چراغِ جستجو کو، اک رہنما چاہیے
بچوں کی جستجو اور اساتذہ کے تجربے کے درمیان وہ خاموش پُل، جسے ہم نے پہچاننا چھوڑ دیا
از: ڈاکٹر اسداللہ خان
تعلیم کے بارے میں ہمارے عہد میں سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال عموماً ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کتنے اسکول قائم ہوئے؟ کتنے بچے داخل ہیں؟ نتائج کا تناسب کیا ہے؟ ڈراپ آؤٹ کی شرح کتنی ہے؟ نئی عمارتیں کتنی بنیں؟ کتنی اسمارٹ کلاسیں قائم ہوئیں؟ کتنے ٹیبلیٹ تقسیم ہوئے؟ کتنے پورٹل فعال ہوئے؟ بلاشبہ یہ تمام سوال اپنی جگہ اہم ہیں، کیونکہ کسی بھی تعلیمی نظام کی ظاہری کیفیت کا اندازہ انہی اعداد و شمار سے لگایا جاتا ہے۔
لیکن ان تمام سوالوں کے شور میں ایک ایسا سوال خاموشی سے کہیں کھو گیا ہے، جو درحقیقت تعلیم کی روح سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ آخر کلاس روم کے اندر وہ کون سی قوت ہے جو ایک بچے کے اندر سیکھنے کی حقیقی خواہش پیدا کرتی ہے؟ وہ کون سا لمحہ ہے جب معلومات، علم میں ڈھلتی ہے، علم فہم میں تبدیل ہوتا ہے اور فہم، شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے؟ وہ کون سی روشنی ہے جو محض الفاظ کو معنی عطا نہیں کرتی بلکہ انسان کے باطن کو بھی روشن کر دیتی ہے۔
یہ سوال اس لیے کم پوچھا جاتا ہے کہ اس کا جواب کسی چارٹ، کسی گراف یا کسی سرکاری رپورٹ میں نہیں ملتا۔ جس حقیقت کو اعداد میں قید نہ کیا جا سکے، اسے پالیسی کی زبان میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔ حالانکہ تعلیم کی اصل جان انہی غیر مرئی حقیقتوں میں پوشیدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کی بنیاد نصاب، عمارت، ٹیکنالوجی یا امتحانات پر نہیں، بلکہ ایک ایسے خاموش انسانی رشتے پر قائم ہوتی ہے جو ایک استاد اور اس کے شاگرد کے درمیان اعتماد، احترام، محبت اور رہنمائی کی صورت میں پروان چڑھتا ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جس کے بغیر علم محض معلومات رہ جاتا ہے، چاہے کلاس روم میں جدید ترین اسمارٹ بورڈ نصب ہوں یا مصنوعی ذہانت کی بے شمار سہولتیں موجود ہوں۔
آج کا بچہ شاید انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ باخبر بچہ ہے۔ اس کی انگلیوں کی ایک جنبش اسے تاریخ، جغرافیہ، سائنس، فلسفہ، ادب اور دنیا بھر کے علوم تک چند لمحوں میں پہنچا دیتی ہے۔ کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب وہ چند سیکنڈ میں تلاش نہ کر سکے، کوئی واقعہ ایسا نہیں جس کی خبر اس تک فوراً نہ پہنچ جائے۔ لیکن ایک بنیادی حقیقت آج بھی اپنی جگہ قائم ہے: معلومات اور سمجھ ایک چیز نہیں ہوتیں۔
یہ دونوں اتنے ہی مختلف ہیں جتنا کسی نقشے کو دیکھ لینا اور واقعی اس سفر سے گزر جانا۔ نقشہ راستہ دکھا سکتا ہے، مگر سفر کا تجربہ نہیں دے سکتا۔ معلومات ذہن بھر سکتی ہیں، مگر بصیرت پیدا نہیں کر سکتیں۔ آج کے بچے کا سب سے بڑا بحران معلومات کی کمی نہیں، بلکہ معلومات کی فراوانی ہے۔ اس کے پاس جواب تو بے شمار ہیں، مگر سوالوں کی ترتیب نہیں۔ اس کے سامنے علم کا ایک وسیع سمندر موجود ہے، مگر سمت دکھانے والا قطب نما کہیں کھو گیا ہے۔ وہ ہر موضوع پر کچھ نہ کچھ جانتا ہے، لیکن یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ کون سی بات اہم ہے، کون سی غیر ضروری؛ کس اطلاع پر یقین کیا جائے اور کس دعوے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نئی نسل معلومات کے ایک بے کنار دریا میں تیرنے کے بجائے اس میں بہتی چلی جا رہی ہو۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پانی کم ہے، مسئلہ یہ ہے کہ انہیں تیرنا سکھانے والا کوئی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک استاد کی موجودگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
