یو ڈائس پلس (UDISE+) 2025–26 رپورٹ کا تنقیدی و تحقیقی مطالعہ

کیا ہندوستان کا تعلیمی نظام واقعی بہتر ہو رہا ہے؟

ڈاکٹر اسد اللہ خان

قوموں کی زندگی میں بعض دستاویزات بظاہر دفتری کاغذ ہوتے ہیں مگر درحقیقت آئینہ ہوتے ہیں۔ یو ڈائس پلس کی سالانہ رپورٹ ایسی ہی ایک دستاویز ہے۔ چودہ لاکھ سے زائد اسکول، تقریباً پونے پچیس کروڑ طلبہ اور ایک کروڑ سے زیادہ اساتذہ — یہ محض گنتی نہیں، ایک تہذیب کے مستقبل کا نقشہ ہے۔ اس کے جدولوں کی ہر سطر کسی نہ کسی بستی کے کسی بچے کی کہانی کہتی ہے: وہ بچہ جو صبح سویرے بستہ سنبھالے نکلا؛ وہ لڑکی جو سائیکل ملنے پر پہلی بار گاؤں سے باہر کے اسکول تک پہنچی؛ اور وہ ننھا مزدور بھی جس کا نام کسی رجسٹر سے خاموشی سے کٹ گیا۔

ابھی چند روز قبل وزارتِ تعلیم نے تعلیمی سال 2025–26 کی رپورٹ جاری کی تو سرخیوں میں جشن کا رنگ نمایاں تھا: اسکول چھوڑنے کی شرح گھٹ گئی ہے اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار اساتذہ کی مجموعی تعداد 1.02 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ خبریں بلاشبہ خوش آئند ہیں اور ان پر اطمینان فطری ہے۔ مگر آئینہ چہرہ دکھاتا ہے، دل کا حال نہیں بتاتا۔ ایک سنجیدہ تعلیم داں کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ اعداد کیا کہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اعداد کیا کہنے سے قاصر ہیں۔ یہی سوال اس مضمون کا نقطۂ آغاز ہے۔

پہلے وہ سطریں دیکھیے جو واقعی روشن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی سطح پر اسکول چھوڑنے کی شرح 2.3 فیصد سے گھٹ کر 1.8 فیصد اور ثانوی سطح پر 8.2 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد رہ گئی ہے۔ ثانوی سطح پر مجموعی شرحِ داخلہ 68.5 فیصد سے بڑھ کر 71.7 فیصد ہو گئی ہے، اور ایک مرحلے سے اگلے مرحلے میں منتقلی کی شرحیں بھی بہتر ہوئی ہیں۔ اساتذہ کی تعداد 2022–23 کے 94.8 لاکھ سے بڑھ کر 1,02,73,020 تک پہنچ گئی — تین برسوں میں 8.3 فیصد کا اضافہ۔ طالب علم اور استاد کا تناسب بنیادی سطح پر 10، ابتدائی پر 12، وسطی پر 17 اور ثانوی پر 21 ہے، جو قومی تعلیمی پالیسی کے مقررہ معیار 30:1 سے کہیں بہتر ہے۔ صفر داخلے والے اسکولوں کی تعداد 29 فیصد گھٹ گئی ہے، مجموعی داخلوں میں لڑکیوں کا حصہ 48.4 فیصد ہے اور تدریسی عملے میں خواتین 54.9 فیصد۔

یہ سب سچ ہے، اور اس سچ کا انکار ناانصافی ہوگی۔ مگر سچ کا اعتراف اور سچ پر قناعت دو الگ رویے ہیں۔ اعتراف علم کی ابتدا ہے، قناعت اس کا خاتمہ۔

ڈراپ آؤٹ میں کمی آسمان سے نہیں اتری؛ اس کے پیچھے برسوں کی مسلسل محنت ہے۔ ثانوی سطح کے اسکولوں کی تعداد میں اضافہ، وظائف اور مفت نصابی کتب، یونیفارم اور سائیکل کی اسکیمیں، دوپہر کے کھانے کا نظام، لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری — ان سب نے مل کر بچوں کو اسکول میں روکے رکھنے کی وہ گرفت پیدا کی ہے جو دو دہائیاں پہلے موجود نہیں تھی۔ جن گھروں میں کبھی کتاب داخل نہ ہوئی تھی، آج ان کی دہلیز پر بستہ رکھا ہے۔ یہ چھوٹی بات نہیں۔

درحقیقت ہندوستان نے رسائی کی جنگ بڑی حد تک جیت لی ہے۔ اسکول اب فاصلے کا مسئلہ کم اور معیار کا مسئلہ زیادہ ہے۔ مگر رسائی تعلیم کی پہلی سیڑھی ہے، آخری نہیں۔ سیڑھی پر قدم رکھنے والے کو منزل پر پہنچا ہوا سمجھ لینا وہ مغالطہ ہے جس سے یہ مضمون خبردار کرنا چاہتا ہے۔

حاضری جسم کی گواہی ہے، سیکھنا ذہن کا واقعہ — اور دونوں کے درمیان کبھی کبھی برسوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔

یہیں سے وہ سوال شروع ہوتا ہے جو رپورٹ کے کسی جدول میں درج نہیں: کیا اسکول میں موجود رہنا تعلیم پانے کے مترادف ہے؟ اگر ایک بچہ روزانہ حاضر ہوتا ہے مگر اپنی جماعت کے مطابق پڑھنے، لکھنے اور بنیادی حساب کی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتا تو رجسٹر اسے حاضر لکھتا ہے، لیکن مستقبل اسے غیر حاضر لکھ دیتا ہے۔ ایسے بچے کو میں ’خاموش ڈراپ آؤٹ‘ کہتا ہوں — جسم جماعت کے اندر، ذہن جماعت سے باہر۔ وہ کسی سرکاری خانے میں شمار نہیں ہوتا، اس لیے کسی پالیسی کی نظر میں بھی نہیں آتا۔

دنیا اب تعلیمی نظاموں کو داخلوں سے نہیں، حاصلاتِ تعلم سے پرکھتی ہے۔ اے ایس ای آر کے سروے برس ہا برس سے یہ تلخ حقیقت دہراتے آئے ہیں کہ دیہی ہندوستان میں پانچویں جماعت کے تقریباً نصف بچے دوسری جماعت کی سطح کا متن روانی سے نہیں پڑھ پاتے۔ یو ڈائس نظام کا ڈھانچہ دکھاتی ہے؛ اے ایس ای آر اور قومی جائزے اس ڈھانچے میں بسنے والی روح کا حال بتاتے ہیں۔ جب تک دونوں کو ایک ساتھ نہ پڑھا جائے، تصویر ادھوری رہتی ہے — اور ادھوری تصویر پر جشن منانا خود فریبی کی مہذب صورت ہے۔

معاشیات میں ایک اصول گڈہارٹ کے نام سے منسوب ہے: جب کوئی پیمانہ خود ہدف بن جائے تو وہ اچھا پیمانہ نہیں رہتا۔ تعلیمی انتظامیہ اگر ڈراپ آؤٹ کی گرتی ہوئی شرح ہی کو کامیابی کا حاصل سمجھ لے تو خطرہ ہے کہ بچے کاغذ پر روک لیے جائیں اور علم میں چھوڑ دیے جائیں۔ پیمانہ منزل بن جائے تو سفر رکے بغیر بھی رک جاتا ہے۔

رپورٹ کا ایک گوشہ کم روشنی میں رہا: تین برس کی مسلسل بہتری کے بعد اِس سال بنیادی اور ابتدائی مرحلوں پر برقراری کی شرح میں معمولی کمی درج ہوئی ہے۔ عدد چھوٹا ہے، مگر تعمیر کے علم میں دراڑ کی سنگینی اس کی چوڑائی سے نہیں، اس کے مقام سے ناپی جاتی ہے — بنیاد کی باریک دراڑ چھت کی چوڑی دراڑ سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ تحقیق بارہا ثابت کر چکی ہے کہ جو بچہ ابتدائی پانچ برسوں میں تعلیمی نظام سے کمزور رشتہ قائم کرتا ہے، آگے چل کر اس کے اسکول چھوڑنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

اسی رپورٹ کا ایک اور عدد اس دراڑ کی گہرائی بتاتا ہے: ثانوی سطح پر برقراری کی شرح بہتر ہو کر بھی صرف 51.9 فیصد ہے۔ یعنی پہلی جماعت میں داخل ہونے والے ہر سو بچوں میں سے تقریباً اڑتالیس دسویں تک پہنچنے سے پہلے کہیں راستے میں چھوٹ جاتے ہیں۔ جس شاہراہ پر آدھے مسافر منزل سے پہلے اتر جائیں، اسے کامیاب سفر کہنے کے لیے بڑی فراخ دلی درکار ہے۔ بنیادی مرحلے کو مضبوط کرنا اس لیے محض ایک تعلیمی ترجیح نہیں، قومی ضرورت ہے۔

اساتذہ کی تعداد کا 1.02 کروڑ سے تجاوز کر جانا بلاشبہ ایک سنگِ میل ہے، اور اس سے طالب علم اور استاد کے تناسب میں جو بہتری آئی ہے وہ کاغذ پر رشک آور ہے۔ مگر اسی رپورٹ کا ایک اور صفحہ الٹیے تو منظر بدل جاتا ہے: ملک میں ایک لاکھ سے زائد اسکول آج بھی صرف ایک استاد کے سہارے چل رہے ہیں۔ ایک ہی کمرے میں کئی جماعتیں، اور ایک اکیلا معلم جو بیک وقت استاد بھی ہے، کلرک بھی، اندراجِ اعداد کا اہلکار بھی اور دوپہر کے کھانے کا منتظم بھی۔ اوسط کا یہی جادو ہے — کاغذ پر دس بچوں پر ایک استاد، زمین پر کہیں کہیں ایک استاد پر پورا اسکول۔

پھر یہ بنیادی سوال بھی اپنی جگہ قائم ہے: کیا زیادہ اساتذہ لازماً بہتر تعلیم کی ضمانت ہیں؟ تعلیم کی تاریخ گواہ ہے کہ نظام کی کامیابی تعداد سے نہیں، معیار سے وابستہ ہوتی ہے — تربیت، پیشہ ورانہ نشوونما، تدریسی آزادی، جواب دہی اور سب سے بڑھ کر معلم کے وقار سے۔ بھرتی آسان ہے، معلم سازی مشکل۔ ایک باصلاحیت استاد سیکڑوں تقدیریں بدل دیتا ہے، جب کہ خالی آسامی کا پُر ہو جانا بجائے خود علم پیدا نہیں کرتا۔ آئندہ دہائی میں ہندوستان کا اصل چیلنج مزید اساتذہ بھرتی کرنا نہیں، مزید مؤثر اساتذہ تیار کرنا ہے۔ اور مؤثر استاد صرف تربیت سے نہیں، توقیر سے بنتا ہے؛ جس معاشرے میں معلم کی کرسی سب سے نیچی رکھی جائے، وہاں علم کا مینار بلند نہیں ہو سکتا۔

رپورٹ کا سب سے کم زیرِ بحث مگر شاید سب سے معنی خیز عدد یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں کے داخلے ایک ہی برس میں تقریباً 27 لاکھ گھٹ کر 12.1 کروڑ سے 11.8 کروڑ رہ گئے، جب کہ نجی اسکولوں کے داخلوں میں لگ بھگ 30 لاکھ کا اضافہ ہوا۔ یہ اعداد کی سادہ منتقلی نہیں؛ یہ اعتماد کی ہجرت ہے۔ مزدور اور چھوٹا کاشتکار، جس کے لیے ہر روپیہ پسینے کی قیمت ہے، پیٹ کاٹ کر فیس بھرنے پر آمادہ ہے — یہ سرکاری نظامِ تعلیم کے بارے میں عوام کا خاموش فیصلہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ جو ریاست مفت تعلیم، مفت کتابیں اور مفت کھانا دیتی ہے، غریب اس سے کیوں رخ موڑ رہا ہے؟ جواب معیار میں ہے، اور اس ادراک میں کہ والدین اب صرف اسکول نہیں ڈھونڈتے، مستقبل ڈھونڈتے ہیں۔ سرکاری اسکول کا سب سے بڑا سرمایہ کبھی اس کی عمارت نہیں تھی؛ عوام کا بھروسا تھا۔ ستم یہ ہے کہ عمارتیں بہتر ہو رہی ہیں اور بھروسا رخصت ہو رہا ہے۔ کوئی بھی تعلیمی پالیسی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک وہ اس بھروسے کی واپسی کا راستہ نہ بتائے۔

رپورٹ ابتدائی سطح پر اسکول چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ خاندانوں کی نقل مکانی کو قرار دیتی ہے۔ یہ اعتراف اہم ہے، کیونکہ یہ تعلیم کے مسئلے کو اسکول کی چار دیواری سے نکال کر معاشرے کے آنگن میں رکھ دیتا ہے۔ جب روزگار ایک ضلع سے دوسرے ضلع کھینچتا ہے تو سب سے پہلے بچے کا بستہ چھوٹتا ہے۔ اینٹ کے بھٹوں، گنے کے کھیتوں اور تعمیراتی ٹھکانوں پر پھرتے خاندانوں کے بچے ہر نئے پڑاؤ پر نئے سرے سے اجنبی ہوتے ہیں — نئی زبان، نیا نصاب، نئی جماعت، اور ہر بار وہی پہلا دن جو کبھی دوسرے دن میں نہیں بدلتا۔

اس لیے غربت، روزگار، صحت اور سماجی تحفظ کو تعلیمی پالیسی کے حاشیے نہیں، اس کے بنیادی ابواب سمجھنا ہوگا۔ اسکول معاشرے کا آئینہ ہے؛ معاشرہ بکھرے تو عکس کیسے سلامت رہے؟ آج کی دنیا میں تعلیم صرف اسکول بنانے کا نام نہیں، ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا نام ہے جہاں ہر بچہ بلا رکاوٹ سیکھ سکے — چاہے اس کے ماں باپ کا پتا ہر موسم میں بدل جاتا ہو۔

ڈیجیٹل ڈھانچے کی پیش رفت رپورٹ کا ایک اور روشن باب ہے: کمپیوٹر کی سہولت والے اسکول 64.7 فیصد سے بڑھ کر 69.9 فیصد اور انٹرنیٹ والے 63.5 فیصد سے بڑھ کر 67.4 فیصد ہو گئے ہیں۔ اکیسویں صدی میں یہ پیش رفت ناگزیر ہے اور اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ مگر اسی رپورٹ میں ایک سطر ایسی ہے جس پر کسی سرخی نے توجہ نہیں دی: کھیل کے میدان والے اسکول 83 فیصد سے گھٹ کر 81.9 فیصد رہ گئے۔ سطر چھوٹی ہے، علامت بڑی۔ ہم بچوں کی انگلیوں کو اسکرین دے رہے ہیں اور پیروں سے مٹی چھین رہے ہیں۔

کھیل کا میدان محض تفریح کی جگہ نہیں؛ وہ کردار کی پہلی درس گاہ ہے، جہاں بچہ ہارنا، سنبھلنا، صف میں لگنا اور دوسرے کے حق کا احترام کرنا سیکھتا ہے — وہ اسباق جو کوئی اسکرین نہیں پڑھا سکتی۔ جو نسل میدان کے بجائے صرف اسکرین پر پروان چڑھے گی، وہ ذہین تو ہو سکتی ہے، متوازن شاید نہیں۔ ڈیجیٹل خواندگی اور کھلی دھوپ میں دوڑتا ہوا بچپن ایک دوسرے کے حریف نہیں ہونے چاہییں؛ جس دن یہ حریف بن گئے، اس دن ہم نے ترقی کے نام پر بچپن سے کچھ ایسا لے لیا ہوگا جو کوئی بجٹ واپس نہیں دلا سکتا۔

یو ڈائس کے ساتھ ہی وزارتِ تعلیم نے ریاستوں کی کارکردگی جانچنے والا اشاریہ پی جی آئی 2.0 بھی جاری کیا، اور اس کا نتیجہ اس پورے مضمون کے مقدمے کی تصدیق کرتا ہے: درجہ بندی کے دس درجوں میں کوئی ایک ریاست یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ اوپر کے تین درجوں تک نہیں پہنچ سکا؛ صرف چنڈی گڑھ چوتھے درجے تک رسائی پا سکا۔ یعنی خود حکومت کا اپنا پیمانہ گواہی دے رہا ہے کہ منزل ابھی دور ہے۔

یہ دونوں رپورٹوں کا تضاد نہیں، تکمیل ہے۔ یو ڈائس بتاتی ہے کہ ہم نے کتنے دروازے کھولے؛ پی جی آئی بتاتی ہے کہ دروازوں کے اندر کمرے کتنے آراستہ ہیں۔ دیانت دار قومیں دونوں رپورٹیں ایک ساتھ پڑھتی ہیں — ایک سے حوصلہ لیتی ہیں، دوسری سے سمت۔

آئیے اب یہ سوچیں کہ آگے کا راستہ کیا ہو۔

تنقید اگر راستہ نہ دکھائے تو شکایت بن جاتی ہے۔ اس لیے چند عملی سمتیں پیشِ نظر رہنی چاہییں۔

پہلی یہ کہ کامیابی کی تعریف بدلی جائے: ہر ضلع کا سالانہ حساب صرف اس پر نہ ہو کہ کتنے بچے اسکول میں بیٹھے، اس پر بھی ہو کہ کتنے بچوں نے پڑھنا، سمجھنا اور سوچنا سیکھا۔

دوسری یہ کہ بنیادی برسوں پر سرمایہ کاری کو اولین ترجیح ملے، کیونکہ جو دراڑ بنیاد میں بھر دی جائے وہ چھت تک نہیں پہنچتی۔

تیسری یہ کہ اساتذہ کی مسلسل تربیت اور رہنمائی کے ساتھ ان کا غیر تدریسی بوجھ گھٹایا جائے اور ان کا سماجی وقار بحال کیا جائے — استاد کو دفتری اہلکار بنا کر ہم نے جماعت سے اس کی روح نکال لی ہے۔

چوتھی سمت یہ کہ ایک استاد والے اسکولوں کا خاتمہ ترجیحی بنیادوں پر ہو، کیونکہ یہ ادارے نہیں، تعلیم کے نام پر قائم مجبوریاں ہیں۔

پانچویں یہ کہ سرکاری اسکول پر اعتماد کی بحالی کو باقاعدہ پالیسی کا درجہ دیا جائے — اعلانات سے نہیں، محلے کی سطح پر معیار کی نظر آنے والی گواہی سے۔

اور چھٹی یہ کہ نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیمی تسلسل کا مربوط نظام بنے: موسمی قیام گاہیں، منتقلی کے ریکارڈ کی خودکار ترسیل، اور منزل کے اسکول پر داخلے کی ذمہ داری۔ یہ سب تجاویز نئی نہیں؛ نیا صرف وہ ارادہ ہو سکتا ہے جو انہیں کاغذ سے اٹھا کر کلاس روم تک پہنچا دے۔

یو ڈائس پلس 2025–26 کی رپورٹ بلاشبہ امید افزا ہے۔ اس کے اعداد بتاتے ہیں کہ ملک صحیح سمت میں قدم اٹھا رہا ہے۔ مگر یہ منزل نہیں، سفر کا ایک پڑاؤ ہے۔ اگر آنے والے برسوں میں ہم داخلوں، حاضری اور گرتی ہوئی شرحوں پر مطمئن ہو کر بچوں کے حقیقی تعلیمی معیار، تنقیدی شعور، تخلیقی صلاحیت، اخلاقی تربیت اور ذہنی صحت کو نظر انداز کرتے رہے تو عین ممکن ہے کہ ہمارے اسکول بھرے رہیں اور مستقبل پھر بھی خالی رہ جائے۔ کسی قوم کی کامیابی اس سے نہیں ناپی جاتی کہ کتنے بچے اسکول تک پہنچے؛ اس سے ناپی جاتی ہے کہ اسکول نے انہیں کیسا انسان بنا کر معاشرے کو لوٹایا۔

اعداد چراغ کی لَو بتا سکتے ہیں، روشنی کی حرارت نہیں۔ مستقبل جدولوں میں نہیں، ان کمروں میں تشکیل پاتا ہے جہاں ایک باصلاحیت استاد کسی بچے کی آنکھ میں سوال جگاتا ہے اور اس کے دل میں خواب۔ جس دن ہماری رپورٹیں صرف یہ نہیں پوچھیں گی کہ بچہ اسکول میں کتنے دن رہا، بلکہ یہ بھی پوچھیں گی کہ اس نے وہاں کیا سیکھا، کیا سوچا اور کیا بننے کا حوصلہ پایا — اس دن سمجھیے کہ ہندوستان کی تعلیم اس موڑ پر پہنچ گئی ہے جس کا انتظار اس ملک کا ہر باشعور استاد، ہر فکرمند والدین اور ہر جاگتی آنکھ برسوں سے کر رہی ہے۔