سائنسی مزاج، تعلیمی قیادت اور ثبوت کی ثقافت کا بحران

ڈاکٹر اسد اللہ خان

اِس ملک میں دو طرح کی چوریاں ہوتی ہیں اور ہم صرف ایک کو چوری کہتے ہیں۔

پہلی چوری کا سراغ لگانا آسان ہے۔ ایک سوالیہ پرچہ امتحان سے پہلے کسی کے فون میں پہنچ جاتا ہے اور لاکھوں نوجوانوں کے ایک برس کی ریاضت رات کے کسی پہر بے وقعت ہو جاتی ہے۔ اخبار اِسے سرخی بناتے ہیں، ایوان اِس پر گرجتا ہے، تفتیشی ادارے حرکت میں آتے ہیں، اور کہیں نہ کہیں ایک گرفتاری بھی عمل میں آ جاتی ہے۔

دوسری چوری اِس سے زیادہ سنگین ہے اور اِس پر کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ اِس میں پرچہ نہیں، طریقہ چُرایا جاتا ہے۔ کوئی صاحبِ منصب کسی محفل میں ایک دعویٰ پیش کرتا ہے، دلیل کا سارا مرحلہ چھوڑ دیتا ہے، اور سامعین کے حصے میں وہ یقین آ جاتا ہے جس کی قیمت کسی نے ادا نہیں کی۔

غور کیجیے تو دونوں واقعات کی ساخت ایک ہے۔ پرچہ چُرانے والا محنت کے بغیر نمبر لے جاتا ہے؛ بے دلیل دعویٰ کرنے والا تحقیق کے بغیر تصدیق لے جاتا ہے۔ دونوں نے وہ درمیانی راستہ حذف کر دیا ہے جس کا نام علم ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک پر رپورٹ لکھی جاتی ہے اور دوسرے پر تالیاں بجتی ہیں۔

جولائی کے آخری ہفتے میں یہ دونوں چوریاں ایک ہی صفحے پر جمع ہو گئیں۔ ایک طرف وہ امتحان تھا جس کی ساکھ مٹی میں مل چکی تھی، دوسری طرف وہ جملہ تھا جو ایوان میں گونجا اور جس پر ملک دو حصوں میں بٹ گیا۔ اخبارات نے اِسے سیاست کا معاملہ سمجھا۔ میرے نزدیک یہ سیاست سے زیادہ تعلیم کا معاملہ ہے، اور تعلیم سے زیادہ اُس رویّے کا، جسے ہمارے دستور نے ‘سائنسی مزاج’ کہا ہے۔

واقعہ کیا ہے ؟

تین مئی دو ہزار چھبیس کو ہونے والا نیٹ (یو جی) کا امتحان پرچہ افشا ہونے کے الزامات کے بعد منسوخ کیا گیا اور اکیس جون کو دوبارہ لیا گیا۔ طلبہ کا احتجاج چھتیس دن جاری رہا۔ پچیس جولائی کو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوئے اور وزارت کا اضافی چارج پرہلاد جوشی کے سپرد ہوا۔ چھبیس جولائی کو وزیرِ اعظم نے امتحانی اصلاحات کے لیے چھ رکنی اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس کا اعلان کیا۔

اِس ٹاسک فورس کی صدارت انفوسس کے شریک بانی اور آدھار کے معمار نندن نیلیکنی کے سپرد ہوئی۔ باقی ارکان میں اسرو کے سابق چیئرمین ایس سومناتھ، انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر ٹپن ڈیکا، آئی آئی ٹی مدراس کے ڈائریکٹر پروفیسر وی کاماکوٹی، تعلیم کی سابق سیکریٹری انیتا کروال اور سینئر انتظامی افسر امرت لال مینا شامل ہیں۔ ذمہ داری یہ سونپی گئی کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے نظام کو ٹیکنالوجی کی مدد سے محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد بنایا جائے۔

اٹھائیس جولائی کو لوک سبھا میں امتحانات میں بدعنوانی کی روک تھام سے متعلق ترمیمی بل پر بحث ہوئی۔ پرینکا گاندھی واڈرا نے یاد دلایا کہ دو ہزار چوبیس کے نیٹ بحران کے بعد سابق چیئرمین اسرو کے رادھا کرشنن کی سربراہی میں جو کمیٹی بنی تھی، اُن کے بیان کے مطابق اُس کی ایک سفارش بھی نافذ نہیں ہوئی۔ اِس کے بعد اُنھوں نے نئی کمیٹی کی ترکیب پر اعتراض کیا اور کہا کہ اِس میں ایک سابق آئی بی سربراہ ہے، ایک آئی ٹی کمپنی کا مالک ہے اور ایک ‘گئو مُتر وشیش گیہ’ بھی ہے۔ نام نہیں لیا گیا، مگر اشارہ سب نے سمجھ لیا۔ حکمراں جماعت کی جانب سے شدید احتجاج ہوا اور انوراگ ٹھاکر نے اِس جملے پر اعتراض درج کرایا۔

اشارہ اُس تقریر کی طرف تھا جو پندرہ جنوری دو ہزار پچیس کو ماٹو پونگل کے موقع پر چنئی کی ایک گوشالا میں ہوئی۔ اُس تقریر میں پروفیسر کاماکوٹی نے دیسی نسل کے مویشیوں اور نامیاتی کاشت کاری کی اہمیت بیان کی اور اِس ضمن میں کہا کہ گئو مُتر میں جراثیم کش اور فنگس کش خواص ہیں اور یہ ہاضمے کی خرابیوں، بلکہ آنتوں کے ایک خاص عارضے میں بھی مفید ہے۔ اُنھوں نے ایک سنیاسی کا واقعہ سنایا، جس کا تیز بخار گئو مُتر پینے کے پندرہ منٹ بعد اُتر گیا؛ نام اُنھیں یاد نہیں تھا۔ ویڈیو وائرل ہوا، اعتراض ہوئے، اور اگلے ہی روز اُنھوں نے صحافیوں سے کہا کہ یہ بات سائنسی طور پر ثابت شدہ ہے اور امریکہ کے جرائد میں اِس کی شہادتیں موجود ہیں۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے دو ہزار اکیس کا وہ مقالہ پیش کیا جو نیچر گروپ کے ایک جریدے میں قومی ڈیری تحقیقاتی ادارے کے محققین نے شائع کیا تھا اور جس میں گئو مُتر کے پیپٹائیڈز کی نشان دہی کی گئی تھی۔

یہاں ایک اعتراف ضروری ہے، اور یہ اعتراف اِس بحث کی پہلی شرط ہے۔ پروفیسر کاماکوٹی کمپیوٹر آرکیٹیکچر اور سائبر سیکیورٹی کے سنجیدہ محقق ہیں، ملک کے دیسی مائیکرو پروسیسر منصوبے سے وابستہ رہے ہیں، دو ہزار ایک سے آئی آئی ٹی مدراس میں تدریس کر رہے ہیں اور دو ہزار بائیس سے اُس کے ڈائریکٹر ہیں۔ اُن کی علمی محنت حقیقی ہے۔ زیرِ بحث اُن کی صلاحیت نہیں، ایک اصول ہے۔

ہم اِس واقعے کو کسی ایک فرد کی لغزش سمجھ کر آگے بڑھ سکتے ہیں، مگر یہ سہولت خود ایک فرار ہے۔ سچ یہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام دو نسلوں سے ایک ہی چیز سکھا رہا ہے: درست جواب۔ سوال، شک، غلطی، اور اُس طویل راستے کی ساری مشقت جس سے جواب پیدا ہوتا ہے — یہ سب نصاب کے حاشیے پر پڑا رہتا ہے، کیونکہ اِن کے لیے کوئی خانہ نہیں، کوئی نمبر نہیں، کوئی رینک نہیں۔

برسوں کے تدریسی مشاہدات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے اسکولوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ بچہ وہ ہے جو پوچھتا ہے: ‘ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا؟’ وہ نصاب کی رفتار توڑتا ہے، استاد کا وقت لیتا ہے، اور اکثر ایک ایسا جواب مانگتا ہے جو استاد کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ ہم اُسے خاموش کرا دیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اُس ایک لمحے میں ہم نے صرف ایک سوال نہیں دبایا، ایک رویّہ دبا دیا۔

چنانچہ ہم ایسے ذہن پیدا کرتے ہیں جو معلومات میں بے پناہ اور طریقے میں بالکل خالی ہوتے ہیں۔ اِنھیں سائنس کے نتائج ازبر ہیں، سائنس کا مزاج اجنبی ہے۔ اِن میں سے بہت سے آگے چل کر لائقِ تحسین ماہر بنتے ہیں، مگر اُس ہنر کے پیچھے جو معیارِ ثبوت ہے، اُسے وہ کبھی اپنی ذات پر لاگو کرنا نہیں سیکھتے۔ پھر اِن میں سے کوئی ایک کسی ادارے کے سب سے اونچے منصب پر پہنچتا ہے۔ اُس کی عادتیں وہی رہتی ہیں؛ صرف مائیکروفون بڑا ہو جاتا ہے۔

یعنی توہمِ علم ہماری تعلیم کا مخالف نہیں، اُس کی پیداوار ہے۔ جو نظام نتیجے کو مقدس اور طریقے کو غیر ضروری قرار دے، وہ ایک دن لازماً ایسے لوگ پیدا کرے گا جو نتیجہ پہلے بتاتے ہیں اور دلیل بعد میں ڈھونڈتے ہیں۔ اور یہی وہ نظام ہے جو پرچہ لیک بھی پیدا کرتا ہے۔ پرچہ چُرانا نتیجہ پرستی کی انتہا ہے: صرف حاصل چاہیے، راستہ نہیں چاہیے۔

تحقیق اور حقیقت کے درمیان فرق

اب اُس نکتے کی طرف آئیے جو اِس سارے شور میں سب سے کم زیرِ بحث آیا۔ یہ کہنا کہ کسی روایتی شے میں تحقیق کی گنجائش ہے، بالکل جائز ہے۔ یہ کہنا کہ وہ ثابت ہو چکی ہے، ایک بالکل مختلف دعویٰ ہے۔ ہمارے پورے علمی بحران کی رہائش اِنھی دو فقروں کے درمیان کی خلیج میں ہے۔

