زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری
قدرت کی تنبیہ، قرآن کی رہنمائی اور انسانیت کے لیے ایک سبق
ڈاکٹر اسد اللہ خان
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاختِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾
“بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور رات دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 190)
﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾
“خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا، اس سبب سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔” (سورۃ الروم: 41)
بے بس انسان اور آفاقی سچائی
دنیا روزانہ جاگتی ہے، لیکن ہر صبح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض صبحیں سورج کی روشنی کے ساتھ امید لے کر آتی ہیں، اور بعض صبحیں زمین کی لرزش کے ساتھ انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلا جاتی ہیں۔ کہیں زلزلہ آتا ہے، کہیں سیلاب بستیوں کو نگل جاتا ہے، کہیں آسمان آگ برساتا ہے، کہیں سمندر اپنی حدود توڑ دیتا ہے، اور کہیں ایک معمولی سا وائرس پوری دنیا کی طاقت، معیشت اور ٹیکنالوجی کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرتا ہے۔ ان واقعات کو اگر صرف “قدرتی آفات” کہہ کر اخبار کے ایک صفحے تک محدود کر دیا جائے تو شاید ہم بہت بڑی حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ مومن کے لیے یہ صرف خبریں نہیں ہوتییں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ قرآن انہیں “آیات” کہتا ہے؛ ایسی نشانیاں جو انسان کو اس کے رب، اس کی کمزوری، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں۔
آج کا انسان چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے، مصنوعی ذہانت کو اپنی عقل کا جانشین سمجھنے لگا ہے، اور چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے پر فخر کرتا ہے۔ اس نے فلک بوس عمارتیں کھڑی کر لیں، سمندر کی تہوں میں اتر گیا، پہاڑوں کو چیر کر شاہراہیں بنا دیں، مگر وہ اب بھی ایک ایسے معمولی سے زلزلے کے سامنے بے بس ہے جو چند لمحوں میں اس کی برسوں کی محنت، دولت، منصوبے اور غرور کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ یہی انسانی حقیقت ہے جسے قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔
﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾
“انہوں نے اللہ کی قدر ویسی نہ پہچانی جیسی پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی۔” (سورۃ الزمر: 67)
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں مٹیں، بعض اوقات ایک جھٹکے نے پوری سلطنتوں کو قصۂ پارینہ بنا دیا۔ قومِ عاد اپنی طاقت پر ناز کرتی تھی، قومِ ثمود اپنے پہاڑ تراش کر محلات بنانے پر فخر کرتی تھی، فرعون اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتا تھا، قارون اپنی دولت پر اکڑتا تھا، مگر قدرت نے سب کو ایک لمحے میں تاریخ کا سبق بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھا؟
﴿أفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾
“کیا وہ زمین میں چلتے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے تھے؟” (سورۃ یوسف: 109)
یہ سوال صرف تاریخ پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کے لیے ہے۔
سانحات، اخلاقی حس اور دل کا زلزلہ
گزشتہ دنوں دنیا کے ایک خطے میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک مرتبہ پھر یہی سبق دہرایا۔ چند لمحوں میں مضبوط عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے، والدین اپنی اولاد کو ڈھونڈتے رہ گئے، اور وہ لوگ جو چند منٹ پہلے معمول کی زندگی گزار رہے تھے، اچانک موت اور زندگی کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ ایسے مناظر ہر حساس انسان کی آنکھ نم کر دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناظر ہمارے دل بھی بدلتے ہیں؟ افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب سانحات کو بھی ایک “وائرل ویڈیو” کی طرح دیکھنے لگا ہے۔ چند لمحے افسوس، چند دعائیں، چند تبصرے، اور پھر اگلی خبر؛ گویا انسانی جان کی حرمت بھی خبروں کی رفتار کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ»
“زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔” (جامع الترمذی، حدیث: 1924)
اسلام نے ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بنایا بلکہ دردِ دل رکھنے والا انسان بنایا ہے۔ مومن وہ ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، جو مصیبت زدہ کی مدد کرے، جو بھوکے کو کھانا کھلائے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے، بے گھر کے لیے پناہ بنے اور مصیبت کے وقت انسانیت کا سہارا بنے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
«مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ»
“مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6011؛ صحیح مسلم، حدیث: 2586)
یہی وہ معیار ہے جس پر ہمیں اپنے ایمان کو پرکھنا چاہیے۔ اگر دنیا کے کسی کونے میں آنے والی آفت ہمارے دل کو نہ ہلائے، اگر کسی ماں کی آہ ہمارے ضمیر کو نہ جگائے، اگر کسی یتیم بچے کے آنسو ہمیں بے چین نہ کریں، تو ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ قدرت کی ہر تنبیہ ہمیں دو سوالوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: پہلا سوال یہ کہ اگر آج یہ آزمائش ان پر آئی ہے تو کیا یقین ہے کہ کل ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے گی؟ اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال، اگر آج ہماری زندگی کا زلزلہ آ جائے، اگر موت اچانک ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہو، تو کیا ہم اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال کسی جغرافیے، کسی قوم، کسی مذہب یا کسی زبان کا نہیں؛ یہ ہر انسان کا سوال ہے۔ اسی لیے قرآن اعلان کرتا ہے:
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً وَإِلَيْنَا تُرْجَعُونَ﴾
“ہر جان نے موت کا مزہ چکھنا ہے، اور ہم تمہیں اچھائی اور برائی دونوں سے آزماتے ہیں، پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔” (سورۃ الأنبیاء: 35)
یہی اس مضمون کی بنیاد ہے۔ ہمارا مقصد کسی مخصوص ملک کے زلزلے کی رپورٹنگ نہیں، بلکہ اس حقیقت کو سمجھنا ہے کہ جب زمین لرزتی ہے تو صرف عمارتیں نہیں گرتیں، انسان کے غرور کے بت بھی ٹوٹتے ہیں، اس کی بے خبری بے نقاب ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ ایک مرتبہ پھر اپنے بندوں کو پکار کر فرماتا ہے: “لوٹ آؤ، ابھی وقت ہے۔”
جب زمین بولتی ہے، قرآن کیا کہتا ہے؟
﴿إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا﴾
“جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی، اور اپنے سارے بوجھ باہر نکال دے گی، تو انسان حیران ہو کر کہے گا: اسے کیا ہو گیا؟” (سورۃ الزلزال: 1-3)
قرآن مجید کا اندازِ بیان یہ نہیں کہ وہ صرف واقعات سنائے، بلکہ وہ واقعات کے پس پردہ حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن زلزلے کا ذکر کرتا ہے تو صرف زمین کی حرکت کا تذکرہ نہیں کرتا بلکہ انسان کے دل کی حرکت، اس کے ضمیر کی بیداری اور اس کے انجام کی یاد دہانی بھی ساتھ کرتا ہے۔ آج سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ زمین مختلف ارضیاتی پلیٹوں پر قائم ہے۔ کہیں دباؤ بڑھتا ہے، کہیں دراڑ پیدا ہوتی ہے، کہیں زیرِ زمین توانائی جمع ہوتی رہتی ہے اور پھر اچانک ایک جھٹکے کی صورت میں خارج ہو جاتی ہے۔ یہ سائنسی حقیقت اپنی جگہ درست ہے، مگر ایک مسلمان کا ایمان اسے اس سے آگے لے جاتا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ان تمام اسباب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے؛ اس کی مشیت کے بغیر ایک ذرہ بھی حرکت نہیں کرتا۔ اسی حقیقت کو قرآن نے بڑے مختصر مگر جامع انداز میں بیان فرمایا:
﴿مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ﴾
“کوئی مصیبت اللہ کے حکم کے بغیر نہیں آتی، اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔” (سورۃ التغابن: 11)
یہ آیت ہمیں دو عظیم سبق دیتی ہے۔ پہلا یہ کہ دنیا میں ہونے والا کوئی واقعہ اللہ کے علم اور اس کی حکمت سے باہر نہیں۔ دوسرا یہ کہ مصیبت کے وقت ایمان والا شخص صرف سوال نہیں کرتا بلکہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ آج کا انسان ہر حادثے کے بعد صرف یہ پوچھتا ہے: “یہ کیسے ہوا؟” جبکہ قرآن اس سے ایک اور سوال پوچھتا ہے: “یہ کیوں دکھایا گیا؟” یہی فرق ہے مادی فکر اور ایمانی فکر میں۔ قرآن ہمیں بار بار کائنات کو صرف دیکھنے کا نہیں بلکہ اس پر غور کرنے کا حکم دیتا ہے۔
﴿قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾
“کہہ دیجئے! غور سے دیکھو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کیا نشانیاں ہیں۔” (سورۃ یونس: 101)
بدقسمتی سے ہم نے دیکھنا تو سیکھ لیا، مگر غور کرنا چھوڑ دیا۔ ہم زلزلے کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، سیلاب کی تصاویر دیکھتے ہیں، آتش زدگی کے مناظر دیکھتے ہیں، لیکن اپنے اندر جھانکنے کی فرصت نہیں نکالتے۔
مصیبت، عذاب یا آزمائش؟
یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر زلزلہ اللہ کا عذاب ہوتا ہے؟ قرآن و سنت کا منصفانہ مطالعہ ہمیں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ ہر مصیبت کو کسی مخصوص قوم پر عذاب قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے، دارالجزاء نہیں۔ اسی لیے فرمایا:
﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾
“اور ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔” (سورۃ البقرۃ: 155)
گویا بعض مصیبتیں آزمائش ہوتی ہیں، بعض تنبیہ، بعض گناہوں کا کفارہ، بعض درجات کی بلندی کا ذریعہ اور بعض اللہ کی قدرت کی نشانیاں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ… إِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ»
“مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے… اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، اور یہی اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔” (صحیح مسلم، حدیث: 2999)
یہی ایمان کی اصل پہچان ہے۔ مصیبت کا آنا ایمان کی کمزوری کی دلیل نہیں، بلکہ مصیبت پر انسان کا رویہ اس کے ایمان کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
کیا زمین بھی اللہ کی بَندہ ہے؟
قرآن کا تصورِ کائنات نہایت حیرت انگیز ہے۔ ہم زمین کو صرف ایک سیارہ سمجھتے ہیں، لیکن قرآن اسے اللہ کی ایک مطیع مخلوق کے طور پر پیش کرتا ہے۔
﴿ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ﴾
“پھر اللہ نے آسمان اور زمین سے فرمایا: خوشی سے یا مجبوری سے حاضر ہو جاؤ۔ دونوں نے عرض کیا: ہم خوشی سے حاضر ہیں۔” (سورۃ فصلت: 11)
زمین اللہ کی نافرمان نہیں ہوتی، نافرمان صرف انسان ہوتا ہے۔ زمین اپنے رب کے حکم پر گردش کرتی ہے، ہوا اسی کے حکم سے چلتی ہے، سمندر اسی کے حکم سے لہریں اٹھاتا ہے، بارش اسی کے حکم سے برستی ہے، پہاڑ اسی کے حکم سے قائم ہیں، اور جب وہی رب زمین کو حکم دیتا ہے کہ “ہل جا”، تو زمین ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کرتی۔ لیکن انسان… جسے اشرف المخلوقات بنایا گیا… وہ اپنے رب کے حکم پر عمل کرنے میں ساری زندگی ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔
میرے نزدیک زمین کا زلزلہ اتنا خطرناک نہیں جتنا انسان کے دل کا زلزلہ۔ آج دیانت لرز چکی ہے، امانت لرز چکی ہے، حیا لرز چکی ہے، اخلاق لرز چکے ہیں اور خاندان لرز گئے ہیں۔ تعلیم سے کردار نکل گیا ہے، ترقی سے خدا کا خوف نکل گیا ہے، اور خوشحالی سے شکر ختم ہو گیا ہے۔ ہمیں عمارتوں کے گرنے کا خوف ہے، لیکن انسانیت کے گرنے کا احساس نہیں۔ ہم پلوں کے ٹوٹنے پر ماتم کرتے ہیں، مگر رشتوں کے ٹوٹنے پر خاموش رہتے ہیں۔ ہم زلزلوں کے لیے امدادی فنڈ قائم کرتے ہیں، مگر اخلاقی زوال کے علاج کے لیے کوئی تحریک نہیں چلاتے۔ یہی وہ زلزلہ ہے جس کی شدت ریکٹر اسکیل سے نہیں ناپی جا سکتی؛ یہ وہ زلزلہ ہے جس نے پوری تہذیب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ کا تاریخی سبق اور تعمیری رویہ
روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ کے زمانے میں مدینہ منورہ میں زمین ہلی۔ آپؓ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: “اگر دوبارہ ایسا ہوا تو میں تمہارے درمیان نہیں رہوں گا۔” علماء نے اس واقعے سے یہ سبق اخذ کیا کہ صالح حکمران بھی ایسے مواقع پر صرف سائنسی تجزیہ نہیں کرتے تھے بلکہ پوری قوم کو محاسبۂ نفس، استغفار اور اللہ کی طرف رجوع کی دعوت دیتے تھے۔
یہی اسلامی رویہ ہے کہ ہم اسباب بھی اختیار کریں، سائنسی تحقیق بھی کریں، محفوظ تعمیرات بھی بنائیں اور ریسکیو نظام بھی مضبوط کریں، لیکن ساتھ ہی اپنے دلوں کی تعمیر بھی کریں؛ کیونکہ اگر دل ویران ہوں تو مضبوط عمارتیں بھی انسان کو سکون نہیں دے سکتیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن، سائنس اور عقل تینوں ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ زمین کیسے لرزتی ہے، جبکہ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اس لرزش سے ہمیں کیا سیکھنا چاہیے۔ اور شاید یہی وہ سبق ہے جسے آج کا انسان سب سے زیادہ بھول چکا ہے۔ جب زمین لرزتی ہے تو صرف عمارتیں نہیں گرتیں، انسان کے غرور کے بت بھی ٹوٹتے ہیں، اس کی بے خبری بے نقاب ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ ایک مرتبہ پھر اپنے بندوں کو پکار کر فرماتا ہے: “لوٹ آؤ، ابھی وقت ہے۔”
جب انسان خدا کو بھول جاتا ہے، زمین اسے یاد دلاتی ہے
﴿وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ﴾
“میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔” (سورۃ الذاریات: 56)
انسانی تاریخ پر اگر ایک غیر جانبدار نگاہ ڈالی جائے تو ایک حقیقت بالکل واضح نظر آتی ہے کہ جب بھی انسان نے اپنی طاقت کو اپنی نجات سمجھ لیا، اپنی دولت کو اپنی بقا کا ضامن مان لیا اور اپنے علم کو اپنی خود مختاری کا اعلان بنا لیا، قدرت نے اسے ایک ایسا سبق دیا جس نے اس کے تمام دعووں کی حقیقت کھول کر رکھ دی۔ فرعون کے پاس اقتدار تھا، لیکن ایک موج اسے لے گئی۔ قارون کے پاس دولت تھی، لیکن زمین نے اسے نگل لیا۔ عاد کے پاس طاقت تھی، لیکن ایک ہوا نے ان کا غرور توڑ دیا۔ ثمود کے پاس سنگ تراشی کا فن تھا، مگر ایک چیخ نے ان کی بستیاں خاموش کر دیں۔ قرآن ان تمام واقعات کو تاریخ کے ابواب کے طور پر نہیں بلکہ زندہ نصیحت کے طور پر بیان کرتا ہے۔
﴿فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنبِهِ﴾
“پھر ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ کے سبب پکڑا۔” (سورۃ العنکبوت: 40)
یہ آیت صرف گزشتہ قوموں کے لیے نہیں، بلکہ ہر اُس معاشرے کے لیے آئینہ ہے جو یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ کی گرفت سے بے نیاز ہے۔
جدید انسان کا سب سے بڑا وہم
آج کے انسان نے اپنی ترقی کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔ اسے یقین ہے کہ مصنوعی ذہانت ہر مسئلہ حل کر دے گی، روبوٹ انسانی محنت کی جگہ لے لیں گے، خلائی بستیاں مستقبل بن جائیں گی، طب ہر بیماری کا علاج دریافت کر لے گی اور معیشت ہر غربت ختم کر دے گی۔ لیکن قدرت کبھی کبھی صرف چند سیکنڈ میں یہ یاد دلا دیتی ہے کہ انسان ابھی بھی اتنا ہی محتاج ہے جتنا حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں تھا۔ ایک زلزلہ، ایک سیلاب، ایک طوفان، یا ایک معمولی سی وبا آتی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں بھی بے بسی کی تصویر بن جاتی ہیں۔ کوئی ایٹمی ہتھیار زمین کو لرزنے سے نہیں روک سکتا، کوئی مصنوعی ذہانت موت کو چند لمحوں کے لیے بھی مؤخر نہیں کر سکتی اور کوئی دولت ایک سانس خریدنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ﴾
“اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو، اور صرف اللہ ہی بے نیاز اور ہر تعریف کا مستحق ہے۔” (سورۃ فاطر: 15)
یہ آیت انسانی تہذیب کے تمام فلسفوں پر بھاری ہے۔ انسان جتنا بھی ترقی کر لے، وہ اللہ سے بے نیاز کبھی نہیں ہو سکتا۔
زمین کیوں ناراض دکھائی دیتی ہے؟ مادی و ماحولیاتی شعور
یہ سوال صرف ماہرینِ ارضیات کا نہیں، اہلِ فکر کا بھی ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا نے موسمی تغیرات، شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں، خشک سالی، جنگلات کی تباہی، سمندری آلودگی اور حیاتیاتی تنوع میں خطرناک کمی دیکھی ہے۔ سائنس اس کی مختلف وجوہ بیان کرتی ہے، اور ان میں بہت سی باتیں درست ہیں۔ لیکن قرآن اس حقیقت کا ایک اخلاقی اور روحانی پہلو بھی سامنے رکھتا ہے۔
﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ﴾
“خشکی اور سمندر میں فساد پھیل گیا، اس سبب سے جو انسانوں کے ہاتھوں نے کمایا۔” (سورۃ الروم: 41)
یہ آیت صرف اخلاقی فساد کی نہیں، بلکہ انسانی رویوں کے ان نتائج کی بھی طرف اشارہ کرتی ہے جو پوری زمین پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہم نے درخت کاٹے، ندیوں کو آلودہ کیا، ہوا کو زہر آلود بنایا، زمین کے وسائل کو امانت کے بجائے لوٹ کا مال سمجھا، جانوروں کی نسلیں ختم کیں، پانی کو ضائع کیا اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ موسم کیوں بدل رہے ہیں؟
اسلام نے چودہ سو سال پہلے ماحولیات کو عبادت کا حصہ بنا دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ وَفِي يَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ، فَلْيَغْرِسْهَا»
“اگر قیامت قائم ہو جائے اور تمہارے ہاتھ میں ایک پودا ہو تو اگر ممکن ہو تو اسے لگا دو۔” (مسند احمد، حدیث: 12902)
غور کیجیے! جب دنیا ختم ہونے والی ہو تب بھی درخت لگانے کی تعلیم دی جا رہی ہے؛ یہ ہے اسلام کا ماحولیاتی شعور۔
ہم زمین کے مالک نہیں، امین ہیں: دل کا قحط
آج کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انسان خود کو زمین کا مالک سمجھ بیٹھا ہے، حالانکہ قرآن اسے خلیفہ کہتا ہے، مالک نہیں؛
﴿إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً﴾
“میں زمین میں ایک نائب (خلیفہ) بنانے والا ہوں۔” (سورۃ البقرۃ: 30)
خلیفہ وہ ہوتا ہے جو امانت کی حفاظت کرے، جو انصاف قائم کرے، جو وسائل کو ضائع نہ کرے، جو کمزوروں کا حق نہ مارے اور جو زمین کو آباد کرے، برباد نہ کرے۔ لیکن ہم نے خلافت کو حکومت سمجھ لیا، ذمہ داری نہیں؛ اسی لیے دنیا کے بہت سے مسائل صرف سیاسی نہیں، اخلاقی بھی ہیں۔
مجھے اکثر محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا بحران معاشی نہیں، اخلاقی ہے۔ ہماری عمارتیں پہلے سے زیادہ بلند ہیں، مگر ہمارے کردار پہلے سے زیادہ پست ہیں۔ ہماری گاڑیاں پہلے سے زیادہ تیز ہیں، مگر ہمارے تعلقات پہلے سے زیادہ کمزور ہیں۔ ہمارے موبائل پہلے سے زیادہ سمارٹ ہیں، مگر ہماری گفتگو پہلے سے زیادہ بے معنی ہو گئی ہے۔ ہمارے گھروں میں آسائش بڑھ گئی، مگر سکون کم ہو گیا۔ علم بڑھا، مگر حکمت کم ہو گئی؛ اطلاعات بڑھ گئیں، مگر بصیرت گھٹ گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ
“اصل دولت مال کی کثرت نہیں، بلکہ دل کا غنی ہونا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6446؛ صحیح مسلم، حدیث: 1051)
یہ حدیث آج کی پوری صارفیت پسند (Consumerist) تہذیب پر تبصرہ ہے۔
اصل تعمیر کس کی؟
ہم پل بناتے ہیں، لیکن دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ ہم فلک بوس عمارتیں کھڑی کرتے ہیں، مگر خاندان بکھر جاتے ہیں۔ ہم شہروں کو روشن کرتے ہیں، مگر ضمیر تاریک ہو جاتے ہیں۔ ہم ترقی کی رفتار ناپتے ہیں، مگر انسانیت کی گہرائی بھول جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب زمین ہلتی ہے تو صرف اینٹیں نہیں گرتیں، انسان کے سارے مصنوعی سہارے بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور تب اسے احساس ہوتا ہے کہ جس رب کو اس نے اپنی مصروفیات میں بھلا دیا تھا، اصل پناہ تو اسی کے پاس ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی دعا تھی:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ
“اے اللہ! میں تیری نعمت کے زائل ہونے، تیری عطا کردہ عافیت کے بدل جانے، تیرے اچانک عذاب اور تیری ہر ناراضی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2739)
یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امن، صحت، گھر، خاندان، روزگار، سکون اور زندگی—یہ سب ہماری کمائی نہیں، اللہ کی عطا ہیں اور جب عطا کرنے والا چاہے تو ایک لمحے میں انسان کو اس کی اصل حقیقت دکھا سکتا ہے۔ اسی لیے عقل مند وہ نہیں جو صرف مضبوط گھر بنائے، بلکہ وہ ہے جو اپنے رب کے ساتھ مضبوط تعلق بھی قائم کرے، کیونکہ جب زمین ہلتی ہے تو صرف وہی سہارا باقی رہتا ہے جو کبھی نہیں ہلتا۔
آزمائش کے وقت مسلمان کا کردار: مصیبت صرف رونے کا وقت نہیں، جاگنے کا وقت ہے
﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾
“اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے، وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی رحمتیں اور نوازشیں ہیں اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔” (سورۃ البقرۃ: 155-157)
اسلام مصیبت سے انکار نہیں کرتا، بلکہ مصیبت کا سامنا کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ یہ دنیا جنت نہیں ہے کہ یہاں صرف راحت ہی راحت ہو، اور نہ ہی یہ جہنم ہے کہ یہاں صرف تکلیف ہی تکلیف ہو۔ یہ امتحان گاہ ہے، جہاں خوشحالی بھی آزمائش ہے اور تنگی بھی آزمائش۔ افسوس یہ ہے کہ جب خوشی ملتی ہے تو ہم اسے اپنی قابلیت کا نتیجہ سمجھ لیتے ہیں، اور جب مصیبت آتی ہے تو فوراً اللہ سے شکوہ کرنے لگتے ہیں، حالانکہ قرآن نے دونوں کیفیتوں کا معیار متعین کر دیا ہے: نعمت ملے تو شکر، مصیبت آئے تو صبر، اور دونوں صورتوں میں رجوع الی اللہ؛ یہی مومن کی پہچان ہے۔
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی نیک انسان مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو شاید اللہ اس سے ناراض ہے، یہ تصور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ»
“سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پر آتی ہے، پھر ان لوگوں پر جو ان کے بعد زیادہ نیک ہوتے ہیں، پھر ان کے بعد۔” (جامع الترمذی، حدیث: 2398؛ سنن ابن ماجہ، حدیث: 4023)
سوچیے! حضرت ایوب علیہ السلام بیماری میں مبتلا ہوئے، حضرت یوسف علیہ السلام قید میں گئے، حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں رہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہجرت کی، اور ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے یتیمی، غربت، شعبِ ابی طالب کی بھوک، طائف کی سنگ باری، بدر و احد کے زخم اور اپنے جگر گوشوں کی وفات جیسے بے شمار امتحانات برداشت کیے۔ اگر آزمائش اللہ کی ناراضی کی دلیل ہوتی تو سب سے پہلے انبیائے کرام اس سے محفوظ ہوتے؛ اس لیے مصیبت کو اللہ سے دوری نہیں بلکہ اللہ کے قریب آنے کا مایہ ناز موقع سمجھنا چاہیے۔
سب سے پہلے زبان پر کیا آنا چاہیے؟
زلزلہ آئے، حادثہ ہو، کسی عزیز کی وفات ہو یا زندگی کا کوئی اور سانحہ… ایک مسلمان کی زبان پر سب سے پہلے یہی کلمات آنے چاہئیں، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یہ صرف ایک تعزیتی جملہ نہیں، بلکہ پورا عقیدہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ کے ہیں، ہمارا مال اللہ کا ہے، ہمارے بچے اللہ کی امانت ہیں، ہماری جان بھی اللہ کی امانت ہے اور ایک دن سب کو اسی کی طرف واپس جانا ہے۔ جب یہ یقین دل میں اتر جاتا ہے تو انسان حادثات کی زد میں آ کر ٹوٹتا نہیں بلکہ سنبھل جاتا ہے۔
مسلمان صرف دعا نہیں کرتا، خدمت بھی کرتا ہے۔ اسلام صرف آنسو بہانے کا مذہب نہیں بلکہ عمل کا مذہب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ»
“جو اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرتا ہے، اللہ اس کی ضرورت پوری فرماتا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 2442؛ صحیح مسلم، حدیث: 2580)
آج اگر کسی خطے میں زلزلہ آئے، کہیں سیلاب آئے، کہیں قحط پڑ جائے، یا کہیں جنگ سے لوگ بے گھر ہو جائیں، تو ایک مسلمان کا فرض صرف زبانی افسوس کا اظہار نہیں بلکہ اس کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق مال، وقت، مہارت، دعا اور حوصلہ افزائی سے مصیبت زدگان کی مدد کرے، اور اگر کچھ بھی ممکن نہ ہو تو کم از کم دل سے ان کا درد محسوس کرے۔
امت کا تصور اور تعلیمی و خاندانی ذمہ داری
آج دنیا نے قومیتوں، سرحدوں، زبانوں اور نسلوں کی بنیاد پر خود کو تقسیم کر لیا ہے، لیکن اسلام نے چودہ سو سال پہلے انسانیت اور امت کا ایسا مربوط تصور دیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ، يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا»
“ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔” پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست فرما کر اس کی عملی تصویر پیش فرمائی۔ (صحیح بخاری، حدیث: 481؛ صحیح مسلم، حدیث: 2585)۔ یہی وہ مثالی اسلامی معاشرہ ہے جہاں کوئی بھوکا سوئے تو دوسرا بے چین ہو جائے، جہاں کسی کا گھر گرے تو دوسرا اس کے لیے چھت بن جائے، اور جہاں کسی کے بچے یتیم ہوں تو پورا معاشرہ ان کا کفیل بن جائے۔
قدرتی آفات صرف حکومتوں کو نہیں، خاندانوں کو بھی آئینہ دکھاتی ہیں۔ ہم نے بچوں کو دنیا کی ہر سہولت دینا سکھایا، لیکن ہر آزمائش برداشت کرنا نہیں سکھایا۔ ہم نے انہیں کامیابی کے خواب دکھائے، لیکن ناکامی کا حوصلہ نہیں دیا۔ ہم نے انہیں بہترین لباس پہنایا، لیکن بہترین کردار سے محروم رکھا۔ ہم نے انہیں جدید آلات (Gadgets) کا استعمال تو سکھایا، لیکن مصیبت میں اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھانا نہیں سکھایا۔ کیا ہمارے بچے جانتے ہیں کہ زلزلے کے وقت کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟ کیا انہیں معلوم ہے کہ مصیبت کے وقت استغفار کیوں ضروری ہے؟ کیا وہ جانتے ہیں کہ صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے؟ اگر نہیں، تو ہمیں اپنی خاندانی تربیت پر نئے سرے سے غور کرنا ہوگا۔
اساتذہ اور حکمرانوں کے لیے پیغام
ایک معلم کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ قدرتی آفات صرف جغرافیہ (Geography) کے خشک اسباق نہیں ہوتیں، بلکہ یہ اخلاقیات کے زندہ اسباق بھی ہوتی ہیں۔ جب بچوں کو زلزلے کے بارے میں پڑھایا جائے تو انہیں صرف ریکٹر اسکیل نہ سکھایا جائے، بلکہ انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ مصیبت زدہ انسانوں کی مدد کیوں ضروری ہے، انسانی جان کی قدر کیا ہے، قدرت کے وسائل کی حفاظت کیوں لازم ہے، اور یہ کہ علم کا اصل مقصد صرف روزگار نہیں بلکہ بلند کردار ہے۔ تعلیم اگر انسان کو زیادہ رحم دل، زیادہ ذمہ دار اور زیادہ خدا شناس نہ بنا سکے تو وہ صرف معلومات (Information) ہے، حکمت (Wisdom) نہیں۔
اسی طرح اسلامی تعلیمات میں حکومت کا سب سے پہلا فرض رعایا کی جان و مال کی حفاظت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»
“تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔” (صحیح بخاری، حدیث: 893؛ صحیح مسلم، حدیث: 1829)
اس حدیث کی روشنی میں آفات سے نمٹنے کی قبل از وقت منصوبہ بندی، محفوظ تعمیرات، فوری امدادی رسائی، شفاف انتظامیہ اور کمزور طبقات کی دادرسی محض انتظامی امور نہیں بلکہ دینی و ایمانی ذمہ داریاں بھی ہیں۔
سلف صالحین کا معمول تھا کہ جب بارش رک جاتی، قحط آتا، یا کوئی اجتماعی مصیبت پیش آتی تو وہ سب سے پہلے توبہ و استغفار کرتے تھے۔ اس لیے نہیں کہ وہ ہر آفت کو کسی مخصوص گناہ کا براہِ راست نتیجہ قرار دیتے تھے، بلکہ اس لیے کہ مومن ہر حال میں اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے جب مختلف لوگوں نے اپنے انفرادی و اجتماعی مسائل بیان کیے تو آپ نے سب کو بالعموم استغفار ہی کی تلقین فرمائی؛ کیونکہ استغفار صرف گناہوں کی معافی نہیں بلکہ اللہ کی رحمت کے بند دروازے کھولنے کی کنجی ہے۔ شاید آج ہماری دنیا کو جدید ترین مشینوں سے زیادہ توبہ کرنے والے دلوں کی ضرورت ہے اور یہی وہ سبق ہے جسے قدرت ہر زلزلے، ہر سیلاب اور ہر طوفان کے ذریعے ہمیں دوبارہ پڑھانا چاہتی ہے۔
زمین کی آہ، آسمان کی گواہی اور انسان کا انجام
﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا﴾
“اس دن زمین اپنی تمام خبریں بیان کرے گی، کیونکہ تمہارے رب نے اسے حکم دیا ہوگا۔” (سورۃ الزلزال: 4-5)
جب میں دنیا میں آنے والے زلزلوں، سیلابوں، آتش زدگیوں، قحط سالیوں اور دوسری قدرتی آفات کی خبریں پڑھتا ہوں تو میرے ذہن میں ایک ہی سوال بار بار ابھرتا ہے کہ کیا واقعی زمین خاموش ہے؟ نہیں، زمین خاموش نہیں ہے بلکہ وہ مسلسل بول رہی ہے۔ پہاڑ بول رہے ہیں، سمندر بول رہے ہیں، ہوائیں، بارشیں، خشک ہوتے دریا اور کٹتے ہوئے جنگلات بول رہے ہیں، اور کبھی کبھی ایک شدید زلزلہ پوری انسانیت سے مخاطب ہو کر کہتا ہے: “اے انسان! تُو آخر کب جاگے گا؟” لیکن افسوس کہ ہم قدرت کی اس پکار کو صرف سنسنی خیز “بریکنگ نیوز” سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
میری نظر میں دنیا کی سب سے بڑی غفلت یہ نہیں کہ انسان اللہ کو مانتا نہیں، بلکہ سب سے بڑی غفلت یہ ہے کہ انسان اللہ کو مانتے ہوئے بھی اسے عملی زندگی میں بھول جاتا ہے۔ وہ نماز بھی پڑھتا ہے، کاروبار بھی کرتا ہے، اولاد کی تعلیم کا انتظام بھی کرتا ہے اور گھر بھی بناتا ہے، مگر اسے کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ شاید اس کی زندگی کا گھر اس کے مادی منصوبوں سے پہلے ہی ختم ہو جائے! انسان پچاس سال کے منصوبے بناتا ہے، حالانکہ اسے اگلے پانچ منٹ کی بھی خبر نہیں ہوتی۔ قرآن نے اسی غفلت کو بڑے بلیغ انداز میں بیان کیا ہے:
﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ﴾
“کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی، اور نہ ہی کوئی جان جانتی ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گی۔” (سورۃ لقمان: 34)
کتنی عجیب بات ہے کہ انسان پوری دنیا خریدنے کی تگ و دو کرتا ہے اور آخرکار اسے قناعت کے لیے صرف دو گز زمین ملتی ہے۔
موت: سب سے بڑا زلزلہ اور اصل کامیابی
ہم زمین کے عارضی زلزلوں سے ڈرتے ہیں، لیکن اپنی موت کے دائمی زلزلے کو بھول جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کی انفرادی قیامت اس کی موت ہی سے شروع ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِيَامَتُهُ»
“جس کی موت آگئی، اس کی قیامت قائم ہوگئی۔” (یہ مفہوم متعدد آثار میں منقول ہے)
اور ایک دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے ہدایت فرمائی:
«أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ»
“لذتوں کو مٹا دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔” (جامع الترمذی، حدیث: 2307؛ سنن النسائی، حدیث: 1824)
جو انسان موت کو مستحضر رکھتا ہے، وہ کسی کا حق نہیں مارتا، جھوٹ نہیں بولتا، تکبر اور ظلم سے اجتناب کرتا ہے؛ کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دن اسے رب کے حضور ہر چھوٹے بڑے عمل کا جواب دینا ہے۔
آج کی دنیا کامیابی کو دولت، شہرت، اقتدار اور مناصب سے ناپتی ہے، لیکن قرآن کا ابدی معیار بالکل الگ ہے:
﴿فَمَن زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ﴾
“جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا، وہی حقیقت میں کامیاب ہے۔” (سورۃ آل عمران: 185)
اس مختصر سی آیت نے انسانی زندگی کا پورا فلسفہ سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔
انسانیت کا سب سے خوبصورت منشور
جب کہیں کوئی آفت آتی ہے تو ملبے کے نیچے دبے ہوئے انسان کا مذہب، اس کی زبان، اس کا مسلک، اس کی قوم یا اس کی نسل نہیں پوچھی جاتی؛ وہ صرف ایک محتاج انسان ہوتا ہے اور اس کی مدد کرنے والا بھی سب سے پہلے ایک دردِ دل رکھنے والا انسان ہونا چاہیے۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے اسی آفاقی سچائی کا اعلان کیا تھا:
﴿وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾
“جس نے ایک جان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔” (سورۃ المائدہ: 32)
یہ آیت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم ترین اخلاقی منشور ہے۔
اگر قدرت کی یہ بیدار کن نشانیاں بھی ہمیں غفلت سے نہ جگا سکیں، تو پھر دنیا کی کوئی دوسری مادی ترغیب ہمیں نہیں جگا سکتی۔ آج وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے گھروں میں قرآن کی تلاوت اور فہم کو بڑھائیں، نمازوں کی حفاظت کریں، توبہ و استغفار کو اپنا مستقل معمول بنائیں، صدقہ و خیرات کو زندگی کا حصہ بنائیں، زیادہ سے زیادہ شجرکاری کریں، پانی اور دیگر قدرتی وسائل کو ضائع ہونے سے بچائیں، زمین کو اللہ کی امانت سمجھیں، یتیموں، مسکینوں اور مصیبت زدہ لوگوں کے کام آئیں، اپنے بچوں کو صرف ڈگری یافتہ کامیاب انسان نہیں بلکہ ایک صالح و رحم دل انسان بنائیں، اپنے اسکولوں میں صرف سائنس ہی نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقیات کی بھی آبیاری کریں اور اپنی مساجد و معاشرے کو خدمتِ خلق کا مرکز بنائیں۔
ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ انسان کی سب سے بڑی ڈگری اس کا کردارہے۔ اس کی سب سے بڑی دولت اس کا ایمان ہے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کی دعاہے۔اس کی سب سے بڑی کامیابی اللہ کی رضاہے۔ اور اس کا سب سے بڑا سرمایہ وہ نیکیاں ہیں جو مرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ قبر کے اندھیرے میں اترتی ہیں۔
لہٰذا، جب بھی زمین لرزے، تو صرف خبریں مت دیکھیے بلکہ اپنے دل کی کیفیت کو بھی ٹٹولیے۔ جب بھی کسی بستی پر کوئی آفت آئے، تو صرف زبانی افسوس نہ کیجیے بلکہ امداد کے لیے اپنے ہاتھ آگے بڑھائیے۔ جب بھی کسی بے بس ماں کی چیخ سنائی دے، تو صرف عارضی آنسو نہ بہائیے بلکہ اس کے لیے گڑگڑا کر دعا کیجیے اور اگر ممکن ہو تو اس کے زخموں پر مرہم رکھیے۔ یاد رکھیے، زلزلے جہاں مادی عمارتیں گراتے ہیں، وہیں بعض اوقات وہ انسان کے اندر صدیوں سے سوئی ہوئی انسانیت کو بھی جگا دیتے ہیں۔ خوش نصیب ہے وہ انسان جو دوسروں کی بربادی اور قدرت کے اشارے دیکھ کر اپنی اصلاح کر لے، اس سے پہلے کہ زندگی کا آخری اور اچانک آنے والا زلزلہ اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کر دے۔
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے آنے والے کل (آخرت) کے لیے کیا بھیجا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔” (سورۃ الحشر: 18)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نشانیوں سے سچا سبق سیکھنے، اپنی نعمتوں کی دل سے قدر کرنے، مصیبت زدہ انسانوں کا مضبوط سہارا بننے اور اس ہولناک دن کی بھرپور تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، بلکہ صرف وہی دل نجات پائے گا جو اللہ کے حضور اخلاص اور پاکیزگی کے ساتھ حاضر ہوگا۔
﴿يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ﴾
(سورۃ الشعراء: 88-89)
