دستِ خضر سے شمعِ ہدایت ہی چھن گئی!

استعداد کا قحط، اساتذہ کی آن لائن تجارت اور نئی نسل کا فکری قتلِ عام

ڈاکٹر اسد اللہ خان

اطلاعات و معلومات کا یہ دھماکہ خیز دور، جہاں مصنوعی ذہانت انسانی سوچ کے متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے، وہاں ایک ایسے استاد کی ضرورت تھی جو مادی ترقی کے اس دور میں نئی نسل کے ضمیر کا نگہبان بنتا۔ قوموں کی تعمیرِ نو میں استاد کا وجود ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے، کیونکہ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ روح کی تراش خراش کرتا ہے۔ کارِ معلمی دراصل کارِ نبوت ہے، جس کا منصب تقدس اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن افسوس! آج سن 2026ء کے ہندوستان میں جب ہم اپنے تعلیمی ڈھانچے اور اساتذہ کی تربیت کے نظام (Teacher Education) پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ رہبر ہی جب راہزن بن جائیں، تو کارواں کی تباہی کا گلہ کس سے کیا جائے؟

ہم نے جس دور میں بی ایڈ کالجوں کی بولیوں کا رونا رویا تھا، وہ تو محض نقد رقم اور چند ہزار روپے کی ہیرا پھیری کا ابتدائی دور تھا۔ آج کا دور تو ڈیجیٹل مافیا اور ادارہ جاتی بدعنوانی کا وہ مہیب سمندر ہے جس نے پورے ملک کے مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

آج میڈیا کی سرخیاں اور عدالتوں کے فیصلے گواہ ہیں کہ اساتذہ کی تیاری سے لے کر ان کی تعیناتی تک کا پورا نظام کینسر کی آخری اسٹیج پر کھڑا ہے۔ مہاراشٹرا کا ٹی اے آئی ٹی (TAIT) اور ٹی ای ٹی (TET) ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب مہاراشٹرا ٹیچرز ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (TET) میں ہزاروں ایسے اساتذہ کے نام سامنے آئے جنہوں نے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر کمپیوٹرائزڈ رزلٹ شیٹس میں اپنے نمبر بڑھوائے۔ جو استاد خود ایک اہلکار کو چائے پانی کے نام پر رشوت دے کر، یا سرور ہیک کروا کر پاس ہوا ہو، وہ پونے، ناگپور یا ممبئی کے اسکولوں میں بیٹھ کر اگلی نسل کو دیانت داری کا کیا سبق دے گا؟

اتر پردیش میں اساتذہ کی بھرتی ٹیچر بھرتی کے امتحانات اور بہار کے بی پی ایس سی ٹیچر امتحانات کے دوران بلیو ٹوتھ ڈیوائسز، سالور گینگز (Solver Gangs) اور پیپر لیک کے جو شرمناک واقعات سامنے آئے، انہوں نے میرٹ کا جنازہ نکال دیا۔ دسویں جماعت کی کتاب کا درست تلفظ نہ کر پانے والے، اور بلیک بورڈ پر انگریزی میں ایجوکیشن کی ہجے غلط لکھنے والے لوگ لاکھوں روپے کی بولی لگا کر اسکولوں میں ‘مستقبل کے معمار’ بن کر بیٹھ گئے۔ بی ایڈ اور ایم ایڈ کالجز اب تعلیم گاہیں نہیں، شادی ہالوں کی طرح نفع بخش کاروبار ہیں۔ نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن اور یونیورسٹیوں کی جو معائنہ ٹیمیں آتی ہیں، ان کے لیے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام اور ڈیجیٹل ٹرانسفرز کے ذریعے پہلے ہی سب کچھ طے کر دیا جاتا ہے۔ کالج میں نہ لائبریری ہے، نہ لیبارٹری، نہ لیسن پلان کا وجود—بس سال کے آخر میں ایک سرٹیفائیڈ مزدور تیار کر کے مارکیٹ میں پھینک دیا جاتا ہے۔

استاد جب خود علم کے سمندر سے محروم ہو، تو وہ دوسروں کی پیاس کیا بجھائے گا؟ آج جو فوج ان ٹریننگ کالجوں سے نکل رہی ہے، وہ تعلیم کی غیر پیداواری پروڈکٹ ہے۔ یہ وہ بھیڑ ہے جو کسی اور پیشے میں جگہ نہ پا سکی، تو آخری حربے کے طور پر معلمی کے مقدس پیشے میں گھس آئی۔

روایتی تعلیمی نظام کا استاد اپنی ذات میں ایک چلتی پھرتی درسگاہ ہوا کرتا تھا۔ اس کا اصل سرمایہ اس کا ذاتی مطالعہ، کتابوں سے گہرا تعلق، لائبریریوں سے وابستگی اور علم کے لیے نہ ختم ہونے والی پیاس ہوتی تھی۔ اس کی شخصیت میں وقار، گفتار میں سنجیدگی اور کردار میں ایسی پختگی ہوتی تھی جو طلبہ کے لیے خود ایک زندہ نمونہ بن جاتی تھی۔ اس کے نزدیک تدریس صرف نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ طالب علم کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت، فکری بالیدگی اور کردار کی تعمیر کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ امتحانات بھی اس کے نزدیک محض نمبر حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ وہ سخت محنت، گہری فکر، اصل علم اور دیانت دارانہ جانچ کے ذریعے طالب علم کی حقیقی صلاحیت کو پرکھنے کا پیمانہ ہوتے تھے۔

اس کے برعکس، جدید دور کا نام نہاد سرٹیفائیڈ استاد ایک ایسے نظام کی پیداوار بنتا جا رہا ہے جہاں خود مطالعہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ کتابوں کی جگہ گوگل سرچ، تحقیقی مطالعے کی جگہ واٹس ایپ یونیورسٹی، اور علمی گفتگو کی جگہ سوشل میڈیا کے مختصر کلپس اور ریلز نے لے لی ہے۔ کلاس روم، جو کبھی علم و حکمت کا مرکز تھا، اب بعض اوقات محض رسمی حاضری اور وقت گزاری کا مقام بن کر رہ گیا ہے۔ تدریس کا مقصد بھی طالب علم کی فکری اور اخلاقی تربیت کے بجائے صرف حاضری مکمل کرنا، تنخواہ حاصل کرنا اور فوٹو کاپی شدہ نوٹس تقسیم کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لینا رہ گیا ہے۔

اسی زوال کا سب سے افسوسناک اظہار امتحانی نظام میں دکھائی دیتا ہے، جہاں کبھی محنت، استعداد اور علمی قابلیت کامیابی کا معیار ہوا کرتی تھی، وہاں آج پیپر لیک، سالور گینگز، غیر قانونی ذرائع، نقل، اور جعلی کامیابیوں کی منڈی نے میرٹ کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ نتیجتاً ایسے افراد تدریس جیسے مقدس پیشے میں داخل ہو رہے ہیں جن کے پاس ڈگریاں تو موجود ہیں، مگر نہ علم کی گہرائی ہے، نہ تحقیق کی صلاحیت، نہ کردار کی مضبوطی اور نہ ہی نئی نسل کی رہنمائی کا شعور۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو روایتی معلم اور جدید سرٹیفائیڈ استاد کے درمیان ایک فکری، اخلاقی اور تہذیبی خلیج پیدا کر دیتا ہے، اور یہی خلیج آج ہمارے پورے تعلیمی نظام کے زوال کی سب سے بڑی علامت بن چکی ہے۔

جذباتی اور فکری دیوالیہ پن

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہماری اگلی نسلیں گونگی اور ذہنی طور پر اپاہج ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس معلومات نہیں ہیں، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس صحیح رہبر نہیں ہے۔ جب ایک استاد کلاس روم میں جا کر خود اپنے موبائل میں مصروف ہو جاتا ہے، یا یوٹیوب کی کسی سستی ویڈیو کا سہارا لے کر اپنا لکچر پورا کرتا ہے، تو وہ طالب علم کے اندر چھپی تخلیقی صلاحیت کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔

الف کے نام پر لٹھ لیے پھرنے والے یہ پی ایچ ڈی اور اپنا نام تک درست انگریزی یا اردو میں نہ لکھ پانے والے یہ بی ایڈ اساتذہ، دراصل اس نظام کے مجرم ہیں جس نے صلاحیت کے بجائے ‘سفارش اور سرمائے’ کو ترجیح دی۔ جب سستے داموں اساتذہ کا تقرر کیا جاتا ہے اور انہیں ستمبر سے مارچ تک کے معاہدے پر رکھ کر دوبارہ بے روزگار کر دیا جاتا ہے، تو ان کے اندر کا استاد وہیں دم توڑ دیتا ہے۔ پھر وہ استاد نہیں رہتا، وہ ایک ذہنی مریض بن جاتا ہے جو اپنی فرسٹریشن کلاس کے بچوں پر نکالتا ہے۔

اب کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کریں؟

یہ جو ہر سال لاکھوں کی تعداد میں اساتذہ کا ریوڑ یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لے کر نکل رہا ہے، یہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ ہم گلوبل لیول پر سپر پاور بننے کے دعوے تو کرتے ہیں، لیکن ہماری بنیادیں جن ہاتھوں میں ہیں، وہ خود لرز رہے ہیں۔ دستِ خضر سے شمعِ ہدایت ہی چھن چکی ہے، اب اندھیروں کا گلہ کرنا فضول ہے۔

اگر اب بھی حکومتوں نے ان بیمار تعلیمی اداروں کا سخت آڈٹ نہ کیا، اگر اساتذہ کی بھرتی میں میرٹ، ذہنی صلاحیت اور اخلاقی فٹنس کا سخت امتحان نہ لیا گیا، اور اگر کارِ معلمی کو ایک نوکری کے بجائے ایک مقدس ترین مشن نہ مانا گیا، تو وہ دن دور نہیں جب ہماری ڈگریاں تو عالی شان ہوں گی، لیکن ہمارا سماج ذہنی اور اخلاقی طور پر بالکل بانجھ ہو چکا ہوگا۔ کا یہ نوحہ آج ایک بھیانک حقیقت بن کر ہماری عدالتوں، اسکولوں اور سماج کے چہرے پر طمانچہ مار رہا ہے۔ کاش کہ کوئی سننے والا ہو!

جب جراحی اس ناسور کی کی جائے جو روحِ عصر کو چاٹ رہا ہو، تو نشتر کا گہرا اترنا لازمی ہے۔ آج کا نوحہ جس نظام کی خامیوں کا اشاریہ تھا، آج وہ نظام ایک باقاعدہ کارپوریٹ مافیا اور اخلاقی گراوٹ کی ایسی آخری حد کو چھو رہا ہے جہاں استاد، انتظامیہ، اور حکومت تینوں ایک ہی جرم کے برابر کے شریکِ کار بن چکے ہیں۔

آئیے اس تعلیمی قتل گاہ کی تہوں میں اتر کر ان سچائیوں کو بے نقاب کرتے ہیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے روز رونما ہو رہی ہیں:

ڈیجیٹل حاضری کا فراڈ اور ‘پینٹم فیکلٹی’

مہاراشٹرا کے پونے، ناگپور اور اورنگ آباد کے بی ایڈ کالجوں کا یہ ہولناک سچ اب کسی سے چھپا نہیں ہے کہ وہاں ایسی فیکلٹی (اساتذہ) کے نام رجسٹرڈ ہیں جو حقیقت میں دنیا میں موجود ہی نہیں، یا وہ کسی دوسرے پیشے سے وابستہ ہیں۔ انہیں تعلیمی اصطلاح میں پینٹم یا گھوسٹ فیکلٹی کہا جاتا ہے۔

یونیورسٹی اور حکومتی معائنے (Inspection) سے بچنے کے لیے، صرف اس ایک دن کے لیے کرائے کے پی ایچ ڈی ہولڈرز اور اساتذہ کو چند ہزار روپے دے کر لا کھڑا کیا جاتا ہے۔ بائیو میٹرک حاضری کے اس دور میں بھی ایسی ٹیکنالوجیز اور کلوننگ سافٹ ویئرز کا استعمال ہو رہا ہے جہاں استاد گھر بیٹھے اپنی حاضری درج کروا دیتا ہے اور کلاس رومز پورے سال خالی پڑے رہتے ہیں۔ ذرا سوچیے، جو ادارہ اپنے وجود کی بنیاد ہی جھوٹ اور فریب پر رکھ رہا ہو، وہ سچائی کے علمبردار کیسے پیدا کرے گا؟

