News & Blog

نفرتوں کے اندھیرے میں محبت کا چراغ

بھیونڈی کے مسلمانوں نے انسانیت، اخوت اور ہندوستانی تہذیب کی ایک نئی تاریخ رقم کر دی ڈاکٹراسداللہ خان آج کے دور میں جب اخبارات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر ہر طرف نفرت، تعصب، فرقہ واریت اور تقسیم کی خبریں زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں، ایسے میں اگر کہیں محبت، اخوت، خدمت اور انسانیت کی خوشبو بکھرتی ہے تو وہ صرف ایک واقعہ نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کے لیے امید کا چراغ بن جاتا ہے۔ بھیونڈی کی سرزمین نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ ہندوستان کی اصل روح نفرت میں نہیں بلکہ محبت میں، تقسیم میں نہیں بلکہ اتحاد میں، اور مذہبی برتری میں نہیں بلکہ انسانی برابری میں پوشیدہ ہے۔ نیٹ (NEET) جیسے قومی سطح کے اہم امتحان کے موقع پر بھیونڈی کے مسلمانوں، مساجد، مدارس، جماعت خانوں، تعلیمی اداروں اور نوجوان رضاکاروں نے جس عظیم ظرف، وسیع القلبی اور بے مثال مہمان نوازی کا مظاہرہ کیا، وہ صرف ایک انتظامی خدمت نہیں بلکہ انسانیت کے ماتھے کا جھومر اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا روشن استعارہ بن گیا۔ شدید گرمی کا دن تھا اور ملک کے مختلف شہروں سے سینکڑوں والدین اپنے بچوں کو NEET کے امتحان دلوانے کے لیے بھیونڈی پہنچے تھے۔ گرمی، بھیڑ، ٹریفک اور لمبا انتظار؛ ہر شخص ذہنی طور پر ایک مشکل دن کے لیے تیار تھا، لیکن جیسے ہی وہ امتحانی مراکز کے آس پاس پہنچے، ان کے سامنے ایک ایسا منظر تھا جس کی شاید انہوں نے کبھی توقع بھی نہ کی ہوگی۔ مساجد کے دروازے کھلے ہوئے تھے، مدارس کے ہال مہمانوں سے بھرے ہوئے تھے اور جماعت خانوں میں پانی، چائے، کولڈ ڈرنکس اور ناشتے کا انتظام کیا جا چکا تھا اور مسجدیں صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ انسانیت کی پناہ گاہیں بن گئیں۔ رضاکار ہر آنے والے کو اپنا مہمان سمجھ کر خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا تھا کہ آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور کوئی یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ آپ کس زبان یا کس ریاست سے آئے ہیں۔ وہ صرف ایک بات جانتے تھے کہ یہ ہمارے مہمان ہیں، اور مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ مولانا نے صرف دروازے ہی نہیں، اپنے دل بھی کھول دیے۔ دارالعلوم دینیات، مسجد اور مدرسہ کے ذمہ داران نے صرف ہال مہیا نہیں کیے بلکہ ایک ایسا کام کیا جس نے ہزاروں دل جیت لیے۔ مولانا قاری غلام نے طلبہ کے کمروں کو بھی خالی کروا دیا تاکہ دور دراز سے آنے والے والدین چند گھنٹے سکون سے آرام کر سکیں۔ زمین پر بچھی ہوئی سادہ چٹائیاں شاید دنیا کے کسی مہنگے ہوٹل کے نرم بستروں سے کہیں زیادہ قیمتی محسوس ہو رہی تھیں، کیونکہ وہاں آرام کے ساتھ عزت، احترام اور محبت بھی موجود تھی۔ یہ وہ جذبہ تھا جو کتابوں میں نہیں پڑھایا جاتا، یہ کردار مدارس کی حقیقی تعلیم کا آئینہ تھا۔ مہندی کے چند نقوش اور محبت کے ہزاروں رنگ: بھیونڈی کے خاتون رضاکاروں نے ایک ایسا خوبصورت منظر بھی پیش کیا جس نے ہر دیکھنے والے کا دل موہ لیا۔ امتحان کے دوران انتظار کرتی ہوئی ہندو ماؤں اور بہنوں کے ہاتھوں پر مہندی لگائی جا رہی تھی۔ بظاہر یہ ایک معمولی عمل تھا لیکن حقیقت میں یہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، بھائی چارے اور ثقافتی حسن کی ایک خاموش مگر نہایت مؤثر علامت تھی۔ محبت کا اظہار ہمیشہ بڑی تقریروں سے نہیں ہوتا، کبھی کبھی مہندی کا ایک چھوٹا سا نقش بھی دلوں کے درمیان صدیوں کے فاصلے مٹا دیتا ہے۔ بہت سے والدین نے اعتراف کیا کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب وہ کسی مسجد یا مدرسے کے اندر داخل ہوئے تھے۔ ان کے ذہنوں میں نہ جانے کتنے سوال، خدشات اور غلط فہمیاں تھیں، لیکن چند لمحوں میں ہی وہ تمام فاصلے ختم ہو گئے۔ صلاح الدین ایوبی اردو ہائی اسکول و جونیئر کالج میں قیام کرنے والے تھانے کے رہائشی نریش شرما جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے کہا: ہمارا خیال جس محبت، عزت اور خلوص کے ساتھ رکھا گیا، وہ ہماری زندگی کا ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔ یہ انسانیت کی بہترین مثال ہے۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا، یہ برسوں سے ذہنوں میں قائم ہونے والی دیواروں کے گرنے کی آواز تھی۔ جب احترام نے مذہب کی تمام سرحدیں مٹا دیں: وہ منظر یقیناً دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر دینے والا تھا جب کئی ہندو بزرگوں نے محبت اور احترام کے جذبے سے متاثر ہو کر مولانا صاحبان کے قدم چھو لیے۔ تو مولانا قاری غلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا: یہ اللہ کا گھر ہے… اور اللہ کا گھر سب کا گھر ہے۔ آپ بلا جھجھک اندر آئیے، یہ آپ کا بھی اپنا گھر ہے۔ یہ چند الفاظ شاید ہزاروں خطبات سے زیادہ مؤثر تھے۔ اصل ہندوستان یہی ہے: نریش شرما کی ایک بات پورے واقعے کا خلاصہ بن گئی۔ انہوں نے کہا: براہِ کرم اس واقعے میں مذہب کو درمیان میں نہ لائیں۔ نہ مولانا صاحبان نے مذہب کی بات کی، نہ ہم نے۔ یہ صرف انسانوں کی طرف سے انسانوں کی خدمت تھی۔ یہی ہندوستان کی اصل پہچان ہے اور یہی وہ تہذیب ہے جس نے صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات کو ایک دھاگے میں پرو رکھا ہے۔ بھیونڈی نے صرف امتحان نہیں سنبھالا… قوم کو راستہ دکھا دیا: اس پورے عمل میں صرف مساجد ہی نہیں بلکہ رئیس ہائی اسکول، صمدیہ ہائی اسکول، صلاح الدین ایوبی اردو ہائی اسکول، مختلف جماعت خانے، دینی ادارے اور بھیونڈی اسٹوڈنٹس ہیلپ فورم جیسے نوجوانوں کے گروہ بھی برابر شریک رہے۔ یہ کسی ایک فرد یا ایک ادارے کی خدمت نہیں تھی بلکہ پورے شہر کی اجتماعی انسان دوستی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا؟ اگر بھیونڈی یہ مثال قائم کر سکتا ہے تو ملک کا ہر شہر ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ مذہبی مقامات کو انسانیت کے مراکز بنائیں۔ تہواروں کو دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بنائیں۔ نوجوانوں کی مشترکہ ٹیمیں قائم ہوں۔ بچوں کو ایک دوسرے سے ملائیں۔ اسلام کی حقیقی تعلیم بھی یہی ہے: اسلام نے انسانیت کی خدمت کو عبادت قرار دیا ہے۔ قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے: جو شخص ایک

نفرتوں کے اندھیرے میں محبت کا چراغ Read More »

جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں!

کبھی کبھی ایک خبر صرف خبر نہیں ہوتی۔وہ ایک سوال ہوتی ہے جو پورے معاشرے کے ضمیر کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔کبھی کوئی رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ان کروڑوں نوجوانوں کی خاموش چیخ ہوتی ہے جن کے خواب کسی دفتر کی میز، کسی بدعنوان اہلکار کی جیب، کسی خفیہ واٹس ایپ گروپ یا کسی منظم مافیا کے ہاتھوں نیلام ہو چکے ہوتے ہیں۔ حال ہی میں ہندوستان کے ایک ممتاز قومی اخبار کی تحقیق نے ملک کے امتحانی نظام کے ایک ایسے تاریک پہلو سے پردہ اٹھایا ہے جس نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ پورے ملک کے سنجیدہ اذہان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔تحقیق کے مطابق 2002 سے 2025 تک ایسے پینتالیس بڑے امتحانات کے پرچے لیک ہوئے جن میں ہر امتحان میں ایک لاکھ سے زائد امیدوار شریک تھے۔ کروڑوں نوجوانوں کی محنت، امیدیں اور مستقبل ان امتحانات سے وابستہ تھے۔ مگر اصل المیہ صرف پرچوں کا لیک ہونا نہیں۔اصل المیہ یہ ہے کہ ان پینتالیس بڑے مقدمات میں صرف دو مقدمات سزا تک پہنچ سکے۔ جی ہاں، صرف دو! باقی مقدمات یا تو تحقیقات کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئے، یا عدالتی راہداریوں میں برسوں تک سرگرداں رہے، یا پھر وقت کی گرد نے ان کے نشانات تک دھندلا دیے۔اس لیے آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ پرچے کس نے لیک کیے؟ اصل سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام میں انصاف کہاں لیک ہو گیا؟ ایک قوم کے خوابوں کی قیمت کتنی ہوتی ہے؟ کسی متوسط یا غریب گھرانے کے دروازے پر دستک دیجیے۔آپ کو ایک نوجوان ملے گا جو رات گئے تک کتابوں میں گم رہتا ہے۔اس کی میز پر نصابی کتابیں ہوں گی۔دیواروں پر خوابوں کے نقشے آویزاں ہوں گے۔ماں کی دعائیں اس کے ساتھ ہوں گی۔باپ کی امیدیں اس کے مستقبل سے وابستہ ہوں گی۔گھر کے اخراجات کم کر کے کوچنگ کی فیس ادا کی گئی ہوگی۔بہن نے اپنی خواہشات ملتوی کی ہوں گی۔والد نے اضافی وقت کام کیا ہوگا۔اور پھر ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ امتحان کا پرچہ امتحان سے پہلے ہی فروخت ہو چکا تھا۔ سوچیے!اس لمحے صرف ایک سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوتا۔اس لمحے ایک نوجوان کا اعتماد لیک ہو جاتا ہے۔ایک خاندان کی امید لیک ہو جاتی ہے۔ایک ماں کی دعا زخمی ہو جاتی ہے اور ایک قوم کے مستقبل پر ثبت اعتماد کا مہر بند لفافہ پھٹ جاتا ہے۔ جانچ کے نظام پر اعتماد کا بحران! جب امتحان کی کاغذی پرچیوں کے ساتھ بچوں کا مستقبل اور والدین کی راتوں کی نیندیں بھی بازار میں بکنے لگیں، تو پورے جانچ کے نظام پر سے ایک نسل کا بھروسہ ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے۔ امتحان کسی بھی تعلیمی نظام کی روح ہوتے ہیں۔یہ محض نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ صلاحیت، محنت، قابلیت اور کردار کی جانچ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔طالب علم جب امتحانی ہال میں داخل ہوتا ہے تو دراصل وہ ریاست کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ کرتا ہے۔اسے یقین ہوتا ہے کہ امتحان منصفانہ ہوگا،سوالات محفوظ ہوں گے،جانچ غیر جانب دار ہوگی اور کامیابی صرف قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ملے گی۔ مگر جب امتحانات بار بار منسوخ ہونے لگیں، سوالیہ پرچے لیک ہونے لگیں اور نتائج متنازع بننے لگیں تو نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک نہایت خطرناک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی میری محنت ہی میری کامیابی کا فیصلہ کرے گی؟ یہ بظاہر ایک سادہ سوال ہے، مگر درحقیقت پورے تعلیمی فلسفے کو چیلنج کرتا ہے۔ کسی بھی تعلیمی نظام کی اصل طاقت اس کی عمارتیں، ٹیکنالوجی یا نصاب نہیں ہوتے،اس کی اصل طاقت اس کی ساکھ ہوتی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک—فن لینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور جاپان—نے صرف وسائل کی بنیاد پر ترقی نہیں کی بلکہ امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو اپنی قومی ترقی کا ستون بنایا۔اگر ہندوستان جیسے عظیم ملک میں نوجوان امتحانی نظام پر اعتماد کھو دیں تو اس کا نقصان صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے انسانی سرمائے (Human Capital) کو متاثر کرتا ہے۔ اس لئے یہ صرف امتحان کا بحران نہیں۔یہ Meritocracy یعنی قابلیت اور اہلیت پر مبنی معاشرتی نظام کا بحران ہے۔ کیا یہ عوامی اداروں میں احتساب کی ناکامی نہیں ہے؟ کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل قوت اس کے اداروں کی شفافیت اور جواب دہی میں پوشیدہ ہوتی ہے لیکن جب ہزاروں گرفتاریاں ہوں، سینکڑوں چارج شیٹس داخل ہوں، لاکھوں امیدوار متاثر ہوں اور پھر بھی سزائیں نہ ہونے کے برابر ہوں تو ایک بنیادی سوال سر اٹھاتا ہے کہ آخر ذمہ دار کون ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے معاشروں میں اکثر چھوٹے کردار پکڑے جاتے ہیں جبکہ بڑے کردار نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔کسی واٹس ایپ گروپ کے منتظم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔کسی درمیانی درجے کے ملازم کو معطل کر دیا جاتا ہے۔مگر وہ ادارہ جاتی کمزوریاں، وہ پالیسی خامیاں اور وہ انتظامی ناکامیاں جنہوں نے اس جرم کو ممکن بنایا، اکثر احتساب کے دائرے سے باہر رہ جاتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے متزلزل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔احتساب صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں۔احتساب دراصل اس پورے نظام کی اصلاح کا نام ہے جو جرم کو جنم دیتا ہے۔ جب تک تحقیقات بروقت نہیں ہوں گی، مقدمات غیر ضروری تاخیر کا شکار رہیں گے، ذمہ دار افسران جواب دہ نہیں ہوں گے اور اصلاحات مستقل بنیادوں پر نافذ نہیں کی جائیں گی، تب تک ہر نیا امتحان ایک نئے خطرے کے ساتھ منعقد ہوگا۔ تعلیمی اداروں کا سب سے بڑا سرمایہ ان کی عمارتیں نہیں بلکہ ان کی Credibility ہوتی ہے اور Credibility کی بنیاد ہمیشہ Accountability پر قائم ہوتی ہے۔ کیا کبھی آپ نے سوچا کہ نوجوان نسل پر امتحانی بدانتظامی کے کیا نفسیاتی اثرات ہوں گے؟ اس پورے بحران کا سب سے کم زیرِ بحث مگر سب سے سنگین پہلو نوجوانوں کی ذہنی صحت ہے۔ہر سال لاکھوں نوجوان مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔وہ برسوں کوچنگ سینٹروں میں وقت گزارتے ہیں۔وہ اپنی نیند، آرام، تفریح اور سماجی زندگی قربان کر دیتے ہیں۔وہ اپنی شناخت کو اپنے امتحانی نتائج کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔ پھر اچانک انہیں بتایا جاتا ہے کہ امتحان

جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں! Read More »

तअलीम: इंसान बनाने का फ़न या इम्तिहान पास कराने की मशीन?

इल्म वो है जो इंसान को इंसान बनाए, न कि वो जो उसे मशीन बना दे डॉ. असदुल्लाह ख़ान ज़िन्दगी में कभी-कभी ऐसा होता है कि आप कोई तहरीर हाथ में लेते हैं और पढ़ते-पढ़ते अचानक रुक जाते हैं। क़लम नीचे रख देते हैं। आँखें बंद कर लेते हैं। और दिल के किसी गहरे गोशे से एक आवाज़ आती है कि यही तो मैं कह रहा था। हुआ यूँ कि आज के टाइम्ज़ ऑफ़ इंडिया में NCERT के डायरेक्टर, प्रोफ़ेसर दिनेश प्रसाद सकलानी का मज़मून पढ़ा तो यूँ महसूस हुआ जैसे मेरे दिल-व-दिमाग़ में मुद्दतों से गर्दिश करने वाले ख़यालात को किसी और ने लफ़्ज़ों के क़ालब में ढाल दिया हो। हर सतर, हर इस्तिदलाल और हर सवाल मेरे अपने फ़िक्री सफ़र की बाज़गश्त मालूम हुआ। मुझे मीर का वो मिसरा याद आ गया जो उर्दू शाअरी की सबसे लतीफ़ नफ़्सियाती दरयाफ़्तों में से एक है — “मैंने यह जाना कि गोया यह भी मेरे दिल में है।” यह मिसरा महज़ एक शेरी तजुर्बे का बयान नहीं — यह उस कैफ़ियत का नाम है जब कोई बात आपके अन्दर इतनी गहरी उतर चुकी हो कि आप उसे अपनी समझते ही नहीं, और फिर जब कोई दूसरा इंसान वही बात कह दे तो आप चौंक उठते हैं। वो लिखते हैं कि रट्टा लगाना कभी हिन्दुस्तान की रूह नहीं रहा। कि इस सरज़मीन ने नचिकेता को पैदा किया जिसने मौत से सवाल किया, गार्गी पैदा की जिसने ब्रह्मनों के सरदार को ख़ामोश किया, कनाद पैदा किया जिसने ऐटम का तसव्वुर दिया, सुश्रुत पैदा किया जिसने जिराही सिखाई, आर्य भट्ट पैदा किया जिसने सिफ़र दरयाफ़्त किया — और यह सब रट्टे से नहीं, सवाल से, तजुर्बे से, मुशाहिदे से, दलील से पैदा हुए। यह पढ़कर मैंने सोचा — क्या यह सिर्फ़ तअलीम की कहानी है? नहीं। यह हमारी पूरी तहज़ीबी रूह की कहानी है। अगर आज नचिकेता किसी इस्कूल में दाख़िल हो जाए तो क्या होगा? वही नचिकेता जिसने मौत के देवता यमराज के दरवाज़े पर तीन दिन और तीन रात खड़े रहकर इल्म तलब किया था। वही नचिकेता जिसके सवालों ने कठ उपनिशद को जन्म दिया। वो बच्चा जो मौत से न डरा, क्या वो हमारे निसाब की तंग गलियों में साँस ले पाता? क्या आज का उस्ताद उसकी हौसला-अफ़ज़ाई करता? क्या आज के इस्कूल में उसके लिए कोई जगह होती? या उसे यह कहकर ख़ामोश करा दिया जाता कि “यह सवाल निसाब में नहीं है, इम्तिहान में नहीं आएगा, वक़्त ज़ाया मत करो।” यह सवाल महज़ एक फ़र्ज़ी तसव्वुर नहीं। यह हमारे पूरे निज़ाम-ए-तअलीम के लिए एक बेरहम आईना है। असल मसला यह नहीं कि हमारे बच्चे क्या पढ़ रहे हैं। असल और बुनियादी मसला यह है कि हम उन्हें सोचने दे रहे हैं या नहीं। हिन्दुस्तानी इल्मी रिवायत की गहराइयाँ जब हम हिन्दुस्तानी इल्मी रिवायत की गहराइयों में उतरते हैं तो एक अनोखा और फ़ख़्र-अंगेज़ मंज़र सामने आता है। यहाँ इल्म कभी भी एक मुर्दा मालूमात का ज़ख़ीरा नहीं रहा। यहाँ सवाल इबादत था, मुकालमा तअलीम था, तलाश-ए-हक़ीक़त ज़िन्दगी का मक़सद थी। उपनिशदों के अज़ीम मुबाहिसे देखिए — जहाँ उस्ताद शागिर्द को जवाब नहीं देता था, बल्कि सवाल पूछता था। नालंदा और तक्षशिला की मेहान दर्सगाहों को देखिए जहाँ दुनिया के कोने-कोने से तालिब-ए-इल्म आते थे — न डिग्री के लिए, बल्कि इल्म की प्यास बुझाने के लिए। नालंदा में दस हज़ार से ज़ाइद तालिब-ए-इल्म और दो हज़ार असातिज़ा थे। वहाँ का कुतुब-ख़ाना इतना अज़ीम था कि जब उसे जलाया गया तो वो तीन माह तक जलता रहा। नालंदा का कुतुब-ख़ाना तीन माह तक जलता रहा — क्योंकि इल्म वहाँ काग़ज़ों में नहीं, रूहों में महफ़ूज़ था फिर ऐसा क्या हुआ? यह वो सवाल है जो हर मुहिब्ब-ए-तअलीम की नींद उड़ा देता है। ऐसा क्या हुआ कि सवाल करने वाली क़ौम रट्टा करने वाली क़ौम बन गई? 1835ء में जब लॉर्ड मैकाले ने अपना वो बदनाम-ए-ज़माना “मिनट” लिखा तो उसने सिर्फ़ एक निसाब नहीं बदला — उसने एक पूरी क़ौम के सोचने का अन्दाज़ बदल दिया। उसने लिखा कि हमें ऐसे अफ़राद चाहिएँ जो “ख़ून और रंग में हिन्दुस्तानी हों लेकिन ज़ौक़, राय, अख़्लाक़ और अक़्ल में अंग्रेज़ हों।” आहिस्ता-आहिस्ता तअलीम ज़िन्दगी की तैयारी के बजाय इम्तिहान की तैयारी बन गई। इस्कूल शख़्सियत-साज़ी के मराकिज़ के बजाय इम्तिहानी कारख़ाने बन गए। 1947ء में हमने सियासी आज़ादी हासिल की लेकिन ज़हनी आज़ादी? वो अभी भी नो-आबादियाती ज़ंजीरों में जकड़ी हुई थी। हमने इस्कूल बनाए, इमारतें बनाईं, निसाब बनाए लेकिन इंसान बनाना भूल गए आज का दौर — जब मोबाइल मालूमात देता है, मगर हिकमत नहीं आज हम एक ऐसे अहद में जी रहे हैं जहाँ एक मोबाइल फ़ोन सेकंडों में वो मालूमात फ़राहम कर सकता है जिसे कभी हासिल करने में पूरी ज़िन्दगी लग जाती थी। ऐसे में अगर हमारी तअलीम का वाहिद मक़सद मालूमात याद कराना है तो फिर उस्ताद की, इस्कूल की, यूनिवर्सिटी की ज़रूरत ही क्या रह जाएगी? World Economic Forum की 2023ء की रिपोर्ट बताती है कि अगले पाँच सालों में 23 फ़ीसद मुलाज़मतें तबदील हो जाएँगी। आज जो बच्चा पहली जमाअत में बैठा है, वो 2040ء की दुनिया में काम करेगा। McKinsey Global Institute की तहक़ीक़ के मुताबिक़ आने वाले बरसों में AI उन तमाम कामों को कर सकेगी जो महज़ “याद करने” पर मुन्हसिर हैं। जो इंसान बाक़ी रहेगा, वो वही होगा जो सोच सकता है, तख़्लीक़ कर सकता है, महसूस कर सकता है। हमने बच्चों को क्या दिया? मैंने देखा कि एक बच्चा जो घर में हज़ार सवाल पूछता है, जो परिंदों को देखकर हैरान होता है, जो आसमान की तरफ़ देखकर सितारों के बारे में पूछता है — वही बच्चा इस्कूल में आने के चंद सालों के बाद ख़ामोश हो जाता है। वो सवाल करना छोड़ देता है। क्यों? क्योंकि हमने उसे सिखा दिया कि सवाल परेशान-कुन है, ख़ामोशी क़ाबिल-ए-तअरीफ़ है। आज भी एक बच्चे की ज़हानत उसके सवालों से नहीं बल्कि उसके नम्बरों से नापी जाती है। हमने उन्हें बताया कि जवाब क्या है, मगर यह नहीं सिखाया कि जवाब तक पहुँचा कैसे जाता है। हमने उन्हें मालूमात दीं, मगर हिकमत नहीं दी। हमने मालूमात दीं, हिकमत नहीं दी — हक़ाइक़ याद कराए, हक़ीक़त तलाश करना नहीं सिखाया नम्बरों की दौड़

तअलीम: इंसान बनाने का फ़न या इम्तिहान पास कराने की मशीन? Read More »

नफ़रतों के अँधेरे में मुहब्बत का चराग़

भीवंडी के मुसलमानों ने इंसानियत, अख़ुव्वत और हिन्दुस्तानी तहज़ीब की एक नई तारीख़ रक़म कर दी डॉ. असदुल्लाह ख़ान आज के दौर में जब अख़बारात, टेलीविज़न और सोशल मीडिया पर हर तरफ़ नफ़रत, तअस्सुब, फ़िर्क़ापरस्ती और तक़सीम की ख़बरें ज़्यादा नुमायाँ नज़र आती हैं, ऐसे में अगर कहीं मुहब्बत, अख़ुव्वत, ख़िदमत और इंसानियत की ख़ुशबू बिखरती है तो वो सिर्फ़ एक वाक़िआ नहीं रहता बल्कि पूरी क़ौम के लिए उम्मीद का चराग़ बन जाता है। भीवंडी की सरज़मीन ने एक मर्तबा फिर साबित कर दिया कि हिन्दुस्तान की असल रूह नफ़रत में नहीं बल्कि मुहब्बत में, तक़सीम में नहीं बल्कि इत्तिहाद में, और मज़हबी बर्तरी में नहीं बल्कि इंसानी बराबरी में पोशीदा है। नीट (NEET) जैसे क़ौमी सतह के अहम इम्तिहान के मौक़े पर भीवंडी के मुसलमानों, मसाजिद, मदारिस, जमाअत ख़ानों, तअलीमी इदारों और नौजवान रज़ाकारों ने जिस अज़ीम ज़र्फ़, वसीउल-क़ल्बी और बेमिसाल मेहमान-नवाज़ी का मुज़ाहरा किया, वो सिर्फ़ एक इंतिज़ामी ख़िदमत नहीं बल्कि इंसानियत के माथे का जूमर और हिन्दुस्तान की गंगा-जमुनी तहज़ीब का रौशन इस्तिआरा बन गया। शदीद गर्मी का दिन था और मुल्क के मुख़्तलिफ़ शहरों से सैकड़ों वालिदैन अपने बच्चों को NEET के इम्तिहान दिलवाने के लिए भीवंडी पहुँचे थे। गर्मी, भीड़, ट्रैफ़िक और लम्बा इन्तिज़ार — हर शख़्स ज़हनी तौर पर एक मुश्किल दिन के लिए तैयार था, लेकिन जैसे ही वो इम्तिहानी मराकिज़ के आस-पास पहुँचे, उनके सामने एक ऐसा मंज़र था जिसकी शायद उन्होंने कभी तवक़्क़ो भी न की होगी। मसाजिद के दरवाज़े खुले हुए थे, मदारिस के हॉल मेहमानों से भरे हुए थे और जमाअत ख़ानों में पानी, चाय, कोल्ड ड्रिंक्स और नाश्ते का इन्तिज़ाम किया जा चुका था और मस्जिदें सिर्फ़ इबादत-गाहें नहीं बल्कि इंसानियत की पनाह-गाहें बन गईं। रज़ाकार हर आने वाले को अपना मेहमान समझ कर ख़ुश-आमदीद कह रहे थे। कोई यह नहीं पूछ रहा था कि आप किस मज़हब से ताल्लुक़ रखते हैं और कोई यह नहीं देख रहा था कि आप किस ज़बान या किस रियासत से आए हैं। वो सिर्फ़ एक बात जानते थे कि “ये हमारे मेहमान हैं, और मेहमान अल्लाह की रहमत होते हैं।” मौलाना ने सिर्फ़ दरवाज़े ही नहीं, अपने दिल भी खोल दिए। दारुल-उलूम दीनियात, मस्जिद और मदरसे के ज़िम्मेदारान ने सिर्फ़ हॉल मुहैया नहीं किए बल्कि एक ऐसा काम किया जिसने हज़ारों दिल जीत लिए। मौलाना क़ारी ग़ुलाम ने तलबा के कमरों को भी ख़ाली करवा दिया ताकि दूर-दराज़ से आने वाले वालिदैन चंद घंटे सुकून से आराम कर सकें। ज़मीन पर बिछी हुई सादा चटाइयाँ शायद दुनिया के किसी मँहगे होटल के नर्म बिस्तरों से कहीं ज़्यादा क़ीमती महसूस हो रही थीं, क्योंकि वहाँ आराम के साथ इज़्ज़त, एहतिराम और मुहब्बत भी मौजूद थी। यह वो जज़्बा था जो किताबों में नहीं पढ़ाया जाता, यह किरदार मदारिस की हक़ीक़ी तअलीम का आईना था। मेहँदी के चंद नक़ूश और मुहब्बत के हज़ारों रंग भीवंडी के ख़ातून रज़ाकारों ने एक ऐसा ख़ूबसूरत मंज़र भी पेश किया जिसने हर देखने वाले का दिल मोह लिया। इम्तिहान के दौरान इन्तिज़ार करती हुई हिन्दू माओं और बहनों के हाथों पर मेहँदी लगाई जा रही थी। बज़ाहिर यह एक मामूली अमल था लेकिन हक़ीक़त में यह हिन्दुस्तान की मुश्तरका तहज़ीब, भाईचारे और सक़ाफ़ती हुस्न की एक ख़ामोश मगर निहायत मुअस्सर अलामत थी। मुहब्बत का इज़हार हमेशा बड़ी तक़रीरों से नहीं होता, कभी-कभी मेहँदी का एक छोटा सा नक़्श भी दिलों के दरमियान सदियों के फ़ासले मिटा देता है। बहुत से वालिदैन ने एतिराफ़ किया कि यह उनकी ज़िन्दगी का पहला मौक़ा था जब वो किसी मस्जिद या मदरसे के अन्दर दाख़िल हुए थे। उनके ज़हनों में न जाने कितने सवाल, ख़दशात और ग़लतफ़हमियाँ थीं, लेकिन चंद लम्हों में ही वो तमाम फ़ासले ख़त्म हो गए। जब पहली मर्तबा मस्जिद में क़दम रखा तो कैफ़ियत कुछ और थी और थोड़ी ही देर में ख़ौफ़, मुहब्बत में बदल गया। सलाहुद्दीन अय्यूबी उर्दू हाई स्कूल व जूनियर कॉलेज में क़याम करने वाले ठाणे के रहाइशी नरेश शर्मा जज़्बात पर क़ाबू न रख सके। उन्होंने कहा: “हमारा ख़याल जिस मुहब्बत, इज़्ज़त और ख़ुलूस के साथ रखा गया, वो हमारी ज़िन्दगी का ना-क़ाबिल-ए-फ़रामोश तजुर्बा है। यह इंसानियत की बेहतरीन मिसाल है।” यह सिर्फ़ एक जुमला नहीं था, यह बरसों से ज़हनों में क़ायम होने वाली दीवारों के गिरने की आवाज़ थी। जब एहतिराम ने मज़हब की तमाम सरहदें मिटा दीं वो मंज़र यक़ीनन देखने वालों की आँखें नम कर देने वाला था जब कई हिन्दू बुज़ुर्गों ने मुहब्बत और एहतिराम के जज़्बे से मुतअस्सिर होकर मौलाना साहिबान के क़दम छू लिए। बाज़ ख़वातीन ने हिचकिचाते हुए कहा: “हम पहली मर्तबा मस्जिद के अन्दर आई हैं।” तो मौलाना क़ारी ग़ुलाम ने मुस्कुराते हुए फ़रमाया: “यह अल्लाह का घर है… और अल्लाह का घर सबका घर है। आप बला-झिझक अन्दर आइए, यह आपका भी अपना घर है।” यह चंद अल्फ़ाज़ शायद हज़ारों ख़ुत्बात से ज़्यादा मुअस्सर थे। असल हिन्दुस्तान यही है नरेश शर्मा की एक बात पूरे वाक़िए का ख़ुलासा बन गई। उन्होंने कहा: “बराह-ए-करम इस वाक़िए में मज़हब को दरमियान में न लाएँ। न मौलाना साहिबान ने मज़हब की बात की, न हमने। यह सिर्फ़ इंसानों की तरफ़ से इंसानों की ख़िदमत थी।” यही हिन्दुस्तान की असल पहचान है और यही वो तहज़ीब है जिसने सदियों से मुख़्तलिफ़ मज़ाहब, ज़बानों, सक़ाफ़तों और रिवायात को एक धागे में पिरो रखा है। भीवंडी ने सिर्फ़ इम्तिहान नहीं सँभाला… क़ौम को रास्ता दिखा दिया इस पूरे अमल में सिर्फ़ मसाजिद ही नहीं बल्कि रईस हाई स्कूल, समदिया हाई स्कूल, सलाहुद्दीन अय्यूबी उर्दू हाई स्कूल, मुख़्तलिफ़ जमाअत ख़ाने, दीनी इदारे और भीवंडी स्टूडेंट्स हेल्प फ़ोरम जैसे नौजवानों के गुरोह भी बराबर शरीक रहे। यह किसी एक फ़र्द या एक इदारे की ख़िदमत नहीं थी बल्कि पूरे शहर की इज्तिमाई इंसान-दोस्ती थी। यह वो सबक़ है जिसकी आज हिन्दुस्तान को सबसे ज़्यादा ज़रूरत है। अब सवाल यह है कि आगे क्या? अगर भीवंडी यह मिसाल क़ायम कर सकता है तो मुल्क का हर शहर ऐसा क्यों नहीं कर सकता? अगर एक इम्तिहान के दिन मस्जिदों के दरवाज़े सबके लिए खुल सकते हैं तो फिर दूसरे मवाक़े पर क्यों नहीं? आइए हम सब चंद अमली अह्द करें: मज़हबी मक़ामात को इंसानियत के मराकिज़ बनाएँ। मसाजिद, मंदिर, गुरुद्वारे,