جس مقالے کا حوالہ دیا گیا، وہ گئو مُتر میں پیپٹائیڈز کی موجودگی کی نشان دہی کرتا ہے۔ کسی مادّے میں کسی مرکب کی موجودگی اُس کی ترکیب کا بیان ہے، اُس کی شفائی افادیت کا اعلان نہیں۔ دوا کا درجہ پانے کے لیے موجودگی کافی نہیں ہوتی؛ مقدار درکار ہوتی ہے، کنٹرول گروپ درکار ہوتا ہے، مریضوں پر آزمائش درکار ہوتی ہے، مضر اثرات کا حساب درکار ہوتا ہے، اور سب سے مشکل شرط یہ ہے کہ کوئی دوسرا محقق اُسی تجربے کو دہرا کر وہی نتیجہ نکال سکے۔ کیمیائی تجزیہ ابتدا ہے؛ دوا اُس سفر کا آخری پڑاؤ ہے۔

‘جراثیم کش’ کا لفظ بھی اِسی قسم کا دھوکا دیتا ہے۔ شیشے کی پلیٹ میں جراثیم مار دینے والی بے شمار چیزیں موجود ہیں؛ گھر کا بلیچ بھی جراثیم کش ہے، تیزاب بھی۔ اِس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ اُنھیں پیا جائے۔ دوا کی شرط یہ ہے کہ فائدہ نقصان سے واضح طور پر بڑا ہو، اور یہ فرق پلیٹ پر نہیں، جسم پر ثابت ہوتا ہے۔

اور اُس سنیاسی کا واقعہ؟ بخار اپنی مدت پوری کر کے خود بھی اُترتا ہے۔ انسان کا حافظہ اُس چیز کو علاج سمجھ لیتا ہے جو آرام سے ذرا پہلے استعمال ہوئی ہو۔ طب نے یہ سبق صدیوں کی ٹھوکروں کے بعد سیکھا اور اِسی لیے کنٹرول گروپ ایجاد کیا — نہ دشمن سے بچنے کے لیے، بلکہ اپنے حافظے کے فریب سے بچنے کے لیے۔ ایک واقعہ کہانی ہے، شہادت نہیں؛ اور جس واقعے میں مریض کا نام بھی یاد نہ ہو، وہ گفتگو کا آغاز ہو سکتا ہے، فیصلے کی بنیاد نہیں۔

سائنس کا اصل کارنامہ یہ نہیں کہ اُس نے ہمیں بہت کچھ بتایا؛ اصل کارنامہ یہ ہے کہ اُس نے ہمیں اپنے ہی تجربے پر شک کرنا سکھایا۔

یہاں انصاف کا تقاضا ہے کہ ترازو کا دوسرا پلڑا بھی دیکھا جائے۔ ‘گئو مُتر وشیش گیہ’ ایک زوردار فقرہ ہے، مگر فقرہ دلیل نہیں ہوتا۔ یہ بھی وہی چیز ہے جس کی ہم شکایت کر رہے ہیں: فیصلہ پہلے، استدلال غائب۔ طنز میں یہ سہولت ہے کہ وہ محنت بچا لیتا ہے؛ اور جو محنت بچاتا ہے، وہ اپنے مؤقف کی جڑ بھی کاٹ لیتا ہے۔

اِس کا نقصان دوہرا ہوا۔ پہلا نقصان یہ کہ ایک ٹھوس اعتراض — کمیٹی کی ترکیب اور پچھلی سفارشات کی بے عملی — تمسخر کے شور میں دب گیا۔ دوسرا نقصان اِس سے بڑا ہے۔ جس دعوے کے ساتھ کسی طبقے کا مذہبی جذبہ جڑا ہو، اُس پر ہنسنے سے بحث کا موضوع بدل جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں رہتا کہ ثبوت کہاں ہے؛ سوال یہ بن جاتا ہے کہ عزت کس کی محفوظ ہے۔ اور جہاں سوال شناخت کا بن جائے، وہاں شہادت ہمیشہ ہار جاتی ہے۔

یہ اُس روش کی سب سے مہنگی غلطی ہے۔ جو شخص سائنسی مزاج کا وکیل ہو، اُس پر لازم ہے کہ وہ اپنی زبان کو بھی اُسی نظم کے تابع رکھے جس کی وہ دوسروں سے توقع کرتا ہے۔ ورنہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دلیل مانگنے والا خود بے دلیل ٹھہرتا ہے اور مخالف کو وہ ڈھال مل جاتی ہے جو اُسے دلیل سے کبھی نہ ملتی۔

کہنے کا سلیقہ کہنے کے حق سے کم اہم نہیں۔ ایک ہی بات یوں بھی کہی جا سکتی تھی: جس ادارے کا سربراہ عوامی جلسے میں ایک طبی دعویٰ ‘ثابت شدہ’ کہہ کر پیش کرے، اُس سے ہمیں یہ پوچھنے کا حق ہے کہ کون سا تجربہ، کس آبادی پر، کس معیار کے تحت؟ یہ سوال بے ادب نہیں ہے، علمی ہے؛ اور اِس کا جواب دینا کسی سائنس داں کی توہین نہیں، اُس کے پیشے کا تقاضا ہے۔

سائنس مضمون نہیں، مزاج ہے

ہمارے دستور کے بنیادی فرائض میں یہ درج ہے کہ ہر شہری سائنسی مزاج، انسانیت اور تحقیق و اصلاح کی روح پروان چڑھائے۔ یہ فقرہ اتفاق سے نہیں آیا۔ آزادی کی نسل نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ایک نو آزاد قوم کو صرف کارخانے اور ڈگریاں درکار نہیں، ایک مزاج بھی درکار ہے۔ جواہر لعل نہرو نے ‘ڈسکوری آف انڈیا’ میں اِسی مزاج کی وضاحت کی تھی اور اُن کا اصرار یہ تھا کہ یہ کسی لیبارٹری کی جائیداد نہیں، عام آدمی کے سوچنے کا ڈھنگ ہے۔

مگر ہم نے اِس دستوری تمنا کا ترجمہ نصاب میں غلط کیا۔ ہم نے سمجھا کہ سائنسی مزاج پیدا کرنے کا مطلب سائنس کے مضامین پڑھانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس ایک مضمون کی حیثیت سے پڑھائی جا سکتی ہے اور مزاج پھر بھی پیدا نہ ہو۔ مضمون معلومات دیتا ہے؛ مزاج ایک عادت دیتا ہے — یہ عادت کہ کسی بھی دعوے کے سامنے، خواہ وہ اپنا ہی ہو، ٹھہر کر پوچھا جائے: اِس کے غلط ہونے کا امکان کہاں ہے اور اُسے جانچنے کا طریقہ کیا ہے؟

علمِ منطق میں یہی وہ اصول ہے جسے قابلِ تکذیب ہونے کی شرط کہا جاتا ہے: جو دعویٰ ہر حال میں سچ ثابت ہو، وہ در حقیقت کوئی خبر ہی نہیں دیتا۔ ہمارے اسکولوں میں یہ اصول پڑھایا نہیں جاتا، اور یہ محض نصابی کوتاہی نہیں، ایک تہذیبی خلا ہے۔

اِس خلا کا سب سے دردناک منظر ہماری لیبارٹریوں میں دکھائی دیتا ہے۔ بچہ تجربے سے پہلے ‘مشاہدہ’ لکھ لیتا ہے، کیونکہ جواب کتاب کے آخر میں موجود ہے۔ آلہ اُٹھانے سے پہلے ریڈنگ رجسٹر میں درج ہو جاتی ہے۔ ہم اِسے نظم و ضبط سمجھتے ہیں۔ در اصل یہ فریب کی مشق ہے، اور اِس کا سبق بہت صاف ہے: نتیجہ اہم ہے، عمل غیر ضروری۔ جو بچہ گیارہویں جماعت کی لیبارٹری میں یہ سیکھ لے، وہ اٹھارہویں برس میں لیک ہوا پرچہ خریدنے پر اصولی اعتراض کہاں سے لائے گا؟

نفسیات میں ایک مشہور مظہر ہے جس کا ترجمہ یوں کیا جا سکتا ہے: ذہن کے خانوں کی علیحدگی۔ ایک ہی شخص ایک شعبے میں کڑی جانچ کا خوگر ہوتا ہے اور دوسرے شعبے میں بے تکلف زود اعتماد۔ یہ منافقت نہیں ہوتی، یہ انسانی دماغ کی ایک عام سہولت ہے۔ دو کمروں کے درمیان دروازہ نہیں کھلتا، اور مکین کو یہ اطلاع ہی نہیں ہوتی کہ اُس کے گھر میں دو الگ قانون نافذ ہیں۔

اِس کے ساتھ ایک دوسرا مظہر بھی کام کرتا ہے: ہم اُس شہادت کو زیادہ وزن دیتے ہیں جو ہماری محبوب رائے کی تائید کرے، اور اُس کے سامنے سخت ہو جاتے ہیں جو اُسے توڑے۔ اِس کمزوری سے کوئی ذہن مستثنیٰ نہیں — نہ عالم، نہ سائنس داں، نہ راقمِ سطور۔ اِسی لیے سائنس نے فرد پر بھروسا کرنے کے بجائے ادارے بنائے: باہمی جانچ، اعادۂ تجربہ، اندھی آزمائش۔ یہ سب اہتمام ذہانت پر اعتماد نہیں، ذہانت کی خامی کا اعتراف ہیں۔ باہمی علمی جانچ انسان کی ذہانت پر اعتماد کا نام نہیں، اُس کی کمزوری کے اعتراف کا نام ہے۔

اب اِس کا دوسرا رخ دیکھیے، جو ایک معلم کے لیے زیادہ اہم ہے: طالب علم کی نفسیات۔ بچہ دعوے کی جانچ نہیں کرتا، دعویٰ کرنے والے کا چہرہ دیکھتا ہے۔ اُس کے پاس نہ وسائل ہیں، نہ وقت، نہ تربیت؛ چنانچہ وہ اعتبار کا فیصلہ منصب سے کرتا ہے۔ یہ اُس کی کوتاہی نہیں، اُس کی عمر کا تقاضا ہے۔ مگر اِس کا ایک لازمی نتیجہ ہے: جس کے منصب سے اعتبار قائم ہوتا ہے، اُس پر ثبوت کا بوجھ عام آدمی سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

اِسی نکتے پر مجھے بار بار وہ منظر یاد آتا ہے جو ہر استاد نے دیکھا ہے۔ ایک بچہ سوال کرنے کے لیے آدھا ہاتھ اُٹھاتا ہے اور پھر واپس کر لیتا ہے۔ اُس آدھے اُٹھے ہاتھ کا فیصلہ اکثر یہ نہیں ہوتا کہ اُسے جواب ملے گا یا نہیں؛ فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ سوال کرنا اِس کمرے میں محفوظ ہے یا نہیں۔ قوموں کے سائنسی مزاج کا حساب اِسی ایک ہاتھ سے شروع ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ بے دلیل دعوے کا بازار اِتنا گرم کیوں ہے؟

اِس کا جواب سماجیات میں ہے، اور اِس جواب کا ایک حصہ ہماری ہمدردی کا مستحق ہے۔ استعمار نے صرف وسائل نہیں لُوٹے، اُس نے علم کی خود اعتمادی بھی چھینی۔ اُس نے پوری روایتوں کو جہالت قرار دیا اور ہمیں یہ باور کرایا کہ سوچنے کا معیار کہیں اور طے ہوتا ہے۔ اِس تحقیر کا ردِ عمل فطری تھا اور بعض حصوں میں بجا بھی: ہماری طب، ہماری زراعت، ہماری دھات کاری، ہمارا حساب اور ہماری فلکیات — اِن سب میں حقیقی کارنامے موجود ہیں۔

لیکن زخم خوردہ فخر ایک بُرا محقق ہوتا ہے۔ اُسے تحقیق نہیں، فوری فیصلہ چاہیے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ آئیے اِسے جانچیں؛ وہ یہ کہتا ہے کہ اِسے ثابت شدہ مان لیجیے۔ اِس طرح ایک سچی شکایت ایک جھوٹے علاج تک پہنچ جاتی ہے۔ استعمار نے ہماری روایت کو بغیر جانچے مسترد کیا تھا؛ ہم نے اُس کا بدلہ اپنی روایت کو بغیر جانچے قبول کر کے لیا۔ دونوں صورتوں میں جو چیز مری، وہ ایک ہی تھی: جانچ۔

اور یہ کسی ایک گروہ کا مرض نہیں۔ یہ سطریں لکھتے ہوئے میں کسی دوسرے محلے کی طرف اشارہ نہیں کر رہا، اپنے محلے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ ہمارے بازاروں میں ‘یقینی شفا’ کے اشتہار کس نے لگائے ہیں؟ امتحان میں کامیابی کے تعویذ کون بیچتا ہے اور کون خریدتا ہے؟ بانجھ پن کے ‘روحانی’ علاج، بیٹے کی ضمانت دینے والے نسخے، بغیر پرہیز وزن گھٹانے کے دعوے — یہ سب کس کے ہاں فروخت ہوتے ہیں؟ جو شخص دوسرے کے بے دلیل دعوے پر ہنسے اور اپنا بے دلیل دعویٰ جیب میں رکھے، وہ سائنس کا وکیل نہیں، اپنے گروہ کا وکیل ہے۔

یہاں ایک فرق کو صاف رکھنا لازم ہے، کیونکہ اِسی فرق کے مٹنے سے فسادات جنم لیتے ہیں۔ عقیدہ اپنی جگہ محترم ہے اور وہ کسی تجربے کا محتاج نہیں، کیونکہ وہ کوئی طبی دعویٰ نہیں کرتا۔ مسئلہ عقیدے سے نہیں، اُس لباس سے پیدا ہوتا ہے جو کبھی کبھی عقیدے کو پہنایا جاتا ہے۔ جب کوئی بات ایمان کے کمرے سے نکل کر لیبارٹری کا کوٹ پہن لیتی ہے، تو وہ لیبارٹری کے قاعدوں کی پابند ہو جاتی ہے۔ اُس وقت ‘میرا عقیدہ ہے’ کہنا کافی نہیں رہتا؛ اُس وقت اعداد، مریض اور اعادۂ تجربہ مانگا جاتا ہے۔

تصدیق کی روایت: ماضی کی گواہی

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ جانچ کا اصرار کوئی مغربی درآمد ہے، اُنھیں اپنی ہی میراث دوبارہ پڑھنی چاہیے۔ ابن الہیثم نے بصارت کے اُس نظریے کو، جو صدیوں سے مسلّم تھا، محض دلیل سے نہیں، منظم تجربے سے رد کیا اور یہ اصول قائم کیا کہ مفروضے کو مشاہدے کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا۔ ابو ریحان البیرونی نے دوسروں کی روایتوں کو نقل کرنے کے ساتھ اُن پر جرح بھی کی، پیمائش کی، موازنہ کیا۔ ابو بکر الرازی نے مریضوں کے احوال لکھے، مختلف تدبیروں کے نتائج کا تقابل کیا اور جو بات پوری نہ اُتری، اُسے پورا نہ کہا۔ یہ سب کسی جدید اصطلاح سے واقف نہ تھے؛ یہ سب طریقے کے آدمی تھے۔

