ڈاکٹر اسداللہ خان
عصرِ حاضر کا ہندوستان ایک ایسے فکری و تہذیبی موڑ پر کھڑا ہے جہاں مادی ترقی کی چکا چوند تو عروج پر ہے، مگر ہماری اخلاقی اور تعلیمی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہوتی جا رہی ہیں۔ آج جب ہم اپنے تعلیمی گلستان پر نظر ڈالتے ہیں، تو وہاں علم کی خوشبو کے بجائے امتحانات کا دھواں اور مقابلوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ تعلیم کی حقیقی روح جو امتحانی پرچوں اور میرٹ لسٹوں کے نیچے دب کر دم توڑ چکی ہے،آج اس کی بازیافت کی پکارنےبے چین کردیا ہے ۔
انسانی تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں تو کائنات کے سب سے بڑے معلمِ اعظم پر نازل ہونے والا پہلا الہامی حکم “امتحان دو”نہیں تھا۔ لوحِ محفوظ سے انسانیت کے نام جو پہلا ابدی پیغام اترا، وہ تھا
اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ
حکم ہواپڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔اس پہلے آسمانی سبق کا مقصد نمبرات کی دوڑ نہیں بلکہ شعور کی بیداری تھا۔ اس کا اولین حاصل کوئی دنیاوی ملازمت نہیں بلکہ خالق و مخلوق کی معرفت تھا۔ اسلام کی پوری علمی تاریخ اسی محور کے گرد گھومتی ہے۔ جب تک تعلیم ایک عبادت تھی، بغداد، قرطبہ، غرناطہ، سمرقند، بخارا اور دہلی کے مدارس سے ایسے نابغۂ روزگار انسان پیدا ہوتے تھے جو محض ڈگری یافتہ ملازم نہیں، بلکہ کائنات کے اسرا و رموز کو بے نقاب کرنے والے فلاسفر، موجد اور محقق تھے۔ امام غزالیؒ، ابن رشدؒ، ابن خلدونؒ، شاہ ولی اللہؒ اور سر سید احمد خانؒ کی علمی و فکری عظمت کا راز معلومات کے انبار میں نہیں، بلکہ ان کی فکر کی اس وسعت میں تھا جو زندگی اور کائنات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی تھی۔
مگر افسوس! صدیوں کے اس سفر میں ہم نے اس اصلِ اثاثہ کو کہیں کھو دیا۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ گوگل ہماری جیبوں میں تو موجود ہے لیکن حکمت ہمارے دلوں سے رخصت ہو چکی ہے۔ ہمارے پاس معلومات کے انبار ہیں مگر فکری گہرائی کا قحط ہے۔ ہم نے ذہنوں کو اندھا دھند معلومات سے بھرنا تو سیکھ لیا، مگر شخصیتوں کو تراشنا اور کردار کو تعمیر کرنا یکسر بھلا دیا۔
آج کا ہندوستان تعلیمی نظام کے نام پر ایک ایسی کارگاہ میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں انسان نہیں، بلکہ “امتحانی جنگجو” (Exam Warriors) تیار کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں NEET، JEE، CUET، SSC اور HSC جیسے قومی سطح کے امتحانات کے گرد پیدا ہونے والے پیپر لیک، امتحانی مافیا، رشوت ستانی اور سنگین بدعنوانیوں کے تنازعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن المیہ دیکھیے کہ ہمارا سماج اور پالیسی ساز صرف اس نظام کی ظاہری شاخوں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں، کوئی بھی اس ناسور کی اصل جڑ تک پہنچنے کی زحمت نہیں کر رہا۔
اصل بحران پیپر لیک ہونا نہیں ہے، بلکہ اصل بحران یہ ہے کہ ہمارا پورا تعلیمی ڈھانچہ اپنی روح سے محروم ہو چکا ہے۔ ہم نے تعلیم کو محض “معلومات کی منتقلی” (Information Transfer) کا نام دے دیا ہے، جبکہ تعلیم تو بنیادی طور پر “انسان سازی” (Human Making) کا ایک مقدس عمل تھا۔ آج ایک معصوم بچے کا پانچ سال کی عمر میں اسکول کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی بچپن کا دائرہ تنگ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ناتواں کندھوں پر کتابوں کا بھاری بستہ لاد کر اسے ایک ایسی لامتناہی اور اندھی دوڑ میں دھکیل دیا جاتا ہے جہاں ہر اگلا موڑ پچھلے سے زیادہ بے رحم ہوتا ہے:
پری پرائمری سے پرائمری کی دوڑ، پرائمری سے سیکنڈری کی مشقت، سیکنڈری سے جونیئر کالج کا تناؤ، جونیئر کالج سے انٹرنس امتحانات کے عذاب تک اور آخر میں روزگار کی منڈی میں خود کو بیچنے کا مقابلہ ،اس پوری تگ و دو میں اوراس طویل مسافت کے کسی بھی موڑ پرکوئی ہمدرد استاد یا نظامِ تعلیم اس بچے سے یہ نہیں پوچھتاکہ تم کیا سوچتے ہو؟ تمہارے دل کے جذبات کیا ہیں؟ تمہارے انفرادی خواب کیا ہیں؟ اور تم ایک انسان کے طور پر کیسے بن رہے ہو؟ پورا نظامِ حکومت، اسکول اور والدین صرف ایک ہی رٹ لگائے بیٹھے ہیں کہ تمہارے پرسنٹائل کتنے آئے؟ میرٹ لسٹ میں تمہارا رینک کیا ہے؟
یہی وہ تاریک لمحہ ہے جہاں تعلیم سسک سسک کردم توڑ دیتی ہے اور “امتحان” ایک جلاد کی طرح زندہ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ فکرمند اذہان ان امتحانات کو سماجی کنٹرول کا ہتھیارقرار دیتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جو لاکھوں نوجوانوں کی زندگی کے سب سے خوبصورت، تخلیقی اور سنہرے سالوں کو تین گھنٹے کے ایک بے جان پرچے میں قید کر دیتا ہے۔
اس امتحانی جنون کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میں “کوچنگ انڈسٹری” کے نام سے ایک متوازی اور ظالمانہ تعلیمی سلطنت قائم ہو چکی ہے۔ کروڑوں روپے کے اس کاروبار میں معصوم بچوں کا بچپن فروخت ہو رہا ہے، نوجوانوں کی صلاحیتیں گروی رکھی جا رہی ہیں، اور ان کے اچھوتے خواب اس منڈی میں کوڑیوں کے دام نیلام ہو رہے ہیں۔ پھر جب کوٹا (Kota) جیسے تعلیمی مراکز سے معصوم بچوں کی خودکشیوں کی خبریں آتی ہیں، جب نوجوان نسل شدید ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر موت کو گلے لگاتی ہے، تو یہ سماج حیرت کا اظہار کرتا ہے! ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم نے انہیں جینا سکھایا ہی کب تھا؟ ہم نے تو انہیں صرف مقابلہ کرنا سکھایا تھا۔ ہم نے انہیں کامیابی کے طریقے تو رٹائے، مگر زندگی کا حقیقی مطلب نہیں بتایا۔ ہم نے انہیں نوکری کے لیے تو تیار کیا، مگر ایک ذمہ دار شہری اور باوقار انسان بننے کا گر نہیں سکھایا۔
اگر ہم غور و فکر کی آنکھوں سے دیکھیں تو کائنات کی کوئی بھی عظیم تبدیلی رٹّے بازی سے نہیں آئی۔ قرآن کریم کی آیاتِ بینات کا ایک بڑا حصہ انسان کو بار بار تدبر، تفکر اور تعقل کی دعوت دیتا ہے۔ کلامِ الٰہی پکار پکار کر کہتا ہے کہ قرآن کا طالب علم وہ ہے جو اندھی تقلید نہیں کرتا، بلکہ کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے، اپنے نفس کو پڑھتا ہے، تاریخ کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے اور سوال پوچھتا ہے۔ اگر تعلیم صرف طے شدہ نصاب کو رٹ لینے کا نام ہوتی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے محل جیسے متضاد ماحول سے علم اور حکمت نہ ملتی، اگر تعلیم محض طے شدہ معلومات تک محدود ہوتی، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ستاروں، چاند اور سورج کی گردش پر غور کر کے حق کی تلاش نہ کرتے۔ پہلی وحی “اقرأ” کے فوراً بعد تفکر اور تدبر پر اس لیے زور دیا گیا تھا تاکہ ذہن آزاد ہوں، نہ کہ وہ غلام بنیں۔ مگر ہمارا موجودہ نظامِ تعلیم شعور پیدا کرنے کے بجائے اندھی اطاعت اور ذہنی غلامی پیدا کر رہا ہے۔ بچوں سے کہا جاتا ہے کہ سوال کم کرو، جوابات یاد کرو، نصاب ختم کرو اور خاموش رہو۔
اس فکری تنزلی کی ایک بڑی وجہ “استاد” کے منصب کا زوال بھی ہے۔ کبھی استاد کو ‘معمارِ قوم’ اور ‘روحانی باپ’ کا درجہ حاصل تھا۔ وہ صرف درسی کتاب کا سبق نہیں پڑھاتا تھا، بلکہ طالب علم کے اندر چھپی ہوئی چنگاری کو شعلہ بناتا تھا۔ وہ امید، اعتماد اور خوابوں کی آبیاری کرتا تھا۔ وہ نسلوں کی فکری اور اخلاقی سمت متعین کرتا تھا، جیسا کہ شاعر نے کیا خوب کہا تھا
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی
لیکن آج کے مادہ پرستانہ دور میں ہم نے استاد کو محض ‘سلیبس مکمل کرنے والا ایک کارپوریٹ ملازم’ بنا کر رکھ دیا ہے۔ جب استاد کے اپنے پاؤں میں ملازمت کی زنجیریں ہوں، تو وہ بھلا کسی طالب علم کی پروازِ تخیل کو کیسے آزاد کر سکتا ہے؟
