ایک چھت، کئی جزیرے

آج کا بچہ کمزور نہیں، تنہا ہو گیا ہے

ڈاکٹر اسد اللہ خان

بعض حادثے کسی ایک دن پیش نہیں آتے؛ وہ برسوں خاموشی سے جنم لیتے ہیں۔ ان کی کوئی آواز نہیں ہوتی، کوئی دھماکہ نہیں ہوتا، کوئی اخبار انہیں سرخی نہیں بناتا۔ وہ آہستہ آہستہ گھروں کے در و دیوار میں اترتے ہیں، گفتگو کے وقفوں میں بسیرا کرتے ہیں، رشتوں کے بیچ خاموش فاصلے بچھاتے ہیں اور ایک دن اچانک ہمیں احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم زندگی سمجھتے رہے، اس کی روح کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔

انسانی تہذیب کی سب سے پہلی درسگاہ کوئی مدرسہ، کوئی مکتب، کوئی جامعہ نہیں تھی؛ ایک گھر تھا۔ پہلی کتاب ماں کا چہرہ تھی، پہلا سبق باپ کی انگلی، پہلی لائبریری بزرگوں کی یادداشت، پہلی درسگاہ آنگن، اور پہلا نصاب محبت۔ زبان بولنے سے پہلے بچہ لہجوں کو پڑھتا ہے، الفاظ سمجھنے سے پہلے نگاہوں کی گرمی محسوس کرتا ہے، اور تعلیم شروع ہونے سے بہت پہلے تعلقات کی زبان سیکھ لیتا ہے۔ اسی لیے ہر تہذیب کی اصل تعمیر اینٹ اور پتھر سے نہیں، گھروں کی خاموش تربیت سے ہوتی ہے۔

مگر تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں ٹوٹتیں؛ کبھی کبھی وہ آسائشوں کے بوجھ تلے بھی بکھر جاتی ہیں۔ ہم نے اپنے شہروں کو بلند کیا، مگر اپنے آنگن چھوٹے کر دیے۔ ہم نے رفتار کو ترقی کا دوسرا نام دے دیا، یہاں تک کہ فرصت ہمیں ناکامی محسوس ہونے لگی۔ ہم نے رابطوں کی بے شمار راہیں کھولیں، مگر ملاقات کے دروازے آہستہ آہستہ بند ہوتے گئے۔ فاصلے کم ہوتے گئے، قربتیں گھٹتی گئیں۔ آوازیں بڑھتی گئیں، گفتگو کم ہوتی گئی۔ روشنی زیادہ ہوئی، مگر چہروں کی شناسائی مدھم پڑ گئی۔

شام کا ایک منظر دیکھیے۔ ایک گھر ہے۔ دروازہ کھلا ہے، روشنی جل رہی ہے، باورچی خانے سے کھانے کی خوشبو آ رہی ہے، دیوار پر گھڑی اپنی رفتار سے چل رہی ہے، سب افراد اپنی اپنی جگہ موجود ہیں، مگر گھر کے اندر ایک عجیب قسم کی خاموشی ہے؛ ایسی خاموشی جس میں اختلاف نہیں، لیکن اشتراک بھی نہیں۔

والد اپنے سامنے کھلے ہوئے لیپ ٹاپ پر جھکے ہیں۔ دنیا کے کئی شہروں سے ای میلیں آ رہی ہیں، مگر ان کے برابر بیٹھا بیٹا آج اسکول میں پیش آنے والا ایک واقعہ سنانے کے لیے مناسب لمحہ تلاش کرتے کرتے خاموش ہو چکا ہے۔ والدہ ایک مختصر ویڈیو سے دوسری مختصر ویڈیو تک سفر کر رہی ہیں۔ دنیا بھر کے چہروں سے وہ واقف ہیں، مگر شاید انہیں یہ خبر نہیں کہ ان کی بیٹی کی مسکراہٹ پچھلے چند ہفتوں سے پہلے جیسی نہیں رہی۔ بڑا بیٹا کانوں میں ہیڈفون لگائے ایک ایسی دنیا میں ہے جہاں ہزاروں آوازیں ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی اس کا نام لے کر اسے نہیں پکارتا۔ سب سے چھوٹا بچہ فرش پر بیٹھا اپنی ننھی انگلیوں سے اسکرین پر ایک مجازی دنیا تعمیر کر رہا ہے۔ وہ جیت بھی رہا ہے، ہار بھی رہا ہے، خوش بھی ہو رہا ہے، ناراض بھی، مگر اس کے ہر جذبے کا گواہ ایک الگورتھم ہے، انسان نہیں۔

یہ منظر کسی ایک گھر کا نہیں۔ یہ ہمارے عہد کا اجتماعی پورٹریٹ ہے۔ کمرہ ایک ہے۔ چھت ایک ہے۔ دسترخوان ایک ہے۔ خاندان ایک ہے۔ مگر ہر فرد اپنی اپنی اسکرین کی روشنی میں ایک الگ جزیرہ بن چکا ہے۔ درمیان میں ایک خاموش سمندر ہے۔ اس سمندر پر کبھی مکالمے کی کشتیاں چلتی تھیں۔ اب نوٹیفکیشن کی لہریں ہیں، مگر آوازِ دل کا کوئی ملاح نہیں۔

پھر یہی معاشرہ، جو اس خاموش تبدیلی کا برسوں سے خاموش تماشائی رہا، اچانک ایک دن عدالت لگا لیتا ہے۔ فیصلہ سنایا جاتا ہے: “آج کا بچہ ضدی ہے۔” “آج کا بچہ بے صبر ہے۔” “آج کا بچہ موبائل کا عادی ہے۔” “آج کا بچہ کتاب سے دور ہو گیا ہے۔” فیصلہ سنانے میں ہم نے کبھی دیر نہیں کی۔ دیر ہمیشہ اس سوال میں ہوئی جو ہر فیصلے سے پہلے پوچھا جانا چاہیے تھا: یہ سب ہوا کیوں؟

یہ مضمون اسی سوال کی تلاش ہے۔ یہ کسی بچے کے خلاف فردِ جرم نہیں۔ یہ موبائل کے خلاف اعلانِ جنگ بھی نہیں۔ یہ والدین، اساتذہ یا اسکولوں کے خلاف نوحہ بھی نہیں۔ یہ ہماری پوری تہذیب کے سامنے رکھا ہوا ایک آئینہ ہے۔ آئینہ الزام نہیں دیتا۔ وہ صرف چہرہ دکھاتا ہے۔ اگر چہرے پر گرد ہو تو قصور آئینے کا نہیں ہوتا۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم پہلی مرتبہ اپنے بچوں کو نہیں، اپنے آپ کو دیکھیں۔ کیونکہ تاریخ کا ایک بے رحم اصول ہے: ہر نسل اپنی اولاد کو صرف جائیداد، عمارتیں اور ڈگریاں ورثے میں نہیں دیتی؛ وہ اپنا طرزِ احساس بھی منتقل کرتی ہے۔اگر ایک نسل سننا چھوڑ دے تو اگلی نسل بولنا چھوڑ دیتی ہے۔ اگر ایک نسل مکالمہ بھول جائے تو اگلی نسل خاموشی کو زبان بنا لیتی ہے۔ اور اگر ایک نسل محبت کے اظہار کو مؤخر کرتی رہے تو اگلی نسل تعلقات پر یقین کھونے لگتی ہے۔

یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے اس مضمون کا سفر شروع ہوتا ہے۔ ایک بچے سے نہیں؛ ایک گھر سے۔ اور ایک ایسے سوال سے، جس کا جواب شاید ہمارے زمانے کی سب سے بڑی تعلیمی، سماجی اور اخلاقی ضرورت بن چکا ہے: آخر آج کا بچہ واقعی کمزور ہوا ہے… یا ہم نے اسے تنہا چھوڑ دیا ہے؟

دنیا کی ہر عدالت میں فیصلہ سنانے سے پہلے ایک اصول ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ الزام لگانے والے سے پوچھا جاتا ہے کہ اس کے پاس ثبوت کیا ہے، گواہ کون ہے، اور کیا اس نے مقدمے کا دوسرا رخ بھی سنا ہے؟ لیکن عجیب بات ہے کہ جب معاملہ بچوں کا آتا ہے تو ہم اس بنیادی انصاف کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔ یہاں فیصلہ پہلے لکھا جاتا ہے، سماعت بعد میں ہوتی ہے، اور اکثر تو سماعت ہوتی ہی نہیں۔

ہم کہتے ہیں: “آج کا بچہ بدل گیا ہے۔” یہ جملہ جتنا مختصر ہے، اتنا ہی خطرناک بھی۔ اس لیے نہیں کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ پوری حقیقت نہیں۔

ہر تبدیلی کی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ کوئی درخت ایک رات میں خشک نہیں ہوتا، کوئی دریا ایک دن میں اپنا رخ نہیں بدلتا، کوئی تہذیب ایک لمحے میں اپنا مزاج نہیں کھوتی، اور کوئی بچہ بھی ایک صبح بیدار ہو کر اچانک ضدی، بے چین، بے حوصلہ یا لاتعلق نہیں بن جاتا۔ ہر رویے کے پیچھے ایک طویل غیر مرئی داستان ہوتی ہے۔ ہم انجام دیکھ لیتے ہیں، مگر اس سفر کو نہیں دیکھتے جو اس انجام تک پہنچاتا ہے۔ یہی ہماری سب سے بڑی فکری لغزش ہے۔ ہم علامتوں سے لڑتے ہیں، اسباب سے نہیں۔ ہم شاخیں کاٹتے ہیں، جڑوں تک نہیں اترتے۔ ہم دھوئیں کو کوستے ہیں، آگ کا سراغ نہیں لگاتے۔

چالیس برس سے زیادہ عرصہ درس و تدریس میں گزارتے ہوئے میں نے ہزاروں بچوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ مختلف معاشی طبقات، مختلف گھریلو ماحول، مختلف ذہنی استعداد، مختلف خواب، مختلف خوف۔ میں نے ایسے بچے بھی دیکھے ہیں جنہیں پورا معاشرہ “شرارتی” کہتا تھا، لیکن جب ان کے قریب بیٹھ کر ان کی خاموشی کی زبان پڑھی تو معلوم ہوا کہ وہ شرارت نہیں، توجہ مانگ رہے تھے۔ میں نے ایسے طالب علم بھی دیکھے جنہیں “کمزور” قرار دے دیا گیا تھا، مگر ان کے اندر صرف ایک چیز کی کمی تھی: کسی ایسے انسان کی، جو ان پر یقین کرتا۔بچہ اپنے رویوں کا خالق کم، اپنے ماحول کا امین زیادہ ہوتا ہے۔

یہ تجربہ مجھے بار بار ایک ہی نتیجے تک لے آیا۔ بچہ اپنے اردگرد کے موسم کو جذب کرتا ہے۔ اگر گھر میں مکالمہ ہو تو اس کی زبان میں اعتماد آتا ہے۔ اگر گھر میں احترام ہو تو اس کے لہجے میں نرمی اترتی ہے۔ اگر گھر میں خوف ہو تو اس کی آنکھوں میں جھجک بس جاتی ہے۔ اگر گھر میں خاموشی ہو تو وہ آہستہ آہستہ اپنے دل کے دروازے بند کرنا سیکھ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کی ابتدا کتاب سے نہیں، تعلق سے ہوتی ہے۔

یہ حقیقت نئی نہیں۔ انسانی نفسیات کی بنیاد رکھنے والے متعدد نظریات اس بات پر متفق ہیں کہ بچے کی شخصیت کا سب سے پہلا ستون محفوظ تعلق ہے۔ بچہ یہ جان کر بڑا ہوتا ہے کہ دنیا میں کم از کم ایک ایسا انسان ضرور ہے جو اسے صرف اس کی کامیابیوں کی وجہ سے نہیں، اس کے وجود کی وجہ سے قبول کرتا ہے۔ یہی احساس اس کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے، یہی اعتماد اسے سیکھنے کی جرأت دیتا ہے، اور یہی جرأت آگے چل کر کردار، علم اور تخلیق میں ڈھلتی ہے۔

اس کے برعکس، جب بچہ بار بار یہ محسوس کرے کہ اسے صرف اس وقت دیکھا جاتا ہے جب وہ غلطی کرے، صرف اس وقت سنا جاتا ہے جب وہ شور مچائے، اور صرف اس وقت یاد کیا جاتا ہے جب اس کے امتحانی نتائج آئیں، تو وہ رفتہ رفتہ اپنے وجود کو کارکردگی سے جوڑنے لگتا ہے۔ پھر وہ خود سے یہ نہیں پوچھتا: “میں کون ہوں؟” وہ صرف یہ پوچھتا ہے: “میں کتنا کامیاب ہوں؟” یہ سوال بظاہر معمولی ہے، مگر یہی ہماری موجودہ تعلیمی اور سماجی بے چینی کی بنیاد ہے۔

ہم نے بچوں کو یہ تو سکھایا کہ مقابلہ کیسے جیتنا ہے، مگر یہ کم بتایا کہ شکست کے بعد خود کو کیسے سنبھالنا ہے۔ ہم نے انہیں بہترین اداروں تک پہنچنے کی ترغیب دی، مگر اپنے ہی گھر میں ان کے لیے ایسا ماحول پیدا نہ کر سکے جہاں وہ بے خوف ہو کر اپنے دل کی بات کہہ سکیں۔ ہم نے ان کی یادداشت کو مضبوط کرنے کی فکر کی، مگر ان کے احساسات کو سمجھنے کی تربیت خود بھی نہ پائی۔ اور پھر حیران ہوئے کہ ذہین بچے بے چین کیوں ہیں، کامیاب بچے اداس کیوں ہیں، اور ہجوم میں رہنے والی نسل اپنے آپ کو تنہا کیوں محسوس کرتی ہے۔

اصل سوال یہی ہے۔ ہم اپنے بچوں سے کیا چاہتے ہیں؟ صرف اچھے نمبر؟ صرف اچھی ملازمت؟ صرف اچھی تنخواہ؟ اگر تعلیم کا آخری مقصد صرف معاشی کامیابی ہوتا تو تاریخ کے سب سے بڑے معلمین صرف ہنر سکھاتے، کردار نہیں بناتے۔ مگر سقراط نے سوال سکھائے، کنفیوشس نے اخلاق کی بنیاد رکھی، ہمارے اپنے تعلیمی ورثے میں استاد نے صرف سبق نہیں پڑھایا، زندگی کا سلیقہ بھی عطا کیا۔ اسی لیے تعلیم اور تربیت کو الگ کرنا ممکن نہیں۔ علم روشنی دے سکتا ہے، مگر تعلق ہی اس روشنی کو حرارت دیتا ہے۔ اور حرارت کے بغیر روشنی اکثر سرد ہو جاتی ہے۔

