خوف کی درس گاہ سے فکر کی بازیافت تک
ڈاکٹر اسد اللہ خان
پہلا دن، پہلا سبق
گھر کے آنگن میں وہ بچہ چڑیوں کی طرح چہکتا تھا۔ ہر شے پر انگلی رکھتا، ہر بات پر “کیوں” کہتا، اور جواب ملنے پر ایک نیا “کیوں” تراش لاتا۔ پھر ایک صبح اس کے کندھے پر بستہ رکھا گیا اور وہ اس عمارت میں داخل ہوا جسے ہم درس گاہ کہتے ہیں۔ برسو ں سے میں اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں، اور ہر بار دل میں ایک ہی کانٹا چبھتا ہے: بیشتر اسکولوں میں بچے کو جو پہلا سبق ملتا ہے وہ حروفِ تہجی کا نہیں، خاموشی کا ہوتا ہے۔ “چپ بیٹھو”، “ہلو مت”، “سوال بعد میں”۔ علم کے دروازے پر پہلا پہرہ خوف کا بٹھا دیا جاتا ہے۔
یہ مضمون اسی چبھن کا حاصل ہے۔ یہ کسی ادارے یا فردِ واحد کی شکایت نہیں، بلکہ اس پورے مزاج کا محاسبہ ہے جس نے صدیوں سے سوال کو گستاخی اور خاموشی کو تہذیب سمجھ رکھا ہے۔جس درس گاہ کا پہلا سبق خاموشی ہو، اس کا آخری حاصل بھی خاموشی ہی ہوتا ہے۔
کوئی رویّہ اچانک جنم نہیں لیتا۔ ہمارے مدارس و مکاتب کی موجودہ ساخت بڑی حد تک اس نوآبادیاتی نظام کی دین ہے جسے حاکموں نے اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالا تھا۔ انہیں مفکر نہیں، منشی درکار تھے؛ ایسے کارندے جو حکم بجا لائیں، سطریں نقل کریں اور سوال نہ اٹھائیں۔ گھنٹی پر چلنے والا نظام، قطاروں میں جمی ہوئی نشستیں، ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے جواب — یہ سب اسی کارخانہ نما تصورِ تعلیم کی باقیات ہیں جس میں بچہ خام مال تھا اور ملازمت تیار شدہ پیداوار۔
حاکم چلے گئے، مگر ان کی چھوڑی ہوئی عمارتوں کے ساتھ ہم نے ان کا خوف بھی ورثے میں سنبھال لیا۔ آزادی کے کئی عشروں بعد بھی ہمارے کمرۂ جماعت کی فضا میں وہی حکم، وہی سہم اور وہی سناٹا سانس لیتا ہے۔
انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم صرف تاریخ کو موردِ الزام نہ ٹھہرائیں؛ اس مرض کی جڑیں ہمارے اپنے صحن میں بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ پہلی جڑ وہ سماجی تصور ہے جو خاموش بچے کو “شریف” اور سوال کرنے والے کو “زبان دراز” قرار دیتا ہے۔ دوسری جڑ ہمارے کمرۂ جماعت کی بھیڑ ہے؛ جہاں ایک استاد کے سامنے ساٹھ ستر بچے بیٹھے ہوں، وہاں مکالمہ عیاشی معلوم ہوتا ہے اور خاموشی انتظامی ضرورت بن جاتی ہے۔ تیسری جڑ استاد کی وہ تربیت ہے جس میں اسے نصاب پڑھانا تو سکھایا جاتا ہے، بچے کے دل تک پہنچنا نہیں۔ اور چوتھی، سب سے گہری جڑ، ہمارا امتحانی نظام ہے جو یادداشت کو تولتا ہے اور فہم کو نظر انداز کرتا ہے۔
ان چاروں جڑوں سے جو درخت اگتا ہے، اس کا پھل ہم سب چکھ رہے ہیں: ڈگریوں سے لدے ہوئے ایسے نوجوان جن کے پاس جواب بہت ہیں، مگر سوال ایک بھی نہیں۔
یہاں اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے جسے ہم اکثر گڈمڈ کر دیتے ہیں۔ نظم و ضبط تعلیم کی روح ہے؛ اس سے کسی کو انکار نہیں۔ مگر نظم وہ ہے جو شعور سے پھوٹے، اور خوف وہ ہے جو شعور کو کچل دے۔ جو بچہ استاد کے احترام میں خاموش ہے، وہ سیکھ رہا ہے؛ اور جو بچہ استاد کے ڈر سے خاموش ہے، وہ صرف بچ رہا ہے۔ دونوں کی خاموشی بظاہر ایک جیسی ہے، مگر ایک کے اندر چراغ جل رہا ہے اور دوسرے کے اندر بجھ رہا ہے۔
خوف سے پیدا ہونے والی فرماں برداری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ نگرانی کی محتاج ہوتی ہے۔ استاد کمرے سے نکلا اور نظم بکھر گیا۔ اس کے برعکس محبت سے پیدا ہونے والا احترام بچے کے اندر اتر جاتا ہے اور وہاں بھی اس کی رہنمائی کرتا ہے جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا۔ تربیت کا اصل امتحان کمرۂ جماعت میں نہیں، کمرۂ جماعت کے باہر ہوتا ہے۔
یہ محض جذباتی دعویٰ نہیں؛ تعلیمی فکر کی پوری روایت اس پر گواہ ہے۔ ماریا مونٹیسوری نے بچے کو بیج سے تشبیہ دی جس کے اندر اس کا پورا امکان پوشیدہ ہے؛ باغبان کا کام بیج کو کھینچ کر بڑا کرنا نہیں، اسے موافق فضا دینا ہے۔ فروبل نے اپنی درس گاہ کو “کنڈر گارٹن” یعنی بچوں کا باغ کہا، مکتب یا کارخانہ نہیں کہا؛ اس نام ہی میں اس کا پورا فلسفہ سمویا ہوا ہے۔ جان ڈیوی نے سکھایا کہ بچہ کرنے سے سیکھتا ہے، سننے سے نہیں۔ اور ہم سے چھ سو برس پہلے ابنِ خلدون اپنے مقدمے میں لکھ گئے کہ طالبِ علم پر سختی اس کی طبیعت کو دباتی ہے، اسے سست اور جھوٹ کی طرف مائل کرتی ہے، کیونکہ وہ سزا کے خوف سے اپنے دل کی بات چھپانا سیکھ لیتا ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ہماری اپنی علمی روایت کا یہ روشن سبق مغرب نے اپنی درس گاہوں میں اتار لیا اور ہم نے اپنی الماریوں میں بند کر دیا۔
جدید نفسیات نے اس پرانی حکمت کی توثیق کر دی ہے۔ خوف کی حالت میں انسانی ذہن اپنی توانائی سیکھنے پر نہیں، بچاؤ پر صرف کرتا ہے۔ سہما ہوا دماغ رٹ سکتا ہے، سمجھ نہیں سکتا؛ نقل کر سکتا ہے، تخلیق نہیں کر سکتا۔ جو بچہ بار بار جھڑکا جائے، سب کے سامنے شرمندہ کیا جائے، اس کے اندر آہستہ آہستہ ایک خاموش فیصلہ جنم لیتا ہے: “بولنا خطرناک ہے۔” پھر وہ ہاتھ اٹھانا چھوڑ دیتا ہے، آنکھ ملانا چھوڑ دیتا ہے، اور بالآخر سوچنا بھی چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ جس سوچ کو زبان نہ ملے وہ دھیرے دھیرے دم توڑ دیتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں بچہ اپنا سب سے قیمتی سرمایہ کھو بیٹھتا ہے: خود اعتمادی۔ عمارت کی بنیاد ہل جائے تو منزلیں کتنی ہی سجا لیجیے، لرزش باقی رہتی ہے۔ بچپن میں چھنا ہوا اعتماد جوانی کے انٹرویو کے کمرے تک، بلکہ زندگی کے ہر فیصلے تک، اپنا سایہ ڈالتا رہتا ہے۔رٹنے والا ذہن امتحان پاس کرتا ہے؛ سوال کرنے والا ذہن زمانہ بدلتا ہے۔
خاموش بچے، خاموش معاشرہ
کمرۂ جماعت دراصل معاشرے کی نرسری ہے۔ جو کچھ آج وہاں بویا جا رہا ہے، کل وہی گلیوں، دفتروں اور ایوانوں میں لہلہائے گا۔ جس نسل کو بچپن میں سکھایا گیا کہ طاقت ور کے سامنے سوال نہیں کیا جاتا، وہ بڑی ہو کر ناانصافی دیکھ کر نظریں جھکا لیتی ہے، بدعنوانی پر خاموش رہتی ہے اور ہر غلط بات کو “چلتا ہے” کہہ کر قبول کر لیتی ہے۔ جمہوریت کا دار و مدار ووٹ سے زیادہ اس شہری پر ہے جو سوال اٹھانے کا حوصلہ اور سلیقہ دونوں رکھتا ہو، اور یہ حوصلہ کسی جلسے میں نہیں، کسی کمرۂ جماعت میں پروان چڑھتا ہے۔
گویا جب ہم کسی بچے کا سوال دباتے ہیں تو صرف ایک بچے کو نہیں، آنے والے پورے معاشرے کو خاموش کر رہے ہوتے ہیں۔
ہماری تہذیب تو سوال ہی کے سائے میں پروان چڑھی تھی۔ قرآنِ حکیم نے “اہلِ ذکر سے پوچھ لو” کہہ کر پوچھنے کو علم کا دروازہ قرار دیا۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بدو بھی بے دھڑک سوال کرتا اور صحابہ بھی؛ کسی پوچھنے والے کو کبھی جھڑکا نہیں گیا۔ بغداد اور قرطبہ کی درس گاہوں کی رونق مناظرے اور مباحثے سے تھی؛ شاگرد استاد سے اختلاف کرتا اور استاد اس اختلاف کو اپنی توہین نہیں، علم کی خدمت سمجھتا۔ ادھر یونان میں سقراط کا پورا طریقۂ تعلیم ہی سوال تھا؛ وہ جواب دیتا نہیں تھا، جواب تک پہنچنے کا راستہ سجھاتا تھا۔
تاریخ کا سبق دو ٹوک ہے: جن معاشروں میں سوال زندہ رہا، وہ زندہ رہے؛ اور جہاں سوال کو خاموش کیا گیا، وہاں پہلے فکر رخصت ہوئی، پھر عظمت۔ ہمارا زوال تلواروں سے پہلے سوالوں کے میدان میں شروع ہوا تھا۔
اکیسویں صدی نے اس بحث کو فیصلہ کن موڑ دے دیا ہے۔ جو کام کل تک رٹنے والے ذہن کرتے تھے، آج مشینیں پلک جھپکتے کر دیتی ہیں۔ معلومات اب کسی استاد یا کتب خانے کی اجارہ داری نہیں رہیں؛ ہر جیب میں پڑا فون معلومات کا سمندر اٹھائے پھرتا ہے۔ ایسے میں انسان کے پاس جو کچھ بچا ہے وہ وہی ہے جو مشین کے پاس نہیں: تعجب، تنقید، تخیل اور سوال۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ہم اپنے بچوں سے وہی چھین رہے ہیں جو کل ان کی سب سے بڑی پونجی ہونے والا ہے۔ ہماری قومی تعلیمی پالیسی بھی کاغذ پر رٹے کے بجائے تنقیدی فکر اور تصوراتی فہم کی بات کرتی ہے، مگر پالیسی دستاویزیں کمرۂ جماعت کی فضا نہیں بدلا کرتیں؛ فضا استاد کے لہجے سے بدلتی ہے۔
تو کیا کیا جائے؟
پہلا قدم استاد کا اپنا محاسبہ ہے۔ ہر شام صرف تین سوال: کیا آج میں نے بچوں کو بولنے دیا؟ کیا میں نے کسی غلطی کو جرم کے بجائے سیکھنے کی سیڑھی سمجھا؟ کیا کسی جھجکتے ہوئے بچے کا سوال میری مسکراہٹ سے آسان ہوا؟
دوسرا قدم کمرۂ جماعت کی تہذیب بدلنا ہے: سوال پوچھنے پر داد، غلط جواب پر حوصلہ، اور ہر بچے کو دن میں کم از کم ایک بار زبان کھولنے کا موقع۔
تیسرا قدم امتحان کی اصلاح ہے؛ ایسے سوالات جو “کیا یاد ہے” کے بجائے “کیا سمجھے ہو” اور “تم کیا سوچتے ہو” پوچھیں۔
چوتھا قدم والدین کی شراکت ہے، کیونکہ جو بچہ گھر میں ڈانٹ کر چپ کرایا جاتا ہو، وہ اسکول میں راتوں رات گویا نہیں ہو سکتا۔
اور پانچواں قدم اساتذہ کی تربیت میں نفسیاتِ طفل کو مرکزی مقام دینا ہے، تاکہ استاد نصاب سے پہلے بچے کو پڑھنا سیکھے۔
ان میں سے کسی قدم کے لیے بجٹ درکار نہیں، صرف نیت درکار ہے۔ اور نیت وہ واحد وسیلہ ہے جو ہر اسکول کے پاس، ہر حال میں، موجود ہوتا ہے۔
آنے والی دنیا کا نقشہ صاف پڑھا جا سکتا ہے۔ جو قومیں اپنے بچوں کو سوال کرنا سکھائیں گی، وہ ایجاد کریں گی، دریافت کریں گی اور راہ دکھائیں گی؛ اور جو خاموشی سکھائیں گی، وہ دوسروں کی ایجادیں خریدیں گی، دوسروں کے نقشے پر چلیں گی اور دوسروں کے فیصلوں پر جیئیں گی۔ ہمارے بچوں کا مقابلہ اب محلے کے اسکول سے نہیں، دنیا بھر کے ان بچوں سے ہے جن کی درس گاہوں میں سوال کو سلام کیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیں آج کرنا ہے کہ ہم اپنی نسل کو مقابلے کے لیے تیار کر رہے ہیں یا محض تابع داری کے لیے۔
میں پھر اسی پہلے دن کے بچے کی طرف لوٹتا ہوں جو بستہ کاندھے پر رکھے درس گاہ کے دروازے پر کھڑا ہے۔ اس کی آنکھوں میں جو چمک ہے، وہ کسی نصاب سے نہیں آئی؛ وہ فطرت کی امانت ہے۔ ہمارا پورا نظامِ تعلیم دراصل ایک ہی سوال کا جواب ہے: ہم اس چمک کا کیا کرتے ہیں؟ اسے ہوا دیتے ہیں یا بجھا دیتے ہیں؟
عمارتیں، نصاب اور نتائج سب اپنی جگہ، مگر درس گاہ کی اصل پہچان یہ ہے کہ اس کے دروازے سے نکلنے والا بچہ داخل ہونے والے بچے سے زیادہ بولتا ہے یا کم۔ جس دن ہمارے اسکولوں میں کوئی ننھا ہاتھ بلا جھجک اٹھے گا اور استاد کی پیشانی پر بل کے بجائے مسکراہٹ ابھرے گی، اس دن سمجھ لیجیے کہ تعلیم شروع ہو گئی۔ کیونکہ قومیں عمارتوں سے نہیں بنتیں، اور نہ کتابوں کے انبار سے؛ قومیں ان سوالوں سے بنتی ہیں جو ان کے بچوں کو پوچھنے دیے گئے۔

