جب زبان صرف سیاست نہیں، قوموں کے مستقبل کا سوال بن جائے!!!

مہاراشٹر کے ایس ایس سی نتائج، مراٹھی کی بحث، اور ہماری لسانی ذمہ داریوں کا محاسبہ

ڈاکٹر اسد اللہ خان

اعداد و شمار بظاہر خاموش ہوتے ہیں مگر ان کی خاموشی میں پورے معاشروں کی کہانیاں بولتی ہیں۔ہر فیصد کے پیچھے ہزاروں خواب ہوتے ہیں، ہر نتیجے کے پیچھے برسوں کی تعلیمی جدوجہد، اور ہر تعلیمی رپورٹ کے پس منظر میں ایک قوم کی فکری ترجیحات پوشیدہ ہوتی ہیں۔ایک محقق کے لیے اعداد صرف ریاضیاتی حقیقت نہیں ہوتے، بلکہ وہ سماج کے ذہنی رجحانات، تہذیبی وابستگیوں اور تعلیمی سمتوں کو سمجھنے کی کنجیاں ہوتے ہیں۔اسی لیے بعض امتحانی نتائج محض کامیابی اور ناکامی کی خبر نہیں دیتے، بلکہ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ قومیں اپنی زبانوں، اپنی کتابوں، اپنے تعلیمی اداروں اور اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ کس نوعیت کا تعلق استوار کر رہی ہیں۔

مہاراشٹر کے ایس ایس سی امتحان 2026 کے نتائج کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہاں بحث صرف نمبروں کی نہیں، زبان، تہذیب، تعلیم اور شناخت کے باہمی رشتے کی ہے۔

مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کے ایس ایس سی امتحان 2026 کے نتائج نے بھی ایسا ہی ایک مکالمہ چھیڑ دیا ہے۔ایک طرف اردو بحیثیت پہلی زبان 95.47 فیصد کامیابی کے ساتھ نمایاں رہی، جبکہ دوسری جانب مراٹھی بحیثیت پہلی زبان 92.57 فیصد نتائج کے ساتھ ریاست بھر میں بحث و مباحثے کا موضوع بن گئی۔ظاہری طور پر یہ فرق صرف چند فیصد کا معلوم ہوتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے پس منظر میں زبان، تعلیم، تہذیب، شناخت، سیاست اور مستقبل کے کئی اہم سوالات پوشیدہ ہیں۔

یہ سوال صرف اردو یا مراٹھی کا نہیں،بلکہ یہ سوال ہر اس زبان کا ہے جس کے سہارے کوئی قوم سوچتی، محسوس کرتی، خواب دیکھتی اور اپنی شناخت قائم رکھتی ہے۔آج سوال یہ نہیں کہ کس زبان نے زیادہ نمبر حاصل کیے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری نئی نسل زبانوں سے اپنا رشتہ کھو رہی ہے؟کیا کتاب کی جگہ اسکرین نے لے لی ہے؟کیا مطالعہ کی جگہ محض معلومات نے لے لی ہے؟اور کیا زبان اب تہذیب کے بجائے صرف امتحان کا ایک مضمون بن کر رہ گئی ہے؟

مراٹھی کے نتائج نے ایک عجیب ریاستی بے چینی کو جنم دیا ۔ایس ایس سی کے نتائج کے بعد مہاراشٹر کے متعدد اخبارات، اداریوں اور ٹی وی مباحثوں میں ایک سوال بار بار سنائی دیاکہ آخر وہ زبان جو مہاراشٹر کی سرکاری، تاریخی اور تہذیبی زبان ہے، اس کے نتائج مسلسل تشویش کا باعث کیوں بن رہے ہیں؟

دس لاکھ سے زائد طلبہ نے مراٹھی بحیثیت پہلی زبان امتحان دیا، لیکن ہزاروں طلبہ اس مضمون میں کامیاب نہ ہو سکے۔یہ محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں تھا۔یہ ایک تہذیبی اضطراب تھا۔اخبارات نے اس کی مختلف وجوہات بیان کیں۔کسی نے مطالعہ کے زوال کو ذمہ دار قرار دیا۔کسی نے موبائل کلچر اور مختصر ویڈیوز کی یلغار کو۔کسی نے انگریزی میڈیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کو موردِ الزام ٹھہرایااور کچھ ماہرین تعلیم نے نصاب، تدریسی حکمتِ عملی اور اساتذہ کی تربیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔لیکن شاید اصل مسئلہ ان تمام عوامل سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔

زبانیں اس وقت کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے بولنے والے کم ہو جائیں،زبانیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب ان کے پڑھنے والے کم ہو جائیں۔