تعجب کی بات یہ ہے کہ ہماری نئی قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کاغذی حد تک تخلیقی سوچ (Creative Thinking)، تنقیدی فکر (Critical Thinking)، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت (Problem Solving) اور جامع شخصیت سازی کی بڑی بڑی باتیں کرتی ہے۔ لیکن جب ہم زمین پر نظر ڈالتے ہیں تو حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ زمینی سچائی آج بھی اسی لکیر کی فقیری، کوچنگ کے چنگل، رینکنگ کی ہوس اور گلا کاٹ مقابلے کے گرد گھوم رہی ہے۔ پالیسیاں بدلتی ہیں، مگر نیتیں اور نظام نہیں بدلتے۔
یہ بات اب روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ ہندوستان کو اب مزید “امتحانی مشینوں” یا “امتحانی جنگجوؤں” کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ملک کو اب ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو سوچنے کا جگر رکھتے ہوں، جو حق کے حق میں اور باطل کے خلاف سوال اٹھانے کی ہمت رکھتے ہوں، جو نئی ایجادات اور تخلیقات کر سکیں اور جو انسانیت کے درد کو اپنے دل میں محسوس کر سکیں۔
ایک بہترین اور مثالی اسکول وہ نہیں ہوتا جس کی عمارت شاندار ہو اور جس کے سو فیصد نتائج اشتہارات کی زینت بنیں۔ بلکہ ایک سچا تعلیمی ادارہ وہ ہے جہاں بچے بلا خوف و خطر سوال پوچھتے ہوں۔ کتابوں سے رٹے کی نہیں، بلکہ علم اور محبت کی خوشبو آتی ہو۔استاد رعب اور خوف کے بجائے طالب علم کے دل میں اعتماد پیدا کرتا ہو۔اختلافِ رائے کو کچلنے کے بجائے اسے عزت اور جگہ دی جاتی ہو۔کردار کی پختگی اور انسانیت کو ڈگریوں پر فوقیت حاصل ہو۔
تعلیم کا مستقبل امتحانی مراکز کے ان ہالوں میں نہیں ہے جہاں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوں، بلکہ تعلیم کا مستقبل کلاس روم کے اس ایک گمنام لمحے میں پوشیدہ ہے جب ایک سچا استاد کسی بچے کے ذہن میں سوچنے اور سچ کو تلاش کرنے کی آگ روشن کر دیتا ہے۔ قومیں کبھی رٹّوں سے، نمبروں سے یا کاغذ کے بے جان سرٹیفکیٹس سے نہیں بنتی ہیں۔ قومیں ہمیشہ بیدار مغز سوالوں سے، بلند شعور سے اور فولادی کردار سے بنتی ہیں۔ علامہ اقبال نے مایوسی کے گھنے بادلوں کو چیرتے ہوئے امید کا دامن تھام کر فرمایا تھا
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
ہماری مٹی میں کوئی خرابی نہیں ہے، ہمارے نوجوانوں کی ذہانت میں کوئی کمی نہیں ہے۔ خرابی ہماری ترجیحات میں ہے، روح کی اس کمی میں ہے جس نے ہمیں اندھا کر دیا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے تعلیمی نظام کو دوبارہ “انسان سازی کے سفر” میں تبدیل نہ کیا، تو یاد رکھیے، ہر تعلیمی اصلاح ادھوری رہے گی، ہر نئی پالیسی ناکافی ثابت ہوگی اور ہر امتحان اپنے پیچھے ایک نئے نفسیاتی اور سماجی بحران کو جنم دیتا رہے گا۔اور جب فکر ہی مرنے لگے، تو تعلیمی عمارتیں تو باقی رہ جاتی ہیں، مگر تعلیم ہمیشہ کے لیے مر جاتی ہے۔ اگر کسی قوم کے اسکول صرف امتحان پاس کرنے والے پُرزے پیدا کرنے لگیں، تو وہ قوم کارپوریٹ کے لیے ملازمین تو پیدا کر سکتی ہے، مگر قوم کے لیے رہنما (Leaders) پیدا نہیں کر سکتی، وہ کاغذ کی ڈگریاں تو بانٹ سکتی ہے، مگر بلند تہذیب نہیں دے سکتی۔وہ بازار کے لیے افرادی قوت (Labor Force) تو بنا سکتی ہے، مگر خدا کی زمین کے لیے “انسان” پیدا نہیں کر سکتی۔
تعلیم کا اصل اور ابدی مقصد امتحانی جنگجو پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسے انسان پیدا کرنا ہے جو خود بھی روشنی ہوں اور اس اندھیری دنیا میں دوسروں کے لیے بھی چراغ بن سکیں۔
میں ایک بارپھر یاددلانا چاہوں گا کہ قوموں کے زوال کا آغاز اُس دن ہوتا ہے جب اُن کے اسکول سوال کرنے والے انسانوں کے بجائے صرف امتحان پاس کرنے والے افراد پیدا کرنے لگتے ہیں۔