کوچنگ کلاسیز کا مافیا اور اسکولوں کی ‘ڈمی’ ثقافت

راجستھان کے کوٹا سے لے کر مہاراشٹرا کے ممبئی اور لاتور تک، اب اسکول اور کالج صرف ایک مہر لگانے کا ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں۔ نام نہاد نامور اسکولوں نے بڑے بڑے کوچنگ انسٹی ٹیوٹس کے ساتھ خفیہ معاہدے کر رکھے ہیں۔

بچہ اسکول جاتا ہی نہیں، وہ صرف ‘ڈمی’ ایڈمیشن لیتا ہے اور دن رات کوچنگ کی بھٹی میں جھلس کر ایک مشینی روبوٹ بنتا ہے۔ اس نظام میں اسکول کے اساتذہ کی حیثیت صرف ایک کلرک کی رہ گئی ہے جو حاضری کے رجسٹر بھرتے ہیں اور پریکٹیکل کے نمبروں کی سودے بازی کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب یہ بچہ کسی اعلیٰ ادارے میں پہنچتا ہے، تو اس کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے، مگر تعلیم و تربیت کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ کوٹا میں ہر سال درجنوں طلباء کی خودکشیاں اسی لایعقوب اور بے روح تعلیمی دباؤ کا شاخسانہ ہیں۔

سوشل میڈیا اور اساتذہ کا سستا ‘انفلونسر’

کارِ معلمی کا جو وقار کبھی دیدنی ہوتا تھا، اسے آج کی ‘ریلز کلچر’ نے سرِ بازار نیلام کر دیا ہے۔ یوٹیوب اورانسٹاگرام پر لاکھوں سبسکرائبرز رکھنے والے جدید دور کے یہ اساتذہ، کلاس رومز کو ایک تھیٹر اور تدریس کو ایک سستا ڈراما بنا چکے ہیں۔

کلاس روم کے اندر پڑھاتے ہوئے نیم برہنہ لباس، دو مٹھی لطیفے، سستی شاعری اور طلباء کے ساتھ نامناسب مذاق کی ویڈیوز بنا کر وائرل کرنا اب ایک منافع بخش بزنس بن چکا ہے۔ ویوز اور لائکس کی اس دوڑ میں وہ یہ بھول چکے ہیں کہ ان کے سامنے بیٹھے معصوم ذہن ان کی اس مسخرا پن کو ‘علم’ سمجھ کر اپنا رہے ہیں۔ استاد اب ‘خضرِ راہ’ نہیں، ایک ‘کمیڈین’ اور ‘سوشل میڈیا سیلبرٹی’ بننے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

استعداد کا قحط اور فکری بانجھ پن

جب ہم اساتذہ کی ذہنی صلاحیت اور استعداد کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں، تو کاغذی ڈگریوں اور زمینی حقائق کے درمیان ایک مہیب خلیج نظر آتی ہے۔ یہ زوال کسی ایک سطح تک محدود نہیں ہے، بلکہ پرائمری اسکول سے لے کر یونیورسٹیوں کے اعلیٰ ترین ایوانوں تک جڑوں کی طرح پھیل چکا ہے، جس کا تفصیلی اور تنقیدی احوال درجِ ذیل ہے۔

تعلیم کی سب سے بنیادی کڑی پرائمری سطح ہے، جہاں معصوم ذہنوں کی پہلی فکری بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہاں تعینات اساتذہ کے پاس ڈی ایڈ اور ٹی ای ٹی (TET) جیسے امتحانات پاس کرنے کے بھاری بھرکم کاغذی دعوے اور سرٹیفکیٹس تو موجود ہوتے ہیں، لیکن جب ان کی حقیقی صلاحیت کو پرکھا جائے تو تصویر انتہائی مایوس کن نظر آتی ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ اساتذہ تیسری یا چوتھی جماعت کے بنیادی ریاضی کے سوالات حل کرنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں، اور زبان کا یہ عالم ہے کہ وہ بنیادی املا اور سادہ جملے بھی درست لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جس بنیاد پر عمارت کھڑی ہونی ہو، اگر وہی اتنی کھوکھلی ہو تو آگے کا تعلیمی سفر کیسے سنور سکتا ہے۔