معلومات کا انبار انسان کو عالم نہیں بناتا. علم بھی اس وقت تک حکمت میں تبدیل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ ایک صاحبِ بصیرت رہنما موجود نہ ہو۔
حقیقی سمجھ کہاں سے جنم لیتی ہے؟
تعلیمی نفسیات برسوں کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ حقیقی سمجھ — جسے آج Deep Comprehension کہا جاتا ہے — اُس وقت جنم لیتی ہے جب بچہ کسی نئے تصور کو اپنے ذاتی تجربات، اپنے جذبات، اپنے مشاہدات اور اپنی زندگی سے جوڑنے لگتا ہے۔ یہ ربط کسی سرچ انجن، کسی ویڈیو یا کسی الگورتھم کے ذریعے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ربط ایک ایسے استاد پیدا کرتا ہے جو صرف مضمون نہیں جانتا بلکہ بچے کو بھی جانتا ہے؛ جو صرف سبق نہیں پڑھاتا بلکہ ذہنوں کو پڑھنا بھی جانتا ہے؛ جو بچے کی الجھن کو محسوس کرتا ہے، اس کے سوال کو سمجھتا ہے اور پھر اس کی ذہنی سطح کے مطابق اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
اسی حقیقت کو معروف ماہرِ تعلیم Lev Vygotsky نے اپنی مشہور نظریاتی تعبیر Zone of Proximal Development میں بیان کیا تھا۔ ان کے نزدیک ہر بچہ اپنی موجودہ صلاحیت سے کچھ آگے بڑھنے کی استعداد رکھتا ہے، لیکن اس اگلے مرحلے تک پہنچنے کے لیے اسے ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں تک لے جائے جہاں وہ اکیلا نہیں پہنچ سکتا۔ وہ رہنما کوئی اسکرین نہیں ہوتا، کوئی الگورتھم نہیں ہوتا، کوئی مصنوعی ذہانت نہیں ہوتی — وہ ایک حساس، باشعور، صاحبِ تجربہ اور انسان دوست استاد ہوتا ہے۔
اسی لیے شاید آج کے تعلیمی منظرنامے کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ بچوں کے ہاتھوں میں کتنی معلومات موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان معلومات کے اس بے کنار سمندر میں ان کی رہنمائی کون کر رہا ہے؟
استاذ کا تجربہ ،وہ خاموش علم جو کتاب میں نہیں ملتا، یہ تجربہ کوئی سند نہیں جسے دیوار پر آویزاں کر دیا جائے، نہ یہ کسی ورکشاپ کا سرٹیفکیٹ ہے اور نہ چند روزہ تربیتی کورس کا حاصل۔ حقیقی تجربہ برسوں کی مسلسل تدریس، سیکڑوں بچوں کی نفسیات کو سمجھنے، ہزاروں سوالوں کا سامنا کرنے، بے شمار ناکامیوں سے سیکھنے اور ہر روز اپنے آپ کو بہتر بنانے کے عمل سے جنم لیتا ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جسے نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ چند مہینوں میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔
اسی حقیقت کو معروف فلسفی Michael Polanyi نے Tacit Knowledge کا نام دیا تھا، یعنی وہ علم جسے مکمل طور پر الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، بلکہ جو مسلسل تجربے کے ذریعے شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ وہ شعور ہے جو کتابوں سے زیادہ زندگی سکھاتی ہے، اور جسے سمجھنے کے لیے صرف عقل نہیں بلکہ مشاہدہ، احساس اور مسلسل عمل درکار ہوتا ہے۔
اسی لیے ایک صاحبِ تجربہ استاذ کلاس روم میں داخل ہوتے ہی بہت سی ایسی باتیں محسوس کر لیتا ہے جو کسی مشین، کسی کیمرے یا کسی مصنوعی ذہانت کے لیے ممکن نہیں ہوتیں۔ وہ جان لیتا ہے کہ آج کلاس کی فضا معمول سے مختلف کیوں ہے۔ وہ محسوس کر لیتا ہے کہ کون سا بچہ کسی گھریلو پریشانی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ وہ پہچان لیتا ہے کہ کون خاموش ضرور ہے، مگر اس خاموشی کے پیچھے سوالوں کا ایک طوفان چھپا ہوا ہے۔ وہ یہ بھی دیکھ لیتا ہے کہ کون سا طالب علم بار بار ایک ہی غلطی اس لیے دہرا رہا ہے کہ وہ اپنی کمزوری نہیں، اپنی الجھن بیان کرنا چاہتا ہے۔ یہ صلاحیت نہ کسی سافٹ ویئر میں پروگرام کی جا سکتی ہے، نہ کسی الگورتھم میں لکھی جا سکتی ہے — یہ صرف ایک ایسے انسان میں پیدا ہوتی ہے جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بچوں کے ساتھ گزارا ہو۔
ایک تجربہ کار استاذ بچے کی آنکھ سے پڑھتا ہے وہ سبق، جو کسی نصاب میں نہیں لکھا ہوتا۔
بدقسمتی سے ہمارے عہد کا ایک بڑا المیہ یہی ہے کہ ہم نے اس قیمتی تجربے کی قدر کم کر دی ہے۔ ہم نے استاذ کو معلم سے زیادہ منتظم بنا دیا ہے۔ اس کا زیادہ وقت بچوں کے درمیان نہیں، بلکہ پورٹلز، رپورٹس، رجسٹروں، آن لائن اندراجات، ڈیجیٹل فارمز اور سرکاری ہدایات کی تکمیل میں صرف ہونے لگا ہے۔ UDISE+ سے لے کر Mid-Day Meal کے ریکارڈ تک، روز نت نئی ذمہ داریاں اس کے کندھوں پر ڈال دی جاتی ہیں، یہاں تک کہ وہ ذہن جو بچوں کی نفسیات، تخلیقی صلاحیتوں اور فکری نشوونما پر صرف ہونا چاہیے تھا، اعداد و شمار کی دنیا میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔
یہ صرف استاذ کے وقت کا ضیاع نہیں — یہ تعلیم کی روح کا نقصان ہے۔ جب استاذ کا ذہن کلاس روم سے ہٹ کر کاغذی کارروائی میں مصروف ہو جائے تو سب سے پہلے متاثر ہونے والی چیز بچے کا سیکھنا ہوتی ہے، کیونکہ تعلیم کی اصل طاقت کتاب میں نہیں، استاذ کی توجہ میں ہوتی ہے۔
کلاس روم کی زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جنہیں نہ کسی امتحانی نتیجے سے ناپا جا سکتا ہے اور نہ کسی تعلیمی رپورٹ میں درج کیا جا سکتا ہے۔ وہ لمحہ جب کسی بچے کی آنکھوں میں اچانک سمجھ کی روشنی نمودار ہوتی ہے اور وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے: ”سر! اب سمجھ میں آ گیا” — یہ صرف ایک تعلیمی کامیابی نہیں ہوتی، بلکہ انسانی شعور کے بیدار ہونے کا لمحہ ہوتا ہے۔
اس لمحے کو نہ کوئی اسمارٹ بورڈ پیدا کر سکتا ہے، نہ کوئی مصنوعی ذہانت، نہ کوئی ویڈیو لیکچر۔ یہ روشنی صرف ایک ایسے استاذ پیدا کرتا ہے جو ایک ہی تصور کو مختلف زاویوں سے سمجھانے کا حوصلہ رکھتا ہو، جو بار بار کوشش کرنے سے نہ تھکتا ہو، جو ہر بچے کی ذہنی ساخت کو الگ سمجھتا ہو اور جو اس حقیقت پر یقین رکھتا ہو کہ ہر بچے تک پہنچنے کا راستہ بھی منفرد ہوتا ہے۔ اسی لیے تعلیم کبھی صرف معلومات کی منتقلی کا نام نہیں رہی — تعلیم ہمیشہ انسان سے انسان تک سفر کرنے والی ایک زندہ روایت رہی ہے، اور شاید ہمیشہ رہے گی۔
چراغِ جستجو اپنی روشنی خود پیدا ضرور کر لیتا ہے، مگر اس روشنی کو راستہ دکھانے کے لیے آج بھی ایک رہنما کی ضرورت باقی ہے۔کیونکہ معلومات کا انبار انسان کو عالم نہیں بناتا، اور علم بھی اس وقت تک حکمت میں تبدیل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ ایک صاحبِ بصیرت رہنما موجود نہ ہو۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہر چراغِ جستجو کو ایک رہنما چاہیے

