ سب رَٹّے سے نہیں، سوال سے، تجربے سے، مشاہدے سے، دلیل سے پیدا ہوئے۔ اور کہ پھر ایک نوآبادیاتی طوفان آیا اور اس نے اس روایت کو چھین لیا۔ علم کی جگہ ملازمت نے لے لی۔ سوال کی جگہ رَٹّے نے لے لی۔ تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی۔ یہ پڑھ کر میں نے سوچا — کیا یہ صرف تعلیم کی کہانی ہے؟ نہیں۔ یہ ہماری پوری تہذیبی روح کی کہانی ہے۔ اگر آج نچیکیتا کسی اسکول میں داخل ہو جائے تو کیا ہوگا؟ وہی نچیکیتا جس نے موت کے دیوتا یمراج کے دروازے پر تین دن اور تین رات کھڑے رہ کر علم طلب کیا تھا۔ وہی نچیکیتا جس کے سوالوں نے کٹھ اُپنشد کو جنم دیا اور جس کی جستجو نے آنے والی نسلوں کے لیے فکر کا ایک لافانی سرچشمہ کھول دیا۔ وہ بچہ جو موت سے نہ ڈرا، کیا وہ ہمارے نصاب کی تنگ گلیوں میں سانس لے پاتا؟ کیا آج کا استاد اس کی حوصلہ افزائی کرتا؟ کیا آج کے اسکول میں اس کے لیے کوئی جگہ ہوتی؟ یا اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا کہ یہ سوال نصاب میں نہیں ہے، امتحان میں نہیں آئے گا، وقت ضائع مت کرو۔ یہ سوال محض ایک فرضی تصور نہیں۔ یہ ہمارے پورے نظامِ تعلیم کے لیے ایک بے رحم آئینہ ہے جس میں ہم اپنی خامیاں دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے بچے کیا پڑھ رہے ہیں۔ اصل اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں سوچنے دے رہے ہیں یا نہیں۔ جب ہم ہندوستانی علمی روایت کی گہرائیوں میں اترتے ہیں تو ایک انوکھا اور فخر انگیز منظر سامنے آتا ہے۔ یہاں علم کبھی بھی ایک مُردہ معلومات کا ذخیرہ نہیں رہا۔ یہاں سوال عبادت تھا، مکالمہ تعلیم تھا، تلاشِ حقیقت زندگی کا مقصد تھی۔ اُپنشدوں کے عظیم مباحثے دیکھیے — جہاں استاد شاگرد کو جواب نہیں دیتا تھا، بلکہ سوال پوچھتا تھا۔ گارگی اور یاجنوالکیہ کے درمیان وہ تاریخی فکری مناظرہ دیکھیے جس میں ایک خاتون نے براہمنوں کے سردار کو ایسے سوالوں سے جھنجھوڑا کہ وہ خاموش ہو گئے۔ آچاریہ کناد کے ایٹم کے تصور کو دیکھیے جو آج کی جدید طبیعیات کا پیشرو تھا۔ آریہ بھٹ کے ریاضیاتی انکشافات دیکھیے جو اپنے عہد سے صدیوں آگے تھے۔ نالندہ اور تکشیلا کی مہان درسگاہوں کو دیکھیے جہاں دنیا کے کونے کونے سے طالبِ علم آتے تھے — نہ ڈگری کے لیے، بلکہ علم کی پیاس بجھانے کے لیے۔ نالندہ میں دس ہزار سے زائد طالبِ علم اور دو ہزار اساتذہ تھے۔ وہاں کا کتب خانہ اتنا عظیم تھا کہ جب اسے جلایا گیا تو وہ تین ماہ تک جلتا رہا۔ یہ صرف عمارتیں نہیں تھیں — یہ ایک تہذیبی دماغ تھا، ایک زندہ روح تھی جو ہزاروں انسانوں کی فکر سے مل کر بنی تھی۔ ہمارے آباء نے کتابوں کو مقدس ضرور سمجھا، مگر سوچنے کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔ وہ جانتے تھے کہ بند دروازے والا ذہن علم کا نہیں، خوف کا گھر بنتا ہے۔ پھر ایسا کیا ہوا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر محب تعلیم کی نیند اڑا دیتا ہے۔ ایسا کیا ہوا کہ سوال کرنے والی قوم رَٹّا کرنے والی قوم بن گئی؟ ایسا کیا ہوا کہ تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی؟ ایسا کیا ہوا کہ فہم کی جگہ نمبروں نے اور علم کی جگہ سرٹیفکیٹ نے لے لی؟ اس سوال کا جواب ہمیں نوآبادیاتی تاریخ کے تاریک اوراق میں ملتا ہے۔ ۱۸۳۵ء میں جب لارڈ میکالے نے اپنا وہ بدنامِ زمانہ منٹ لکھا تو اس نے صرف ایک نصاب نہیں بدلا — اس نے ایک پوری قوم کے سوچنے کا انداز بدل دیا۔ آہستہ آہستہ تعلیم زندگی کی تیاری کے بجائے امتحان کی تیاری بن گئی۔ اسکول شخصیت سازی کے مراکز کے بجائے امتحانی کارخانے بن گئے۔ اور استاد — علم کا وہ چراغ جو تاریکیوں میں روشنی دیتا تھا — نصاب مکمل کرنے والا ملازم بنتا گیا۔ ۱۹۴۷ء میں ہم نے سیاسی آزادی حاصل کی لیکن ذہنی آزادی؟ وہ ابھی بھی نوآبادیاتی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ ہم نے عمارتیں بدل دیں، پرچم بدل دیا، حکمران بدل دیے مگر تعلیم کا وہ نوآبادیاتی
تعلیم:انسان بنانے کا فن یا امتحان پاس کرانے کی مشین؟ Read More »