اس سے اوپر جب ہم سیکنڈری اسکول کی سطح پر نظر ڈالتے ہیں، تو وہاں بی ایڈ اور نیٹ یافتہ اساتذہ کی ایک بڑی فوج دکھائی دیتی ہے۔ ان کے پاس تدریس کے نت نئے طریقوں کی اسناد تو ہوتی ہیں، لیکن ان کا علم صرف درسی کتابوں کے چند مخصوص صفحات تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ اساتذہ اپنے مقررہ نصابی مضمون سے ہٹ کر کائنات کے اسرار و رموز، اخلاقی اقدار، یا جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی (جیسے آرٹیفیشل انٹیلیجنس) پر طلباء کے ساتھ کوئی بامقصد یا فکری گفتگو کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ وہ نئی نسل کے ان تیکھے اور جدید سوالات کا جواب دینے کے بجائے، جو انٹرنیٹ کے اس دور میں بچوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں، انہیں ڈانٹ کر خاموش کرا دیتے ہیں۔

سب سے زیادہ افسوسناک صورتحال ہائیر ایجوکیشن یعنی ہماری یونیورسٹیوں اور کالجوں کی ہے، جہاں ملک کے مستقبل کے اعلیٰ دماغ تیار ہوتے ہیں۔ یہاں بڑی بڑی کرسیوں پر پی ایچ ڈی کی ڈگریاں سجائے ریسرچ اسکالرز اور پروفیسرز براجمان ہیں، جن کا اصل کام تحقیق اور علم کی نئی راہیں تلاش کرنا تھا۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان کی اکثریت انٹرنیٹ سے دوسروں کے تحقیقی مقالے چوری کر کے، یعنی پلیجرزم کا سہارا لے کر چربہ مقالے تیار کرتی ہے اور اپنے نام کے ساتھ ‘ڈاکٹر’ کا لاحقہ برقرار رکھتی ہے۔ ان کے لیے بڑے بڑے تعلیمی سیمینار اور کانفرنسز علم و دانش کی گفتگو کا نہیں، بلکہ صرف ٹی اے/ڈی اے اور سفری الائونسز بٹورنے کا ایک سستا ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں۔ جب اعلیٰ تعلیم کا یہ حال ہو، تو پوری قوم فکری بانجھ پن کا شکار کیوں نہ ہو۔

روح کا قتل اور اگلی نسلوں کا المیہ

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب دستِ خضر سے شمعِ ہدایت چھنتی ہے، تو صرف روشنی غائب نہیں ہوتی، بلکہ اندھیرے اپنے ساتھ وحشت لے کر آتے ہیں۔ آج کے اساتذہ کی اکثریت میں تخلیقی تڑپ ختم ہو چکی ہے۔ وہ خود ایک ایسے نظام کی پیداوار ہیں جہاں سوال پوچھنے والے بچے کو ‘بدتمیز’ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

نفسیاتی المیہ: جب ایک ناتجربہ کار، نااہل اور سفارش پر آیا ہوا استاد کلاس روم کا کنٹرول سنبھالتا ہے، تو وہ اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے خوف اور تشدد کا سہارا لیتا ہے۔ یا پھر وہ بچوں کو بالکل ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں طالب علم کا نقصان ہوتا ہے۔ بچہ استاد کی عزت کرنا چھوڑ دیتا ہے، اور جہاں سے استاد کی عزت رخصت ہو جائے، وہاں سے برکت اور علم دونوں کوچ کر جاتے ہیں۔

اب کہاں جائیں؟

ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں آگے کھائی ہے اور پیچھے موت۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے تعلیمی اداروں کو ان ‘تاجروں’ کے چنگل سے آزاد نہ کرایا، اگر ہم نے اساتذہ کی ٹریننگ کو ایک مشینی عمل کے بجائے ایک روحانی اور فکری بیعت کا درجہ نہ دیا، تو ہماری آنے والی نسلیں صرف گونگی نہیں ہوں گی، بلکہ وہ ذہنی طور پر مفلوج، اخلاقی طور پر اندھی اور لادینیت کا شکار ہو جائیں گی۔

اٹھو اور اس آواز سے آواز ملاؤ تاکہ اس آواز کو بَازگشت بنایا جاسکے اور اس کی گونج اگر ہمارے ایوانوں تک نہ پہنچی، تو تباہی ہمارا مقدر بن جائے گی۔ وقت بہت کم ہے اور اندھیرا بہت گہرا!

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *