عہدِ حاضر میں معلم کی مظلومیت، مسئولیت اور معراج کا نوحہ اور احتساب نامہ
ڈاکٹر اسد اللہ خان
جو معلم ہو وہ مفکر ہو، جو مفکر ہو وہ آزاد ہو — اور جو آزاد نہ ہو وہ نہ خود جی سکتا ہے نہ دوسروں کو جینا سکھا سکتا ہے
ہر عہد اپنے استاد کو ایک نئے صلیب پر چڑھاتا ہے۔ کبھی غربت کی صلیب، کبھی غلامی کی، کبھی پورٹل اور ڈیٹا کی، اور کبھی اپنی ہی ذات کے زوال کی۔ یہ مضمون دو مختلف لمحوں، دو مختلف موسموں اور دو مختلف کیفیتوں میں لکھا گیا تھا — ایک میں استاد مظلوم تھا، دوسرے میں اس کی اپنی ذمہ داری زیرِ بحث تھی۔ مگر جب دونوں آوازوں کو ایک ساتھ سنا جائے تو ایک ہی سچائی ابھرتی ہے: استاد آج دہری چکی میں پس رہا ہے — ایک طرف نظام اسے غلام بناتا ہے، دوسری طرف ذمہ داری کا بوجھ اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔ یہ تحریر اسی دوہرے سچ کا حساب ہے۔
باب اول: ہڈپسر کا سبق — جب استاد، پیون سے بھی کم تھا
ہم پونہ میں ہڈپسر کے مقام پر ایک تعلیمی کانفرنس میں مدعو تھے۔ ہمیں لینے کے لیے جو صاحب اسٹیشن پر آئے، ان کے لباس اور انداز سے ہرگز یہ گمان نہ گزرا کہ وہ ایک استاد ہیں۔ انہوں نے ہمارا سامان اٹھایا، بڑی عقیدت سے اپنے اسکوٹر پر بٹھایا اور جلسہ گاہ تک لے آئے۔ کانفرنس کے دوران وہ یہاں وہاں دوڑتے رہے، مہمانوں کے ہاتھ دھلواتے رہے، اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ پلیٹیں دھو رہے تھے جب کہ ان کے ساتھی کھانا پروسنے میں مصروف تھے۔ کانفرنس میں اساتذہ کی ذمہ داریوں پر خوب دھواں دھار تقریریں ہوئیں، اور میزبان چیئرمین کو اس دور کے سرسید کا خطاب دیا گیا۔
ہم اسے پیون ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ واپسی کے آدھے راستے میں ان کے اسکوٹر کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ دم لینے کو ہم نے انہیں چائے کی دعوت دی، اور چائے کی چسکیوں کے دوران جو حقائق سامنے آئے، انہوں نے ہمیں حیرت کے سمندر میں غرق کر دیا۔ یہ دبلا پتلا نوجوان، جس کی تعلیمی لیاقت بی۔اے، بی۔ایڈ تھی، ایک معاون مدرّس تھا — مگر اسکول میں اس کی اور اس کے ساتھیوں کی اوقات پیون سے بدتر تھی۔ کئی برسوں سے وہ اس اسکول میں ملازم تھا، 5-7 ہزار روپے ماہوار کا یہ غلام اسکول کے لیے ریتی گارا بھی ڈھو چکا تھا اور دیواروں کو رنگ و روغن بھی کر چکا تھا۔ اگر کبھی اپنا حق مانگے تو اسکول سے نکال دیا جائے۔ پوری تنخواہ مانگنے کی مجال تو کیا، وہ اسکوٹر میں تیل بھروانے کے لیے بھی اپنے آقا کے سامنے گڑگڑانے پر مجبور تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ رخصت ہوتے وقت پیٹرول کے پیسے مانگنے پر چیئرمین صاحب کی اہلیہ نے اسے بری طرح ڈانٹا تھا، اور اب وہ اسی کی سزا آدھے راستے سے اسکوٹر گھسیٹ کر بھگت رہا تھا۔ اپنی بے بسی کی داستان سناتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
عین اسی لمحے ہمارے کانوں میں کانفرنس کے ان مقالوں کی گونج سنائی دے رہی تھی جن میں اساتذہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا تھا۔ یہ صرف ایک ہڈپسر کی کہانی نہیں — یہ ریاست بھر کے بیشتر اردو اسکولوں کا نوحہ ہے۔ مردم شماری ہو، سروے ہو، الیکشن کی ڈیوٹی ہو، شناختی کارڈ بانٹنے ہوں یا جھونپڑوں کے فوٹو پاس — ہر سرکاری کام انہی کے کندھوں پر آ کر ٹکتا ہے۔ اور جب وہ یہ غیر تدریسی کام کرنے ہفتوں، مہینوں کے لیے جماعتوں سے غائب رہتے ہیں تو انہی جماعتوں کا کباڑہ ہو جاتا ہے۔ نتیجہ؟ کھیپ کی کھیپ برباد۔
