جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 کے نتائج اور نوجوان نسل کے لیے کامیابی کا منشور
ڈاکٹر اسد اللہ خان
کچھ نتائج ایسے ہوتے ہیں جو صرف چند طلبہ کی کامیابی کی داستان نہیں سناتے بلکہ پوری نوجوان نسل کے لیے پیغام بن جاتے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ خواب کیسے پورے ہوتے ہیں، منزلیں کیسے حاصل کی جاتی ہیں اور کن کمزوریوں سے بچ کر انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔وہ صرف یہ نہیں بتاتے کہ کون کامیاب ہوا، بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کامیابی تک پہنچنے والوں نے کون سی عادتیں اپنائیں، کن مشکلات کا سامنا کیا اور کس طرح اپنی کمزوریوں پر قابو پایا۔
حال ہی میں جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 کے نتائج کا اعلان ہوا۔ایک لاکھ اناسی ہزار سے زائد طلبہ اس امتحان میں شریک ہوئے۔ان میں سے تقریباً ستاون ہزار طلبہ کامیاب قرار پائے۔لیکن پورے ملک کی توجہ تین نوجوانوں پر مرکوز ہو گئی۔
شُبھم کمار (AIR-1)، کبیر چھلّر (AIR-2) اور جاتن چاہر (AIR-3)۔
جب ہم ان کی کامیابیوں کے پیچھے جھانکتے ہیں تو ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے۔ان میں سے کسی نے کامیابی کا راز غیر معمولی ذہانت کو قرار نہیں دیا۔کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ چوبیس گھنٹے پڑھتے تھے۔
کسی نے شارٹ کٹ، جادوئی فارمولا یا کسی خفیہ تکنیک کا ذکر نہیں کیا۔بلکہ تینوں کی زبان پر تقریباً ایک ہی پیغام تھا،
Dedication, Discipline and Consistencyیعنی وابستگی، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی۔یہی کامیابی کا اصل نسخہ ہے۔
بہار کے ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے شُبھم کمار نے 360 میں سے 330 نمبر حاصل کرکے پورے ہندوستان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ان کے والد ہارڈویئر کی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ان کے خاندان میں انجینئر بننے کا خواب ابھی پہلی نسل کا خواب تھا۔شُبھم نے ایک ایسی بات کہی جو ہر طالب علم کو زندگی بھر یاد رکھنی چاہیے کہ کامیابی لمبے وقت تک پڑھنے میں نہیں بلکہ مستقل مزاجی اور سیکھنے کے عمل پر اعتماد میں ہے۔یہ جملہ ہمارے پورے تعلیمی نظام کے لیے آئینہ ہے۔
کبیر چھلّر نے 329 نمبر حاصل کیےوہ صرف ایک نمبر سے پہلی پوزیشن سے پیچھے رہ گیالیکن ان کی سوچ انہیں لاکھوں طلبہ سے آگے لے گئی۔اس نے کبھی نمبروں کے پیچھے دوڑنے کی کوشش نہیں کی۔وہ Concepts کو سمجھنے پر توجہ دیتے رہے۔ہر امتحان کے بعد اپنی غلطیوں کا تجزیہ کرتے۔کمزوریوں کی فہرست بناتے اور پھر انہیں دور کرنے پر کام کرتے۔اس نے ثابت کیاکہ کامیاب طلبہ غلطیاں نہیں چھپاتے، بلکہ غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔
جتن چاہر نے ساتویں جماعت سے اپنی علمی بنیادیں مضبوط کرنا شروع کر دی تھیں۔اس نے اولمپیاڈز میں حصہ لیا۔سائنس، فلکیات، کیمسٹری اور دیگر علمی سرگرمیوں میں خود کو مصروف رکھا۔پھر ایک مرحلے پر وہ ٹائیفائیڈ کا شکار ہو گئے۔امتحانات چھوٹ گئے۔کلاسیں متاثر ہوئیں۔مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔خاندان اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ دوبارہ کھڑے ہوئے اور پورے ہندوستان میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔
جتن نے بتایا کہ ناکامی، بیماری یا مشکلات کامیابی کی راہ بند نہیں کرتیں، ہمت ہار دینا کامیابی کی راہ بند کرتا ہے۔
ہمارے طلبہ امتحانات میں کیوں پیچھے رہ جاتے ہیں؟
بطور معلم چالیس سال سے زیادہ عرصے کے تجربے کے بعد میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج کے طلبہ کی سب سے بڑی کمزوری کم ذہانت نہیں ہے۔بلکہ بے مقصد موبائل استعمال، سوشل میڈیا کی لت، غیر منظم مطالعہ، وقت کا زیاں، رٹّے پر انحصار، کمزور مطالعہ عادات، نیند کی کمی ، خود احتسابی کا فقدان، جلد نتائج حاصل کرنے کی خواہش ،یہ وہ خامیاں ہیں جو ذہین ترین طلبہ کو بھی ناکامی کی طرف لے جاتی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں ، بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم کیا کریں؟
ان ٹاپرس کی باتیں سننے کے بعد یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہمیں کامیابی کے لئے ایک لائحۂ عمل بنانا ہوگا ۔کچھ اصولوں کو اپنی زندگی میں اختیارکرنا ہوگا مثلاً
۱. روزانہ کے اہداف مقرر کریں۔بغیر ہدف کے پڑھائی، بغیر نقشے کے سفر کی طرح ہے۔
۲-. موبائل کا وقت محدود کریں۔مطالعہ کے دوران موبائل مکمل بند رکھیں۔
۳-. غلطیوں کی ڈائری بنائیں-ہر امتحان کے بعد اپنی غلطیاں لکھیں۔ٹاپرز یہی کرتے ہیں۔
۴-. تمامConcepts سمجھیں۔رٹّا وقتی نمبر دلا سکتا ہے۔فہم زندگی بھر کامیابی دیتا ہے۔
۵. روزانہ Revision کریں۔پڑھنا ضروری ہے۔مگر دہرانا اس سے زیادہ ضروری ہے۔
۶. اچھی نیند لیں۔نیند ضائع کرنا محنت نہیں بلکہ نقصان ہے۔
۷-ہلکی جسمانی ورزش کریں۔صحت مند جسم ہی طویل علمی سفر برداشت کر سکتا ہے۔
۸-اساتذہ سے سوال پوچھیں۔جو طالب علم سوال پوچھنے سے ڈرتا ہے وہ سیکھنے سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔
۸-مستقل مزاجی اپنائیں۔روزانہ دو گھنٹے کی مستقل پڑھائی، دس گھنٹے کی غیر مستقل پڑھائی سے بہتر ہے۔
۹-خود پر یقین رکھیں۔دنیا آپ پر یقین کرے یا نہ کرے، آپ کو خود پر یقین ہونا چاہیے۔
اس موقع پر والدین سے یہ گذارش کرنا چاہوں گاکہ اپنے بچوں پر صرف نمبروں کا دباؤ نہ ڈالیں۔ان کے اندر سیکھنے کی محبت پیدا کریں۔ان کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں۔ان کی محنت کو سراہیں۔ان کی غلطیوں پر رہنمائی کریں۔ان کی کامیابی کے سفر میں ان کے ساتھی بنیں، جج نہیں۔
وہیں اساتذہ سے یہ التجا ہے کہ آپ صرف نصاب مکمل نہ کریں بلکہ طلبہ کے اندر خواب بھی پیدا کریں۔اعتماد پیدا کریں۔سوچنے کی صلاحیت پیدا کریں۔کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ایک عظیم استاد ہزاروں زندگیاں بدل سکتا ہے۔
میرے عزیز طلبہ!
یاد رکھو!شُبھم، کبیر اور جتن کسی دوسرے سیارے سے نہیں آئے تھے۔وہ بھی تمہاری طرح عام بچے تھے۔فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے اپنی عادتوں کو غیر معمولی بنا لیا۔انہوں نے وقت کی قدر کی۔انہوں نے مستقل مزاجی اختیار کی۔انہوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا۔انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور یہی چیز انہیں لاکھوں طلبہ سے ممتاز بنا گئی۔آج اگر تم موبائل کے استعمال کو قابو میں لے لو، اپنی توجہ کو محفوظ کر لو، اپنے وقت کی حفاظت کر لو اور روزانہ تھوڑا سا بہتر بننے کا عہد کر لو تو یقین جانو آنے والا ہندوستان تمہارا منتظر ہےکیونکہ کامیابی قسمت کے دروازے پر نہیں ملتی۔کامیابی محنت، نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور کردار کے راستے پر چلنے والوں کو ملتی ہے۔
آخری بات!ٹاپرز پیدا نہیں ہوتے، وہ اپنی عادتوں، نظم و ضبط اور مسلسل جدوجہد سے خود کو ٹاپر بناتےہیں۔آپ بھی منصوبہ بندی، خود اعتمادی ، جہد مسلسل اور مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ ٹاپر بن سکتے ہیں (ان شاء اللہ)