شاید اسی مقام پر ہمیں اپنے زمانے کا سب سے اہم سوال دوبارہ لکھنا چاہیے۔ یہ سوال یہ نہیں کہ: “ہمارے بچے کیسے ہیں؟” بلکہ یہ ہے: “ہم نے ان کے لیے کیسی دنیا تعمیر کی ہے؟” کیونکہ ہر بچہ اپنے عہد کی سب سے سچی خودنوشت ہوتا ہے۔ اگر ہم اس کی آنکھوں میں بے چینی دیکھ رہے ہیں تو ممکن ہے وہ صرف اپنی کہانی نہیں سنا رہا؛ وہ ہماری تہذیب کی وہ داستان پڑھ رہا ہے جسے ہم نے ابھی تک پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔

انسان کی زندگی میں بعض آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو سنائی نہیں دیتیں، مگر پورا وجود ہلا دیتی ہیں۔ ایک ماں کی وہ خاموش آہ، جو اس نے کسی سے نہیں کہی۔ ایک باپ کی وہ تشویش، جو اس نے مسکراہٹ کے پیچھے چھپا دی۔ ایک استاد کی وہ مایوسی، جو حاضری رجسٹر میں کبھی درج نہیں ہوتی۔ اور ایک بچے کی وہ خاموشی، جو بظاہر سکون معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں مدد کے لیے بلند ہونے والی سب سے طویل چیخ ہوتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ بچے بولتے ہیں، اس لیے انہیں سمجھنا آسان ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بچے سب سے زیادہ اُس وقت بول رہے ہوتے ہیں جب وہ خاموش ہوتے ہیں۔ وہ اپنی آنکھوں سے بولتے ہیں۔ اپنی بے دلی سے بولتے ہیں۔ اپنی ضد سے بولتے ہیں۔ اپنی بے چینی سے بولتے ہیں۔ اور کبھی کبھی اپنی مسلسل اسکرین پر جھکی ہوئی گردن سے بھی بولتے ہیں۔

مگر المیہ یہ ہے کہ ہم ان کی زبان سننے کے بجائے صرف ان کا رویہ دیکھتے ہیں۔ ہم نتیجہ دیکھتے ہیں، کیفیت نہیں۔ ہم عمل دیکھتے ہیں، سبب نہیں۔ ہم زخم دیکھتے ہیں، درد نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری تربیت کا بڑا حصہ اصلاح پر صرف ہوتا ہے، فہم پر نہیں۔ ہم بچے کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس ماحول کو بدلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جس نے اس کے رویے کو جنم دیا۔

ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے۔ ایک آٹھ سالہ بچہ شام کو اسکول سے گھر لوٹتا ہے۔ اس کے دل میں پورے دن کی چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہیں۔ آج اس نے پہلی مرتبہ پوری جماعت کے سامنے نظم سنائی۔ آج ایک دوست سے ناراضی ہوئی۔ آج کھیلتے ہوئے وہ گر پڑا۔ آج استاد نے اس کی تعریف کی۔ آج کسی نے اس کا مذاق بھی اڑایا۔ یہ سب واقعات اس کے ننھے سے دل میں لہروں کی طرح اٹھ رہے ہیں۔

وہ گھر آتا ہے۔ وہ دروازہ کھولتا ہے۔ وہ کسی ایسے چہرے کی تلاش کرتا ہے جو صرف یہ پوچھ لے: “بیٹا، آج تمہارا دن کیسا گزرا؟” مگر جواب میں اسے ایک مصروف گھر ملتا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی کام میں مشغول ہے۔ کسی کے پاس وقت نہیں۔ کسی کے پاس فرصت نہیں۔ کسی کے پاس سماعت نہیں۔ اور وہ بچہ، جس کے دل میں الفاظ کا ایک دریا موجزن تھا، آہستہ آہستہ خاموش ہونا سیکھ لیتا ہے۔ اسی لمحے تنہائی پیدا نہیں ہوتی۔ مگر اسی لمحے تنہائی اپنا پہلا بیج ضرور بو دیتی ہے۔

یاد رکھیے، بچے کو ہمیشہ مشورے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بسا اوقات اسے صرف ایک سامع چاہیے ہوتا ہے۔ ایک ایسا انسان، جو اس کی ادھوری بات مکمل نہ کرے۔ جو اس کے آنسوؤں کی تشریح نہ کرے۔ جو فوراً نصیحت نہ شروع کر دے۔ جو صرف اتنا محسوس کرا دے کہ: “میں تمہارے ساتھ ہوں۔”

نفسیات کی پوری دنیا اس ایک احساس کی اہمیت پر متفق ہے۔ محفوظ تعلق صرف جذباتی آسودگی نہیں دیتا، بلکہ یہی احساس بچے کے دماغ، اس کی شخصیت، اس کی خود اعتمادی، اس کی سیکھنے کی صلاحیت اور اس کے مستقبل کے تعلقات کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ شاید اسی لیے محبت کو کبھی صرف ایک جذبہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ محبت دراصل تربیت کی پہلی زبان ہے۔ اعتماد کا پہلا مدرسہ ہے۔ تعلیم کا پہلا دروازہ ہے۔ اور انسان ہونے کا پہلا سبق بھی۔

افسوس یہ ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کے لیے ہر چیز خریدنے کی کوشش کی، مگر اپنی موجودگی خرید نہ سکے۔ ہم نے انہیں بہترین اسکول دیے، بہترین کتابیں دیں، بہترین لباس پہنایا، بہترین کھلونے خریدے، بہترین کورسز میں داخل کرایا، مگر ایک چیز مسلسل کم ہوتی گئی: ہماری توجہ۔ اور انسان کی تاریخ میں شاید کوئی ایسا بچہ پیدا نہیں ہوا جسے چیزوں سے زیادہ اپنے کسی عزیز کی توجہ کی ضرورت نہ رہی ہو۔

بچپن کی سب سے بڑی بھوک روٹی نہیں ہوتی۔ دیکھے جانے کی ہوتی ہے۔ سنے جانے کی ہوتی ہے۔ قبول کیے جانے کی ہوتی ہے۔یہی بھوک اگر محبت سے نہ بھرے تو پھر دنیا کی کوئی اسکرین، کوئی کھیل، کوئی تفریح، کوئی کامیابی اسے پوری طرح سیراب نہیں کر سکتی۔ اسی لیے آج کا اصل سوال یہ نہیں کہ بچے موبائل پر کتنا وقت گزارتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ موبائل سے پہلے کس کی تلاش میں تھے۔

ادب دل کو چھوتا ہے، فلسفہ ذہن کو بیدار کرتا ہے، مگر بعض اوقات ایک عدد دونوں کے درمیان کھڑا ہو کر پوری تہذیب پر فردِ جرم عائد کر دیتا ہے۔ جذبات کی اپنی ایک سچائی ہوتی ہے، لیکن جب وہی سچائی تحقیق کی میز پر بھی ثابت ہونے لگے تو پھر اسے محض احساس یا مبالغہ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس مقام پر معاشرہ صرف اختلاف نہیں کرتا، بلکہ اسے اپنے گریبان میں جھانکنا پڑتا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں دنیا کے مختلف ممالک میں بچوں، نوعمروں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت، سماجی رویوں اور تعلیمی کیفیت پر جتنی تحقیق ہوئی ہے، شاید انسانی تاریخ میں کسی ایک نسل پر اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو۔ نفسیات، تعلیم، اطفال، اعصابی سائنس اور سماجیات کے ماہرین ایک دوسرے سے مختلف زبانیں بولتے ہیں، ان کے طریقۂ تحقیق مختلف ہیں، ان کے معاشرے مختلف ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر ان کی گواہی ایک دوسرے سے ملتی ہے۔ وہ سب ایک ہی سمت اشارہ کر رہے ہیں: بچہ معلومات کی کمی سے نہیں، تعلق کی کمی سے زخمی ہو رہا ہے۔ یہ زخم ہمیشہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا، اسی لیے اس کا علاج بھی اکثر دیر سے شروع ہوتا ہے۔

ہمارے اپنے ملک میں بچوں کے حقوق سے متعلق قومی سطح کے مطالعوں نے یہ حقیقت سامنے رکھی ہے کہ اسمارٹ فون اب صرف ایک آلہ نہیں رہا؛ وہ بچوں کی روزمرہ زندگی کا مستقل ساتھی بن چکا ہے۔ ایک بڑی تعداد اسے پیغام رسانی، مختصر ویڈیوز اور سماجی رابطوں کے لیے استعمال کرتی ہے، جبکہ تعلیم اس کے استعمال کی نسبتاً چھوٹی وجہ بن کر رہ گئی ہے۔ بہت سے بچے سونے سے پہلے بھی اسکرین کے ساتھ ہوتے ہیں، اور قابلِ توجہ تعداد یہ اعتراف کرتی ہے کہ ان کی توجہ، ارتکاز اور یکسوئی پہلے جیسی نہیں رہی۔

یہ محض اعداد نہیں۔ یہ ہماری روزمرہ زندگی کے آئینے ہیں۔ ہر فیصد کے پیچھے ایک چہرہ ہے۔ ہر عدد کے پیچھے ایک بچہ ہے۔ ہر جدول کے پیچھے ایک گھر ہے۔ اور ہر گھر کے پیچھے ایک ایسی کہانی ہے جسے ابھی پوری طرح سنا ہی نہیں گیا۔

یہ مسئلہ صرف ہندوستان کا بھی نہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں کیے گئے وسیع مطالعات نے ایک اور حقیقت کو نمایاں کیا ہے۔ گزشتہ برسوں میں نوعمر بچوں میں تنہائی کے احساس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف معاشروں، مختلف ثقافتوں اور مختلف معاشی حالات کے باوجود ایک رجحان حیرت انگیز حد تک مشترک ہے: جیسے جیسے اسکرینیں روزمرہ زندگی کے مرکز میں آئیں، ویسے ویسے بچوں کی باہمی گفتگو، بے ساختہ کھیل، خاندانی نشستیں اور جذباتی قربت سکڑتی چلی گئیں۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسکرین تنہائی کی واحد وجہ ہے۔ مگر یہ کہنا بھی حقیقت سے انکار ہوگا کہ اس تبدیلی میں اس کا کوئی کردار نہیں۔ اصل مسئلہ آلہ نہیں۔ اصل مسئلہ وہ خلا ہے جسے آلہ بھرنے لگا۔ موبائل نے بچوں سے والدین کو نہیں چھینا۔ بعض اوقات والدین کی مسلسل مصروفیت نے بچوں کو اس مقام تک پہنچایا جہاں موبائل انہیں زیادہ حاضر، زیادہ فوری اور زیادہ دستیاب محسوس ہونے لگا۔

انسان ہمیشہ وہاں جاتا ہے جہاں اسے جواب ملتا ہے۔ اگر گھر میں سوال سننے والا نہ ہو تو بچہ کسی نہ کسی دروازے پر دستک ضرور دیتا ہے۔ مجازی دنیا کی سب سے بڑی قوت یہی ہے کہ وہ کبھی یہ نہیں کہتی کہ “میں ابھی مصروف ہوں۔” وہ ہر وقت حاضر رہتی ہے۔ اگرچہ اس کی موجودگی میں دل کی حرارت نہیں ہوتی، مگر دستیابی ضرور ہوتی ہے۔ یہیں سے المیہ جنم لیتا ہے۔ مشین انسان کی جگہ نہیں لے سکتی۔ مگر انسان کی غیر موجودگی میں وہ اس کی جگہ پر ضرور بیٹھ جاتی ہے۔

اصل مقابلہ موبائل اور کتاب کے درمیان نہیں۔ اصل مقابلہ اسکرین اور تعلق کے درمیان ہے۔جہاں تعلق مضبوط ہوگا، وہاں اسکرین اپنی حقیقی جگہ پر رہے گی: ایک خدمت گزار آلے کے طور پر۔ اور جہاں تعلق کمزور پڑ جائے، وہاں یہی آلہ آہستہ آہستہ رشتوں کا متبادل بننے لگتا ہے۔

یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آتی۔ پہلے دسترخوان خاموش ہوتا ہے۔ پھر گفتگو مختصر ہوتی ہے۔ پھر سوال ختم ہوتے ہیں۔ پھر بچے اپنی باتیں دوستوں سے کہتے ہیں۔ پھر دوست بھی کافی نہیں رہتے۔ پھر الگورتھم ان کے ہمراز بن جاتے ہیں۔ اور ایک دن ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ ہمارے ساتھ رہتے ہوئے بھی ہم سے اتنا دور کیسے ہو گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ دوری ہمیشہ قدموں سے نہیں ناپی جاتی۔ بعض فاصلے ایک ہی صوفے پر بیٹھ کر بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور بعض قربتیں ہزاروں میل دور رہ کر بھی قائم رہتی ہیں۔ اس لیے اصل سوال اسکرین کا نہیں، تعلق کا ہے۔ اس مضمون کا مقدمہ بھی یہی ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو دوبارہ پانا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے ان کے وقت پر نہیں، ان کے دل پر دستک دینی ہوگی۔ کیونکہ دل کا وہ دروازہ، جو محبت سے کھلتا ہے، دنیا کی کوئی ٹیکنالوجی کبھی بند نہیں کر سکتی۔

اعداد کبھی نہیں روتے۔ ان کے پاس آنکھیں نہیں ہوتیں۔ وہ آہیں نہیں بھرتے، شکایت نہیں کرتے، کسی عدالت کے دروازے پر دستک نہیں دیتے۔ وہ صرف خاموشی سے صفحوں پر لکھے رہتے ہیں۔ مگر کبھی کبھی ایک فیصد، ایک آنسو سے زیادہ بوجھل ہو جاتا ہے۔

ہم جب کسی رپورٹ میں پڑھتے ہیں کہ دس میں سے چھ بچے اسمارٹ فون کو تعلیم سے زیادہ سماجی رابطوں اور تفریح کے لیے استعمال کرتے ہیں، تو یہ محض ایک شماریاتی حقیقت نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی اسکول کی اسمبلی میں ایک ہزار بچے کھڑے ہوں تو ان میں سے تقریباً چھ سو کے ہاتھوں میں ایک ایسا دروازہ موجود ہے جو ہر لمحہ کھلتا ہے، مگر اکثر انہیں اپنے ہی گھر کے بند ہوتے ہوئے دروازوں کا احساس نہیں ہونے دیتا۔

جب ایک تحقیق یہ بتاتی ہے کہ ہزاروں بچوں میں سے ایک بڑی تعداد سونے سے پہلے آخری بار کسی انسان کا چہرہ نہیں، ایک اسکرین دیکھتی ہے، تو سوال یہ نہیں کہ اس نے موبائل کب بند کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس نے آخری مرتبہ کسی اپنوں کی آنکھوں میں دیکھ کر “شب بخیر” کب کہا تھا؟

تحقیقات ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ بچوں کی توجہ منتشر ہو رہی ہے۔ لیکن میرے نزدیک اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک خبر یہ ہے کہ ہماری توجہ بھی منتشر ہو چکی ہے۔ ہمیں اس بات کا دکھ ہے کہ بچے ہماری بات پوری نہیں سنتے۔ کیا ہم نے کبھی یہ گنا ہے کہ ہم نے ان کی کتنی باتیں پوری سنی ہیں؟

اعداد یہ نہیں بتاتے کہ کتنے بچے تنہا ہیں۔ وہ صرف اتنا بتاتے ہیں کہ کتنے بچے اس تنہائی کے ساتھ جینا سیکھ رہے ہیں۔ اور یہی اس عہد کا سب سے دردناک المیہ ہے۔انسان تنہائی سے نہیں ٹوٹتا۔ وہ اُس دن ٹوٹتا ہے جب اسے اپنی تنہائی معمولی محسوس ہونے لگتی ہے۔

شاید مسئلہ بچے میں نہیں، ہمارے زمانے میں ہے۔ہر عہد اپنے بچوں کے بارے میں ایک فیصلہ صادر کرتا ہے۔ کبھی کہا گیا کہ نئی نسل بے ادب ہے۔ کبھی کہا گیا کہ وہ بے صبر ہے۔ کبھی کہا گیا کہ اسے محنت کی قدر نہیں۔ اور آج ہم کہتے ہیں کہ وہ موبائل کی اسیر ہے۔ مگر تاریخ کا ایک عجیب مزاج ہے۔ وہ ہر نسل سے ایک ہی سوال پوچھتی ہے: تم نے اپنی اولاد کو سمجھنے کی کتنی کوشش کی؟

ہم اکثر بچوں کو دیکھتے ہیں، مگر ان کا زمانہ نہیں دیکھتے۔ حالانکہ ہر بچہ اپنے زمانے کا بیٹا ہوتا ہے۔ وہ صرف اپنے والدین کی گود میں نہیں پلتا؛ وہ اپنے عہد کی ہوا میں سانس لیتا ہے، اپنے معاشرے کی رفتار میں چلنا سیکھتا ہے، اپنے ماحول کی زبان بولنے لگتا ہے اور انہی خاموش پیغامات سے اپنی شخصیت تعمیر کرتا ہے جو روز اس کے گرد بکھرے ہوتے ہیں۔

ذرا سوچیے۔ اگر ایک پودا سایہ مانگ رہا ہو اور ہم اسے پانی دیتے رہیں تو کیا وہ سرسبز ہو جائے گا؟ اگر ایک پرندہ اڑنا چاہتا ہو اور ہم اس کے پنجرے کو سونے سے سجا دیں تو کیا وہ خوش ہو جائے گا؟ اگر ایک بچہ محبت مانگ رہا ہو اور ہم اسے سہولتیں دیتے رہیں تو کیا اس کے دل کا خلا بھر جائے گا؟ انسان کی سب سے بڑی غلطی یہی ہے کہ وہ اکثر ضرورت اور خواہش میں فرق نہیں کر پاتا۔

ہم نے بچوں کی خواہشیں پوری کیں، مگر ان کی ضرورتیں ادھوری چھوڑ دیں۔ ہم نے ان کے کمروں کو بھر دیا، ان کے دل خالی رہ گئے۔ ہم نے ان کی الماریوں میں کپڑے رکھے، ان کی یادوں میں وقت نہ رکھ سکے۔ ہم نے ان کے ہاتھ مضبوط کیے، ان کے رشتے کمزور ہونے دیے۔ اور پھر ایک دن ہم نے حیرت سے پوچھا: “آخر یہ بچہ اتنا خاموش کیوں ہو گیا؟”

خاموشی اچانک پیدا نہیں ہوتی۔ خاموشی مسلسل ٹوٹتی ہوئی گفتگو کی آخری منزل ہوتی ہے۔

پہلے سوال ختم ہوتے ہیں۔ پھر انتظار ختم ہوتا ہے۔ پھر امید ختم ہوتی ہے۔ اور آخر میں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں بچہ بولنا نہیں چھوڑتا، بلکہ یہ یقین کھونے لگتا ہے کہ کوئی اسے پوری توجہ سے سنے گا۔ اور جب سننے والے کم ہو جائیں تو بولنے والے بھی کم ہو جاتے ہیں۔

اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے عہد کا سب سے بڑا تعلیمی بحران نصاب کا بحران نہیں۔ یہ تعلق کا بحران ہے۔ یہ اعتماد کا بحران ہے۔ یہ موجودگی کا بحران ہے۔ ہم نے معلومات کی رفتار کو حیرت انگیز حد تک بڑھا دیا، مگر دلوں کے درمیان سفر پہلے سے زیادہ طویل ہو گیا۔ ہم نے بچوں کو پوری دنیا سے جوڑ دیا، مگر کبھی کبھی وہ اپنے ہی والدین تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں۔

یہ جملہ لکھتے ہوئے مجھے سب سے زیادہ خوف اسی بات کا محسوس ہوتا ہے کہ شاید آنے والی نسلیں ہمیں ٹیکنالوجی ایجاد کرنے والی نسل کے طور پر یاد نہ رکھیں۔ ممکن ہے وہ ہمیں اس نسل کے طور پر یاد رکھیں جس نے سہولت تو بے مثال پیدا کی، مگر فرصت کھو دی؛ رابطہ تو بے شمار پیدا کیا، مگر تعلق کی حفاظت نہ کر سکی۔ اور اگر ایسا ہوا تو ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ نہیں ہوگی کہ ہمارے بچوں نے کتابیں کم پڑھیں۔ ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ ہوگی کہ انہوں نے اپنے دل کی کتاب پڑھنے والا کوئی انسان کم پایا۔

یہیں سے اس داستان کا سب سے اہم باب شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ اب سوال یہ نہیں کہ اسکرین کتنی روشن ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے سامنے بیٹھے ہوئے بچے کی آنکھوں میں روشنی کتنی باقی ہے۔ اور اس سوال کا جواب کسی موبائل کمپنی، کسی ایپ، کسی اسکول یا کسی حکومت کے پاس اکیلے نہیں۔ یہ جواب ہر اُس گھر میں لکھا جا رہا ہے جہاں شام ڈھلنے کے بعد بھی ایک بچہ کسی ایک آواز کا منتظر رہتا ہے: “آؤ، آج ذرا بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔”

ہر انسان کے اندر ایک بچہ رہتا ہے..ہم جب “بچوں کی تنہائی” کی بات کرتے ہیں تو انجانے میں ایک غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تنہائی صرف بچوں کا مسئلہ ہے۔ حالانکہ تنہائی کی عمر نہیں ہوتی۔ وہ صرف اپنی شکل بدلتی ہے۔ بچپن میں وہ کسی کے انتظار کا نام ہوتی ہے۔ جوانی میں کسی کے نہ سمجھنے کا۔ اور بڑھاپے میں کسی کے نہ آنے کا۔

شاید اسی لیے ہر بڑا آدمی اپنے اندر ایک چھوٹا سا بچہ لے کر زندگی گزارتا ہے؛ ایک ایسا بچہ جو کبھی پوری طرح بڑا نہیں ہوتا۔ وہ آج بھی چاہتا ہے کہ کوئی اس کی بات پوری سنے۔ کوئی اس کے چہرے پر لکھی ہوئی تھکن پڑھ لے۔ کوئی اس کے خاموش رہنے کا مطلب پوچھ لے۔ اگر ایک بالغ انسان کی یہ خواہش ختم نہیں ہوتی تو پھر ہم ایک آٹھ برس کے بچے سے کیوں توقع رکھتے ہیں کہ وہ بے توجہی کو بغیر زخم کھائے برداشت کر لے گا؟

ہم اکثر کہتے ہیں کہ بچے بہت جلد عادی ہو جاتے ہیں۔ یہ بات درست ہے۔ مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ صرف چیزوں کے عادی نہیں ہوتے۔ وہ رویوں کے بھی عادی ہو جاتے ہیں۔ اگر روز ان کی بات ادھوری رہ جائے تو وہ خاموش رہنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اگر روز ان کے سوال ملتوی ہو جائیں تو وہ سوال کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر روز ان کے جذبات کو “بعد میں” کہہ کر ٹال دیا جائے تو وہ اپنے جذبات کو اپنے اندر دفن کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ اور دنیا میں شاید اس سے بڑا کوئی سانحہ نہیں کہ ایک بچہ اپنے دل کی حفاظت کے لیے اپنے ہی دل کے دروازے بند کر دے۔

اسی لمحے انسان باہر سے نہیں بدلتا۔ وہ اندر سے بدلنا شروع ہوتا ہے۔ ہم اس تبدیلی کو بہت دیر سے دیکھتے ہیں۔ جب وہ کتاب سے دور ہو جاتا ہے۔ جب وہ گھر میں کم بولتا ہے۔ جب وہ غصہ زیادہ کرنے لگتا ہے۔ جب وہ ہر وقت اسکرین کے ساتھ رہنے لگتا ہے۔ جب اس کی آنکھوں کی چمک مدھم ہونے لگتی ہے۔ لیکن یہ سب آغاز نہیں ہوتے۔ یہ تو اختتام کی نشانیاں ہیں۔ اصل کہانی بہت پہلے شروع ہو چکی ہوتی ہے۔

شاید اس دن، جب اس نے پہلی مرتبہ کوئی بات کہنی چاہی تھی اور کسی نے کہا تھا: “ابھی نہیں…” شاید اس شام، جب وہ دوڑتا ہوا آیا تھا کہ آج اسکول میں کیا ہوا، مگر سامنے والا انسان موجود ہوتے ہوئے بھی موجود نہیں تھا۔ شاید اس رات، جب اسے صرف پانچ منٹ کی ضرورت تھی، مگر ہم نے اسے پانچ سو روپے دے دیے۔

بچوں کی یادداشت بہت عجیب ہوتی ہے۔ انہیں ہر تحفہ یاد نہیں رہتا۔ ہر عید یاد نہیں رہتی۔ ہر سفر یاد نہیں رہتا۔ مگر انہیں وہ لمحہ عمر بھر یاد رہتا ہے جب کسی نے انہیں پوری توجہ سے سنا تھا۔ اور وہ لمحہ بھی، جب کسی نے انہیں پوری طرح نظرانداز کر دیا تھا۔انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی سرمایہ وقت نہیں، توجہ ہے۔ وقت کبھی کبھی مجبوری سے کم ہو جاتا ہے، لیکن توجہ صرف محبت سے پیدا ہوتی ہے۔

اور محبت کی سب سے سچی تعریف شاید یہی ہے کہ کسی انسان کو یہ احساس دلانا کہ اس لمحے دنیا میں سب سے اہم شخص تم ہو۔ بچوں کو یہی احساس چاہیے۔ انہیں کامل والدین نہیں چاہییں۔ انہیں امیر والدین بھی نہیں چاہییں۔ انہیں ہر خواہش پوری کرنے والے والدین بھی نہیں چاہییں۔ انہیں صرف ایسے والدین چاہیے جن کی آنکھوں میں دیکھ کر وہ یقین کر سکیں کہ “میں تمہاری مصروف زندگی میں ایک خلل نہیں، تمہاری زندگی کا مقصد ہوں۔”

شاید دنیا کی کوئی یونیورسٹی یہ سبق نہیں پڑھا سکتی۔ کیونکہ یہ سبق کتابوں میں نہیں لکھا جاتا۔ یہ روز شام کو گھر کے اندر لکھا جاتا ہے۔ اور وہیں سے ایک پوری تہذیب کا مستقبل جنم لیتا ہے۔

دنیا میں ہر خاموشی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ایک خاموشی سکون کی ہوتی ہے۔ ایک خاموشی احترام کی۔ ایک خاموشی غور و فکر کی۔ اور ایک خاموشی ایسی بھی ہوتی ہے جس میں انسان آہستہ آہستہ اپنے وجود کے گرد ایک ایسی دیوار تعمیر کر لیتا ہے جسے باہر سے دیکھنے والا کبھی نہیں جان پاتا۔ بچوں کی خاموشی اکثر اسی آخری قسم کی خاموشی ہوتی ہے۔

یہ ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی۔ یہ کسی ایک ڈانٹ، کسی ایک ناکامی، کسی ایک امتحان یا کسی ایک موبائل سے جنم نہیں لیتی۔ یہ سینکڑوں چھوٹے چھوٹے لمحوں کی اولاد ہوتی ہے۔ وہ لمحے جنہیں بڑے معمول سمجھ کر بھول جاتے ہیں، مگر بچے اپنی پوری زندگی کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں۔

شاید پہلی اینٹ اُس دن رکھی گئی تھی جب وہ دوڑتا ہوا آیا تھا، ہاتھ میں اپنی بنائی ہوئی ایک ٹیڑھی میڑھی تصویر لیے، اور اس نے معصوم خوشی سے کہا تھا: “امی… دیکھیے میں نے کیا بنایا ہے!” اور جواب میں صرف اتنا ملا: “ابھی نہیں… میں مصروف ہوں۔” وہ چپ ہو گیا۔ اس نے تصویر تہہ کر دی۔ مگر صرف کاغذ نہیں مڑا تھا۔ اس کے اندر امید کا ایک ننھا سا کونہ بھی مڑ گیا تھا۔

پھر ایک دن وہ اسکول سے لوٹا۔ اس کے دل میں ایک پوری دنیا آباد تھی۔ آج پہلی بار استاد نے اس کی تعریف کی تھی۔ آج کھیلتے ہوئے وہ گر بھی گیا تھا۔ آج ایک دوست نے دھوکا بھی دیا تھا۔ وہ یہ سب سنانا چاہتا تھا۔ مگر گھر میں ہر شخص کسی نہ کسی اسکرین سے بات کر رہا تھا۔ اس نے سوچا: “شاید میری بات اتنی ضروری نہیں۔” اس دن اس نے اپنی کہانی اپنے دل میں رکھ لی۔

یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ہر “ابھی نہیں” نے اس کے دل میں ایک نئی خاموشی رکھ دی۔ ہر “بعد میں بات کریں گے” نے اس کے اندر انتظار کا ایک نیا موسم پیدا کر دیا۔ ہر ادھوری گفتگو نے اسے یہ سبق دیا کہ بعض باتیں کہنے سے بہتر ہے، اپنے اندر دفن کر دی جائیں۔

پھر ایک وقت آیا جب اس نے واقعی بولنا کم کر دیا۔ گھر والوں نے کہا: “یہ تو بہت خاموش ہو گیا ہے۔” انہیں معلوم نہ تھا کہ خاموشی اس کی عادت نہیں بنی تھی؛ خاموشی اس کا دفاع بن گئی تھی۔ انسان ہمیشہ وہاں بولتا ہے جہاں اسے یقین ہو کہ کوئی سنے گا۔ جہاں سماعت مر جائے، وہاں گفتگو بھی زیادہ دیر زندہ نہیں رہتی۔

نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ بچہ اپنے وجود کی پہچان دوسروں کی نگاہ سے حاصل کرتا ہے۔ مگر زندگی ہمیں اس سے بھی گہری بات سکھاتی ہے۔ بچہ اپنی زبان دوسروں کے کانوں میں تلاش کرتا ہے۔ اگر کوئی اس کی بات سننے والا نہ ہو، تو آہستہ آہستہ وہ اپنے ہی دل کے اندر رہنا سیکھ لیتا ہے۔ پھر وہ اپنے دکھ بیان نہیں کرتا۔ وہ انہیں برداشت کرنا سیکھ لیتا ہے۔ وہ سوال نہیں پوچھتا۔ وہ اندازے لگانا سیکھ لیتا ہے۔ وہ مدد نہیں مانگتا۔ وہ تنہا لڑنا سیکھ لیتا ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک بچہ عمر سے پہلے بڑا ہو جاتا ہے۔ دنیا اسے سمجھدار کہتی ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ صرف بے آواز ہو گیا ہوتا ہے۔

ہم اکثر کہتے ہیں: “بچے ضدی ہو گئے ہیں۔” کاش ہم ایک لمحے کے لیے یہ بھی سوچیں کہ شاید ضد اُس دروازے پر آخری دستک ہوتی ہے جسے محبت نے دیر سے کھولا۔ ہم کہتے ہیں: “وہ ہر وقت موبائل میں رہتا ہے۔” مگر شاید وہ اس جگہ پناہ لے چکا ہے جہاں اسے ہر بار “ابھی نہیں” سننے کو نہیں ملتا۔ ہم کہتے ہیں: “اسے کسی سے لگاؤ نہیں رہا۔” مگر لگاؤ ختم نہیں ہوتا۔ بار بار زخمی ہو کر صرف اظہار کا طریقہ بدل جاتا ہے۔

اور پھر ایک دن وہ منظر سامنے آتا ہے جسے دیکھ کر والدین حیران رہ جاتے ہیں۔ بچہ ایک ہی گھر میں رہتا ہے، مگر اپنے کمرے میں زیادہ خوش رہتا ہے۔ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھتا ہے، مگر کم بولتا ہے۔ سب کے ساتھ سفر کرتا ہے، مگر کہیں اور گم رہتا ہے۔ وہ دور نہیں گیا ہوتا۔ وہ صرف واپس آنا چھوڑ دیتا ہے۔

یہ جملہ لکھتے ہوئے میرے دل میں ایک سوال بار بار دستک دیتا ہے۔ اگر ایک بچہ اپنے دل کا دروازہ بند کر لے، تو کیا دنیا کی کوئی یونیورسٹی، کوئی نصاب، کوئی امتحان، کوئی کامیابی، کوئی ڈگری اُس بند دروازے کو کھول سکتی ہے؟ شاید نہیں۔ کیونکہ دل کے دروازے چابی سے نہیں کھلتے۔ وہ اعتماد سے کھلتے ہیں۔ اور اعتماد کسی ایک بڑے واقعے سے پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ہر روز کے ان معمولی لمحوں میں جنم لیتا ہے جنہیں ہم معمولی سمجھ کر گزر جاتے ہیں۔

آج اگر آپ کے گھر میں کوئی بچہ موجود ہے تو آج رات اس سے یہ مت پوچھیے کہ اس نے کتنے نمبر حاصل کیے۔ یہ بھی مت پوچھیے کہ ہوم ورک مکمل ہوا یا نہیں۔ صرف اس کے پاس بیٹھ جائیے۔ اتنا قریب کہ اسے محسوس ہو کہ آپ واقعی اس کے ساتھ ہیں۔ پھر آہستہ سے کہیے: “میں آج تمہیں سننے آیا ہوں… بتاؤ، تمہارے دل میں کیا چل رہا ہے؟”

ممکن ہے وہ فوراً نہ بولے۔ ممکن ہے وہ صرف مسکرا دے۔ ممکن ہے وہ خاموش رہے۔ لیکن یاد رکھیے، بعض خاموشیاں ٹوٹنے سے پہلے آنکھوں میں اترتی ہیں۔ اور جس دن ایک بچہ دوبارہ اپنے دل کی بات کہنے لگے، یقین جانیے، اسی دن صرف ایک بچہ نہیں بچتا؛ ایک گھر بچ جاتا ہے۔ اور جب ایک گھر بچ جاتا ہے، تو ایک معاشرہ اپنے مستقبل کا ایک چراغ بجھنے سے بچا لیتا ہے۔

گھر صرف وہ جگہ نہیں جہاں ہم رہتے ہیں۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں ہم کسی کے دل میں رہتے ہیں۔ اینٹیں، سیمنٹ، رنگ، پردے، فرنیچر اور روشنی مل کر عمارت بناتے ہیں۔ گھر نہیں۔ گھر تو اُن آوازوں سے بنتا ہے جو ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتی ہیں۔ اُن نگاہوں سے بنتا ہے جو ایک دوسرے کو دیکھتی ہیں۔ اُن خاموشیوں سے بنتا ہے جن میں بھی قربت باقی رہتی ہے۔ اور اُن لمحوں سے بنتا ہے جن میں انسان کو یہ یقین ہو کہ اگر پوری دنیا اسے نہ سمجھے، تب بھی اس گھر میں ایک دروازہ ایسا ضرور ہے جو اس کے لیے ہمیشہ کھلا رہے گا۔

شاید اسی لیے انسان نے جب پہلی مرتبہ گھر بنایا تھا تو اس نے دیواروں سے پہلے رشتے تعمیر کیے تھے۔ دیواریں تو صرف بارش سے بچاتی ہیں۔ رشتے زندگی کی آندھیوں سے بچاتے ہیں۔

مگر نہ جانے کب ہماری ترجیحات بدل گئیں۔ ہم نے مکانوں کو بڑا کرنے میں اپنی پوری توانائی لگا دی۔ گھر چھوٹے ہوتے گئے۔ کمروں کی تعداد بڑھتی گئی۔ ملاقاتوں کی تعداد گھٹتی گئی۔ ہر فرد کے پاس اپنی الگ جگہ آ گئی۔ مگر ایک دوسرے کے دلوں میں جگہ کم ہوتی گئی۔ پہلے بچے کھیلتے کھیلتے تھک جاتے تھے۔ اب انتظار کرتے کرتے تھک جاتے ہیں۔ پہلے شامیں لوگوں سے بھری ہوتی تھیں۔ اب چار افراد ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوتے ہیں، مگر ہر شخص کسی اور دنیا میں آباد ہوتا ہے۔

عجیب زمانہ آ گیا ہے۔ ہم نے اپنے گھروں میں ہر چیز کو “سمارٹ” بنا دیا۔ سمارٹ ٹی وی۔ سمارٹ فون۔ سمارٹ واچ۔ سمارٹ ہوم۔ مگر شاید اسی دوڑ میں ایک چیز خاموشی سے ہم سے بچھڑ گئی: سمارٹ دل۔ وہ دل جو دوسرے کے چہرے پر لکھی ہوئی تھکن پڑھ لیتا تھا۔ وہ دل جو بچے کی مصنوعی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی ہوئی اداسی محسوس کر لیتا تھا۔ وہ دل جو یہ جان لیتا تھا کہ آج اس کے “میں ٹھیک ہوں” کا مطلب حقیقت میں “میں ٹھیک نہیں ہوں” ہے۔

ہم نے سہولت کو محبت سمجھ لیا۔ حالانکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ سہولت زندگی کو آسان بناتی ہے۔ محبت زندگی کو بامعنی بناتی ہے۔ سہولت وقت بچاتی ہے۔ محبت وقت دیتی ہے۔ سہولت ہاتھ پکڑتی ہے۔ محبت دل پکڑتی ہے۔ اور انسان ہمیشہ دل کے سہارے جیتا ہے، ہاتھ کے سہارے نہیں۔

ہم نے اپنے بچوں کو بہترین بستے دیے۔ کاش ہم انہیں اپنے کندھے بھی اسی فراخ دلی سے دیتے۔ ہم نے ان کے لیے بہترین مطالعہ گاہیں بنائیں۔ کاش ہم ان کے لیے اپنی گود کو بھی محفوظ رکھتے۔ ہم نے ان کی ہر جسمانی ضرورت پوری کرنے کی فکر کی۔ کاش ہم ان کی روح کی بھوک کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے لیتے۔ کیونکہ روح بھی بھوکی ہوتی ہے۔ مگر اس کی غذا روٹی نہیں۔ توجہ ہوتی ہے۔ قبولیت ہوتی ہے۔ محبت ہوتی ہے۔ احساسِ تعلق ہوتا ہے۔

ایک بچہ دنیا کی سب سے مہنگی چیزوں کے درمیان رہ کر بھی محروم ہو سکتا ہے۔ اور ایک معمولی سے گھر میں، جہاں شاید آسائشیں کم ہوں، مگر محبت وافر ہو، اپنے آپ کو دنیا کا سب سے امیر انسان محسوس کر سکتا ہے۔غربت ہمیشہ جیب کی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات سب سے بڑی غربت توجہ کی ہوتی ہے۔ اور شاید یہی ہمارے عہد کی سب سے خاموش غربت ہے۔

آج ہم معاشی ترقی کے اعداد گنتے ہیں۔ تعلیمی کامیابیوں کی فہرستیں بناتے ہیں۔ ڈیجیٹل انقلاب پر فخر کرتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہے۔ لیکن ایک سوال ان سب کے درمیان اب بھی کھڑا ہے۔ اگر ہمارے بچے پہلے سے زیادہ سہولتوں میں رہ رہے ہیں، تو پھر پہلے سے زیادہ بے چین کیوں ہیں؟ اگر ان کے پاس معلومات کا سمندر ہے، تو پھر دل اتنے پیاسے کیوں ہیں؟ اگر رابطے ہزاروں ہیں، تو پھر رشتے اتنے کمزور کیوں ہیں؟

شاید اس لیے کہ انسان صرف معلومات سے نہیں جیتا۔ وہ تعلق سے جیتا ہے۔ وہ اعتماد سے جیتا ہے۔ وہ اس یقین سے جیتا ہے کہ دنیا میں کہیں ایک جگہ ایسی ضرور ہے جہاں اسے اپنی کامیابی ثابت نہیں کرنی، صرف اپنا ہونا کافی ہے۔ اور اس جگہ کا نام گھر ہونا چاہیے تھا۔

اگر ہمارا گھر اس یقین کو واپس لوٹا دے، تو یقین مانیے، ہمیں بچوں سے موبائل چھیننے کی ضرورت بہت کم پڑے گی۔ کیونکہ جس دل کو انسانوں کی حرارت مل جائے، وہ مشینوں کی سرد روشنی میں زیادہ دیر پناہ نہیں ڈھونڈتا۔

انسان نے علم کی تاریخ میں بے شمار آلات ایجاد کیے ہیں۔ دوربین بنائی تاکہ ستاروں کو دیکھ سکے۔ خردبین بنائی تاکہ خلیوں کی دنیا میں اتر سکے۔ کمپیوٹر بنایا تاکہ حساب آسان ہو جائے۔ مصنوعی ذہانت بنائی تاکہ معلومات کی رفتار بڑھ جائے۔ مگر ایک آلہ ایسا ہے جس کی ایجاد آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔ وہ ہے: ایک ماں کا دل۔

وہ برسوں پہلے جان لیتا ہے کہ اس کے بچے کی ہنسی میں کچھ بدل گیا ہے۔ وہ محسوس کر لیتا ہے کہ سلام کا لہجہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ وہ دیکھ لیتا ہے کہ بچہ کھانا تو کھا رہا ہے، مگر خوشی نہیں کھا رہا۔ ایک باپ کبھی کبھی الفاظ میں اتنا ماہر نہیں ہوتا، مگر وہ بھی جان لیتا ہے کہ بیٹے کی آنکھوں میں کوئی سوال ہے جو زبان تک نہیں آ رہا۔ استاد بھی روزانہ درجنوں چہرے دیکھتے دیکھتے ایک دن محسوس کرنے لگتا ہے کہ جماعت میں بیٹھا ہوا ایک بچہ موجود تو ہے، مگر اس کی روح کہیں اور بھٹک رہی ہے۔

پھر سائنس آتی ہے۔ وہ برسوں مشاہدہ کرتی ہے۔ لاکھوں بچوں سے بات کرتی ہے۔ ہزاروں خاندانوں کا مطالعہ کرتی ہے۔ اور کئی سال بعد ایک رپورٹ شائع کرتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں اکثر وہی لکھا ہوتا ہے جسے محبت بہت پہلے محسوس کر چکی ہوتی ہے۔ تحقیق کا سب سے بڑا کمال نئی حقیقت دریافت کرنا نہیں۔ بعض اوقات اس کا سب سے بڑا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانی احساس کو دلیل عطا کر دیتی ہے۔

اسی لیے جب مختلف ملکوں میں بچوں کی زندگی کا مطالعہ کیا گیا تو نتائج نے ہمیں چونکایا نہیں، بلکہ جھنجھوڑ دیا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ بچے پہلے سے زیادہ مصروف ہیں، مگر پہلے سے زیادہ مطمئن نہیں۔ ان کے پاس پہلے سے زیادہ معلومات ہیں، مگر پہلے سے زیادہ اطمینان نہیں۔ ان کے پاس پہلے سے زیادہ رابطے ہیں، مگر پہلے سے زیادہ تعلق نہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی ایک قوم کی کہانی نہیں سناتے۔ یہ انسانی تہذیب کی مشترک داستان ہیں۔