“ہم اسکول کی بنیاد کے پتھر ہیں، ہم نے اپنے لہو سے اسے سینچا ہے — لیکن کیا ہے ہماری اوقات؟”
باب دوم: عہدِ جدید کا غلام — جب پورٹل، عزت سے بڑا ہو گیا
ہڈپسر کے اس استاد کی زنجیر آج بھی نہیں ٹوٹی — صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ کل وہ پلیٹیں دھو رہا تھا، آج وہ اسکرین پر ڈیٹا بھر رہا ہے۔ کل اسکوٹر کا پیٹرول مانگنے پر ڈانٹ پڑتی تھی، آج GPS لوکیشن نہ ملنے پر تنخواہ روک لی جاتی ہے۔ آج ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے گہرا بحران نصاب کا نہیں، عمارت کا نہیں، وسائل کا نہیں — استاد کا ہے۔ وہ استاد جو صدیوں سے تہذیب کا امین اور روح کا مربی رہا، آج آہستہ آہستہ ایک انتظامی کارکن، ڈیٹا آپریٹر اور پورٹل ملازم میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اسکول گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے بند ہو جاتے ہیں، کلاس روم خاموش ہو جاتے ہیں، بچے آزاد ہو جاتے ہیں — مگر استاد آزاد نہیں ہوتا۔ اس کے موبائل پر پیغامات جاری رہتے ہیں، واٹس ایپ گروپس زندہ رہتے ہیں، پورٹل کھلے رہتے ہیں اور نئے احکامات کسی بھی وقت اس کا سکون منسوخ کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ کے لیے آخری پیریڈ کبھی نہیں آیا۔ یہ محض ٹائم ٹیبل کا آخری پیریڈ نہیں — یہ زندگی کا وہ وقفہ ہے جس کے بعد انسان کو سکون، غور و فکر اور اپنے وجود کی طرف لوٹنے کا موقع ملتا ہے۔ جدید استاد کی زندگی سے یہ موقع چھن چکا ہے۔
اعداد و شمار کی زبان میں دیکھیں تو بھارت میں ایک کروڑ سے زائد اساتذہ تعلیمی نظام سے وابستہ ہیں، اور ان میں سے ساٹھ فیصد سے زیادہ غیر تدریسی فرائض کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ایک استاد، اکیلے، پانچ جماعتوں کو پڑھانے، کھانا پکوانے، ڈیٹا بھرنے اور مردم شماری کرنے کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ UDISE+، DIKSHA، MDM، SATS، NISHTHA اور ULLAS جیسے درجنوں پورٹلز پر اتنا وقت صرف ہوتا ہے کہ حقیقی تدریسی وقت سکڑتا چلا جاتا ہے۔ ایک استاد کے الفاظ یاد رکھنے کے قابل ہیں: شام چار بجے کی گھنٹی بجتی ہے مگر میں پھر بھی نہیں جاتا — ابھی پورٹل باقی ہے۔
دسمبر 2025 میں مہاراشٹر کے وزیرِ تعلیم نے وزیرِ اعلیٰ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو بوتھ لیول آفیسر اور دیگر انتخابی کاموں سے فوری چھٹکارا دیا جائے، کیونکہ تعلیمی حق کے قانون کی دفعہ ستائیس واضح کہتی ہے کہ استاد کا بنیادی فریضہ صرف تدریس ہے۔ اکتوبر 2025 میں پنجاب کے وزیرِ تعلیم نے بھی یہی پکار دہرائی: اساتذہ صرف سرکاری ملازم نہیں، وہ علم کے پرچم بردار ہیں؛ ان کی جگہ کلاس روم میں ہے، فائلوں یا کھیتوں میں نہیں۔ ان دونوں آوازوں کے درمیان وہی ہڈپسر کا اسکوٹر گھسٹتا دکھائی دیتا ہے۔
اس بوجھ کا نتیجہ کیا نکلا؟ ایک تازہ تحقیق کے مطابق بھارت کے چار سو سے زائد اساتذہ میں سے انیس فیصد سے زیادہ نے اضطراب اور ذہنی دباؤ کی ایسی علامات ظاہر کیں جن کی باقاعدہ تشخیص ضروری تھی، اور تینتیس فیصد سے زائد بیک وقت اضطراب اور ذہنی کشیدگی دونوں کا شکار پائے گئے۔ عالمی سطح پر بھی ایک حالیہ سروے کے مطابق سینتیس ممالک کے ایک تہائی سے زیادہ اساتذہ بلند سطح کے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں۔ یہ تھکن باہر سے نظر نہیں آتی — استاد مسکراتا ہے، حاضری لیتا ہے، نتیجہ بناتا ہے، مگر اندر سے خاموشی سے ٹوٹتا رہتا ہے۔ اور جس قوم کا معلم تھکا ہوا ہو، اس کے کلاس روم کبھی مکمل طور پر زندہ نہیں ہو سکتے۔
اس بحران کا اثر بچے تک پہنچے بغیر نہیں رہتا۔ ایک سروے بتاتا ہے کہ دیہی بھارت میں پانچویں جماعت کے صرف بیالیس فیصد کے قریب بچے تقسیم کا سادہ سوال حل کر سکتے ہیں۔ یہ سیکھنے کا بحران دراصل استاد کے آزاد نہ ہونے کا بحران ہے۔ جب استاد دفتر میں مصروف ہو تو بچہ محروم ہو جاتا ہے — یہ خیال نہیں، اعداد کی سچائی ہے۔
استاد صرف اسکول کی چار دیواری میں استاد نہیں ہوتا — وہ گھر پر بھی استاد ہے اور سڑک پر بھی، میدانوں میں بھی اور تنہائی میں بھی
باب سوم: فراغت کا قتل — جب سکون، سہولت کے بھیس میں چھینا گیا
کووڈ کی وبا نے ڈیجیٹل تعلیم کو ضرورت سے مجبوری بنا دیا تھا۔ اس نے تعلیمی تسلسل بچایا — مگر وبا کے بعد یہی ڈیجیٹل سہولت کئی جگہ استاد کے استحصال کا نیا ہتھیار بن گئی۔ اب استاد چوبیس گھنٹے دستیاب ایک خدمت گزار سمجھا جانے لگا ہے۔ والدین کے پیغامات، انتظامیہ کی ہدایات، سرکاری پورٹل، ایپس، آن لائن ٹریننگ، ڈیجیٹل اسائنمنٹ، گوگل فارم، واٹس ایپ رپورٹ — ان سب نے مل کر استاد کی ذاتی زندگی کی سرحدیں مٹا دی ہیں۔ ایک وقت تھا جب استاد گھر آ کر اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھتا تھا، کتاب پڑھتا تھا، اگلے دن کے سبق پر سوچتا تھا۔ آج وہ گھر آ کر بھی اسکول کے اندر ہی رہتا ہے — فرق صرف یہ ہے کہ کلاس روم کی جگہ موبائل اسکرین نے لے لی ہے۔ برطانیہ میں چودہ ہزار اساتذہ پر کیے گئے ایک حالیہ سروے میں پچھتر فیصد نے اعتراف کیا کہ وہ گھر پر بھی کام کے خیالات سے آزاد نہیں ہو پاتے۔ بھارتی سیاق میں یہ مسئلہ اور بھی گہرا ہے، کیونکہ یہاں اساتذہ کے لیے نہ ڈیجیٹل صحت کی کوئی پالیسی ہے، نہ رات کے بعد پیغام نہ بھیجنے کا کوئی ادب۔
عظیم مفکروں، سائنسدانوں اور ادیبوں نے اپنی عظیم ترین تخلیقات فراغت ہی کے لمحوں میں کی ہیں۔ نیوٹن نے کشش ثقل کا نظریہ اس وقت دریافت کیا جب وہ باغ میں سکون سے بیٹھا تھا۔ ارشمیدس نے اپنی بڑی حقیقت اس لمحے جانی جب وہ نہا رہا تھا۔ فراغت دراصل انسانی دماغ کا وہ زرخیز میدان ہے جس میں بڑے خیالات اگتے ہیں۔ استاد کے لیے تعطیلات اور ذاتی وقت کوئی عیاشی نہیں — یہ ایک حیاتیاتی، نفسیاتی اور فکری ضرورت ہے۔ یہی وہ وقفہ ہے جس میں وہ اپنے اعصاب بحال کرتا ہے، خاندان کے ساتھ جیتا ہے، مطالعہ کرتا ہے اور نئے سال کے لیے تازہ ذہن لے کر لوٹتا ہے۔ مگر آج گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی استاد کو آرام نہیں — ہر ہفتے ورکشاپ، ہر مہینے ٹریننگ، ہر روز آن لائن فارم، ہر رات واٹس ایپ پیغام۔ اس کا ذہن کبھی کلاس روم سے باہر نہیں نکل پاتا۔
ڈاکٹر نئی تحقیق پڑھتا ہے، وکیل نئے قوانین کا مطالعہ کرتا ہے، انجینئر نئی ٹیکنالوجی سیکھتا ہے۔ مگر استاد — جس کا پیشہ ان سب سے زیادہ علم اور تازگی کا تقاضا کرتا ہے — اس کے پاس پڑھنے کا وقت ہی نہیں بچا۔ تعلیمی تحقیق، نفسیاتِ اطفال، جدید تدریسی طریقے، ادبی مطالعہ، فلسفیانہ سوچ — ان سب کے لیے وہی وقت اور سکون درکار ہے جو اس سے چھین لیا گیا ہے۔ یوں وہ استاد جو دس سال پہلے پڑھاتا تھا، آج بھی انہی پرانے طریقوں سے پڑھا رہا ہے — نہ نئی تحقیق دیکھی، نہ نئی کتاب پڑھی، نہ اپنے تجربات پر غور کیا۔ یہ جمود صرف استاد کا ذاتی نقصان نہیں، یہ ہر اس بچے کا نقصان ہے جو اس کے سامنے بیٹھا ہے، کیونکہ جو استاد خود نہیں بڑھ رہا، وہ بچوں کو آگے کیسے بڑھائے گا؟
جس استاد کے اندر کا مفکر مر جائے، اس کے کلاس روم میں صرف سبق باقی رہ جاتا ہے، تعلیم نہیں
باب چہارم: مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل طوفان میں گھرا بچہ
آج کلاس روم میں بیٹھا بچہ صرف سبق سے نہیں لڑ رہا — وہ ایک پوری ڈیجیٹل دنیا کے نشے، بے چینی اور منتشر ذہن کے ساتھ کلاس میں آتا ہے۔ موبائل، ریلز، گیمنگ، آن لائن تشدد اور مسلسل اسکرین نے بچپن کی فطرت ہی بدل ڈالی ہے، اور یہ کوئی سرسری خیال نہیں بلکہ نفسیاتی تحقیق کا مسلسل دستاویزی ثبوت ہے۔ ایسے بچے کو سنبھالنے کے لیے استاد کو زیادہ صبر، گہری نفسیاتی سمجھ، جدید تربیت اور زیادہ انسانی قربت چاہیے۔ مگر ہم اسے کیا دے رہے ہیں؟ مزید فارم، مزید ایپ، مزید رپورٹ، مزید دباؤ۔ جب استاد کو خود ہی ذہنی دباؤ سے نکلنے کا راستہ نہیں ملتا، تو وہ کسی بچے کی بے چینی کیسے دور کرے گا؟
اسی دوران مصنوعی ذہانت، اسمارٹ کلاس اور ڈیجیٹل لرننگ کا غلغلہ ہر طرف ہے۔ ٹیکنالوجی اپنی جگہ ایک نعمت ہے — مگر یہ نعمت تب ہے جب انسان اس کا مالک ہو، غلام نہ بنے۔ مصنوعی ذہانت استاد کی مدد کر سکتی ہے: سبق کا خاکہ بنا سکتی ہے، ورک شیٹ تیار کر سکتی ہے، ڈیٹا ترتیب دے سکتی ہے، پرچے بنا سکتی ہے۔ ایک حالیہ عالمی جائزے کے مطابق جو اساتذہ باقاعدگی سے مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کرتے ہیں وہ ہفتے میں قریب چھ گھنٹے بچا لیتے ہیں — یعنی پورے تعلیمی سال میں چھ ہفتوں کے برابر وقت۔ ایک اندازے کے مطابق مصنوعی ذہانت بیس سے چالیس فیصد تک تدریسی انتظامی کام خود کار بنا سکتی ہے۔ مگر مصنوعی ذہانت بچے کی آنکھوں میں چھپی اداسی نہیں پڑھ سکتی، اخلاق نہیں سکھا سکتی، کردار نہیں بنا سکتی۔ محبت، شفقت، دعا اور انسانی لمس کا کوئی بدل نہیں بن سکتا۔ تعلیم کا مستقبل مصنوعی ذہانت میں نہیں، بلکہ انسان دوست مصنوعی ذہانت میں ہے — وہ ٹیکنالوجی جو استاد کا بوجھ کم کرے، اس کی جگہ نہ لے؛ جو استاد کو آزاد کرے، اسے غلام نہ بنائے؛ جو استاد کو سوچنے کا وقت دے، اسے مزید پورٹلز کے جنگل میں نہ دھکیلے۔
وہ ٹیکنالوجی جو استاد کا بوجھ کم کرے، اس کی جگہ نہ لے — وہ نظام جو استاد کو آزاد کرے، اسے غلام نہ بنائے
باب پنجم: تنہا استاد کا المیہ — جب ایک شخص پوری فوج کا کام کرے
جدید سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ایک لاکھ سے زائد ایسے اسکول ہیں جن میں صرف ایک استاد تعینات ہے، اور ان اسکولوں میں تینتیس لاکھ سے زائد بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ کوئی معمولی اعداد و شمار نہیں — یہ ایک قومی شرمندگی ہے۔ یہ استاد، تنہا، پانچ جماعتوں کو ایک ساتھ پڑھاتا ہے، کھانے کی نگرانی کرتا ہے، ڈیٹا بھرتا ہے اور انتخابی فہرستیں تیار کرتا ہے۔ یہ استاد نہیں — یہ ایک انتظامی فوج کا اکیلا سپاہی ہے جسے کبھی فتح نصیب نہیں ہوتی۔ مغربی بنگال میں بوتھ لیول آفیسر کی ڈیوٹی پر تعینات اساتذہ کی المناک اموات اسی نظام کی قیمت ہیں جو انسانی جان سے بھی وصول کی جا رہی ہے۔
یونیسکو کی تازہ رپورٹوں کے مطابق دنیا کو آنے والے برسوں میں چوالیس ملین سے زائد نئے اساتذہ کی ضرورت ہوگی — مگر یہ ضرورت اسی وقت پوری ہوگی جب یہ پیشہ باوقار اور پرکشش ہو۔ بھارت میں تیار شدہ نوجوان اساتذہ اب سرکاری اسکولوں کی بجائے نجی کوچنگ یا دوسرے شعبوں کو ترجیح دینے لگے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ سرکاری اسکول میں آنے کا مطلب پڑھانے سے کم اور ایک عام سرکاری ملازم کے طور پر استعمال ہونا زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نومبر 2025 میں ہریانہ نے اساتذہ کو طویل مدتی غیر تدریسی ذمہ داریوں سے مکمل آزاد کرنے کا اعلان کیا — یہ ایک قابلِ ستائش قدم ہے جس کی تقلید ہر ریاست کو کرنی چاہیے، اور جس کے ساتھ ان اسکولوں میں فوری طور پر اضافی معلم اور تدریسی معاونین بھرتی کیے جانے چاہئیں۔
یہ استاد نہیں — یہ ایک انتظامی فوج کا اکیلا سپاہی ہے جسے کبھی فتح نصیب نہیں ہوتی
باب ششم: سوال کا رخ — مظلومیت، ذمہ داری سے بری نہیں کرتی
یہاں تک کی کہانی نظام کی مجرم ہے۔ مگر ایک سچا قلم کبھی ایک رخ پر نہیں ٹھہرتا۔ ہمیں اساتذہ کے مسائل سے انکار نہیں، ان کی شکایتیں بجا ہیں — لیکن ہمیں یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ اس کا شکار آخر بچہ کیوں بنے؟ ہم نے ایسے اساتذہ بھی دیکھے ہیں جو دیر سے اسکول پہنچتے ہیں، دفتری کاموں میں جٹ جاتے ہیں، کلاسیں خالی پڑی رہتی ہیں اور بچے جماعتوں میں اودھم مچاتے رہتے ہیں۔ یہ سرکاری کام ان کی ذمہ داری نہیں، مگر آسانی سے وقت گزار دینے کی سوچ انہیں ایمانداری سے کام کرنے کہاں دیتی ہے۔ جب نظام کا بوجھ اور ذاتی کوتاہی ایک ساتھ مل جائیں تو نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے — کھیپ کی کھیپ برباد۔
آخر استاد اتنا بے حس کیسے ہو گیا کہ اس کی مفاد پرستی کی وجہ سے قوم کا بیش بہا سرمایہ ضائع ہو اور اسے فرق ہی نہ پڑے؟ آخر استاد اتنا خود غرض کیسے ہو گیا کہ صرف اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر اسے گھلائے دیتی ہے، مگر قوم کے بچوں کی فکر اسے پریشان نہیں کرتی؟ ہم نے تو پڑھا تھا کہ استاد کی کتابِ زندگی کے سرورق پر علم نہیں، محبت کا عنوان لکھا ہوتا ہے — اسے انسانوں سے محبت ہوتی ہے، ان ننھی جانوں سے محبت ہوتی ہے جو آگے چل کر خوبیوں کی مالک بننے والی ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آج کا استاد کیوں الگ تھلگ جا پڑا ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم خود بھول بیٹھے کہ استاد کون ہے؟ استاد روحِ انسانی کی تعمیر کرنے والا معمار بھی ہے اور نظامِ تعلیم کی ریڑھ کی ہڈی بھی۔ وہ مربی بھی ہے جو تربیت کرتا ہے اور مصلح بھی جو اصلاح کرتا ہے۔ وہ بچوں کا دوست بھی ہے جو انہیں غلام نہیں، ساتھی بناتا ہے، اور راہ نما بھی جو گمراہی کے اندھیروں سے علم کے اجالوں تک راستہ دکھاتا ہے۔ استاد قوموں کے مستقبل کا امین ہے، اور کسی ملک کی ترقی اساتذہ کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کے ادب و احترام کے واقعات تاریخ کے صفحات پر بکھرے پڑے ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ کسے یاد نہیں — درسِ حدیث جاری ہے، تدریس کے دوران بار بار اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، پھر بیٹھ جاتے ہیں۔ پوچھا گیا کہ حضرت کیا بات ہے؟ جواب دیا کہ پاس ہی کچھ بچے کھیل رہے ہیں اور انہی میں میرے استاد کا بیٹا بھی ہے؛ جب وہ سامنے آتا ہے تو میں احتراماً کھڑا ہو جاتا ہوں۔ تحسین ہو ایسے شاگردوں اور ایسے اساتذہ کے لیے جنہوں نے یہ ادب سکھایا۔ کہاں تاریخ کے یہ روشن اوراق، اور کہاں دورِ حاضر کے تاریک اسکول اور بے سمت طلباء۔ بدقسمتی سے اساتذہ کو آج وہ وقار حاصل نہیں — مگر یہ بھی اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے۔
میں آج اپنے ان اساتذہ سے، جو اپنی ذمہ داری سے غافل ہو چکے ہیں، یہ سوال کرنا چاہتا ہوں: کیا واقعی آپ ایک مثالی مدرّس ہیں؟ کیا آپ کے دل میں محبت اور ہمدردی ہے؟ کیا آپ بچوں کی غلطیوں پر عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں؟ کیا آپ کو اپنے غصے پر قابو ہے؟ کہیں آپ میں قول و فعل کا تضاد تو نہیں؟ مجھے یقین ہے کہ اگر استاد ان اوصافِ حمیدہ سے متصف ہو جائے تو ہماری آئندہ نسلوں کو جہنم کی دہلیز پر جا کھڑا ہونے سے روک سکتا ہے۔
ملکوں کی ترقی اساتذہ کے بغیر ممکن نہیں — استاد قوموں کے محافظ بھی ہیں اور ملک کی کامیابی کے صناع بھی
باب ہفتم: معلمِ اوّل کی نسبت
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے اساتذہ غور کیوں نہیں کرتے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور وہ علم دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ اللہ ربِ ذوالجلال معلّمِ اوّل ہے، اور علم اسی کی صفتِ ذاتی ہے — اور اسی نسبت سے معلّم کا تعلق اللہ سے جا ملتا ہے۔ وہ اللہ کریم ہے، اپنے بندوں پر کرم کرتا ہے۔ وہ رحیم ہے، رحم کرتا ہے۔ وہ ستّار ہے، بندے کی غلطیوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ وہ غفّار ہے، بار بار معاف کرتا ہے۔ مگر ہمارا معلّم، جس کی نسبت اللہ سے ہے، کبھی بچے کی جیب سے روپے نکال لیتا ہے، کبھی چھوٹی شرارت پر سرِعام ذلیل کر دیتا ہے، اور کبھی غصے میں ایسی زبان استعمال کرتا ہے کہ نکڑ پر کھڑے غنڈے بھی شرما جائیں۔
آپ ﷺ کے سینے میں امت کے لیے کیسی تڑپ تھی۔ ملت کو ظلمت کے اندھیروں میں دیکھ کر آپ ﷺ کیسے کڑھتے تھے۔ اور آج مسئلہ یہ ہے کہ نسلیں مادہ پرستی کے زیرِ اثر دبتی جا رہی ہیں، تعلیم صرف ڈگریاں حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ کیا یہ سب دیکھ کر ہمارے اساتذہ کے سینوں میں جلن ہوتی ہے؟ کیا ان کے جگر میں بھی درد ہوتا ہے؟ وہ خودغرض ڈاکٹر جو غلط دھندوں میں پھنسا ہے، وہ رشوت خور انجینئر جو کمزور پل بناتا ہے — آخر یہ کس بددیانت استاد کے شاگرد ہیں؟ جب اساتذہ خود مادہ پرست ہو جائیں تو ہم آئندہ نسلوں کی تعمیر کا خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
یاد رکھیے: جس استاد کے اندر کا مفکر مر جائے، اس کے کلاس روم میں صرف سبق باقی رہ جاتا ہے، تعلیم نہیں۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں دونوں سچائیاں — نظام کی بے رحمی اور انسان کی کوتاہی — ایک دوسرے میں گندھ جاتی ہیں۔ ایک تھکا ہوا، کچلا ہوا، پورٹلوں میں دبا ہوا استاد آسانی سے اپنے اندر کے مفکر کو مار بیٹھتا ہے۔ نظام اسے غلام بناتا ہے، اور غلامی، آہستہ آہستہ، اس کے دل کو بھی سخت کر دیتی ہے۔ مگر یہی وہ امتحان ہے جس میں اصل استاد پہچانا جاتا ہے — وہ جو زنجیروں کے باوجود اپنے اندر کے معلّمِ اوّل کی نسبت زندہ رکھے۔
استاد ہونا ایک لازوال نعمت ہے — یہ وہ عظیم سعادت ہے جو اپنے حامل کو انبیاء کا وارث بنا دیتی ہے
باب ہشتم: ایک قوم کا لائحہ عمل
بحران گہرا ہے مگر لاعلاج نہیں۔ فن لینڈ، جو آج دنیا کا بہترین تعلیمی نظام رکھتا ہے، نے یہ مقام اساتذہ کو آزادی، عزت اور وقت دے کر حاصل کیا۔ وہاں اسکول کے اوقات جان بوجھ کر کم رکھے جاتے ہیں تاکہ استاد پڑھ سکے، سوچ سکے، منصوبہ بندی کر سکے، اور وہاں نہ کوئی معیاری امتحانی دوڑ ہے، نہ کوئی موازناتی فہرست۔ سنگاپور میں اساتذہ کو باقاعدہ تدریسی وقت سے بیس فیصد کم کام دیا جاتا ہے تاکہ بقیہ وقت پیشہ ورانہ نشوونما میں صرف ہو۔ جاپان میں ‘جوگیو کینکیو’ یعنی اسبق کے مشترکہ مطالعے کی روایت ہے، جس میں اساتذہ مل کر ایک سبق کی منصوبہ بندی، تدریس اور تجزیہ کرتے ہیں — یہ محض تربیت نہیں، تخلیقی اشتراک ہے۔ بھارت کے سیاق میں یہ موازنہ اس لیے اہم ہے کہ یہ کوئی ناقابلِ عمل خواب نہیں — یہ ایک آزمودہ اور قابلِ نقل لائحہ عمل ہے۔ سوال صرف ارادے اور سیاسی عزم کا ہے۔
سب سے پہلی اور اہم تبدیلی یہ ہے کہ استاد کو غیر تدریسی کاموں سے حقیقی طور پر آزاد کیا جائے۔ ہر اسکول میں انتظامی معاون عملہ ہو، سرکاری اسکیموں کا ڈیٹا بھرنے کے لیے الگ ڈیٹا انٹری آپریٹرز تعینات کیے جائیں، اور تعلیمی حق کے قانون کی دفعہ ستائیس پر سختی سے عمل ہو۔ ہر اسکول میں ٹیچر تھنکنگ ٹائم لازمی قرار دیا جائے — وہ وقفہ جس میں استاد پڑھ سکے اور سوچ سکے، اور اس کے لیے باقاعدہ مطالعاتی حلقے اور ماہانہ کتابی مجالس قائم ہوں۔ ہر پورٹل، ہر ایپ، ہر رپورٹ کا یہ امتحان ہو: کیا یہ واقعی تعلیم کو بہتر بناتی ہے، یا صرف بوجھ بڑھاتی ہے؟ وزارتِ تعلیم میں ٹیچر ٹائم آڈٹ کمیٹی قائم ہو جو سالانہ جائزہ لے، اور جو پورٹل تدریسی قدر نہیں رکھتے، انہیں فوری بند کیا جائے۔ متعدد پورٹلز کو ایک مربوط ڈیش بورڈ میں ضم کیا جائے۔
مصنوعی ذہانت کو استاد کا مددگار بنایا جائے، نگران نہیں — GPS حاضری اور فوٹو ثبوت جیسے اوزار استاد میں بداعتمادی پیدا کرتے ہیں اور اسے ایک ملازم نہیں، مجرم بنا دیتے ہیں، جب کہ وہی ٹیکنالوجی اگر سبق کی منصوبہ بندی اور رپورٹ سازی میں استعمال ہو تو استاد کا وقت بچا سکتی ہے۔ اسکول کی قیادت کو حکم چلانے والی نہیں، استاد کو بااختیار بنانے والی قیادت بننا ہوگا — ایک اچھا پرنسپل وہ ہے جو استاد کے سامنے رکاوٹ نہیں، ڈھال بن کر کھڑا ہو۔ اور جس طرح بچوں کے لیے نگہداشت ضروری ہے، اسی طرح اساتذہ کی ذہنی صحت بھی قومی پالیسی کا لازمی حصہ بنے — ہر ضلع میں ٹیچر سپورٹ سینٹرز کھولے جائیں جہاں استاد پیشہ ورانہ مشاورت حاصل کر سکے، نہ کہ پیشہ چھوڑنے پر مجبور ہو۔
والدین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ استاد چوبیس گھنٹے دستیاب کوئی خدماتی ادارہ نہیں۔ مدرسہ کمیٹیوں اور والدین کے اجلاسوں میں یہ آداب سکھائے جائیں کہ رات کے پیغامات نہ بھیجے جائیں، چھٹیوں میں رابطہ نہ کیا جائے، اور استاد کی ذاتی زندگی کا احترام کیا جائے — یہ اسکول کی نظم و نسق کا حصہ ہو، استاد کی اپنی تنہا لڑائی نہیں۔ ہماری قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور قومی نصابی فریم ورک 2023 نے استاد کو تخلیقی خود مختاری، غیر ضروری بوجھ سے آزادی اور پیشہ ورانہ ترقی کا وعدہ کیا ہے، مگر عملی نفاذ ابھی تک حقیقی آزادی نہیں، مزید تعمیلی تقاضے لے کر آیا ہے۔ جب تک یہ پالیسی صرف ایک دستاویز سمجھی جاتی رہے گی، یہ کاغذ پر لکھا ہوا خواب ہی رہے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کے نفاذ کا ہر قدم اس سوال سے گزرے: کیا یہ استاد کو آزاد کرتا ہے یا پابند؟ کیا یہ تدریسی وقت بڑھاتا ہے یا کم کرتا ہے؟
لیکن یہ سارا لائحہ عمل ادھورا رہے گا اگر استاد خود اپنے اندر کے معلّمِ اوّل کی نسبت بھول جائے۔ نظام کو آزادی دینی ہے، اور استاد کو، اس آزادی کے بدلے، اپنی امانت کا حق ادا کرنا ہے۔ یہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں — جو الگ الگ ادھورے ہیں، اور اکٹھے ہی مکمل تصویر بناتے ہیں۔
قومیں نصاب سے نہیں بنتیں، استاد سے بنتی ہیں۔ عمارتیں اسکول نہیں بناتیں، استاد اسکول بناتا ہے
خاتمہ: دو پکاریں، ایک منزل
ہڈپسر کے اس استاد کا اسکوٹر آج بھی، کسی نہ کسی شکل میں، آدھے راستے سے گھسٹ رہا ہے۔ کبھی پورٹل کے بوجھ تلے، کبھی غیر تدریسی فرائض کی صلیب پر۔ اور دوسری طرف، کچھ استاد ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی ہی غفلت سے اپنے اندر کے معلّمِ اوّل کی نسبت کھو دی ہے۔ یہ مضمون دونوں سچائیوں کا حساب ہے — ایک نظام سے سوال کرتا ہے، دوسرا ضمیر سے۔ اور دونوں سوالوں کا جواب ایک ہی جگہ ملتا ہے: استاد کو سکون دیجیے، عزت دیجیے، فکری آزادی دیجیے — اور استاد، اپنی طرف سے، اس آزادی کو امانت سمجھے، عیاشی نہیں۔
اگر ہم نے استاد کو بچا لیا تو تعلیم بچ جائے گی، اور اگر تعلیم بچ گئی تو انسانیت بچ جائے گی۔ آج ہمارے عہد کا سب سے بڑا سوال یہی ہے: کیا ہم استاد کو بچائیں گے — نظام کی بے رحمی سے بھی، اور اپنی ہی غفلت سے بھی؟ خدارا اٹھیے، ملت کی زبوں حالی کی اس مایوس کن تصویر کو بدل ڈالیے۔
❧ ❧ ❧
نقش ہیں سب نا تمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر
جو جان دے کے پائیں تو فوزِ عظیم ہو
وہ چیز مانگتے ہیں تن آسانیوں میں ہم
اللہ ہمارے اساتذہ کو، نظام کی زنجیروں سے بھی اور اپنی ذات کی کوتاہیوں سے بھی، آزاد فرمائے اور نئی نسلوں کی تعمیر کا حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین

