جامع جنسی تعلیم پر مرکز کا اعلان، عدالتِ عظمیٰ کی فکرمندی اور ہمارے بچوں کی حفاظت کا سوال
ڈاکٹر اسد اللہ خان
ہر گھر میں ایک لمحہ آتا ہے جب کوئی بچہ ایسا سوال پوچھ بیٹھتا ہے جس پر پورا کمرہ سناٹے میں ڈوب جاتا ہے۔ ماں نظریں چرا لیتی ہے، باپ اخبار کی اوٹ لے لیتا ہے، اور بچے کو جھڑک کر یا بہلا کر چپ کرا دیا جاتا ہے۔ مگر وہ سوال مرتا نہیں؛ وہ گھر سے نکل کر گلی میں، اسکرین پر اور اجنبی ہاتھوں میں پناہ ڈھونڈتا ہے۔ مَیں نے یہ منظر اتنی بار دیکھا ہے کہ اب پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے اپنے بچوں کو جواب نہیں دیے، مگر انہیں سوالوں سے نجات بھی نہیں دلائی۔ ہم نے صرف یہ کیا کہ جواب دینے والوں کا انتخاب دوسروں کے سپرد کر دیا۔
پیر کے روز ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ایک ایسا جملہ کہا گیا جو برسوں کی جھجک پر خطِ تنسیخ کھینچتا ہے۔ مرکزی حکومت کی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ کو بتایا کہ حکومت ملک بھر کے اسکولوں اور کالجوں میں جامع جنسی تعلیم رائج کرنے پر آمادہ ہے اور اس نے ماہرین کی اُس کمیٹی کی سفارشات قبول کر لی ہیں جو خود عدالت کی ہدایت پر قائم کی گئی تھی۔ چھبیس ارکان پر مشتمل اس کمیٹی کی صدارت وزارتِ ترقیِ نسواں و اطفال کے ایڈیشنل سکریٹری نے کی، اور اس میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے ماہرین، ماہرینِ نفسیات، قومی کمیشن برائے تحفظِ حقوقِ اطفال اور قومی قانونی خدمات اتھارٹی کے نمائندے شامل تھے۔ عدالت کی معاونت پر مامور سینئر وکلا مادھوی دیوان اور لز میتھیو نے رپورٹ کو سراہتے ہوئے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ جامع جنسی تعلیم کے دائرۂ کار کی تفصیلی وضاحت ضروری ہے، جس پر عدالت نے غور کر کے مناسب احکامات جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ خبر بظاہر چند سطروں کی ہے، مگر اس کے پیچھے ہمارے معاشرے کی نصف صدی کی کشمکش سانس لے رہی ہے۔
یہ معاملہ عدالت تک پہنچا کیسے؟ اس کی جڑ ایک تلخ تضاد میں پیوست ہے۔ بچوں کو جنسی جرائم سے بچانے کے لیے بنایا گیا قانون، پاکسو، اکثر ایسے نوعمر لڑکے لڑکیوں پر بجلی بن کر گرتا رہا جو باہمی رضامندی سے کسی تعلق میں بندھے تھے۔ عدالتِ عظمیٰ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ پندرہ سے اٹھارہ برس کے نوعمروں کے رضامندانہ تعلقات اور کم عمر بچیوں کے حمل کے معاملات کو خود بخود سنگین جرم کیوں بنا دیا جائے۔ جسٹس ناگرتنا نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ نوعمری کا ہر معاملہ پولیس کی دہلیز تک پہنچنے کے لائق نہیں ہوتا۔ عدالت نے مرکز سے راستہ نکالنے کو کہا، اور راستہ ڈھونڈنے نکلی کمیٹی جس نتیجے پر پہنچی وہ سزا نہیں، تعلیم تھی۔ یہ نتیجہ بذاتِ خود ایک سبق ہے: جن مسائل کو ہم عدالتوں اور تھانوں کے حوالے کرتے ہیں، ان کا حل اکثر کمرۂ جماعت میں پڑا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں عام خیال یہ ہے کہ جس موضوع پر بات نہ کی جائے وہ بچے کی دنیا میں داخل ہی نہیں ہوتا۔ کاش یہ سچ ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ خاموشی کوئی خالی جگہ نہیں چھوڑتی؛ وہ جگہ فوراً بھر جاتی ہے — کبھی ہم جماعتوں کی سرگوشیوں سے، کبھی انٹرنیٹ کے اندھے کنویں سے، اور کبھی اُس بدنیت نگاہ سے جو ناواقف بچے کو سب سے آسان شکار سمجھتی ہے۔ جس بچے کو اپنے جسم کے بارے میں درست لفظ سکھائے ہی نہیں گئے، وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی بیان بھی نہیں کر سکتا۔ گویا ہماری خاموشی مجرم کی سب سے بڑی سہولت کار بن جاتی ہے۔ یہ کہنا کہ ہم نے بچے کو معصومیت میں رکھا، خود کو تسلی دینے کا ایک انداز ہے؛ درحقیقت ہم نے اسے بے خبری میں رکھا، اور بے خبری معصومیت نہیں ہوتی۔
نصاب میں آخر آئے گا کیا؟
“جنسی تعلیم” کی ترکیب سنتے ہی وہم میں جو تصویریں ابھرتی ہیں، کمیٹی کی سفارشات ان سے کوسوں دور ہیں۔ چھوٹی جماعتوں کے لیے تجویز صرف اتنی ہے: جسم کی صفائی، اپنے جسم سے واقفیت، ذاتی حفاظت، اور اچھے برے لمس کی تمیز۔ بڑی جماعتوں کے لیے بلوغت کی جسمانی اور جذباتی تبدیلیاں، تولیدی صحت، رضامندی کا شعور، صحت مند رشتے اور باہمی احترام — اور یہ سب قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ کے دائرے میں۔ کمیٹی کے بقول حفاظت، جسمانی اعضا اور صفائی کے بنیادی تصورات تعلیم کے بنیادی مرحلے (فاؤنڈیشنل اسٹیج) ہی سے شامل کیے جا سکتے ہیں، اور نوعمروں کی تعلیم کے موجودہ پروگراموں کا جائزہ لے کر انہیں اس طرح سنوارا جائے کہ قومی تعلیمی پالیسی کے مرکزی مقاصد — ہمہ جہت نشوونما، تنقیدی فکر اور زندگی کے ہنر — پورے ہوں۔ این سی ای آر ٹی سے نصاب کی تیاری کے لیے کہا گیا ہے؛ پرائمری سطح ہی سے ایک مختص، ماہر معلم کے ذریعے ہفتے میں کم از کم دو بار پندرہ بیس منٹ کی لازمی نشستوں کی سفارش کی گئی ہے؛ اور والدین، سرپرستوں اور اساتذہ کے لیے باقاعدہ آگہی اجلاس تجویز کیے گئے ہیں تاکہ گھر اور اسکول ایک زبان بولیں۔ اب ذرا غور کیجیے: اس فہرست میں کون سی بات ایسی ہے جو کوئی سمجھ دار ماں اپنی بیٹی کو، اور کوئی شفیق استاد اپنے شاگرد کو خود نہ سکھانا چاہے؟ مسئلہ مواد کا نہیں، اُس نام کا ہے جسے سن کر ہم چونک اٹھتے ہیں۔
بچے کا ذہن اور شرم کا بوجھ
نفسیات کا ابتدائی سبق یہ ہے کہ تجسس بچپن کی فطرت ہے، اور فطرت ڈانٹ سے نہیں، رہنمائی سے سنورتی ہے۔ جو بچہ اپنے جسم سے متعلق سوال پوچھنے پر جھڑکا جاتا ہے وہ صرف ایک بات سیکھتا ہے: یہ موضوع گناہ ہے اور اس پر بات چھپ کر ہوتی ہے۔ یہی چھپن آگے چل کر اس کی سب سے بڑی دشمن بنتی ہے۔ زیادتی کا شکار بچہ اکثر برسوں چپ رہتا ہے — اس لیے نہیں کہ وہ بولنا نہیں چاہتا، بلکہ اس لیے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ الزام اسی کے سر آئے گا۔ ماہرینِ نفسیات کا مشاہدہ ہے کہ جن بچوں کو ابتدا ہی سے جسم کی حرمت، لمس کی تمیز اور مدد مانگنے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے وہ خطرے کو پہچاننے اور آواز اٹھانے میں دوسروں سے کہیں آگے ہوتے ہیں۔ علم بچے کے کاندھوں سے شرم کا وہ بوجھ اتار دیتا ہے جو دراصل کبھی اس کا تھا ہی نہیں۔
سب سے بلند اعتراض یہی سنائی دے گا کہ یہ سب کچھ ہماری تہذیب کے خلاف ہے۔ مگر ٹھہر کر سوچیے: ہماری تہذیب حیا کی تعلیم دیتی ہے، جہالت کی نہیں، اور یہ دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔ حیا رویّے کا نام ہے، جہالت محرومی کا۔ ہماری اپنی علمی روایت اس معاملے میں ہم سے کہیں زیادہ بے باک رہی ہے: فقہ کی کتابیں طہارت، بلوغ اور ازدواجی زندگی کے مسائل صدیوں سے صاف مگر شائستہ زبان میں بیان کرتی آئی ہیں اور کسی نے انہیں کبھی بے حیائی نہیں کہا۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی خواتین کی تعریف اسی بات پر فرمائی کہ حیا انہیں دین کی سمجھ حاصل کرنے سے نہ روک سکی۔ جس روایت میں علم کے حصول کی راہ میں شرم کو حائل نہ ہونے دینا خوبی ٹھہرا ہو، وہاں بچوں کو ان کی اپنی حفاظت کا علم دینے سے انکار کو تہذیب کا نام دینا خود تہذیب کے ساتھ زیادتی ہے۔
یہ بحث ہمارے ملک میں نئی نہیں۔ کم و بیش دو عشرے قبل جب نوعمروں کی تعلیم کا پروگرام قومی ایڈز کنٹرول تنظیم کے تعاون سے اسکولوں میں لایا گیا تو کئی ریاستوں نے اسے تہذیب دشمن قرار دے کر روک دیا تھا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ مسائل تھمے نہیں، صرف زیرِ زمین چلے گئے، اور زیرِ زمین جانے والا مسئلہ ہمیشہ زیادہ بگڑ کر لوٹتا ہے۔ پھر ستمبر ۲۰۲۴ میں عدالتِ عظمیٰ نے بچوں سے متعلق قابلِ اعتراض مواد کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران دوٹوک کہا کہ بچوں کی حفاظت کا مؤثر ترین راستہ انہیں باخبر بنانا ہے، خاموش رکھنا نہیں، اور یہ کہ غلط فہمیاں بچوں کو ضروری علم اور زندگی کے ہنر سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں۔ انیس برس میں پہیہ پورا گھوم گیا: جو بات کل معتوب تھی، آج عدالت اور حکومت دونوں اس کی ضرورت پر متفق ہیں۔ تاریخ کا یہ سبق یاد رکھنے کے لائق ہے کہ سچائیوں کو ٹالا جا سکتا ہے، ہرایا نہیں جا سکتا۔
ہندوستان اس راہ پر تنہا قدم نہیں رکھ رہا۔ سویڈن نے ۱۹۵۵ میں دنیا میں سب سے پہلے اسکولوں میں جنسی تعلیم لازمی قرار دی۔ جرمنی میں ۱۹۶۸ کی وفاقی سفارش اور بعد کے عدالتی فیصلوں نے اسے قانونی تقاضا بنا دیا، اور وہاں کی عدالتیں بارہا اس اصول پر قائم رہی ہیں کہ بچے کا باخبر ہونا اس کے تحفظ کا حصہ ہے۔ فرانس نے ۲۰۰۱ کے قانون کے ذریعے ہر تعلیمی مرحلے پر سال میں کم از کم تین نشستیں لازمی کیں اور ستمبر ۲۰۲۵ سے وہاں عمر کے لحاظ سے مرتب ایک نیا قومی پروگرام نافذ ہوا ہے۔ امریکہ میں کوئی یکساں قومی نصاب نہیں؛ ریاستیں اپنے اپنے انداز سے یہ تعلیم دیتی ہیں۔ اور اقوامِ متحدہ کے تعلیمی و صحت اداروں نے دنیا بھر کے تجربات کھنگال کر جو مشترکہ نتیجہ نکالا ہے وہ ہمارے سب سے بڑے اندیشے کی جڑ کاٹ دیتا ہے: شواہد کے مطابق معیاری جامع تعلیم بچوں کو کسی راہ پر وقت سے پہلے نہیں ڈالتی، بلکہ باخبر بچے جلد بازی اور خطرہ مول لینے سے دوسروں کی نسبت زیادہ بچتے ہیں۔ گویا جس علم سے ہم بگاڑ کا خدشہ رکھتے ہیں، دنیا کا تجربہ اسی علم کو بچاؤ کی ڈھال بتاتا ہے۔
مگر انہی تجربات میں ہمارے لیے دو تنبیہیں بھی رکھی ہیں۔ پہلی تنبیہ فرانس سے ملتی ہے: قانون کی موجودگی کے باوجود برسوں تک وہاں یہ نشستیں عملاً بہت کم طلبہ تک پہنچ سکیں — ایک سرکاری جائزے کے مطابق پندرہ فیصد سے بھی کم — جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کاغذ کا قانون کمرۂ جماعت کی ضمانت نہیں ہوتا۔ دوسری تنبیہ یہ کہ مغربی ملکوں میں اس تعلیم کے مندرجات پر والدین اور ریاست کے درمیان کھنچاؤ آج بھی جاری ہے، اور جہاں والدین کو بے دخل کیا گیا وہاں اعتماد کے بجائے مقدمے پیدا ہوئے۔ سبق دونوں تنبیہوں سے ایک ہی نکلتا ہے: ہمیں کسی کا نصاب مستعار نہیں لینا۔ اصول دنیا سے لیے جا سکتے ہیں، مگر زبان، آہنگ اور حدود اپنی مٹی سے اٹھانے ہوں گے۔ ہندوستان کے پاس بعد میں چلنے والوں کی یہ سہولت موجود ہے کہ وہ سب کی ٹھوکریں دیکھ کر اپنا راستہ خود تراشے — علم دنیا کا، اسلوب اپنا۔
اس فیصلے کی عصری معنویت سمجھنے کے لیے صرف اتنا دیکھیے کہ آج کا بچہ اپنا سوال لے کر جاتا کس کے پاس ہے۔ جس عمر میں ہم اپنے بزرگوں سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر پاتے تھے، اُس عمر کا بچہ آج جیب میں ایک ایسی کھڑکی لیے پھرتا ہے جو ہر سوال کا جواب دیتی ہے — مگر بغیر شفقت، بغیر تمیز اور بغیر ذمہ داری کے۔ الگورتھم استاد نہیں ہوتا؛ اسے بچے کی عمر، نازک مزاجی اور بھلائی سے کوئی سروکار نہیں، اسے صرف اس کی توجہ درکار ہے۔ چنانچہ آج انتخاب یہ نہیں رہا کہ بچہ ان موضوعات سے واقف ہو یا نہ ہو؛ انتخاب صرف یہ ہے کہ اس کا پہلا معلم کون ہو۔ عدالتِ عظمیٰ کے روبرو حکومت کا اعلان دراصل اسی انتخاب کا اعتراف ہے۔انتخاب صرف یہ ہے کہ بچے کا پہلا معلم کون ہو — تربیت یافتہ استاد، یا وہ اسکرین جس کی نہ کوئی حیا ہے نہ کوئی نصاب