ایک طرف وہ بچہ ہے جو سونے سے پہلے اسکرین کی روشنی میں اپنی آنکھیں بند کرتا ہے۔ دوسری طرف وہی بچہ ہے جو صبح اٹھ کر اپنے والدین کے ساتھ چند منٹ کی بے تکلف گفتگو کو ترس جاتا ہے۔ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ اسکرین کا بڑھتا ہوا وقت توجہ، نیند، جذباتی توازن اور باہمی تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم صرف یہ نتیجہ پڑھ کر رک جائیں تو ہم تحقیق کی روح نہیں سمجھتے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ اسکرین کتنی دیر استعمال ہوئی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس دوران کون سا رشتہ استعمال نہیں ہوا۔ اگر ایک گھنٹہ اسکرین کے نام ہوا تو کیا وہ گھنٹہ پہلے کسی گفتگو کا تھا؟ کیا وہ کسی کہانی کا وقت تھا؟ کیا وہ کسی مشترکہ چائے کا لمحہ تھا؟ کیا وہ کسی باپ اور بیٹے کی سیر تھی؟ کیا وہ کسی ماں اور بیٹی کی بے مقصد گفتگو تھی؟ اعداد ہمیں وقت بتاتے ہیں۔ زندگی ہمیں اُس وقت کی قیمت بتاتی ہے۔

ایک عالمی مطالعے میں جب نوعمر بچوں سے ان کے احساسات کے بارے میں سوال کیے گئے تو حیرت انگیز طور پر مختلف زبانوں، مختلف معاشروں اور مختلف براعظموں سے آنے والی آوازوں میں ایک عجیب مماثلت تھی۔ اکثر بچوں نے کسی نہ کسی شکل میں یہی کہا: “ہمیں سمجھا نہیں جاتا۔” یہ جملہ چھوٹا ہے۔ مگر شاید ہماری پوری صدی کی سب سے طویل چیخ بھی یہی ہے۔ کوئی بچہ یہ نہیں کہتا کہ مجھے مہنگا موبائل نہیں ملا۔ کوئی بچہ یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس کھلونے کم ہیں۔ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے دل تک پہنچنے کی زحمت کرے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرینِ نفسیات، تعلیم دان اور اطفال کے معالج ایک بات پر تقریباً متفق دکھائی دیتے ہیں: بچے کی ذہنی صحت کا سب سے مضبوط محافظ صرف اچھا نصاب نہیں، ایک محفوظ تعلق ہے۔ یہ تعلق کبھی کسی نصیحت سے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بنتا ہے۔ دروازہ کھلتے ہی ایک مسکراہٹ۔ کھانے کی میز پر ایک سوال۔ سونے سے پہلے چند لمحوں کی گفتگو۔ اور وہ چند منٹ جن میں موبائل خاموش ہو اور انسان بول رہے ہوں۔دیکھنے میں یہ لمحے بہت معمولی ہیں۔ مگر تہذیبیں ہمیشہ معمولی لمحوں سے بنتی ہیں۔ اور انہی لمحوں کی غفلت سے بکھر بھی جاتی ہیں۔

اس لیے اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس صدی کی سب سے بڑی تعلیمی اصلاح کیا ہے، تو شاید میں کسی نئی ٹیکنالوجی، کسی نئے نصاب یا کسی نئے امتحانی نظام کا نام نہ لوں۔ میں صرف اتنا کہوں گا: اپنے بچوں کو ہر روز اتنا وقت دیجیے کہ انہیں یہ یقین رہے کہ وہ آپ کی مصروف زندگی کے حاشیے پر نہیں، اس کے متن میں رہتے ہیں۔ شاید آنے والے زمانے کی سب سے معتبر تحقیق بھی آخرکار اسی ایک جملے کی تفسیر ثابت ہو۔

کیا بات ہے کہ نمبر بڑھتے گئے، مگر مسکراہٹیں کم ہوتی گئیں

تعلیم کا مقصد ہمیشہ علم نہیں ہوتا۔ بعض اوقات تعلیم کا اصل مقصد انسان ہوتا ہے۔ علم تو انسان کو روزگار دے سکتا ہے، مگر صرف تعلیم ہی اسے کردار دیتی ہے، شکست سہنے کا حوصلہ دیتی ہے، دوسرے انسان کا درد محسوس کرنا سکھاتی ہے، اور اپنی کامیابی کو دوسروں کی ناکامی پر تعمیر نہ کرنے کا شعور عطا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی تہذیب تعلیم کو صرف امتحان تک محدود کر دیتی ہے، وہ رفتہ رفتہ انسان پیدا کرنا چھوڑ دیتی ہے اور صرف امیدوار پیدا کرنے لگتی ہے۔ امیدوار کامیاب ہو سکتے ہیں۔ انسان معاشرہ بناتے ہیں۔

شاید ہماری سب سے بڑی فکری لغزش یہی تھی کہ ہم نے تعلیم کو سفر نہیں رہنے دیا؛ اسے دوڑ بنا دیا۔ اور دوڑ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں ساتھ چلنے والے نہیں ہوتے، صرف آگے نکلنے والے ہوتے ہیں۔

آج ذرا کسی اسکول کے دروازے پر کھڑے ہو کر بچوں کے چہروں کو دیکھیے۔ کتنے بچے ایسے ہیں جو اسکول علم حاصل کرنے جا رہے ہیں؟ اور کتنے ایسے ہیں جو صرف اس خوف کے ساتھ جا رہے ہیں کہ کہیں وہ دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائیں؟ خوف، علم کا پہلا دشمن ہے۔ اور موازنہ، شخصیت کا۔

پھر امتحان آتا ہے۔ گھر کا ماحول بدل جاتا ہے۔ گفتگو کے موضوع بدل جاتے ہیں۔ ہنسی کی جگہ ہدایات لے لیتی ہیں۔ دعاؤں کی جگہ توقعات بڑھنے لگتی ہیں۔ اور ایک بچہ، جسے اپنے والدین کی آنکھوں میں غیر مشروط محبت دیکھنی چاہیے تھی، کبھی کبھی وہاں اپنی کارکردگی کا عکس تلاش کرنے لگتا ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے: اگر میں کامیاب ہوا تو سب خوش ہوں گے۔ اگر میں ناکام ہوا تو…؟ یہ “اگر” بہت چھوٹا لفظ ہے۔ مگر لاکھوں بچوں کی بے چینی اسی ایک لفظ کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔

تعلیمی مطالعات بار بار یہ بتاتے ہیں کہ بڑی تعداد میں طلبہ اپنی پریشانی، اضطراب اور ذہنی دباؤ کی ایک بڑی وجہ پڑھائی، امتحانات اور نتائج کو قرار دیتے ہیں۔ اس حقیقت کو پڑھتے ہوئے ہمیں صرف امتحانی نظام پر تنقید نہیں کرنی چاہیے؛ ہمیں اپنے گھروں کی گفتگو بھی سننی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ ایک بچہ اپنے والدین سے سب سے زیادہ کون سا سوال سنتا ہے؟ “آج کتنے نمبر آئے؟” “ٹیسٹ کیسا ہوا؟” “پہلا نمبر کس کا آیا؟” یہ سوال اپنی جگہ غلط نہیں۔ مگر جب یہی سوال تعلق کی واحد زبان بن جائے تو بچہ آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس کی قدر اس کے وجود سے نہیں، اس کی کارکردگی سے وابستہ ہے۔ پھر وہ اپنی غلطی سے نہیں ڈرتا۔ وہ اپنی قدر کھونے سے ڈرتا ہے۔ یہ خوف خاموش ہوتا ہے۔ لیکن اسی خاموشی میں بہت سے بچے مسکرانا بھول جاتے ہیں۔

ذرا یاد کیجیے۔ ہم میں سے ہر ایک کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسا استاد ضرور آیا ہوگا جس نے ہمیں کسی سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ احساس دلایا تھا کہ “غلطی کرنے میں کوئی شرم نہیں۔” اس ایک جملے نے شاید ہمیں کتاب سے زیادہ زندگی سکھائی۔

جہاں غلطی کی اجازت ہوتی ہے، وہیں تخلیق جنم لیتی ہے۔ جہاں صرف کامل ہونے کی اجازت ہو، وہاں خوف جنم لیتا ہے۔اور خوف میں پروان چڑھنے والے بچے اکثر دو چیزیں سیکھ لیتے ہیں: ناکامی چھپانا، اور جذبات چھپانا۔ دونوں ہی انسان کو اندر سے تنہا کر دیتے ہیں۔

یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے ایک سوال پوچھیے۔ اگر کل صبح آپ کے بچے کے تمام امتحانی نتائج دنیا سے مٹ جائیں، کوئی رپورٹ کارڈ باقی نہ رہے، کوئی درجہ بندی نہ ہو، کوئی رینک نہ ہو، تو کیا آپ کے پاس اس کے بارے میں بات کرنے کے لیے کچھ باقی بچے گا؟ کیا آپ اس کی جستجو کے بارے میں بات کریں گے؟ اس کی دیانت کے بارے میں؟ اس کی شفقت کے بارے میں؟ اس کی سچائی کے بارے میں؟ اس کے خوابوں کے بارے میں؟ یا پھر ہماری گفتگو بھی اسی رپورٹ کارڈ کے ساتھ ختم ہو جائے گی؟

یہ سوال صرف والدین سے نہیں۔ ہم سب سے ہے۔ اساتذہ سے بھی۔ تعلیمی اداروں سے بھی۔ پالیسی بنانے والوں سے بھی۔ اور اس معاشرے سے بھی جس نے کامیابی کی تعریف اتنی تنگ کر دی ہے کہ اس میں انسان کی پوری شخصیت سما ہی نہیں پاتی۔

یاد رکھیے، رپورٹ کارڈ بچے کی تعلیمی کارکردگی کا خلاصہ ہو سکتا ہے۔ اس کی شخصیت کا نہیں۔ امتحان اس کی معلومات کی پیمائش کر سکتا ہے۔ اس کی انسانیت کی نہیں۔ اور نمبر اس کے حافظے کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس کے دل کی وسعت کا نہیں۔

جس دن ہم نے یہ فرق سمجھ لیا، شاید اسی دن ہماری درسگاہیں صرف امتحانات کی تیاری کرنے والے مراکز نہیں رہیں گی، بلکہ انسانوں کی تعمیر کرنے والی درسگاہیں بن جائیں گی۔ کیونکہ آخرکار قوموں کو صرف ذہین دماغ نہیں سنبھالتے۔ انہیں وسیع دل سنبھالتے ہیں۔ اور دل وہاں وسیع ہوتے ہیں جہاں محبت، اعتماد اور قبولیت کو بھی تعلیم کا حصہ سمجھا جاتا ہو، نہ کہ نصاب سے باہر کا موضوع۔

کیاکبھی آپ نے سوچا کہ پل ٹوٹتے کیسے ہیں؟

پل کبھی ایک دھماکے سے نہیں گرتے۔ وہ آہستہ آہستہ کمزور ہوتے ہیں۔ پہلے ایک دراڑ پڑتی ہے۔ پھر دوسری۔ پھر بارشیں آتی ہیں۔ پھر زنگ لگتا ہے۔ اور ایک دن اچانک لوگ کہتے ہیں: “پل گر گیا۔” حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ پل اس دن نہیں گرا تھا۔ وہ تو بہت پہلے گرنا شروع ہو گیا تھا۔

رشتے بھی پل ہوتے ہیں۔ اور ان کا انجام بھی یہی ہوتا ہے۔ وہ کسی ایک جھگڑے سے ختم نہیں ہوتے۔ کسی ایک غلطی سے نہیں ٹوٹتے۔ کسی ایک سخت جملے سے بھی نہیں۔ وہ ان سینکڑوں معمولی لمحوں میں کمزور ہوتے رہتے ہیں جنہیں ہم زندگی کی مصروفیت سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ایک دن بچہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔ آپ کہتے ہیں: “بعد میں۔” ایک دن وہ تصویر دکھانا چاہتا ہے۔ آپ کہتے ہیں: “ابھی نہیں۔” ایک دن وہ صرف پانچ منٹ ساتھ بیٹھنا چاہتا ہے۔ آپ کہتے ہیں: “مجھے ایک ضروری کام ہے۔” ایک دن وہ خاموش رہتا ہے۔ آپ خوش ہو جاتے ہیں کہ اب بچہ سمجھدار ہو گیا ہے۔ آپ کو معلوم نہیں ہوتا، وہ سمجھدار نہیں ہوا۔ اس نے امید کم کر دی ہے۔

زندگی میں بعض نقصان ایسے ہوتے ہیں جن کی خبر بہت دیر سے ملتی ہے۔ بچپن بھی ایسا ہی نقصان ہے۔ وہ ختم ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے۔ جب ایک دن اچانک آپ اپنے ہی گھر میں ایک نوجوان کو دیکھتے ہیں۔ وہ آپ کا بیٹا ہوتا ہے۔ وہ آپ کی بیٹی ہوتی ہے۔ آپ کو حیرت ہوتی ہے: یہ اتنے بڑے کب ہو گئے؟ یہ سوال عمر کا نہیں ہوتا۔ یہ غیر موجودگی کا ہوتا ہے۔ ہم ان کے ساتھ رہتے ضرور ہیں۔ لیکن کیا ہم ان کے ساتھ زندہ بھی رہتے ہیں؟ یہ سوال مجھے ہمیشہ بے چین کرتا ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کی پہلی سالگرہ یاد رہتی ہے۔ پہلا قدم یاد رہتا ہے۔ پہلا لفظ یاد رہتا ہے۔ پہلا اسکول یاد رہتا ہے۔ پھر نہ جانے ایسا کیا ہوتا ہے کہ انہی بچوں کے دل میں آنے والی پہلی اداسی ہمیں نظر نہیں آتی۔ پہلی تنہائی نظر نہیں آتی۔ پہلا خوف نظر نہیں آتا۔ پہلی شکست نظر نہیں آتی۔ اور شاید اسی لیے پہلی خاموشی بھی نظر نہیں آتی۔

ہم زندگی کے بڑے حادثوں سے ڈرتے ہیں۔ حالانکہ رشتے بڑے حادثوں سے کم اور چھوٹی غفلتوں سے زیادہ مرتے ہیں۔

ایک بچے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت یہ نہیں کہ اس کے والدین ہر خواہش پوری کر دیں۔ بلکہ یہ ہے کہ وہ یہ یقین لے کر بڑا ہو کہ “جب مجھے کسی کی ضرورت ہوگی، کوئی ضرور ہوگا۔” یہ یقین انسان کو زندگی بھر سنبھالتا ہے۔ یہی اعتماد ہے۔ یہی تعلق ہے۔ یہی وہ پل ہے جس پر چل کر بچہ اپنے دل سے ہمارے دل تک آتا ہے۔

اور افسوس، ہم نے پل بنانے کے بجائے دیواریں اونچی کرنا شروع کر دیں۔ ہم نے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کے گرد حفاظتی حصار تو بنا دیے، مگر اپنے دلوں کے دروازے پوری طرح کھلے نہ رکھ سکے۔ ہم نے انہیں بہترین تعلیم دی۔ بہترین علاج دیا۔ بہترین لباس دیا۔ بہترین سہولتیں دیں۔ مگر بعض اوقات ہم انہیں اپنی بہترین توجہ نہ دے سکے۔ اور انسان کو سب سے زیادہ وہی چیز یاد رہتی ہے جو اسے نہیں ملی۔

میں اکثر سوچتا ہوں، اگر ایک دن دنیا کی تمام یونیورسٹیاں بند ہو جائیں، تمام امتحانات ختم ہو جائیں، تمام ڈگریاں مٹ جائیں، تو کیا چیز بچے کو ایک اچھا انسان بنائے گی؟ اس سوال کا جواب کسی نصاب میں نہیں۔ وہ ہر شام ایک گھر کے اندر لکھا جاتا ہے۔ جب ایک باپ اپنا موبائل بند کرکے اپنے بیٹے کی بات پوری سنتا ہے۔ جب ایک ماں جلدی میں ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کی آنکھوں میں جھانک کر پوچھتی ہے: “آج تم واقعی کیسی ہو؟” جب ایک استاد سبق ختم ہونے کے بعد صرف اتنا کہتا ہے: “اگر کبھی دل بھاری ہو تو میرے پاس آ جانا۔”

تہذیبیں اسی طرح محفوظ رہتی ہیں۔ قانون سے نہیں، محبت سے۔ نصاب سے نہیں، اعتماد سے۔ عمارتوں سے نہیں، گھروں سے۔ اور گھر صرف وہاں آباد رہتے ہیں جہاں دلوں کے درمیان پل سلامت رہیں۔ ورنہ ایک دن ایک ہی چھت کے نیچے بہت سے جزیرے آباد ہو جاتے ہیں۔

بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب کتابوں میں نہیں ملتے۔ وہ رات کی خاموشی میں ملتے ہیں۔ اس وقت، جب گھر کے سب چراغ بجھ چکے ہوتے ہیں۔ راہداریاں خاموش ہوتی ہیں۔ دروازے بند ہوتے ہیں۔ اور ایک باپ یا ایک ماں بے اختیار اپنے سوتے ہوئے بچے کو دیکھنے اس کے کمرے تک چلا جاتا ہے۔

یہ منظر دنیا کے تقریباً ہر گھر میں کبھی نہ کبھی ضرور پیش آتا ہے۔ بچہ سو رہا ہوتا ہے۔ اس کے چہرے پر معصومیت ویسی ہی ہوتی ہے جیسی اس دن تھی جب اسے پہلی مرتبہ گود میں لیا گیا تھا۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اُس وقت وہ ہماری انگلی پکڑ کر سوتا تھا، اور آج اپنے موبائل کو سینے سے لگا کر سو گیا ہے۔ یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آئی۔ اور شاید اس کی ذمہ داری بھی صرف ایک دن کی نہیں۔

میں اکثر سوچتا ہوں، اگر بچوں کو بولنے سے پہلے یہ اختیار دیا جاتا کہ وہ اپنے والدین کا انتخاب خود کریں، تو وہ کس بنیاد پر انتخاب کرتے؟ کیا وہ سب سے امیر گھر چنتے؟ کیا وہ سب سے بڑی گاڑی دیکھتے؟ کیا وہ سب سے خوبصورت مکان پسند کرتے؟ یا پھر وہ صرف ایک ایسا چہرہ تلاش کرتے، جس کی آنکھوں میں انہیں اپنی پوری زندگی کے لیے پناہ نظر آتی؟بچہ دنیا میں آتے ہی دولت کو نہیں پہچانتا۔ وہ محبت کو پہچانتا ہے۔ وہ زبان نہیں سمجھتا۔ وہ لہجہ سمجھتا ہے۔ وہ فلسفہ نہیں جانتا۔ وہ موجودگی جانتا ہے۔ وہ تحفے نہیں گنتا۔ وہ وقت گنتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کے لیے مستقبل بنا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے۔ مگر کہیں ایسا تو نہیں، کہ مستقبل بناتے بناتے ہم اُن کا آج کھو رہے ہیں؟ ہم ان کی اعلیٰ تعلیم کے لیے بچت کرتے ہیں۔ بہت اچھی بات ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اُن کے بچپن کے لیے بھی وقت بچایا؟ ہم ان کے لیے انشورنس خریدتے ہیں۔ کیا کبھی ہم نے اُن کے خوف سننے کے لیے بھی چند منٹ محفوظ کیے؟ ہمیں ان کے کریئر کی فکر رہتی ہے۔ ہونی بھی چاہیے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی اُن کے دل کے موسم کی خبر بھی لی؟

عجیب بات ہے۔ ہم اپنے موبائل کی بیٹری پانچ فیصد رہ جائے تو فوراً چارجر تلاش کرتے ہیں۔ لیکن برسوں گزر جاتے ہیں، ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے اپنے بچے کے دل کی توانائی کب ختم ہونے لگی۔ ہم گاڑی سے ایک غیر معمولی آواز آئے تو فوراً مکینک کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ مگر جب بچے کی ہنسی معمول سے کم ہونے لگے، تو ہم اسے عمر کا مرحلہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کاش، ہم اپنے بچوں کے دل کی آواز بھی اتنی ہی سنجیدگی سے سن لیتے جتنی سنجیدگی سے ہم اپنی مشینوں کی آواز سنتے ہیں۔ کیونکہ مشین خراب ہو جائے تو دوبارہ خریدی جا سکتی ہے۔ بچپن دوبارہ نہیں خریدا جا سکتا۔

ایک دن ایسا آئے گا، آپ کا بچہ واقعی بڑا ہو جائے گا۔ وہ اپنی زندگی میں مصروف ہو جائے گا۔ اس کے بھی اپنے فیصلے ہوں گے۔ اپنی ترجیحات ہوں گی۔ شاید اُس کے بھی اپنے بچے ہوں گے۔ اور پھر ایک شام، جب وہ آپ کے ساتھ صرف چند منٹ گزار کر جلدی سے اٹھ جائے گا، تو آپ کے دل میں ایک سوال ضرور اٹھے گا: “یہ میرے ساتھ بیٹھتا کیوں نہیں؟” اس دن شاید آپ کو اچانک یاد آئے، کہ کبھی برسوں پہلے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی روز آپ کے پاس بیٹھنا چاہتا تھا۔ اور آپ نے بار بار کہا تھا: “بیٹا… ابھی نہیں…”

زندگی کا سب سے گہرا دکھ یہ نہیں کہ وقت گزر جاتا ہے۔ سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ ہمیں وقت کی قیمت اُس وقت سمجھ آتی ہے، جب وقت ہمارے اختیار سے نکل چکا ہوتا ہے۔

اس لیے اگر آپ یہ مضمون پڑھتے ہوئے اس مقام تک پہنچ گئے ہیں تو میں آپ سے کسی بڑی قربانی کا مطالبہ نہیں کرتا۔ میں آپ سے صرف دس منٹ مانگتا ہوں۔ آج۔ صرف آج۔ یہ مضمون بند کیجیے۔ اپنے بچے کے کمرے میں جائیے۔ اگر وہ جاگ رہا ہے تو اس کے پاس بیٹھ جائیے۔ اگر وہ سو رہا ہے تو اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھیے۔ اور خود سے ایک سوال پوچھیے: اگر کل صبح مجھے صرف ایک ہی نعمت واپس مانگنے کی اجازت ملے، تو کیا میں اپنے بچے کا مستقبل مانگوں گا، یا اس کا بچپن؟

شاید اسی سوال کا جواب اس پورے مضمون کا بھی جواب ہے۔ کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف پارلیمنٹ میں نہیں لکھی جاتی۔ وہ ہر رات سونے سے پہلے ایک باپ، ایک ماں اور ایک بچے کے درمیان ہونے والی چند منٹ کی گفتگو میں بھی لکھی جاتی ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے، جن گھروں میں گفتگو زندہ رہتی ہے، وہاں نسلیں بھی زندہ رہتی ہیں۔

لفظ ہجرت پر غور کررہا تھا تو یہ محسوس ہواکہہجرت ہمیشہ سرحدیں پار کر کے نہیں ہوتی۔ بعض ہجرتیں ایک ہی گھر کے اندر ہوتی ہیں۔ کبھی ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک۔ کبھی ایک دل سے دوسرے دل تک۔ اور کبھی ایک نسل سے دوسری نسل تک۔ ان ہجرتوں کا کوئی پاسپورٹ نہیں بنتا۔ کوئی ویزا جاری نہیں ہوتا۔ کوئی ریلوے اسٹیشن ان کا گواہ نہیں بنتا۔ مگر ان کے بعد بھی بہت کچھ پیچھے رہ جاتا ہے۔ سب سے زیادہ اگر کوئی چیز پیچھے رہ جاتی ہے تو وہ بچپن ہے۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ بچپن آخر ہے کیا؟ کیا صرف ایک عمر؟ صرف چند برس؟ صرف کھیل، کھلونے اور شرارتیں؟ نہیں۔ بچپن دراصل ایک یقین کا نام ہے۔ یہ یقین کہ دنیا ابھی محفوظ ہے۔ یہ یقین کہ میری غلطی کے باوجود کوئی مجھے اپنے سینے سے لگا لے گا۔ یہ یقین کہ میرے سوالوں پر کوئی نہیں ہنسے گا۔ یہ یقین کہ میری بات ادھوری نہیں رہنے دی جائے گی۔ یہ یقین کہ میرے رونے سے کسی کے دل میں ہلچل پیدا ہوگی۔اور جس دن یہ یقین ٹوٹنے لگے، سمجھ لیجیے بچپن ہجرت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ عمر وہی رہتی ہے۔ کھلونے بھی وہی رہتے ہیں۔ اسکول بھی وہی رہتا ہے۔ مگر بچہ اندر سے کہیں اور منتقل ہو جاتا ہے۔ پھر وہ کھیلتا بھی ہے تو پوری طرح نہیں۔ ہنستا بھی ہے تو بے فکری سے نہیں۔ بات بھی کرتا ہے تو احتیاط کے ساتھ۔ جیسے ہر لفظ بولنے سے پہلے اس نے اپنے دل کے دروازے پر دستک دی ہو۔ ہم اسے “میچور” کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ اکثر وہ صرف وقت سے پہلے بوڑھا ہو رہا ہوتا ہے۔

بچوں کی عمر کیلنڈر سے بڑھتی ہے۔ مگر ان کی روح رشتوں سے پروان چڑھتی ہے۔اگر رشتوں کی دھوپ کم پڑ جائے تو روح کی نشوونما رکنے لگتی ہے، خواہ جسم مسلسل بڑھتا رہے۔ اسی لیے دنیا کے بعض انتہائی کامیاب لوگ بھی اندر سے ایک تنہا بچے کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے پاس اختیار ہوتا ہے، اطمینان نہیں۔ شہرت ہوتی ہے، سکون نہیں۔ لوگ ہوتے ہیں، اپنا کوئی نہیں۔

یہ تنہائی اچانک پیدا نہیں ہوتی۔ اس کی جڑیں اکثر بہت دور، بچپن کی کسی خاموش شام میں پیوست ہوتی ہیں۔ وہ شام جب کسی نے ان کی بات پوری نہیں سنی تھی۔ وہ شام جب انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اب دل کی ہر بات زبان تک نہیں آئے گی۔

یہاں ایک سوال ہمیں بے چین کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو ہر خطرے سے بچانا چاہتے ہیں۔ حادثوں سے۔ بیماریوں سے۔ بری صحبت سے۔ ناکامی سے۔ مگر کیا ہم انہیں اس خطرے سے بھی بچا رہے ہیں کہ وہ اپنے ہی گھر میں آہستہ آہستہ اجنبی ہوتے جائیں؟ یہ اجنبیت سب سے خطرناک ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں نہ شور ہوتا ہے، نہ بغاوت۔ صرف فاصلے بڑھتے رہتے ہیں۔ اور فاصلے کبھی شور سے نہیں بڑھتے۔ خاموشی سے بڑھتے ہیں۔

یاد رکھیے، بچے گھر چھوڑنے سے بہت پہلے دل چھوڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ جس دن انہیں محسوس ہونے لگے کہ ان کے احساسات غیر ضروری ہیں، وہ اپنے جذبات کی ہجرت شروع کر دیتے ہیں۔ پھر ایک دن جسم بھی وہیں چلا جاتا ہے جہاں دل پہلے ہی جا چکا ہوتا ہے۔

اس لیے اگر ہم واقعی آنے والی نسل کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف ان کے مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کرنی۔ ہمیں ان کے حال کی حفاظت بھی کرنی ہوگی۔ کیونکہ مستقبل ہمیشہ کل سے نہیں بنتا۔ وہ آج شام سے بنتا ہے۔ اسی شام سے، جب ایک بچہ اپنے گھر کا دروازہ کھولتا ہے اور دل ہی دل میں ایک ہی سوال لیے اندر داخل ہوتا ہے: “کیا آج کوئی میری بات سنے گا؟”

شاید پوری تربیت، پوری تعلیم اور پوری تہذیب کا خلاصہ اسی ایک سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔ جس گھر میں اس سوال کا جواب “ہاں” ہو، وہاں بچے صرف بڑے نہیں ہوتے، وہ انسان بنتے ہیں۔

ہم بار بار کہتے ہیں کہ ہمارا بچہ تنہا ہو گیا ہے۔ مگر شاید یہ سوال ادھورا ہے۔ ہر ادھورا سوال، ادھورا جواب پیدا کرتا ہے۔ اس لیے آئیے سوال کو ذرا بدلتے ہیں۔ سب سے پہلے کون تنہا ہوا تھا؟ کیا واقعی بچہ؟ یا اس سے پہلے گھر تنہا ہوا تھا؟ شاید اس سے بھی پہلے دسترخوان۔ شاید اس سے بھی پہلے گفتگو۔ اور شاید سب سے پہلے… انسان۔

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ہر چیز کو تیز ہونا ہے۔ انٹرنیٹ تیز۔ گاڑیاں تیز۔ ترقی تیز۔ فیصلے تیز۔ جواب تیز۔ صرف ایک چیز آہستہ ہوتی جا رہی ہے: انسان کا دوسرے انسان تک پہنچنا۔

ہمیں پوری دنیا کی خبر رہتی ہے۔ لیکن اپنے ہی گھر کے کسی چہرے پر اترنے والی اداسی کئی کئی دن ہماری نگاہ سے اوجھل رہتی ہے۔ ہم دنیا بھر کی تصویریں دیکھ لیتے ہیں۔ لیکن اپنے بچے کی آنکھوں میں بدلتے ہوئے موسم نہیں پڑھ پاتے۔ ہمیں دور بیٹھے ہوئے لوگوں کی سالگرہ یاد رہتی ہے۔ لیکن یہ یاد نہیں رہتا کہ ہمارے اپنے بیٹے نے گزشتہ ہفتے پہلی مرتبہ دل ٹوٹنے کا تجربہ کیا تھا۔ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوا۔ کیونکہ اس نے بتایا ہی نہیں۔ اور اس نے بتایا کیوں نہیں؟ یہ سوال کسی ایک بچے کا نہیں۔ یہ پورے معاشرے کا سوال ہے۔

انسان صرف اس وقت بولتا ہے جب اسے یقین ہو کہ اس کی آواز کسی کے دل تک پہنچے گی۔ اگر اسے بار بار یہ احساس ہو کہ اس کی بات کو جلدی میں سنا جائے گا، نصیحت میں بدل دیا جائے گا، موازنہ بنا دیا جائے گا، یا محض ایک عارضی مسئلہ سمجھ کر ٹال دیا جائے گا، تو وہ خاموشی کو زبان بنا لیتا ہے۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں ہوتی۔ یہ دل کی خود حفاظتی ہوتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ بچے چھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں زندگی کی پیچیدگیاں نہیں سمجھ آتیں۔ شاید ہم غلطی کرتے ہیں۔ بچے الفاظ کم سمجھتے ہیں، مگر لہجے بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ وہ وقت کی مقدار نہیں گنتے، مگر توجہ کا معیار فوراً پہچان لیتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ والدین کتنے مصروف ہیں۔ انہیں صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ “میرے لیے وقت نکالا گیا… یا نہیں نکالا گیا۔”

انسانی دل کا ایک عجیب اصول ہے۔ وہ ہمیشہ وہاں آباد ہوتا ہے جہاں اسے اپنی قدر محسوس ہو۔ یہ اصول عمر نہیں دیکھتا۔ ایک چھوٹے بچے پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے جس طرح ایک عمر رسیدہ باپ یا ماں پر۔

اسی لیے میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارے گھروں میں سب سے زیادہ ضرورت نئی چیزوں کی نہیں، پرانی روایتوں کی ہے۔ پھر سے ایک دسترخوان، جس پر کھانے سے زیادہ گفتگو ہو۔ پھر سے ایک شام، جس میں جلدی کم ہو، سماعت زیادہ ہو۔ پھر سے ایک سوال، جو صرف معلومات کے لیے نہ پوچھا جائے، محبت کے لیے پوچھا جائے: “آج تمہارا دن کیسا گزرا؟”

یہ چار لفظ معمولی محسوس ہوتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی پوری شخصیت انہی چار لفظوں کے سہارے پروان چڑھتی ہے۔ ممکن ہے بچہ صرف اتنا کہے: “اچھا تھا۔” بات ختم نہ کیجیے۔ خاموش رہیے۔ محبت کو جلدی نہیں ہوتی۔ اعتماد کو بھی نہیں۔ کبھی کبھی دل کو کھلنے میں کئی دن لگتے ہیں۔ اور کبھی ایک پوری عمر۔ لیکن جس دن ایک بچہ یہ یقین کر لے کہ یہاں میری بات ادھوری نہیں چھوڑی جائے گی، اسی دن اس کے اندر امید کا ایک نیا چراغ روشن ہو جاتا ہے۔

یاد رکھیے، دنیا کی ہر عظیم تہذیب نے اپنے بچوں کو عمارتوں سے پہلے رشتے دیے تھے۔ کتابوں سے پہلے آغوش دی تھی۔ قانون سے پہلے شفقت دی تھی۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ ان کے گھروں میں علم صرف پڑھایا نہیں جاتا تھا، جیا جاتا تھا۔

آج ہمارے سامنے بھی انتخاب وہی ہے۔ ہم اپنے بچوں کے لیے ایک اور بہتر مستقبل بنا سکتے ہیں۔ یا ہم ان کے لیے ایک ایسا حال بنا سکتے ہیں جس میں مستقبل خود اپنا راستہ تلاش کر لے۔ فرق صرف ترجیح کا ہے۔ اور بعض اوقات پوری تہذیب کی تقدیر صرف ترجیحات بدلنے سے بدل جاتی ہے۔

کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ محبت بھی ایک تعلیمی قوت ہے لیکن شاید نہیں کیونکہ ہم نے محبت کو ہمیشہ شاعروں کے سپرد کر دیا۔ تعلیم کو اساتذہ کے۔ نفسیات کو معالجوں کے۔ اور تربیت کو نصیحتوں کے۔ حالانکہ انسان کی زندگی میں یہ چاروں کبھی ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ ایک بچہ محبت سے اعتماد سیکھتا ہے۔ اعتماد سے سوال کرنا۔ سوال سے علم حاصل کرنا۔ اور علم سے اپنی دنیا تعمیر کرنا۔ یوں اگر غور کیا جائے تو ہر عظیم درسگاہ کی بنیاد کسی عمارت پر نہیں، ایک تعلق پر رکھی گئی ہے۔

یہ کوئی ادبی خیال نہیں۔ یہ انسانی فطرت کا قانون ہے۔ بچہ اُس شخص سے سب سے زیادہ سیکھتا ہے جس پر وہ سب سے زیادہ اعتماد کرتا ہے۔ اسی لیے ماں کی گود دنیا کی پہلی درسگاہ کہلاتی ہے۔ وہاں نہ تختہ ہوتا ہے، نہ کتاب، نہ امتحان، نہ انعام، نہ سزا۔ پھر بھی وہاں زندگی کا سب سے بنیادی علم منتقل ہو جاتا ہے: اعتماد۔ اور اعتماد کے بغیر نہ علم پنپتا ہے، نہ کردار۔

ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ بچہ اسکول میں جا کر تعلیم حاصل کرتا ہے۔ یہ بات درست ہے۔ مگر پوری نہیں۔ وہ اسکول میں ریاضی، سائنس اور زبانیں ضرور سیکھتا ہے، لیکن سیکھنا اس نے بہت پہلے شروع کر دیا ہوتا ہے۔ وہ اس دن سے سیکھ رہا ہوتا ہے جب پہلی مرتبہ کسی نے اس کے رونے پر اسے گود میں اٹھایا تھا۔ وہ اس دن سے سیکھ رہا ہوتا ہے جب کسی نے اس کی غلط زبان کو بھی پوری توجہ سے سنا تھا۔ وہ اس دن سے سیکھ رہا ہوتا ہے جب کسی نے اس کی معمولی سی کامیابی پر ایسے خوشی منائی تھی جیسے اس نے دنیا فتح کر لی ہو۔

اسی لیے دنیا بھر میں بچوں کی نشوونما پر ہونے والی تحقیق بار بار ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتی ہے۔ جن بچوں کو گھر میں قبولیت، شفقت اور جذباتی تحفظ میسر آتا ہے، ان میں خود اعتمادی زیادہ ہوتی ہے، سیکھنے کی رغبت زیادہ ہوتی ہے، اور زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی نسبتاً مضبوط ہوتی ہے۔ یہ محض نفسیات کا اصول نہیں۔ یہ زندگی کا مشاہدہ ہے۔

ایک استاد پوری جماعت کو ایک ہی سبق پڑھاتا ہے۔ پھر بھی تمام بچے ایک جیسے نہیں سیکھتے۔ کیوں؟ کیونکہ دماغ صرف معلومات سے نہیں سیکھتا۔ وہ ماحول سے بھی سیکھتا ہے۔ اگر دل خوف سے بھرا ہو تو ذہن پوری طرح کھل نہیں پاتا۔ اگر انسان ہر وقت اپنی قدر ثابت کرنے میں لگا رہے تو تجسس آہستہ آہستہ دبنے لگتا ہے۔ اور اگر غلطی کرنے کا خوف مستقل ساتھ رہے تو تخلیق کی جرأت کم ہونے لگتی ہے۔

اس کے برعکس، جہاں محبت ہو، وہاں غلطی جرم نہیں رہتی۔ وہ سیکھنے کا پہلا قدم بن جاتی ہے۔ جہاں احترام ہو، وہاں سوال پوچھنا بے ادبی نہیں سمجھا جاتا۔ وہ علم کی ابتدا بن جاتا ہے۔ جہاں قبولیت ہو، وہاں بچہ دوسروں سے مقابلہ کرنے سے پہلے اپنے آپ سے دوستی کرنا سیکھ لیتا ہے۔ اور شاید یہی تعلیم کا سب سے بلند مقصد ہے: اپنے آپ سے صلح۔

ہم نے تعلیم کو کامیابی تک پہنچنے کا ذریعہ تو بنایا، مگر کبھی کبھی یہ بھول گئے کہ تعلیم کا ایک مقصد زندگی کے قابل انسان پیدا کرنا بھی ہے۔ وہ انسان جو صرف امتحان میں نہیں، تعلقات میں بھی کامیاب ہو۔ جو صرف دلیل نہ جانتا ہو، دل بھی جانتا ہو۔ جو صرف جواب نہ دے سکے، کسی کی خاموشی بھی سن سکے۔

دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ وہ نہیں جہاں سب سے زیادہ کتابیں ہوں۔ دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ وہ ہے جہاں کسی بچے کو یہ احساس ہو کہ “اگر میں ناکام بھی ہو گیا، تب بھی میری قدر کم نہیں ہوگی۔”یہ احساس بچے کو سستی نہیں سکھاتا۔ یہ اسے حوصلہ دیتا ہے۔ کیونکہ جسے محبت کھونے کا خوف نہ ہو، وہ کوشش کرنے کی ہمت بھی رکھتا ہے۔ شاید اسی لیے بعض بچے کم وسائل کے باوجود بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ اور بعض بچے ہر سہولت کے باوجود اندر سے بکھر جاتے ہیں۔ فرق ذہانت میں کم ہوتا ہے۔ فرق اُس یقین میں زیادہ ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ ہر صبح اپنی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔

آخر میں ایک سوال، جو شاید ہم سب کو اپنے دل میں لے جانا چاہیے۔ اگر کل سے دنیا کے تمام اسکول بند ہو جائیں، تمام نصاب بدل جائیں، تمام امتحانات ختم ہو جائیں، تو ہم اپنے بچوں کو سب سے پہلے کیا سکھائیں گے؟ اگر اس سوال کا جواب صرف ایک لفظ میں دینا پڑے تو میرا جواب ہوگا: اعتماد۔کیونکہ اعتماد ہو تو علم اپنا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ اعتماد ہو تو کردار پروان چڑھتا ہے۔ اعتماد ہو تو انسان اپنی شکست سے بھی سیکھ لیتا ہے۔ اور اعتماد کی پہلی اینٹ ہمیشہ محبت رکھتی ہے۔اسی لیے شاید ہمیں اپنے گھروں میں ایک نیا مضمون شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کسی بورڈ کے نصاب میں شامل نہیں۔ اس کا کوئی امتحان نہیں ہوتا۔ اس پر کوئی نمبر نہیں ملتے۔ لیکن زندگی کے ہر امتحان میں وہی مضمون سب سے زیادہ کام آتا ہے۔ اس مضمون کا نام ہےمحبت، جو صرف محسوس نہیں کی جاتی، بلکہ ہر روز وقت، توجہ، سماعت اور قبولیت کی صورت میں پڑھائی بھی جاتی ہے۔

یہاں رک کر ذرا سوچئے کہتاریخ ہمارے بارے میں کیا لکھے گی؟تاریخ صرف بادشاہوں کے فیصلے محفوظ نہیں رکھتی۔ وہ گھروں کی خاموشیاں بھی یاد رکھتی ہے۔ وہ یہ بھی لکھتی ہے کہ ایک عہد نے اپنے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ممکن ہے آنے والی صدیوں میں کوئی مؤرخ ہماری عمارتوں کی تعریف کرے۔ ہمارے پلوں، شاہراہوں، مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیقات اور حیرت انگیز سائنسی ترقی کا ذکر کرے۔ ممکن ہے وہ یہ بھی لکھے کہ یہ وہ زمانہ تھا جس میں انسان نے فاصلے ختم کر دیے تھے۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ شاید اسی صفحے پر ایک اور جملہ بھی لکھا جائے: “یہ وہ نسل تھی جس نے فاصلے تو مٹا دیے، مگر قربتیں کھو دیں۔”شاید وہ لکھے کہ اس دور کے بچوں کے پاس معلومات کا سب سے بڑا خزانہ تھا، مگر گفتگو کے لیے سب سے کم وقت۔ ان کے ہاتھوں میں پوری دنیا تھی، مگر دل میں ایک ایسا خلا بھی تھا جسے کوئی ایپ، کوئی اسکرین، کوئی مشین بھر نہ سکی۔ اور اگر تاریخ نے یہ لکھ دیا، تو یہ صرف بچوں کی شکست نہیں ہوگی۔ یہ ہماری تہذیب کی شکست ہوگی۔ کیونکہ ہر تہذیب کا اصل امتحان اس کے محل نہیں ہوتے۔ اس کے بچے ہوتے ہیں۔

بچے اس قوم کا کل نہیں ہوتے۔ وہ اس قوم کا آج ہوتے ہیں۔ ہم انہیں مستقبل کہہ کر ایک نفسیاتی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ مستقبل تو ابھی آیا ہی نہیں۔ جو ہمارے سامنے بیٹھا ہے، جو ہمارے ساتھ کھانا کھا رہا ہے، جو اسکول جا رہا ہے، جو ہر رات کسی ایک آواز کا انتظار کرتا ہے، وہ مستقبل نہیں۔ وہ حال ہے۔ اور جو قوم اپنے حال کو مسلسل مستقبل کے نام پر قربان کرتی رہے، اس کا مستقبل بھی زیادہ دیر محفوظ نہیں رہتا۔

ہمیں ایک اور غلط فہمی نے بھی بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ہم نے سمجھ لیا کہ محبت کے لیے اضافی وقت چاہیے۔ حالانکہ محبت وقت کی مقدار سے کم اور موجودگی کے معیار سے زیادہ پیدا ہوتی ہے۔ ایک بچہ اپنے والد کے ساتھ پورا دن گزار کر بھی تنہا رہ سکتا ہے۔ اور صرف دس منٹ کی پوری توجہ پا کر بھی عمر بھر کے لیے مضبوط ہو سکتا ہے۔بچے گھڑی نہیں دیکھتے۔ وہ چہرے پڑھتے ہیں۔ وہ منٹ نہیں گنتے۔ وہ نگاہوں کی سچائی گنتے ہیں۔انہیں یہ یاد نہیں رہتا کہ آپ نے ان کے ساتھ کتنی دیر گزاری تھی۔ انہیں یہ یاد رہتا ہے کہ جب آپ ان کے ساتھ تھے تو واقعی ان کے ساتھ تھے یا نہیں۔ شاید اسی لیے زندگی کی سب سے مہنگی چیز وقت نہیں۔ بے تقسیم توجہ ہے۔ وہ توجہ جس میں نہ فون کی گھنٹی مداخلت کرے، نہ جلدی، نہ بے صبری، نہ نصیحت۔ صرف دو انسان ہوں۔ ایک بول رہا ہو۔ دوسرا سن رہا ہو۔ اور سن بھی اس طرح رہا ہو کہ بولنے والے کو پہلی مرتبہ محسوس ہو: “میری بات اہم ہے، کیونکہ میں اہم ہوں۔”

دنیا کی تمام عظیم اصلاحات کسی قانون سے شروع نہیں ہوئیں۔ وہ انسان کے دل سے شروع ہوئیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو صرف ایک چیز واپس لوٹا سکیں، تو وہ ان کا کھویا ہوا اعتماد ہو۔ اگر ہم اپنے گھروں میں صرف ایک روایت دوبارہ زندہ کر سکیں، تو وہ بے غرض گفتگو کی روایت ہو۔ اگر ہم اپنی مصروف زندگی میں صرف ایک عادت پیدا کر سکیں، تو وہ یہ ہو کہ ہر روز، چاہے چند ہی لمحوں کے لیے سہی، ہم اپنے بچوں کو یہ احساس ضرور دلائیں کہ “آج بھی، اس دنیا میں، کوئی ایسا انسان موجود ہے جس کے لیے تمہاری آواز ہر نوٹیفکیشن سے زیادہ اہم ہے۔”

شاید اسی دن ایک خاموش انقلاب شروع ہوگا۔ وہ انقلاب جس کی خبر کسی اخبار میں نہیں چھپے گی۔ جس پر کوئی نعرہ نہیں لگے گا۔ جس کے لیے کوئی جلوس نہیں نکلے گا۔ مگر اس کے بعد آہستہ آہستہ کچھ بدلنے لگے گا۔ گھروں میں گفتگو واپس آئے گی۔ دسترخوان دوبارہ آباد ہوں گے۔ بچوں کی آنکھوں میں اعتماد لوٹے گا۔ اور ایک ہی چھت کے نیچے بکھرے ہوئے جزیروں کے درمیان پھر سے ایک پل تعمیر ہونا شروع ہوگا۔ کیونکہ تہذیبیں ہمیشہ پل بنانے والوں کے ہاتھوں زندہ رہتی ہیں۔ دیواریں بنانے والوں کے ہاتھوں نہیں۔

انقلاب ہمیشہ گھر سے شروع ہوتا ہے۔ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ معاشرے بڑے فیصلوں سے بدلتے ہیں۔ نئے قوانین سے۔ نئی پالیسیوں سے۔ نئے نصاب سے۔ نئی حکومتوں سے۔ یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن تاریخ کا مطالعہ ایک اور حقیقت بھی بتاتا ہے۔ ہر بڑی تبدیلی سے پہلے ایک چھوٹی تبدیلی جنم لیتی ہے۔ اور وہ تبدیلی اکثر کسی ایوان میں نہیں، کسی گھر میں جنم لیتی ہے۔

انسانی تہذیب کی سب سے پائیدار اصلاحات وہ نہیں تھیں جو حکم ناموں سے نافذ ہوئیں۔ وہ تھیں جو دلوں میں جگہ بنا گئیں۔ ایک ماں نے اپنے بچے کو پوری توجہ سے سن لیا۔ ایک باپ نے اپنے کام سے زیادہ اہم اپنے بیٹے کے سوال کو سمجھ لیا۔ ایک استاد نے سبق ختم ہونے کے بعد چند لمحے ایک خاموش طالب علم کے ساتھ گزار لیے۔ یہ واقعات تاریخ کی کتابوں میں درج نہیں ہوتے۔ لیکن انہی سے تاریخ کا رخ بدلتا ہے۔

ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ہر مسئلے کا فوری حل تلاش کیا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچے موبائل کم استعمال کریں۔ مطالعہ زیادہ کریں۔ گفتگو کریں۔ اعتماد پیدا کریں۔ ذمہ دار بنیں۔ لیکن شاید ہم نے ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیا ہے۔ انسان حکم سے کم بدلتا ہے۔ محبت سے زیادہ۔بچہ نصیحت نہیں اپناتا۔ وہ ماحول اپناتا ہے۔ وہ ہماری باتوں سے پہلے ہماری زندگی پڑھتا ہے۔اگر ہم کھانے کی میز پر مسلسل اسکرین دیکھ رہے ہوں تو ہماری ہزار تقریریں بھی اس ایک منظر کو شکست نہیں دے سکتیں۔ اگر ہم خود ایک دوسرے کو پوری توجہ سے نہیں سنتے تو بچہ سننے کا فن کہاں سے سیکھے گا؟ اگر ہم ہر گفتگو کو جلدی میں ختم کر دیتے ہیں تو وہ صبر کس کتاب سے پڑھے گا؟ اسی لیے بچوں کی تربیت کا آغاز ان سے نہیں، ہم سے ہوتا ہے۔

یہ مضمون بار بار بچوں کی طرف لوٹتا ہے، مگر حقیقت میں اس کا مخاطب بچہ کبھی تھا ہی نہیں۔ وہ تو ہمیشہ ہم تھے۔ کیونکہ بچہ اپنی شخصیت خود نہیں لکھتا۔ ہم سب مل کر اس کی پہلی سطریں لکھتے ہیں۔ اس کے بعد وہ انہی سطروں کو زندگی بھر پڑھتا رہتا ہے۔آج اگر ہمیں لگتا ہے کہ نئی نسل میں بے چینی بڑھ رہی ہے، تو ہمیں صرف ان کی نبض نہیں دیکھنی چاہیے۔ ہمیں اپنے گھروں کی نبض بھی ٹٹولنی ہوگی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے کامیابی کو محبت پر ترجیح دے دی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے سہولت کو موجودگی کا بدل سمجھ لیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے بچوں کے لیے ہر چیز مہیا کی، سوائے اپنے آپ کے؟

اس سوال کا جواب کوئی دوسرا نہیں دے سکتا۔ نہ حکومت۔ نہ اسکول۔ نہ کوئی ماہرِ نفسیات۔ نہ کوئی کتاب۔ اس کا جواب ہر شام ہر گھر میں لکھا جاتا ہے۔ جب ایک باپ فیصلہ کرتا ہے کہ آج موبائل کچھ دیر بعد دیکھ لے گا۔ جب ایک ماں یہ طے کرتی ہے کہ آج وہ صرف سننے کے لیے بیٹھے گی، سمجھانے کے لیے نہیں۔ جب ایک استاد یہ محسوس کرتا ہے کہ کبھی کبھی ایک بچے کو سبق سے زیادہ ایک انسان کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحے ہیں جہاں قومیں اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتی ہیں۔

ہمیں شاید دنیا بدلنے کی طاقت نہ ہو۔ لیکن ہمیں ایک بچہ سننے کی طاقت ضرور حاصل ہے۔ اور بعض اوقات، ایک بچہ پوری توجہ سے سن لینا، ایک پوری نسل کو بچا لینے کے برابر ہوتا ہے۔

اس لیے اگر اس مضمون کے تمام صفحات پڑھنے کے بعد بھی صرف ایک بات دل میں باقی رہ جائے تو وہ یہی ہو کہ اپنے بچوں کو زیادہ چیزیں دینے کی کوشش مت کیجیے۔ انہیں اپنا آپ دیجیے۔ کیونکہ آخرکار بچوں کو یاد یہ نہیں رہتا کہ ان کے والدین نے ان کے لیے کیا خریدا تھا۔ انہیں یہ یاد رہتا ہے کہ جب پوری دنیا مصروف تھی، تب بھی ایک انسان ایسا تھا، جو ان کے لیے رک جاتا تھا۔اور شاید انسان کی پوری زندگی کا حاصل بھی یہی ہے کہ دنیا کی بے شمار آوازوں کے درمیان کوئی ایک آواز ایسی ہو، جو ہمیشہ یہ کہتی رہے: “میں تمہیں سن رہا ہوں… تم اکیلے نہیں ہو۔”

جب میں اس مضمون کا اختتامیہ لکھنے بیٹھا تو میرے سامنے نہ کوئی تحقیق تھی، نہ کوئی جدول، نہ کوئی فیصد، نہ کوئی رپورٹ۔ میرے سامنے صرف ایک بچہ تھا۔ وہ کسی ایک گھر کا بچہ نہیں تھا۔ وہ ہر گھر کا بچہ تھا۔ وہ شاید آپ کا بیٹا تھا۔ شاید آپ کی بیٹی۔ شاید وہ بچہ بھی تھا جو کبھی آپ خود تھے۔میں اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک سوال تھا۔ بہت چھوٹا سا سوال۔ مگر شاید پوری صدی کا سب سے بڑا سوال: “کیا میری آواز کسی تک پہنچتی ہے؟”

میں نے محسوس کیا، بچوں کی سب سے بڑی خواہش یہ نہیں کہ انہیں دنیا کا بہترین اسکول مل جائے۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ہر کھلونا ان کے پاس ہو۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ہر امتحان میں وہی اول آئیں۔ ان کی سب سے پہلی خواہش اس سے کہیں زیادہ سادہ ہوتی ہے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ اس وسیع دنیا میں ایک انسان ایسا ضرور ہو، جس کے لیے وہ ہر مصروفیت سے زیادہ اہم ہوں۔

زندگی کی سب سے بڑی محرومی غربت نہیں۔ یتیمی بھی نہیں۔ ناکامی بھی نہیں۔ انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ یہ یقین کھو دے کہ دنیا میں کوئی اسے پوری توجہ سے سننے والا بھی ہے۔ اسی یقین کا نام گھر تھا۔ اسی یقین کا نام خاندان تھا۔ اسی یقین کا نام تربیت تھی۔ اور شاید اسی یقین کا نام محبت بھی تھا۔

ہم اپنے بچوں کے لیے بہت کچھ چھوڑ کر جائیں گے۔ گھر۔ زمینیں۔ بینک بیلنس۔ ڈگریاں۔ تصویریں۔ شاید کچھ اچھی یادیں بھی۔ لیکن ایک سوال وقت ہم سب سے ضرور پوچھے گا: کیا ہم نے اپنے بچوں کو یہ یقین بھی ورثے میں دیا تھا کہ وہ غیر مشروط محبت کے حق دار ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب “ہاں” ہے، تو یقین مانیے، ہم نے انہیں دنیا کی سب سے بڑی دولت دے دی۔ اور اگر جواب “نہیں” ہے، تو شاید ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔کیونکہ بچوں کے دل حیرت انگیز ہوتے ہیں۔ وہ نفرت دیر تک یاد نہیں رکھتے۔ وہ انتظار ضرور کرتے ہیں۔ وہ دروازے بند نہیں کرتے۔ صرف آہستہ سے اُن کے پیچھے بیٹھ جاتے ہیں، اور کسی ایک دستک کے منتظر رہتے ہیں۔ شاید آج بھی۔ شاید ابھی بھی۔اس لیے آج جب آپ یہ مضمون بند کریں، تو جلدی سے اگلا صفحہ مت کھولیے۔ اپنا موبائل بھی فوراً مت اٹھائیے۔ بس چند لمحے خاموش رہیے۔ پھر اپنے گھر میں اُس کمرے تک جائیے، جہاں ایک بچہ رہتا ہے۔ اگر وہ پڑھ رہا ہو، تو اس کے پاس بیٹھ جائیے۔ اگر وہ کھیل رہا ہو، تو اس کے کھیل میں شریک ہو جائیے۔ اگر وہ سو رہا ہو، تو اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیجیے۔اور اگر وہ اب بڑا ہو چکا ہو، اور کسی دوسرے شہر میں رہتا ہو، تو اسے فون کیجیے۔ کسی ضرورت کے لیے نہیں۔ صرف یہ کہنے کے لیے: “بیٹا… آج تم بہت یاد آئے۔” ممکن ہے وہ حیران ہو۔ ممکن ہے وہ خاموش ہو جائے۔ ممکن ہے وہ صرف اتنا کہے: “جی…” لیکن یقین رکھیے، بعض رشتے ایک لفظ سے نہیں، ایک احساس سے دوبارہ زندہ ہو جاتے ہیں۔اور اگر آج رات صرف ایک گھر میں بھی ایک باپ اپنے بیٹے کی پوری بات سن لے، ایک ماں اپنی بیٹی کی خاموشی پڑھ لے، ایک استاد کسی خاموش طالب علم کو نام لے کر بلا لے، تو شاید اس دنیا کا نقشہ نہیں بدلے گا۔ لیکن ایک دل ضرور بدل جائے گا۔ اور تاریخ ہمیشہ دلوں سے بدلتی ہے، نقشوں سے نہیں۔

آخر میں میں صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ اس پورے مضمون کا خلاصہ اگر ایک جملے میں بیان کرنا پڑے تو شاید میں یہی لکھوں گا کہ بچے کبھی محبت مانگتے نہیں… وہ صرف آہستہ آہستہ وہاں جانا شروع کر دیتے ہیں، جہاں انہیں محبت محسوس ہونے لگتی ہے۔اور تہذیبیں اس دن ختم نہیں ہوتیں جب ان کی عمارتیں منہدم ہوتی ہیں۔ تہذیبیں اس دن بکھرنا شروع ہوتی ہیں، جب ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے دلوں کے درمیان پل ٹوٹ جاتے ہیں۔

آئیے، اپنے بچوں کو ایک نئی دنیا دینے سے پہلے، ان تک جانے والا ایک پل دوبارہ تعمیر کریں۔ شاید آنے والی نسلیں ہمیں ہماری عمارتوں سے نہیں، اسی ایک پل سے یاد رکھیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *