کانپور کے گولڈ میڈلسٹ کی خاموش رخصتی — تعلیم، روزگار اور ہمارے عہد کا محاسبہ
ڈاکٹر اسد اللہ خان
پانچ سطریں۔ کاغذ کے ایک معمولی ٹکڑے پر لکھی ہوئی صرف پانچ سطریں، جن میں ایک تیئیس سالہ انجینئر نے اپنی پوری زندگی کا حساب سمیٹ دیا: ’’سوری پاپا! میں نے سرکاری نوکری کے لیے تقریباً پچاس بار کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ مجھے معاف کر دیجیے۔‘‘ کانپور کے محلے گجینی کی ایک سہ منزلہ عمارت میں، جہاں گھر والے بڑے بیٹے کی شادی طے کرنے بہار گئے ہوئے تھے، چھوٹا بیٹا اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ دستکیں دی گئیں، جواب نہ آیا؛ پھر وہی دروازہ توڑنا پڑا جس پر زندگی نے شاید بہت پہلے دستک دینا چھوڑ دی تھی۔
خبر چند سطروں میں ختم ہو جاتی ہے، مگر سوال ختم نہیں ہوتا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایسی خبریں محض حادثہ نہیں ہوتیں؛ یہ اُس عمارت کی دراڑیں ہیں جس میں ہم سب رہتے ہیں اور جسے ہم تعلیم، روزگار اور معاشرہ کہتے ہیں۔ آنند کا آخری جملہ بظاہر ایک بیٹے کی معذرت ہے، مگر غور سے پڑھیے تو یہ پورے نظام کے نام لکھا ہوا استغاثہ ہے۔
آنند کوئی گم نام یا پس ماندہ طالب علم نہ تھا۔ ۲۰۲۴ء میں اُس نے کانپور کے ایک انجینئرنگ کالج سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں بی ٹیک مکمل کیا، اپنے ادارے میں اوّل آیا اور اترپردیش بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اگست ۲۰۲۴ء کی ایک باوقار تقریب میں اُس کے گلے میں سونے کا تمغہ ڈالا گیا؛ تالیاں بجیں، تصویریں کھنچیں، والدین کا سر فخر سے بلند ہوا۔ دو برس بھی نہ گزرے تھے کہ وہی خاندان، جو ایک بیٹے کے سہرے کی تیاری میں مصروف تھا، دوسرے بیٹے کا جنازہ اٹھانے پر مجبور ہوا۔ ایک ہی آنگن میں شہنائی کی تیاری ہو رہی تھی اور خاموشی پرورش پا رہی تھی — اور کسی کو خبر نہ ہوئی۔
یہی تضاد اس المیے کی اصل عبرت ہے۔ ہم اکثر یہ فرض کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ایسا انجام کمزور یا نالائق ذہنوں کا مقدر ہوتا ہے۔ آنند کا تمغہ اس مفروضے کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ جو نوجوان مقابلے کی دوڑ میں لاکھوں کو پیچھے چھوڑ چکا تھا، وہ زندگی کی دوڑ میں تنہا رہ گیا۔ سوال یہ نہیں کہ اُس میں کیا کمی تھی؛ سوال یہ ہے کہ ہم نے اُسے کیا نہیں دیا۔جس ملک میں سونے کا تمغہ روزگار کی ضمانت نہیں بن سکتا، وہاں تعلیم انعام نہیں رہتی، مسلسل امتحان بن جاتی ہے۔
سرکاری نوکری: خواب، ضرورت یا آسیب؟
شمالی ہندوستان کے قصبوں میں پرورش پانے والا بچہ ہوش سنبھالتے ہی ایک لفظ کی عظمت سے آشنا ہو جاتا ہے: ’’سرکاری‘‘۔ سرکاری نوکری محض روزگار نہیں، سماجی حیثیت کی سند ہے؛ رشتوں کے بازار میں سکۂ رائج الوقت، محلے کی نظر میں کامیابی کی آخری دلیل، اور والدین کے بڑھاپے کا بیمہ۔ تحفظ، پنشن اور وقار کی یہ تثلیث نسل در نسل ذہنوں میں اتاری گئی ہے۔
مگر اس خواب کا ایک تاریک پہلو بھی ہے۔ جب الیکٹریکل انجینئرنگ کا گولڈ میڈلسٹ بھی اپنی صلاحیت کا واحد مصرف سرکاری بھرتی کے امتحانات کو سمجھے تو یہ کسی فرد کا نہیں، پوری معیشت اور معاشرت کا بیان ہے۔ نجی شعبے کی کم تنخواہیں، ملازمت کا عدم تحفظ اور چھوٹے شہروں میں مواقع کا فقدان ہونہار نوجوان کو بھی اُسی ایک قطار میں لا کھڑا کرتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہی خواب آسیب بن جاتا ہے: عمر کی حد کا کھٹکا، فارم کی فیسیں، ملتوی ہوتے امتحان، اور ہر ناکامی کے بعد ’’ایک بار اور‘‘ کی صدا۔ پچاس کوششیں کوئی ضد نہ تھیں؛ وہ اُس سماجی معاہدے پر اعتبار تھا جو کبھی پورا نہ ہوا۔
جذبات سے ہٹ کر ذرا اعداد کی عدالت میں چلیے۔ ۲۰۲۴ء میں اترپردیش پولیس کے کانسٹیبل کی ۶۰ ہزار ۲۴۴ آسامیوں کے لیے تقریباً ۴۸ لاکھ امیدوار امتحان میں بیٹھے؛ گویا ایک کرسی کے دعوے دار کم و بیش اسّی۔ وہ بھرتی بھی پرچہ افشا ہونے کے الزامات کی نذر ہوئی، پہلا امتحان منسوخ ہوا اور نوجوانوں کا پورا ایک برس دوبارہ امتحان کے انتظار میں تحلیل ہو گیا۔ ادھر سرکاری لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) کی گواہی یہ ہے کہ گریجویٹ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح مجموعی قومی شرح سے کئی گنا بلند رہتی ہے — ۲۰۲۲ء-۲۳ء میں یہ شرح تیرہ فیصد سے متجاوز تھی — اور المیہ یہ کہ تعلیم کی سیڑھی جتنی اوپر جائیے، بے روزگاری کا تناسب اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے۔
اور اِس عدالت کا سنگین ترین فیصلہ قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے دفتر میں محفوظ ہے: ۲۰۲۳ء میں ملک بھر میں ۱۴ ہزار ۲۳۴ بے روزگار افراد نے اور ۱۳ ہزار ۸۹۲ طلبہ نے اپنی زندگی ختم کر لی — طلبہ کے حوالے سے یہ ایک عشرے کی بلند ترین تعداد ہے۔ اِن ہندسوں کو دیر تک دیکھیے؛ ہر ہندسے کے پیچھے ایک نام ہے، ایک دسترخوان ہے، ایک ماں کی دعا ہے، اور اکثر ایک ایسا ہی رقعہ جس کی پہلی سطر ’’سوری پاپا‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔پچاس ناکامیاں اُس کی نااہلی کا ثبوت نہیں تھیں؛ وہ اُس نظام کا بیان تھیں جس نے ساٹھ ہزار کرسیوں کے لیے اڑتالیس لاکھ خوابوں کو قطار میں کھڑا کر دیا۔
اب اپنے گریبان میں جھانکنے کی باری ہے — ہم اہلِ تعلیم کے گریبان میں۔ سونے کا تمغہ اِس بات کی گواہی دیتا ہے کہ طالب علم نے نصاب کو فتح کر لیا؛ وہ یہ ضمانت نہیں دیتا کہ نصاب نے طالب علم کو زندگی کے لیے تیار کیا۔ ہمارے بیشتر کالج ڈگری دیتے ہیں، سمت نہیں دیتے۔ چار برس کی انجینئرنگ میں کہیں یہ سبق شامل نہیں کہ روزگار کے راستے کتنے ہیں، اپنی صلاحیت کو بازار سے کیسے جوڑا جائے، شکست سے کیسے نمٹا جائے، اور مدد مانگنا کمزوری کیوں نہیں۔
جس تعلیم کے بعد ایک ذہین نوجوان کو اپنے سامنے صرف ایک دروازہ دکھائی دے، اُس تعلیم نے اُسے کھڑکیاں دکھانے کا فرض ادا نہیں کیا۔ کالج کا رشتہ سند ملتے ہی ختم ہو جاتا ہے؛ کوئی ادارہ پلٹ کر نہیں پوچھتا کہ ہمارا گولڈ میڈلسٹ دو برس بعد کہاں کھڑا ہے، کس حال میں ہے، کس بوجھ تلے ہے۔ تعلیم اگر صرف امتحان دینا سکھائے اور جینا نہ سکھائے تو وہ ادھوری ہے، اور ادھوری تعلیم بعض اوقات لاعلمی سے زیادہ مہنگی پڑتی ہے۔
شکست کا نفسیاتی بار
نفسیات کی رو سے دیکھیے تو پچاس ناکامیاں پچاس الگ الگ واقعات نہیں ہوتیں؛ وہ ایک ہی زخم پر پچاس ضربیں ہیں۔ ماہرینِ نفسیات جس کیفیت کو ’’سیکھی ہوئی بے بسی‘‘ کہتے ہیں، وہ اسی تسلسل سے جنم لیتی ہے: انسان بالآخر یہ ماننے لگتا ہے کہ اُس کی محنت اور نتیجے کے درمیان کوئی رشتہ باقی نہیں رہا۔ پھر کوشش بے معنی لگتی ہے، مستقبل بند گلی، اور اپنا وجود بوجھ۔
اِس بار کو دوچند کرتی ہے وہ خاموشی جو ہمارے گھروں میں ناکامی کے گرد تن جاتی ہے۔ بیٹا نتیجہ چھپاتا ہے، باپ سوال نہیں کرتا، ماں دعا پر قناعت کرتی ہے، اور بیچ کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ آنند کا رقعہ باپ کے نام تھا — غالباً اس لیے نہیں کہ باپ نے کبھی سختی کی ہوگی، بلکہ اس لیے کہ ہمارے سماج میں بیٹا خود کو والدین کی قربانیوں کا مقروض سمجھتا ہے اور ہر ناکامی کو قرض کی عدم ادائیگی۔ المیہ یہ ہے کہ جس گھر میں محبت موجود تھی، وہاں مکالمہ موجود نہ تھا؛ اور جہاں مکالمہ نہ ہو، وہاں محبت بھی اکثر خبر بننے کے بعد پہنچتی ہے۔
ہمارا سماج نوجوان کو تولنے کے لیے بس ایک ترازو رکھتا ہے: ’’بیٹا آج کل کیا کر رہا ہے؟‘‘ اِس ایک سوال میں تعارف بھی ہے، تحقیر بھی اور تقدیر بھی۔ رشتے کے پیغام سے پہلے ملازمت پوچھی جاتی ہے، محفل میں نشست عہدہ دیکھ کر ملتی ہے، اور جس گھر کا بیٹا ’’تیاری کر رہا ہے‘‘، اُس گھر کی آواز خود بخود دھیمی پڑ جاتی ہے۔ ہم نے کامیابی کی تقریبات تو سیکھ لیں، ناکامی کی رفاقت نہیں سیکھی۔ رینک آنے پر مٹھائی بانٹنے والا محلہ رینک نہ آنے پر پڑوسی کے دروازے پر خیریت پوچھنے نہیں جاتا۔
غور کیجیے کہ یہ سانحہ اُن دنوں ہوا جب گھرانہ بڑے بیٹے کے رشتے کی خوشی میں تھا۔ عین ممکن ہے کہ انہی تیاریوں کی چہل پہل میں چھوٹے بیٹے کی چپ کسی کو سنائی نہ دی ہو۔ ہم اجتماعی خوشیوں کے ہنگامے میں انفرادی اداسیوں کو روندتے چلے جاتے ہیں۔ جو معاشرہ اپنے کامیاب بیٹوں کو ہار پہناتا ہے اور جدوجہد کرنے والوں سے نظریں چراتا ہے، وہ دراصل اپنے ہی مستقبل سے منہ موڑتا ہے۔
کلرک سازی کی میراث
یہ رجحان راتوں رات پیدا نہیں ہوا؛ اِس کی جڑیں ڈیڑھ سو برس گہری ہیں۔ نوآبادیاتی نظامِ تعلیم کا مقصد مفکر یا معمار پیدا کرنا نہیں، دفتروں کے لیے منشی فراہم کرنا تھا۔ سند، درخواست اور کرسی کا وہ تکون آج بھی ہمارے تعلیمی شعور پر حکمران ہے۔ آزادی کے بعد ریاست ہی سب سے بڑی آجر بنی تو سرکاری ملازمت وقار اور تحفظ کی معراج ٹھہری، اور ہر آنگن میں یہ تصور اتر گیا کہ پڑھائی کا حاصل نوکری ہے اور نوکری کا کمال سرکار۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔ معیشت کھلی تو ریاست نے بھرتیوں کے دروازے آہستہ آہستہ تنگ کر دیے، مگر ڈگریوں کے کارخانے دن دگنی رات چوگنی رفتار سے چلتے رہے۔ خواب وہی رہا، دروازے سکڑتے گئے؛ نتیجہ وہ قطار ہے جو ہر بھرتی کے اشتہار پر میلوں لمبی ہو جاتی ہے۔ ہم نے نسلوں کو دوڑنا سکھایا، مگر یہ نہیں بتایا کہ میدان کتنا بدل چکا ہے۔
ہمارا عہد اور اُس کے زخم
آج کا نوجوان ایک عجیب منڈی میں کھڑا ہے جسے ’’امتحانی معیشت‘‘ کہنا چاہیے۔ فارم کی فیس، کوچنگ کی قسط، کرائے کا کمرہ، کتابوں کا خرچ — بے روزگاری بھی اب ایک صنعت کو پال رہی ہے۔ اِس پر پرچے افشا ہوتے ہیں، امتحان ملتوی ہوتے ہیں، نتائج عدالتوں میں الجھتے ہیں، اور امیدوار کی عمر کا شمار جاری رہتا ہے۔ ہر منسوخ امتحان صرف ایک پرچہ منسوخ نہیں کرتا، کسی نوجوان کی زندگی کا ایک سال منسوخ کر دیتا ہے۔
کوٹا کے کرائے کے کمروں سے کانپور کے مکانوں تک ’’سوری پاپا‘‘ کے رقعوں کی یہ تکرار ہمارے عہد کا نوحہ ہے۔ ادھر جو روزگار میسر ہے، اُس کا بڑا حصہ بے یقینی کی دھند میں لپٹا ہے: نہ تحفظ، نہ تسلسل، نہ توقیر۔ ایسے میں سرکاری کرسی کی چمک اور بڑھ جاتی ہے اور قطار اور لمبی۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جو خود کو مسلسل تنگ کرتا جا رہا ہے، اور اِس کے مرکز میں ہماری سب سے قیمتی متاع گھل رہی ہے — جوانی کے برس۔
ماتم مسئلے کا مداوا نہیں؛ راستے تلاش کرنا ہمارا فرض ہے۔
پہلا قدم اداروں کا ہے: ہر کالج میں رہنمائیِ روزگار کا فعال شعبہ ہو جو طلبہ کو سرکاری بھرتی کے سوا بیسیوں راہوں سے روشناس کرائے اور سند دینے کے بعد بھی برسوں اپنے فارغین کی خبر رکھے۔
دوسرا قدم ریاست کا ہے: بھرتیوں کا مستقل سالانہ کیلنڈر، مقررہ مدت میں نتائج اور پرچہ افشائی پر عبرت ناک احتساب — کیونکہ امتحان کا تقدس دراصل نوجوان کے اعتماد کا تقدس ہے۔
تیسرا قدم والدین کا ہے: اولاد کی قدر اُس کے عہدے سے نہیں، اُس کے وجود سے وابستہ کیجیے، اور گھر کو وہ واحد عدالت نہ بننے دیجیے جہاں بیٹا خود کو ہر روز مجرم محسوس کرے۔
چوتھا قدم خود تعلیم کا ہے: نصاب میں ’’ناکامی کی تعلیم‘‘ شامل کیجیے — بچوں کو سکھائیے کہ نتیجہ ایک واقعہ ہے، شناخت نہیں۔
پانچواں قدم ذہنی صحت کا ہے: ہر تعلیمی ادارے میں مشیرِ نفسیات کی موجودگی اب تعیش نہیں، بنیادی ضرورت ہے، اور حکومت کی ٹیلی مانس ہیلپ لائن (۱۴۴۱۶) جیسے وسائل کا شعور گھر گھر پہنچنا چاہیے۔
آخری قدم محلے کا ہے: خاموش ہوتے نوجوان کو وقت پر پہچان لینا پوری بستی کی ذمے داری ہے۔ دستک اُس دروازے پر دیجیے جو اندر سے بند ہونے لگے — اِس سے پہلے کہ اُسے توڑنا پڑے۔
آنے والے کل کا سوال
ہم جس ’’آبادیاتی منافع‘‘ پر نازاں ہیں، وہ خود بخود منافع نہیں بنتا؛ روزگار، اعتماد اور وقار میسر ہو تو نعمت ہے، ورنہ یہی جوان آبادی اجتماعی مایوسی میں ڈھل سکتی ہے۔ جو ریاست اپنے گولڈ میڈلسٹ کو کھپا نہیں سکتی، وہ درحقیقت میرٹ پر سے قوم کا یقین اٹھا رہی ہے۔ اور جب محنت پر یقین اٹھ جائے تو اُس کی جگہ یا تو سفارش لیتی ہے یا بددلی — دونوں قوموں کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہیں۔
سوچیے، آج کسی درس گاہ کی کسی جماعت میں بیٹھا ہوا کوئی ذہین بچہ جب یہ خبر سنے گا تو کیا نتیجہ نکالے گا؟ کیا وہ محنت سے دست بردار ہو جائے گا؟ یا ہم اُسے یہ دکھا سکیں گے کہ اِس سانحے کے بعد نظام نے واقعی کچھ بدلا؟ آنے والا کل یہی فیصلہ ہمارے آج سے مانگ رہا ہے۔
معافی کس سے مانگی جائے؟
آنند نے اپنے آخری رقعے میں باپ سے معافی مانگی۔ مگر سچ یہ ہے کہ معافی اُسے نہیں، ہمیں مانگنی چاہیے — اُس نظامِ تعلیم کو جس نے اُسے تمغہ دیا اور راستہ نہ دیا؛ اُس نظامِ بھرتی کو جس نے اُس کی پچاس دستکوں کا جواب نہ دیا؛ اُس سماج کو جس نے اُس کی خاموشی نہ سنی؛ اور ہم سب کو، جو ایسی ہر خبر پر افسوس کر کے اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
ایک نوجوان نے ریاست کے دروازے پر پچاس بار دستک دی اور دروازہ نہ کھلا؛ آخرِکار اُس تک پہنچنے کے لیے اُس کے اپنے کمرے کا دروازہ توڑنا پڑا۔ اِن دو دروازوں کے درمیان ہماری پوری اجتماعی ناکامی کھڑی ہے۔ اگر اِس تحریر کا کوئی حاصل ہے تو بس اتنا کہ ہم اُس کی آخری سطر کو اپنا پہلا سوال بنا لیں: ہم نے اپنے کتنے آنند وقت پر پہچانے؟ جس دن ہر گھر، ہر درس گاہ اور ہر دفتر اِس سوال کا جواب دینے لگے گا، اُس دن ’’سوری پاپا‘‘ لکھنے والے ہاتھ قلم اٹھائیں گے تو زندگی لکھیں گے — رخصت نامہ نہیں۔

