جب اسکول ہی ناکام تو بچے کیسے ہوں گے کامیاب؟

ڈاکٹر اسد اللہ خان

ایک پرانا رونا، ایک نیا زخم

معیارِ تعلیم کا رونا کوئی نیا تو ہے نہیں، منموہن سنگھ بھی رو چکے اور کپل سبّل بھی، لیکن ابھی فرق نہیں پڑا۔ شاید اسی لیے اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ موقع بہ موقع اس عنوان پر ماتم ضروری ہو جاتا ہے۔ بات خدا لگتی ہے — ہمارے اردو اسکولوں کا انتظامیہ ہو کہ اساتذہ، بس اسی زعم میں جیے جا رہے ہیں کہ اپنے یہاں تو سب ٹھیک ٹھاک ہے۔

معیار کے جھنجھٹ میں کون پڑے؟ ہمارے تو سبھی اسکول معیاری ہیں۔ جب کہ عالم یہ ہے کہ معیاری اسکول کی کسوٹی پر پرکھے جائیں تو چند ایک کو چھوڑ کر بیشتر اسکول کسی شمار قطار میں ہی نہیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ انہیں خبر بھی نہیں کہ اچھے اسکول کے لیے پیمانے کیا ہیں — اور جاننے کی کوئی تڑپ بھی نہیں۔

شہر کے مشہور انگریزی اخبار میں چھپی اس خبر نے ذی شعور اور بیدار شہریوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا: رواں تعلیمی سال میں ممبئی کے اسکولوں کی سالانہ جانچ میں ایک تہائی سے زائد اسکول ناکام رہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کی جانب سے ۳۲۲۸ اسکولوں میں سے صرف ۳۸۹ اسکول ہی درجہ A سے کامیاب قرار دیے گئے — یعنی محض ۱۳ فیصد۔ یہ اعداد و شمار کوئی معمولی تشویش نہیں، یہ ہمارے پورے تعلیمی ڈھانچے پر ایک فرد جرم ہے۔

افسوس کہ اردو حلقوں میں اس خبر کی بازگشت بھی نہیں سنی گئی۔ ہمیں تو احتساب کرتے رہنے کی پرانی بیماری ہے۔ اسی لیے آئینہ پونچھنے کے بجائے ہم اپنے چہرے کے دھبوں کی خبر لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۶ء تک — کیا بدلا، کیا نہیں بدلا؟

وقت گزرا، سال بدلے، حکومتیں آئیں اور گئیں۔۔۔مگر اسکول کے دروازے پر وہی پرانا سوال کھڑا ہے

جب ۲۰۰۹ء میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ممبئی کے ۳۲۲۸ اسکولوں میں سے صرف ۳۸۹ یعنی محض ۱۳ فیصد اسکول A گریڈ سے کامیاب ہوئے، تو یہ ایک دھچکا تھا — ایک تکلیف دہ آئینہ جس میں ہم نے اپنا چہرہ دیکھنے سے منہ موڑ لیا۔ اس وقت سوچا گیا کہ شاید ایک نسل میں حالات بدل جائیں گے۔ اب پندرہ سال بعد، ۲۰۲۶ء میں، آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی کوئی بنیادی تبدیلی آئی — یا بس کاغذات پر اعداد بدلے؟

پندرہ سال بعد UDISE+ 2024-25 اور ASER 2024 کی رپورٹیں ہمارے سامنے ہیں۔ آئیے آٹھ اہم پیمانوں پر ایمانداری سے دیکھتے ہیں — کیا بدلا، کیا وہی رہا، اور کیا اب بھی بحران ہے۔

۱۔ اسکولوں کا معیار — نظامِ جانچ بدلا ضرور ہے لیکن تعلیمی معیار کا بحران اپنی جگہ برقرار ہے!!!

۲۰۰۹ء میں مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کی اس جانچ نے ممبئی کے اسکولوں کی درجہ بندی کی تھی — اور نتیجہ سب کے سامنے تھا: صرف ۱۳ فیصد اسکول A گریڈ کے قابل۔ یہ اعداد ایک نظام کی ناکامی کا اعتراف تھے۔

اب ۲۰۲۴-۲۵ء میں صورتحال یہ ہے کہ وہ پرانا A/B/C/D/E درجہ بندی کا نظام اب موجود نہیں — UDISE+ نے اسکولوں کی جانچ کا پورا طریقہ کار بدل دیا ہے۔ اب اسکولوں کو ان کے انفرا اسٹرکچر، داخلے، اساتذہ کی تعداد اور ڈیجیٹل سہولیات کی بنیاد پر Online Report Card ملتا ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی بہتری کی علامت ہے مگر سوال وہی ہے کہ کیا نظام بدلنے سے حقیقت بدلی؟

دکھ کی بات یہ ہے کہ ASER 2024 کی رپورٹ ، جو لاکھوں بچوں پر زمینی سروے کے بعد بنائی گئی ، بتاتی ہے کہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تیسری جماعت کے ۷۶.۶ فیصد بچے دوسری جماعت کا متن نہیں پڑھ سکتے۔ یعنی اسکول کا کارڈ بدل گیا ، بچے کا نتیجہ نہیں بدلا۔

۲۔ بیت الخلاء کی دستیابی میں کچھ بہتری ہوئی مگر وہ نامکمل ہے ، صفائی کا سوال جوں کا توں منہ پھاڑے کھڑا ہے۔

۲۰۰۹ء میں ملک کے اسکولوں میں بیت الخلاء کی دستیابی ۶۳ فیصد سے بھی کم تھی — اور جو تھے وہ اکثر ناقابلِ استعمال۔ یہ وہ وقت تھا جب لڑکیاں صرف اس لیے اسکول چھوڑ دیتی تھیں کہ بلوغت کے بعد ان کی بنیادی ضرورت کا کوئی انتظام نہ تھا۔

اب UDISE+ 2024-25 کے مطابق ۹۸.۶ فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء موجود ہے — یہ واقعی ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ مگر اعداد کی تہہ میں اترتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ‘موجود ہونا’ اور ‘قابلِ استعمال ہونا’ دو الگ چیزیں ہیں۔ ASER 2024 بتاتی ہے کہ ۲۰۲۴ء میں صرف ۷۲ فیصد اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے کام کرنے والا اور صاف بیت الخلاء موجود تھا — یعنی ۲۶ فیصد میں بیت الخلاء تھا ہی نہیں یا بند پڑا تھا۔ دیوار اور دروازہ لگ گیا، صفائی اور دیکھ بھال نہیں آئی۔

اور سب سے اہم بات: Swachh Bharat Mission کے تحت ارب روپے خرچ ہوئے — مگر وہ لڑکیاں جو آج بھی ناقابلِ استعمال بیت الخلاء کی وجہ سے پریشان ہوتی ہیں، انہیں کاغذی اعداد سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بہتری ادھوری ہے مگر صفائی اور دیکھ بھال کا مسئلہ اب بھی باقی ہے۔

۳۔ کہیں کہیں نل موجود لیکن پینے کا پانی نداردہے ۔

۲۰۰۹ء میں پینے کے صاف پانی کی سہولت اسکولوں میں بڑے پیمانے پر غیر موجود تھی۔ بچے گھر سے پانی لاتے تھے، گرمیوں میں پیاسے رہتے تھے، اور بے ہوشی کے واقعات کوئی نادر بات نہ تھے۔اب UDISE+ 2024-25 کا دعویٰ ہے کہ ۹۹ فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی دستیاب ہے — یہ اعداد کاغذوں پر انقلاب ہے۔ مگر یہاں بھی وہی سوال: ‘دستیاب’ کی تعریف کیا ہے؟ کیا پانی صاف ہے؟ کیا روزانہ ملتا ہے؟ کیا برتن صاف ہیں؟ بہت سے اسکولوں میں نل لگا ہے مگر پانی نہیں آتا، یا آتا ہے تو آلودہ آتا ہے۔

ASER 2024 نے پینے کے پانی کی دستیابی ۷۷.۷ فیصد درج کی — یعنی کاغذوں کے ۹۹ فیصد اور زمینی حقیقت کے ۷۷.۷ فیصد کے درمیان ۲۱ فیصد کا فرق ہے۔ یہ فرق ہی اصل کہانی ہے۔ یہ ظاہری بہتری ہے مگر کاغذ اور زمین کے درمیان کا فرق خطرناک ہے۔

۴۔ اسکولوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے معاملے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے ، لیکن تصویر اب بھی نامکمل ہے۔

۲۰۰۹ء میں کمپیوٹر کا تصور ہمارے اکثر اسکولوں میں خواب تھا۔ جن اسکولوں میں کمپیوٹر تھے وہاں بھی بجلی نہیں تھی، یا کمپیوٹر ہفتوں بند رہتے تھے۔ کمپیوٹر ایجوکیشن کے نام پر اضافی فیس لی جاتی تھی مگر بچے مہینے میں بمشکل ایک دو گھنٹے اسکرین کا منہ دیکھ پاتے تھے۔اب UDISE+ 2024-25 کے مطابق ۶۴.۷ فیصد اسکولوں میں کمپیوٹر موجود ہیں اور ۶۳.۵ فیصد اسکولوں میں انٹرنیٹ کنیکشن ہے — ۲۰۲۳-۲۴ء کے مقابلے میں یہ نمایاں اضافہ ہے۔ یہ ڈیجیٹل ہندوستان مشن کی ایک حقیقی کامیابی ہے۔مگر ایک تکلیف دہ باریکی دیکھیں کہ جن ۶۴.۷ فیصد اسکولوں میں کمپیوٹر ہیں، ان میں سے صرف ۵۸ فیصد کام کر رہے ہیں — یعنی تقریباً ۷ فیصد اسکولوں میں کمپیوٹر موجود ہے مگر بند پڑا ہے۔ اور حکومتی و نجی اسکولوں کے درمیان فرق بھی واضح ہے: سرکاری اسکولوں میں ۵۸.۶ فیصد انٹرنیٹ کنیکشن ہے جب کہ نجی اسکولوں میں ۷۷.۱ فیصد — یعنی غریب بچوں کا ڈیجیٹل خسارہ ابھی بھی جاری ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ ۲۵,۰۰۰ سے زیادہ اسکولوں میں ابھی بجلی ہی نہیں۔بڑی پیش رفت ہوئی ہے، مگر سرکاری و نجی اسکولوں کے درمیان ڈیجیٹل تفاوت تشویشناک ہے۔

۵۔ سنگل ٹیچر اسکول — معمولی بہتری، بحران اب بھی زندہ ہے

ایک اکیلا استاد، پانچ جماعتیں، سو بچے — ۲۰۰۹ء میں یہ ہمارے دیہی تعلیمی نظام کی سب سے تکلیف دہ حقیقت تھی۔ لاکھوں ایسے اسکول تھے جہاں ایک انسان کے کندھوں پر پورے اسکول کا بوجھ تھا۔

پندرہ سال بعد UDISE+ 2024-25 بتاتی ہے کہ ابھی بھی ایک لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ سنگل ٹیچر اسکول موجود ہیں — ہاں ۲۰۲۳-۲۴ء کے مقابلے میں ۶ فیصد کمی آئی ہے، مگر یہ کمی اس بحران کے مقابلے میں ایک قطرہ ہے۔

سوچیے کہ ایک لاکھ بارہ ہزار اسکولوں میں ایک استاد۔ اگر ہر اسکول میں اوسطاً ۵۰ بچے بھی ہوں تو ۵۶ لاکھ بچے آج بھی ایسے نظام میں تعلیم پا رہے ہیں جہاں انفرادی توجہ محال ہے، مضامین کا احاطہ ناممکن ہے، اور استاد روزانہ ایک انسانی کرتب دکھاتا ہے — علم نہیں دیتا۔ یہ تعلیم نہیں، یہ ایک تھکے ہوئے انسان کی لاچاری کا نام ہے۔ایک لاکھ بارہ ہزار اسکولوں میں ایک استاد — یہ نظامِ تعلیم نہیں، یہ ایک المیہ ہے—۵۶ لاکھ بچوں کا بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔۔

۶۔ پانچویں جماعت کی پڑھنے کی صلاحیت کا بنیادی بحران ختم نہیں ہوا ہے ۔

یہ وہ پیمانہ ہے جو سب سے زیادہ دل دہلاتا ہے — اور یہی وہ پیمانہ ہے جو بتاتا ہے کہ اسکول اصل میں کام کر رہا ہے یا نہیں۔ ۲۰۰۹ء میں اس موضوع پر منظم قومی سروے موجود نہیں تھا — مگر جو اشارے ملتے تھے وہ بتاتے تھے کہ بحران شروع ہو چکا ہے۔

اب ASER 2024 کی رپورٹ — جو ۶۰۵ دیہی اضلاع اور سوا چھ لاکھ بچوں کے براہ راست سروے کی بنیاد پر تیار ہوئی — بتاتی ہے: تیسری جماعت کے ۷۶.۶ فیصد بچے دوسری جماعت کا متن نہیں پڑھ سکتے۔ تیسری جماعت کے ۶۶.۳ فیصد بچے سادہ گھٹانا نہیں جانتے۔ پانچویں جماعت کے ۷۰ فیصد بچے دو ہندسوں کی تقسیم نہیں جانتے۔یہ اعداد پندرہ سال کی ‘ترقی’ کے بعد کے اعداد ہیں۔ ہم نے بچوں کو اسکول بھیجا — مگر اسکول نے انہیں سیکھنا نہیں سکھایا۔ کووڈ کے دو سالوں نے جو سیکھنے کا تسلسل توڑا، اس کا نقصان ابھی تک نہیں بھرا۔ پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بیشتر ریاستوں کے بچے ابھی تک ۲۰۱۸ء کی سطح پر نہیں پہنچے۔ یعنی سات سال کی محنت کووڈ کے دو سال نگل گئے — اور وہ خلاء ابھی بھی خالی ہے۔

اسکول گیا، پاس ہوا، سند ملی — مگر پڑھنا نہیں آیا، یہ بنیادی بحران نہ صرف برقرار بلکہ کووڈ کے بعد مزید گہرا ہوا ہے۔

۷۔ سیکنڈری تعلیم میں داخلہ — بہتری ہوئی، مگر ہر تین میں ایک بچہ اب بھی اسکول سے باہر ہے۔

۲۰۰۹ء میں سیکنڈری تعلیم کی GER (Gross Enrolment Ratio) تقریباً ۵۲ فیصد یا اس سے بھی کم تھی — یعنی ہر دو میں سے ایک بچہ نویں اور دسویں جماعت تک پہنچنے سے پہلے ہی نظامِ تعلیم کی دنیا سے باہر ہو جاتا تھا۔اب UDISE+ 2024-25 کے مطابق سیکنڈری GER ۶۸.۵ فیصد ہو گئی ہے — یعنی پندرہ سالوں میں سولہ فیصد کا اضافہ۔ یہ بے شک ایک مثبت پیش رفت ہے — زیادہ بچے اسکول میں ہیں، زیادہ بچے آگے بڑھ رہے ہیں۔

مگر اس کامیابی کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی ہے: ابھی بھی ہر سو میں سے ۳۱ بچے سیکنڈری اسکول تک نہیں پہنچتے۔ یعنی ایک کلاس میں چالیس بچوں میں سے بارہ تیرہ بچے نویں جماعت دیکھنے سے پہلے ہی گم ہو جاتے ہیں — کوئی مزدوری کرتا ہے، کوئی گھریلو ذمہ داریوں میں آ جاتا ہے، کوئی معاشی مجبوری سے، کوئی کسی اور وجہ سے۔ GER 68.5 فیصد کامیابی بھی ہے اور ناکامی بھی — یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بہتری ہے مگر ہر تیسرا بچہ ابھی بھی سیکنڈری تعلیم سے محروم ہے۔

۸۔ مہاراشٹر میں استاد-طالب علم تناسب میں کوئی بہتری نہیں

۲۰۰۹ء میں ہم نے لکھا تھا کہ جماعتوں میں ۷۰ تا ۸۰ بچے ٹھونسے جاتے ہیں۔ سرکاری ضابطہ ۴۵ بچے فی جماعت کہتا تھا — مگر زمینی حقیقت اس سے دوگنی تھی۔ RTE 2009ء نے قانوناً ۳۰:۱ کا تناسب مقرر کیا۔ ہم نے سوچا شاید اب بدلے گا۔مگر UDISE+ 2024-25 کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ مہاراشٹر میں اعلیٰ جماعتوں (Secondary) کا PTR یعنی Pupil-Teacher Ratio ۳۷:۱ ہے — جو RTE کے قانونی معیار ۳۰:۱ سے بھی بدتر ہے اور NEP 2020 کی سفارش ۲۰-۲۵:۱ سے تو کہیں دور۔ صرف مہاراشٹر نہیں — جھارکھنڈ میں یہ تناسب ۴۷:۱ تک پہنچتا ہے۔ یعنی ایک استاد کے سامنے سینتالیس بچے — یہ کلاس روم ہے یا بھیڑ؟ جب ایک استاد کے سامنے ۳۷ سے ۴۷ بچے ہوں تو انفرادی توجہ ممکن ہی نہیں۔ جو بچہ سمجھ نہیں پا رہا، وہ بھیڑ میں گم ہو جاتا ہے۔ جو بچہ ذہین ہے اسے آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔ اور استاد — جو پہلے ہی غیر تدریسی کاموں کے بوجھ تلے دبا ہے — اس بھیڑ میں محض ‘حاضری لگانے والا’ بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ صورتحال ۲۰۰۹ء سے اب تک نہیں بدلی — بلکہ بعض ریاستوں میں بدتر ہوئی ہے۔جب قانون کہتا ہو کہ ۳۰ اور ہمارے اسکولوں میں ۳۷ سے ۴۷ بچے ہوں ، تب آپ کیا کہیں گے، بلکہ آپ کو کہنا پڑے گا کہ صورتحال قانون سے بھی بدتر ہے۔

جائزہ لینے کے بعد جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جو بہتری آئی وہ بیشتر ‘ڈھانچے’ میں آئی — بیت الخلاء لگے، نل لگے، کمپیوٹر آئے، داخلے بڑھے۔ یہ سب خوش آئند ہے اور ان کا اعتراف ضروری ہے۔ مگر جو نہیں بدلا وہ اصل ہے، بچہ سیکھ نہیں رہا، استاد پڑھا نہیں پا رہا، کلاس بھری ہوئی ہے، سنگل ٹیچر اسکول ابھی بھی لاکھوں میں ہیں۔ہم نے عمارت بنائی — مگر روح نہیں ڈالی۔ ہم نے نل لگایا — مگر پانی نہیں بھرا۔ ہم نے کمپیوٹر رکھا — مگر ذہن نہیں بنایا۔ ہم نے بچوں کو داخل کیا — مگر انہیں سیکھنے کا ماحول نہیں دیا۔اب سوال یہ نہیں کہ اسکول ہے یا نہیں — اب سوال یہ ہے کہ اسکول میں سیکھنا ہو رہا ہے یا نہیں۔ اور جب تک اس سوال کا جواب ‘ہاں’ نہیں ہوتا، ہر رپورٹ — چاہے ۲۰۰۹ء کی ہو یا ۲۰۲۶ء کی — ہمارے ضمیر پر ایک اور داغ ہے۔

مگر جب ہم ان اعداد کی تہہ میں اترتے ہیں تو ایک اور تصویر سامنے آتی ہے — جو ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ ASER 2024 کی رپورٹ — جو پرتھم فاؤنڈیشن نے ۶۰۵ دیہی اضلاع کے ۶ لاکھ سے زیادہ بچوں کے سروے کے بعد جاری کی — بتاتی ہے کہ تیسری جماعت کے ۷۶.۶ فیصد بچے ابھی بھی دوسری جماعت کا متن روانی سے نہیں پڑھ سکتے۔ تیسری جماعت کے ۶۶.۳ فیصد بچے سادہ حساب نہیں کر سکتے۔ پانچویں جماعت میں ۷۰ فیصد بچے بنیادی تقسیم نہیں جانتے۔ یعنی اسکول کی عمارت مضبوط ہوئی، مگر علم کی بنیاد کمزور ہے۔

مہاراشٹر کا حال تو اور بھی پریشان کن ہے۔ UDISE+ کے مطابق اعلیٰ جماعتوں میں مہاراشٹر کا استاد-طالب علم تناسب ۳۷:۱ ہے — جو RTE کے مقررہ معیار ۳۰:۱ سے بھی بدتر ہے اور NEP کی سفارش ۲۰-۲۵:۱ سے تو کہیں دور۔ سنگل ٹیچر اسکولوں میں صرف ۶ فیصد کمی آئی — یعنی آج بھی ایک لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ اسکولوں میں ایک استاد پانچ جماعتیں چلا رہا ہے۔ اور جن ۶۴.۷ فیصد اسکولوں میں کمپیوٹر ہیں، ان میں سے صرف ۵۸ فیصد کام کر رہے ہیں — باقی محض سجاوٹ ہیں۔ ۲۵,۰۰۰ سے زیادہ اسکولوں میں بجلی ابھی تک نہیں۔

کووڈ کا زہر — جو ابھی تک نکلا نہیں

۲۰۲۰ء اور ۲۱ء کے کووڈ کے دو سالوں نے جو تعلیمی نقصان کیا، اس کے زخم ابھی تک تازہ ہیں۔ ASER 2024 بتاتی ہے کہ پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بیشتر بچے ابھی تک ۲۰۱۸ء کی سطح پر نہیں پہنچے — یعنی وبا نے پانچ چھ سال کی محنت کو واپس لے لیا۔ اسکول کھل گئے، بچے آ گئے — مگر جو سیکھنا چھوٹا، وہ واپس نہیں آیا۔ اور جن اسکولوں میں ڈیجیٹل ڈھانچہ تھا وہاں آن لائن تعلیم ہوئی — مگر ممبرا، کوسہ، دھاراوی کے وہ بچے جن کے گھر میں نہ اسمارٹ فون تھا نہ انٹرنیٹ، وہ پوری پوری جماعتیں گم کر بیٹھے۔

بہتری ہوئی مگر بحران جاری ہے۔

اگر ۲۰۰۹ء اور ۲۰۲۶ء کا موازنہ ایمانداری سے کیا جائے تو جواب یہ ہے کہ ڈھانچے میں بہتری آئی، بنیادی سہولیات بڑھیں، داخلے بڑھے — یہ اچھا ہوا۔ مگر تعلیم کا اصل مقصد — سیکھنا، سوچنا، سمجھنا — اس میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ ہم نے اسکول کی دیواریں پکی کر لیں، بیت الخلاء لگا لیے، نل لگا لیے — مگر بچے کے ذہن کی دیوار ابھی بھی کچی ہے۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ۲۰۰۹ء میں ہم کہہ رہے تھے ‘اسکول معیاری نہیں’ — اور ۲۰۲۶ء میں ASER، UDISE+ اور ماہرین کہہ رہے ہیں ‘بچے سیکھ نہیں رہے۔’ مطلب: پندرہ سال میں مسئلہ صرف جگہ بدلا — حل نہیں ہوا۔ یہ ایک ایسی نسل کا المیہ ہے جو اسکول جاتی ہے، پاس ہوتی ہے، سند لیتی ہے — مگر جاننا نہیں جانتی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اب صرف ‘اسکول ہے یا نہیں’ کا سوال نہ پوچھا جائے — بلکہ ‘اسکول میں سیکھنا ہو رہا ہے یا نہیں’ کا سوال اٹھایا جائے۔ NEP 2020 اور NIPUN Bharat مشن نے بنیادی خواندگی اور اعداد کی مہارت کو ۲۰۲۶-۲۷ء تک یقینی بنانے کا ہدف رکھا ہے — یہ ہدف ابھی پورا نہیں ہوا۔ اور جب تک یہ ہدف پورا نہیں ہوتا، ہر رپورٹ — چاہے ۲۰۰۹ء کی ہو یا ۲۰۲۶ء کی — ہمارے ضمیر پر ایک اور داغ ہوگی۔کتنے سال اور درکار ہیں اے اہلِ وطن ، بچے اسکول جائیں اور کچھ سیکھ کر لوٹیں۔

ہمارے شہروں اور قصبوں میں اسکولوں کی دو متوازی دنیائیں آباد ہیں۔ ایک وہ جو سرکاری کاغذوں میں درج ہے، دوسری وہ جو کسی سڑک کے موڑ پر، کسی خستہ حال عمارت کی تیسری منزل پر، یا کسی ویران گودام میں سانس لے رہی ہے — اور انہیں ‘اسکول’ کا نام دے دیا گیا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (NIEPA) کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں ایسے نجی اسکول چل رہے ہیں جن کے پاس نہ تو باقاعدہ تسلیم شدگی ہے، نہ بنیادی ڈھانچہ، اور نہ ہی تربیت یافتہ اساتذہ۔ صرف مہاراشٹر میں ایسے غیر قانونی اسکولوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جنہیں بار بار نوٹس کے باوجود بند نہیں کیا جاتا — کیونکہ یہ اسکول مقامی سیاست، کرایہ داری کے کاروبار اور ‘تعلیمی مافیا’ کی آنکھوں کا تارہ بنے ہوئے ہیں۔

ان غیر قانونی اسکولوں کا تریاق یہ ہے کہ یہ اکثر انگریزی میڈیم کے نام پر کھلتے ہیں، بھاری داخلہ فیس وصول کرتے ہیں، چند کمروں میں سو سو بچے ٹھونس دیتے ہیں اور کسی بھی حادثے کی صورت میں ذمہ دار کوئی نہیں ہوتا۔ ستم یہ کہ غریب والدین یہ سمجھ کر بچوں کو یہاں بھیجتے ہیں کہ کانونٹ میں پڑھا رہے ہیں — حالاں کہ یہ ‘کانونٹ’ محض ایک لفظ ہے، عمارت کے دروازے پر لٹکی ہوئی بے معنی تختی۔یہ کانونٹ نہیں — تعلیم کے نام پر ایک منظم فریب ہے جو غریب والدین کی خواہشوں کو کیش کرتا ہے۔

سرکاری اسکولوں کی ناکافی تعداد

جن علاقوں میں سرکاری اسکول ہیں بھی، وہاں ان کی تعداد آبادی کے تناسب سے اتنی کم ہے کہ داخلہ ملنا بھاگیہ کی بات ہو جاتی ہے۔ ASER (Annual Status of Education Report) 2023 کے مطابق دیہی علاقوں میں تقریباً ۲۸ فیصد بچے آج بھی یا تو اسکول سے باہر ہیں یا درمیان میں چھوڑ دیتے ہیں۔ شہروں کے کچی آبادی والے علاقوں — ممبئی کے دھاراوی، کرلا، ممبرا، مانکھرد — میں ہر ایک سرکاری اسکول پر ہزاروں بچوں کا بوجھ ہے۔

پرائمری اسکولوں کا حال تو اور بھی دردناک ہے۔ RTE (حقِ تعلیم قانون ۲۰۰۹) نے ہر ایک کلومیٹر کے فاصلے پر پرائمری اسکول اور تین کلومیٹر کے دائرے میں اپر پرائمری اسکول کا حق دیا، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ کثیر آبادی والے علاقوں میں آج بھی بچوں کو پانچ پانچ کلومیٹر پیدل چل کر اسکول جانا پڑتا ہے — اور یہ وہ فاصلہ ہے جو لڑکیوں کو درمیان میں ہی پڑھائی چھڑوانے پر مجبور کر دیتا ہے۔

اس صورتِ حال کو چند مخصوص علاقوں کے اعداد و شمار سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ممبئی مضافاتی علاقے میں تقریباً پینتالیس لاکھ سے زائد آبادی کے مقابلے میں سرکاری پرائمری اسکولوں کی تعداد ۱۱۰۰سے بھی کم ہے اور یہ کمی چالیس فیصد خسارے(ضرورت بمقابلہ دستیابی) کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ ممبرا اور کوسہ کا حال اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے، جہاں سرکاری ریکارڈ کے مطابق آٹھ لاکھ سے زیادہ آبادی کے لیے ۶۰سے بھی کم سرکاری اسکول ہیں، اور صورتِ حال کو انتہائی ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ دھاراوی جیسے گنجان آباد علاقے میں، جہاں دس لاکھ سے زائد لوگ رہتے ہیں، سرکاری اسکول صرف انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں یہاں تعلیمی بحران اپنی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ اورنگ آباد اور دہلی میں پینتیس لاکھ سے زائد آبادی کے باوجود اسکولوں کی تعداد کم و بیش اٹھارہ سو ہے، لیکن یہ تعداد بھی RTE کے مقررہ معیار سے کم ہے۔

اسکول صرف چہار دیواری اور عمارت کا نام نہیں، یہ ایک جیتے جاگتے جسم و جاں کا نام ہے۔ مگر آئیے آج اس جسم کے ایک ایک عضو کی حالت دیکھیں — اور پھر خود فیصلہ کریں کہ یہ زندہ ہے یا مر رہا ہے۔

ملک کے کئی اہم شہروں میں اسکولی عمارتوں کی حالت انسانی وقار سے گری ہوئی ہے۔ بہار، اتر پردیش اور مہاراشٹر کے دیہی ضلعوں میں ایسے اسکول آج بھی موجود ہیں جہاں ٹوٹی چھتیں، دریا کا رخ کرتی دیواریں اور پھاٹک کے نام پر بانس کا ڈنڈا ہے۔ مانسون میں کلاس روم تالاب بن جاتے ہیں، اور ‘سکول چھٹی’ کا مطلب ہوتا ہے — بارش۔ UDISE+ 2022-23 کے اعداد کے مطابق ملک میں تقریباً ۱.۱۲ لاکھ اسکول ایسے ہیں جن میں صرف ایک کمرہ ہے اور وہ استاد بھی ایک ہی ہے۔

بیت الخلاء — تعلیم کا سب سے زیادہ نظر انداز مسئلہ

یہ بات سنتے ہوئے شاید آپ کا ماتھا ٹھنکے مگر یہ سچ ہے: بیت الخلاء کی عدم دستیابی ہندوستان میں لڑکیوں کی اسکول چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ UNICEF کی ۲۰۲۲ء کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ۳۷ فیصد سرکاری اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے الگ بیت الخلاء نہیں۔ اور جہاں ہیں، وہاں صفائی کا عالم یہ ہے کہ استعمال سے زیادہ نفسیاتی تکلیف ہوتی ہے۔

کھیل کے میدان — جہاں عمارتوں نے ڈیرے جمائے ہیں!!!

بچوں کی جسمانی، ذہنی اور سماجی نشو و نما میں کھیل کا کردار کسی بھی نصاب سے کم نہیں۔ مگر شہری اسکولوں میں کھیل کے میدان وہ پہلا قربانی ہیں جو ‘ترقی’ کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ ممبئی، پونے، ناگپور اور اورنگ آباد کے درجنوں نجی اسکولوں میں جہاں پہلے میدان تھا، وہاں اب ایک اور عمارت کا فرش ہے — جس پر انتظامیہ کے دفاتر، اضافی کلاس روم یا کینٹین چل رہی ہے۔ اور Physical Training کا گھنٹہ؟ وہ چھت پر ہوتا ہے — یا کبھی ہوتا ہی نہیں۔جس اسکول میں کھیل کا میدان نہ ہو، وہ بچوں کی روح کو قید کر رہا ہے۔

لائبریری — کتابوں کا قبرستان!!!

اگر اسکول کی لائبریری میں کتابیں ہیں تو وہ دھول میں دفن ہیں۔ اگر لائبریریئن ہے تو وہ دفتری کام کر رہا ہے۔ اور اگر بچے آتے ہیں تو ‘اہم سوالات’ ڈھونڈنے — امتحانی ذہنیت کی پیداوار۔ ہمیں وہ دن یاد ہیں جب لائبریری کے وقفے میں کہانیوں کی کتابیں، سائنسی انکشافات اور سفرنامے بچوں کے ہاتھوں میں پہنچتے تھے اور استاد کسی ایک کتاب کا خلاصہ سنا کر ایسا شوق جگاتا کہ بچے گھر جانا بھول جاتے۔ آج وہ لائبریری بند پڑی ہے، کتابیں اندھیرے میں ہیں اور بچوں کی تخیل کی کھڑکی بھی بند ہے۔

سائنس لیب اور کمپیوٹر — نمائشی سازوسامان

سائنس کی تجربہ گاہیں ‘معائنے’ کے دن کھلتی ہیں اور باقی سال بند رہتی ہیں۔ پرانی ٹیسٹ ٹیوبیں، زنگ آلود اوزار اور خالی ڈبے — یہ ہے ‘لیب’۔ کمپیوٹر ایجوکیشن کے نام پر اضافی فیس وصول ہوتی ہے مگر ہفتے میں بمشکل ایک گھنٹہ کسی پرانے سسٹم پر انگلیاں پھیرنا نصیب ہو جائے تو غنیمت۔ جب کہ دنیا Virtual Reality لیبز، Coding سے Robotics تک پہنچ گئی ہے۔

استاد — تعلیمی نظام کے ریڑھ کی ہڈی جو خم کھا چکی

اسکول کا اصل جز استاد ہوتا ہے — اسی لیے اسے اسکولی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔ مگر آج اس ریڑھ کی ہڈی میں تپِ دق لگ چکی ہے۔ ماہر، مخلص اور جذبے سے بھرپور استاد عنقا ہوتے جا رہے ہیں۔ وجوہات کیا ہیں؟

تقرری میں بے ضابطگی اور اقربا پروری

بے شمار نجی اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری نہ قابلیت پر ہوتی ہے نہ تجربے پر — بس پہچان اور کمیشن پر ہوتی ہے۔ B.Ed. یا D.El.Ed کی سند رکھنا شاید ضروری نہیں — بس انتظامیہ سے تعلق ضروری ہے۔ سرکاری اسکولوں میں TET/NET پاس اساتذہ سالوں سے ٹھیکے پر ہیں اور باقاعدگی کا انتظار کر رہے ہیں — اس بے یقینی میں نہ وہ سکون سے پڑھا سکتے ہیں، نہ اپنی پیشہ وارانہ ترقی پر توجہ دے سکتے ہیں۔

غیر تدریسی بوجھ — استاد کا قاتل

آج کا استاد پڑھانے سے زیادہ سرکاری اسکیمیں چلانے کا آلہ بن گیا ہے۔ مڈ ڈے میل کا حساب، UDISE+ پر ڈیٹا انٹری، جنگنا، انتخابات، آدھار کارڈ کیمپ، سروے، ٹیکہ کاری مہم — یہ سب کام ‘استاد’ کرتا ہے۔ RTE فورم انڈیا کے مطابق ایک سرکاری ابتدائی اسکول کے استاد کا اوسطاً ۴۰ سے ۵۰ فیصد وقت غیر تدریسی کاموں میں صرف ہوتا ہے۔ پھر بچے کیا پڑھیں گے؟

ضلع بھر میں ایک ہی استاد — ‘سنگل ٹیچر اسکول’ کا المیہ

UDISE+ 2022-23 کے مطابق ملک میں ابھی بھی ۱.۱۲ لاکھ سے زیادہ ‘سنگل ٹیچر اسکول’ ہیں — جہاں ایک استاد پہلی جماعت سے پانچویں جماعت تک کے تمام مضامین اکیلے پڑھاتا ہے، دفتری کام کرتا ہے، حاضری لگاتا ہے اور مڈ ڈے میل کی نگرانی بھی کرتا ہے۔ یہ ‘تعلیم’ ہے یا ایک انسان کا کرتب؟جب استاد کی روح مردہ ہو تو پڑھانا محض آواز ہے ، علم نہیں۔

جماعتوں میں بھیڑ — بچوں کا گلا گھونٹتا ہوا نظام

سرکاری اصول کہتا ہے ایک جماعت میں ۴۵ بچے کافی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ممبئی، پونے اور دیگر بڑے شہروں کے کئی اسکولوں میں ۷۰ تا ۱۰۰ بچے ایک کمرے میں بند ہیں۔ انفرادی توجہ کا سوال ہی نہیں اٹھتا — بچہ تو محض شور کا ایک حصہ ہے۔ غریب بچے کے پاس ٹیوشن کا پیسہ نہیں، گھر پر کوئی پڑھانے والا نہیں — اسکول اس کی آخری امید تھی، مگر اس امید کو بھی بھیڑ میں دفن کر دیا گیا۔

گھر، سماج اور انتظامیہ — تین مجرم ایک کٹہرے میں

والدین کی غیر حاضری

ہمارے بیشتر والدین — خاص طور پر کم آمدنی والے طبقوں میں — معاشی جدوجہد میں اس قدر مگن ہیں کہ بچے کی تعلیمی ترقی پر توجہ دینے کا وقت ہی نہیں۔ PTM (والدین اور استاد ملاقات) میں ۳۰ میں سے بمشکل ۸ والدین آتے ہیں۔ کچھ والدین کا خیال ہے کہ ‘بچے کو اسکول بھیج دیا — بس ہمارا فرض ختم’۔ یہ سوچ بچوں کی تعلیمی بنیاد کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

سماج کی بے اعتنائی

کسی زمانے میں محلہ کا ہر بڑا بچوں کی تعلیم و تربیت میں دلچسپی رکھتا تھا۔ آج سماج نے آنکھیں پھیر لی ہیں۔ اسکول کمیٹیاں، محلہ کونسلیں، مسجد کے امام، مدرسے کے مولوی — سب نے اسکول کی خبرگیری ترک کر دی۔ یہ سماجی انخلاء اسکول کو ‘ایک ادارہ’ نہیں، ‘ایک الگ جزیرہ’ بنا دیتا ہے۔

انتظامیہ کی تجارتی ذہنیت

بہت سے نجی اسکولوں میں انتظامیہ کا سارا دھیان آمد و خرچ کے حساب کتاب تک محدود ہے۔ اسکول کی تعلیمی ضروریات، اساتذہ کی خبرگیری، بچوں کی تعلیمی حالت — ان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ انتظامیہ ائر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر ‘برانڈ’ بناتا رہتا ہے اور بچے پسینے کی بدبو سے بھرے کمروں میں گھٹتے رہتے ہیں۔

اصل کہانیاں — جو اعداد و شمار نہیں بتاتے

کہانی ۱ — ممبرا کا احمد

احمد کی عمر بارہ سال تھی۔ والد رکشہ چلاتے تھے۔ احمد ایک غیر منظور شدہ ‘کانونٹ اسکول’ میں پڑھتا تھا جس کی فیس چار سو روپے ماہانہ تھی — والد کے لیے خطیر رقم۔ جب اس اسکول کو بند کرنے کا نوٹس ملا تو احمد درمیان سال میں اسکول سے باہر تھا۔ نہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ ملا، نہ کوئی متبادل اسکول قریب تھا۔ احمد آج ایک گیراج میں کام کرتا ہے — تعلیم کا خواب وہیں دفن ہو گیا جہاں اسکول کی تختی اُکھڑی تھی۔

کہانی ۲ — اورنگ آباد کا ‘سنگل ٹیچر اسکول’

ضلع اورنگ آباد کے ایک دیہی اسکول میں اکیلے استاد صاحب نے پانچ جماعتیں سنبھال رکھی تھیں۔ وہ پہلی جماعت کو حروف تہجی سکھا رہے ہوتے تو تیسری جماعت خودبخود کھیل رہی ہوتی اور پانچویں جماعت کا بچہ صحن میں سو جاتا۔ جب بارش ہوتی تو چھت ٹپکتی۔ جب امتحان ہوتے تو استاد سائیکل پر شہر جا کر پرچے لاتے۔ یہ ‘تعلیم’ تھی یا ایک لاچار انسان کی اکیلی مزاحمت؟

کہانی ۳ — دہلی کے ایک سرکاری اسکول کی تبدیلی

مگر ہر کہانی مایوس کن نہیں۔ دہلی حکومت کے ‘اسکول آف ایکسیلنس’ پروگرام نے ثابت کیا کہ سیاسی عزم ہو تو سرکاری اسکول بھی ستاروں کو چھو سکتا ہے۔ ۲۰۱۵ء کے بعد سرکاری اسکولوں میں اندرونی خوبصورتی، استاد کی تربیت، سمارٹ کلاس روم اور ‘ہیپی نیس کریکولم’ نے نہ صرف داخلوں کی تعداد بڑھائی بلکہ درمیان میں چھوڑنے کی شرح کو ۱۶ فیصد تک گھٹا دیا۔ یہ ایک امید کی کرن ہے — مگر صرف ایک ریاست میں۔

نتائج — جو نسلیں بھگت رہی ہیں

جب اسکول کا ڈھانچہ کمزور ہو، جب استاد بے حوصلہ ہو، جب نظام بے حس ہو — تو اس کا اثر صرف رزلٹ کارڈ پر نہیں پڑتا۔ یہ اثر کہیں گہرا، کہیں دور تک اور کہیں بہت خاموشی سے اترتا ہے — بچے کی روح میں، اس کے مستقبل میں، اور پوری قوم کے ضمیر میں۔ آئیے ایک ایک خرابی کو اٹھائیں اور دیکھیں کہ اس کا براہ راست اثر کیا ہے اور طویل مدتی نقصان کتنا گہرا ہے۔

۱۔ کمزور بنیادی تعلیم — بچہ پڑھ نہیں پاتا، عملی زندگی ناکام ہو جاتی ہے

جب کسی بچے کو پہلی، دوسری اور تیسری جماعت میں وہ بنیادی مہارتیں نہ ملیں جو اسے ملنی چاہییں — حروف کی پہچان، الفاظ کا مفہوم، جمع تفریق کی سمجھ — تو یہ خلاء آگے چل کر پہاڑ بن جاتا ہے۔ ASER 2023 کی رپورٹ چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ پانچویں جماعت کے پچاس فیصد سے زیادہ بچے دوسری جماعت کی کتاب روانی سے نہیں پڑھ سکتے۔ تیسری جماعت کے ستر فیصد بچے دو ہندسوں کی تقسیم نہیں جانتے۔

براہ راست اثر یہ ہے کہ بچہ ہر اگلی جماعت میں بنیاد کے بغیر آگے بڑھتا رہتا ہے — ایسے مسافر کی طرح جو منزل تو جانتا ہے مگر راستہ نہیں۔ وہ ہر سال پاس ہوتا ہے، مگر سیکھتا کچھ نہیں۔ اور جب عملی زندگی شروع ہوتی ہے — نوکری ملے، کاروبار کرنا ہو، حقوق کا دفاع کرنا ہو — تو یہ کمزور بنیاد ڈھے جاتی ہے۔ طویل مدتی نقصان یہ ہے کہ ایک پوری نسل ایسے معاشرے میں جیتی ہے جہاں وہ نہ فارم ڈھنگ سے بھر سکتی ہے، نہ معاہدہ پڑھ سکتی ہے، نہ اپنے بچوں کو گھر پر پڑھا سکتی ہے۔ غربت کا چکر یہیں سے شروع ہو کر نسلوں تک دوڑتا ہے۔جس بچے کی بنیاد کمزور ہو، اس کا مستقبل لرزتا رہتا ہے — چاہے اوپر سے عمارت جتنی اونچی ہو۔

۲۔ کھیل کا میدان نہیں — نتیجتا جسمانی نشوونما رک جاتی ہے، ذہنی صحت کے مسائل جنم لیتے ہیں

کھیل کوئی وقت ضائع کرنے کا ذریعہ نہیں — یہ بچے کی شخصیت کی تعمیر کا سب سے فطری راستہ ہے۔ جب بچہ دوڑتا ہے تو صرف ٹانگیں نہیں چلتیں — دماغ کے وہ حصے بھی جاگتے ہیں جو تعاون، قیادت، ہار ماننے کا حوصلہ اور جیتنے کا جذبہ سکھاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کا واضح بیان ہے کہ بچوں میں روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی جسمانی سرگرمی ضروری ہے۔

مگر ہمارے شہری اسکولوں میں کھیل کے میدان کی جگہ اب عمارت کی اضافی منزل ہے، کینٹین ہے، یا گاڑیوں کی پارکنگ ہے۔ Physical Training کا گھنٹہ یا تو چھت پر ہوتا ہے — جہاں گرمی میں پاؤں جلتے ہیں — یا کاغذوں میں ہوتا ہے، زمین پر نہیں۔ براہ راست اثر یہ ہے کہ بچہ چوبیس گھنٹے بند کمرے میں رہتا ہے — اسکول میں، پھر ٹیوشن میں، پھر گھر میں اسکرین کے سامنے۔ یہ جسمانی بے حرکتی بچپن کے موٹاپے، کمزور ہڈیوں اور کم قوتِ مدافعت کا سبب بنتی ہے۔ طویل مدتی نقصان اور بھی گہرا ہے: بچہ تناؤ، افسردگی اور بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے — وہ ذہنی صحت کے مسائل جو پہلے بڑھاپے میں آتے تھے، اب بچپن میں دستک دے رہے ہیں۔

۳۔ لائبریری نہیں — تخیل اور تجسس مر جاتا ہے، تخلیقی صلاحیت صفر ہو جاتی ہے

ایک کتاب بچے کو وہ سفر کراتی ہے جو سیکڑوں لیکچر نہیں کرا سکتے۔ لائبریری صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں — یہ بچے کی تخیل کی اڑان کا ہوائی اڈہ ہے۔ جہاں بچہ سوالات پوچھنا سیکھتا ہے، جہاں وہ نئی دنیاؤں سے آشنا ہوتا ہے، جہاں اس کے اندر کا لکھاری، سائنس دان اور مفکر جاگتا ہے۔

مگر آج ہمارے اسکولوں کی لائبریریاں بند پڑی ہیں۔ کتابوں پر دھول ہے، لائبریریئن دفتری کام میں مصروف ہے، اور اگر کوئی بچہ آتا ہے تو ‘اہم سوالات’ ڈھونڈنے — کیونکہ ذہنیت یہی بن گئی ہے کہ تعلیم کا مقصد امتحان پاس کرنا ہے، جاننا اور سوچنا نہیں۔ براہ راست اثر یہ ہے کہ تخیل اور تجسس مر جاتا ہے — بچہ وہ سوال پوچھنا بند کر دیتا ہے جو اسے پوچھنے چاہییں۔ طویل مدتی نقصان یہ ہے کہ ایسی نسل تیار ہوتی ہے جو صرف ‘حفظ’ کر سکتی ہے، ‘سوچ’ نہیں سکتی — اور دنیا میں وہ قومیں آگے ہیں جو سوچتی ہیں، رٹتی نہیں۔کتابوں کا جو قتل کیا درسگاہوں میں,اس کا خون ہماری آنے والی نسلوں کے ہاتھ پر ہے۔

۴۔ غیر تربیت یافتہ استاد — غلط تصورات پختہ ہو جاتے ہیں، پوری نسل متاثر ہوتی ہے

ایک غلط استاد اس باغبان کی طرح ہے جو پودے کو پانی دینے کی جگہ زہر دے — اور پودے کو خبر بھی نہ ہو۔ جب استاد خود کسی مضمون کو درست نہیں سمجھتا، جب اسے تدریس کے طریقوں کی تربیت نہیں ملی، جب وہ سوال پوچھنے والے بچے کو ‘شریر’ سمجھتا ہے اور خاموش بیٹھنے والے کو ‘ذہین’ — تو جماعت میں جو علم پھیلتا ہے وہ علم نہیں، ایک منظم غلط فہمی ہے۔

بہت سے اسکولوں میں بی ایڈ کی ڈگری محض ایک کاغذ ہے جو تقرری کے لیے درکار تھا — تدریس کی مہارت سے اس کا تعلق نہیں۔ براہ راست اثر یہ ہے کہ ایک جماعت کے پچاس بچوں میں سال بھر غلط تصورات پختہ ہوتے رہتے ہیں — سائنس کے غلط اصول، تاریخ کی توڑ مروڑ کر سنائی گئی کہانیاں، ریاضی کے وہ شارٹ کٹ جو بنیاد کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ طویل مدتی نقصان یہ ہے کہ ایک کمزور استاد کی غلطی ایک سال میں پچاس بچوں تک پہنچتی ہے، پھر وہ بچے آگے اپنے بچوں کو وہی سکھاتے ہیں — ایک استاد کی غلطی نسلوں میں سرایت کر جاتی ہے۔ایک اچھا استاد ہزار نسلوں کو روشن کرتا ہے — اور ایک نا اہل استاد ہزار نسلوں کو تاریکی میں چھوڑ دیتا ہے۔

۵۔ بیت الخلاء نہیں — لڑکیاں اسکول چھوڑتی ہیں، خواتین تعلیم میں خسارہ

یہ مسئلہ سننے میں شاید معمولی لگے مگر اس کے پیچھے لاکھوں لڑکیوں کی ٹوٹی ہوئی امیدیں ہیں۔ UNICEF کی ۲۰۲۲ء کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں ۳۷ فیصد سرکاری اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے الگ اور صاف بیت الخلاء کا انتظام نہیں۔ یہ صرف صفائی کا مسئلہ نہیں — یہ عزت کا مسئلہ ہے، تحفظ کا مسئلہ ہے۔

جب کوئی گیارہ بارہ سال کی بچی یہ محسوس کرے کہ اسکول میں اس کی بنیادی ضرورت کا خیال نہیں رکھا گیا — تو وہ گھر والوں پر اسکول چھوڑنے کا دباؤ ڈالتی ہے، یا خود بیمار ہونے کا بہانہ کرتی ہے۔ براہ راست اثر یہ ہے کہ لڑکیاں بلوغت کے بعد تیزی سے اسکول چھوڑنا شروع کر دیتی ہیں۔ طویل مدتی نقصان یہ ہے کہ ایک خاتون جو تعلیم سے محروم رہی، اپنے گھر کو بھی اندھیرے میں رکھتی ہے — کیونکہ ماں اگر پڑھی لکھی نہ ہو تو اس کے بچے بھی تعلیم سے دور رہتے ہیں۔ یہ محرومی ایک دائرہ ہے جو نسل در نسل چلتا ہے۔

۶۔ بھیڑ بھری کلاس — انفرادی توجہ صفر، ذہین بچہ بھی پیچھے رہ جاتا ہے

تصور کیجیے ایک ڈاکٹر جس کے ایک دن میں دو سو مریض ہوں — وہ ہر مریض کو صرف دو منٹ دے سکے گا۔ کیا ایسے ڈاکٹر سے علاج ہوگا؟ ہمارے اسکولوں میں یہی صورتِ حال ہے۔ ایک کمرے میں ستر اسی بچے، ایک استاد، ایک تختہ سیاہ — اور پوری جماعت سے توقع کہ سب برابر سیکھیں۔

سرکاری ضابطہ کہتا ہے ایک جماعت میں پینتالیس بچے ہوں، مگر نجی اسکولوں میں یہ تعداد اکثر سو تک پہنچ جاتی ہے — کیونکہ داخلہ فیس اہم ہے، بچے کی ترقی نہیں۔ براہ راست اثر یہ ہے کہ وہ بچہ جو کچھ پوچھنا چاہتا ہے، جو جاننا چاہتا ہے، جو سست ہے یا تیز ہے — سب بھیڑ میں گم ہو جاتے ہیں۔ استاد کا وقت نہیں، توجہ نہیں، اور ہر بچے کی الگ ضرورت کو سمجھنے کا موقع نہیں۔ طویل مدتی نقصان یہ ہے کہ ذہین بچہ بھی اپنی صلاحیت کے مطابق نہیں پھل پاتا، اور کمزور بچہ مزید پیچھے چھوٹ جاتا ہے — کیونکہ نظام کو نہ اس کی فکر ہے نہ اس کی۔بھیڑ میں گم ہو گیا وہ بچہ جو پوچھنا چاہتا تھا کچھ ،استاد کا وقت نہ تھا، کلاس میں گنجائش نہ تھی۔

۷۔ غیر قانونی اسکول — سند بے کار، ریکارڈ نہیں، مستقبل کے دروازے بند

ہمارے شہروں اور قصبوں میں ہزاروں ایسے اسکول ہیں جن کے پاس نہ سرکاری منظوری ہے، نہ تسلیم شدگی، نہ باقاعدہ ریکارڈ۔ یہ ‘اسکول’ عموماً کسی اپارٹمنٹ کی منزل پر، کسی گودام میں یا ناقابلِ رہائش عمارت میں چلتے ہیں — ‘انگلش میڈیم کانونٹ’ کی چمک دار تختی کے ساتھ۔ غریب والدین یہ سوچ کر بچے بھیجتے ہیں کہ انگریزی میں پڑھا رہے ہیں — حالاں کہ نہ پڑھانے والا تربیت یافتہ ہے، نہ پڑھائی کا کوئی معیار ہے۔

براہ راست اثر یہ ہے کہ جب یہ اسکول بند ہوتا ہے — اچانک، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے — تو بچے درمیانِ سال اسکول سے باہر ہو جاتے ہیں۔ نہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ ملتا ہے، نہ کوئی ریکارڈ۔ کئی بچے سرکاری اسکول میں داخلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں مگر ‘پچھلے اسکول کے کاغذات’ نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیے جاتے ہیں۔ طویل مدتی نقصان یہ ہے کہ جب یہی بچہ بڑا ہو کر نوکری کے لیے جائے، اعلیٰ تعلیم کے لیے درخواست دے — تو اس کی سند ناقابلِ اعتبار ہوتی ہے۔ مستقبل کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، اور وہ اس غلطی کی سزا بھگتتا ہے جو اس نے نہیں، اس کے والدین کے بھروسے نے کی تھی۔غیر قانونی اسکول والدین کے خواب کیش کرتا ہے اور بچوں کا مستقبل رہن رکھ دیتا ہے۔

سات زخم، ایک لاش

ہم نے سات خرابیاں گنائیں — مگر یہ صرف فہرست نہیں ہے۔ یہ ہماری اجتماعی غفلت کا چہرہ ہے۔ جب بنیادی تعلیم کمزور ہو تو بچہ عملی زندگی میں لڑکھڑاتا ہے۔ جب کھیل کا میدان نہ ہو تو بچے کی روح گھٹتی ہے۔ جب لائبریری بند ہو تو تخیل مر جاتا ہے۔ جب استاد نا اہل ہو تو غلطیاں نسلوں میں اترتی ہیں۔ جب بیت الخلاء نہ ہو تو لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو جاتی ہیں۔ جب کلاس بھری ہو تو ہر بچہ بھیڑ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اور جب اسکول غیر قانونی ہو تو بچے کا پورا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔

یہ سات کمزوریاں مل کر ایک ایسا نظامِ تعلیم بناتی ہیں جو بچے کو انسان بنانے کی جگہ اسے ایک کمزور، بے ہتھیار اور ادھورے خواب کے ساتھ دنیا میں چھوڑ دیتا ہے۔ اور جب نظامِ تعلیم یہ کرے تو پھر قصور وار کون ہے؟ بچہ؟ والدین؟ یا وہ سماج جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش بیٹھا ہے؟

وقت آ گیا ہے کہ یہ خاموشی ٹوٹے۔ سوال اٹھائے جائیں۔ جواب مانگے جائیں۔ کیونکہ یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں — بشرطیکہ ارادہ ہو، احساس ہو اور ہمت ہو۔اے اہلِ وطن، درسگاہوں کی خبر لو، یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں — ان کی پکار سنو!

2023 کا یہ انکشاف دل دہلا دینے والا ہے: پانچویں جماعت کے ۵۰ فیصد سے زیادہ بچے دوسری جماعت کی کتاب روانی سے نہیں پڑھ پاتے۔ تیسری جماعت کے ۷۰ فیصد بچے دو ہندسوں کی تقسیم نہیں کر پاتے۔ یہ تعلیم کا بحران نہیں — یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

حل اور سفارشات — اگر واقعی ارادہ ہو!!!

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ مسائل لاعلاج ہیں؟ ہرگز نہیں۔ مگر علاج کے لیے تشخیص کے ساتھ ارادے کی بھی ضرورت ہے۔ آئیے ہر اہم فریق کے لیے الگ الگ سفارشات دیکھتے ہیں۔

حکومت کے لیے — قانون بنانا کافی نہیں، نافذ کرنا ضروری ہے

اول: تمام غیر قانونی اسکولوں کی فوری فہرست بنائی جائے اور بند کیے بغیر متبادل داخلہ یقینی بنایا جائے تاکہ بچے بے گھر نہ ہوں۔

دوم: RTE کے تحت ہر محلے میں پرائمری اسکول کی ضمانت کو زمینی سطح پر نافذ کیا جائے — خاص طور پر شہری کچی آبادیوں اور دیہی دور افتادہ علاقوں میں۔

سوم: سنگل ٹیچر اسکولوں کو ختم کیا جائے — ضم کیا جائے یا ضلعی سطح پر ٹیچنگ پول بنایا جائے۔

چہارم: اسکول کی عمارت، بیت الخلاء، لائبریری اور لیب کے لیے سالانہ بجٹ مختص ہو اور خرچ کا آڈٹ شفاف ہو۔

پنجم: اساتذہ پر غیر تدریسی بوجھ فوری کم کیا جائے — ایک الگ ‘ڈیٹا ورکر’ کا نظام بنایا جائے تاکہ استاد صرف پڑھانے پر توجہ دے۔

اسکول انتظامیہ کے لیے — تجارت نہیں، امانت سمجھیں

ہر نجی اسکول کی لازمی عوامی آڈٹ رپورٹ شائع ہو — داخلہ، فیس، اساتذہ کی قابلیت، بنیادی سہولیات۔ اسے ‘شفافیت کا چارٹر’ کہتے ہیں۔ انتظامیہ سمجھے کہ بچہ صارف نہیں، امانت ہے۔

اساتذہ کے لیے — پیشہ نہیں، مشن

پیشہ ورانہ ترقی کو ذاتی ذمہ داری سمجھیں۔ ہر سال کم از کم دو تربیتی پروگرامات میں شرکت کریں۔ لائبریری کو زندہ کریں — خود پڑھیں، بچوں کو پڑھنے کا شوق دیں۔ یاد رکھیں: استاد جب سیکھنا چھوڑ دیتا ہے تو پڑھانا بھی مر جاتا ہے۔

والدین اور سماج کے لیے — اسکول صرف اسکول کا کام نہیں

والدین مہینے میں کم از کم ایک بار اسکول جائیں — صرف رزلٹ لینے نہیں، بلکہ بچے کی تعلیمی حالت جاننے۔ محلے کی مسجد کمیٹی، سماجی تنظیمیں اور مقامی کونسلر اسکول کی نگرانی میں شریک ہوں۔ سماج جب اسکول کو اپنا مانتا ہے تو اسکول بھی معیاری بن جاتا ہے۔

میڈیا اور سول سوسائٹی کے لیے — آواز اٹھائیں

اردو اخبارات، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اسکول کی حالت کو مسلسل اجندے پر رکھیں۔ احتجاج کریں۔ RTI فائل کریں۔ اعداد و شمار جمع کریں اور عوام میں پھیلائیں۔ تعلیم کا معیار تبھی بہتر ہوگا جب سماج مطالبہ کرے گا۔

حل و سفارشات — اگر واقعی ارادہ ہو تو راستہ نکلتا ہے

مسائل کا بیان کر دینا کافی نہیں۔ کہنا آسان ہے کہ تعلیم برباد ہو رہی ہے — مشکل یہ ہے کہ اس بربادی کو روکا جائے۔ سوال یہ نہیں کہ مسائل کیا ہیں — سوال یہ ہے کہ کون ذمہ دار ہے، کیا کرنا ہے اور کب تک کرنا ہے۔ ذیل میں چھ ایسے اقدامات پیش کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف ضروری ہیں بلکہ ممکن بھی ہیں — بشرطیکہ ہر فریق اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اسے ادا کرے۔

ہم نے فن لینڈ کی مثال دیکھی، کیرلا کی کامیابی دیکھی، دہلی کے اسکول آف ایکسیلنس کا معجزہ دیکھا۔ یہ کوئی جادو نہیں تھا — یہ سیاسی عزم، سماجی شراکت اور تعلیمی وژن کا اتحاد تھا۔ ہمارے پاس بھی وہی عزم ہو سکتا ہے — بس آغاز ان چھ قدموں سے کریں۔

اقدام ۱ — غیر قانونی اسکول بند کریں اور بچوں کا متبادل یقینی بنائیں:

غیر قانونی اسکول ایک ایسا ناسور ہے جو باہر سے تعلیم کا چہرہ دکھاتا ہے اور اندر سے بچوں کا مستقبل کھا رہا ہے۔ ان اسکولوں کو بند کرنا ضروری ہے — مگر یہ کام اس طرح نہیں ہونا چاہیے کہ ایک دن نوٹس آئے اور اگلے دن تالہ لگ جائے، اور بچے درمیانِ سال سڑک پر آ جائیں۔ یہ وہی ظلم ہوگا جو پہلے سے ہو رہا ہے — بس نئے ہاتھوں سے۔درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہر غیر قانونی اسکول کی باقاعدہ فہرست بنائی جائے — ضلع وار، محلہ وار۔ پھر ان اسکولوں کے بچوں کے لیے قریبی سرکاری یا منظور شدہ اسکولوں میں نشستیں فوری مختص کی جائیں۔ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ کے بغیر داخلہ کا خصوصی اختیار ضلع تعلیمی افسر کو دیا جائے۔ تبھی بند کریں — جب بچہ محفوظ ہو جائے۔ اس اقدام کا اثر فوری اور گہرا ہوگا: ہزاروں بچے جو نامعلوم تعلیمی خلاء میں پھنسے ہیں، وہ ایک جائز، باقاعدہ اور سرکاری ریکارڈ میں موجود اسکول میں ہوں گے — اور ان کا مستقبل دوبارہ روشن ہو سکے گا۔

اقدام ۲ — سنگل ٹیچر اسکول کا المیہ ختم کریں:

ایک اکیلا استاد، پانچ جماعتیں، سو بچے، ایک کمرہ — یہ تعلیم نہیں، یہ ایک انسان کا استحصال ہے۔ UDISE+ 2022-23 کے مطابق ملک میں ایک لاکھ بارہ ہزار سے زیادہ ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ایک استاد ہے۔ یہ اعداد ہمیں شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہیں — مگر شرمندگی سے نہیں، اقدام سے حالات بدلتے ہیں۔

ریاستی حکومت کے لیے تجویز یہ ہے کہ ایسے اسکولوں کو قریبی بڑے اسکولوں میں ضم کیا جائے — ساتھ ہی بچوں کے لیے مفت ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے تاکہ دور دراز بچے محروم نہ ہوں۔ جہاں ضم کرنا ممکن نہ ہو، وہاں ‘ٹیچنگ پول’ نظام نافذ کیا جائے: ایک گروپ کے اساتذہ ایک سے زیادہ چھوٹے اسکولوں میں باری باری پڑھانے جائیں۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے ‘ورچوئل ٹیچر’ کا تجربہ بھی کیا جا سکتا ہے — جہاں ایک تربیت یافتہ استاد ویڈیو لنک پر دس دیہی اسکولوں کو بیک وقت پڑھائے۔ اس ایک قدم سے لاکھوں بچوں کا تعلیمی معیار یکدم بہتر ہو سکتا ہے۔

اقدام ۳ — بیت الخلاء اور پانی — ایمرجنسی اقدام، ابھی اور فوری:

وہ مسئلہ جسے ہم شرم سے نہیں پوچھتے — مگر جس کی وجہ سے لاکھوں بچیاں تعلیم چھوڑ دیتی ہیں۔تعلیم کے بحران پر گفتگو ہو تو نصاب کی بات ہوتی ہے، اساتذہ کی کمی کی بات ہوتی ہے، اسکول کی عمارتوں کی بات ہوتی ہے — مگر ایک مسئلہ ہے جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، جسے بیان کرتے ہوئے شاید شرم آتی ہے — وہ مسئلہ ہے بیت الخلاء کی عدم دستیابی اور صاف پانی کی غیر موجودگی۔ یہ سننے میں معمولی لگے، مگر یہ لاکھوں بچیوں کی تعلیم کی قبر ہے۔

ہم فلسفہ تعلیم پر بحث کرتے رہتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ جب ایک گیارہ بارہ سال کی بچی کو دن بھر میں ایک بار بھی بیت الخلاء کی ضرورت پڑے اور اسکول میں وہ سہولت نہ ہو — تو اس کی پریشانی، شرمندگی اور بے بسی کسی امتحانی نتیجے سے کہیں زیادہ گہری اور تکلیف دہ ہے۔ وہ دوسرے دن اسکول نہیں آتی — اور پھر تیسرے دن بھی نہیں — اور آہستہ آہستہ ایک ذہین، باصلاحیت بچی تعلیم کی دنیا سے محروم ہو جاتی ہے۔

اعداد و شمار جو دل دہلاتے ہیں

UNICEF 2022ء رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے ۳۷ فیصد سرکاری اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے الگ اور صاف بیت الخلاء کا انتظام نہیں۔

UDISE+ 2022-23: ملک کے ۱۵ فیصد اسکولوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولت دستیاب نہیں۔

Dasra تحقیق: بلوغت کے بعد ۲۳ فیصد لڑکیاں اسکول چھوڑ دیتی ہیں — اور اس میں بیت الخلاء کا نہ ہونا ایک بڑی وجہ ہے۔

RTE ایکٹ 2009ء: قانون لڑکیوں کے لیے الگ بیت الخلاء لازمی قرار دیتا ہے — مگر قانون کاغذ پر ہے، زمین پر نہیں۔

یہ اعداد صرف اعداد نہیں ہیں — ان میں ہر ہندسے کے پیچھے ایک بچی کا سپنہ دفن ہے، ایک ماں کی امید ٹوٹی ہے، اور ایک خاندان کی تقدیر بدل گئی ہے۔ اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ‘لڑکیوں کو پڑھاؤ’ — مگر اسکول میں ان کے لیے ایک بند دروازے والا کمرہ تک نہیں — تو یہ نعرہ کھوکھلا ہے، یہ وعدہ جھوٹا ہے۔

بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن پر ‘پانچ سالہ منصوبہ’ بنایا جا سکتا ہے — یہ ان میں سے نہیں ہے۔ آج بھی ہزاروں اسکولوں میں صبح کی گھنٹی بجتی ہے اور بچیاں داخل ہوتی ہیں — یہ جانتے ہوئے کہ اگلے چھ سات گھنٹے انہیں ایک فطری انسانی ضرورت کو دبا کر بیٹھنا ہے۔ یہ صرف تکلیف نہیں، یہ صحت کا مسئلہ ہے — طبی ماہرین کہتے ہیں کہ بار بار پیشاب روکنے سے مثانے کے انفیکشن اور گردے کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر لڑکیوں میں۔یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں — یہ نفسیاتی مسئلہ بھی ہے۔ جب ایک بچی پوری جماعت کے سامنے بے چینی محسوس کرتی ہے، جب وہ پانی پینا چھوڑ دیتی ہے تاکہ بیت الخلاء کی ضرورت نہ پڑے، جب وہ صبح ناشتہ چھوڑ دیتی ہے — تو اس کا دھیان کتاب پر ہوگا یا اپنی بے بسی پر؟ کیا ایسی تکلیف میں وہ سیکھ سکتی ہے؟ کیا ہم اسے ‘تعلیم’ دے رہے ہیں یا ایک روزانہ کی آزمائش میں ڈال رہے ہیں؟جو اسکول بچی کی عزت نہیں سنبھال سکتا — وہ اس کا مستقبل کیا سنوارے گا۔

بیڑ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رکیّا کی کہانی

بیڑ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رکیّا نامی ایک لڑکی چھٹی جماعت میں پڑھتی تھی۔ اسکول ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، والدین نے پڑھانے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ مگر اسکول میں لڑکیوں کا بیت الخلاء نہیں تھا — یا تھا تو اس حال میں کہ استعمال ممکن نہ تھا۔ بلوغت کے بعد رکیّا نے گھر میں کہا: ‘اسکول جانا میرے لیے مشکل ہو گیا ہے۔’ والدین نے سمجھا — شاید پیدل چلنا مشکل ہے، شاید پڑھائی مشکل ہے۔ اصل وجہ رکیّا نے کبھی نہیں بتائی — کیونکہ وہ وجہ بتائی نہیں جا سکتی تھی، بس محسوس کی جاتی تھی۔ رکیّا کا اسکول چھوٹ گیا — ہمیشہ کے لیے۔

وہ اسکول جہاں پانی کا نل تھا مگر پانی نہیں

ناگپور کے ایک نجی اسکول میں وہ نل موجود تھا جس پر ‘پینے کا پانی’ لکھا تھا — مگر نل خشک تھا، مہینوں سے۔ بچے گھر سے پانی لاتے تھے — وہ جو لا سکتے تھے۔ جو نہیں لا سکتے تھے، وہ پیاسے رہتے تھے۔ ایک استاد نے بتایا: ‘گرمیوں میں بچے بے ہوش ہو جاتے تھے — کلاس میں، باہر صحن میں۔’ انتظامیہ نے ہر بار کہا: ‘جلد ٹھیک ہو جائے گا۔’ وہ ‘جلد’ آج بھی نہیں آیا۔پانی پینے کا حق تعلیم پانے سے بھی پہلے کا حق ہے — اور ہم نے وہ بھی نہیں دیا۔

ذمہ دار کون ہے — اور انہیں کیا کرنا ہے؟

مقامی ادارے — میونسپل کارپوریشن، پنچایت، ضلع پریشد،مقامی ادارے اگر واقعی تعلیم کے دوست ہیں تو آج ہی اپنے حلقے کے ہر اسکول کا جائزہ لیں۔ ایک سادہ سا سوال پوچھیں کہ کیا اس اسکول میں لڑکیوں کے لیے الگ، صاف اور بند دروازے والا بیت الخلاء ہے؟ کیا پینے کا صاف پانی دستیاب ہے؟ اگر جواب ‘نہیں’ ہے تو تین ماہ کا ہدف مقرر کریں — اور ہدف پورا ہونے کی عوامی رپورٹ پیش کریں۔ بجٹ؟ مقامی کارپوریشنوں کے بجٹ میں ایک بیت الخلاء کی تعمیر کے لیے رقم ضرور ہے — سوال ارادے کا ہے، وسائل کا نہیں۔

ریاستی حکومت — فوری اسکیم اور نگرانی:ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک مرکزی ڈیش بورڈ بنائے جس پر ہر اسکول کی بیت الخلاء اور پانی کی صورتحال ریئل ٹائم میں دیکھی جا سکے۔ جہاں سہولت نہیں، وہاں فنڈز فوری جاری ہوں — اور جہاں فنڈز ہیں مگر کام نہیں ہوا، وہاں ذمہ دار افسر کا احتساب ہو۔ یہ کوئی نئی اسکیم نہیں مانگتا — Swachh Bharat Mission اور Mid Day Meal اسکیم کے تحت یہ رقم پہلے سے مختص ہے — بس خرچ ہونی چاہیے، سہی جگہ اور سہی وقت پر۔

والدین اور سماج — آواز اٹھائیں، خاموش نہ رہیں۔والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکول کمیٹی کے اجلاسوں میں یہ سوال اٹھائیں: ‘ہماری بیٹیوں کے لیے بیت الخلاء ہے؟’ اگر نہیں ہے تو انتظامیہ سے مطالبہ کریں، ضلع تعلیمی افسر کو لکھیں، اگر ضرورت پڑے تو RTI دائر کریں۔ یہ شرم کا معاملہ نہیں — یہ آپ کے بچے کے بنیادی حق کی بات ہے۔ سماج کے رضاکار اور تنظیمیں CSR فنڈز اور چندے سے ان اسکولوں کی مدد کر سکتی ہیں جہاں حکومت کی رسائی سست ہے۔

عملی لائحہ عمل — تین ماہ میں کیا ہو سکتا ہے

پہلا مہینہ — سروے اور فہرست

ہر ضلع میں ایک سادہ آن لائن سروے شروع کیا جائے جس میں اساتذہ یا ہیڈ ماسٹر فارم بھریں: بیت الخلاء ہے یا نہیں، صاف ہے یا نہیں، پانی کا انتظام ہے یا نہیں۔ یہ ڈیٹا ضلع تعلیمی دفتر کو ملے اور عوامی ویب سائٹ پر ڈالا جائے۔ شفافیت سب سے پہلی شرط ہے — جب لوگ دیکھ سکیں تو دباؤ خود بنتا ہے۔

دوسرا مہینہ — فنڈز اور تقرری

سروے کے نتائج کی بنیاد پر ان اسکولوں کی فہرست بنائی جائے جہاں فوری تعمیر ضروری ہے۔ مقامی کارپوریشن یا ضلع پریشد فنڈز جاری کرے — اور ایک مقامی ٹھیکیدار کو تین سے چار ہفتے کا ہدف دیا جائے۔ بیت الخلاء کی تعمیر کوئی میگا پروجیکٹ نہیں — دو تین لاکھ روپے میں ایک معیاری بیت الخلاء بن سکتا ہے۔

تیسرا مہینہ — تعمیر، معائنہ اور صفائی کا نظام

تعمیر مکمل ہونے کے بعد ضلع تعلیمی افسر خود معائنہ کرے — کاغذوں پر نہیں، جسمانی طور پر۔ اور ساتھ ہی صفائی کا مستقل نظام قائم کیا جائے: ہر اسکول میں ایک صفائی ملازم کی تقرری یا مقامی ماں گروپ (Mahila Mandal) کو یہ ذمہ داری دی جائے — ماہانہ معاوضے کے ساتھ۔ صرف تعمیر کافی نہیں — دیکھ بھال لازمی ہے۔

جب بیت الخلاء بنا — تو بچیاں واپس آئیں

راجستھان کے چورو ضلع میں ایک تجربہ کیا گیا: جن اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے الگ بیت الخلاء بنائے گئے، ان میں لڑکیوں کی حاضری چھ ماہ میں اوسطاً ۱۸ فیصد بڑھ گئی۔ یہ کوئی بڑا منصوبہ نہیں تھا، کوئی انقلاب نہیں تھا — بس ایک دیوار، ایک چھت، ایک دروازہ — اور بچی نے اسکول کو اپنا مان لیا۔

کیرلا میں جہاں صاف پانی اور بیت الخلاء کا نظام مضبوط ہے، وہاں لڑکیوں کی تعلیمی شرح ۹۶ فیصد سے اوپر ہے۔ اور جن ریاستوں میں یہ بنیادی سہولت نہیں، وہاں یہ شرح پچاس ساٹھ فیصد سے اوپر نہیں جاتی۔ یہ اتفاق نہیں ہے — یہ سبب اور نتیجے کا سیدھا رشتہ ہے۔

ایک بچی جو تعلیم پاتی ہے، وہ صرف خود آگے نہیں بڑھتی — وہ ایک پوری نسل کو آگے لے جاتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ تعلیم یافتہ ماں کے بچوں کی اسکول میں حاضری، صحت اور غذائی صورتحال کہیں بہتر ہوتی ہے۔ یعنی ایک بچی کو تعلیم دینا اگلی نسل کو بھی تعلیم دینا ہے — اور ایک بچی کو تعلیم سے محروم کرنا دو نسلوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ایک بچی کو تعلیم دو — ایک خاندان کو روشن کرو، ایک نسل کو آزاد کرو

بیت الخلاء اور صاف پانی — یہ کوئی ‘اضافی سہولت’ نہیں ہے جو بجٹ ہو تو دیں، نہ ہو تو نہ دیں۔ یہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے جو ہندوستانی آئین کے آرٹیکل ۲۱ — ‘حقِ حیات اور وقار کے ساتھ زندگی’ — کے تحت یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جب یہ حق نہیں ملتا تو ریاست اپنا فرض ادا نہیں کر رہی — اور ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم نے یہ سوال اتنے سالوں تک نہیں اٹھایا۔

آج اٹھیں — اپنے محلے کے اسکول میں جائیں۔ ایک سوال پوچھیں کہ کیا لڑکیوں کے لیے بیت الخلاء ہے؟ اگر نہیں ہے تو اسے ‘ٹھیک ہے’ مت کہیں۔ آواز اٹھائیں، مطالبہ کریں، لکھیں، بولیں — کیونکہ جب تک آپ خاموش ہیں، رکیّا جیسی بچیاں خاموشی سے تعلیم کے دروازے سے باہر نکلتی رہیں گی۔اور اگر آپ کے پاس وسائل ہیں — تاجر، این جی او، سماجی رہنما — تو آج ہی کسی ایک اسکول کو گود لیں اور وہاں یہ سہولت یقینی بنائیں۔ یہ صدقۂ جاریہ ہے — جب تک وہ بچی پڑھتی رہے گی، آپ کا اجر جاری رہے گا۔جس نے ایک بچی کے لیے دروازہ کھولا،اس نے ایک قوم کا مستقبل روشن کر دیا۔

یہ کوئی پیچیدہ پالیسی نہیں — یہ ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے جو آج بھی ہزاروں اسکولوں میں موجود نہیں۔ صاف پانی اور الگ بیت الخلاء — لڑکیوں کے لیے باحفاظت اور صاف — یہ دو سہولتیں کسی بھی اسکول کے لیے پہلی شرط ہونی چاہییں، آخری نہیں۔ مگر UNICEF 2022 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ہمارے ۳۷ فیصد سرکاری اسکولوں میں یہ سہولت آج بھی نہیں۔

مقامی ادارے ، اگر واقعی تعلیم کے دوست ہیں تو آج ہی اپنے حلقے کے ہر اسکول کا جائزہ لیں۔ جہاں بیت الخلاء نہیں، وہاں تین ماہ کے اندر بنایا جائے۔ جہاں پانی نہیں، وہاں پانی کا ٹینک یا بورنگ کی جائے۔ یہ کام نہ مہنگا ہے نہ مشکل — بس ارادہ چاہیے۔ اس ایک اقدام سے جو لڑکی آج درمیان راستے میں رک جاتی ہے، وہ کل اپنے اسکول کی راہ مڑ کر دیکھے گی اور آگے بڑھتی رہے گی۔ ہر لڑکی جو تعلیم پاتی ہے، ایک خاندان کی تقدیر بدلتی ہے — یہ سرمایہ کاری نہیں، یہ انصاف ہے۔جس اسکول میں بچی کی عزت محفوظ نہ ہو وہ اسکول نہیں — ایک ادھورا وعدہ ہے۔

اقدام ۴ — اساتذہ کا غیر تدریسی بوجھ کم کریں — فوری پالیسی کی ضرورت:

آج کا سرکاری استاد استاد نہیں رہا — وہ ایک سرکاری ملازم ہے جو اتفاق سے کلاس روم میں بھی چلا جاتا ہے۔ مڈ ڈے میل کا حساب، UDISE+ پر ڈیٹا انٹری، جنگنا، آدھار کیمپ، انتخابی ڈیوٹی، ٹیکہ کاری مہمات — یہ سب کام ‘استاد’ کے ذمے ہیں۔ RTE فورم انڈیا کے مطابق ایک ابتدائی اسکول کے استاد کا چالیس سے پچاس فیصد وقت ان غیر تدریسی کاموں میں جاتا ہے۔ تو پھر بچے کب پڑھتے ہیں؟

وزارتِ تعلیم کے لیے سفارش یہ ہے کہ ایک واضح حکم نامہ جاری کیا جائے: کوئی بھی اسکول استاد تعلیمی اوقات میں غیر تدریسی کام نہیں کرے گا۔ ہر ضلع میں ایک ‘ڈیٹا ورکر’ یا ‘اسکول ایڈمن اسسٹنٹ’ کی تقرری کی جائے جو یہ سب کام سنبھالے۔ انتخابی و مردم شماری ڈیوٹی صرف تعلیمی تعطیلات میں ہو۔ مڈ ڈے میل کی نگرانی ایک الگ ‘میل سپروائزر’ کے ذمے ہو۔ یہ پالیسی اگر آج نافذ ہو تو کل سے ہی کلاس روم میں استاد زیادہ وقت دے گا — اور بچہ زیادہ سیکھے گا۔

فن لینڈ میں استاد کا واحد کام پڑھانا ہے — اسی لیے فن لینڈ کے بچے دنیا میں سب سے آگے ہیں۔ ہمیں فن لینڈ نہیں بننا، مگر اپنے استاد کو کم از کم ‘استاد’ تو رہنے دینا ہے۔استاد جب سیکھنا چھوڑ دے تو سکھانا بھی مر جاتا ہے۔اسے آزاد کرو کہ علم کی روشنی اسی سے پھوٹتی ہے۔

اقدام ۵ — لائبریری اور لیب کو فعال کریں — ایک سیشن سے آغاز:

لائبریری اور سائنس لیب کو فعال کرنے کے لیے حکومت کا انتظار ضروری نہیں — یہ اسکول انتظامیہ اور اساتذہ کی خود ارادی سے ابھی اور یہاں شروع ہو سکتا ہے۔ لائبریری کے لیے پہلا قدم یہ ہے: ہفتے میں ایک بار ‘لائبریری پیریڈ’ لازمی قرار دیا جائے۔ کوئی امتحان نہیں، کوئی ‘اہم سوال’ نہیں — بس بچہ کوئی کتاب اٹھائے، پڑھے، سوچے۔ استاد خود کوئی کتاب اٹھائے اور اس کا خلاصہ بچوں کو سنائے — یہ جادو ہم نے خود کیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ یہ کارگر ہے۔

سائنس لیب کے لیے تجویز یہ ہے کہ ہر ماہ کم از کم دو پریکٹیکل لازمی کیے جائیں — چاہے وسائل محدود ہوں۔ سستے اور گھریلو سامان سے بھی سائنسی تجربات ہو سکتے ہیں: ایک خالی بوتل، پانی اور رنگ سے بھی سائنس سیکھی جا سکتی ہے۔ مسئلہ سامان کا نہیں، عزم کا ہے۔ بچہ جب اپنے ہاتھ سے کوئی تجربہ کرتا ہے تو وہ سبق زندگی بھر یاد رہتا ہے — کوئی رٹا وہ کام نہیں کر سکتا جو ایک تجربہ کر دیتا ہے۔اس اقدام کا اثر طویل مدتی ہے: جو بچہ آج لائبریری میں بیٹھ کر کوئی کہانی پڑھتا ہے، وہ کل کا لکھاری، مفکر یا سائنس دان ہو سکتا ہے۔ تخلیقی صلاحیت ایک اعلیٰ تعلیمی نعمت ہے — اور اس کا بیج لائبریری اور لیب میں بوئی جاتی ہے۔لائبریری بند ہو تو سمجھیں کہ ذہن بند ہے — کھولیں اسے، اور دیکھیں کتنے خواب جاگتے ہیں۔

اقدام ۶ — والدین کی ماہانہ میٹنگ — اسکول اور گھر کا پل:

تعلیم صرف اسکول کی ذمہ داری نہیں — یہ ایک مشترکہ سفر ہے جس میں استاد، والدین اور سماج سب شریک ہیں۔ مگر آج یہ رشتہ ٹوٹا ہوا ہے۔ بچے کو اسکول بھیج دینا والدین کا آخری فعل ہے — پھر رزلٹ کارڈ کے دن تک کوئی خبر نہیں۔ PTM (والدین اور استاد ملاقات) میں تیس میں سے بمشکل آٹھ والدین آتے ہیں — اور وہ بھی صرف نمبر دیکھنے کے لیے، بچے کی ذہنی حالت جاننے کے لیے نہیں۔اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ماہانہ ایک ‘والدین کا دن’ منعقد کیا جائے — جہاں نہ صرف تعلیمی ترقی بلکہ بچے کی نفسیاتی کیفیت، دوستوں سے تعلقات، سیکھنے کا طریقہ اور گھریلو حالات پر بات ہو۔ یہ میٹنگ خوف کا ماحول نہ ہو — یہ اعتماد اور تعاون کی مجلس ہو۔ سماج کے لیے تجویز ہے کہ محلے کی مسجد کمیٹی، مقامی کونسلر اور رضاکار تنظیمیں ان ملاقاتوں میں شرکت کریں — اور اسکول کو محلے کی مشترکہ امانت سمجھیں۔تحقیق بتاتی ہے کہ جن بچوں کے والدین تعلیمی عمل میں شریک ہوتے ہیں، ان کا تعلیمی معیار اوسطاً تیس سے چالیس فیصد بہتر ہوتا ہے۔ یہ کوئی وسیلہ نہیں مانگتا، یہ صرف وقت مانگتا ہے — اور وہ وقت جو آپ اپنے بچے کو دیتے ہیں، وہ بچہ ساری زندگی یاد رکھتا ہے۔جب والدین اسکول کا در کھٹکھٹاتے ہیں،تو بچوں کے خواب بھی آنکھیں کھولتے ہیں۔

آج ہم نے جو دیکھا وہ کوئی فرضی کہانی نہیں — یہ ہمارے اپنے اسکولوں کا آئینہ ہے۔ عمارتیں ٹوٹی ہیں، کمرے بھرے ہیں، میدان ختم ہیں، لائبریری خاموش ہے، لیب بند ہے، استاد تھکا ہوا ہے اور انتظامیہ حساب میں مگن ہے۔ اس سب کے باوجود اگر ہم نے خود سے یہ کہنا نہیں چھوڑا کہ ‘ہمارے یہاں سب ٹھیک ہے’ ، تو پھر نہ کوئی اسکول بدلے گا اور نہ کوئی نسل۔

غیر قانونی اسکولوں کا خاتمہ، سنگل ٹیچر اسکول کا حل، بیت الخلاء اور پانی کی فوری فراہمی، اساتذہ کا غیر تدریسی بوجھ کم کرنا، لائبریری اور لیب کو زندہ کرنا، اور والدین کو تعلیمی عمل میں شریک کرنا۔ یہ چھ قدم اگر آج اٹھائے جائیں تو ایک نسل بعد ہمارے اسکول وہ نہیں ہوں گے جو آج ہیں — وہ کہیں بہتر ہوں گے۔ہر اقدام کا ایک ذمہ دار ہے — حکومت، ریاستی سرکار، مقامی ادارے، وزارتِ تعلیم، اسکول انتظامیہ، اور سماج۔ کوئی اکیلا یہ جنگ نہیں جیت سکتا — مگر جب سب مل کر چلیں تو منزل قریب آ جاتی ہے۔ فن لینڈ میں بھی ایک وقت تھا جب اسکول ایسے ہی تھے — انہوں نے ایک نسل کی محنت سے اسے بدل دیا۔ ہم کتنی نسلیں اور برباد کریں گے؟وقت ہے کہ ہر استاد اپنی کلاس کو بہتر کرے، ہر والدین اسکول سے رشتہ جوڑے، ہر سماجی رہنما تعلیم کو اپنی ترجیح بنائے، اور ہر حکومت اسکول کو صرف ‘خانہ پری’ کا ادارہ نہیں بلکہ قوم سازی کا کارخانہ سمجھے۔ کیونکہ اسکول اگر ٹھیک ہوگا تو نسل ٹھیک ہوگی — اور نسل ٹھیک ہو تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اٹھو، درسگاہیں سنوارو۔یہ بچے ہی کل کا سورج ہیں ، انہیں روشن کرو۔

مگر مایوسی بھی درست نہیں۔ دہلی نے ثابت کیا، فن لینڈ نے راستہ دکھایا، کیرلا نے مثال قائم کی — جہاں سرکاری اسکولوں نے نجی اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ ممکن ہے — مگر اسی وقت ،جب کہ ہم سب مل کر اسکول کو اپنی ذمہ داری سمجھیں گے ، صرف حکومت کا محکمہ نہیں۔اسکول قوم کی نرسری ہے — جب نرسری بیمار ہو تو پھول نہیں کھلتے۔آنے والی نسلیں ہم سے ایک سوال پوچھیں گی، جب سب کچھ بکھر رہا تھا — تم کیا کر رہے تھے؟ ہم آج جو جواب دیں گے، وہی ہماری اسکولوں کی حالت ہوگی۔

کیا کبھی ہوگا وہ دن جب اسکول کا در کھلے، اور بچہ لوٹے گھر ۔۔۔ آنکھوں میں روشنی لیے!!!

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *