کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں!

مہاراشٹر کا تعلیمی اشاریہ — مساوات کی بلندی اور معیار کی پستی کا مطالعہ

ڈاکٹر اسد اللہ خان

اعداد کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے: وہ جھوٹ نہیں بولتے، مگر پورا سچ کہنے کے روادار بھی نہیں۔ مرکزی وزارتِ تعلیم نے اضلاع کی تعلیمی کارکردگی جانچنے والا اشاریہ جاری کیا تو مہاراشٹر کے حصے میں ایک ہزار میں سے چھ سو چون اعشاریہ چھ نمبر آئے۔ پچھلے تعلیمی سال یہی ریاست چھ سو انچاس اعشاریہ آٹھ پر کھڑی تھی۔ گویا پورے بارہ مہینوں کی مسافت میں بمشکل پانچ نمبروں کا اضافہ ہوا — ہزار کے پیمانے پر پانچ سے بھی کم! اخبار نے اسے ”معمولی بہتری“ لکھا، دفتروں میں غالباً اطمینان کی سانس لی گئی، اور فائل اگلے جائزے تک بند کر دی گئی۔ مگر یہ پیش رفت نہیں، ٹھہراؤ کا مہذب نام ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ریاست کتنا آگے بڑھی؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کہاں رکی ہوئی ہے، اور کیوں۔

یہ اشاریہ، جو ”پرفارمنس گریڈنگ انڈیکس برائے اضلاع“ کہلاتا ہے، سرکاری تعلیمی اعداد و شمار کے نظام ”یوڈائس پلس“ پر استوار ہے، اور اس آئینے میں ہر ریاست کو اپنی تعلیمی صورت دیکھنی پڑتی ہے۔ مہاراشٹر کی صورت عجب دو رنگی لیے ہوئے ہے: وہ چنڈی گڑھ، پنجاب، کیرلا اور دہلی جیسے صفِ اول کے خطوں سے پیچھے ہے، مگر تمل ناڈو، آندھرا پردیش، گجرات اور کرناٹک جیسی بڑی صنعتی ریاستوں سے آگے۔ تیرہ ریاستیں اور مرکزی علاقے اس سے نیچے کھڑے ہیں؛ اتر پردیش، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، بہار، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ باون اور اٹھاون فیصد کے درمیان سمٹے ہوئے ہیں، اور میگھالیہ فہرست کی آخری سیڑھی پر بیٹھا ہے۔ گویا مہاراشٹر نہ اس فہرست کا فخر ہے نہ اس کی ندامت؛ وہ اُس درمیانی منزل پر ٹھہرا ہوا ہے جہاں نہ زوال کا خوف جگاتا ہے نہ عروج کی طلب بے چین کرتی ہے۔ اور تعلیم کی دنیا میں یہی درمیانہ اطمینان سب سے مہلک مرض ہے، کیونکہ یہ علاج کی خواہش ہی چھین لیتا ہے۔

رپورٹ کی تہوں میں اتریے تو ایک ایسا تضاد ہاتھ آتا ہے جو محض شماریاتی نہیں، فکری ہے۔ ریاست نے ”مساوات“ کے شعبے میں دو سو ساٹھ میں سے دو سو چونتیس اعشاریہ چار نمبر حاصل کیے، یعنی چھیانوے فیصد سے زائد؛ مختلف سماجی طبقوں کے بچوں کی کارکردگی کا فاصلہ تقریباً مٹ چکا ہے۔ بظاہر یہ جشن کا مقام ہے۔ مگر اسی رپورٹ کا اگلا ورق پلٹیے: ”تعلیمی نتائج اور معیار“ میں دو سو چالیس میں سے صرف ایک سو دو اعشاریہ آٹھ نمبر، یعنی بمشکل تینتالیس فیصد — پوری رپورٹ کا سب سے نچلا ہندسہ۔ اب دونوں سطروں کو ملا کر پڑھیے تو طلسم ٹوٹتا ہے۔ برابری تو آ گئی، مگر کس شے میں؟ جب سیکھنے کا مجموعی حاصل ہی آدھے سے کم رہ جائے تو اس کی مساوی تقسیم کا مطلب صرف اتنا ہے کہ محرومی سب میں برابر بانٹ دی گئی۔ خالی پیالے تمام بچوں کے آگے ایک سیدھی قطار میں رکھ دینا عدل کی تصویر تو بن سکتا ہے، عدل کی حقیقت نہیں۔جس دسترخوان پر رزق نہ ہو، وہاں برتنوں کی برابر تقسیم انصاف نہیں، انصاف کی تسلی ہے۔

اب اس تضاد کی جڑیں کھودیے۔ ”اسکولی ڈھانچے اور سہولیات“ کے شعبے میں ریاست ایک سو نوے میں سے صرف ستاسی اعشاریہ دو نمبر لے سکی، یعنی چھیالیس فیصد سے بھی کم۔ ممبئی کے تعلیمی حلقوں کی گواہی اس عدد کو زبان دیتی ہے: ماہرینِ تعلیم توجہ دلا رہے ہیں کہ مہاراشٹر میں اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے کی سرکاری گرانٹ اب دی ہی نہیں جاتی، جس کے نتیجے میں عمارتوں اور بنیادی سہولتوں کا معیار ہر سطح پر گرتا چلا گیا ہے۔ دوسری طرف استاد ہے، جس کے کندھوں پر تدریس سے زیادہ دفتر کا بوجھ لاد دیا گیا ہے: حاضری کے پورٹل، اسکیموں کے فارم، سروے کے خانے، اور رپورٹوں کی وہ نہ ختم ہونے والی قطار جو تختۂ سیاہ اور بچے کے درمیان دیوار بن کر کھڑی ہو گئی ہے۔ یہی ماہرین بجا کہتے ہیں کہ نئے اساتذہ کی بھرتی ناگزیر ہے اور موجودہ اساتذہ کو دفتری مشقت سے رہائی دلانا اس سے بھی زیادہ ناگزیر۔ جس نظام میں دیوار بنانے کا بجٹ رک جائے اور استاد خود چلتا پھرتا دفتر بن جائے، وہاں سیکھنے کے نتائج کا گرنا حادثہ نہیں، حساب ہے۔

اشاریے کی صفِ اول پر نظر ڈالیے تو ایک اور پرت کھلتی ہے۔ چنڈی گڑھ سب سے آگے ہے، مگر کس بنا پر؟ ”نظم و نسق کے عمل“ میں تقریباً مکمل نمبر: فنڈ کے استعمال کی نگرانی، اساتذہ اور طلبہ کی ڈیجیٹل حاضری کے جال، ادارہ جاتی قیادت کے پروگرام۔ دوسری طرف پنجاب ہے، جو ”تعلیمی نتائج اور معیار“ میں سب سے آگے نکلا — بچوں کے پڑھنے، زبان اور ریاضی کی تصدیق شدہ مہارت کے بل پر۔ ان دونوں کامیابیوں کا فرق سمجھنا اس پوری بحث کی کنجی ہے۔ انتظام کی مشین چلانا ایک ہنر ہے اور علم کی کھیتی سینچنا بالکل دوسرا۔ اشاریے فطرتاً وہی ناپتے ہیں جو گنا جا سکے، اور تعلیم کا بہترین حصہ اکثر گنتی سے بچ نکلتا ہے: تجسس، اعتماد، سوال کرنے کی جرأت۔ مگر پنجاب کی مثال یہ بھی بتاتی ہے کہ سیکھنا ناقابلِ پیمائش نہیں؛ شرط صرف یہ ہے کہ نیت ناپنے کی نہیں، سکھانے کی ہو۔

اسکول کی روح نہ عمارت میں بستی ہے نہ رجسٹر میں؛ وہ اُس لمحے میں بستی ہے جب کسی بچے کے ذہن میں کوئی بات پہلی بار روشن ہوتی ہے۔ عمارت، وردی، دوپہر کا کھانا، پورٹل — یہ سب وسیلے ہیں؛ مقصود وہی ایک لمحہ ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ مہاراشٹر نے جماعت کے اندر ہونے والے اصل تدریسی عمل میں اپنے آدھے سے زیادہ نمبر گنوا دیے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ نظام نے وسیلوں کو مقصود سمجھ لیا ہے اور مقصود کو حاشیے پر ڈال دیا ہے۔ جس نصاب میں پرواز کی مشق نہ ہو، وہاں شاہین بچے بھی خاک ہی کریدنا سیکھتے ہیں۔ اور جب پوری ریاست کے بچوں کی پڑھنے اور حساب کی بنیادی مہارت آدھی رہ جائے تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے ایک نسل کے پروں کو مشق سے پہلے ہی باندھ دیا ہے۔

اس اشاریے کا سب سے دل گداز ورق وہ ہے جس میں ممبئی کے دو حصوں کا موازنہ ہے۔ جزیرہ نما شہر یعنی جنوبی ممبئی درمیانے درجے (اکیاون تا ساٹھ فیصد) میں جگہ بنا سکا، مگر ممبئی کے مضافاتی ضلعے کو کولکاتا، پٹنہ، لکھنؤ اور جے پور کے ساتھ نچلے درجے (اکتالیس تا پچاس فیصد) میں کھڑا ہونا پڑا۔ اسکولوں کے سربراہ اس فرق کی ایک بنیادی وجہ بتاتے ہیں: مضافات میں ایسے بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے جو اپنے خاندان کی پہلی پڑھنے والی نسل ہیں۔ اس جملے کو سرسری نہ پڑھیے۔ پہلی نسل کے سیکھنے والے کا مطلب ہے وہ بچہ جس کے گھر میں کوئی اس کی کاپی نہیں دیکھ سکتا، کوئی اس کے سوال کا جواب نہیں دے سکتا، کوئی اس کے خواب کی زبان نہیں سمجھتا۔ اس کے بستے میں کتابوں کے ساتھ پورے خاندان کی نسلوں پرانی محرومی کا بوجھ بھی رکھا ہے۔ ایسے بچے کے لیے اسکول محض ایک ادارہ نہیں، پہلا اور آخری چراغ ہے۔ چنانچہ مضافات کے اسکول کی ناکامی جنوبی ممبئی کے اسکول کی ناکامی سے کہیں گہرا زخم لگاتی ہے: وہاں ایک ادارہ ناکام ہوتا ہے، یہاں ایک خاندان کی پہلی امید بجھتی ہے۔ ممبرا کی بستیوں میں میں نے ایسے سیکڑوں بچے دیکھے ہیں جن کے دستخط ان کے پورے خاندان کی تاریخ کے پہلے دستخط تھے۔

جنوبی ممبئی اور مضافات کے درمیان جو خلیج اس اشاریے میں نمایاں ہوئی ہے، وہ دراصل جغرافیے کی نہیں، تاریخ اور وسائل کی خلیج ہے۔ جزیرہ نما شہر میں ڈیڑھ ڈیڑھ سو برس پرانے ادارے ہیں جنھوں نے، خود ان کے سربراہوں کے بقول، وقت کے ہر موڑ پر اپنے آپ کو نیا کیا؛ وہاں والدین کا بڑا حصہ ایسا ہے جو بچے کی تعلیم میں وقت اور وسائل دونوں لگا سکتا ہے۔ مضافات میں نئے اسکول ابھی اپنی جڑیں پکڑ رہے ہیں، آبادی کی ساخت مسلسل بدل رہی ہے، اور سماجی و معاشی پس منظر کا تنوع ہر جماعت کو ایک نئی آزمائش بنا دیتا ہے۔ ستم یہ ہے کہ جگہ کی تنگی دونوں دنیاؤں کا مشترکہ نوحہ ہے: شہر کے پرانے اسکول کھیل کے میدانوں کے لیے کلبوں اور بیرونی تنصیبات کے محتاج ہیں، اور مضافات کے نئے اسکول جدید عمارتیں رکھ کر بھی کھلی زمین کو ترستے ہیں۔ ایک ہی شہر میں دو تعلیمی دنیائیں سانس لے رہی ہیں، اور المیہ یہ ہے کہ جن بچوں کو اسکول کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، انھی کے حصے کے اسکول سب سے کمزور ہیں۔

اس موقع پر تاریخ کا دروازہ کھٹکھٹانا ضروری ہے، کیونکہ یہ وہی مہاراشٹر ہے جس نے برصغیر کو تعلیمی مساوات کا پہلا سبق پڑھایا تھا۔ اٹھارہ سو اڑتالیس میں پونے کے بھیڈے واڑے میں جیوتی با پھولے اور ساوتری بائی پھولے نے لڑکیوں کا وہ اسکول کھولا جو ہندوستانیوں کے اپنے ہاتھوں قائم ہونے والے ابتدائی ترین اسکولوں میں شمار ہوتا ہے؛ ساوتری بائی پر راہ چلتے پتھر اور کیچڑ پھینکے گئے، مگر انھوں نے قلم نہیں رکھا۔ انیس سو سولہ میں مہارشی دھونڈو کیشو کاروے نے اسی سرزمین پر عورتوں کی پہلی یونیورسٹی کی بنیاد ڈالی۔ آج اشاریے میں مساوات کے شعبے کا چھیانوے فیصد شاید انھی بزرگوں کی صدی بھر پرانی محنت کا بچا ہوا اثاثہ ہے۔ مگر ورثہ خرچ ہوتا رہے اور نئی کمائی نہ ہو تو امیر سے امیر خاندان بھی ایک دن خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ تاریخ کی عدالت میں اس ریاست سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس نے کتنے پورٹل بنائے اور کتنی رپورٹیں جمع کیں؛ پوچھا یہ جائے گا کہ پھولے اور کاروے کی زمین پر بچوں کا سیکھنا آدھا کیوں رہ گیا۔

اب اس مضمون کے پہلے جملے کی طرف لوٹیے۔ ایک برس میں پانچ سے کم نمبروں کی بہتری کو اگر رفتار مان لیا جائے تو صفِ اول تک پہنچنے میں کتنے برس درکار ہوں گے؟ حساب کیجیے تو دل بیٹھنے لگتا ہے: اس چال سے منزل تک پہنچتے پہنچتے ایک پوری نسل اسکولوں سے گزر چکی ہو گی۔ اور تعلیم کا سب سے سفاک اصول یہی ہے کہ اس میں وقت واپس نہیں ملتا۔ ریاست اپنی حکمتِ عملی اگلے جائزے میں سدھار سکتی ہے، مگر بچہ اپنی چوتھی جماعت دوبارہ نہیں جی سکتا؛ جس سال اسے پڑھنا نہیں آیا، وہ سال اس کی عمر سے ہمیشہ کے لیے خرچ ہو گیا۔ ادھر پنجاب نے اسی ملک، اسی وسائل کے ڈھانچے اور اسی امتحانی نظام کے اندر رہ کر سیکھنے کے نتائج میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یعنی راستہ بند نہیں؛ صرف ارادے کی سواری سست ہے۔

آئیے اب اس کے حل کے بارے میں سوچیں!!

مرض کی تشخیص کے بعد نسخہ بھی لکھنا چاہیے، ورنہ تنقید محض ماتم بن جاتی ہے۔

اول، بنیادی ڈھانچے کی گرانٹ فوری بحال ہو، کیونکہ ٹپکتی چھت اور بند تجربہ گاہ بھی ایک خاموش نصاب ہے جو بچے کو روز یہ سبق پڑھاتا ہے کہ اس کی تعلیم کسی کی ترجیح نہیں۔

دوم، استاد کو دفتری مشقت سے رہا کیا جائے؛ ہر اسکول میں انتظامی امور کے لیے الگ عملہ ہو تاکہ استاد کی توانائی فارم بھرنے میں نہیں، فہم بھرنے میں صرف ہو۔

سوم، اساتذہ کی بھرتی کو ہنگامی ترجیح بنایا جائے اور تربیت کے میدان میں کیرلا اور لکشدیپ کے کامیاب ماڈل کھلے دل سے پڑھے جائیں۔

چہارم، مضافاتی علاقوں اور پہلی نسل کے سیکھنے والوں کے اسکولوں کے لیے خصوصی پروگرام بنیں: اسکول کے بعد مطالعے کی مدد، محلہ کتب خانے، اور والدین کی ایسی شمولیت جو انھیں شرمندہ کیے بغیر شریک کرے۔

پنجم، جائزے کا محور کاغذی اہداف کے بجائے سیکھنے کے نتائج کو بنایا جائے، تاکہ اسکول پورٹل کے سامنے نہیں، بچے کے سامنے جواب دہ ہوں۔

اور ششم، اسکول کے سربراہ کو قیادت کی وہ آزادی دی جائے جو چنڈی گڑھ کے انتظامی نظام کی اصل طاقت ہے، مگر اس آزادی کا رخ فائل سے موڑ کر جماعت کے کمرے کی طرف کر دیا جائے۔

یہ مضمون ہزار میں پانچ نمبروں سے شروع ہوا تھا؛ اسے ایک اعتراف پر ختم ہونا چاہیے۔ پیمانے ریاستوں کے لیے بنتے ہیں، بچوں کے لیے نہیں۔ جس بچے کو اس سال پڑھنا آ گیا، اس کے لیے ہر اشاریہ چھوٹا پڑ جاتا ہے؛ اور جس بچے کو نہیں آیا، اس کے نقصان کو ہزار کا کوئی پیمانہ ناپ نہیں سکتا، کیونکہ ہر بچہ اپنی ذات میں پورا ہزار ہے۔ مہاراشٹر کے پاس وہ سب کچھ موجود ہے جو کسی خطے کو تعلیمی عروج کے لیے درکار ہوتا ہے: مساوات کی زندہ روایت، اداروں کی صدی پرانی جڑیں، اور وہ سماج جس نے پتھر کھا کر بھی بچیوں کے لیے اسکول کھولے تھے۔ کمی صرف اُس نمی کی ہے جو ارادے سے ٹپکتی ہے۔

اشاریے حکومتوں کو نمبر دیتے ہیں، مگر تاریخ نسلوں کو نمبر دیتی ہے — اور تاریخ کا پرچہ ہر برس نہیں، ہر نسل میں صرف ایک بار آتا ہے۔