नफ़रतों के अँधेरे में मुहब्बत का चराग़ Read More »

मुम्बई लोकल ट्रेन का एक अलमिया, ख़ामोश मुआशरा और मरती हुई इंसानियत

डॉ. असदुल्लाह ख़ान कुछ दिन पहले पूरी दुनिया सूरज ग्रहण को देखने के लिए बेताब थी। लोग हिफ़ाज़ती चश्मे ख़रीद रहे थे, दूरबीनें लगा रहे थे और आसमान की तरफ़ नज़रें उठाए इस नादिर फ़लकियाती मंज़र का इन्तिज़ार कर रहे थे। लेकिन अफ़सोस… हम आसमान पर छाने वाले चंद लम्हों के अँधेरे को तो देख लेते हैं, मगर अपने दिलों, अपने मुआशरे और अपनी तहज़ीब पर छा जाने वाले दाइमी अँधेरे को महसूस नहीं करते। सूरज पर लगने वाला ग्रहण चंद मिनटों में ख़त्म हो जाता है, मगर इंसान के ज़मीर पर लगने वाला ग्रहण नस्लों तक बाक़ी रहता है। मुम्बई की लोकल ट्रेन में पेश आने वाला मेनक लोहार का अलमनाक क़त्ल इसी अन्दरूनी ग्रहण की एक ख़ौफ़नाक अलामत है। यह सिर्फ़ एक नौजवान की मौत नहीं, यह हमारी इज्तिमाई बेहिसी, हमारे बिखरते हुए समाजी रिश्तों और मरती हुई तहज़ीब का नौहा है। मुम्बई लोकल… सिर्फ़ ट्रेन नहीं, पूरे शहर का दिल है मुम्बई की लोकल ट्रेन को लोग महज़ एक ट्रांसपोर्ट सिस्टम समझते हैं, लेकिन हक़ीक़त में यह शहर की शह-रग है। यह रोज़ाना लाखों ख़्वाबों को अपने साथ लेकर चलती है। कोई मज़दूर अपने बच्चों की रोटी के लिए सफ़र कर रहा होता है, कोई तालिब-ए-इल्म अपने मुस्तक़बिल की तलाश में निकलता है, कोई माँ अपने बीमार बच्चे के इलाज के लिए जा रही होती है, और कोई नौजवान अपनी पहली मुलाज़मत के ख़्वाब सजा रहा होता है। कोई नौजवान अपनी पहली तनख़्वाह के ख़्वाब सजाता है। इन्हीं डब्बों में कितनी दुआएँ सफ़र करती हैं, कितनी उम्मीदें बैठती हैं, कितने मंसूबे जन्म लेते हैं। यह ट्रेन सिर्फ़ जिस्मों को नहीं बल्कि उम्मीदों, ख़्वाबों, ज़िम्मेदारियों और मुस्तक़बिल को एक स्टेशन से दूसरे स्टेशन तक पहुँचाती है। मगर जब इसी ट्रेन के अन्दर ख़ून बहने लगे, तो समझ लीजिए कि सिर्फ़ एक मुसाफ़िर नहीं मरा, बल्कि पूरा मुआशरा ज़ख़्मी हुआ है। सिर्फ़ एक जुमला… एक दरख़्वास्त और एक ज़िन्दगी हमेशा के लिए ख़ामोश कर दी गई। मंगल, 23 जून की वो रात बज़ाहिर हर रात की तरह मामूल की थी। चर्च गेट से नालासोपारा जाने वाली फ़ास्ट लोकल अपनी रफ़्तार से दौड़ रही थी। फ़र्स्ट क्लास कोच में आम दिनों की तरह लोग बैठे थे; किसी के कानों में एयर फ़ोन थे, कोई मोबाइल पर मसरूफ़ था, और कोई थकन से ऊँघ रहा था। इसी दौरान बाईस साला मेनक लोहार ने सिर्फ़ इतनी सी गुज़ारिश की कि दरवाज़ा बंद कर दिया जाए। सोचिए… सिर्फ़ एक जुमला। सिर्फ़ एक गुज़ारिश। “बराह-ए-करम दरवाज़ा बंद कर दीजिए।” क्या किसी मुहज़्ज़ब मुआशरे में यह जुमला मौत की सज़ा बन सकता है? लेकिन मुम्बई की इस लोकल ट्रेन में ऐसा ही हुआ। यह एक मामूली दरख़्वास्त थी, लेकिन सामने खड़ा शख़्स 30 साला, मुम्बई एयरपोर्ट के कार्गो सेक्शन में काम करने वाला रोशन सूर्णा, मामूली ज़हनी कैफ़ियत में नहीं था। उसके अन्दर शायद बरसों का ग़ुस्सा, नाकामियाँ, मायूसियाँ, शराब का नशा, और अना का ज़हर जमा था। एक लम्हे में चाक़ू निकला, चंद सेकंड में कई वार हुए, और एक हँसता खेलता नौजवान हमेशा के लिए ख़ामोश हो गया। एक बाईस साला नौजवान, जिसके वालिदैन ने शायद सुबह उसे दुआओं के साथ घर से रुख़्सत किया होगा, जिसकी माँ ने शाम को उसके पसन्दीदा खाने का सोचा होगा, जिसके ख़्वाब अभी हक़ीक़त बनने ही वाले थे… चंद लम्हों में ख़ून में नहला दिया गया। क़ातिल सिर्फ़ एक शख़्स नहीं था…? अख़बारात लिखेंगे कि क़ातिल फ़लाँ शख़्स था, पुलिस चार्ज शीट दाख़िल करेगी, और अदालत सज़ा सुनाएगी। लेकिन अगर हम सिर्फ़ इतना समझकर मुतमइन हो जाएँ तो शायद हम असल मुजरिम को कभी न पहचान सकें। सवाल यह है कि इस बोगी में बैठे हुए दर्जनों मुसाफ़िर क्या कर रहे थे? क्या उनमें से कोई एक शख़्स भी आगे नहीं बढ़ सकता था? क्या चार पाँच अफ़राद मिलकर क़ातिल को क़ाबू नहीं कर सकते थे? या फिर हम उस मक़ाम पर पहुँच चुके हैं जहाँ इंसान सिर्फ़ अपनी जान बचाने का नाम है? यह ख़ामोश तमाशाई कौन थे? हम… आप… हम सब। क़ातिल सिर्फ़ एक शख़्स था… या हम सब? पुलिस अपनी कार्रवाई मुकम्मल कर लेगी। तब शायद अदालत क़ातिल को सज़ा दे। और फिर अख़बारात नई सुर्ख़ियाँ तलाश कर लेंगे। लेकिन एक सवाल शायद कभी ख़त्म न हो। जब मेनक ज़मीन पर गिरा था… जब उस पर वार हो रहे थे… जब वो ज़िन्दगी और मौत के दरमियान आख़िरी साँसें ले रहा था… तब इस बोगी में बैठे हुए दर्जनों लोग क्या कर रहे थे? क्या उनके हाथ बाँध दिए गए थे? क्या उनकी ज़बानें गूँगी हो गई थीं? या फिर उनके दिलों से इंसानियत रुख़्सत हो चुकी थी? यह सवाल सिर्फ़ उन मुसाफ़िरों से नहीं… यह सवाल हम सब से है। हम कब इतने बेबस, इतने ख़ौफ़-ज़दा और इतने ख़ुदग़र्ज़ हो गए कि एक इंसान को मरता देखकर भी ख़ामोश बैठे रहे? यही वो लम्हा था जब एक शख़्स ने चाक़ू चलाया, मगर दरहक़ीक़त पूरा मुआशरा ख़ामोश खड़ा रहा। दुनिया में सबसे ख़तरनाक आवाज़ गोली की नहीं होती… सबसे ख़तरनाक आवाज़ अच्छे लोगों की ख़ामोशी की होती है। अब हमें इंसानों से नहीं, उनके ग़ुस्से से डर लगता है आज अगर कोई शख़्स ट्रेन में बुलंद आवाज़ में मोबाइल चला रहा हो… अगर कोई बदतमीज़ी कर रहा हो… अगर कोई दूसरों को तकलीफ़ पहुँचा रहा हो… तो अक्सर लोग ख़ामोश रहते हैं। इस लिए नहीं कि वो ग़लत को सही समझते हैं। बल्कि इस लिए कि अब हमें क़ानून से ज़्यादा इंसानों के अन्दर छुपे हुए ग़ुस्से से ख़ौफ़ आने लगा है। हर शख़्स सोचता है… “अगर मैंने कुछ कहा तो?” “अगर सामने वाला ज़हनी दबाव का शिकार हुआ तो?” “अगर उसके हाथ में चाक़ू हुआ तो?” “अगर कल अख़बार में मेरी तस्वीर छप गई तो?” सोचिए… जिस मुआशरे में सही बात कहना जान का ख़तरा बन जाए, वहाँ तहज़ीब ज़िन्दा कैसे रह सकती है? यह ख़ौफ़ सिर्फ़ एक फ़र्द का नहीं, यह पूरे शहर की नफ़्सियात बन चुका है। हम सब के अन्दर एक ख़ामोश जंग जारी है। एक माहिर-ए-नफ़्सियात की नज़र से देखें तो अक्सर लोग उस बात पर ग़ुस्सा नहीं करते जिस पर वो चीख़ते हैं, असल ग़ुस्सा कहीं और होता है। कोई बेरोज़गारी से टूट चुका है, कोई

मुम्बई लोकल ट्रेन का एक अलमिया, ख़ामोश मुआशरा और मरती हुई इंसानियत Read More »

ڈیجیٹل سراب اور نسل نوکا مستقبل!!!

اٹھو! کیا اب بھی وقتِ بیداری نہیں آیا؟ ڈاکٹر اسداللہ خان عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے مادی ترقی کی چکا چوند میں اپنے نونہالوں کے شعور کو ایک ایسے بے رحم اور بے لگام نظام کے حوالے کر دیا ہے، جہاں ان کی معصومیت اور وقت کا ہر لمحہ بکاؤ مال بن چکا ہے۔ کوالالمپور سے اٹھنے والی حالیہ قانون سازی کی لہر—جس کے تحت ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر قطعی پابندی عائد کر دی گئی ہے,محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ عالمی سطح پر ضمیرِ انسانی کی بیداری کا ایک واضح اعلان ہے۔ ملائیشیا نے آسٹریلیا اور انڈونیشیا کی مانند مادی مفادات پر انسانی اقدار کو ترجیح دیتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ نسلِ نو کے فکری تحفظ کے لیے سخت ترین فیصلے ناگزیر ہیں۔ کہیں بین الاقوامی اخبارThe Korea Timesنےسرخی لگائی کہ ملائیشیا کا نو عمروں پر سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر پابندی کا نفاذ — ایشیا میں ڈیجیٹل صیانت کا نیا باب، تو جرمنی کا عالمی ادارہDW News لکھتا ہے ملائیشیا کا ٹیک کمپنیوں پر دباؤ — ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس پر پابندی، اس نےناکامی پر بھاری جرمانےکی تفصیلی رپورٹ پیش کی ادھر ہم ہیں بے حس و بے پروا ، ہمیں بحیثیتِ معاشرہ خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم نے ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بچوں کا بے ضرر کھیل کا میدان سمجھنے کی فاش غلطی نہیں کی؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ کوئی علمی یا تفریحی آستانے نہیں، بلکہ دورِ جدید کے وہ مایا جال ہیں جو معصوم ذہنوں کو اپنی گرفت میں لے کر ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ کیا ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے جب بے رحم الگورتھمز ہمارے بچوں کی نفسیات اور ان کے قیمتی وقت کا سودا کریں گے؟ جب ہم ایک معلم کی نظر سے اس ڈیجیٹل تعطل (Digital Intermission) کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ کوئی پابندی نہیں بلکہ اسارت سے آزادی کا پروانہ نظر آتا ہے۔ اس سے طلبہ کی تعلیمی اور ذاتی زندگی پر درج ذیل انقلابی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۱-قوتِ غوروخوض اور طویل ارتکازِ توجہ کا احیا:انسانی دماغ کا وہ حصہ جو مستقبل بینی اور ضبطِ نفس کا ذمہ دار ہے، وہ لڑکپن میں ابھی تشکیلی مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے لا متناہی اسکرولنگ اور فوری تسکین کے میکانزم نے بچوں کے اندر گہرے مطالعے اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے۔ کیا ہماری توجہ اور گہرے مطالعہ کی صلاحیت سستی مقبولیت کی نذر ہو جائے گی؟ اس خلل کے خاتمے سے ہی طلبہ کے اندر علم کی پیاس اور فکری گہرائی دوبارہ جنم لے سکے گی۔ ۲-خوابِ خرگوش اور جسمانی توانائی کا تحفظ:دیر رات تک اسکرین کی نیلی روشنی کا طواف کرنا اور ورچوئل دنیا کی سحر انگیزی میں گم رہنا بچوں کی پرسکون نیند کا قتل عام کر رہا ہے۔ کیا آدھی رات تک اسکرین چمکانا نیند اور سکون کا قتل نہیں؟ جب ذہن اس مادی کشش سے آزاد ہوگا، تو نہ صرف جسمانی صحت بحال ہوگی بلکہ صبح کے وقت کلاس روم میں بیداری، بہترین یادداشت اور اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کے در وا ہوں گے۔ ۳-مایوسی کے مہیب سائے اور ذہنی دباؤ سے نجات:موجودہ دور کا طالب علم کتابی مقابلوں سے زیادہ “لائیکس” (Likes) کی گنتی اور دوسروں کی مصنوعی خوشحالی کے جھوٹے مظاہروں سے ذہنی تناؤ کا شکار ہے۔ کیا ورچوئل دنیا کے حسد اور دباؤ سے آزادی وقت کی ضرورت نہیں؟ اس لایعنی دوڑ سے نکل کر ہی ہمارے نونہال اپنے حقیقی میلانات، کھیلوں اور بے غرض دوستیوں کے سچے رنگوں سے اپنی زندگی کو سجا پائیں گے۔ ہندوستانی معاشرے کو فکری چیلنج کاسامنا ہے۔ایسے حالات میں کیا اب بھی خاموش تماشائی بنے رہنے کا وقت ہے؟ ہندوستان، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کا امین ہے، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں یہ سوال محض ایک بحث نہیں رہا، بلکہ ہمارے گھروں کا سلگتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ کی بے لگام ارزانی نے ہمارے سماج کو شدید اسکرین کی لت، سائبر ہراسانی اور اخلاقی پسماندگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرناٹک اور آندھرا پردیش جیسی ریاستیں اب اس طوفان کے آگے بند باندھنے کے لیے صوبائی سطح پر قانون سازی کی راہیں تلاش کر رہی ہیں، اور ملک کے اکنامک سروے نے بھی پُر زور الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ بچوں کا یوں ڈیجیٹل دلدل میں دھنس جانا قومی المیے سے کم نہیں۔ تاہم، ایک وسیع اور کثیر الثقافتی ملک ہونے کے ناطے، محض ایک مطلق پابندی شاید “ممنوعہ پھل” کی طرح بچوں کو چوری چھپے وی پی این (VPN) اور مزید تاریک راستوں کی طرف راغب کر دے۔ لہٰذا، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک زیادہ عملی، منصفانہ اور مرحلہ وار نظام (Graded, Age-Based Framework)وضع کریں۔ انسانی نفسیات اور فکری ارتقا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ نو عمری کی دہلیز پر ہر قدم ایک نئے شعور کا پتہ دیتا ہے۔ چنانچہ، ڈیجیٹل طوفان کے آگے محض ایک آہنی دیوار کھڑی کر دینا کافی نہیں، بلکہ ہمیں اس سیلابِ بلا خیز کو ایک منظم اور تدریجی نظامِ فلاح کے ذریعے قابو کرنا ہوگا۔ عجلت پسندی کے بجائے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ صنفِ آہن کی طرح ایک کڑا لیکن حکیمانہ بساطِ کارپوریٹ مرتب کیا جائے- ۸ سے ۱۲ سال (سخت ترین سدّ باب اور صیانتِ معصومیت):یہ عمر ذہنِ انسانی کی وہ کچی مٹی ہے جہاں نقشِ اول قائم ہوتا ہے۔ اس نازک مرحلے پر تجارتی گدھوں کو بچوں کے معصوم رجحانات کی مخفی نگرانی (Data Tracking) کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس دور میں ڈیجیٹل دنیا تک رسائی صرف اور صرف والدین کی حتمی، شعوری اور فعال رضامندی سے مشروط ہونی چاہیے، اور روزانہ اسکرین کے وقت (Screen Time) پر ایک ایسا کڑا اور غیر لچکدار پہرہ ہونا چاہیے جو بچپن کے فطری کھیلوں اور رشتوں کے لمس کو تکنیکی آلودگی سے محفوظ رکھ سکے۔ ۱۲ سے ۱۶ سال (مشروط و فلٹر شدہ رسائی اور تہذیبِ نفس):لڑکپن کا یہ دور جذبات کی

ڈیجیٹل سراب اور نسل نوکا مستقبل!!! Read More »

Important Notice: Dear Parents and Students, this is to inform you that school will reopen after the summer break on Monday, June 16, 2026. For any queries, please contact the school office. We look forward to welcoming all students back!

Asadullahkhanschoolasadullahkhanschool.org

Important Notice: Dear Parents and Students, this is to inform you that school will reopen after the summer break on Monday, June 16, 2026. For any queries, please contact the school office. We look forward to welcoming all students back! Read More »

5 Smart Study Tips to Ace Your Board Exams

Board exams can feel overwhelming, but with the right approach, every student can perform their best. Here are 5 proven tips from our teachers at AKEHS to help you study smarter. First, make a timetable and stick to it — divide your subjects across the week and give more time to topics you find difficult. Second, practice past year papers — this helps you understand the pattern and manage your time in the exam hall. Third, take short breaks every 45 minutes to keep your mind fresh. Fourth, revise important formulas and definitions every morning. Fifth and most importantly, stay confident and get enough sleep the night before your exam. Remember, your teachers and school are always here to support you. You can do it! Asadullahkhanschoolasadullahkhanschool.org

5 Smart Study Tips to Ace Your Board Exams Read More »