تدریس کے مسائل، خواتین اساتذہ کی مشکلات اور اچھے استاد کی نایابی — ایک نوحہ بھی، ایک نسخہ بھی
ڈاکٹر اسد اللہ خان
کسی درسگاہ کی سب سے قیمتی چیز اس کی عمارت نہیں ہوتی، نہ اس کا کتب خانہ، نہ تجربہ گاہ، نہ کمپیوٹر سے سجا ہوا کمرہ۔ سب سے قیمتی چیز وہ انسان ہوتا ہے جو صبح کی گھنٹی بجتے ہی جماعت میں داخل ہوتا ہے اور جس کے علم، لہجے اور کردار سے ایک پوری نسل کی صورت گری ہوتی ہے۔ عمارت میں دراڑ آ جائے تو مرمت ممکن ہے؛ استاد کے معیار میں دراڑ آ جائے تو اس کی مرمت پر پوری قوم کی کئی دہائیاں صرف ہو جاتی ہیں۔
چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ درس و تدریس اور ادارہ سازی میں گزارنے کے بعد میں پورے اطمینان سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا اصل بحران وسائل کا نہیں، انسانوں کا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار ہر سال نئے اسکولوں، نئی عمارتوں اور نئے کمپیوٹروں کی خوش خبری سناتے ہیں، مگر جماعت کے کمرے میں کھڑے اس شخص کے بارے میں خاموش رہتے ہیں جس کے بغیر یہ ساری چیزیں بے جان ڈھانچے سے زیادہ کچھ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہمارے پاس اسکول بہت ہیں، استاد کم ہیں؛ اور استاد مل بھی جائیں تو اچھا استاد نایاب ہے۔
تدریس محض معلومات کی منتقلی کا نام نہیں۔ اگر معلومات پہنچا دینا ہی تدریس ہوتی تو کتاب، ریڈیو اور اسکرین کب کے استاد کی جگہ لے چکے ہوتے۔ تدریس دراصل ایک ذہن کا دوسرے ذہن کو جگانے کا عمل ہے؛ ایک ایسا شعوری، منظم اور بامقصد فن جس میں معلم اپنے علم، اپنی شخصیت اور اپنے طریقِ کار کے ذریعے متعلم کے اندر سمجھنے، سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت بیدار کرتا ہے۔ تعلیم ایک وسیع سمندر ہے جو گھر، معاشرے اور تجربے سے بھی حاصل ہوتی ہے، مگر تدریس اس سمندر میں چلنے والی وہ کشتی ہے جسے ایک تربیت یافتہ ناخدا سمت دیتا ہے۔
اسی لیے تدریس بیک وقت سائنس بھی ہے اور فن بھی۔ سائنس اس لیے کہ اس کے پیچھے نفسیات، عمرانیات اور علمِ تعلیم کے مسلمہ اصول کام کرتے ہیں؛ فن اس لیے کہ ان اصولوں کو ہر بچے کے مزاج، ماحول اور استعداد کے مطابق برتنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ اور اس کی اہمیت کا اندازہ صرف ایک جملے سے کر لیجیے: دنیا کا ہر پیشہ اپنے ماہرین خود پیدا نہیں کرتا؛ سب کے ماہرین استاد پیدا کرتا ہے۔ طبیب، مہندس، منصف، سپاہی اور خود معلم — ہر ایک کسی نہ کسی جماعت کے کمرے سے گزر کر ہی وہاں تک پہنچا ہے جہاں وہ آج کھڑا ہے۔
ماہرینِ تعلیم نے تدریس کے کئی طریقے متعین کیے ہیں، اور ہر طریقہ دراصل اس سوال کا جواب ہے کہ جماعت کے کمرے کا مرکز کون ہو — استاد یا بچہ؟ خطابتی یا لکچر طریقہ سب سے قدیم ہے: استاد بولتا ہے، طلبہ سنتے ہیں۔ رٹنے پر مبنی طریقہ اس سے ایک قدم آگے کی پستی ہے: طلبہ سنتے بھی نہیں، صرف یاد کرتے ہیں اور امتحان کے پرچے پر انڈیل کر بھول جاتے ہیں۔ ان کے مقابل سوال و جواب کا استفہامی طریقہ ہے، جس کی جڑیں سقراط کے مکالموں اور ہماری اپنی درس گاہوں کی صحبتوں تک جاتی ہیں؛ سرگرمی پر مبنی طریقہ ہے، جس میں بچہ کر کے سیکھتا ہے؛ انکشافی اور تعمیری طریقہ ہے، جس میں علم بچے کو تھمایا نہیں جاتا بلکہ اس کے اندر تعمیر ہونے دیا جاتا ہے؛ باہمی تعاون کا طریقہ ہے، جس میں طلبہ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں؛ اور اب ٹیکنالوجی سے مربوط مخلوط تدریس ہے، جس میں اسکرین معاون ہے، متبادل نہیں۔ان طریقوں میں کوئی مطلقاً اچھا یا برا نہیں؛ اچھا استاد وہ ہے جو موقع، مضمون اور بچے کو دیکھ کر طریقہ بدلنا جانتا ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پورا نظام برسہا برس صرف ایک ہی طریقے پر جم جائے — اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہی ہوا ہے۔
ہمارے ملک میں سب سے زیادہ رائج طریقہ آج بھی خطابت اور رٹنے کا وہی پرانا امتزاج ہے: استاد لکھواتا ہے، بچہ اتارتا ہے، امتحان یادداشت کو تولتا ہے اور نتیجہ فہم کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے استعداد پر مبنی تعلیم کے خواب دکھائے ہیں، نصابی دستاویزات میں تعمیری اور سرگرمی پر مبنی تدریس کے الفاظ جگمگاتے ہیں، مگر جماعت کے کمرے کی زمینی حقیقت اب بھی تختۂ سیاہ، املا اور نقل کے مثلث میں قید ہے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ہمارے ہاں پالیسی اکیسویں صدی میں پہنچ گئی ہے اور تدریس انیسویں صدی میں ٹھہری ہوئی ہے۔
مہاراشٹر بھی اس عمومی تصویر سے مختلف نہیں۔ ریاست نے سرگرمی پر مبنی تعلیم اور تعمیری طریقِ تدریس کے سرکاری منصوبے ضرور اپنائے ہیں، مگر بھری ہوئی جماعتیں، اساتذہ کی کمی اور امتحانی دباؤ اسے عملاً وہیں لے آتے ہیں جہاں سے چلی تھی۔ خود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست کے اعلیٰ ثانوی درجات میں ایک ایک استاد کے حصے میں اوسطاً سینتیس طلبہ آتے ہیں، جبکہ قومی تعلیمی پالیسی زیادہ سے زیادہ تیس کی حد مقرر کرتی ہے۔ جس کمرے میں پچاس ساٹھ بچے بیٹھے ہوں وہاں دنیا کا بہترین تربیت یافتہ استاد بھی سرگرمی نہیں کرا سکتا؛ وہ صرف آواز بلند کر سکتا ہے۔ رٹنے کا طریقہ ہماری پسند نہیں، ہماری مجبوریوں کا حاصل ہے — اور یہی اس کا سب سے خطرناک پہلو ہے، کیونکہ مجبوری رفتہ رفتہ عادت بن جاتی ہے اور عادت عقیدہ۔
تازہ ترین سرکاری جائزے (یوڈائس پلس 2024ء-25ء) کے مطابق ملک میں اساتذہ کی تعداد پہلی بار ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک خوش آئند سنگِ میل ہے، مگر اسی برس پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے بتایا کہ ملک بھر میں تقریباً دس لاکھ تدریسی اسامیاں خالی پڑی ہیں، جن میں ساڑھے سات لاکھ اسامیاں ابتدائی درجات کی ہیں — یعنی عین اس مرحلے کی، جہاں بچہ پڑھنا لکھنا اور گننا سیکھتا ہے۔ اٹھارہ ریاستوں کے اپنے فراہم کردہ اعداد کے مطابق ساڑھے تین لاکھ سے زائد منظور شدہ اسامیوں پر تقرری ہی نہیں ہوئی۔ اور المیہ صرف دیہی یا پس ماندہ اسکولوں تک محدود نہیں: کیندریہ ودیالیہ اور نوودیہ ودیالیہ جیسے مثالی سمجھے جانے والے اداروں میں بھی تیس سے پچاس فیصد تدریسی اسامیاں خالی بتائی گئی ہیں۔
اس سے بھی زیادہ فکر انگیز بات یہ ہے کہ خود وہ ادارے بیمار ہیں جو استاد بناتے ہیں۔ اساتذہ کی تربیت کی نگرانی کرنے والی قومی کونسل اپنے ہی عملے کی قلت کا شکار ہے، اور ملک کے سات سو اسّی اضلاع میں سے صرف چھ سو تیرہ میں ضلعی تربیتی ادارے فعال ہیں۔ گویا کارخانہ ہی ٹھپ ہو تو مصنوعات کے معیار کا شکوہ کس سے کیجیے؟ یہ اعداد و شمار ہمیں ایک تلخ مساوات سمجھاتے ہیں: تعداد بڑھ رہی ہے، معیار کے سوتے خشک ہو رہے ہیں۔
سرکاری اعداد بتاتے ہیں کہ ملک کی تدریسی افرادی قوت میں اب خواتین کی اکثریت ہے — تقریباً چون فیصد۔ مگر یہ اوسط ایک دلچسپ حقیقت چھپائے ہوئے ہے: قبل از ابتدائی درجات میں چھیانوے فیصد اساتذہ خواتین ہیں، جبکہ ثانوی اور اعلیٰ ثانوی درجات میں پلڑا پلٹ جاتا ہے اور ستاون فیصد اساتذہ مرد ہو جاتے ہیں۔ کیرالا میں ہر دس میں سے قریباً آٹھ اساتذہ خواتین ہیں؛ راجستھان اور جھارکھنڈ میں بمشکل چار۔ یعنی بچہ جتنا چھوٹا، استاد کے روپ میں ماں کے اتنے قریب؛ اور خطہ جتنا پس ماندہ، درسگاہ میں عورت اتنی ہی کم۔
اب رہا یہ سوال کہ نظامِ تعلیم کے لیے زیادہ مفید کون ہے — مرد یا عورت؟ تو چالیس برس کے تجربے نے مجھے سکھایا ہے کہ یہ سوال ہی غلط باندھا گیا ہے۔ معلمی کا پیمانہ صنف نہیں، صلاحیت، لگن اور کردار ہے۔ ہاں، مشاہدہ یہ ضرور کہتا ہے کہ ابتدائی درجات میں خواتین کی موجودگی بچوں کو، خصوصاً بچیوں کو، تحفظ اور اپنائیت کا وہ احساس دیتی ہے جو داخلے بڑھاتا اور اسکول چھوڑنے کے رجحان کو روکتا ہے؛ ان کی فطری شفقت اور تفصیل پسندی چھوٹے بچوں کی نفسیات سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ دوسری طرف نوعمری کے ہنگامہ خیز برسوں میں لڑکوں کو مرد اساتذہ کی صورت میں ایسے نمونے درکار ہوتے ہیں جن میں وہ اپنا مستقبل دیکھ سکیں۔ درسگاہ دراصل گھر کا تسلسل ہے، اور گھر ماں اور باپ دونوں سے بنتا ہے۔ سوال انتخاب کا نہیں، توازن کا ہے۔
مگر جس صنف کے کاندھوں پر ہم نے اپنی بنیادی تعلیم کا سارا بوجھ رکھ دیا ہے، اس کے اپنے بوجھ کا حساب کم ہی لیا جاتا ہے۔ خاتون معلمہ کا دن اسکول کی گھنٹی سے شروع نہیں ہوتا اور نہ اس پر ختم ہوتا ہے۔ وہ صبح گھر کا چولھا سنبھال کر نکلتی ہے اور شام کو کاپیوں کا انبار لے کر پھر اسی چولھے پر لوٹتی ہے۔ یہ دوہری مشقت اس چراغ کی مانند ہے جو دونوں سروں سے جل رہا ہو — روشنی دوگنی، مگر عمر آدھی۔
پھر وہ مسائل ہیں جو نظام نے پیدا کیے ہیں: گھر سے دور دراز مقامات پر تعیناتی، جہاں آمد و رفت خود ایک روزانہ کا جہاد ہے؛ تبادلوں کی وہ پالیسیاں جو خاندان اور ملازمت میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور کرتی ہیں؛ دیہی اسکولوں میں بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت کا فقدان؛ نجی اداروں میں زچگی کی رخصت پر معذرت خواہانہ رویے؛ عارضی اور کنٹریکٹ کی ملازمتوں کی غیر یقینی صورتِ حال جس میں تنخواہ کم اور خوف زیادہ ملتا ہے؛ اور وہ ان کہا حصار جس کے سبب عملے میں اکثریت رکھنے کے باوجود سربراہی کے مناصب تک پہنچنے والی خواتین آج بھی گنی چنی ہیں۔ جو معاشرہ اپنی بیٹیوں کو معلمہ تو بنانا چاہتا ہے مگر معلمہ کے راستے کے کانٹے چننے پر آمادہ نہیں، وہ دراصل اپنے ہی بچوں کی تعلیم سے بے وفائی کرتا ہے۔
اب اس مرکزی سوال کی طرف آئیے جس کے گرد یہ ساری بحث گھوم رہی ہے: اچھے استاد کا قحط آخر پڑا کیوں؟ پہلا سبب معاشی ہے۔ جس پیشے میں برسوں کی تعلیم اور تربیت کے بعد بھی نجی اسکولوں کی ایک بڑی تعداد چند ہزار روپے ماہانہ پر معلم رکھتی ہو، اور سرکاری نظام مستقل تقرری کے بجائے کنٹریکٹ کی عارضی بیساکھیوں پر چل رہا ہو، وہاں ذہین ترین نوجوان اپنا مستقبل کیوں تلاش کرے؟ دوسرا سبب سماجی ہے: معلمی ہمارے سماج میں پہلی پسند کا پیشہ نہیں رہی، آخری پناہ گاہ بن گئی ہے۔ جب ہر جگہ سے مایوس ہو کر کوئی نوجوان بی ایڈ کا داخلہ لیتا ہے تو وہ جماعت کے کمرے میں علم نہیں، اپنی شکست لے کر داخل ہوتا ہے۔
تیسرا سبب تربیت کا بحران ہے۔ اساتذہ کی تربیت کے نام پر جگہ جگہ ڈگریاں بانٹنے والی دکانیں کھل گئیں، جہاں نہ مشقی تدریس ہوتی ہے نہ کردار سازی؛ صرف ایک سند ملتی ہے جو تقرری کی فائل میں لگنے کے کام آتی ہے۔ چوتھا سبب کوچنگ کلچر کی کشش ہے، جو اسکولوں کے بہترین اساتذہ کو زیادہ معاوضے پر کھینچ لیتی ہے اور درسگاہ کے حصے میں بچی کھچی صلاحیت آتی ہے۔ میں خود برسوں تک کوچنگ کے میدان سے وابستہ رہا ہوں، اس لیے یہ بات کسی تعصب سے نہیں، اندر کی گواہی سے کہہ رہا ہوں: کوچنگ اسکول کا علاج نہیں، اسکول کی بیماری کی علامت ہے۔ اور پانچواں سبب وہ غیر تدریسی بوجھ ہے — انتخابات کی ڈیوٹی، مردم شماری، سروے، دفتری اندراجات — جس نے استاد کو معلم سے کلرک بنا دیا ہے۔ جس شخص کا آدھا دن کاغذ بھرنے میں گزرے، اس کے پاس ذہن گڑھنے کی مہلت کہاں؟’’معلمی ہمارے سماج میں پہلی پسند کا پیشہ نہیں رہی، آخری پناہ گاہ بن گئی ہے — اور جو پیشہ پناہ گاہ بن جائے، وہاں سے قافلے نہیں نکلا کرتے۔