اور طریقے کے آدمی روایت کے دشمن نہیں ہوتے۔ طب کی تاریخ اِس کی گواہ ہے۔ سنکونا کی چھال جنگل کے باشندوں کے پاس صدیوں سے تھی؛ اُس سے کوئنین اُس وقت برآمد ہوا جب کسی نے اُسے جانچا۔ بید کی چھال دیہی نسخوں میں مدت سے موجود تھی؛ اُس کے مؤثر جز سے اسپرین اُس وقت بنی جب کیمیا نے اُسے الگ کیا۔ فاکس گلوو نامی جنگلی پھول ایک دیہاتی ٹوٹکے کا حصہ تھا؛ اٹھارھویں صدی کے اواخر میں ولیم وِدرنگ نے اُسے مریضوں پر برتا، مقدار متعین کی، اور دل کے علاج کو ایک نئی دوا ملی۔ چوتھی صدی کی ایک چینی طبی کتاب میں لکھی ہوئی ایک جڑی بوٹی صدیوں گمنام رہی؛ بیسویں صدی کے آخر میں تُو یو یو نے اُس پر برسوں محنت کی، مؤثر جز الگ کیا، اور ملیریا کے خلاف آرٹیمیسینن دنیا کو ملی، جس پر اُنھیں طب کا نوبیل انعام دیا گیا۔

اِن سب واقعات کی ساخت ایک ہے۔ روایت نے سراغ دیا؛ روایت نے سند نہیں دی۔ سند اُس وقت ملی جب کسی نے وہ کام کیا جس میں شہرت نہیں ہوتی: مؤثر جز الگ کرنا، مقدار طے کرنا، آزمائش کرنا، نتائج شائع کرنا اور دنیا کو دعوت دینا کہ آؤ، مجھے غلط ثابت کرو۔ چنانچہ جو شخص واقعی اپنی روایت سے محبت رکھتا ہے، وہ اُس کے لیے رعایت نہیں مانگتا؛ وہ اُس کے لیے تجربہ گاہ مانگتا ہے۔

اور جہاں یہ اصول اپنائی گئی، وہاں نتیجہ کبھی رائیگاں نہیں گیا۔ بیسویں صدی کے آخر تک طب کا اتفاق تھا کہ معدے کے زخم کا سبب ذہنی دباؤ اور غذا ہے۔ آسٹریلیا کے دو محققین، بیری مارشل اور رابن وارن نے کہا: نہیں، سبب ایک جراثیم ہے۔ اُن کی بات کوئی نہ مانتا تھا۔ مارشل نے اُس جراثیم کا کلچر خود پی لیا اور بیمار پڑ گیا — یہاں تک وہ بھی ایک واقعہ تھا۔ مگر اُس کے بعد جو ہوا، وہی اصل بات ہے: اُنھوں نے اپنے معدے کی جانچ کرائی، شہادت جمع کی، مقالہ لکھا، دنیا کے سامنے رکھا، اور اِس سب کے بعد اُنھیں نوبیل انعام ملا۔ ایک آدمی نے کچھ پیا اور کہانی بن گئی؛ دوسرے نے کچھ پیا اور اُسے شہادت میں بدل دیا۔ یہی وہ ایک قدم ہے جس پر ساری بحث کا انحصار ہے۔

ایک ٹاسک فورس اور کروڑوں امیدوار

اب اِس بحث کو اُس کمیٹی کی طرف لوٹائیے جہاں سے یہ شروع ہوئی، اور انصاف کے ساتھ۔ اِس ٹاسک فورس کی ترکیب بے وجہ نہیں ہے۔ پرچے کی حفاظت بہت حد تک ایک انتظامی و سلامتی کا مسئلہ ہے، لہٰذا انٹیلی جنس کے تجربے کی موجودگی مہمل نہیں۔ بڑے پیمانے کے ڈجیٹل نظام بنانے والا شخص شناخت کی تصدیق اور لاجسٹکس کے سوالوں میں بہت کچھ دے سکتا ہے۔ ایک بڑے تحقیقی ادارے کو چلانے والا اور ایک سابق سیکریٹری تعلیم بھی اِس میں شامل ہیں۔ یہ کہنا کہ اِس کمیٹی میں کوئی اہل نہیں، مبالغہ ہو گا۔

مگر اصل سوال اہلیت کا نہیں، تناسب کا ہے۔ امتحان محض ایک منتقلی کا نظام نہیں، ایک پیمائشی آلہ ہے؛ اور پیمائش کا علم ایک الگ فن ہے۔ اِس کمیٹی میں وہ کون ہے جو سوال کی دشواری کا اعداد و شمار سے تعین کرنا جانتا ہو؟ وہ کون ہے جو مختلف شفٹوں کے پرچوں کو ایک پیمانے پر لانے کے طریقے پر اختیار رکھتا ہو؟ نوجوانی کی نفسیات کا ماہر کہاں ہے؟ اور وہ استاد کہاں ہے جس نے کبھی کسی قصباتی اسکول کا پرچہ خود بنایا اور خود جانچا ہو؟ سب سے اہم: اُس امیدوار کی نمائندگی کہاں ہے جس کے گھر میں پہلی بار کوئی امتحان کی تیاری کر رہا ہے؟

ٹیکنالوجی پرچے کو تالے میں رکھ سکتی ہے؛ وہ سوال کے معیار کو درست نہیں کر سکتی۔ اگر ایک پرچہ در حقیقت یہ ناپ رہا ہے کہ امیدوار نے کس درجے کی کوچنگ خریدی ہے، تو اُس پرچے کو لیک سے بچا لینا انصاف نہیں، انصاف کی نقل ہے۔ اور اِس سے بھی گہری بات یہ ہے کہ لیک اُس نظام میں ہوتا ہے جس میں ایک صبح پوری زندگی کا فیصلہ کرتی ہے۔ جہاں داؤ اِس قدر بڑا ہو، وہاں ہر تالے کی چابی بازار میں بن جاتی ہے۔ حفاظت بڑھایئے، ضرور بڑھایئے؛ مگر جب تک ایک ہی تین گھنٹے پر پورا مستقبل ٹنگا رہے گا، لالچ کو خریدار ملتے رہیں گے۔

رہا پچھلی کمیٹی کی سفارشات کا معاملہ، تو اِس پر دعویٰ اور جوابی دعویٰ دونوں موجود ہیں اور اِس کا فیصلہ نعرے سے نہیں ہو سکتا۔ اِس کا ایک ہی علاج ہے، اور وہ بہت سادہ ہے: حکومت ایک صفحے پر شائع کر دے کہ رادھا کرشنن کمیٹی کی کون سی سفارش کب نافذ ہوئی، کون سی زیرِ عمل ہے اور کون سی رد کی گئی اور کیوں۔ جس دن یہ صفحہ سامنے آ جائے گا، بحث کا معیار خود بلند ہو جائے گا۔ کمیٹی بنانا کوئی پالیسی نہیں ہوتی؛ کمیٹی بنانا ایک وعدہ ہوتا ہے، اور وعدے کا حساب دستاویز سے ہوتا ہے۔

کیا کیا جا سکتا ہے ؟

تشخیص کے بعد نسخہ لازم ہے، ورنہ تحریر ماتم بن جاتی ہے۔

ریاست اور اداروں کی سطح پر پہلا کام شفافیت ہے: کمیٹیوں کی رپورٹیں، اُن کے اختلافی نوٹ اور اُن پر عمل درآمد کی صورتِ حال عوامی دستاویز ہونی چاہیے۔

دوسرا کام ترکیب کی توسیع ہے: پیمائش کے ماہرین، تعلیمی جانچ کے محققین، اسکول کے تجربہ کار اساتذہ، نوعمری کی نفسیات کا ایک ماہر اور امیدواروں کی نمائندگی — اِن کے بغیر امتحانی اصلاح ادھوری رہے گی۔

تیسرا کام داؤ کم کرنا ہے: سال میں ایک سے زیادہ مواقع، اور مختلف مواقع کے نمبروں کو ایک پیمانے پر لانے کا شفاف طریقہ۔ جس امتحان کا موقع دوبارہ ملتا ہے، اُس کا پرچہ چُرانے کی قیمت خود گھٹ جاتی ہے۔

چوتھا کام ایک ادارتی ضابطہ ہے، اور یہ سب سے نازک ہے۔ جب ادارے کا سربراہ منصب کی حیثیت سے بولے، تو ذاتی عقیدے اور ادارتی دعوے کے درمیان لکیر واضح رہنی چاہیے؛ اور اگر کوئی سائنسی دعویٰ کیا جائے تو اُس کے ساتھ حوالہ آنا چاہیے۔ اِس سے بھی زیادہ اہم یہ کہ تصحیح کو عار نہ سمجھا جائے۔ اگر کوئی سربراہ کہے کہ ‘میں نے جو کہا، اُس کی شہادت اِس درجے کی نہیں تھی جس درجے کا میں نے دعویٰ کیا’، تو اُس کا قد گھٹے گا نہیں، بڑھے گا؛ اور طلبہ ایک ہی جملے سے وہ سبق سیکھ لیں گے جو دس تقریروں سے نہیں ملتا۔

پانچواں کام یہ ہے کہ اگر روایتی نسخوں میں واقعی جوہر ہے تو اُن پر معیاری تحقیق کے لیے وسائل دیے جائیں۔ ایک ڈھنگ کی آزمائش سو تقریروں سے زیادہ روایت کی خدمت کرتی ہے۔

لیکن سب سے فیصلہ کن میدان کمیٹی نہیں، کلاس روم ہے، اور یہاں کوئی اجازت نامہ درکار نہیں۔ ہفتے میں ایک گھنٹہ ‘دعویٰ اور دلیل’ کے نام سے رکھیے۔ اُس گھنٹے میں کوئی نصاب نہیں ہو گا؛ صرف وہ پیغام ہو گا جو اُس ہفتے بچوں کے فون پر گھوما — کوئی ٹوٹکا، کوئی وائرل دعویٰ، کوئی خبر۔ اور صرف تین سوال: یہ بات کہاں سے آئی؟ اِسے سچ ماننے کے لیے کیا شہادت درکار ہو گی؟ اور وہ شہادت کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟ میں یہ تجربہ کر کے کہہ رہا ہوں: بچے اِس گھنٹے میں اُس سے زیادہ سیکھتے ہیں جو ہم اُنھیں پورے باب میں سکھاتے ہیں۔

دوسرا عملی قدم لیبارٹری کی اصلاح ہے۔ ریڈنگ پہلے سے لکھی ہوئی نہ ہو۔ جو تجربہ ناکام ہو، اُس کی دیانت دار رپورٹ پر نمبر دیجیے۔ ہر جماعت میں حاضری کے رجسٹر کے ساتھ ایک ‘غلطی کا رجسٹر’ رکھیے، جس میں استاد اور شاگرد دونوں اپنی وہ رائے درج کریں جو بعد میں غلط ثابت ہوئی۔ سال کے آخر میں یہ رجسٹر پڑھ کر سنایا جائے۔ جس کمرے میں غلطی کا اعلان معمول بن جائے، اُس کمرے سے نکلنے والا بچہ زندگی بھر کسی بے دلیل دعوے کے سامنے بے بس نہیں ہوتا۔

تیسرا قدم نصاب سے متعلق ہے۔ ہم بچوں کو سائنس کی فتحیں پڑھاتے ہیں؛ ہمیں اُس کی شکستیں بھی پڑھانی چاہییں۔ اُنھیں بتائیے کہ کیمیا کے ماہر ایک زمانے تک ایک فرضی مادّے کو آگ کا سبب سمجھتے رہے؛ کہ ڈاکٹر مدت تک وباؤں کا سبب ہوا کی بدبو بتاتے رہے؛ کہ معدے کے زخم کا سبب برسوں غلط سمجھا گیا۔ اور پھر اُنھیں یہ بتائیے کہ سائنس کی عظمت اِن غلطیوں کے باوجود نہیں، اِن غلطیوں کو خود پکڑنے کی صلاحیت کی وجہ سے ہے۔ اور آخری بات، جو سب سے سادہ اور سب سے مشکل ہے: ہر استاد کو یہ جملہ سیکھنا اور روزانہ بولنا چاہیے — ‘مجھے نہیں معلوم، آئیے پتہ کریں۔’ اِس ایک جملے میں پورا سائنسی مزاج بند ہے۔

شک کی تربیت

قومیں اپنا سائنسی مزاج کسی اعلان سے نہیں کھوتیں۔ وہ اُسے کسی سرکاری فرمان سے، کسی ایک تقریر سے، کسی ایک کمیٹی سے نہیں کھوتیں۔ وہ اُسے ایک کلاس روم میں، بہت خاموشی سے، اُس دن کھوتی ہیں جس دن ایک بچے کو یہ سمجھ آ جاتی ہے کہ درست جواب کا انعام ایمان دار سوال سے بڑا ہے۔ وہ بچہ اُس دن سے حساب لگانا سیکھ لیتا ہے۔ اور بیس سال بعد وہی بچہ کسی کمیٹی میں بیٹھا ہوتا ہے، کسی ادارے کا سربراہ ہوتا ہے، کسی ایوان میں بولتا ہے۔

لیک ہوا پرچہ خبروں سے اُتر جائے گا۔ ایوان کا وہ جملہ بھی چند ہفتوں میں بھلا دیا جائے گا۔ ٹاسک فورس اپنی رپورٹ دے گی، اور اُس رپورٹ کا مقدر وہی ہو گا جو ہم اُس کے لیے چنیں گے۔ باقی صرف یہ رہے گا کہ اِس سارے شور کے دوران ہم نے اپنی نئی نسل کو کون سی عادت منتقل کی: نتیجے کی عادت یا طریقے کی عادت۔

ہم عام طور پر شک کو ایک نقص سمجھتے ہیں اور یقین کو ایک خوبی۔ تعلیم کے میدان میں یہ ترتیب اُلٹی ہے۔ شک وہ واحد سلیقہ ہے جو انسان کو خود اپنے فریب سے بچاتا ہے، اور یقین وہ آسان راستہ ہے جس پر ہر جھوٹ سب سے پہلے چلتا ہے۔ جو معاشرہ اپنے بچوں کو منظم شک کی تربیت دیتا ہے، وہ اُنھیں محض ایک ذہنی ہنر نہیں دیتا؛ وہ اُنھیں ایک ایسی حفاظت دیتا ہے جو نہ اشتہار توڑ سکتا ہے، نہ افواہ، نہ منصب کا رعب۔

قوموں کے پاس علم منتقل کرنے کے دو ہی راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے بچوں کو جوابات سونپیں۔ یہ راستہ آسان ہے، سستا ہے، امتحان کے موافق ہے، اور اِس کا انجام یہی ہے کہ ایک دن پرچہ بھی بازار میں بکتا ہے اور دعویٰ بھی۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو طریقہ سونپیں — جانچنے کا، دہرانے کا، غلط ثابت ہونے پر رائے بدلنے کا۔ یہ راستہ مشکل ہے، سست ہے، اور اِس میں استاد کو روز اپنی کم علمی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ مگر اِس پر چلنے والی قومیں اپنے بچوں کو ایک ایسی چیز دے جاتی ہیں جو کوئی چور نہیں لے جا سکتا۔

پرچہ چوری ہو سکتا ہے۔ طریقہ نہیں۔