اٹھو! کیا اب بھی وقتِ بیداری نہیں آیا؟
ڈاکٹر اسداللہ خان
عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے مادی ترقی کی چکا چوند میں اپنے نونہالوں کے شعور کو ایک ایسے بے رحم اور بے لگام نظام کے حوالے کر دیا ہے، جہاں ان کی معصومیت اور وقت کا ہر لمحہ بکاؤ مال بن چکا ہے۔ کوالالمپور سے اٹھنے والی حالیہ قانون سازی کی لہر—جس کے تحت ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر قطعی پابندی عائد کر دی گئی ہے,محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ عالمی سطح پر ضمیرِ انسانی کی بیداری کا ایک واضح اعلان ہے۔ ملائیشیا نے آسٹریلیا اور انڈونیشیا کی مانند مادی مفادات پر انسانی اقدار کو ترجیح دیتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ نسلِ نو کے فکری تحفظ کے لیے سخت ترین فیصلے ناگزیر ہیں۔ کہیں بین الاقوامی اخبارThe Korea Timesنےسرخی لگائی کہ ملائیشیا کا نو عمروں پر سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر پابندی کا نفاذ — ایشیا میں ڈیجیٹل صیانت کا نیا باب، تو
جرمنی کا عالمی ادارہDW News لکھتا ہے ملائیشیا کا ٹیک کمپنیوں پر دباؤ — ۱۶ سال سے کم عمر بچوں کے اکاؤنٹس پر پابندی، اس نےناکامی پر بھاری جرمانےکی تفصیلی رپورٹ پیش کی ادھر ہم ہیں بے حس و بے پروا ، ہمیں بحیثیتِ معاشرہ خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم نے ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بچوں کا بے ضرر کھیل کا میدان سمجھنے کی فاش غلطی نہیں کی؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ کوئی علمی یا تفریحی آستانے نہیں، بلکہ دورِ جدید کے وہ مایا جال ہیں جو معصوم ذہنوں کو اپنی گرفت میں لے کر ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ کیا ہم خاموش تماشائی بنے رہیں گے جب بے رحم الگورتھمز ہمارے بچوں کی نفسیات اور ان کے قیمتی وقت کا سودا کریں گے؟
جب ہم ایک معلم کی نظر سے اس ڈیجیٹل تعطل (Digital Intermission) کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ کوئی پابندی نہیں بلکہ اسارت سے آزادی کا پروانہ نظر آتا ہے۔ اس سے طلبہ کی تعلیمی اور ذاتی زندگی پر درج ذیل انقلابی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
۱-قوتِ غوروخوض اور طویل ارتکازِ توجہ کا احیا:انسانی دماغ کا وہ حصہ جو مستقبل بینی اور ضبطِ نفس کا ذمہ دار ہے، وہ لڑکپن میں ابھی تشکیلی مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے لا متناہی اسکرولنگ اور فوری تسکین کے میکانزم نے بچوں کے اندر گہرے مطالعے اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا ہے۔ کیا ہماری توجہ اور گہرے مطالعہ کی صلاحیت سستی مقبولیت کی نذر ہو جائے گی؟ اس خلل کے خاتمے سے ہی طلبہ کے اندر علم کی پیاس اور فکری گہرائی دوبارہ جنم لے سکے گی۔
۲-خوابِ خرگوش اور جسمانی توانائی کا تحفظ:دیر رات تک اسکرین کی نیلی روشنی کا طواف کرنا اور ورچوئل دنیا کی سحر انگیزی میں گم رہنا بچوں کی پرسکون نیند کا قتل عام کر رہا ہے۔ کیا آدھی رات تک اسکرین چمکانا نیند اور سکون کا قتل نہیں؟ جب ذہن اس مادی کشش سے آزاد ہوگا، تو نہ صرف جسمانی صحت بحال ہوگی بلکہ صبح کے وقت کلاس روم میں بیداری، بہترین یادداشت اور اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کے در وا ہوں گے۔
۳-مایوسی کے مہیب سائے اور ذہنی دباؤ سے نجات:موجودہ دور کا طالب علم کتابی مقابلوں سے زیادہ “لائیکس” (Likes) کی گنتی اور دوسروں کی مصنوعی خوشحالی کے جھوٹے مظاہروں سے ذہنی تناؤ کا شکار ہے۔ کیا ورچوئل دنیا کے حسد اور دباؤ سے آزادی وقت کی ضرورت نہیں؟ اس لایعنی دوڑ سے نکل کر ہی ہمارے نونہال اپنے حقیقی میلانات، کھیلوں اور بے غرض دوستیوں کے سچے رنگوں سے اپنی زندگی کو سجا پائیں گے۔
ہندوستانی معاشرے کو فکری چیلنج کاسامنا ہے۔ایسے حالات میں کیا اب بھی خاموش تماشائی بنے رہنے کا وقت ہے؟
ہندوستان، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی کا امین ہے، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں یہ سوال محض ایک بحث نہیں رہا، بلکہ ہمارے گھروں کا سلگتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔ انٹرنیٹ کی بے لگام ارزانی نے ہمارے سماج کو شدید اسکرین کی لت، سائبر ہراسانی اور اخلاقی پسماندگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرناٹک اور آندھرا پردیش جیسی ریاستیں اب اس طوفان کے آگے بند باندھنے کے لیے صوبائی سطح پر قانون سازی کی راہیں تلاش کر رہی ہیں، اور ملک کے اکنامک سروے نے بھی پُر زور الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ بچوں کا یوں ڈیجیٹل دلدل میں دھنس جانا قومی المیے سے کم نہیں۔
تاہم، ایک وسیع اور کثیر الثقافتی ملک ہونے کے ناطے، محض ایک مطلق پابندی شاید “ممنوعہ پھل” کی طرح بچوں کو چوری چھپے وی پی این (VPN) اور مزید تاریک راستوں کی طرف راغب کر دے۔ لہٰذا، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک زیادہ عملی، منصفانہ اور مرحلہ وار نظام (Graded, Age-Based Framework)وضع کریں۔
انسانی نفسیات اور فکری ارتقا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ نو عمری کی دہلیز پر ہر قدم ایک نئے شعور کا پتہ دیتا ہے۔ چنانچہ، ڈیجیٹل طوفان کے آگے محض ایک آہنی دیوار کھڑی کر دینا کافی نہیں، بلکہ ہمیں اس سیلابِ بلا خیز کو ایک منظم اور تدریجی نظامِ فلاح کے ذریعے قابو کرنا ہوگا۔ عجلت پسندی کے بجائے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ صنفِ آہن کی طرح ایک کڑا لیکن حکیمانہ بساطِ کارپوریٹ مرتب کیا جائے-
۸ سے ۱۲ سال (سخت ترین سدّ باب اور صیانتِ معصومیت):یہ عمر ذہنِ انسانی کی وہ کچی مٹی ہے جہاں نقشِ اول قائم ہوتا ہے۔ اس نازک مرحلے پر تجارتی گدھوں کو بچوں کے معصوم رجحانات کی مخفی نگرانی (Data Tracking) کی قطعی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس دور میں ڈیجیٹل دنیا تک رسائی صرف اور صرف والدین کی حتمی، شعوری اور فعال رضامندی سے مشروط ہونی چاہیے، اور روزانہ اسکرین کے وقت (Screen Time) پر ایک ایسا کڑا اور غیر لچکدار پہرہ ہونا چاہیے جو بچپن کے فطری کھیلوں اور رشتوں کے لمس کو تکنیکی آلودگی سے محفوظ رکھ سکے۔
۱۲ سے ۱۶ سال (مشروط و فلٹر شدہ رسائی اور تہذیبِ نفس):لڑکپن کا یہ دور جذبات کی طغیانی اور تجسس کی بے باکی کا عہد ہوتا ہے۔ یہاں مکمل ممانعت اکثر بغاوت کا سبب بن جایا کرتی ہے۔ اس لیے، یہاں حکمتِ عملی “مشروط رسائی” ہونی چاہیے۔ رات کے سحر انگیز اور تنہائی کے اوقات میں، جب ذہن تھکاوٹ کے باعث مغلوب ہوتا ہے، تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگ ان کی مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ مزید برآں، الگوردم کے مہیب پنجوں پر ایسے سخت اخلاقی اور تہذیبی فلٹرز نافذ کیے جائیں جو کسی بھی قسم کے جنسی، متشدد یا فکری طور پر گمراہ کن مواد کو اِن معصوم ذہنوں کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی نیست و نابود کر دیں۔
۱۶ سے ۱۸ سال (نگرانی کے ساتھ خود مختاری اور تعمیرِ شخصیت):یہ سنِ بلوغت کی وہ منزل ہے جہاں پرندے اپنی اڑان کا دائرہ خود طے کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ، یہاں حد سے زیادہ سختی شخصیت کو مسخ کر سکتی ہے۔ اس عمر میں نو عمروں کو پلیٹ فارم کے استعمال کی بظاہر آزادی تو دی جائے، لیکن پسِ پردہ ریاست کے سائبر تحفظ، سخت ترین اینٹی ہراسمنٹ گارڈ ریلز اور تادیبی قوانین کا ایسا مستحکم سایہ موجود ہو جو انہیں کسی بھی ممکنہ بلیک میلنگ، ڈیپ فیک یا آن لائن استحصال سے فولادی ڈھال فراہم کر سکے۔
ہمیں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح تسلیم کرنی ہوگی کہ نسلِ نو اور سرمایہ ملت کی حقیقی تربیت محض نصابی کتابوں کے چند خشک صفحات کی مرہونِ منت نہیں ہوتی۔ علم تو صرف روشنی دکھاتا ہے، لیکن اس روشنی کو مستقل شعلہ بنانے کے لیے ایک پرسکون، سازگار اور پاکیزہ خاندانی و سماجی ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج جب ہم ایک نازک ترین دوراہے پر کھڑے ہیں، تو ہمیں مصلحتوں کے نقاب الٹ کر خود سے، اپنے دل سے اور اپنی تہذیب سے یہ تلخ سوال پوچھنا ہوگا کہ: کیا ہم واقعی اتنے بے بس اور بے حس ہو چکے ہیں کہ اپنے بچوں کے معصوم بچپن، ان کی ذہنی پرواز اور ان کے درخشاں مستقبل کو چند ملٹی نیشنل کارپوریٹ کمپنیوں کے بینک بیلنس اور کاروباری منافع کے لیے بطورِ ایندھن قربان ہونے دیں؟ کیا ایک ننھی سی جان کا سکون، سلیکون ویلی کے کسی تاجر کے “لائیکس اور ویوز” (Likes & Views) سے کم تر ہے؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی قانون سازی کے جلال کے ساتھ، اساتذہ اپنے منصبِ رہبری کے ساتھ، اور والدین اپنی آغوشِ محبت کے ساتھ مل کر ایک ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں جو ان تجارتی اداروں کو یہ باور کرا دے کہ ہمارے بچوں کی فکری طہارت اور ان کا ذہنی سکون کسی کارپوریٹ منافع کا مدفن نہیں بن سکتا۔ ہمیں ٹیکنالوجی کو انسانی ترقی کا زینہ بنانا ہے، معصومیت کا جلاد نہیں! ہمیں ہر قیمت پر اپنے نونہالوں کو اس ورچوئل قید اور ڈیجیٹل اسارت سے رہا کرانا ہی ہوگا،یاد رہے کہ کھلونے چھین کر ان معصوم ہاتھوں میں اسکرین ہرگز نا دیں کیوںکہ ان ننھے چراغوں کا سفرکتابوں ہی سے روشن ہوگا (ان شاء اللہ)