نایابی کے یہ اسباب اپنی جگہ، مگر ایک گہرا سوال ابھی باقی ہے .کیاکبھی آپ نےسوچا کہ یہ چراغ مدھم کیسے ہوئے؟
کیونکہ ہمیشہ سے ایسا نہ تھا۔ ایک نسل پہلے تک استاد اپنے محلے کا سب سے پڑھا لکھا آدمی ہوتا تھا؛ اس کی تنخواہ بے شک محدود تھی، مگر اس کا مقام محدود نہ تھا۔ لوگ اپنے جھگڑے اس کے پاس لاتے، اپنے خط اس سے لکھواتے اور اپنے بچوں کو اس کے حوالے کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہڈیاں ہماری، کھال آپ کی۔ اس عہد میں یہ پیشہ اپنے لوگ خود چنتا تھا: علم سے محبت رکھنے والے اس کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ آج وہ فلٹر الٹ گیا ہے — پہلے یہ پیشہ بہترین لوگوں کو چنتا تھا؛ اب جسے کوئی اور پیشہ نہ چنے، وہ اس پیشے کو چن لیتا ہے۔ جس دن انتخاب کی یہ چھلنی الٹی، معیار کا زوال اسی دن شروع ہو گیا تھا؛ باقی سب اس کے نتائج ہیں۔
دوسرا سبب پھیلاؤ کی وہ رفتار ہے جس کا ساتھ معیار نہ دے سکا۔ آزادی کے بعد اور پھر حقِ تعلیم کے قانون کے بعد اسکولوں کا جال جس تیزی سے پھیلا، اچھے اساتذہ کی فراہمی اس رفتار سے نہ بڑھ سکی؛ چنانچہ خالی کرسیاں بھرنے کے لیے معیار کی شرطیں ڈھیلی کی گئیں اور تعداد کی فتح معیار کی شکست کی قیمت پر خریدی گئی۔ تیسرا سبب استاد کی خودمختاری کا خاتمہ ہے۔ کل کا استاد اپنی جماعت کا حاکم تھا — کیا پڑھانا ہے، کیسے پڑھانا ہے، کس بچے کو کتنا وقت دینا ہے، یہ فیصلے اس کے تھے۔ آج وہ نصاب مکمل کرنے کی مشین ہے، جس کے سر پر اوپر سے آئی ہوئی تاریخوں کا کوڑا ہے۔ جس پیشے سے فیصلے کا اختیار چھن جائے، اس سے سوچنے والے لوگ رخصت ہو جاتے ہیں اور حکم بجا لانے والے رہ جاتے ہیں۔ اور ایک زوال وہ ہے جس کا ذکر کم ہوتا ہے: استاد نے خود پڑھنا چھوڑ دیا۔ جو چشمہ خود خشک ہو، وہ کھیت کیا سیراب کرے گا؟
پھر اس زوال نے اپنی سب سے خطرناک صورت اختیار کی: یہ خود کو دہرانے لگا۔ کمزور استاد کمزور شاگرد تیار کرتا ہے، اور کل کے استاد انہی شاگردوں میں سے نکلتے ہیں۔ یوں ہر نسل اپنے سے کچھ کم تر نسل کو سونپ دی جاتی ہے اور سیڑھی ہر پشت پر ایک زینہ نیچے اترتی جاتی ہے۔ اس چکر کو مکمل کیا فیس کی ثقافت نے: تعلیم جب باقاعدہ خریدی جانے لگی تو استاد رفتہ رفتہ مربی سے خدمت گزار اور والدین سرپرست سے گاہک بن گئے۔ گاہک کا دستور ہے کہ وہ دکاندار کی عزت نہیں کرتا، اس سے حساب مانگتا ہے۔ جس معاشرے میں استاد سے حساب تو سب مانگیں مگر اس کا حق کوئی نہ پہچانے، وہاں معیار کا گرنا حادثہ نہیں، حساب کا لازمی نتیجہ ہے۔
اچھے اساتذہ کی یہ قلت جب مسلم انتظامیہ کے تعلیمی اداروں تک پہنچتی ہے تو اس کی شدت دوگنی ہو جاتی ہے۔ ان اداروں کی غالب اکثریت غیر امدادی ہے اور کم فیس والی بستیوں میں کام کرتی ہے، چنانچہ وہ معاوضہ دینے کی پوزیشن ہی میں نہیں جو باصلاحیت استاد کو روک سکے۔ نتیجہ یہ کہ قابل اساتذہ ان اداروں کو مستقل ٹھکانہ نہیں، انتظار گاہ سمجھتے ہیں: تجربہ حاصل کیا، سند بنائی اور پہلا بہتر موقع ملتے ہی رخصت ہو گئے۔ ادارہ ہر دو تین برس بعد نئے سرے سے صفر پر آ کھڑا ہوتا ہے، اور صفر پر اصل میں ادارہ نہیں، بچے کھڑے ہوتے ہیں۔
دوسرا زخم انتظامی ہے۔ ہمارے بہت سے ادارے مخلص مگر تعلیمی مہارت سے بے بہرہ ہاتھوں میں ہیں، جہاں اساتذہ کی تقرری میلانِ خدمت یا اہلیت کے بجائے سفارش اور رشتہ داری سے ہوتی ہے، جہاں استاد کی رائے کو انتظامیہ کی توہین سمجھا جاتا ہے اور جہاں تنخواہ کی رسید پر لکھی رقم اور ہاتھ میں آنے والی رقم کے درمیان ضمیر دم توڑتا ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ جس قوم کو تعلیمی پس ماندگی سے نکلنے کے لیے سب سے اچھے اساتذہ درکار تھے، اسی کے بچوں کے حصے میں اکثر سب سے کمزور تدریس آتی ہے۔ یہ دہرا خسارہ ہے: پہلے سماجی پس ماندگی، پھر اس پس ماندگی کے علاج گاہوں کی اپنی بیماری۔ اور یہ گرہ اس وقت تک نہیں کھلے گی جب تک ہم یہ سادہ حقیقت تسلیم نہ کر لیں کہ استاد کی عزت اور اس کے معاوضے پر خرچ کیا ہوا ہر روپیہ عمارت کے سنگِ مرمر پر خرچ کیے ہوئے ہر روپے سے زیادہ قیمتی ہے۔ میرا اپنا تجربہ گواہ ہے: جس ادارے نے استاد کو وقار دیا، استاد نے اس ادارے کو نسلیں دیں۔
اچھے استاد کی نایابی کے اثرات کسی ایک امتحان کے نتیجے میں نہیں، پوری قوم کے مزاج میں ظاہر ہوتے ہیں۔ قومی سطح کے تعلیمی جائزے برسوں سے ایک ہی دہرائی جانے والی خبر سنا رہے ہیں کہ اونچے درجوں میں بیٹھے لاکھوں بچے نچلے درجوں کی کتاب روانی سے نہیں پڑھ سکتے اور بنیادی حساب میں اٹکتے ہیں۔ داخلہ سو فیصد کے قریب پہنچ گیا، سیکھنا پیچھے رہ گیا — یہ ہمارے عہد کا سب سے بڑا تعلیمی تضاد ہے، اور اس تضاد کی جڑ کہیں اور نہیں، جماعت کے کمرے میں کھڑے اس شخص کی استعداد میں ہے۔
اس کے آگے کے اثرات خود بخود مرتب ہوتے چلے جاتے ہیں: اسکول پر اعتماد اٹھتا ہے تو ٹیوشن اور کوچنگ کا متوازی بازار پھلتا پھولتا ہے، جس کی قیمت صرف صاحبِ استطاعت والدین ادا کر سکتے ہیں — یوں کمزور تدریس امیر اور غریب کے بچوں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ جو بچے یہ قیمت نہیں دے سکتے وہ رفتہ رفتہ پڑھائی سے اور پھر اسکول سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔ اور ایک نقصان وہ ہے جو کسی جائزے میں نہیں ناپا جاتا: اچھا استاد صرف مضمون نہیں پڑھاتا، کردار کا نمونہ پیش کرتا ہے۔ جب جماعت سے یہ نمونہ غائب ہو جائے تو بچہ معلومات تو کہیں نہ کہیں سے حاصل کر لیتا ہے، مگر آدمی بننے کا سبق ادھورا رہ جاتا ہے۔ قحط اگر اناج کا ہو تو ایک نسل بھوکی رہتی ہے؛ قحط اگر معلم کا ہو تو کئی نسلیں اندھیرے میں رہتی ہیں۔
مایوسی پھیلانا اس مضمون کا مقصد نہیں؛ قحط کے علاج ہوتے ہیں، بشرطیکہ قحط کو قحط مانا جائے۔ پہلی اصلاح انتخاب کی ہے: استاد کی تقرری صرف اسناد دیکھ کر نہیں، مشقی سبق، مزاجی رجحان اور بچوں سے تعلق کی صلاحیت پرکھ کر ہونی چاہیے۔ سند پڑھانا نہیں جانتی، آدمی جانتا ہے۔ دوسری اصلاح معاوضے اور وقار کی ہے: سرکار کو خالی اسامیاں مستقل تقرریوں سے بھرنی ہوں گی اور نجی و ملّی اداروں کی انتظامیہ کو یہ اصول اپنانا ہو گا کہ استاد کی باعزت تنخواہ ادارے کا خرچ نہیں، سب سے نفع بخش سرمایہ کاری ہے۔ تیسری اصلاح تربیت کی ہے: ڈگری بانٹنے والی دکانوں پر قدغن، ضلعی تربیتی اداروں کا احیا، اور ہر اسکول کے اندر مسلسل رہنمائی کا نظام، جس میں سینئر استاد جونیئر کا مربی ہو۔
چوتھی اصلاح خواتین اساتذہ کے لیے ہے: گھر سے قریب تعیناتی، محفوظ سفر، بنیادی سہولتیں، زچگی کے حقوق کا بے چون و چرا احترام اور قیادت کے مناصب تک ان کی رسائی کے کھلے راستے۔ پانچویں اصلاح استاد کو کلرک کے بوجھ سے آزاد کرنا ہے تاکہ اس کا پورا دن اسی کام میں لگے جس کے لیے وہ رکھا گیا ہے۔ چھٹی اصلاح ملّی اداروں کے لیے خاص ہے: انتظامی مجالس میں ماہرینِ تعلیم کی شمولیت، تقرری اور ترقی کے شفاف ضابطے، اساتذہ کی رائے کا احترام اور تنخواہ میں دیانت — کیونکہ جو انتظامیہ استاد سے دیانت داری کا مطالبہ کرتے ہوئے خود اس کی تنخواہ میں بددیانتی کرے، وہ ادارہ نہیں چلاتی، اپنی نیتوں کا امتحان چلاتی ہے۔ اور ساتویں اصلاح ہم سب کی ہے: استاد کی عزت کی بحالی کسی سرکاری حکم نامے سے نہیں، ہمارے گھروں کے لہجوں سے شروع ہو گی۔ جس دستر خوان پر استاد کا ذکر تمسخر سے ہوتا ہے، اس گھر کا بچہ کبھی استاد بننے کا خواب نہیں دیکھے گا۔
قومیں میدانِ جنگ میں نہیں، جماعت کے کمروں میں فتح یاب یا شکست خوردہ ہوتی ہیں۔ ہم نے اس مضمون میں تدریس کے معنی سے سفر شروع کیا، اس کے طریقوں کی گلیوں سے گزرے، اعداد و شمار کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا، خواتین اساتذہ کے دوہرے بوجھ کو تولا، اچھے استاد کے قحط کے اسباب کھنگالے اور اپنے ملّی اداروں کے دہرے خسارے پر رکے۔ ہر موڑ پر ایک ہی حقیقت سامنے آئی: نظامِ تعلیم کی ہر بیماری کا نسخہ آخرکار ایک ہی لفظ پر آ کر ٹھہرتا ہے — معلم۔
جس دن ہم نے اپنے ذہین ترین بیٹے بیٹیوں کو فخر کے ساتھ جماعت کے کمرے کی طرف موڑ دیا، جس دن استاد کی تنخواہ پر دستخط کرتے ہوئے انتظامیہ کا ہاتھ نہیں کانپا اور استاد کا نام لیتے ہوئے معاشرے کا سر جھک گیا — احترام سے — اس دن سمجھ لیجیے کہ قحط کا موسم بیت گیا۔ درسگاہیں پھر بھی اینٹ گارے کی ہوں گی، مگر ان کے اندر چراغ جل رہے ہوں گے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ اندھیرے خواہ صدیوں کے ہوں، ایک جلتے ہوئے چراغ سے نہیں جیت سکتے۔

