Asadullahkhanschool

نفرتوں کے اندھیرے میں محبت کا چراغ

بھیونڈی کے مسلمانوں نے انسانیت، اخوت اور ہندوستانی تہذیب کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ڈاکٹراسداللہ خان آج کے دور میں جب اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر ہر طرف نفرت، تعصب، فرقہ واریت اور تقسیم کی خبریں زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں، ایسے میں اگر کہیں محبت، اخوت، خدمت اور انسانیت کی خوشبو بکھرتی ہے تو وہ صرف ایک واقعہ نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے لیے امید کا چراغ بن جاتا ہے۔ بھیونڈی کی سرزمین نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ ہندوستان کی اصل روح نفرت میں نہیں بلکہ محبت میں، تقسیم میں نہیں بلکہ اتحاد میں، اور مذہبی برتری میں نہیں بلکہ انسانی برابری میں پوشیدہ ہے۔ نیٹ (NEET) جیسے قومی سطح کے اہم امتحان کے موقع پر بھیونڈی کے مسلمانوں، مساجد، مدارس، جماعت خانوں، تعلیمی اداروں اور نوجوان رضاکاروں نے جس عظیم ظرف، وسیع القلبی اور بے مثال مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا، وہ صرف ایک انتظامی خدمت نہیں بلکہ انسانیت کے ماتھے کا جھومر اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا روشن استعارہ بن گیا۔ شدید گرمی کا دن تھا اور ملک کے مختلف شہروں سے سینکڑوں والدین اپنے بچوں کو NEET کے امتحان دلوانے کے لیے بھیونڈی پہنچے تھے۔ گرمی، بھیڑ، ٹریفک اور لمبا انتظار؛ ہر شخص ذہنی طور پر ایک مشکل دن کے لیے تیار تھا، لیکن جیسے ہی وہ امتحانی مراکز کے آس پاس پہنچے، ان کے سامنے ایک ایسا منظر تھا جس کی شاید انہوں نے کبھی توقع بھی نہ کی ہوگی۔ مساجد کے دروازے کھلے ہوئے تھے، مدارس کے ہال مہمانوں سے بھرے ہوئے تھے اور جماعت خانوں میں پانی، چائے، کولڈ ڈرنکس اور ناشتے کا انتظام کیا جا چکا تھا اور مسجدیں صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ انسانیت کی پناہ گاہیں بن گئیں۔ رضاکار ہر آنے والے کو اپنا مہمان سمجھ کر خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا تھا کہ آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور کوئی یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ آپ کس زبان یا کس ریاست سے آئے ہیں۔ وہ صرف ایک بات جانتے تھے کہ یہ ہمارے مہمان ہیں، اور مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ مولانا نے صرف دروازے ہی نہیں، اپنے دل بھی کھول دیے۔ دارالعلوم دینیات، مسجد اور مدرسہ کے ذمہ داران نے صرف ہال مہیا نہیں کیے بلکہ ایک ایسا کام کیا جس نے ہزاروں دل جیت لیے۔ مولانا قاری غلام نے طلبہ کے کمروں کو بھی خالی کروا دیا تاکہ دور دراز سے آنے والے والدین چند گھنٹے سکون سے آرام کر سکیں۔ زمین پر بچھی ہوئی سادہ چٹائیاں شاید دنیا کے کسی مہنگے ہوٹل کے نرم بستروں سے کہیں زیادہ قیمتی محسوس ہو رہی تھیں، کیونکہ وہاں آرام کے ساتھ عزت، احترام اور محبت بھی موجود تھی۔ یہ وہ جذبہ تھا جو کتابوں میں نہیں پڑھایا جاتا، یہ کردار مدارس کی حقیقی تعلیم کا آئینہ تھا۔ مہندی کے چند نقوش اور محبت کے ہزاروں رنگ: بھیونڈی کے خاتون رضاکاروں نے ایک ایسا خوبصورت منظر بھی پیش کیا جس نے ہر دیکھنے والے کا دل موہ لیا۔ امتحان کے دوران انتظار کرتی ہوئی ہندو ماؤں اور بہنوں کے ہاتھوں پر مہندی لگائی جا رہی تھی۔ بظاہر یہ ایک معمولی عمل تھا لیکن حقیقت میں یہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، بھائی چارے اور ثقافتی حسن کی ایک خاموش مگر نہایت مؤثر علامت تھی۔ محبت کا اظہار ہمیشہ بڑی تقریروں سے نہیں ہوتا، کبھی کبھی مہندی کا ایک چھوٹا سا نقش بھی دلوں کے درمیان صدیوں کے فاصلے مٹا دیتا ہے۔ بہت سے والدین نے اعتراف کیا کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب وہ کسی مسجد یا مدرسے کے اندر داخل ہوئے تھے۔ ان کے ذہنوں میں نہ جانے کتنے سوال، خدشات اور غلط فہمیاں تھیں، لیکن چند لمحوں میں ہی وہ تمام فاصلے ختم ہو گئے۔ صلاح الدین ایوبی اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج میں قیام کرنے والے تھانے کے رہائشی نریش شرما جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کہا: ہمارا خیال جس محبت، عزت اور خلوص کے ساتھ رکھا گیا، وہ ہماری زندگی کا ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔ یہ انسانیت کی بہترین مثال ہے۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ برسوں سے ذہنوں میں قائم ہونے والی دیواروں کے گرنے کی آواز تھی۔ جب احترام نے مذہب کی تمام سرحدیں مٹا دیں: وہ منظر یقیناً دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر دینے والا تھا جب کئی ہندو بزرگوں نے محبت اور احترام کے جذبے سے متاثر ہو کر مولانا صاحبان کے قدم چھو لیے۔ تو مولانا قاری غلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا: یہ اللہ کا گھر ہے… اور اللہ کا گھر سب کا گھر ہے۔ آپ بلا جھجھک اندر آئیے، یہ آپ کا بھی اپنا گھر ہے۔ یہ چند الفاظ شاید ہزاروں خطبات سے زیادہ مؤثر تھے۔ اصل ہندوستان یہی ہے: نریش شرما کی ایک بات پورے واقعے کا خلاصہ بن گئی۔ انہوں نے کہا: براہِ کرم اس واقعے میں مذہب کو درمیان میں نہ لائیں۔ نہ مولانا صاحبان نے مذہب کی بات کی، نہ ہم نے۔ یہ صرف انسانوں کی طرف سے انسانوں کی خدمت تھی۔ یہی ہندوستان کی اصل پہچان ہے اور یہی وہ تہذیب ہے جس نے صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات کو ایک دھاگے میں پرو رکھا ہے۔ بھیونڈی نے صرف امتحان نہیں سنبھالا… قوم کو راستہ دکھا دیا: اس پورے عمل میں صرف مساجد ہی نہیں بلکہ رئیس ہائی اسکول، صمدیہ ہائی اسکول، صلاح الدین ایوبی اردو ہائی اسکول، مختلف جماعت خانے، دینی ادارے اور بھیونڈی اسٹوڈنٹس ہیلپ فورم جیسے نوجوانوں کے گروہ بھی برابر شریک رہے۔ یہ کسی ایک فرد یا ایک ادارے کی خدمت نہیں تھی بلکہ پورے شہر کی اجتماعی انسان دوستی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا؟ اگر بھیونڈی یہ مثال قائم کر سکتا ہے تو ملک کا ہر شہر ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ مذہبی مقامات کو انسانیت کے مراکز بنائیں۔ تہواروں کو دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنائیں۔ نوجوانوں کی مشترکہ ٹیمیں قائم ہوں۔ بچوں کو ایک دوسرے سے ملائیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیم بھی یہی ہے: اسلام نے انسانیت کی خدمت کو عبادت قرار دیا ہے۔ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے: جو شخص ایک

نفرتوں کے اندھیرے میں محبت کا چراغ Read More »

تعلیم:انسان بنانے کا فن یا امتحان پاس کرانے کی مشین؟

علم وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے، نہ کہ وہ جو اسے مشین بنا دے ڈاکٹر اسداللہ خان زندگی میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی تحریر ہاتھ میں لیتے ہیں اور پڑھتے پڑھتے اچانک رک جاتے ہیں۔ قلم نیچے رکھ دیتے ہیں۔ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اور دل کے کسی گہرے گوشے سے ایک آواز آتی ہے کہ یہی تو میں کہہ رہاتھا۔ ہوا یوں کہ آج کے ٹائمز آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر، پروفیسر دنیش پرساد سکلانی کا مضمون پڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے میرے دل و دماغ میں مدتوں سے گردش کرنے والے خیالات کو کسی اور نے لفظوں کے قالب میں ڈھال دیا ہو۔ ہر سطر، ہر استدلال اور ہر سوال میرے اپنے فکری سفر کی بازگشت معلوم ہوا۔ ایسا لگا گویا میرے لاشعور میں پوشیدہ تصورات، میرے دل کی دھڑکنوں اور میرے تعلیمی فلسفے کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دیا گیا ہو۔ میں نے مضمون نہیں پڑھا، بلکہ اپنے ہی خیالات کو ایک نئے قلم سے لکھا ہوا پایا۔ مجھے میر کا وہ مصرع یاد آ گیا جو اردو شاعری کی سب سے لطیف نفسیاتی دریافتوں میں سے ایک ہے “میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے”۔ یہ مصرع محض ایک شعری تجربے کا بیان نہیں — یہ اس کیفیت کا نام ہے جب کوئی بات آپ کے اندر اتنی گہری اتر چکی ہو کہ آپ اسے اپنی سمجھتے ہی نہیں، اور پھر جب کوئی دوسرا انسان وہی بات کہہ دے تو آپ چونک اٹھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ رَٹّا لگانا کبھی ہندوستان کی روح نہیں رہا۔ کہ اس سرزمین نے نچیکیتا کو پیدا کیا جس نے موت سے سوال کیا، گارگی پیدا کی جس نے برہمنوں کے سردار کو خاموش کیا، کناد پیدا کیا جس نے ایٹم کا تصور دیا، سشروت پیدا کیا جس نے جراحی سکھائی، آریہ بھٹ پیدا کیا جس نے صفر دریافت کیا — اور یہ سب رَٹّے سے نہیں، سوال سے، تجربے سے، مشاہدے سے، دلیل سے پیدا ہوئے۔ اور کہ پھر ایک نوآبادیاتی طوفان آیا اور اس نے اس روایت کو چھین لیا۔ علم کی جگہ ملازمت نے لے لی۔ سوال کی جگہ رَٹّے نے لے لی۔ تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی۔ یہ پڑھ کر میں نے سوچا — کیا یہ صرف تعلیم کی کہانی ہے؟ نہیں۔ یہ ہماری پوری تہذیبی روح کی کہانی ہے۔ اگر آج نچیکیتا کسی اسکول میں داخل ہو جائے تو کیا ہوگا؟ وہی نچیکیتا جس نے موت کے دیوتا یمراج کے دروازے پر تین دن اور تین رات کھڑے رہ کر علم طلب کیا تھا۔ وہی نچیکیتا جس کے سوالوں نے کٹھ اُپنشد کو جنم دیا اور جس کی جستجو نے آنے والی نسلوں کے لیے فکر کا ایک لافانی سرچشمہ کھول دیا۔ وہ بچہ جو موت سے نہ ڈرا، کیا وہ ہمارے نصاب کی تنگ گلیوں میں سانس لے پاتا؟ کیا آج کا استاد اس کی حوصلہ افزائی کرتا؟ کیا آج کے اسکول میں اس کے لیے کوئی جگہ ہوتی؟ یا اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا کہ یہ سوال نصاب میں نہیں ہے، امتحان میں نہیں آئے گا، وقت ضائع مت کرو۔ یہ سوال محض ایک فرضی تصور نہیں۔ یہ ہمارے پورے نظامِ تعلیم کے لیے ایک بے رحم آئینہ ہے جس میں ہم اپنی خامیاں دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے بچے کیا پڑھ رہے ہیں۔ اصل اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں سوچنے دے رہے ہیں یا نہیں۔ جب ہم ہندوستانی علمی روایت کی گہرائیوں میں اترتے ہیں تو ایک انوکھا اور فخر انگیز منظر سامنے آتا ہے۔ یہاں علم کبھی بھی ایک مُردہ معلومات کا ذخیرہ نہیں رہا۔ یہاں سوال عبادت تھا، مکالمہ تعلیم تھا، تلاشِ حقیقت زندگی کا مقصد تھی۔ اُپنشدوں کے عظیم مباحثے دیکھیے — جہاں استاد شاگرد کو جواب نہیں دیتا تھا، بلکہ سوال پوچھتا تھا۔ گارگی اور یاجنوالکیہ کے درمیان وہ تاریخی فکری مناظرہ دیکھیے جس میں ایک خاتون نے براہمنوں کے سردار کو ایسے سوالوں سے جھنجھوڑا کہ وہ خاموش ہو گئے۔ آچاریہ کناد کے ایٹم کے تصور کو دیکھیے جو آج کی جدید طبیعیات کا پیشرو تھا۔ آریہ بھٹ کے ریاضیاتی انکشافات دیکھیے جو اپنے عہد سے صدیوں آگے تھے۔ نالندہ اور تکشیلا کی مہان درسگاہوں کو دیکھیے جہاں دنیا کے کونے کونے سے طالبِ علم آتے تھے — نہ ڈگری کے لیے، بلکہ علم کی پیاس بجھانے کے لیے۔ نالندہ میں دس ہزار سے زائد طالبِ علم اور دو ہزار اساتذہ تھے۔ وہاں کا کتب خانہ اتنا عظیم تھا کہ جب اسے جلایا گیا تو وہ تین ماہ تک جلتا رہا۔ یہ صرف عمارتیں نہیں تھیں — یہ ایک تہذیبی دماغ تھا، ایک زندہ روح تھی جو ہزاروں انسانوں کی فکر سے مل کر بنی تھی۔ ہمارے آباء نے کتابوں کو مقدس ضرور سمجھا، مگر سوچنے کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔ وہ جانتے تھے کہ بند دروازے والا ذہن علم کا نہیں، خوف کا گھر بنتا ہے۔ پھر ایسا کیا ہوا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر محب تعلیم کی نیند اڑا دیتا ہے۔ ایسا کیا ہوا کہ سوال کرنے والی قوم رَٹّا کرنے والی قوم بن گئی؟ ایسا کیا ہوا کہ تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی؟ ایسا کیا ہوا کہ فہم کی جگہ نمبروں نے اور علم کی جگہ سرٹیفکیٹ نے لے لی؟ اس سوال کا جواب ہمیں نوآبادیاتی تاریخ کے تاریک اوراق میں ملتا ہے۔ ۱۸۳۵ء میں جب لارڈ میکالے نے اپنا وہ بدنامِ زمانہ منٹ لکھا تو اس نے صرف ایک نصاب نہیں بدلا — اس نے ایک پوری قوم کے سوچنے کا انداز بدل دیا۔ آہستہ آہستہ تعلیم زندگی کی تیاری کے بجائے امتحان کی تیاری بن گئی۔ اسکول شخصیت سازی کے مراکز کے بجائے امتحانی کارخانے بن گئے۔ اور استاد — علم کا وہ چراغ جو تاریکیوں میں روشنی دیتا تھا — نصاب مکمل کرنے والا ملازم بنتا گیا۔ ۱۹۴۷ء میں ہم نے سیاسی آزادی حاصل کی لیکن ذہنی آزادی؟ وہ ابھی بھی نوآبادیاتی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ ہم نے عمارتیں بدل دیں، پرچم بدل دیا، حکمران بدل دیے مگر تعلیم کا وہ نوآبادیاتی

تعلیم:انسان بنانے کا فن یا امتحان پاس کرانے کی مشین؟ Read More »

ممبئی لوکل ٹرین کا ایک المیہ، خاموش معاشرہ اور مرتی ہوئی انسانیت

ڈاکٹر اسد اللہ خان کچھ دن پہلے پوری دنیا سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھی۔ لوگ حفاظتی چشمے خرید رہے تھے، دوربینیں لگا رہے تھے اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائے اس نادر فلکیاتی منظر کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن افسوس… ہم آسمان پر چھانے والے چند لمحوں کے اندھیرے کو تو دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنے دلوں، اپنے معاشرے اور اپنی تہذیب پر چھا جانے والے دائمی اندھیرے کو محسوس نہیں کرتے۔ سورج پر لگنے والا گرہن چند منٹوں میں ختم ہو جاتا ہے، مگر انسان کے ضمیر پر لگنے والا گرہن نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ ممبئی کی لوکل ٹرین میں پیش آنے والا مینک لوہار کا المناک قتل اسی اندرونی گرہن کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی، ہمارے بکھرتے ہوئے سماجی رشتوں اور مرتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے۔ ممبئی لوکل… صرف ٹرین نہیں، پورے شہر کا دل ہے ممبئی کی لوکل ٹرین کو لوگ محض ایک ٹرانسپورٹ سسٹم سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ شہر کی شہ رگ ہے۔ یہ روزانہ لاکھوں خوابوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ کوئی مزدور اپنے بچوں کی روٹی کے لیے سفر کر رہا ہوتا ہے، کوئی طالب علم اپنے مستقبل کی تلاش میں نکلتا ہے، کوئی ماں اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے جا رہی ہوتی ہے، اور کوئی نوجوان اپنی پہلی ملازمت کے خواب سجا رہا ہوتا ہے۔ کوئی نوجوان اپنی پہلی تنخواہ کے خواب سجاتا ہے۔ان ہی ڈبوں میں کتنی دعائیں سفر کرتی ہیں، کتنی امیدیں بیٹھتی ہیں، کتنے منصوبے جنم لیتے ہیں۔ یہ ٹرین صرف جسموں کو نہیں بلکہ امیدوں، خوابوں، ذمہ داریوں اور مستقبل کو ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک پہنچاتی ہے۔ مگر جب اسی ٹرین کے اندر خون بہنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ صرف ایک مسافر نہیں مرا، بلکہ پورا معاشرہ زخمی ہوا ہے۔ صرف ایک جملہ… ایک درخوست اور ایک زندگی ہمیشہ کے لئے خاموش کر دی گئی۔ منگل، ۲۳ جون کی وہ رات بظاہر ہر رات کی طرح معمول کی تھی۔ چرچ گیٹ سے نالاسوپارا جانے والی فاسٹ لوکل اپنی رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ فرسٹ کلاس کوچ میں عام دنوں کی طرح لوگ بیٹھے تھے؛ کسی کے کانوں میں ائیر فون تھے، کوئی موبائل پر مصروف تھا، اور کوئی تھکن سے اونگھ رہا تھا۔ اسی دوران بائیس سالہ مینک لوہار نے صرف اتنی سی گزارش کی کہ دروازہ بند کر دیا جائے۔ سوچیے… صرف ایک جملہ۔ صرف ایک گزارش۔ “براہِ کرم دروازہ بند کر دیجیے۔” کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ جملہ موت کی سزا بن سکتا ہے؟ لیکن ممبئی کی اس لوکل ٹرین میں ایسا ہی ہوا۔ یہ ایک معمولی درخواست تھی، لیکن سامنے کھڑا شخص ۳۰ سالہ، ممبئی ائیر پورٹ کے کارگو سیکشن میں کام کرنے والا روشن سورنا، معمولی ذہنی کیفیت میں نہیں تھا۔ اس کے اندر شاید برسوں کا غصہ، ناکامیاں، مایوسیاں، شراب کا نشہ، اور انا کا زہر جمع تھا۔ ایک لمحے میں چاقو نکلا، چند سیکنڈ میں کئی وار ہوئے، اور ایک ہنستا کھیلتا نوجوان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ایک بائیس سالہ نوجوان، جس کے والدین نے شاید صبح اسے دعاؤں کے ساتھ گھر سے رخصت کیا ہوگا، جس کی ماں نے شام کو اس کے پسندیدہ کھانے کا سوچا ہوگا، جس کے خواب ابھی حقیقت بننے ہی والے تھے… چند لمحوں میں خون میں نہلا دیا گیا۔ قاتل صرف ایک شخص نہیں تھا…؟ اخبارات لکھیں گے کہ قاتل فلاں شخص تھا، پولیس چارج شیٹ داخل کرے گی، اور عدالت سزا سنائے گی۔ لیکن اگر ہم صرف اتنا سمجھ کر مطمئن ہو جائیں تو شاید ہم اصل مجرم کو کبھی نہ پہچان سکیں۔ سوال یہ ہے کہ اس بوگی میں بیٹھے ہوئے درجنوں مسافر کیا کر رہے تھے؟ کیا ان میں سے کوئی ایک شخص بھی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا؟ کیا چار پانچ افراد مل کر قاتل کو قابو نہیں کر سکتے تھے؟ یا پھر ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انسان صرف اپنی جان بچانے کا نام ہے؟ یہ خاموش تماشائی کون تھے؟ ہم… آپ… ہم سب۔ قاتل صرف ایک شخص تھا… یا ہم سب؟ پولیس اپنی کارروائی مکمل کر لے گی۔ تب شاید عدالت قاتل کو سزا دے۔ اور پھر اخبارات نئی سرخیاں تلاش کر لیں گے۔ لیکن ایک سوال شاید کبھی ختم نہ ہو۔ جب مینک زمین پر گرا تھا… جب اس پر وار ہو رہے تھے… جب وہ زندگی اور موت کے درمیان آخری سانسیں لے رہا تھا… تب اس بوگی میں بیٹھے ہوئے درجنوں لوگ کیا کر رہے تھے؟ کیا ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے؟ کیا ان کی زبانیں گونگی ہو گئی تھیں؟ یا پھر ان کے دلوں سے انسانیت رخصت ہو چکی تھی؟ یہ سوال صرف ان مسافروں سے نہیں… یہ سوال ہم سب سے ہے۔ ہم کب اتنے بے بس، اتنے خوف زدہ اور اتنے خود غرض ہو گئے کہ ایک انسان کو مرتا دیکھ کر بھی خاموش بیٹھے رہے؟ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک شخص نے چاقو چلایا، مگر درحقیقت پورا معاشرہ خاموش کھڑا رہا۔ دنیا میں سب سے خطرناک آواز گولی کی نہیں ہوتی… سب سے خطرناک آواز اچھے لوگوں کی خاموشی کی ہوتی ہے۔ اب ہمیں انسانوں سے نہیں، ان کے غصے سے ڈر لگتا ہے آج اگر کوئی شخص ٹرین میں بلند آواز میں موبائل چلا رہا ہو… اگر کوئی بدتمیزی کر رہا ہو… اگر کوئی دوسروں کو تکلیف پہنچا رہا ہو… تو اکثر لوگ خاموش رہتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ غلط کو صحیح سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ اب ہمیں قانون سے زیادہ انسانوں کے اندر چھپے ہوئے غصے سے خوف آنے لگا ہے۔ ہر شخص سوچتا ہے… “اگر میں نے کچھ کہا تو؟” “اگر سامنے والا ذہنی دباؤ کا شکار ہوا تو؟” “اگر اس کے ہاتھ میں چاقو ہوا تو؟” “اگر کل اخبار میں میری تصویر چھپ گئی تو؟” سوچیے… جس معاشرے میں صحیح بات کہنا جان کا خطرہ بن جائے، وہاں تہذیب زندہ کیسے رہ سکتی ہے؟ یہ خوف صرف ایک فرد کا نہیں، یہ پورے شہر کی نفسیات بن چکا ہے۔ ہم سب کے اندر ایک خاموش جنگ جاری

ممبئی لوکل ٹرین کا ایک المیہ، خاموش معاشرہ اور مرتی ہوئی انسانیت Read More »

ماں کے ایک جملے نے آئی آئی ٹی تک پہنچا دیا!!!

“جو بھی کرو گے، وہ درست ہوگا!” ایک ماں کا یقین، ایک باپ کے پسینے، ایک استاد کی رہنمائی اور ایک پینٹر بیٹے کے خواب کی لازوال داستان ایک پینٹر کا خواب: میں رنگ کرتا رہا دیواریں دوسروں کی، تاکہ میرا بیٹا رنگ بھر سکے اپنے خوابوں میں۔ یہ محنت کرتا رہا دن رات، تاکہ وہ پڑھ سکے دن رات، اور اس نے محنت کو عبادت بنا دیا۔ انگریزی نہیں آتی تھی، مگر ہمت تھی۔ سرکاری اسکول میں پڑھا، NMMS اسکالرشپ ملی۔ روزانہ 8 گھنٹے محنت، موک ٹیست میں ناکامیاں۔ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب سب کچھ چھوڑنے کا سوچا! تب ماں نے کہا: “جو بھی کرو گے، وہ درست ہوگا!” اور ایک دن — جے ای ای ایڈوانسڈ میں کامیابی! نتیجہ صرف ساگر کا نہیں تھا… یہ ایک والد کا پسینہ تھا، ایک ماں کی دعا تھی، ایک استاد کا اعتماد تھا، ایک سرکاری اسکول کا سہارا تھا، اور ہندوستان کے کروڑوں غریب گھروں کے خواب کا چین جانا تھا۔ محترم والدین! اپنے بچوں کو صرف نصیحتیں نہ دیں بلکہ یقین دیں۔ صرف نتائج نہ پرکھیں، ان کا جذبہ اور اعتماد پیدا کریں۔ یقین رکھیں، اپنے بچوں کو یقین دلائیں کہ وہ بھی بن سکتے ہیں۔ عزیز طلبہ! اگر راستہ مشکل ہے تو آپ ہو منزل بڑی ہے۔ ناکامی رفتار کم کرتی ہے، سفر ختم نہیں کرتی۔ اپنے خوابوں کو پالنے سے مت چھوڑو، ایک دن دنیا تہاری نتائج دیکھے گی۔ مگر اللہ تہاری جدوجہد دیکھ رہا ہے۔ “جو بھی کرو گے، وہ درست ہوکے… بس پڑھائی جاری رکھو!” تحریر: ڈاکٹر اسداللہ خان Asadullahkhanschoolasadullahkhanschool.org

ماں کے ایک جملے نے آئی آئی ٹی تک پہنچا دیا!!! Read More »

بے بصیرت نسل نو مانگے زندگی کی ضمانت

جین زی، تعلیمی نظام اور مستقبل کے خوف کی نفسیات ڈاکٹر اسد اللہ خان کبھی کبھی معاشروں میں آنے والی تبدیلیاں شور مچا کر نہیں آتیں۔ وہ خاموشی سے نسلوں کے رویوں میں اترتی ہیں۔ پھر ایک دن ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بدل چکی ہے۔ آج دنیا بھر میں ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ انجینئر کاروبار سیکھ رہا ہے، ڈاکٹر یوٹیوب چینل چلا رہا ہے، استاد آن لائن کورس بیچ رہا ہے، طالب علم شیئر مارکیٹ سمجھ رہا ہے، اور یونیورسٹی سے فارغ ہونے والا نوجوان ملازمت ڈھونڈنے سے پہلے “Passive Income” کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آخر ایسی کون سی تبدیلی رونما ہوئی ہے کہ ایک پوری نسل نوکری سے پہلے “Exit Plan” تیار کر رہی ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ آج کا نوجوان کسی کمپنی میں داخل ہونے سے پہلے اس دن کے بارے میں سوچ رہا ہے جب وہ کمپنی اسے نکال دے گی؟ آخر وہ کون سا خوف ہے جو اس نسل کے لاشعور میں بیٹھ گیا ہے؟ پچھلی نسلوں کا خواب سادہ تھا۔ پڑھو، اچھی ڈگری حاصل کرو، اچھی نوکری حاصل کرو، گھر بناؤ، بچوں کو پڑھاؤ اور ریٹائر ہو جاؤ۔ یہی کامیابی تھی، یہی استحکام تھا، یہی زندگی کا نقشہ تھا۔ لیکن آج کا نوجوان اس نقشے پر یقین نہیں رکھتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بڑی بڑی ڈگریاں بے روزگاری کی ضمانت بن سکتی ہیں۔ اس نے دیکھا کہ کورونا کی ایک لہر نے کروڑوں ملازمتیں ختم کر دیں۔ اس نے دیکھا کہ مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں وہ کام کر رہی ہے جو کبھی ہزاروں افراد کیا کرتے تھے۔ اس نے دیکھا کہ کئی برسوں کی وفاداری کے بعد بھی ایک ای میل انسان کو بے روزگار بنا سکتی ہے۔ چنانچہ اس نسل نے ایک نیا سبق سیکھ لیا: “کسی ایک چیز پر انحصار خطرناک ہے۔” لیکن یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔ کیا واقعی مسئلہ صرف روزگار کا ہے، یا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ تعلیمی بحران بھی ہے۔ کیونکہ ہماری پوری تعلیمی مشینری اب بھی بیسویں صدی کے لیے بچوں کو تیار کر رہی ہے جبکہ دنیا اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم اب بھی بچوں سے پوچھتے ہیں: “بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ ڈاکٹر؟ انجینئر؟ پائلٹ؟ استاد؟ افسر؟” مگر شاید اب سوال بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ آج کا سوال یہ ہونا چاہیے: “تم کون سی صلاحیتیں پیدا کرو گے جو ہر دور میں تمہیں زندہ رکھ سکیں؟” یہاں ہماری تعلیم کی ایک بنیادی کمزوری سامنے آتی ہے۔ ہم بچوں کو امتحان پاس کرنا سکھاتے ہیں، مسائل حل کرنا نہیں۔ ہم انہیں معلومات دیتے ہیں، بصیرت نہیں دیتے۔ ہم انہیں نوکری حاصل کرنا سکھاتے ہیں، مواقع پیدا کرنا نہیں سکھاتے۔ ہم انہیں یادداشت دیتے ہیں، تخلیق نہیں دیتے۔ آج کا نوجوان ایک اہم سوال پوچھ رہا ہے۔ شاید وہ الفاظ میں بیان نہ کر سکے لیکن اس کے اندر یہ سوال مسلسل موجود ہے: “اگر میری ڈگری مجھے تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر مجھے کیا چیز محفوظ بنا سکتی ہے؟” اس سوال کا جواب صرف ملازمت نہیں، صرف کاروبار نہیں، صرف سرمایہ کاری نہیں، بلکہ صلاحیتوں کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کو ہر دور میں کارآمد بنا دے۔ Communication Skills، Critical Thinking، Problem Solving، Leadership، Digital Literacy، Entrepreneurship، Character Building اور سب سے بڑھ کر Learning Agility یعنی مسلسل سیکھتے رہنے کی صلاحیت۔ بدقسمتی سے ہمارے بہت سے تعلیمی ادارے اب بھی صرف نصاب مکمل کرنے کو تعلیم سمجھتے ہیں۔ جبکہ آنے والی دنیا میں نصاب سے زیادہ اہم “قابلیت” ہوگی، امتحان سے زیادہ اہم “مہارت” ہوگی اور ڈگری سے زیادہ اہم “Value Creation” ہوگی۔ یہ بھی ایک دلچسپ المیہ ہے کہ Gen Z کو Work-Life Balance کی نسل کہا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ شاید یہ نسل اپنے والدین سے زیادہ کام کر رہی ہے۔ دن میں نوکری، رات میں فری لانسنگ، ہفتہ وار کانٹینٹ کری ایشن، سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ اور ساتھ میں نئی مہارتیں سیکھنے کی کوشش۔ یہ سب کیوں؟ کیونکہ انہیں کام سے نفرت نہیں، انہیں غیر یقینی مستقبل سے خوف ہے۔ ایک معلم کی حیثیت سے مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ کہیں ہم نوجوانوں کو صرف آمدنی پیدا کرنے والی مشینیں نہ بنا دیں۔ کیونکہ زندگی صرف مالی آزادی کا نام نہیں، زندگی مقصد کا نام بھی ہے، اخلاق کا نام بھی ہے، خدمت کا نام بھی ہے، کردار کا نام بھی ہے، معاشرے کی تعمیر کا نام بھی ہے۔ اگر تعلیم صرف پیسہ کمانا سکھائے اور انسان بننا نہ سکھائے تو وہ تعلیم نہیں، محض تربیتِ معاش ہے۔ آنے والے زمانے کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ کون سی ملازمت باقی رہے گی، بلکہ یہ ہوگا کہ کون سا انسان ہر تبدیلی کے باوجود اپنی افادیت برقرار رکھ سکے گا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیمی اداروں کو اپنا پورا فلسفہ ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔ ہمارا مقصد صرف ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا تاجر پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے انسان پیدا کرنا ہونا چاہیے جو حالات کے غلام نہ ہوں بلکہ حالات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ شاید اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ Gen Z نوکریوں کو مسترد نہیں کر رہی۔ وہ کام سے فرار نہیں چاہتی، محنت سے بھی نہیں بھاگ رہی۔ وہ دراصل ایک ایسی دنیا میں زندہ رہنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے جہاں کوئی چیز مستقل نہیں رہی۔ اور شاید اس پوری کہانی کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ مستقبل ان لوگوں کا نہیں ہوگا جن کے پاس صرف ڈگریاں ہوں گی، بلکہ ان کا ہوگا جن کے پاس سیکھنے، بدلنے اور نئے راستے بنانے کی صلاحیت ہوگی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم کا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔ “زمانہ بدلنے سے پہلے اگر تعلیم نہ بدلے، تو پھر زمانہ تعلیم کو بے معنی بنا دیتا ہے۔” Asadullahkhanschoolasadullahkhanschool.org

بے بصیرت نسل نو مانگے زندگی کی ضمانت Read More »

محنت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا!!

جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 کے نتائج اور نوجوان نسل کے لیے کامیابی کا منشور ڈاکٹر اسد اللہ خان کچھ نتائج ایسے ہوتے ہیں جو صرف چند طلبہ کی کامیابی کی داستان نہیں سناتے بلکہ پوری نوجوان نسل کے لیے پیغام بن جاتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ خواب کیسے پورے ہوتے ہیں، منزلیں کیسے حاصل کی جاتی ہیں اور کن کمزوریوں سے بچ کر انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔وہ صرف یہ نہیں بتاتے کہ کون کامیاب ہوا، بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کامیابی تک پہنچنے والوں نے کون سی عادتیں اپنائیں، کن مشکلات کا سامنا کیا اور کس طرح اپنی کمزوریوں پر قابو پایا۔ حال ہی میں جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 کے نتائج کا اعلان ہوا۔ایک لاکھ اناسی ہزار سے زائد طلبہ اس امتحان میں شریک ہوئے۔ان میں سے تقریباً ستاون ہزار طلبہ کامیاب قرار پائے۔لیکن پورے ملک کی توجہ تین نوجوانوں پر مرکوز ہو گئی۔ شُبھم کمار (AIR-1)، کبیر چھلّر (AIR-2) اور جاتن چاہر (AIR-3)۔ جب ہم ان کی کامیابیوں کے پیچھے جھانکتے ہیں تو ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے۔ان میں سے کسی نے کامیابی کا راز غیر معمولی ذہانت کو قرار نہیں دیا۔کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ چوبیس گھنٹے پڑھتے تھے۔ کسی نے شارٹ کٹ، جادوئی فارمولا یا کسی خفیہ تکنیک کا ذکر نہیں کیا۔بلکہ تینوں کی زبان پر تقریباً ایک ہی پیغام تھا، Dedication, Discipline and Consistencyیعنی وابستگی، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی۔یہی کامیابی کا اصل نسخہ ہے۔ بہار کے ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے شُبھم کمار نے 360 میں سے 330 نمبر حاصل کرکے پورے ہندوستان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ان کے والد ہارڈویئر کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ان کے خاندان میں انجینئر بننے کا خواب ابھی پہلی نسل کا خواب تھا۔شُبھم نے ایک ایسی بات کہی جو ہر طالب علم کو زندگی بھر یاد رکھنی چاہیے کہ کامیابی لمبے وقت تک پڑھنے میں نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور سیکھنے کے عمل پر اعتماد میں ہے۔یہ جملہ ہمارے پورے تعلیمی نظام کے لیے آئینہ ہے۔ کبیر چھلّر نے 329 نمبر حاصل کیےوہ صرف ایک نمبر سے پہلی پوزیشن سے پیچھے رہ گیالیکن ان کی سوچ انہیں لاکھوں طلبہ سے آگے لے گئی۔اس نے کبھی نمبروں کے پیچھے دوڑنے کی کوشش نہیں کی۔وہ Concepts کو سمجھنے پر توجہ دیتے رہے۔ہر امتحان کے بعد اپنی غلطیوں کا تجزیہ کرتے۔کمزوریوں کی فہرست بناتے اور پھر انہیں دور کرنے پر کام کرتے۔اس نے ثابت کیاکہ کامیاب طلبہ غلطیاں نہیں چھپاتے، بلکہ غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔ جتن چاہر نے ساتویں جماعت سے اپنی علمی بنیادیں مضبوط کرنا شروع کر دی تھیں۔اس نے اولمپیاڈز میں حصہ لیا۔سائنس، فلکیات، کیمسٹری اور دیگر علمی سرگرمیوں میں خود کو مصروف رکھا۔پھر ایک مرحلے پر وہ ٹائیفائیڈ کا شکار ہو گئے۔امتحانات چھوٹ گئے۔کلاسیں متاثر ہوئیں۔مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔خاندان اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ دوبارہ کھڑے ہوئے اور پورے ہندوستان میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ جتن نے بتایا کہ ناکامی، بیماری یا مشکلات کامیابی کی راہ بند نہیں کرتیں، ہمت ہار دینا کامیابی کی راہ بند کرتا ہے۔ ہمارے طلبہ امتحانات میں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں؟ بطور معلم چالیس سال سے زیادہ عرصے کے تجربے کے بعد میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج کے طلبہ کی سب سے بڑی کمزوری کم ذہانت نہیں ہے۔بلکہ بے مقصد موبائل استعمال، سوشل میڈیا کی لت، غیر منظم مطالعہ، وقت کا زیاں، رٹّے پر انحصار، کمزور مطالعہ عادات، نیند کی کمی ، خود احتسابی کا فقدان، جلد نتائج حاصل کرنے کی خواہش ،یہ وہ خامیاں ہیں جو ذہین ترین طلبہ کو بھی ناکامی کی طرف لے جاتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں ، بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم کیا کریں؟ ان ٹاپرس کی باتیں سننے کے بعد یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہمیں کامیابی کے لئے ایک لائحۂ عمل بنانا ہوگا ۔کچھ اصولوں کو اپنی زندگی میں اختیارکرنا ہوگا مثلاً ۱. روزانہ کے اہداف مقرر کریں۔بغیر ہدف کے پڑھائی، بغیر نقشے کے سفر کی طرح ہے۔ ۲-. موبائل کا وقت محدود کریں۔مطالعہ کے دوران موبائل مکمل بند رکھیں۔ ۳-. غلطیوں کی ڈائری بنائیں-ہر امتحان کے بعد اپنی غلطیاں لکھیں۔ٹاپرز یہی کرتے ہیں۔ ۴-. تمامConcepts سمجھیں۔رٹّا وقتی نمبر دلا سکتا ہے۔فہم زندگی بھر کامیابی دیتا ہے۔ ۵. روزانہ Revision کریں۔پڑھنا ضروری ہے۔مگر دہرانا اس سے زیادہ ضروری ہے۔ ۶. اچھی نیند لیں۔نیند ضائع کرنا محنت نہیں بلکہ نقصان ہے۔ ۷-ہلکی جسمانی ورزش کریں۔صحت مند جسم ہی طویل علمی سفر برداشت کر سکتا ہے۔ ۸-اساتذہ سے سوال پوچھیں۔جو طالب علم سوال پوچھنے سے ڈرتا ہے وہ سیکھنے سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔ ۸-مستقل مزاجی اپنائیں۔روزانہ دو گھنٹے کی مستقل پڑھائی، دس گھنٹے کی غیر مستقل پڑھائی سے بہتر ہے۔ ۹-خود پر یقین رکھیں۔دنیا آپ پر یقین کرے یا نہ کرے، آپ کو خود پر یقین ہونا چاہیے۔ اس موقع پر والدین سے یہ گذارش کرنا چاہوں گاکہ اپنے بچوں پر صرف نمبروں کا دباؤ نہ ڈالیں۔ان کے اندر سیکھنے کی محبت پیدا کریں۔ان کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں۔ان کی محنت کو سراہیں۔ان کی غلطیوں پر رہنمائی کریں۔ان کی کامیابی کے سفر میں ان کے ساتھی بنیں، جج نہیں۔ وہیں اساتذہ سے یہ التجا ہے کہ آپ صرف نصاب مکمل نہ کریں بلکہ طلبہ کے اندر خواب بھی پیدا کریں۔اعتماد پیدا کریں۔سوچنے کی صلاحیت پیدا کریں۔کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ایک عظیم استاد ہزاروں زندگیاں بدل سکتا ہے۔ میرے عزیز طلبہ! یاد رکھو!شُبھم، کبیر اور جتن کسی دوسرے سیارے سے نہیں آئے تھے۔وہ بھی تمہاری طرح عام بچے تھے۔فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اپنی عادتوں کو غیر معمولی بنا لیا۔انہوں نے وقت کی قدر کی۔انہوں نے مستقل مزاجی اختیار کی۔انہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا۔انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور یہی چیز انہیں لاکھوں طلبہ سے ممتاز بنا گئی۔آج اگر تم موبائل کے استعمال کو قابو میں لے لو، اپنی توجہ کو محفوظ کر لو، اپنے وقت کی حفاظت کر لو اور روزانہ تھوڑا سا بہتر بننے کا عہد کر لو تو یقین جانو آنے والا ہندوستان تمہارا منتظر ہےکیونکہ کامیابی قسمت کے دروازے پر نہیں ملتی۔کامیابی محنت، نظم و ضبط، مستقل مزاجی

محنت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا!! Read More »

تعلیم کی حقیقی روح کی تلاش!!!

ڈاکٹر اسداللہ خان عصرِ حاضر کا ہندوستان ایک ایسے فکری و تہذیبی موڑ پر کھڑا ہے جہاں مادی ترقی کی چکا چوند تو عروج پر ہے، مگر ہماری اخلاقی اور تعلیمی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہوتی جا رہی ہیں۔ آج جب ہم اپنے تعلیمی گلستان پر نظر ڈالتے ہیں، تو وہاں علم کی خوشبو کے بجائے امتحانات کا دھواں اور مقابلوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ تعلیم کی حقیقی روح جو امتحانی پرچوں اور میرٹ لسٹوں کے نیچے دب کر دم توڑ چکی ہے،آج اس کی بازیافت کی پکارنےبے چین کردیا ہے ۔ انسانی تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو کائنات کے سب سے بڑے معلمِ اعظم پر نازل ہونے والا پہلا الہامی حکم “امتحان دو”نہیں تھا۔ لوحِ محفوظ سے انسانیت کے نام جو پہلا ابدی پیغام اترا، وہ تھا اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ حکم ہواپڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔اس پہلے آسمانی سبق کا مقصد نمبرات کی دوڑ نہیں بلکہ شعور کی بیداری تھا۔ اس کا اولین حاصل کوئی دنیاوی ملازمت نہیں بلکہ خالق و مخلوق کی معرفت تھا۔ اسلام کی پوری علمی تاریخ اسی محور کے گرد گھومتی ہے۔ جب تک تعلیم ایک عبادت تھی، بغداد، قرطبہ، غرناطہ، سمرقند، بخارا اور دہلی کے مدارس سے ایسے نابغۂ روزگار انسان پیدا ہوتے تھے جو محض ڈگری یافتہ ملازم نہیں، بلکہ کائنات کے اسرا و رموز کو بے نقاب کرنے والے فلاسفر، موجد اور محقق تھے۔ امام غزالیؒ، ابن رشدؒ، ابن خلدونؒ، شاہ ولی اللہؒ اور سر سید احمد خانؒ کی علمی و فکری عظمت کا راز معلومات کے انبار میں نہیں، بلکہ ان کی فکر کی اس وسعت میں تھا جو زندگی اور کائنات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی تھی۔ مگر افسوس! صدیوں کے اس سفر میں ہم نے اس اصلِ اثاثہ کو کہیں کھو دیا۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ گوگل ہماری جیبوں میں تو موجود ہے لیکن حکمت ہمارے دلوں سے رخصت ہو چکی ہے۔ ہمارے پاس معلومات کے انبار ہیں مگر فکری گہرائی کا قحط ہے۔ ہم نے ذہنوں کو اندھا دھند معلومات سے بھرنا تو سیکھ لیا، مگر شخصیتوں کو تراشنا اور کردار کو تعمیر کرنا یکسر بھلا دیا۔ آج کا ہندوستان تعلیمی نظام کے نام پر ایک ایسی کارگاہ میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں انسان نہیں، بلکہ “امتحانی جنگجو” (Exam Warriors) تیار کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں NEET، JEE، CUET، SSC اور HSC جیسے قومی سطح کے امتحانات کے گرد پیدا ہونے والے پیپر لیک، امتحانی مافیا، رشوت ستانی اور سنگین بدعنوانیوں کے تنازعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن المیہ دیکھیے کہ ہمارا سماج اور پالیسی ساز صرف اس نظام کی ظاہری شاخوں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں، کوئی بھی اس ناسور کی اصل جڑ تک پہنچنے کی زحمت نہیں کر رہا۔ اصل بحران پیپر لیک ہونا نہیں ہے، بلکہ اصل بحران یہ ہے کہ ہمارا پورا تعلیمی ڈھانچہ اپنی روح سے محروم ہو چکا ہے۔ ہم نے تعلیم کو محض “معلومات کی منتقلی” (Information Transfer) کا نام دے دیا ہے، جبکہ تعلیم تو بنیادی طور پر “انسان سازی” (Human Making) کا ایک مقدس عمل تھا۔ آج ایک معصوم بچے کا پانچ سال کی عمر میں اسکول کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بچپن کا دائرہ تنگ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ناتواں کندھوں پر کتابوں کا بھاری بستہ لاد کر اسے ایک ایسی لامتناہی اور اندھی دوڑ میں دھکیل دیا جاتا ہے جہاں ہر اگلا موڑ پچھلے سے زیادہ بے رحم ہوتا ہے: پری پرائمری سے پرائمری کی دوڑ، پرائمری سے سیکنڈری کی مشقت، سیکنڈری سے جونیئر کالج کا تناؤ، جونیئر کالج سے انٹرنس امتحانات کے عذاب تک اور آخر میں روزگار کی منڈی میں خود کو بیچنے کا مقابلہ ،اس پوری تگ و دو میں اوراس طویل مسافت کے کسی بھی موڑ پرکوئی ہمدرد استاد یا نظامِ تعلیم اس بچے سے یہ نہیں پوچھتاکہ تم کیا سوچتے ہو؟ تمہارے دل کے جذبات کیا ہیں؟ تمہارے انفرادی خواب کیا ہیں؟ اور تم ایک انسان کے طور پر کیسے بن رہے ہو؟ پورا نظامِ حکومت، اسکول اور والدین صرف ایک ہی رٹ لگائے بیٹھے ہیں کہ تمہارے پرسنٹائل کتنے آئے؟ میرٹ لسٹ میں تمہارا رینک کیا ہے؟ یہی وہ تاریک لمحہ ہے جہاں تعلیم سسک سسک کردم توڑ دیتی ہے اور “امتحان” ایک جلاد کی طرح زندہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ فکرمند اذہان ان امتحانات کو سماجی کنٹرول کا ہتھیارقرار دیتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو لاکھوں نوجوانوں کی زندگی کے سب سے خوبصورت، تخلیقی اور سنہرے سالوں کو تین گھنٹے کے ایک بے جان پرچے میں قید کر دیتا ہے۔ اس امتحانی جنون کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میں “کوچنگ انڈسٹری” کے نام سے ایک متوازی اور ظالمانہ تعلیمی سلطنت قائم ہو چکی ہے۔ کروڑوں روپے کے اس کاروبار میں معصوم بچوں کا بچپن فروخت ہو رہا ہے، نوجوانوں کی صلاحیتیں گروی رکھی جا رہی ہیں، اور ان کے اچھوتے خواب اس منڈی میں کوڑیوں کے دام نیلام ہو رہے ہیں۔ پھر جب کوٹا (Kota) جیسے تعلیمی مراکز سے معصوم بچوں کی خودکشیوں کی خبریں آتی ہیں، جب نوجوان نسل شدید ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر موت کو گلے لگاتی ہے، تو یہ سماج حیرت کا اظہار کرتا ہے! ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم نے انہیں جینا سکھایا ہی کب تھا؟ ہم نے تو انہیں صرف مقابلہ کرنا سکھایا تھا۔ ہم نے انہیں کامیابی کے طریقے تو رٹائے، مگر زندگی کا حقیقی مطلب نہیں بتایا۔ ہم نے انہیں نوکری کے لیے تو تیار کیا، مگر ایک ذمہ دار شہری اور باوقار انسان بننے کا گر نہیں سکھایا۔ اگر ہم غور و فکر کی آنکھوں سے دیکھیں تو کائنات کی کوئی بھی عظیم تبدیلی رٹّے بازی سے نہیں آئی۔ قرآن کریم کی آیاتِ بینات کا ایک بڑا حصہ انسان کو بار بار تدبر، تفکر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔ کلامِ الٰہی پکار پکار کر کہتا ہے کہ قرآن کا طالب علم وہ ہے جو اندھی تقلید نہیں کرتا، بلکہ کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے، اپنے نفس کو پڑھتا ہے، تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے اور سوال پوچھتا ہے۔ اگر تعلیم

تعلیم کی حقیقی روح کی تلاش!!! Read More »

جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں!

کبھی کبھی ایک خبر صرف خبر نہیں ہوتی۔وہ ایک سوال ہوتی ہے جو پورے معاشرے کے ضمیر کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔کبھی کوئی رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ان کروڑوں نوجوانوں کی خاموش چیخ ہوتی ہے جن کے خواب کسی دفتر کی میز، کسی بدعنوان اہلکار کی جیب، کسی خفیہ واٹس ایپ گروپ یا کسی منظم مافیا کے ہاتھوں نیلام ہو چکے ہوتے ہیں۔ حال ہی میں ہندوستان کے ایک ممتاز قومی اخبار کی تحقیق نے ملک کے امتحانی نظام کے ایک ایسے تاریک پہلو سے پردہ اٹھایا ہے جس نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ پورے ملک کے سنجیدہ اذہان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔تحقیق کے مطابق 2002 سے 2025 تک ایسے پینتالیس بڑے امتحانات کے پرچے لیک ہوئے جن میں ہر امتحان میں ایک لاکھ سے زائد امیدوار شریک تھے۔ کروڑوں نوجوانوں کی محنت، امیدیں اور مستقبل ان امتحانات سے وابستہ تھے۔ مگر اصل المیہ صرف پرچوں کا لیک ہونا نہیں۔اصل المیہ یہ ہے کہ ان پینتالیس بڑے مقدمات میں صرف دو مقدمات سزا تک پہنچ سکے۔ جی ہاں، صرف دو! باقی مقدمات یا تو تحقیقات کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئے، یا عدالتی راہداریوں میں برسوں تک سرگرداں رہے، یا پھر وقت کی گرد نے ان کے نشانات تک دھندلا دیے۔اس لیے آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ پرچے کس نے لیک کیے؟ اصل سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام میں انصاف کہاں لیک ہو گیا؟ ایک قوم کے خوابوں کی قیمت کتنی ہوتی ہے؟ کسی متوسط یا غریب گھرانے کے دروازے پر دستک دیجیے۔آپ کو ایک نوجوان ملے گا جو رات گئے تک کتابوں میں گم رہتا ہے۔اس کی میز پر نصابی کتابیں ہوں گی۔دیواروں پر خوابوں کے نقشے آویزاں ہوں گے۔ماں کی دعائیں اس کے ساتھ ہوں گی۔باپ کی امیدیں اس کے مستقبل سے وابستہ ہوں گی۔گھر کے اخراجات کم کر کے کوچنگ کی فیس ادا کی گئی ہوگی۔بہن نے اپنی خواہشات ملتوی کی ہوں گی۔والد نے اضافی وقت کام کیا ہوگا۔اور پھر ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ امتحان کا پرچہ امتحان سے پہلے ہی فروخت ہو چکا تھا۔ سوچیے!اس لمحے صرف ایک سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوتا۔اس لمحے ایک نوجوان کا اعتماد لیک ہو جاتا ہے۔ایک خاندان کی امید لیک ہو جاتی ہے۔ایک ماں کی دعا زخمی ہو جاتی ہے اور ایک قوم کے مستقبل پر ثبت اعتماد کا مہر بند لفافہ پھٹ جاتا ہے۔ جانچ کے نظام پر اعتماد کا بحران! جب امتحان کی کاغذی پرچیوں کے ساتھ بچوں کا مستقبل اور والدین کی راتوں کی نیندیں بھی بازار میں بکنے لگیں، تو پورے جانچ کے نظام پر سے ایک نسل کا بھروسہ ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے۔ امتحان کسی بھی تعلیمی نظام کی روح ہوتے ہیں۔یہ محض نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ صلاحیت، محنت، قابلیت اور کردار کی جانچ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔طالب علم جب امتحانی ہال میں داخل ہوتا ہے تو دراصل وہ ریاست کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ کرتا ہے۔اسے یقین ہوتا ہے کہ امتحان منصفانہ ہوگا،سوالات محفوظ ہوں گے،جانچ غیر جانب دار ہوگی اور کامیابی صرف قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ملے گی۔ مگر جب امتحانات بار بار منسوخ ہونے لگیں، سوالیہ پرچے لیک ہونے لگیں اور نتائج متنازع بننے لگیں تو نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک نہایت خطرناک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی میری محنت ہی میری کامیابی کا فیصلہ کرے گی؟ یہ بظاہر ایک سادہ سوال ہے، مگر درحقیقت پورے تعلیمی فلسفے کو چیلنج کرتا ہے۔ کسی بھی تعلیمی نظام کی اصل طاقت اس کی عمارتیں، ٹیکنالوجی یا نصاب نہیں ہوتے،اس کی اصل طاقت اس کی ساکھ ہوتی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک—فن لینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور جاپان—نے صرف وسائل کی بنیاد پر ترقی نہیں کی بلکہ امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو اپنی قومی ترقی کا ستون بنایا۔اگر ہندوستان جیسے عظیم ملک میں نوجوان امتحانی نظام پر اعتماد کھو دیں تو اس کا نقصان صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے انسانی سرمائے (Human Capital) کو متاثر کرتا ہے۔ اس لئے یہ صرف امتحان کا بحران نہیں۔یہ Meritocracy یعنی قابلیت اور اہلیت پر مبنی معاشرتی نظام کا بحران ہے۔ کیا یہ عوامی اداروں میں احتساب کی ناکامی نہیں ہے؟ کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل قوت اس کے اداروں کی شفافیت اور جواب دہی میں پوشیدہ ہوتی ہے لیکن جب ہزاروں گرفتاریاں ہوں، سینکڑوں چارج شیٹس داخل ہوں، لاکھوں امیدوار متاثر ہوں اور پھر بھی سزائیں نہ ہونے کے برابر ہوں تو ایک بنیادی سوال سر اٹھاتا ہے کہ آخر ذمہ دار کون ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے معاشروں میں اکثر چھوٹے کردار پکڑے جاتے ہیں جبکہ بڑے کردار نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔کسی واٹس ایپ گروپ کے منتظم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔کسی درمیانی درجے کے ملازم کو معطل کر دیا جاتا ہے۔مگر وہ ادارہ جاتی کمزوریاں، وہ پالیسی خامیاں اور وہ انتظامی ناکامیاں جنہوں نے اس جرم کو ممکن بنایا، اکثر احتساب کے دائرے سے باہر رہ جاتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے متزلزل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔احتساب صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں۔احتساب دراصل اس پورے نظام کی اصلاح کا نام ہے جو جرم کو جنم دیتا ہے۔ جب تک تحقیقات بروقت نہیں ہوں گی، مقدمات غیر ضروری تاخیر کا شکار رہیں گے، ذمہ دار افسران جواب دہ نہیں ہوں گے اور اصلاحات مستقل بنیادوں پر نافذ نہیں کی جائیں گی، تب تک ہر نیا امتحان ایک نئے خطرے کے ساتھ منعقد ہوگا۔ تعلیمی اداروں کا سب سے بڑا سرمایہ ان کی عمارتیں نہیں بلکہ ان کی Credibility ہوتی ہے اور Credibility کی بنیاد ہمیشہ Accountability پر قائم ہوتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ نوجوان نسل پر امتحانی بدانتظامی کے کیا نفسیاتی اثرات ہوں گے؟ اس پورے بحران کا سب سے کم زیرِ بحث مگر سب سے سنگین پہلو نوجوانوں کی ذہنی صحت ہے۔ہر سال لاکھوں نوجوان مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔وہ برسوں کوچنگ سینٹروں میں وقت گزارتے ہیں۔وہ اپنی نیند، آرام، تفریح اور سماجی زندگی قربان کر دیتے ہیں۔وہ اپنی شناخت کو اپنے امتحانی نتائج کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔ پھر اچانک انہیں بتایا جاتا ہے کہ امتحان

جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں! Read More »

तअलीम: इंसान बनाने का फ़न या इम्तिहान पास कराने की मशीन?

इल्म वो है जो इंसान को इंसान बनाए, न कि वो जो उसे मशीन बना दे डॉ. असदुल्लाह ख़ान ज़िन्दगी में कभी-कभी ऐसा होता है कि आप कोई तहरीर हाथ में लेते हैं और पढ़ते-पढ़ते अचानक रुक जाते हैं। क़लम नीचे रख देते हैं। आँखें बंद कर लेते हैं। और दिल के किसी गहरे गोशे से एक आवाज़ आती है कि यही तो मैं कह रहा था। हुआ यूँ कि आज के टाइम्ज़ ऑफ़ इंडिया में NCERT के डायरेक्टर, प्रोफ़ेसर दिनेश प्रसाद सकलानी का मज़मून पढ़ा तो यूँ महसूस हुआ जैसे मेरे दिल-व-दिमाग़ में मुद्दतों से गर्दिश करने वाले ख़यालात को किसी और ने लफ़्ज़ों के क़ालब में ढाल दिया हो। हर सतर, हर इस्तिदलाल और हर सवाल मेरे अपने फ़िक्री सफ़र की बाज़गश्त मालूम हुआ। मुझे मीर का वो मिसरा याद आ गया जो उर्दू शाअरी की सबसे लतीफ़ नफ़्सियाती दरयाफ़्तों में से एक है — “मैंने यह जाना कि गोया यह भी मेरे दिल में है।” यह मिसरा महज़ एक शेरी तजुर्बे का बयान नहीं — यह उस कैफ़ियत का नाम है जब कोई बात आपके अन्दर इतनी गहरी उतर चुकी हो कि आप उसे अपनी समझते ही नहीं, और फिर जब कोई दूसरा इंसान वही बात कह दे तो आप चौंक उठते हैं। वो लिखते हैं कि रट्टा लगाना कभी हिन्दुस्तान की रूह नहीं रहा। कि इस सरज़मीन ने नचिकेता को पैदा किया जिसने मौत से सवाल किया, गार्गी पैदा की जिसने ब्रह्मनों के सरदार को ख़ामोश किया, कनाद पैदा किया जिसने ऐटम का तसव्वुर दिया, सुश्रुत पैदा किया जिसने जिराही सिखाई, आर्य भट्ट पैदा किया जिसने सिफ़र दरयाफ़्त किया — और यह सब रट्टे से नहीं, सवाल से, तजुर्बे से, मुशाहिदे से, दलील से पैदा हुए। यह पढ़कर मैंने सोचा — क्या यह सिर्फ़ तअलीम की कहानी है? नहीं। यह हमारी पूरी तहज़ीबी रूह की कहानी है। अगर आज नचिकेता किसी इस्कूल में दाख़िल हो जाए तो क्या होगा? वही नचिकेता जिसने मौत के देवता यमराज के दरवाज़े पर तीन दिन और तीन रात खड़े रहकर इल्म तलब किया था। वही नचिकेता जिसके सवालों ने कठ उपनिशद को जन्म दिया। वो बच्चा जो मौत से न डरा, क्या वो हमारे निसाब की तंग गलियों में साँस ले पाता? क्या आज का उस्ताद उसकी हौसला-अफ़ज़ाई करता? क्या आज के इस्कूल में उसके लिए कोई जगह होती? या उसे यह कहकर ख़ामोश करा दिया जाता कि “यह सवाल निसाब में नहीं है, इम्तिहान में नहीं आएगा, वक़्त ज़ाया मत करो।” यह सवाल महज़ एक फ़र्ज़ी तसव्वुर नहीं। यह हमारे पूरे निज़ाम-ए-तअलीम के लिए एक बेरहम आईना है। असल मसला यह नहीं कि हमारे बच्चे क्या पढ़ रहे हैं। असल और बुनियादी मसला यह है कि हम उन्हें सोचने दे रहे हैं या नहीं। हिन्दुस्तानी इल्मी रिवायत की गहराइयाँ जब हम हिन्दुस्तानी इल्मी रिवायत की गहराइयों में उतरते हैं तो एक अनोखा और फ़ख़्र-अंगेज़ मंज़र सामने आता है। यहाँ इल्म कभी भी एक मुर्दा मालूमात का ज़ख़ीरा नहीं रहा। यहाँ सवाल इबादत था, मुकालमा तअलीम था, तलाश-ए-हक़ीक़त ज़िन्दगी का मक़सद थी। उपनिशदों के अज़ीम मुबाहिसे देखिए — जहाँ उस्ताद शागिर्द को जवाब नहीं देता था, बल्कि सवाल पूछता था। नालंदा और तक्षशिला की मेहान दर्सगाहों को देखिए जहाँ दुनिया के कोने-कोने से तालिब-ए-इल्म आते थे — न डिग्री के लिए, बल्कि इल्म की प्यास बुझाने के लिए। नालंदा में दस हज़ार से ज़ाइद तालिब-ए-इल्म और दो हज़ार असातिज़ा थे। वहाँ का कुतुब-ख़ाना इतना अज़ीम था कि जब उसे जलाया गया तो वो तीन माह तक जलता रहा। नालंदा का कुतुब-ख़ाना तीन माह तक जलता रहा — क्योंकि इल्म वहाँ काग़ज़ों में नहीं, रूहों में महफ़ूज़ था फिर ऐसा क्या हुआ? यह वो सवाल है जो हर मुहिब्ब-ए-तअलीम की नींद उड़ा देता है। ऐसा क्या हुआ कि सवाल करने वाली क़ौम रट्टा करने वाली क़ौम बन गई? 1835ء में जब लॉर्ड मैकाले ने अपना वो बदनाम-ए-ज़माना “मिनट” लिखा तो उसने सिर्फ़ एक निसाब नहीं बदला — उसने एक पूरी क़ौम के सोचने का अन्दाज़ बदल दिया। उसने लिखा कि हमें ऐसे अफ़राद चाहिएँ जो “ख़ून और रंग में हिन्दुस्तानी हों लेकिन ज़ौक़, राय, अख़्लाक़ और अक़्ल में अंग्रेज़ हों।” आहिस्ता-आहिस्ता तअलीम ज़िन्दगी की तैयारी के बजाय इम्तिहान की तैयारी बन गई। इस्कूल शख़्सियत-साज़ी के मराकिज़ के बजाय इम्तिहानी कारख़ाने बन गए। 1947ء में हमने सियासी आज़ादी हासिल की लेकिन ज़हनी आज़ादी? वो अभी भी नो-आबादियाती ज़ंजीरों में जकड़ी हुई थी। हमने इस्कूल बनाए, इमारतें बनाईं, निसाब बनाए लेकिन इंसान बनाना भूल गए आज का दौर — जब मोबाइल मालूमात देता है, मगर हिकमत नहीं आज हम एक ऐसे अहद में जी रहे हैं जहाँ एक मोबाइल फ़ोन सेकंडों में वो मालूमात फ़राहम कर सकता है जिसे कभी हासिल करने में पूरी ज़िन्दगी लग जाती थी। ऐसे में अगर हमारी तअलीम का वाहिद मक़सद मालूमात याद कराना है तो फिर उस्ताद की, इस्कूल की, यूनिवर्सिटी की ज़रूरत ही क्या रह जाएगी? World Economic Forum की 2023ء की रिपोर्ट बताती है कि अगले पाँच सालों में 23 फ़ीसद मुलाज़मतें तबदील हो जाएँगी। आज जो बच्चा पहली जमाअत में बैठा है, वो 2040ء की दुनिया में काम करेगा। McKinsey Global Institute की तहक़ीक़ के मुताबिक़ आने वाले बरसों में AI उन तमाम कामों को कर सकेगी जो महज़ “याद करने” पर मुन्हसिर हैं। जो इंसान बाक़ी रहेगा, वो वही होगा जो सोच सकता है, तख़्लीक़ कर सकता है, महसूस कर सकता है। हमने बच्चों को क्या दिया? मैंने देखा कि एक बच्चा जो घर में हज़ार सवाल पूछता है, जो परिंदों को देखकर हैरान होता है, जो आसमान की तरफ़ देखकर सितारों के बारे में पूछता है — वही बच्चा इस्कूल में आने के चंद सालों के बाद ख़ामोश हो जाता है। वो सवाल करना छोड़ देता है। क्यों? क्योंकि हमने उसे सिखा दिया कि सवाल परेशान-कुन है, ख़ामोशी क़ाबिल-ए-तअरीफ़ है। आज भी एक बच्चे की ज़हानत उसके सवालों से नहीं बल्कि उसके नम्बरों से नापी जाती है। हमने उन्हें बताया कि जवाब क्या है, मगर यह नहीं सिखाया कि जवाब तक पहुँचा कैसे जाता है। हमने उन्हें मालूमात दीं, मगर हिकमत नहीं दी। हमने मालूमात दीं, हिकमत नहीं दी — हक़ाइक़ याद कराए, हक़ीक़त तलाश करना नहीं सिखाया नम्बरों की दौड़

तअलीम: इंसान बनाने का फ़न या इम्तिहान पास कराने की मशीन? Read More »

नफ़रतों के अँधेरे में मुहब्बत का चराग़

भीवंडी के मुसलमानों ने इंसानियत, अख़ुव्वत और हिन्दुस्तानी तहज़ीब की एक नई तारीख़ रक़म कर दी डॉ. असदुल्लाह ख़ान आज के दौर में जब अख़बारात, टेलीविज़न और सोशल मीडिया पर हर तरफ़ नफ़रत, तअस्सुब, फ़िर्क़ापरस्ती और तक़सीम की ख़बरें ज़्यादा नुमायाँ नज़र आती हैं, ऐसे में अगर कहीं मुहब्बत, अख़ुव्वत, ख़िदमत और इंसानियत की ख़ुशबू बिखरती है तो वो सिर्फ़ एक वाक़िआ नहीं रहता बल्कि पूरी क़ौम के लिए उम्मीद का चराग़ बन जाता है। भीवंडी की सरज़मीन ने एक मर्तबा फिर साबित कर दिया कि हिन्दुस्तान की असल रूह नफ़रत में नहीं बल्कि मुहब्बत में, तक़सीम में नहीं बल्कि इत्तिहाद में, और मज़हबी बर्तरी में नहीं बल्कि इंसानी बराबरी में पोशीदा है। नीट (NEET) जैसे क़ौमी सतह के अहम इम्तिहान के मौक़े पर भीवंडी के मुसलमानों, मसाजिद, मदारिस, जमाअत ख़ानों, तअलीमी इदारों और नौजवान रज़ाकारों ने जिस अज़ीम ज़र्फ़, वसीउल-क़ल्बी और बेमिसाल मेहमान-नवाज़ी का मुज़ाहरा किया, वो सिर्फ़ एक इंतिज़ामी ख़िदमत नहीं बल्कि इंसानियत के माथे का जूमर और हिन्दुस्तान की गंगा-जमुनी तहज़ीब का रौशन इस्तिआरा बन गया। शदीद गर्मी का दिन था और मुल्क के मुख़्तलिफ़ शहरों से सैकड़ों वालिदैन अपने बच्चों को NEET के इम्तिहान दिलवाने के लिए भीवंडी पहुँचे थे। गर्मी, भीड़, ट्रैफ़िक और लम्बा इन्तिज़ार — हर शख़्स ज़हनी तौर पर एक मुश्किल दिन के लिए तैयार था, लेकिन जैसे ही वो इम्तिहानी मराकिज़ के आस-पास पहुँचे, उनके सामने एक ऐसा मंज़र था जिसकी शायद उन्होंने कभी तवक़्क़ो भी न की होगी। मसाजिद के दरवाज़े खुले हुए थे, मदारिस के हॉल मेहमानों से भरे हुए थे और जमाअत ख़ानों में पानी, चाय, कोल्ड ड्रिंक्स और नाश्ते का इन्तिज़ाम किया जा चुका था और मस्जिदें सिर्फ़ इबादत-गाहें नहीं बल्कि इंसानियत की पनाह-गाहें बन गईं। रज़ाकार हर आने वाले को अपना मेहमान समझ कर ख़ुश-आमदीद कह रहे थे। कोई यह नहीं पूछ रहा था कि आप किस मज़हब से ताल्लुक़ रखते हैं और कोई यह नहीं देख रहा था कि आप किस ज़बान या किस रियासत से आए हैं। वो सिर्फ़ एक बात जानते थे कि “ये हमारे मेहमान हैं, और मेहमान अल्लाह की रहमत होते हैं।” मौलाना ने सिर्फ़ दरवाज़े ही नहीं, अपने दिल भी खोल दिए। दारुल-उलूम दीनियात, मस्जिद और मदरसे के ज़िम्मेदारान ने सिर्फ़ हॉल मुहैया नहीं किए बल्कि एक ऐसा काम किया जिसने हज़ारों दिल जीत लिए। मौलाना क़ारी ग़ुलाम ने तलबा के कमरों को भी ख़ाली करवा दिया ताकि दूर-दराज़ से आने वाले वालिदैन चंद घंटे सुकून से आराम कर सकें। ज़मीन पर बिछी हुई सादा चटाइयाँ शायद दुनिया के किसी मँहगे होटल के नर्म बिस्तरों से कहीं ज़्यादा क़ीमती महसूस हो रही थीं, क्योंकि वहाँ आराम के साथ इज़्ज़त, एहतिराम और मुहब्बत भी मौजूद थी। यह वो जज़्बा था जो किताबों में नहीं पढ़ाया जाता, यह किरदार मदारिस की हक़ीक़ी तअलीम का आईना था। मेहँदी के चंद नक़ूश और मुहब्बत के हज़ारों रंग भीवंडी के ख़ातून रज़ाकारों ने एक ऐसा ख़ूबसूरत मंज़र भी पेश किया जिसने हर देखने वाले का दिल मोह लिया। इम्तिहान के दौरान इन्तिज़ार करती हुई हिन्दू माओं और बहनों के हाथों पर मेहँदी लगाई जा रही थी। बज़ाहिर यह एक मामूली अमल था लेकिन हक़ीक़त में यह हिन्दुस्तान की मुश्तरका तहज़ीब, भाईचारे और सक़ाफ़ती हुस्न की एक ख़ामोश मगर निहायत मुअस्सर अलामत थी। मुहब्बत का इज़हार हमेशा बड़ी तक़रीरों से नहीं होता, कभी-कभी मेहँदी का एक छोटा सा नक़्श भी दिलों के दरमियान सदियों के फ़ासले मिटा देता है। बहुत से वालिदैन ने एतिराफ़ किया कि यह उनकी ज़िन्दगी का पहला मौक़ा था जब वो किसी मस्जिद या मदरसे के अन्दर दाख़िल हुए थे। उनके ज़हनों में न जाने कितने सवाल, ख़दशात और ग़लतफ़हमियाँ थीं, लेकिन चंद लम्हों में ही वो तमाम फ़ासले ख़त्म हो गए। जब पहली मर्तबा मस्जिद में क़दम रखा तो कैफ़ियत कुछ और थी और थोड़ी ही देर में ख़ौफ़, मुहब्बत में बदल गया। सलाहुद्दीन अय्यूबी उर्दू हाई स्कूल व जूनियर कॉलेज में क़याम करने वाले ठाणे के रहाइशी नरेश शर्मा जज़्बात पर क़ाबू न रख सके। उन्होंने कहा: “हमारा ख़याल जिस मुहब्बत, इज़्ज़त और ख़ुलूस के साथ रखा गया, वो हमारी ज़िन्दगी का ना-क़ाबिल-ए-फ़रामोश तजुर्बा है। यह इंसानियत की बेहतरीन मिसाल है।” यह सिर्फ़ एक जुमला नहीं था, यह बरसों से ज़हनों में क़ायम होने वाली दीवारों के गिरने की आवाज़ थी। जब एहतिराम ने मज़हब की तमाम सरहदें मिटा दीं वो मंज़र यक़ीनन देखने वालों की आँखें नम कर देने वाला था जब कई हिन्दू बुज़ुर्गों ने मुहब्बत और एहतिराम के जज़्बे से मुतअस्सिर होकर मौलाना साहिबान के क़दम छू लिए। बाज़ ख़वातीन ने हिचकिचाते हुए कहा: “हम पहली मर्तबा मस्जिद के अन्दर आई हैं।” तो मौलाना क़ारी ग़ुलाम ने मुस्कुराते हुए फ़रमाया: “यह अल्लाह का घर है… और अल्लाह का घर सबका घर है। आप बला-झिझक अन्दर आइए, यह आपका भी अपना घर है।” यह चंद अल्फ़ाज़ शायद हज़ारों ख़ुत्बात से ज़्यादा मुअस्सर थे। असल हिन्दुस्तान यही है नरेश शर्मा की एक बात पूरे वाक़िए का ख़ुलासा बन गई। उन्होंने कहा: “बराह-ए-करम इस वाक़िए में मज़हब को दरमियान में न लाएँ। न मौलाना साहिबान ने मज़हब की बात की, न हमने। यह सिर्फ़ इंसानों की तरफ़ से इंसानों की ख़िदमत थी।” यही हिन्दुस्तान की असल पहचान है और यही वो तहज़ीब है जिसने सदियों से मुख़्तलिफ़ मज़ाहब, ज़बानों, सक़ाफ़तों और रिवायात को एक धागे में पिरो रखा है। भीवंडी ने सिर्फ़ इम्तिहान नहीं सँभाला… क़ौम को रास्ता दिखा दिया इस पूरे अमल में सिर्फ़ मसाजिद ही नहीं बल्कि रईस हाई स्कूल, समदिया हाई स्कूल, सलाहुद्दीन अय्यूबी उर्दू हाई स्कूल, मुख़्तलिफ़ जमाअत ख़ाने, दीनी इदारे और भीवंडी स्टूडेंट्स हेल्प फ़ोरम जैसे नौजवानों के गुरोह भी बराबर शरीक रहे। यह किसी एक फ़र्द या एक इदारे की ख़िदमत नहीं थी बल्कि पूरे शहर की इज्तिमाई इंसान-दोस्ती थी। यह वो सबक़ है जिसकी आज हिन्दुस्तान को सबसे ज़्यादा ज़रूरत है। अब सवाल यह है कि आगे क्या? अगर भीवंडी यह मिसाल क़ायम कर सकता है तो मुल्क का हर शहर ऐसा क्यों नहीं कर सकता? अगर एक इम्तिहान के दिन मस्जिदों के दरवाज़े सबके लिए खुल सकते हैं तो फिर दूसरे मवाक़े पर क्यों नहीं? आइए हम सब चंद अमली अह्द करें: मज़हबी मक़ामात को इंसानियत के मराकिज़ बनाएँ। मसाजिद, मंदिर, गुरुद्वारे,

नफ़रतों के अँधेरे में मुहब्बत का चराग़ Read More »