جین زی، تعلیمی نظام اور مستقبل کے خوف کی نفسیات
ڈاکٹر اسد اللہ خان
کبھی کبھی معاشروں میں آنے والی تبدیلیاں شور مچا کر نہیں آتیں۔ وہ خاموشی سے نسلوں کے رویوں میں اترتی ہیں۔ پھر ایک دن ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا بدل چکی ہے۔
آج دنیا بھر میں ایک عجیب منظر دکھائی دیتا ہے۔ انجینئر کاروبار سیکھ رہا ہے، ڈاکٹر یوٹیوب چینل چلا رہا ہے، استاد آن لائن کورس بیچ رہا ہے، طالب علم شیئر مارکیٹ سمجھ رہا ہے، اور یونیورسٹی سے فارغ ہونے والا نوجوان ملازمت ڈھونڈنے سے پہلے “Passive Income” کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ آخر ایسی کون سی تبدیلی رونما ہوئی ہے کہ ایک پوری نسل نوکری سے پہلے “Exit Plan” تیار کر رہی ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ آج کا نوجوان کسی کمپنی میں داخل ہونے سے پہلے اس دن کے بارے میں سوچ رہا ہے جب وہ کمپنی اسے نکال دے گی؟ آخر وہ کون سا خوف ہے جو اس نسل کے لاشعور میں بیٹھ گیا ہے؟
پچھلی نسلوں کا خواب سادہ تھا۔ پڑھو، اچھی ڈگری حاصل کرو، اچھی نوکری حاصل کرو، گھر بناؤ، بچوں کو پڑھاؤ اور ریٹائر ہو جاؤ۔ یہی کامیابی تھی، یہی استحکام تھا، یہی زندگی کا نقشہ تھا۔ لیکن آج کا نوجوان اس نقشے پر یقین نہیں رکھتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ بڑی بڑی ڈگریاں بے روزگاری کی ضمانت بن سکتی ہیں۔ اس نے دیکھا کہ کورونا کی ایک لہر نے کروڑوں ملازمتیں ختم کر دیں۔ اس نے دیکھا کہ مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں وہ کام کر رہی ہے جو کبھی ہزاروں افراد کیا کرتے تھے۔ اس نے دیکھا کہ کئی برسوں کی وفاداری کے بعد بھی ایک ای میل انسان کو بے روزگار بنا سکتی ہے۔ چنانچہ اس نسل نے ایک نیا سبق سیکھ لیا: “کسی ایک چیز پر انحصار خطرناک ہے۔”
لیکن یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔ کیا واقعی مسئلہ صرف روزگار کا ہے، یا مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ صرف معاشی بحران نہیں بلکہ تعلیمی بحران بھی ہے۔ کیونکہ ہماری پوری تعلیمی مشینری اب بھی بیسویں صدی کے لیے بچوں کو تیار کر رہی ہے جبکہ دنیا اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم اب بھی بچوں سے پوچھتے ہیں: “بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ ڈاکٹر؟ انجینئر؟ پائلٹ؟ استاد؟ افسر؟” مگر شاید اب سوال بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ آج کا سوال یہ ہونا چاہیے: “تم کون سی صلاحیتیں پیدا کرو گے جو ہر دور میں تمہیں زندہ رکھ سکیں؟”
یہاں ہماری تعلیم کی ایک بنیادی کمزوری سامنے آتی ہے۔ ہم بچوں کو امتحان پاس کرنا سکھاتے ہیں، مسائل حل کرنا نہیں۔ ہم انہیں معلومات دیتے ہیں، بصیرت نہیں دیتے۔ ہم انہیں نوکری حاصل کرنا سکھاتے ہیں، مواقع پیدا کرنا نہیں سکھاتے۔ ہم انہیں یادداشت دیتے ہیں، تخلیق نہیں دیتے۔
آج کا نوجوان ایک اہم سوال پوچھ رہا ہے۔ شاید وہ الفاظ میں بیان نہ کر سکے لیکن اس کے اندر یہ سوال مسلسل موجود ہے: “اگر میری ڈگری مجھے تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر مجھے کیا چیز محفوظ بنا سکتی ہے؟” اس سوال کا جواب صرف ملازمت نہیں، صرف کاروبار نہیں، صرف سرمایہ کاری نہیں، بلکہ صلاحیتوں کا ایسا مجموعہ ہے جو انسان کو ہر دور میں کارآمد بنا دے۔ Communication Skills، Critical Thinking، Problem Solving، Leadership، Digital Literacy، Entrepreneurship، Character Building اور سب سے بڑھ کر Learning Agility یعنی مسلسل سیکھتے رہنے کی صلاحیت۔
بدقسمتی سے ہمارے بہت سے تعلیمی ادارے اب بھی صرف نصاب مکمل کرنے کو تعلیم سمجھتے ہیں۔ جبکہ آنے والی دنیا میں نصاب سے زیادہ اہم “قابلیت” ہوگی، امتحان سے زیادہ اہم “مہارت” ہوگی اور ڈگری سے زیادہ اہم “Value Creation” ہوگی۔
یہ بھی ایک دلچسپ المیہ ہے کہ Gen Z کو Work-Life Balance کی نسل کہا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ شاید یہ نسل اپنے والدین سے زیادہ کام کر رہی ہے۔ دن میں نوکری، رات میں فری لانسنگ، ہفتہ وار کانٹینٹ کری ایشن، سوشل میڈیا نیٹ ورکنگ اور ساتھ میں نئی مہارتیں سیکھنے کی کوشش۔ یہ سب کیوں؟ کیونکہ انہیں کام سے نفرت نہیں، انہیں غیر یقینی مستقبل سے خوف ہے۔
ایک معلم کی حیثیت سے مجھے سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہے کہ کہیں ہم نوجوانوں کو صرف آمدنی پیدا کرنے والی مشینیں نہ بنا دیں۔ کیونکہ زندگی صرف مالی آزادی کا نام نہیں، زندگی مقصد کا نام بھی ہے، اخلاق کا نام بھی ہے، خدمت کا نام بھی ہے، کردار کا نام بھی ہے، معاشرے کی تعمیر کا نام بھی ہے۔ اگر تعلیم صرف پیسہ کمانا سکھائے اور انسان بننا نہ سکھائے تو وہ تعلیم نہیں، محض تربیتِ معاش ہے۔
آنے والے زمانے کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ کون سی ملازمت باقی رہے گی، بلکہ یہ ہوگا کہ کون سا انسان ہر تبدیلی کے باوجود اپنی افادیت برقرار رکھ سکے گا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیمی اداروں کو اپنا پورا فلسفہ ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا۔ ہمارا مقصد صرف ڈاکٹر، انجینئر، افسر یا تاجر پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسے انسان پیدا کرنا ہونا چاہیے جو حالات کے غلام نہ ہوں بلکہ حالات کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
شاید اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ Gen Z نوکریوں کو مسترد نہیں کر رہی۔ وہ کام سے فرار نہیں چاہتی، محنت سے بھی نہیں بھاگ رہی۔ وہ دراصل ایک ایسی دنیا میں زندہ رہنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے جہاں کوئی چیز مستقل نہیں رہی۔ اور شاید اس پوری کہانی کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ مستقبل ان لوگوں کا نہیں ہوگا جن کے پاس صرف ڈگریاں ہوں گی، بلکہ ان کا ہوگا جن کے پاس سیکھنے، بدلنے اور نئے راستے بنانے کی صلاحیت ہوگی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم کا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔
“زمانہ بدلنے سے پہلے اگر تعلیم نہ بدلے، تو پھر زمانہ تعلیم کو بے معنی بنا دیتا ہے۔”

