“جو بھی کرو گے، وہ درست ہوگا!”
ایک ماں کا یقین، ایک باپ کے پسینے، ایک استاد کی رہنمائی اور ایک پینٹر بیٹے کے خواب کی لازوال داستان
ایک پینٹر کا خواب:
میں رنگ کرتا رہا دیواریں دوسروں کی،
تاکہ میرا بیٹا رنگ بھر سکے اپنے خوابوں میں۔
یہ محنت کرتا رہا دن رات،
تاکہ وہ پڑھ سکے دن رات،
اور اس نے محنت کو عبادت بنا دیا۔
انگریزی نہیں آتی تھی، مگر ہمت تھی۔
سرکاری اسکول میں پڑھا، NMMS اسکالرشپ ملی۔
روزانہ 8 گھنٹے محنت، موک ٹیست میں ناکامیاں۔
ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب سب کچھ چھوڑنے کا سوچا!
تب ماں نے کہا:
“جو بھی کرو گے، وہ درست ہوگا!”
اور ایک دن — جے ای ای ایڈوانسڈ میں کامیابی!
نتیجہ صرف ساگر کا نہیں تھا…
یہ ایک والد کا پسینہ تھا، ایک ماں کی دعا تھی، ایک استاد کا اعتماد تھا، ایک سرکاری اسکول کا سہارا تھا، اور ہندوستان کے کروڑوں غریب گھروں کے خواب کا چین جانا تھا۔
محترم والدین!
اپنے بچوں کو صرف نصیحتیں نہ دیں بلکہ یقین دیں۔ صرف نتائج نہ پرکھیں، ان کا جذبہ اور اعتماد پیدا کریں۔ یقین رکھیں، اپنے بچوں کو یقین دلائیں کہ وہ بھی بن سکتے ہیں۔
عزیز طلبہ!
اگر راستہ مشکل ہے تو آپ ہو منزل بڑی ہے۔ ناکامی رفتار کم کرتی ہے، سفر ختم نہیں کرتی۔ اپنے خوابوں کو پالنے سے مت چھوڑو، ایک دن دنیا تہاری نتائج دیکھے گی۔ مگر اللہ تہاری جدوجہد دیکھ رہا ہے۔
“جو بھی کرو گے، وہ درست ہوکے… بس پڑھائی جاری رکھو!”
تحریر: ڈاکٹر اسداللہ خان