معلم، والدین اور نصاب ساز کے نام
اپنے تجربے کی بنیاد پر چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت لررہا ہوں۔
اول، اس نصاب کی کامیابی کتاب سے زیادہ معلم پر منحصر ہوگی؛ جھجکتا ہوا استاد اپنی جھجک ہی منتقل کرے گا، اس لیے اساتذہ کی تربیت کو نصاب سازی پر بھی مقدم رکھا جائے۔
دوم، والدین کو شریکِ سفر بنایا جائے، محض مطلع نہ کیا جائے؛ کمیٹی نے آگہی اجلاسوں کی جو سفارش کی ہے وہ اس پورے منصوبے کی روح ہے، کیونکہ گھر اور اسکول کے بیانیے ٹکرائیں گے تو بچہ دونوں پر سے اعتبار کھو بیٹھے گا۔
سوم، زبان پر غیر معمولی توجہ دی جائے: اردو سمیت ہر ہندوستانی زبان میں یہ مواد ایسے شائستہ اور علمی اسلوب میں ڈھالا جائے کہ موضوع کی سنجیدگی مجروح نہ ہو، کیونکہ ترجمے کی ذرا سی بے احتیاطی پورے اعتماد کو لے ڈوبے گی۔
چہارم، دینی اور سماجی قیادت کو مخالف نہیں، معاون بنایا جائے؛ جن بستیوں میں مَیں نے عمر گزاری ہے وہاں مسجد اور مکتب کی تائید کے بغیر کوئی اصلاح گھروں کی دہلیز پار نہیں کرتی۔
اور پنجم، اسے امتحانی مضمون بنا کر رٹنے رٹانے کی نذر نہ کیا جائے؛ یہ نمبروں کا نہیں، شعور کا باب ہے۔
کاغذ سے کمرۂ جماعت تک
پالیسی اور عمل کے درمیان جو خلیج ہمارے ملک میں پائی جاتی ہے، اس سے مَیں بھی اتنا ہی خبردار ہوں جتنا کوئی اور۔ کاغذ پر لکھا نصاب خود بخود کمرۂ جماعت کی زندہ گفتگو نہیں بن جاتا۔ خدشات حقیقی ہیں: کہیں یہ چند رسمی پیریڈوں کی خانہ پُری بن کر نہ رہ جائے؛ کہیں غیر تربیت یافتہ ہاتھوں میں پہنچ کر فائدے کے بجائے نقصان نہ کرنے لگے؛ کہیں سیاسی موسم بدلنے پر یہ باب پھر بند نہ کر دیا جائے۔ مگر ان خدشات کا جواب تعطل نہیں، نگرانی ہے۔ اگر یہ منصوبہ دیانت داری سے نافذ ہوا تو اس کے ثمرات نصاب سے بہت آگے جائیں گے: جو نسل رضامندی اور احترام کا سبق کمرۂ جماعت میں پڑھے گی، وہی کل کے گھروں، دفتروں اور راستوں کو محفوظ بنائے گی۔ درسی کتاب کا ایک باب دراصل آنے والے معاشرے کی تمہید ہوا کرتا ہے۔
مَیں اس اعلان کو کسی جشن کی خبر نہیں سمجھتا؛ یہ ایک قرض کے اعتراف کی خبر ہے — وہ قرض جو ہم نسل در نسل اپنے بچوں کے جواب طلب سوالوں کی صورت اپنے ذمے بڑھاتے رہے۔ عدالت نے راستہ کھولا ہے، حکومت نے آمادگی ظاہر کی ہے؛ اصل آزمائش اب گھر اور اسکول کی ہے۔ جس دن ہمارے بچے اپنے نازک ترین سوال کسی اجنبی اسکرین کے بجائے کسی شفیق استاد اور مطمئن والدین سے پوچھنے لگیں، اُس دن سمجھیے کہ یہ نصاب کامیاب ہوا۔ کیونکہ بچوں کی اصل حفاظت دیواروں سے نہیں، اعتماد سے ہوتی ہے — اور اعتماد اسی دستر خوان پر پروان چڑھتا ہے جہاں کوئی سوال شرمندہ نہیں کیا جاتا۔