اسی دوران اردو کے نتائج نے بھی تعلیم دوست حلقوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔اردو کو پہلی زبان کے طور پر منتخب کرنے والے طلبہ کی تعداد مراٹھی کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن کامیابی کا تناسب نمایاں طور پر بلند رہا۔یہ یقیناً اردو اساتذہ، والدین اور طلبہ کی محنت کا اعتراف ہے۔لیکن اس کامیابی کے پیچھے ایک اور حقیقت بھی پوشیدہ ہے۔اردو ابھی تک محض نصابی زبان نہیں بنی۔وہ آج بھی گھروں کی گفتگو میں زندہ ہے۔مساجد کے خطبات میں زندہ ہے۔ادبی محفلوں میں زندہ ہے۔اخبارات اور رسائل میں زندہ ہے۔شاعری، نعت، افسانے اور دینی لٹریچر میں زندہ ہے۔اسی لیے شاید اردو کے نتائج ہمیں ایک اہم سبق دیتے ہیں۔جب زبان صرف امتحان کا مضمون بن جائے تو نمبر کم ہونے لگتے ہیں، اور جب زبان تہذیب، مطالعہ اور شناخت بن جائے تو نتائج خود بلند ہونے لگتے ہیں۔لیکن اردو والوں کے لیے بھی یہ وقت جشن سے زیادہ احتساب کا ہے۔کیا ہمارے بچے واقعی اردو پڑھ رہے ہیں؟کیا ان کے گھروں میں کتابیں موجود ہیں؟کیا وہ اردو اخبارات سے واقف ہیں؟کیا وہ غالب، اقبال، حالی، شبلی، فیض، فراق اور منٹو کے نام جانتے ہیں؟اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر صرف امتحانی کامیابی ہماری منزل نہیں ہو سکتی۔

ایس ایس سی نتائج کے ساتھ ہی مہاراشٹر میں ایک اور زبان سے متعلق بحث زور پکڑ گئی۔رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے بنیادی مراٹھی زبان جاننے کی شرط۔اس موضوع نے اخبارات، سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں میں شدید ردِعمل پیدا کیا۔حامیوں کا کہنا تھا کہ عوامی خدمات فراہم کرنے والوں کو ریاست کی زبان آنی چاہیے۔مخالفین کا استدلال تھا کہ روزگار کو زبان سے مشروط کرنا مناسب نہیں۔دونوں طرف دلائل موجود تھے۔دونوں طرف جذبات بھی تھے۔

اس پورے مباحثے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تقریباً تمام سنجیدہ ماہرینِ تعلیم، ادبی شخصیات اور پالیسی ساز ایک بنیادی نکتے پر متفق نظر آتے ہیں کہ زبان کا مسئلہ محض سیاست کا مسئلہ نہیں بلکہ تعلیم، مطالعہ اور تہذیب کا مسئلہ ہے۔ کوئی زبان صرف قانون کے زور پر زندہ نہیں رہ سکتی اور نہ ہی صرف جذباتی نعروں سے ترقی کر سکتی ہے۔ دادا بھوسے نے مراٹھی تعلیم کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، لکشمی کانت دیشمکھ نے مادری زبان کی بنیاد کو اہم قرار دیا، ایکناتھ شندے نے کتاب اور لائبریری کلچر کی حمایت کی، جبکہ راج ٹھاکرے نے لسانی شناخت کے تحفظ کو ضروری بتایا۔ ان مختلف آراء کا مشترکہ پیغام یہی ہے کہ زبانوں کی بقا کا راستہ تعلیمی معیار، مطالعہ کی عادت، ادبی شعور اور معاشرتی وابستگی سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ صرف قانونی جبر یا سیاسی نعروں سے۔

لیکن شاید اس بحث کا سب سے متوازن اور تعمیری نقطۂ نظر یہ ہے کہ زبان کا احترام ضروری ہے، لیکن زبان کی ترقی صرف قانون کے سہارے نہیں ہوتی۔ زبان اُس وقت مضبوط ہوتی ہے جب وہ دلوں میں محبت، گھروں میں گفتگو، اسکولوں میں مطالعہ اور معاشرے میں علم و ادب کی زبان بن جائے۔اگر صرف قوانین زبانوں کو زندہ رکھ سکتے تو دنیا کی کوئی زبان کبھی معدوم نہ ہوتی۔تاریخ شاہد ہے کہ زبانیں حکم ناموں سے نہیں بلکہ محبت، مطالعہ اور تہذیبی وابستگی سے زندہ رہتی ہیں۔

کیا کبھی آپ نے سوچا کہ زبانوں کی اصل طاقت کہاں سے پیدا ہوتی ہے؟

دنیا کی ہر زندہ زبان کی بنیاد پانچ ستونوں پر قائم ہوتی ہے۔گھر ، جہاں زبان بولی جاتی ہے۔اسکول ، جہاں زبان سمجھی جاتی ہے۔کتاب ، جہاں زبان گہری ہوتی ہے۔ادب ، جہاں زبان خوبصورت بنتی ہے۔معاشرتی وقار ، جہاں زبان مفید بن جاتی ہے۔ان پانچ ستونوں میں سے اگر ایک بھی کمزور ہو جائے تو زبان کا وجود متاثر ہونے لگتا ہے۔

مراٹھی میں ناکامی کے لئے انگریزی کو موردالزام ٹھہرانا کہاں تک درست ہے ۔انگریزی دشمن نہیں، لیکن متبادل بھی نہیں۔آج کی دنیا میں انگریزی کی اہمیت ناقابلِ انکار ہے۔سائنس، ٹیکنالوجی، تجارت اور عالمی رابطوں میں اس کا کردار نمایاں ہے۔لیکن ایک خطرناک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ انگریزی سیکھنے کے لیے مادری زبان کو قربان کرنا ضروری ہے۔دنیا بھر کی تعلیمی تحقیقات اس کے برعکس ثابت کرتی ہیں۔جو بچے اپنی مادری زبان میں مضبوط بنیاد رکھتے ہیں وہ دوسری اور تیسری زبانیں زیادہ بہتر انداز میں سیکھتے ہیں۔اس لیے اردو، مراٹھی، ہندی اور انگریزی کو ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ ایسے حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

اگر ہم واقعی زبانوں کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں نعروں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ہر گھر میں روزانہ مطالعہ کا وقت مقرر ہونا چاہیے۔اسکولوں میں ریڈنگ کلچر کو تحریک کی شکل دی جانی چاہیے۔لائبریریوں کو دوبارہ تعلیمی زندگی کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔بچوں کو کتابوں سے وہی رشتہ جوڑنا ہوگا جو آج موبائل سے جڑا ہوا ہے۔اساتذہ کو زبان پڑھانے کے ساتھ زبان سے محبت پیدا کرنے کی تربیت دی جانی چاہیےاور سب سے بڑھ کر والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مادری زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں، بلکہ شخصیت سازی کا بنیادی ستون ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ بحث انگریزی اور مراٹھی کے درمیان مقابلے کی ہے ہی نہیں۔یہ زبانوں اور بے زبانی کے درمیان مقابلہ ہے۔یہ مطالعہ اور سطحیت کے درمیان مقابلہ ہے۔یہ تہذیب اور فراموشی کے درمیان مقابلہ ہے۔اگر ہماری نئی نسل پڑھ رہی ہے، لکھ رہی ہے، سوچ رہی ہے اور اظہار کرنا جانتی ہے تو زبان محفوظ ہےاور اگر یہ صلاحیتیں ختم ہو رہی ہیں تو صرف سرکاری اعلانات، سیاسی نعرے اور امتحانی نتائج زبانوں کو نہیں بچا سکتے۔

زبان دراصل کسی قوم کا وہ غیر مرئی خزانہ ہے جس میں اس کی صدیوں پر محیط یادیں، احساسات، تجربات، حکمتیں اور شناخت محفوظ ہوتی ہیں۔جب کوئی زبان کمزور ہوتی ہے تو محض الفاظ نہیں مرتے، بلکہ ایک تہذیب کی آواز مدھم ہونے لگتی ہے، ایک تاریخ دھندلانے لگتی ہے اور ایک اجتماعی شعور اپنی جڑوں سے دور ہونے لگتا ہے،وہ تاریخ کی سانس، تہذیب کی خوشبو، فکر کی روشنی اور شناخت کی بنیاد ہوتی ہے۔

اس لیے زبانوں کو سیاست کا میدان بنانے کے بجائے تعلیم کا سرمایہ بنانا ہوگاکیونکہ زبانوں کی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا، لیکن زبانوں کی بقا میں پوری انسانیت کا فائدہ ہوتا ہے اسلئے ارباب حل و عقد اور مجاہدین زبان وادب کو یہ بات گرہ باندھ لینی چاہئے کہ زبانیں حکم سے نہیں، محبت سے زندہ رہتی ہیں اور محبت کا سب سے بڑا راستہ تعلیم، مطالعہ اور تہذیبی شعور ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *