دیوار اور سائبان

ہندوستانی گھرانوں میں تربیتِ اولاد کے طریقے، اُن کے اثرات اور اصلاح کی راہیں

ڈاکٹر اسد اللہ خان

ایک ہی گلی ہے اور دو گھر۔ دونوں کے بچے ایک ہی اسکول سے ایک ہی خبر لے کر لوٹے ہیں: ریاضی کے پرچے میں ناکامی۔ پہلے گھر کا دروازہ کھلتے ہی آواز بلند ہوتی ہے، طعنوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے، اور بچہ کاپی سینے سے چھپائے دیوار سے لگ جاتا ہے۔ دوسرے گھر میں باپ پرچہ ہاتھ میں لیتا ہے، بیٹے کو پاس بٹھاتا ہے اور دھیمے لہجے میں صرف اتنا پوچھتا ہے: “یہ سوال تمھیں مشکل کیوں لگا؟” دس برس بعد پہلا بچہ جھوٹ بولنے میں طاق ہو چکا ہوگا اور دوسرا سوال کرنے میں۔ فرق پرچے کا نہ تھا، فرق تربیت کا تھا۔

چالیس برس تک درس گاہوں میں بچوں کو پڑھتے، بگڑتے اور سنورتے دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قوموں کی تقدیر کے فیصلے ایوانوں میں نہیں، دسترخوانوں پر ہوتے ہیں۔ اسکول بعد میں آتا ہے، گھر پہلے آتا ہے؛ استاد بعد میں ملتا ہے، ماں باپ پہلے ملتے ہیں۔ اور جو سبق گھر کی دہلیز پر پڑھا دیا جائے، دنیا کی کوئی جماعت اسے آسانی سے مٹا نہیں سکتی۔

عام گفتگو میں تربیت کا مطلب کھلانا پلانا، فیس بھرنا اور شادی تک پہنچا دینا سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ پرورش جسم کی خدمت ہے اور تربیت شخصیت کی تعمیر۔ ماہرینِ نفسیات نے اس تعمیر کو دو ستونوں پر کھڑا دیکھا ہے۔ پہلا ستون شفقت ہے: بچے کی بات سننا، اس کے جذبات کو وزن دینا، اس کی پکار پر لبیک کہنا۔ دوسرا ستون نظم ہے: حد مقرر کرنا، توقع رکھنا اور اصول پر قائم رہنا۔ انہی دو ستونوں کے اتار چڑھاؤ سے تربیت کے سارے رنگ بنتے ہیں۔ جہاں دونوں موجود ہوں وہاں شخصیت بنتی ہے؛ جہاں ایک ہو اور دوسرا غائب، وہاں شخصیت لنگڑاتی ہے؛ اور جہاں دونوں مفقود ہوں وہاں بچہ پلتا ضرور ہے، بنتا نہیں۔

گزشتہ صدی کے وسط میں امریکی ماہرِ نفسیات ڈایانا بومرینڈ نے والدین کے رویوں کا منظم مطالعہ کر کے تین طرزیں متعین کیں، جن میں بعد کے محققین میکوبی اور مارٹن نے چوتھی کا اضافہ کیا۔ آج دنیا بھر کی تعلیمی اور نفسیاتی تحقیق انہی چار خانوں کو بنیاد بناتی ہے۔ میں انھیں چار استعاروں میں دیکھتا ہوں۔

پہلی طرز دیوار ہے، جسے علمی زبان میں آمرانہ تربیت کہتے ہیں۔ حکم اونچا، شفقت خاموش۔ بچے سے توقعات آسمان چھوتی ہیں مگر مکالمے کا دروازہ بند رہتا ہے۔ “کیوں” پوچھنا گستاخی ہے، اختلاف بغاوت ہے، اور خاموش تعمیل ہی واحد قابلِ قبول جواب۔

دوسری طرز سائبان ہے: مشفقانہ مگر بااصول تربیت۔ یہاں اصول اتنے ہی پختہ ہیں مگر ان کے ساتھ وجہ بھی بتائی جاتی ہے، بچے کی رائے سنی جاتی ہے، اور حد سے تجاوز پر گرفت محبت کے لہجے میں ہوتی ہے۔ سائبان دھوپ روکتا ہے، روشنی نہیں روکتا۔

تیسری طرز کھلا آسمان ہے: بے قید لاڈ، جسے تحقیق کی اصطلاح میں متساہل تربیت کہا جاتا ہے۔ محبت بے حساب، اصول ندارد۔ بچہ جو مانگے حاضر، جو کرے معاف۔ بظاہر یہ آزادی ہے، درحقیقت بے سائبانی ہے، کیونکہ کھلے آسمان تلے دھوپ بھی سیدھی پڑتی ہے اور بارش بھی۔

چوتھی طرز ویرانہ ہے: غفلت شعار تربیت۔ نہ شفقت نہ نظم؛ ماں باپ موجود ہیں مگر حاضر نہیں۔ روٹی کپڑے کا انتظام ہے، دل کا کوئی انتظام نہیں۔ یہ چاروں راستے ایک ہی دہلیز سے نکلتے ہیں مگر چار مختلف انسانوں تک پہنچتے ہیں۔

ہندوستان کی روایتی تربیت صدیوں سے بزرگوں کے ادب، خاموش اطاعت اور خاندان کے اجتماعی فیصلوں پر قائم رہی ہے۔ اس نظام کی اپنی برکتیں تھیں: رشتوں کی گرمی، بزرگوں کا سایہ، مشترکہ خاندان کی وہ درس گاہ جہاں دادی کی کہانی اور چچا کی نگرانی مفت میسر تھی۔ مگر اسی نظام کے پہلو میں ایک سخت سچائی بھی چھپی رہی: بچے کی رائے کو رائے سمجھا ہی نہیں گیا۔ تحقیق اس تاثر کی تصدیق کرتی ہے۔ جنوبی ہندوستان کے دیہی سرکاری اسکولوں کے ساڑھے چار سو کے قریب نوعمر طلبہ پر کیے گئے ایک مطالعے میں آمرانہ طرز سب سے زیادہ رائج پائی گئی، اگرچہ مشفقانہ بااصول طرز اس سے کچھ ہی پیچھے تھی۔ کیرالا کے ایک ضلعی مطالعے نے یہ اضافہ کیا کہ جن گھروں میں ماں باپ دونوں موجود ہوں اور وسائل نسبتاً بہتر ہوں وہاں مکالمے والی تربیت زیادہ ملتی ہے، جبکہ تنگ دستی اور تنہا والدین کے گھروں میں سختی کا پلڑا بھاری رہتا ہے۔ گویا آمریت ہمیشہ مزاج نہیں ہوتی، اکثر مجبوری بھی ہوتی ہے: تھکے ہوئے والدین کے پاس مکالمے کا وقت نہیں بچتا، صرف حکم کی طاقت بچتی ہے۔

مگر تصویر بدل رہی ہے، اور جس رخ پر بدل رہی ہے وہ اطمینان سے زیادہ فکر کا مقام ہے۔ شہری متوسط گھرانوں کے حالیہ مشاہدات بتاتے ہیں کہ نئی نسل کے والدین میں بے قید لاڈ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جس معاشرے نے کل بچے کی زبان بند رکھی تھی، وہ آج اس کی ہر ضد کے آگے ہتھیار ڈال رہا ہے۔ دیوار گری تو اس کی جگہ سائبان تعمیر نہ ہوا؛ سیدھا کھلا آسمان آ گیا۔ ایک انتہا کا ردِعمل دوسری انتہا بن گیا، اور اعتدال دونوں زمانوں میں اجنبی رہا۔

مسلم معاشرے کا منظر اس عمومی تصویر سے الگ نہیں، مگر اس میں دو رنگ زیادہ گہرے ہیں۔ ہمارے ہاں بڑے پیمانے کی مستند تحقیق کم ہوئی ہے، لیکن دستیاب مطالعات اور میرا چار دہائیوں کا مشاہدہ ایک ہی طرف اشارہ کرتے ہیں: ہمارے گھروں میں بالعموم دو انتہائیں ساتھ ساتھ آباد ہیں۔ ایک طرف وہ آمریت ہے جس نے دین جیسے لطیف موضوع کو بھی حکم کے لہجے میں ڈھال دیا۔ نماز ڈانٹ کر پڑھوائی جاتی ہے، قرآن خوف کے سائے میں یاد کرایا جاتا ہے، اور حیا سمجھانے کے بجائے تھوپ دی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ عبادت جسم پر نافذ ہو جاتی ہے، دل میں نہیں اترتی؛ اور گھر کی نگرانی ختم ہوتے ہی وہ فرائض بھی رخصت ہو جاتے ہیں جو صرف نگرانی کے دم سے قائم تھے۔

دوسری طرف وہ غفلت آمیز لاڈ ہے جو خاص طور پر بیٹوں کے حصے میں آتا ہے: بیٹی پر ضابطے سخت، بیٹے پر سب کچھ معاف۔ یہی بیٹا بڑا ہو کر جب نہ گھر میں ذمے داری اٹھاتا ہے نہ معاملات میں دیانت برتتا ہے تو ہم حیران ہوتے ہیں، حالانکہ حیرت کی گنجائش نہیں: جس کھیت کی کبھی نرائی نہ ہوئی ہو اس میں خود رَو جھاڑیوں کا اگنا طے ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ جس امت کے پاس تربیت کا سب سے متوازن نمونہ موجود تھا، اس نے وہ نمونہ کتابوں میں محفوظ کر کے گھروں سے نکال دیا اور تربیت کا کام اسکول اور مدرسے کو ٹھیکے پر دے دیا۔ حالانکہ استاد چراغ کی لَو سنوار سکتا ہے، چراغ ڈھالنے کا کام گھر ہی میں ہوتا ہے۔

قرآن نے تربیت کا جو منظر محفوظ کیا ہے وہ کسی حاکم کا دربار نہیں، ایک باپ کی مجلس ہے۔ سورۂ لقمان میں حکیم باپ اپنے بیٹے کو “یٰبُنَیَّ” یعنی “اے میرے پیارے بیٹے” کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ نصیحت کے مضامین سخت ہیں: شرک ظلمِ عظیم ہے، نماز قائم کرو، زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔ مگر لہجہ شفقت میں ڈوبا ہوا ہے۔ اصول پہاڑ جیسے، انداز چشمے جیسا۔ یہی تو سائبان ہے: نہ اصول میں رعایت، نہ لہجے میں کڑواہٹ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اس نمونے کی عملی تفسیر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔ نواسے دورانِ نماز پشتِ مبارک پر آ بیٹھتے تو سجدہ طویل ہو جاتا؛ بچوں کو سلام کرنے میں آپ خود پہل فرماتے؛ اور دس برس خدمت کرنے والے حضرت انسؓ گواہی دیتے ہیں کہ اس پوری مدت میں کبھی “اف” تک نہ سنی۔ مگر یہی پیکرِ رحمت اصول کے معاملے میں ایسا غیر متزلزل کہ فرما دیا: اگر میری اپنی بیٹی بھی حد توڑے تو قانون اس پر بھی نافذ ہوگا۔ شفقت اور نظم، دونوں اپنی انتہا پر، اور دونوں ساتھ ساتھ۔ چودہ صدیاں پہلے جو توازن قائم ہو چکا تھا، جدید تحقیق آج اسی کو بہترین طرزِ تربیت کے عنوان سے دریافت کر رہی ہے۔

جدید نفسیات نے ان چاروں راستوں کے مسافروں کا برسوں تعاقب کیا ہے اور فیصلہ حیران کن حد تک یکساں رہا ہے، مشرق ہو یا مغرب۔ ہندوستان اور مغربی ممالک کی تحقیق کا موازنہ کرنے والے ایک علمی جائزے کا حاصل یہ نکلا کہ ثقافت بدلنے سے نتیجہ نہیں بدلتا: مکالمے اور اصول والی تربیت ہر معاشرے میں بہتر شخصیت دیتی ہے، اور خوف والی تربیت ہر معاشرے میں ایک جیسے زخم چھوڑتی ہے۔ آمرانہ گھرانوں کے بچوں میں خود اعتمادی کم، ذہنی دباؤ زیادہ اور اندر ہی اندر پکنے والی جارحیت نمایاں ملی؛ جبکہ مشفقانہ بااصول گھروں کے بچے نفسیاتی طور پر زیادہ مطمئن، تعلیمی میدان میں زیادہ ثابت قدم اور آزمائشوں کے مقابل زیادہ لچک دار پائے گئے۔

اس کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔ خوف صرف رویہ بدلتا ہے، یقین شخصیت بدلتا ہے۔ ڈر کے مارے بچہ وہی کرتا ہے جو کہا جائے، مگر صرف اس وقت تک جب تک دیکھنے والی آنکھ موجود ہو۔ آنکھ ہٹی اور اصول گرا۔ اس کے برعکس جس بچے کو حکم کے ساتھ حکمت بھی ملی ہو، وہ تنہائی میں بھی اسی راستے پر چلتا ہے، کیونکہ اب راستہ باہر سے مسلط نہیں، اندر سے روشن ہے۔ اور بے قید لاڈ کا نقصان تیسری سمت سے آتا ہے: جس بچے نے کبھی “نہیں” نہیں سنی، زندگی جب اسے پہلی بار “نہیں” کہتی ہے تو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ضد، بے صبری اور ناکامی کا عدمِ تحمل، یہ سب اسی کھلے آسمان کے تحفے ہیں۔ آمریت اطاعت پیدا کرتی ہے، تربیت نہیں؛ خوف حکم منواتا ہے، یقین نہیں دیتا۔

میں نے جماعتوں میں وہ خاموشی برسوں دیکھی ہے جسے ہم نظم سمجھ کر سراہتے رہے، حالانکہ وہ خوف تھی۔ جس بچے کو گھر میں سکھا دیا گیا ہو کہ بڑوں سے سوال نہیں کرتے، وہ جماعت میں استاد سے کیا پوچھے گا؟ رٹنے کی جس وبا کا ماتم ہم تعلیمی مضامین میں کرتے ہیں اس کا پہلا بیج درس گاہ میں نہیں، دسترخوان پر بویا جاتا ہے۔ جہاں “کیوں” کہنا بدتمیزی ٹھہرے وہاں تحقیق کیسے جنم لے؟ سائنس سوال سے شروع ہوتی ہے، سوال حوصلے سے، اور حوصلہ اس یقین سے کہ پوچھنے پر ڈانٹ نہیں پڑے گی۔ جو والدین شام کو بچے کا سوال سن لیتے ہیں، وہ دراصل صبح کی جماعت کو ایک متجسس ذہن کا تحفہ بھیجتے ہیں۔ جس گھر میں بچہ سوال کرنے سے ڈرتا ہے، اس گھر نے قوم کی درس گاہ کو خاموش کر دیا۔

تربیت کی طرزیں وراثت کی طرح منتقل ہوتی ہیں۔ جو ہاتھ بچپن میں اٹھتا دیکھا گیا، وہ جوانی میں خود اٹھنے لگتا ہے؛ جو لہجہ کانوں میں اترا تھا، وہ برسوں بعد اپنی اولاد پر برستا ہے۔ محققین نے بھی نوٹ کیا ہے کہ والدین بالعموم اسی سانچے میں تربیت کرتے ہیں جس میں خود ڈھالے گئے تھے۔ اسی لیے آمریت صرف ایک گھر کا مسئلہ نہیں، نسل در نسل چلنے والا سلسلہ ہے جسے کوئی ایک نسل شعوری فیصلے ہی سے توڑ سکتی ہے۔

اور ہمارے عہد نے اس پرانے مسئلے میں ایک نیا پیچ ڈال دیا ہے۔ والدین کی مصروفیت نے تربیت کا جو خلا پیدا کیا، وہ خلا اسکرین نے بھر لیا۔ نتیجہ ایک نئی طرز ہے جسے میں ڈجیٹل غفلت کہتا ہوں: بظاہر لاڈ، درحقیقت لاتعلقی۔ بچے کو مہنگا فون دلا دینا محبت کا ثبوت سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ اکثر یہ وقت نہ دے سکنے کا کفارہ ہوتا ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے سب موجود ہیں مگر ہر ہاتھ میں الگ دنیا روشن ہے، اور جو بچہ گھر میں سنا نہیں جاتا وہ سننے والے باہر ڈھونڈ لیتا ہے، خواہ وہ سننے والے اجنبی اسکرینوں کے پار بیٹھے ہوں۔

اصلاح کا پہلا قدم یہ اعتراف ہے کہ تربیت فطری وجدان نہیں، سیکھا جانے والا فن ہے۔ ہم گاڑی چلانے کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ ضروری سمجھتے ہیں مگر ایک انسان ڈھالنے کے لیے کسی تیاری کو ضروری نہیں سمجھتے۔ یہ اعتراف ہو جائے تو آگے کا راستہ دشوار نہیں۔

سب سے پہلے حکم سے پہلے تعلق قائم کیجیے۔ دن میں کچھ لمحے ایسے نکالیے جن میں نہ نصیحت ہو نہ نتیجے کا سوال؛ صرف سننا ہو۔ جس بچے کو یقین ہو کہ اس کی بات وزن رکھتی ہے، وہ ماں باپ کی بات کو بھی وزن دیتا ہے۔ دوسرا قدم یہ کہ ہر حکم کے ساتھ اس کی حکمت بتائیے۔ “ایسا کرو کیونکہ میں کہہ رہا ہوں” وقتی اطاعت دیتا ہے؛ “ایسا کرو کیونکہ اس میں یہ مصلحت ہے” مستقل کردار دیتا ہے۔ تیسرا قدم غلطی اور شخصیت کی تفریق ہے: گرفت فعل پر کیجیے، ذات پر نہیں۔ “تم نے غلط کیا” اصلاح کا دروازہ کھولتا ہے، “تم نکمے ہو” شخصیت کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔

چوتھا قدم دین کو محبت کی زبان میں منتقل کرنا ہے۔ جو نماز باپ کے ساتھ کھڑے ہو کر سیکھی جائے وہ عمر بھر ساتھ چلتی ہے؛ جو ڈنڈے سے پڑھوائی جائے وہ ڈنڈے کے ساتھ ہی رخصت ہو جاتی ہے۔ پانچواں قدم ماں باپ کی یکسوئی ہے: ایک ڈھیل دے اور دوسرا سختی کرے تو بچہ اصول نہیں سیکھتا، اصول سے بچ نکلنے کے راستے سیکھتا ہے۔ چھٹا قدم “نہیں” کہنے کا سلیقہ اور اس پر ثبات ہے، کیونکہ جو حد آج محبت سے قائم نہ کی جائے وہ کل زمانہ سختی سے قائم کرتا ہے۔ اور ساتواں قدم تعلیمی اداروں کے دروازے پر دستک دیتا ہے: اسکول صرف بچوں کے معلم نہ رہیں، والدین کی تربیتی نشستوں کا اہتمام بھی کریں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جس دن اسکول والدین سے صرف فیس اور شکایت کے بجائے تربیت پر گفتگو کرتا ہے، اس دن بچے کی دونوں درس گاہیں ایک صف میں آ کھڑی ہوتی ہیں۔

جو قوم اپنے بچوں سے صرف اطاعت مانگتی ہے وہ اطاعت گزار ہجوم پاتی ہے، قیادت نہیں پاتی؛ اور جو قوم اپنے بچوں کو ہر حد سے آزاد کر دیتی ہے وہ آزاد افراد نہیں، بے لنگر کشتیاں پاتی ہے۔ کل کے دفتروں، عدالتوں اور ایوانوں میں وہی لہجے گونجیں گے جو آج ہمارے کمروں میں بولے جا رہے ہیں۔ تعلیمی پالیسیاں نصاب بدل سکتی ہیں، دسترخوان کا لہجہ نہیں بدل سکتیں؛ یہ کام کوئی حکومت ہماری طرف سے نہیں کر سکتی۔ ہر شام، ہر گھر میں، یہ فیصلہ نئے سرے سے ہوتا ہے کہ آنے والا ہندوستان کیسے شہریوں سے آباد ہوگا۔

واپس اسی گلی میں چلیے جہاں سے یہ مضمون شروع ہوا تھا۔ دونوں گھروں کے دروازے آج بھی ویسے ہی ہیں؛ فرق صرف ان لہجوں کا ہے جو ان دروازوں کے پیچھے بولے جاتے ہیں۔ دیوار اور سائبان میں بس اتنا فاصلہ ہے: دیوار بچے کو روکتی ہے، سائبان اسے پناہ دیتا ہے؛ دیوار کے سائے میں قد چھپ جاتے ہیں، سائبان کے نیچے قد بڑھتے ہیں۔ نہ ہمیں دیوار بننا ہے نہ کھلا آسمان؛ ہمیں سائبان بننا ہے، جو دھوپ سے بچائے مگر روشنی نہ روکے۔

اولاد ہماری ملکیت نہیں، امانت ہے، اور امانت پر حکومت نہیں کی جاتی، اس کی حفاظت کی جاتی ہے۔ جس دن ہم نے یہ ایک جملہ دل سے مان لیا، اس دن ہمارے لہجے خود بدل جائیں گے، اور لہجے بدلے تو نسلیں بدلیں گی۔ مٹی میں کوئی خرابی نہیں؛ اسے صرف اس نمی کی ضرورت ہے جو سختی سے نہیں، شفقت سے ٹپکتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *