The Founder’s Compendium

یو ڈائس پلس (UDISE+) 2025–26 رپورٹ کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ

کیا ہندوستان کا تعلیمی نظام واقعی بہتر ہو رہا ہے؟ ڈاکٹر اسد اللہ خان قوموں کی زندگی میں بعض دستاویزات بظاہر دفتری کاغذ ہوتے ہیں مگر درحقیقت آئینہ ہوتے ہیں۔ یو ڈائس پلس کی سالانہ رپورٹ ایسی ہی ایک دستاویز ہے۔ چودہ لاکھ سے زائد اسکول، تقریباً پونے پچیس کروڑ طلبہ اور ایک کروڑ سے زیادہ اساتذہ — یہ محض گنتی نہیں، ایک تہذیب کے مستقبل کا نقشہ ہے۔ اس کے جدولوں کی ہر سطر کسی نہ کسی بستی کے کسی بچے کی کہانی کہتی ہے: وہ بچہ جو صبح سویرے بستہ سنبھالے نکلا؛ وہ لڑکی جو سائیکل ملنے پر پہلی بار گاؤں سے باہر کے اسکول تک پہنچی؛ اور وہ ننھا مزدور بھی جس کا نام کسی رجسٹر سے خاموشی سے کٹ گیا۔ ابھی چند روز قبل وزارتِ تعلیم نے تعلیمی سال 2025–26 کی رپورٹ جاری کی تو سرخیوں میں جشن کا رنگ نمایاں تھا: اسکول چھوڑنے کی شرح گھٹ گئی ہے اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار اساتذہ کی مجموعی تعداد 1.02 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ خبریں بلاشبہ خوش آئند ہیں اور ان پر اطمینان فطری ہے۔ مگر آئینہ چہرہ دکھاتا ہے، دل کا حال نہیں بتاتا۔ ایک سنجیدہ تعلیم داں کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ اعداد کیا کہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اعداد کیا کہنے سے قاصر ہیں۔ یہی سوال اس مضمون کا نقطۂ آغاز ہے۔ پہلے وہ سطریں دیکھیے جو واقعی روشن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی سطح پر اسکول چھوڑنے کی شرح 2.3 فیصد سے گھٹ کر 1.8 فیصد اور ثانوی سطح پر 8.2 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد رہ گئی ہے۔ ثانوی سطح پر مجموعی شرحِ داخلہ 68.5 فیصد سے بڑھ کر 71.7 فیصد ہو گئی ہے، اور ایک مرحلے سے اگلے مرحلے میں منتقلی کی شرحیں بھی بہتر ہوئی ہیں۔ اساتذہ کی تعداد 2022–23 کے 94.8 لاکھ سے بڑھ کر 1,02,73,020 تک پہنچ گئی — تین برسوں میں 8.3 فیصد کا اضافہ۔ طالب علم اور استاد کا تناسب بنیادی سطح پر 10، ابتدائی پر 12، وسطی پر 17 اور ثانوی پر 21 ہے، جو قومی تعلیمی پالیسی کے مقررہ معیار 30:1 سے کہیں بہتر ہے۔ صفر داخلے والے اسکولوں کی تعداد 29 فیصد گھٹ گئی ہے، مجموعی داخلوں میں لڑکیوں کا حصہ 48.4 فیصد ہے اور تدریسی عملے میں خواتین 54.9 فیصد۔ یہ سب سچ ہے، اور اس سچ کا انکار ناانصافی ہوگی۔ مگر سچ کا اعتراف اور سچ پر قناعت دو الگ رویے ہیں۔ اعتراف علم کی ابتدا ہے، قناعت اس کا خاتمہ۔ ڈراپ آؤٹ میں کمی آسمان سے نہیں اتری؛ اس کے پیچھے برسوں کی مسلسل محنت ہے۔ ثانوی سطح کے اسکولوں کی تعداد میں اضافہ، وظائف اور مفت نصابی کتب، یونیفارم اور سائیکل کی اسکیمیں، دوپہر کے کھانے کا نظام، لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری — ان سب نے مل کر بچوں کو اسکول میں روکے رکھنے کی وہ گرفت پیدا کی ہے جو دو دہائیاں پہلے موجود نہیں تھی۔ جن گھروں میں کبھی کتاب داخل نہ ہوئی تھی، آج ان کی دہلیز پر بستہ رکھا ہے۔ یہ چھوٹی بات نہیں۔ درحقیقت ہندوستان نے رسائی کی جنگ بڑی حد تک جیت لی ہے۔ اسکول اب فاصلے کا مسئلہ کم اور معیار کا مسئلہ زیادہ ہے۔ مگر رسائی تعلیم کی پہلی سیڑھی ہے، آخری نہیں۔ سیڑھی پر قدم رکھنے والے کو منزل پر پہنچا ہوا سمجھ لینا وہ مغالطہ ہے جس سے یہ مضمون خبردار کرنا چاہتا ہے۔ حاضری جسم کی گواہی ہے، سیکھنا ذہن کا واقعہ — اور دونوں کے درمیان کبھی کبھی برسوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔ یہیں سے وہ سوال شروع ہوتا ہے جو رپورٹ کے کسی جدول میں درج نہیں: کیا اسکول میں موجود رہنا تعلیم پانے کے مترادف ہے؟ اگر ایک بچہ روزانہ حاضر ہوتا ہے مگر اپنی جماعت کے مطابق پڑھنے، لکھنے اور بنیادی حساب کی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتا تو رجسٹر اسے حاضر لکھتا ہے، لیکن مستقبل اسے غیر حاضر لکھ دیتا ہے۔ ایسے بچے کو میں ’خاموش ڈراپ آؤٹ‘ کہتا ہوں — جسم جماعت کے اندر، ذہن جماعت سے باہر۔ وہ کسی سرکاری خانے میں شمار نہیں ہوتا، اس لیے کسی پالیسی کی نظر میں بھی نہیں آتا۔ دنیا اب تعلیمی نظاموں کو داخلوں سے نہیں، حاصلاتِ تعلم سے پرکھتی ہے۔ اے ایس ای آر کے سروے برس ہا برس سے یہ تلخ حقیقت دہراتے آئے ہیں کہ دیہی ہندوستان میں پانچویں جماعت کے تقریباً نصف بچے دوسری جماعت کی سطح کا متن روانی سے نہیں پڑھ پاتے۔ یو ڈائس نظام کا ڈھانچہ دکھاتی ہے؛ اے ایس ای آر اور قومی جائزے اس ڈھانچے میں بسنے والی روح کا حال بتاتے ہیں۔ جب تک دونوں کو ایک ساتھ نہ پڑھا جائے، تصویر ادھوری رہتی ہے — اور ادھوری تصویر پر جشن منانا خود فریبی کی مہذب صورت ہے۔ معاشیات میں ایک اصول گڈہارٹ کے نام سے منسوب ہے: جب کوئی پیمانہ خود ہدف بن جائے تو وہ اچھا پیمانہ نہیں رہتا۔ تعلیمی انتظامیہ اگر ڈراپ آؤٹ کی گرتی ہوئی شرح ہی کو کامیابی کا حاصل سمجھ لے تو خطرہ ہے کہ بچے کاغذ پر روک لیے جائیں اور علم میں چھوڑ دیے جائیں۔ پیمانہ منزل بن جائے تو سفر رکے بغیر بھی رک جاتا ہے۔ رپورٹ کا ایک گوشہ کم روشنی میں رہا: تین برس کی مسلسل بہتری کے بعد اِس سال بنیادی اور ابتدائی مرحلوں پر برقراری کی شرح میں معمولی کمی درج ہوئی ہے۔ عدد چھوٹا ہے، مگر تعمیر کے علم میں دراڑ کی سنگینی اس کی چوڑائی سے نہیں، اس کے مقام سے ناپی جاتی ہے — بنیاد کی باریک دراڑ چھت کی چوڑی دراڑ سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ تحقیق بارہا ثابت کر چکی ہے کہ جو بچہ ابتدائی پانچ برسوں میں تعلیمی نظام سے کمزور رشتہ قائم کرتا ہے، آگے چل کر اس کے اسکول چھوڑنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اسی رپورٹ کا ایک اور عدد اس دراڑ کی گہرائی بتاتا ہے: ثانوی سطح پر برقراری کی شرح بہتر ہو کر بھی صرف 51.9 فیصد ہے۔ یعنی پہلی جماعت میں داخل ہونے والے ہر سو بچوں میں سے تقریباً اڑتالیس دسویں تک پہنچنے سے پہلے کہیں راستے میں

یو ڈائس پلس (UDISE+) 2025–26 رپورٹ کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ Read More »

بستے میں رکھا آخری خط

نوعمر خودکشیوں کا بڑھتا المیہ — اسباب کی بازیافت، ذمہ داریوں کا تعین اور امید کی تلاش ڈاکٹر اسد اللہ خان اُس شام دہلی کے ایک گھر میں بستہ کھلا تو اس میں سے نصاب کی کتابیں نکلیں، آدھی لکھی ہوئی کاپیاں نکلیں، اور ایک ایسا خط برآمد ہوا جو کسی نصاب کا حصہ نہیں تھا۔ سولہ برس کے بچے نے ماں باپ سے معافی مانگی تھی اور اپنی آخری خواہش کے طور پر صرف اتنا لکھا تھا کہ جو کچھ اس پر گزری، وہ کسی اور بچے پر نہ گزرے۔ یہ سطریں کسی امتحان کا جواب نہیں تھیں؛ یہ ہمارے پورے تعلیمی، خاندانی اور سماجی نظام کے نام لکھا گیا سوال تھا۔ المیہ یہ ہے کہ سوال لکھنے والا جواب سننے کے لیے موجود نہیں رہا، اور جواب دینے والے ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے کہ مخاطب کون ہے۔ میں نے بستوں کے ہزاروں رنگ دیکھے ہیں،کسی میں ادھوری نظمیں، کسی میں چھپا کر رکھی گئی کہانیوں کی کتاب، کسی میں ماں سے چرا کر رکھا گیا خشک نان۔ مگر جس نسل کے بستوں سے الوداعی خط نکلنے لگیں، اُس نسل کے معلّموں اور والدین کو راتوں کی نیند پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ یہ مضمون اسی شرمندگی سے پھوٹا ہے — ماتم کے لیے نہیں، محاسبے اور مداوے کے لیے۔ تین شہر، تین بجھے ہوئے چراغ نومبر ۲۰۲۵ء کے ایک ہی ہفتے نے ملک کے تین مختلف خطوں سے تین جنازے اٹھوائے۔ دہلی کے ایک مشہور مشنری اسکول کا دسویں جماعت کا طالب علم، جو اپنے ڈراما کلب میں اداکاری کے خواب دیکھتا تھا اور دوستوں سے کہا کرتا تھا کہ ایک دن وہ اپنے اسکول کا شاہ رخ خان بنے گا، اساتذہ کی مسلسل تحقیر اور تضحیک سے ٹوٹ کر دنیا چھوڑ گیا۔ اس کے رخصتی نامے میں اُن اساتذہ کے نام درج تھے جن کے طنز کے نشتر برسوں اس کے وجود پر چلتے رہے۔ ایف آئی آر درج ہوئی، چار ملازمین معطل ہوئے، والدین سڑکوں پر انصاف مانگتے رہے — مگر جو چلا گیا، وہ کسی تفتیش سے واپس نہیں آتا۔ جے پور کے مشہور نیرجا مودی اسکول میں چوتھی جماعت کی نو سالہ طالبہ امائرہ مینا ڈیڑھ برس تک اپنے ہم جماعتوں کی اُس بدزبانی کا نشانہ بنتی رہی جس میں جنسی اشاروں کی آمیزش تھی۔ والدین کے بقول انہوں نے بارہا اسکول سے شکایت کی، مگر شنوائی نہ ہوئی — اور یکم نومبر ۲۰۲۵ء کی صبح یہ بچی اپنے گھر والوں سے ہمیشہ کے لیے چھن گئی۔ نو برس — یہ وہ عمر ہے جب بچہ ابھی پہاڑے یاد کر رہا ہوتا ہے؛ اس عمر میں زندگی سے دستبرداری کا فیصلہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر تازیانہ ہے۔ اس مقدمے کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا، کیونکہ یہ اِس وقت پورے ملک کی عدالتِ ضمیر میں زیرِ سماعت ہے۔ اور مہاراشٹر کے ضلع جالنہ میں آٹھویں جماعت کی تیرہ سالہ بچی اپنے ہی اسکول کی عمارت سے زندگی کا رشتہ توڑ گئی؛ اہلِ خانہ اساتذہ کے رویّے پر انگلی اٹھاتے رہے اور تفتیش سوالوں کے گرد گھومتی رہی۔ تین شہر، تین عمریں، تین مختلف اسباب — مگر تینوں واقعات میں ایک قدر مشترک ہے: ہر بچے نے مرنے سے پہلے کسی نہ کسی صورت مدد مانگی تھی۔ کسی نے والدین سے کہا، کسی نے دوستوں سے، کسی کے والدین نے اسکول کے دروازے کھٹکھٹائے۔ ہر دروازہ یا تو بند ملا یا اس کے پیچھے بیٹھے لوگ سننے کے آداب بھول چکے تھے۔ نوعمر خودکشی دراصل اُس چیخ کا آخری پڑاؤ ہے جو بہت پہلے سرگوشی کی صورت بلند ہوئی تھی اور جسے ہم نے شرارت، نازک مزاجی یا بہانہ سمجھ کر ٹال دیا تھا۔ قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۲ء میں ملک بھر میں ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد نے خودکشی کی، جن میں تیرہ ہزار سے زیادہ — یعنی ہر ساڑھے سات فیصد میں سے ایک — طلبہ تھے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ہر روز اوسطاً پینتیس سے زائد گھروں میں کسی طالب علم کی چارپائی خالی رہ گئی۔۔ انہی اعداد میں دو ہزار دو سو سے زائد اموات براہِ راست امتحان میں ناکامی سے منسوب کی گئیں۔ ۲۰۰۱ء میں طلبہ کی خودکشیوں کی تعداد تقریباً ساڑھے پانچ ہزار تھی؛ دو دہائیوں میں یہ عدد دگنے سے بھی تجاوز کر گیا، اور ۲۰۱۳ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیانی عشرے میں اس میں پینسٹھ فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ یہ اعداد صرف بڑھ نہیں رہے، اپنا مقام بھی بدل رہے ہیں۔ تحقیقی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ طلبہ کی خودکشیاں اب کسانوں کی خودکشیوں سے تجاوز کر چکی ہیں — یعنی جس ملک کا سب سے مشہور المیہ اس کے کھیت تھے، اس کا سب سے بڑا المیہ اب اس کی درسگاہیں بنتی جا رہی ہیں۔ پندرہ سے انتیس برس کے عمری خانے میں خودکشی نوجوان لڑکیوں کی اموات کا سب سے بڑا اور لڑکوں کی اموات کا دوسرا بڑا سبب بن چکی ہے؛ بیماریاں اس دوڑ میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ جس سماج میں جوان موت کا سب سے بڑا سبب کوئی وبا نہیں بلکہ مایوسی ہو، اُسے اپنے بخار کی نہیں، اپنی روح کی تشخیص کرانی چاہیے۔ اور یاد رہے کہ یہ صرف وہ اعداد ہیں جو تھانوں کے رجسٹر تک پہنچے۔ بدنامی کے خوف سے چھپائے گئے واقعات، حادثہ قرار دی گئی اموات، اور خودکشی کی وہ ناکام کوششیں جو کبھی گنتی میں نہیں آتیں — ان سب کو ملا لیجیے تو برفانی تودے کا وہ حصہ سامنے آتا ہے جو پانی کے نیچے ہے۔ ہر مکمل خودکشی کے پیچھے ماہرین کے بقول کئی گنا ادھوری کوششیں اور بے شمار خاموش ارادے ہوتے ہیں۔ گویا ہم صرف اس درد کا شمار کر رہے ہیں جو موت تک پہنچ گیا؛ جو درد ابھی جماعتوں میں بیٹھا سانس لے رہا ہے، اس کا کوئی رجسٹر نہیں۔ جے پور کے اس واقعے کو ذرا ٹھہر کر دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ محض ایک المیہ نہیں، ہمارے پورے اسکولی نظام کا ایکسرے ہے۔ یکم نومبر ۲۰۲۵ء کو امائرہ اپنی جماعت میں معمول کے مطابق داخل ہوئی — کیمرے کی آنکھ گواہ ہے کہ اس نے سہیلی کو سلام کیا اور ایک سرگرمی میں حصہ

بستے میں رکھا آخری خط Read More »

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں!

مہاراشٹر کا تعلیمی اشاریہ — مساوات کی بلندی اور معیار کی پستی کا مطالعہ ڈاکٹر اسد اللہ خان اعداد کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے: وہ جھوٹ نہیں بولتے، مگر پورا سچ کہنے کے روادار بھی نہیں۔ مرکزی وزارتِ تعلیم نے اضلاع کی تعلیمی کارکردگی جانچنے والا اشاریہ جاری کیا تو مہاراشٹر کے حصے میں ایک ہزار میں سے چھ سو چون اعشاریہ چھ نمبر آئے۔ پچھلے تعلیمی سال یہی ریاست چھ سو انچاس اعشاریہ آٹھ پر کھڑی تھی۔ گویا پورے بارہ مہینوں کی مسافت میں بمشکل پانچ نمبروں کا اضافہ ہوا — ہزار کے پیمانے پر پانچ سے بھی کم! اخبار نے اسے ”معمولی بہتری“ لکھا، دفتروں میں غالباً اطمینان کی سانس لی گئی، اور فائل اگلے جائزے تک بند کر دی گئی۔ مگر یہ پیش رفت نہیں، ٹھہراؤ کا مہذب نام ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ریاست کتنا آگے بڑھی؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کہاں رکی ہوئی ہے، اور کیوں۔ یہ اشاریہ، جو ”پرفارمنس گریڈنگ انڈیکس برائے اضلاع“ کہلاتا ہے، سرکاری تعلیمی اعداد و شمار کے نظام ”یوڈائس پلس“ پر استوار ہے، اور اس آئینے میں ہر ریاست کو اپنی تعلیمی صورت دیکھنی پڑتی ہے۔ مہاراشٹر کی صورت عجب دو رنگی لیے ہوئے ہے: وہ چنڈی گڑھ، پنجاب، کیرلا اور دہلی جیسے صفِ اول کے خطوں سے پیچھے ہے، مگر تمل ناڈو، آندھرا پردیش، گجرات اور کرناٹک جیسی بڑی صنعتی ریاستوں سے آگے۔ تیرہ ریاستیں اور مرکزی علاقے اس سے نیچے کھڑے ہیں؛ اتر پردیش، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، بہار، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ باون اور اٹھاون فیصد کے درمیان سمٹے ہوئے ہیں، اور میگھالیہ فہرست کی آخری سیڑھی پر بیٹھا ہے۔ گویا مہاراشٹر نہ اس فہرست کا فخر ہے نہ اس کی ندامت؛ وہ اُس درمیانی منزل پر ٹھہرا ہوا ہے جہاں نہ زوال کا خوف جگاتا ہے نہ عروج کی طلب بے چین کرتی ہے۔ اور تعلیم کی دنیا میں یہی درمیانہ اطمینان سب سے مہلک مرض ہے، کیونکہ یہ علاج کی خواہش ہی چھین لیتا ہے۔ رپورٹ کی تہوں میں اتریے تو ایک ایسا تضاد ہاتھ آتا ہے جو محض شماریاتی نہیں، فکری ہے۔ ریاست نے ”مساوات“ کے شعبے میں دو سو ساٹھ میں سے دو سو چونتیس اعشاریہ چار نمبر حاصل کیے، یعنی چھیانوے فیصد سے زائد؛ مختلف سماجی طبقوں کے بچوں کی کارکردگی کا فاصلہ تقریباً مٹ چکا ہے۔ بظاہر یہ جشن کا مقام ہے۔ مگر اسی رپورٹ کا اگلا ورق پلٹیے: ”تعلیمی نتائج اور معیار“ میں دو سو چالیس میں سے صرف ایک سو دو اعشاریہ آٹھ نمبر، یعنی بمشکل تینتالیس فیصد — پوری رپورٹ کا سب سے نچلا ہندسہ۔ اب دونوں سطروں کو ملا کر پڑھیے تو طلسم ٹوٹتا ہے۔ برابری تو آ گئی، مگر کس شے میں؟ جب سیکھنے کا مجموعی حاصل ہی آدھے سے کم رہ جائے تو اس کی مساوی تقسیم کا مطلب صرف اتنا ہے کہ محرومی سب میں برابر بانٹ دی گئی۔ خالی پیالے تمام بچوں کے آگے ایک سیدھی قطار میں رکھ دینا عدل کی تصویر تو بن سکتا ہے، عدل کی حقیقت نہیں۔جس دسترخوان پر رزق نہ ہو، وہاں برتنوں کی برابر تقسیم انصاف نہیں، انصاف کی تسلی ہے۔ اب اس تضاد کی جڑیں کھودیے۔ ”اسکولی ڈھانچے اور سہولیات“ کے شعبے میں ریاست ایک سو نوے میں سے صرف ستاسی اعشاریہ دو نمبر لے سکی، یعنی چھیالیس فیصد سے بھی کم۔ ممبئی کے تعلیمی حلقوں کی گواہی اس عدد کو زبان دیتی ہے: ماہرینِ تعلیم توجہ دلا رہے ہیں کہ مہاراشٹر میں اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی سرکاری گرانٹ اب دی ہی نہیں جاتی، جس کے نتیجے میں عمارتوں اور بنیادی سہولتوں کا معیار ہر سطح پر گرتا چلا گیا ہے۔ دوسری طرف استاد ہے، جس کے کندھوں پر تدریس سے زیادہ دفتر کا بوجھ لاد دیا گیا ہے: حاضری کے پورٹل، اسکیموں کے فارم، سروے کے خانے، اور رپورٹوں کی وہ نہ ختم ہونے والی قطار جو تختۂ سیاہ اور بچے کے درمیان دیوار بن کر کھڑی ہو گئی ہے۔ یہی ماہرین بجا کہتے ہیں کہ نئے اساتذہ کی بھرتی ناگزیر ہے اور موجودہ اساتذہ کو دفتری مشقت سے رہائی دلانا اس سے بھی زیادہ ناگزیر۔ جس نظام میں دیوار بنانے کا بجٹ رک جائے اور استاد خود چلتا پھرتا دفتر بن جائے، وہاں سیکھنے کے نتائج کا گرنا حادثہ نہیں، حساب ہے۔ اشاریے کی صفِ اول پر نظر ڈالیے تو ایک اور پرت کھلتی ہے۔ چنڈی گڑھ سب سے آگے ہے، مگر کس بنا پر؟ ”نظم و نسق کے عمل“ میں تقریباً مکمل نمبر: فنڈ کے استعمال کی نگرانی، اساتذہ اور طلبہ کی ڈیجیٹل حاضری کے جال، ادارہ جاتی قیادت کے پروگرام۔ دوسری طرف پنجاب ہے، جو ”تعلیمی نتائج اور معیار“ میں سب سے آگے نکلا — بچوں کے پڑھنے، زبان اور ریاضی کی تصدیق شدہ مہارت کے بل پر۔ ان دونوں کامیابیوں کا فرق سمجھنا اس پوری بحث کی کنجی ہے۔ انتظام کی مشین چلانا ایک ہنر ہے اور علم کی کھیتی سینچنا بالکل دوسرا۔ اشاریے فطرتاً وہی ناپتے ہیں جو گنا جا سکے، اور تعلیم کا بہترین حصہ اکثر گنتی سے بچ نکلتا ہے: تجسس، اعتماد، سوال کرنے کی جرأت۔ مگر پنجاب کی مثال یہ بھی بتاتی ہے کہ سیکھنا ناقابلِ پیمائش نہیں؛ شرط صرف یہ ہے کہ نیت ناپنے کی نہیں، سکھانے کی ہو۔ اسکول کی روح نہ عمارت میں بستی ہے نہ رجسٹر میں؛ وہ اُس لمحے میں بستی ہے جب کسی بچے کے ذہن میں کوئی بات پہلی بار روشن ہوتی ہے۔ عمارت، وردی، دوپہر کا کھانا، پورٹل — یہ سب وسیلے ہیں؛ مقصود وہی ایک لمحہ ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ مہاراشٹر نے جماعت کے اندر ہونے والے اصل تدریسی عمل میں اپنے آدھے سے زیادہ نمبر گنوا دیے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ نظام نے وسیلوں کو مقصود سمجھ لیا ہے اور مقصود کو حاشیے پر ڈال دیا ہے۔ جس نصاب میں پرواز کی مشق نہ ہو، وہاں شاہین بچے بھی خاک ہی کریدنا سیکھتے ہیں۔ اور جب پوری ریاست کے بچوں کی پڑھنے اور حساب کی بنیادی مہارت آدھی رہ جائے تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے ایک نسل کے پروں کو مشق سے پہلے ہی باندھ دیا ہے۔ اس اشاریے کا سب سے دل گداز ورق وہ

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں! Read More »

روز پچیس چراغ بجھتے ہیں!!!

سرکاری اسکولی تعلیم کا بدلتا منظرنامہ — نیتی آیوگ کی رپورٹ کے آئینے میں ڈاکٹر اسد اللہ خان شام کا جھٹپٹا ہے۔ گاؤں کے کنارے وہ پرانی عمارت کھڑی ہے جس کی دیواروں پر کبھی حروفِ تہجی کے رنگین نقش تھے اور جس کے آنگن میں گھنٹی کی آواز دن میں کئی بار زندگی کا اعلان کرتی تھی۔ آج اس کے دروازے پر ایک زنگ آلود قفل جھول رہا ہے۔ نہ گھنٹی، نہ قاعدہ، نہ وہ شور جو دنیا کے ہر شور سے زیادہ مقدس ہے — بچوں کے پڑھنے کا شور۔ قفل کی کوئی زبان نہیں ہوتی، مگر وہ بولتا ہے؛ اور جو قفل کسی مکتب کے دروازے پر پڑا ہو، وہ محض ایک عمارت کو نہیں، ایک پوری بستی کے مستقبل کو مقفل کر دیتا ہے۔ یہ منظر کسی ایک گاؤں کا نہیں۔ نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ گواہی دیتی ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں اس ملک کے چورانوے ہزار سرکاری اسکول بند ہو چکے ہیں — یعنی اوسطاً ہر روز پچیس۔ ہر روز پچیس چراغ بجھتے ہیں اور بستیاں خاموش رہتی ہیں۔ کسی بینک کی شاخ بند ہو تو خبر بنتی ہے، کسی کارخانے پر تالا پڑے تو ایوانوں میں سوال گونجتے ہیں؛ مگر مکتب کا قفل ایسی چپ چاپ پڑتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ شاید اس لیے کہ اس نقصان کا اندراج کسی بہی کھاتے میں نہیں ہوتا؛ اس کا خمیازہ وہ نسل بھگتتی ہے جو ابھی ووٹ نہیں دیتی، جس کا کوئی مطالبہ ٹیلی ویژن کی سرخی نہیں بنتا، اور جس کی سسکی اخبار کے صفحۂ اول تک پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیتی ہے۔ یہ مضمون اسی خاموشی کے خلاف ایک صدا ہے۔ اس کا مقصد ماتم نہیں، محاسبہ ہے؛ اور محاسبہ بھی صرف حکومتوں کا نہیں، اس پورے معاشرتی مزاج کا جس نے تعلیم کو حق سے گھٹا کر سودا بنا دیا اور مکتب کو امانت سے گھٹا کر عمارت۔ مئی ۲۰۲۶ء میں نیتی آیوگ نے اپنی جامع رپورٹ جاری کی جس کا عنوان ہے: ”اسکول ایجوکیشن سسٹم اِن انڈیا: ٹیمپورل اینالسس اینڈ پالیسی روڈ میپ فار کوالٹی اینہانسمنٹ“۔ یہ رپورٹ یو ڈائس پلس ۲۵-۲۰۲۴ء، پرکھ راشٹریہ سروے ۲۰۲۴ء، قومی حصولیابی جائزوں اور اَسر ۲۰۲۴ء جیسے مستند سرکاری و نیم سرکاری ماخذوں پر مبنی ہے، اس لیے اس کے اعداد کو نہ جذباتی مبالغہ کہہ کر ٹالا جا سکتا ہے نہ سیاسی الزام کہہ کر جھٹلایا جا سکتا ہے۔ یہ خود ریاست کے اپنے آئینے میں ریاست کی اپنی صورت ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ ۱۵-۲۰۱۴ء میں ملک میں سرکاری اسکولوں کی تعداد ۱۱ لاکھ ۷ ہزار تھی جو ۲۵-۲۰۲۴ء میں گھٹ کر ۱۰ لاکھ ۱۳ ہزار رہ گئی۔ امدادی اسکول ۸۳ ہزار سے کم ہو کر ۷۹ ہزار ہوئے، جب کہ اسی عرصے میں نجی اسکول ۲ لاکھ ۸۸ ہزار سے بڑھ کر ۳ لاکھ ۳۹ ہزار تک جا پہنچے۔ اسکولوں میں داخل بچوں کی مجموعی تعداد ۲۶ کروڑ ۹۵ لاکھ سے گھٹ کر ۲۴ کروڑ ۶۹ لاکھ رہ گئی — یعنی ۲ کروڑ ۲۶ لاکھ بچوں کی کمی۔ اور سب سے کچوکے دینے والا عدد یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کا تناسب، جو ۲۰۰۵ء میں اکہتر فیصد تھا، اب گھٹ کر تقریباً انچاس فیصد رہ گیا ہے۔ ملک کی نصف سے زیادہ اولاد اب اس نظام سے باہر پڑھتی ہے جو کبھی پورے ملک کی درس گاہ تھا۔ اعداد و شمار اپنی فطرت میں سرد ہوتے ہیں، مگر ان کے پیچھے ہمیشہ گرم لہو دوڑتا ہے۔ چورانوے ہزار محض ایک رقم نہیں، چورانوے ہزار آنگن ہیں جن کی گھنٹیاں ہمیشہ کے لیے چپ ہو گئیں؛ لاکھوں سیاہ تختے ہیں جن پر اب کوئی سفید لکیر نہیں کھنچتی؛ اور بے شمار وہ ننھے قدم ہیں جنھیں اب علم تک پہنچنے کے لیے پہلے سے زیادہ لمبا، زیادہ سنسان اور زیادہ غیر محفوظ راستہ طے کرنا ہے۔ تاریخ کی عدالت میں یہ اعداد گواہ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں، اور ان کی گواہی کسی جرح سے نہیں ٹوٹتی۔ یہ دروازے کیوں بند ہوئے؟ کوئی بھی بڑا زوال کسی ایک سبب سے جنم نہیں لیتا؛ تین ندیاں الگ الگ پہاڑوں سے اتر کر اسی ایک بند دروازے تک پہنچی ہیں۔ پہلی ندی آبادیاتی ہے۔ ملک میں شرحِ پیدائش مسلسل گھٹ رہی ہے، اس لیے اسکول جانے کی عمر کے بچوں کی تعداد بھی سکڑ رہی ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے، مگر اس کے سہارے پورے زوال کی صفائی پیش کرنا ایسا ہی ہے جیسے سوکھتے ہوئے باغ کا سارا الزام موسم پر ڈال کر مالی اپنی غفلت چھپا لے۔ آبادی کم ہونے سے جماعتیں چھوٹی ہوتی ہیں، اسکول لازماً بند نہیں ہوتے؛ بند کرنے کا فیصلہ موسم نہیں، انسان کرتا ہے۔ دوسری ندی پالیسی کی ہے، جسے دفتری زبان میں ”معقولیت پسندی“ اور ”انضمام“ کا خوش نما نام دیا گیا ہے۔ کم داخلوں والے اسکولوں کو قریبی اسکولوں میں ضم کرنے کی دلیل بظاہر وزن دار ہے: وسائل یکجا ہوں گے، اساتذہ کا بہتر استعمال ہوگا، انتظام سہل ہوگا۔ مگر یہ حساب کاغذ پر جتنا صاف ہے، زمین پر اتنا ہی دھندلا۔ نقشے پر دو اسکولوں کا فاصلہ ایک لکیر ہے؛ زمین پر وہی فاصلہ ایک ندی، ایک شاہراہ، ایک سنسان پگڈنڈی اور ایک باپ کا وہ خوف ہے جو بیٹی کو دور کے اسکول بھیجنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے۔ حقِ تعلیم قانون نے ہر بچے کے لیے قریبی اسکول کی ضمانت دی تھی؛ انضمام کی ہر کارروائی جو اس ضمانت کو نظر انداز کرے، قانون کی روح پر کاری ضرب ہے، چاہے اس کے کاغذات کتنے ہی درست کیوں نہ ہوں۔ تیسری ندی سب سے گہری ہے: والدین کی وہ خاموش ہجرت جو سرکاری آنگن سے نجی عمارتوں کی طرف جاری ہے۔ اسی ہجرت نے نجی اسکولوں کی تعداد میں اکاون ہزار کا اضافہ کیا ہے۔ اور یہی ندی اس بحث کو اس کے اصل سوال تک لے آتی ہے — یہ ہجرت کیوں ہو رہی ہے؟ جمہوریت میں رائے صرف ووٹ سے ظاہر نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی قوم اپنا فیصلہ قدموں سے سناتی ہے۔ جب ایک مزدور، جس کی دن بھر کی کمائی چند سو روپے ہے، اپنے بچے کو مفت سرکاری اسکول سے اٹھا کر فیس والے نجی

روز پچیس چراغ بجھتے ہیں!!! Read More »

آپ کا بچہ آپ کی دوسری اننگز نہیں ہے

بچوں پر مسلط توقعات کا تعلیمی، نفسیاتی اور سماجی مطالعہ ڈاکٹر اسد اللہ خان ہر بچہ اس دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے، مگر بہت کم بچے خالی ہاتھ رہنے پاتے ہیں۔ آنکھ کھلتے ہی ان کے ننھے کندھوں پر ایک ایسا بوجھ رکھ دیا جاتا ہے جو نہ ان کا کمایا ہوا ہے اور نہ مانگا ہوا: والدین کے ادھورے خوابوں کا قرض۔ یہ قرض کسی کاغذ پر درج نہیں ہوتا، مگر اس کی قسطیں عمر بھر وصول کی جاتی ہیں — کبھی نمبروں کی صورت میں، کبھی داخلوں کی صورت میں، اور کبھی اُس پیشے کی صورت میں جس کا انتخاب بچے نے نہیں بلکہ اس کے والدین کے ماضی نے کیا ہوتا ہے۔ اولاد انسان کی سب سے بڑی نعمت بھی ہے اور سب سے نازک آزمائش بھی۔ شاید اسی لیے والدین اپنی محبت کا سب سے گہرا اظہار بھی بچوں پر کرتے ہیں اور اپنی سب سے سنگین غلطیاں بھی انہی کے ساتھ کر بیٹھتے ہیں۔ محبت جب شعور کے ساتھ ہو تو شخصیت بناتی ہے، اور جب انا میں گھل جائے تو اسی شخصیت کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ چالیس برس درس گاہوں میں گزارنے کے بعد میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کمرۂ جماعت میں بیٹھے ہوئے بجھے بجھے چہروں کی اکثریت ذہانت کی کمی کا نتیجہ نہیں ہوتی؛ وہ اُس خاموش کشمکش کا حاصل ہوتی ہے جو بچے کی فطرت اور والدین کی خواہش کے درمیان برسوں جاری رہتی ہے۔ اسی لیے ایک جملہ ہر ماں اور ہر باپ کو اپنے دل کی تختی پر لکھ لینا چاہیے، آپ کا بچہ آپ کی دوسری اننگز کھیلنے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ وہ آپ کی زندگی کا دوسرا باب نہیں، اپنی زندگی کی پہلی کتاب ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک خاموش مگر تیزی سے جڑ پکڑتا ہوا رویہ یہ ہے کہ والدین اولاد کو ایک مستقل ذات کے بجائے اپنی نامکمل خواہشوں کی تکمیل کا وسیلہ سمجھنے لگے ہیں۔ بچہ گھر میں آتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا مستقبل بھی طے کر دیا جاتا ہے — پیدائش سے پہلے نام سوچا جاتا ہے اور بسا اوقات نام سے بھی پہلے پیشہ۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اولاد اللہ کی امانت ہے، والدین کی ملکیت نہیں؛ اور امانت میں نگہداشت کے آداب ہوتے ہیں، تصرف کا حقِ ملکیت نہیں ہوتا۔ یہ رویہ ہماری روزمرہ زبان سے بھی جھلکتا ہے۔ ہم کہتے ہیں: ”میں ڈاکٹر نہیں بن سکا، میرا بیٹا ضرور بنے گا۔“ ”مجھے انجینئرنگ کا موقع نہیں ملا، میری بیٹی وہ خواب پورا کرے گی۔“ ”مجھے بچپن میں کھیلنے نہیں دیا گیا، اب میرا بچہ ہر حال میں قومی کھلاڑی بنے گا۔“ سننے میں یہ جملے شفقت میں ڈوبے ہوئے معلوم ہوتے ہیں، مگر ذرا اندر جھانکیے تو ہر جملے کا اصل فاعل بچہ نہیں، ”میں“ ہے۔ یہ محبت کی زبان نہیں، انا کی زبان ہے جس نے محبت کا لباس پہن رکھا ہے۔ ایسے لمحوں میں ہم بچے کی زندگی نہیں سنوار رہے ہوتے، اپنی ناکامیوں کا مداوا کر رہے ہوتے ہیں۔ مشرق کے حکیم ادیب خلیل جبران نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”پیغمبر“ میں اسی حقیقت کو ایک جملے میں سمو دیا تھا جس کا مفہوم یہ ہے تمہاری اولاد تمہاری نہیں؛ وہ تمہارے ذریعے آتی ہے، تم سے نہیں، اور تمہارے پاس رہتی ہے، مگر تمہاری ملکیت نہیں۔ کوئی رویہ خلا میں جنم نہیں لیتا۔ اگر آج کے والدین بچوں پر خواب مسلط کر رہے ہیں تو اس کی جڑیں ان کی اپنی زندگی کی مٹی میں پیوست ہیں، اور ان جڑوں کو پہچانے بغیر شاخیں کاٹنے سے درخت نہیں بدلتا۔ پہلی جڑ احساسِ محرومی ہے۔ جس نسل کو خود اپنے خواب دیکھنے کی مہلت نہیں ملی — کسی کو غربت نے روکا، کسی کو حالات نے، کسی کو اس کے اپنے والدین نے — وہ اپنی محرومی کو اولاد کے ذریعے فتح کرنا چاہتی ہے۔ نفسیات اس رجحان کو تلافی کہتی ہے: انسان اپنے اندر کے خلا کو کسی اور کے وجود سے بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس تلافی کی قیمت وہ ادا کرتا ہے جس کا اس محرومی سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ دوسری جڑ سماجی دباؤ ہے۔ ہمارے ہاں بچے کا امتحانی نتیجہ صرف بچے کا نتیجہ نہیں سمجھا جاتا؛ وہ خاندان کی عزت کا اعلامیہ بن جاتا ہے۔ رشتہ داروں کی محفلوں میں بچوں کے نمبر والدین کے تمغے بن کر پیش ہوتے ہیں، اور جس گھر کا بچہ اس دوڑ میں پیچھے رہ جائے وہاں شرمندگی کا سایہ اترتا ہے۔ ایسے ماحول میں بچے کی فطری صلاحیت نہیں، برادری کی نگاہ فیصلہ کن ہو جاتی ہے۔ تیسری جڑ تصورِ رزق کی تنگی ہے۔ ہم نے عزت اور روزی کو گنتی کے تین چار پیشوں میں قید کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، افسر — بس یہی کامیابی کے معتبر عنوانات ہیں؛ باقی سب راستے یا تو ”شوق“ کہلاتے ہیں یا ”وقت کا زیاں“۔ حالانکہ جو معاشرہ صرف تین دروازوں کو معتبر مانے، وہ اپنے ہزاروں بچوں کو دیوار سے سر ٹکرانے پر مجبور کرتا ہے۔ بچہ اپنے والدین کا تسلسل ضرور ہے، مگر ان کی کاربن کاپی نہیں۔ وہ ان کا دوسرا ایڈیشن ہے نہ ری میک، نہ کسی نامکمل منصوبے کی تکمیل۔ اس کی اپنی سوچ ہے، اپنا مزاج، اپنی رفتار، اپنے خواب، اور سب سے بڑھ کر اس کا اپنا مقدر۔ ہر بچہ اس دنیا میں ایک نئی کتاب بن کر آتا ہے؛ افسوس یہ ہے کہ ہم اس کتاب کو پڑھنے کے بجائے اس کے صفحات پر اپنی پرانی کہانی لکھنے لگتے ہیں۔ قدرت نے کبھی یکسانیت کو پسند نہیں کیا۔ اگر پوری کائنات میں صرف ایک ہی قسم کے پھول کھلتے تو بہار کتنی بے رنگ ہوتی۔ اگر ہر انسان صرف ڈاکٹر یا افسر بنتا تو شاعری کون کرتا؟ ادب کون تخلیق کرتا؟ استاد کون بنتا؟ سائنس کو نئی جہتیں کون دیتا؟ مصوری، کھیل، تجارت، تحقیق، صحافت اور سماجی خدمت کے میدان کس کے سپرد ہوتے؟ معاشرے کی اصل قوت اس کے تنوع میں ہے، اس کی یکسانیت میں نہیں۔ اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ہم ایک فطری مصور کو ریاضی دان بنانے پر تل جائیں، یا ایک پیدائشی

آپ کا بچہ آپ کی دوسری اننگز نہیں ہے Read More »

سہما ہوا سوال

خوف کی درس گاہ سے فکر کی بازیافت تک ڈاکٹر اسد اللہ خان پہلا دن، پہلا سبق گھر کے آنگن میں وہ بچہ چڑیوں کی طرح چہکتا تھا۔ ہر شے پر انگلی رکھتا، ہر بات پر “کیوں” کہتا، اور جواب ملنے پر ایک نیا “کیوں” تراش لاتا۔ پھر ایک صبح اس کے کندھے پر بستہ رکھا گیا اور وہ اس عمارت میں داخل ہوا جسے ہم درس گاہ کہتے ہیں۔ برسو ں سے میں اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں، اور ہر بار دل میں ایک ہی کانٹا چبھتا ہے: بیشتر اسکولوں میں بچے کو جو پہلا سبق ملتا ہے وہ حروفِ تہجی کا نہیں، خاموشی کا ہوتا ہے۔ “چپ بیٹھو”، “ہلو مت”، “سوال بعد میں”۔ علم کے دروازے پر پہلا پہرہ خوف کا بٹھا دیا جاتا ہے۔ یہ مضمون اسی چبھن کا حاصل ہے۔ یہ کسی ادارے یا فردِ واحد کی شکایت نہیں، بلکہ اس پورے مزاج کا محاسبہ ہے جس نے صدیوں سے سوال کو گستاخی اور خاموشی کو تہذیب سمجھ رکھا ہے۔جس درس گاہ کا پہلا سبق خاموشی ہو، اس کا آخری حاصل بھی خاموشی ہی ہوتا ہے۔ کوئی رویّہ اچانک جنم نہیں لیتا۔ ہمارے مدارس و مکاتب کی موجودہ ساخت بڑی حد تک اس نوآبادیاتی نظام کی دین ہے جسے حاکموں نے اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالا تھا۔ انہیں مفکر نہیں، منشی درکار تھے؛ ایسے کارندے جو حکم بجا لائیں، سطریں نقل کریں اور سوال نہ اٹھائیں۔ گھنٹی پر چلنے والا نظام، قطاروں میں جمی ہوئی نشستیں، ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے جواب — یہ سب اسی کارخانہ نما تصورِ تعلیم کی باقیات ہیں جس میں بچہ خام مال تھا اور ملازمت تیار شدہ پیداوار۔ حاکم چلے گئے، مگر ان کی چھوڑی ہوئی عمارتوں کے ساتھ ہم نے ان کا خوف بھی ورثے میں سنبھال لیا۔ آزادی کے کئی عشروں بعد بھی ہمارے کمرۂ جماعت کی فضا میں وہی حکم، وہی سہم اور وہی سناٹا سانس لیتا ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم صرف تاریخ کو موردِ الزام نہ ٹھہرائیں؛ اس مرض کی جڑیں ہمارے اپنے صحن میں بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ پہلی جڑ وہ سماجی تصور ہے جو خاموش بچے کو “شریف” اور سوال کرنے والے کو “زبان دراز” قرار دیتا ہے۔ دوسری جڑ ہمارے کمرۂ جماعت کی بھیڑ ہے؛ جہاں ایک استاد کے سامنے ساٹھ ستر بچے بیٹھے ہوں، وہاں مکالمہ عیاشی معلوم ہوتا ہے اور خاموشی انتظامی ضرورت بن جاتی ہے۔ تیسری جڑ استاد کی وہ تربیت ہے جس میں اسے نصاب پڑھانا تو سکھایا جاتا ہے، بچے کے دل تک پہنچنا نہیں۔ اور چوتھی، سب سے گہری جڑ، ہمارا امتحانی نظام ہے جو یادداشت کو تولتا ہے اور فہم کو نظر انداز کرتا ہے۔ ان چاروں جڑوں سے جو درخت اگتا ہے، اس کا پھل ہم سب چکھ رہے ہیں: ڈگریوں سے لدے ہوئے ایسے نوجوان جن کے پاس جواب بہت ہیں، مگر سوال ایک بھی نہیں۔ یہاں اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے جسے ہم اکثر گڈمڈ کر دیتے ہیں۔ نظم و ضبط تعلیم کی روح ہے؛ اس سے کسی کو انکار نہیں۔ مگر نظم وہ ہے جو شعور سے پھوٹے، اور خوف وہ ہے جو شعور کو کچل دے۔ جو بچہ استاد کے احترام میں خاموش ہے، وہ سیکھ رہا ہے؛ اور جو بچہ استاد کے ڈر سے خاموش ہے، وہ صرف بچ رہا ہے۔ دونوں کی خاموشی بظاہر ایک جیسی ہے، مگر ایک کے اندر چراغ جل رہا ہے اور دوسرے کے اندر بجھ رہا ہے۔ خوف سے پیدا ہونے والی فرماں برداری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ نگرانی کی محتاج ہوتی ہے۔ استاد کمرے سے نکلا اور نظم بکھر گیا۔ اس کے برعکس محبت سے پیدا ہونے والا احترام بچے کے اندر اتر جاتا ہے اور وہاں بھی اس کی رہنمائی کرتا ہے جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا۔ تربیت کا اصل امتحان کمرۂ جماعت میں نہیں، کمرۂ جماعت کے باہر ہوتا ہے۔ یہ محض جذباتی دعویٰ نہیں؛ تعلیمی فکر کی پوری روایت اس پر گواہ ہے۔ ماریا مونٹیسوری نے بچے کو بیج سے تشبیہ دی جس کے اندر اس کا پورا امکان پوشیدہ ہے؛ باغبان کا کام بیج کو کھینچ کر بڑا کرنا نہیں، اسے موافق فضا دینا ہے۔ فروبل نے اپنی درس گاہ کو “کنڈر گارٹن” یعنی بچوں کا باغ کہا، مکتب یا کارخانہ نہیں کہا؛ اس نام ہی میں اس کا پورا فلسفہ سمویا ہوا ہے۔ جان ڈیوی نے سکھایا کہ بچہ کرنے سے سیکھتا ہے، سننے سے نہیں۔ اور ہم سے چھ سو برس پہلے ابنِ خلدون اپنے مقدمے میں لکھ گئے کہ طالبِ علم پر سختی اس کی طبیعت کو دباتی ہے، اسے سست اور جھوٹ کی طرف مائل کرتی ہے، کیونکہ وہ سزا کے خوف سے اپنے دل کی بات چھپانا سیکھ لیتا ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ہماری اپنی علمی روایت کا یہ روشن سبق مغرب نے اپنی درس گاہوں میں اتار لیا اور ہم نے اپنی الماریوں میں بند کر دیا۔ جدید نفسیات نے اس پرانی حکمت کی توثیق کر دی ہے۔ خوف کی حالت میں انسانی ذہن اپنی توانائی سیکھنے پر نہیں، بچاؤ پر صرف کرتا ہے۔ سہما ہوا دماغ رٹ سکتا ہے، سمجھ نہیں سکتا؛ نقل کر سکتا ہے، تخلیق نہیں کر سکتا۔ جو بچہ بار بار جھڑکا جائے، سب کے سامنے شرمندہ کیا جائے، اس کے اندر آہستہ آہستہ ایک خاموش فیصلہ جنم لیتا ہے: “بولنا خطرناک ہے۔” پھر وہ ہاتھ اٹھانا چھوڑ دیتا ہے، آنکھ ملانا چھوڑ دیتا ہے، اور بالآخر سوچنا بھی چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ جس سوچ کو زبان نہ ملے وہ دھیرے دھیرے دم توڑ دیتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں بچہ اپنا سب سے قیمتی سرمایہ کھو بیٹھتا ہے: خود اعتمادی۔ عمارت کی بنیاد ہل جائے تو منزلیں کتنی ہی سجا لیجیے، لرزش باقی رہتی ہے۔ بچپن میں چھنا ہوا اعتماد جوانی کے انٹرویو کے کمرے تک، بلکہ زندگی کے ہر فیصلے تک، اپنا سایہ ڈالتا رہتا ہے۔رٹنے والا ذہن امتحان پاس کرتا ہے؛ سوال کرنے والا ذہن زمانہ بدلتا ہے۔ خاموش بچے، خاموش معاشرہ کمرۂ جماعت دراصل معاشرے کی نرسری ہے۔ جو کچھ آج وہاں بویا جا رہا ہے، کل وہی گلیوں، دفتروں اور ایوانوں میں لہلہائے گا۔ جس نسل

سہما ہوا سوال Read More »

جامع جنسی تعلیم: ضرورت یا غلط فہمی؟

جامع جنسی تعلیم پر مرکز کا اعلان، عدالتِ عظمیٰ کی فکرمندی اور ہمارے بچوں کی حفاظت کا سوال ڈاکٹر اسد اللہ خان ہر گھر میں ایک لمحہ آتا ہے جب کوئی بچہ ایسا سوال پوچھ بیٹھتا ہے جس پر پورا کمرہ سناٹے میں ڈوب جاتا ہے۔ ماں نظریں چرا لیتی ہے، باپ اخبار کی اوٹ لے لیتا ہے، اور بچے کو جھڑک کر یا بہلا کر چپ کرا دیا جاتا ہے۔ مگر وہ سوال مرتا نہیں؛ وہ گھر سے نکل کر گلی میں، اسکرین پر اور اجنبی ہاتھوں میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ مَیں نے یہ منظر اتنی بار دیکھا ہے کہ اب پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے اپنے بچوں کو جواب نہیں دیے، مگر انہیں سوالوں سے نجات بھی نہیں دلائی۔ ہم نے صرف یہ کیا کہ جواب دینے والوں کا انتخاب دوسروں کے سپرد کر دیا۔ پیر کے روز ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ایک ایسا جملہ کہا گیا جو برسوں کی جھجک پر خطِ تنسیخ کھینچتا ہے۔ مرکزی حکومت کی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ کو بتایا کہ حکومت ملک بھر کے اسکولوں اور کالجوں میں جامع جنسی تعلیم رائج کرنے پر آمادہ ہے اور اس نے ماہرین کی اُس کمیٹی کی سفارشات قبول کر لی ہیں جو خود عدالت کی ہدایت پر قائم کی گئی تھی۔ چھبیس ارکان پر مشتمل اس کمیٹی کی صدارت وزارتِ ترقیِ نسواں و اطفال کے ایڈیشنل سکریٹری نے کی، اور اس میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے ماہرین، ماہرینِ نفسیات، قومی کمیشن برائے تحفظِ حقوقِ اطفال اور قومی قانونی خدمات اتھارٹی کے نمائندے شامل تھے۔ عدالت کی معاونت پر مامور سینئر وکلا مادھوی دیوان اور لز میتھیو نے رپورٹ کو سراہتے ہوئے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ جامع جنسی تعلیم کے دائرۂ کار کی تفصیلی وضاحت ضروری ہے، جس پر عدالت نے غور کر کے مناسب احکامات جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ خبر بظاہر چند سطروں کی ہے، مگر اس کے پیچھے ہمارے معاشرے کی نصف صدی کی کشمکش سانس لے رہی ہے۔ یہ معاملہ عدالت تک پہنچا کیسے؟ اس کی جڑ ایک تلخ تضاد میں پیوست ہے۔ بچوں کو جنسی جرائم سے بچانے کے لیے بنایا گیا قانون، پاکسو، اکثر ایسے نوعمر لڑکے لڑکیوں پر بجلی بن کر گرتا رہا جو باہمی رضامندی سے کسی تعلق میں بندھے تھے۔ عدالتِ عظمیٰ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ پندرہ سے اٹھارہ برس کے نوعمروں کے رضامندانہ تعلقات اور کم عمر بچیوں کے حمل کے معاملات کو خود بخود سنگین جرم کیوں بنا دیا جائے۔ جسٹس ناگرتنا نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ نوعمری کا ہر معاملہ پولیس کی دہلیز تک پہنچنے کے لائق نہیں ہوتا۔ عدالت نے مرکز سے راستہ نکالنے کو کہا، اور راستہ ڈھونڈنے نکلی کمیٹی جس نتیجے پر پہنچی وہ سزا نہیں، تعلیم تھی۔ یہ نتیجہ بذاتِ خود ایک سبق ہے: جن مسائل کو ہم عدالتوں اور تھانوں کے حوالے کرتے ہیں، ان کا حل اکثر کمرۂ جماعت میں پڑا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عام خیال یہ ہے کہ جس موضوع پر بات نہ کی جائے وہ بچے کی دنیا میں داخل ہی نہیں ہوتا۔ کاش یہ سچ ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خاموشی کوئی خالی جگہ نہیں چھوڑتی؛ وہ جگہ فوراً بھر جاتی ہے — کبھی ہم جماعتوں کی سرگوشیوں سے، کبھی انٹرنیٹ کے اندھے کنویں سے، اور کبھی اُس بدنیت نگاہ سے جو ناواقف بچے کو سب سے آسان شکار سمجھتی ہے۔ جس بچے کو اپنے جسم کے بارے میں درست لفظ سکھائے ہی نہیں گئے، وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی بیان بھی نہیں کر سکتا۔ گویا ہماری خاموشی مجرم کی سب سے بڑی سہولت کار بن جاتی ہے۔ یہ کہنا کہ ہم نے بچے کو معصومیت میں رکھا، خود کو تسلی دینے کا ایک انداز ہے؛ درحقیقت ہم نے اسے بے خبری میں رکھا، اور بے خبری معصومیت نہیں ہوتی۔ نصاب میں آخر آئے گا کیا؟ “جنسی تعلیم” کی ترکیب سنتے ہی وہم میں جو تصویریں ابھرتی ہیں، کمیٹی کی سفارشات ان سے کوسوں دور ہیں۔ چھوٹی جماعتوں کے لیے تجویز صرف اتنی ہے: جسم کی صفائی، اپنے جسم سے واقفیت، ذاتی حفاظت، اور اچھے برے لمس کی تمیز۔ بڑی جماعتوں کے لیے بلوغت کی جسمانی اور جذباتی تبدیلیاں، تولیدی صحت، رضامندی کا شعور، صحت مند رشتے اور باہمی احترام — اور یہ سب قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ کے دائرے میں۔ کمیٹی کے بقول حفاظت، جسمانی اعضا اور صفائی کے بنیادی تصورات تعلیم کے بنیادی مرحلے (فاؤنڈیشنل اسٹیج) ہی سے شامل کیے جا سکتے ہیں، اور نوعمروں کی تعلیم کے موجودہ پروگراموں کا جائزہ لے کر انہیں اس طرح سنوارا جائے کہ قومی تعلیمی پالیسی کے مرکزی مقاصد — ہمہ جہت نشوونما، تنقیدی فکر اور زندگی کے ہنر — پورے ہوں۔ این سی ای آر ٹی سے نصاب کی تیاری کے لیے کہا گیا ہے؛ پرائمری سطح ہی سے ایک مختص، ماہر معلم کے ذریعے ہفتے میں کم از کم دو بار پندرہ بیس منٹ کی لازمی نشستوں کی سفارش کی گئی ہے؛ اور والدین، سرپرستوں اور اساتذہ کے لیے باقاعدہ آگہی اجلاس تجویز کیے گئے ہیں تاکہ گھر اور اسکول ایک زبان بولیں۔ اب ذرا غور کیجیے: اس فہرست میں کون سی بات ایسی ہے جو کوئی سمجھ دار ماں اپنی بیٹی کو، اور کوئی شفیق استاد اپنے شاگرد کو خود نہ سکھانا چاہے؟ مسئلہ مواد کا نہیں، اُس نام کا ہے جسے سن کر ہم چونک اٹھتے ہیں۔ بچے کا ذہن اور شرم کا بوجھ نفسیات کا ابتدائی سبق یہ ہے کہ تجسس بچپن کی فطرت ہے، اور فطرت ڈانٹ سے نہیں، رہنمائی سے سنورتی ہے۔ جو بچہ اپنے جسم سے متعلق سوال پوچھنے پر جھڑکا جاتا ہے وہ صرف ایک بات سیکھتا ہے: یہ موضوع گناہ ہے اور اس پر بات چھپ کر ہوتی ہے۔ یہی چھپن آگے چل کر اس کی سب سے بڑی دشمن بنتی ہے۔ زیادتی کا شکار بچہ اکثر برسوں چپ رہتا ہے — اس لیے نہیں کہ وہ بولنا نہیں چاہتا، بلکہ اس لیے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ الزام اسی کے سر آئے گا۔ ماہرینِ نفسیات کا مشاہدہ

جامع جنسی تعلیم: ضرورت یا غلط فہمی؟ Read More »

حیا کے سائے میں علم

جنسی تعلیم کا اسلامی تناظر: قرآن و سنت کی رہنمائی اور امتِ مسلمہ کا فکری منظرنامہ ڈاکٹر اسد اللہ خان جب ریاست اعلان کرتی ہے کہ اسکولوں میں جامع جنسی تعلیم دی جائے گی تو مسلمان والدین کے دل میں سب سے پہلا سوال نہ نصاب کا ہوتا ہے نہ طریقِ تدریس کا؛ پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ دین اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ یہ سوال نہ کم علمی کی علامت ہے نہ تنگ نظری کی؛ یہ اُس قوم کا فطری ردِعمل ہے جس کے نزدیک علم اور اخلاق کبھی الگ الگ خانوں میں نہیں رہے۔ اس لیے مَیں نے مناسب سمجھا کہ اپنے مضمون «خاموشی کا نصاب» کے بعد اس سوال کو الگ سے اٹھاؤں اور دیانت داری سے دیکھوں کہ قرآن و سنت کا اسلوب اس باب میں کیا ہے، ہماری فقہی اور تعلیمی روایت نے یہ مضامین کیسے برتے ہیں، اور آج کی امتِ مسلمہ — مراکش سے انڈونیشیا تک — اس مسئلے پر عملاً کہاں کھڑی ہے۔ نتیجہ پڑھنے والے کو شاید چونکا دے: ہماری روایت اس معاملے میں ہماری موجودہ خاموشی سے کہیں زیادہ گویا رہی ہے۔ قرآن کا اسلوب: خاموشی نہیں، سلیقہ قرآنِ مجید کو کھول کر دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتاب جسے ہم منبروں پر غلافوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں، انسانی زندگی کے انہی موضوعات پر کھلے مگر پاکیزہ اسلوب میں کلام کرتی ہے جن پر ہم اپنے گھروں میں لب کشائی گوارا نہیں کرتے۔ سورۂ بقرہ میں صحابہ کا سوال اور اللہ کا جواب موجود ہے: «وَیَسْـَٔلُونَکَ عَنِ الْمَحِیضِ» — لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں (البقرہ: ۲۲۲) — اور جواب میں نہ جھجک ہے نہ ابہام، صرف حکم اور حکمت ہے۔ سورۂ مومنون انسانی تخلیق کے مراحل — نطفہ، علقہ، مضغہ — کی منظم تعلیم دیتی ہے (المومنون: ۱۲ تا ۱۴)۔ ازدواجی تعلق، طہارت، غسل اور عدت کے احکام قرآن کے صفحات پر جا بجا بکھرے ہیں۔ غور کیجیے: وحی نے ان موضوعات کو نہ فحش سمجھا نہ ممنوع؛ اس نے انہیں علم کا درجہ دیا اور بیان کا ایسا معیار قائم کیا جس میں صراحت بھی ہے اور وقار بھی۔ گویا اصل قرآنی سبق مضمون سے زیادہ اسلوب کا ہے: بات کیجیے، مگر اس زبان میں جو حیا کو مجروح نہ کرے۔ سورۂ نور کا نصاب: عمر کے مطابق تربیت جس اصول کو آج کی تعلیمی اصطلاح میں “عمر کے مطابق تعلیم” کہا جاتا ہے، قرآن نے اسے چودہ صدیاں قبل ایک مکمل ضابطے کی صورت میں اتار دیا تھا۔ سورۂ نور حکم دیتی ہے کہ گھر کے نابالغ بچے تین اوقات میں — نمازِ فجر سے پہلے، دوپہر کے آرام کے وقت، اور عشا کے بعد — والدین کے کمرے میں اجازت لے کر داخل ہوں، اور جب وہ بلوغ کو پہنچ جائیں تو ہر وقت اجازت لے کر آئیں (النور: ۵۸ اور ۵۹)۔ اس ایک حکم میں جدید تعلیمی نفسیات کے کتنے اصول سمٹے ہوئے ہیں: بچے کو خلوت اور بے پردگی کے تصور سے بتدریج روشناس کرانا؛ عمر کے مرحلوں کے مطابق تقاضے بدلنا؛ اور جسمانی حدود کا شعور خود گھر کے اندر سے شروع کرنا۔ آج کی کمیٹی جسے “بنیادی مرحلے سے ذاتی حفاظت کی تعلیم” کہتی ہے، سورۂ نور اسے گھریلو تربیت کا حصہ بنا چکی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے اپنی ہی کتاب کا یہ باب پڑھنا چھوڑ دیا۔ نبویؐ درس گاہ میں سوال کی آزادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس دنیا کی وہ واحد درس گاہ تھی جہاں کوئی سوال شرمندہ نہیں کیا جاتا تھا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں اور برملا پوچھا کہ اگر عورت خواب میں وہی دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا اس پر غسل ہے؟ سوال سے پہلے انہوں نے جو جملہ کہا وہ اس پورے باب کی اساس ہے: «اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِی مِنَ الْحَقِّ» — اللہ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا — اور نبی کریمؐ نے نہ ٹالا، نہ جھڑکا، صاف جواب عطا فرمایا (بخاری و مسلم)۔ صحیح مسلم کی وہ روایت بھی سن لیجیے جس میں ایک مشرک نے حضرت سلمان فارسیؓ سے طنزاً کہا کہ تمہارے نبی تو تمہیں سب کچھ سکھاتے ہیں، حتیٰ کہ قضائے حاجت کے آداب بھی؛ سلمانؓ نے فخر سے فرمایا: ہاں، بے شک۔ جس تعلیمی تحریک نے طہارت کے باریک ترین مسائل سکھانے کو اپنا امتیاز سمجھا ہو، وہ جسم کی صفائی اور حفاظت کے اسباق سے کیسے شرما سکتی ہے؟ اور مسند احمد کا وہ نوجوان یاد کیجیے جو دربارِ نبویؐ میں بدکاری کی اجازت مانگنے آ پہنچا؛ آپؐ نے اسے دھتکارا نہیں، پاس بٹھایا اور پوچھا: کیا تو یہ اپنی ماں کے لیے پسند کرے گا؟ اپنی بیٹی کے لیے؟ نوجوان کا دل بدل گیا۔ یہ ہے وہ نبوی طریقِ تدریس — دلیل سے تطہیر، ڈانٹ سے نہیں — جس کی گواہی آج بچوں کی نفسیات کا ہر ماہر دیتا ہے۔ تربیت کے نبوی ضابطے: علم کے ساتھ حدود مگر اسلام کا کمال صرف بات کرنے کی اجازت نہیں؛ اس کا کمال یہ ہے کہ وہ علم اور حدود کو ایک ساتھ سکھاتا ہے۔ حدیثِ پاک میں حکم ہے کہ بچوں کو سات برس کی عمر میں نماز کی تلقین کرو اور دس برس کے ہو جائیں تو ان کے بستر الگ کر دو (ابوداؤد)۔ بستر الگ کرنے کا یہ حکم بلوغ سے پہلے کی حفاظتی تربیت ہے — وہی جسے آج کی زبان میں “ذاتی حدود کا شعور” کہا جاتا ہے۔ قرآن مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے (النور: ۳۰ اور ۳۱)، بدکاری سے صرف روکتا نہیں بلکہ اس کے قریب جانے سے روکتا ہے: «وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰی» (بنی اسرائیل: ۳۲)، اور والدین کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: «قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا» — اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ (التحریم: ۶)۔ نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا (بخاری و مسلم)۔ گویا اسلامی تصور میں یہ تعلیم والدین کی ذمہ داری سے شروع ہوتی ہے، علم سے آگے بڑھتی ہے اور تقویٰ پر تمام ہوتی

حیا کے سائے میں علم Read More »

پچاس دستکیں اور ایک بند دروازہ

کانپور کے گولڈ میڈلسٹ کی خاموش رخصتی — تعلیم، روزگار اور ہمارے عہد کا محاسبہ ڈاکٹر اسد اللہ خان پانچ سطریں۔ کاغذ کے ایک معمولی ٹکڑے پر لکھی ہوئی صرف پانچ سطریں، جن میں ایک تیئیس سالہ انجینئر نے اپنی پوری زندگی کا حساب سمیٹ دیا: ’’سوری پاپا! میں نے سرکاری نوکری کے لیے تقریباً پچاس بار کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ مجھے معاف کر دیجیے۔‘‘ کانپور کے محلے گجینی کی ایک سہ منزلہ عمارت میں، جہاں گھر والے بڑے بیٹے کی شادی طے کرنے بہار گئے ہوئے تھے، چھوٹا بیٹا اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ دستکیں دی گئیں، جواب نہ آیا؛ پھر وہی دروازہ توڑنا پڑا جس پر زندگی نے شاید بہت پہلے دستک دینا چھوڑ دی تھی۔ خبر چند سطروں میں ختم ہو جاتی ہے، مگر سوال ختم نہیں ہوتا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسی خبریں محض حادثہ نہیں ہوتیں؛ یہ اُس عمارت کی دراڑیں ہیں جس میں ہم سب رہتے ہیں اور جسے ہم تعلیم، روزگار اور معاشرہ کہتے ہیں۔ آنند کا آخری جملہ بظاہر ایک بیٹے کی معذرت ہے، مگر غور سے پڑھیے تو یہ پورے نظام کے نام لکھا ہوا استغاثہ ہے۔ آنند کوئی گم نام یا پس ماندہ طالب علم نہ تھا۔ ۲۰۲۴ء میں اُس نے کانپور کے ایک انجینئرنگ کالج سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ٹیک مکمل کیا، اپنے ادارے میں اوّل آیا اور اترپردیش بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اگست ۲۰۲۴ء کی ایک باوقار تقریب میں اُس کے گلے میں سونے کا تمغہ ڈالا گیا؛ تالیاں بجیں، تصویریں کھنچیں، والدین کا سر فخر سے بلند ہوا۔ دو برس بھی نہ گزرے تھے کہ وہی خاندان، جو ایک بیٹے کے سہرے کی تیاری میں مصروف تھا، دوسرے بیٹے کا جنازہ اٹھانے پر مجبور ہوا۔ ایک ہی آنگن میں شہنائی کی تیاری ہو رہی تھی اور خاموشی پرورش پا رہی تھی — اور کسی کو خبر نہ ہوئی۔ یہی تضاد اس المیے کی اصل عبرت ہے۔ ہم اکثر یہ فرض کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ایسا انجام کمزور یا نالائق ذہنوں کا مقدر ہوتا ہے۔ آنند کا تمغہ اس مفروضے کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ جو نوجوان مقابلے کی دوڑ میں لاکھوں کو پیچھے چھوڑ چکا تھا، وہ زندگی کی دوڑ میں تنہا رہ گیا۔ سوال یہ نہیں کہ اُس میں کیا کمی تھی؛ سوال یہ ہے کہ ہم نے اُسے کیا نہیں دیا۔جس ملک میں سونے کا تمغہ روزگار کی ضمانت نہیں بن سکتا، وہاں تعلیم انعام نہیں رہتی، مسلسل امتحان بن جاتی ہے۔ سرکاری نوکری: خواب، ضرورت یا آسیب؟ شمالی ہندوستان کے قصبوں میں پرورش پانے والا بچہ ہوش سنبھالتے ہی ایک لفظ کی عظمت سے آشنا ہو جاتا ہے: ’’سرکاری‘‘۔ سرکاری نوکری محض روزگار نہیں، سماجی حیثیت کی سند ہے؛ رشتوں کے بازار میں سکۂ رائج الوقت، محلے کی نظر میں کامیابی کی آخری دلیل، اور والدین کے بڑھاپے کا بیمہ۔ تحفظ، پنشن اور وقار کی یہ تثلیث نسل در نسل ذہنوں میں اتاری گئی ہے۔ مگر اس خواب کا ایک تاریک پہلو بھی ہے۔ جب الیکٹریکل انجینئرنگ کا گولڈ میڈلسٹ بھی اپنی صلاحیت کا واحد مصرف سرکاری بھرتی کے امتحانات کو سمجھے تو یہ کسی فرد کا نہیں، پوری معیشت اور معاشرت کا بیان ہے۔ نجی شعبے کی کم تنخواہیں، ملازمت کا عدم تحفظ اور چھوٹے شہروں میں مواقع کا فقدان ہونہار نوجوان کو بھی اُسی ایک قطار میں لا کھڑا کرتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہی خواب آسیب بن جاتا ہے: عمر کی حد کا کھٹکا، فارم کی فیسیں، ملتوی ہوتے امتحان، اور ہر ناکامی کے بعد ’’ایک بار اور‘‘ کی صدا۔ پچاس کوششیں کوئی ضد نہ تھیں؛ وہ اُس سماجی معاہدے پر اعتبار تھا جو کبھی پورا نہ ہوا۔ جذبات سے ہٹ کر ذرا اعداد کی عدالت میں چلیے۔ ۲۰۲۴ء میں اترپردیش پولیس کے کانسٹیبل کی ۶۰ ہزار ۲۴۴ آسامیوں کے لیے تقریباً ۴۸ لاکھ امیدوار امتحان میں بیٹھے؛ گویا ایک کرسی کے دعوے دار کم و بیش اسّی۔ وہ بھرتی بھی پرچہ افشا ہونے کے الزامات کی نذر ہوئی، پہلا امتحان منسوخ ہوا اور نوجوانوں کا پورا ایک برس دوبارہ امتحان کے انتظار میں تحلیل ہو گیا۔ ادھر سرکاری لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) کی گواہی یہ ہے کہ گریجویٹ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح مجموعی قومی شرح سے کئی گنا بلند رہتی ہے — ۲۰۲۲ء-۲۳ء میں یہ شرح تیرہ فیصد سے متجاوز تھی — اور المیہ یہ کہ تعلیم کی سیڑھی جتنی اوپر جائیے، بے روزگاری کا تناسب اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔ اور اِس عدالت کا سنگین ترین فیصلہ قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے دفتر میں محفوظ ہے: ۲۰۲۳ء میں ملک بھر میں ۱۴ ہزار ۲۳۴ بے روزگار افراد نے اور ۱۳ ہزار ۸۹۲ طلبہ نے اپنی زندگی ختم کر لی — طلبہ کے حوالے سے یہ ایک عشرے کی بلند ترین تعداد ہے۔ اِن ہندسوں کو دیر تک دیکھیے؛ ہر ہندسے کے پیچھے ایک نام ہے، ایک دسترخوان ہے، ایک ماں کی دعا ہے، اور اکثر ایک ایسا ہی رقعہ جس کی پہلی سطر ’’سوری پاپا‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔پچاس ناکامیاں اُس کی نااہلی کا ثبوت نہیں تھیں؛ وہ اُس نظام کا بیان تھیں جس نے ساٹھ ہزار کرسیوں کے لیے اڑتالیس لاکھ خوابوں کو قطار میں کھڑا کر دیا۔ اب اپنے گریبان میں جھانکنے کی باری ہے — ہم اہلِ تعلیم کے گریبان میں۔ سونے کا تمغہ اِس بات کی گواہی دیتا ہے کہ طالب علم نے نصاب کو فتح کر لیا؛ وہ یہ ضمانت نہیں دیتا کہ نصاب نے طالب علم کو زندگی کے لیے تیار کیا۔ ہمارے بیشتر کالج ڈگری دیتے ہیں، سمت نہیں دیتے۔ چار برس کی انجینئرنگ میں کہیں یہ سبق شامل نہیں کہ روزگار کے راستے کتنے ہیں، اپنی صلاحیت کو بازار سے کیسے جوڑا جائے، شکست سے کیسے نمٹا جائے، اور مدد مانگنا کمزوری کیوں نہیں۔ جس تعلیم کے بعد ایک ذہین نوجوان کو اپنے سامنے صرف ایک دروازہ دکھائی دے، اُس تعلیم نے اُسے کھڑکیاں دکھانے کا فرض ادا نہیں کیا۔ کالج کا رشتہ سند ملتے ہی ختم ہو جاتا ہے؛ کوئی ادارہ پلٹ کر نہیں پوچھتا کہ ہمارا گولڈ میڈلسٹ دو برس بعد کہاں

پچاس دستکیں اور ایک بند دروازہ Read More »

سمٹتا ہوا آنگن

بچپن کے سوتے، والدین کے چیلنجز اور حل ڈاکٹر اسد اللہ خان شام کے سائے ابھی پوری طرح نہیں پھیلے تھے کہ عمارت کی سیڑھیوں پر ایک ننھے وجود کے قدموں کی تھکی تھکی چاپ سنائی دی۔ کندھے پر بستہ تھا جو قد سے بڑا معلوم ہوتا تھا، ہاتھ میں ٹیوشن کی کاپیاں تھیں اور آنکھوں میں وہ اجنبی سی تھکن جو کبھی صرف دن بھر مزدوری کرنے والوں کے چہروں پر دکھائی دیتی تھی۔ ماں نے دروازہ کھولا، کھانا گرم کیا اور گھڑی پر نظر ڈال کر یاد دلایا کہ آدھے گھنٹے بعد دوسری ٹیوشن ہے۔ بچے نے کچھ نہیں کہا۔ بچے اب شکایت نہیں کرتے؛ وہ صرف تھک جاتے ہیں۔ یہ منظر کسی ایک گھر کا نہیں۔ ممبرا سے ممبئی تک اور کانپور سے کلکتہ تک ہر اُس گھر کا ہے جہاں والدین اپنی اولاد کے لیے سب کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں، اور اسی ”سب کچھ“ کے بوجھ تلے وہ شے دبتی جا رہی ہے جسے بچپن کہتے ہیں۔ یہ تحریر انھی والدین کے نام ہے — اُن کے خلاف نہیں بلکہ اُن کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر — کیوں کہ مسئلہ نیتوں کا نہیں، زاویۂ نظر کا ہے۔ آئیے اُس آنگن کی خبر لیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے سمٹتا جا رہا ہے۔ صرف تیس پینتیس برس پہلے تربیت کا منظرنامہ بالکل مختلف تھا۔ محلہ ایک غیر تحریری درس گاہ تھا جس کا کوئی داخلہ فارم نہ تھا مگر نصاب نہایت مکمل تھا۔ بچہ صرف ماں باپ کا نہیں، پورے کوچے کا ہوتا تھا: دادی کی کہانی، پڑوس کی نگرانی، مکتب کی صبح، میدان کی شام — یہ سب مل کر وہ خدمت انجام دیتے تھے جو آج تنہا دو افراد کے کندھوں پر آ پڑی ہے۔ پھر مشترکہ خاندان سمٹ کر فلیٹ ہو گیا، کوچہ سمٹ کر راہ داری، اور راہ داری بھی ایسی جس میں بچوں کے دوڑنے پر پابندی کے نوٹس آویزاں ہیں۔ والدین کے موجودہ مسائل کو سمجھنے کی پہلی شرط یہی اعتراف ہے کہ وہ ایک ایسا کام تنہا انجام دے رہے ہیں جو انسانی تاریخ میں ہمیشہ اجتماعی رہا۔ جب پورا سماج تربیت سے دست کش ہو جائے تو ماں باپ پر صرف بوجھ نہیں بڑھتا، اُن کے فیصلوں کی نوعیت بدل جاتی ہے: نگرانی سختی میں ڈھلنے لگتی ہے، محبت اندیشوں کی زبان بولنے لگتی ہے اور گھر رفتہ رفتہ ایک ایسے دفتر کی صورت اختیار کر لیتا ہے جہاں شفقت بھی نظام الاوقات کی پابند ہے۔ اسی پس منظر میں وہ پانچ مسائل اُگے ہیں جن پر آگے گفتگو ہوگی۔ کھیل جو نصاب سے خارج ہوا پہلا مسئلہ وقت کا ہے۔ اسکول صبح لے جاتا ہے، ٹیوشن شام چھین لیتی ہے اور ہوم ورک رات نگل جاتا ہے۔ حساب لگائیے تو ایک عام شہری بچے کے شب و روز میں آزاد کھیل کا حصہ اتنا ہی رہ گیا ہے جتنا کسی مقدمے کی فائل میں انصاف کا۔ ستم یہ ہے کہ ہم نے کھیل کو تعلیم کا حریف سمجھ لیا، حالانکہ تعلیمی فکر کے تمام بڑے دھارے اس پر متفق چلے آئے ہیں کہ کھیل بچے کی فطری درس گاہ ہے۔ فروبل نے اپنے ادارے کو ”بچوں کا باغ“ کہا تھا اور مونٹیسوری روایت میں کھیل کو بچپن کی محنت مانا گیا — یعنی وہ کام جو بچہ اپنی تعمیر کے لیے کرتا ہے۔ میدان میں بچہ صرف دوڑتا نہیں؛ وہ ہارنا سیکھتا ہے، انتظار کرنا سیکھتا ہے، جھگڑنا اور صلح کرنا سیکھتا ہے، قیادت اور اطاعت دونوں کا مزہ چکھتا ہے، اور اپنے جسم پر وہ اعتماد حاصل کرتا ہے جو کسی نصابی کتاب کے بس کا نہیں۔ جس نسل سے کھیل چھین لیا جائے اُسے محض تفریح سے نہیں، تربیت کے ایک پورے نظام سے محروم کیا جاتا ہے۔ اور جب یہ محرومی تھکن کے ساتھ مل جائے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آج ہر گھر میں دکھائی دیتا ہے: ایسا بچہ جس کے پاس معلومات بہت ہیں اور توانائی بہت کم۔ حفاظت کا قفل دوسرا مسئلہ خوف کا ہے۔ سڑکیں بے مہار ٹریفک سے بھر گئیں، کھلی زمینیں عمارتوں میں ڈھل گئیں اور خبروں کی سرخیاں ہر صبح والدین کے دل میں ایک نیا اندیشہ بو دیتی ہیں۔ کون ماں ہے جو اولاد کو گلی میں بھیجتے ہوئے دس بار نہ سوچے؟ یہ خوف بے بنیاد نہیں؛ اس کی جڑیں حقیقی واقعات میں ہیں اور اسے جھٹلانا والدین کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ مگر خوف کے ردِ عمل پر غور ضروری ہے: ہم نے خطرے کا انتظام کرنے کے بجائے بچے کو اندر بند کر دیا۔ نتیجہ ایک عجیب تضاد کی صورت میں نکلا: بچہ گھر میں محفوظ ہے اور نشوونما میں محصور۔ حفاظت کے نام پر ہم نے جسم بچا لیا اور شخصیت کو خطرے میں ڈال دیا، کیوں کہ جو صلاحیتیں گلی، پڑوس اور اجنبی ہم عمروں سے میل جول میں پروان چڑھتی تھیں اُن کے سوتے خشک ہونے لگے۔ جو گلی کبھی بچوں کی تھی وہ اب گاڑیوں کی ہے، اور جس بستی کی گلیوں میں بچے نہ کھیلتے ہوں اُس کے مزاج کے بارے میں کوئی پیش گوئی خوش گوار نہیں ہو سکتی۔ خوف بجا ہے، مگر خوف کا علاج قید نہیں، اہتمام ہے — یہ نکتہ ہم تدابیر کے باب میں پھر اٹھائیں گے۔ ہتھیلی پر رکھا ہوا طوفان تیسرا مسئلہ وہ ہے جس کا ذکر آج ہر مجلس میں ہوتا ہے: موبائل۔ اعداد و شمار سنیے تو خطرے کا قد معلوم ہو۔ انڈین اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کی ہدایت ہے کہ دو سے پانچ برس کے بچے کو دن بھر میں ایک گھنٹے سے زیادہ اسکرین نہ دی جائے، مگر ہندوستانی تحقیقات کے ایک مجموعی جائزے کے مطابق پانچ برس سے کم عمر بچے اوسطاً سوا دو گھنٹے روزانہ اسکرین کے سامنے گزار رہے ہیں — یعنی تجویز کردہ حد سے دگنے سے زیادہ۔ ”اسر“ کی رپورٹ برائے ۲۰۲۴ بتاتی ہے کہ چودہ تا سولہ برس کے تقریباً بیاسی فیصد نوجوان اسمارٹ فون چلانا جانتے ہیں، مگر اُن میں تعلیم کے لیے استعمال کرنے والے ستاون فیصد ہیں اور سوشل میڈیا پر وقت گزارنے والے چھہتر فیصد۔ نیند اُچٹ رہی ہے، توجہ بکھر رہی ہے، آنکھیں اور زبان دونوں خراج دے رہی ہیں۔ مگر انصاف کی بات یہ

سمٹتا ہوا آنگن Read More »