بچوں پر مسلط توقعات کا تعلیمی، نفسیاتی اور سماجی مطالعہ
ڈاکٹر اسد اللہ خان
ہر بچہ اس دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے، مگر بہت کم بچے خالی ہاتھ رہنے پاتے ہیں۔ آنکھ کھلتے ہی ان کے ننھے کندھوں پر ایک ایسا بوجھ رکھ دیا جاتا ہے جو نہ ان کا کمایا ہوا ہے اور نہ مانگا ہوا: والدین کے ادھورے خوابوں کا قرض۔ یہ قرض کسی کاغذ پر درج نہیں ہوتا، مگر اس کی قسطیں عمر بھر وصول کی جاتی ہیں — کبھی نمبروں کی صورت میں، کبھی داخلوں کی صورت میں، اور کبھی اُس پیشے کی صورت میں جس کا انتخاب بچے نے نہیں بلکہ اس کے والدین کے ماضی نے کیا ہوتا ہے۔
اولاد انسان کی سب سے بڑی نعمت بھی ہے اور سب سے نازک آزمائش بھی۔ شاید اسی لیے والدین اپنی محبت کا سب سے گہرا اظہار بھی بچوں پر کرتے ہیں اور اپنی سب سے سنگین غلطیاں بھی انہی کے ساتھ کر بیٹھتے ہیں۔ محبت جب شعور کے ساتھ ہو تو شخصیت بناتی ہے، اور جب انا میں گھل جائے تو اسی شخصیت کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔ چالیس برس درس گاہوں میں گزارنے کے بعد میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ کمرۂ جماعت میں بیٹھے ہوئے بجھے بجھے چہروں کی اکثریت ذہانت کی کمی کا نتیجہ نہیں ہوتی؛ وہ اُس خاموش کشمکش کا حاصل ہوتی ہے جو بچے کی فطرت اور والدین کی خواہش کے درمیان برسوں جاری رہتی ہے۔
اسی لیے ایک جملہ ہر ماں اور ہر باپ کو اپنے دل کی تختی پر لکھ لینا چاہیے، آپ کا بچہ آپ کی دوسری اننگز کھیلنے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ وہ آپ کی زندگی کا دوسرا باب نہیں، اپنی زندگی کی پہلی کتاب ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک خاموش مگر تیزی سے جڑ پکڑتا ہوا رویہ یہ ہے کہ والدین اولاد کو ایک مستقل ذات کے بجائے اپنی نامکمل خواہشوں کی تکمیل کا وسیلہ سمجھنے لگے ہیں۔ بچہ گھر میں آتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کا مستقبل بھی طے کر دیا جاتا ہے — پیدائش سے پہلے نام سوچا جاتا ہے اور بسا اوقات نام سے بھی پہلے پیشہ۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اولاد اللہ کی امانت ہے، والدین کی ملکیت نہیں؛ اور امانت میں نگہداشت کے آداب ہوتے ہیں، تصرف کا حقِ ملکیت نہیں ہوتا۔
یہ رویہ ہماری روزمرہ زبان سے بھی جھلکتا ہے۔ ہم کہتے ہیں: ”میں ڈاکٹر نہیں بن سکا، میرا بیٹا ضرور بنے گا۔“ ”مجھے انجینئرنگ کا موقع نہیں ملا، میری بیٹی وہ خواب پورا کرے گی۔“ ”مجھے بچپن میں کھیلنے نہیں دیا گیا، اب میرا بچہ ہر حال میں قومی کھلاڑی بنے گا۔“ سننے میں یہ جملے شفقت میں ڈوبے ہوئے معلوم ہوتے ہیں، مگر ذرا اندر جھانکیے تو ہر جملے کا اصل فاعل بچہ نہیں، ”میں“ ہے۔ یہ محبت کی زبان نہیں، انا کی زبان ہے جس نے محبت کا لباس پہن رکھا ہے۔ ایسے لمحوں میں ہم بچے کی زندگی نہیں سنوار رہے ہوتے، اپنی ناکامیوں کا مداوا کر رہے ہوتے ہیں۔
مشرق کے حکیم ادیب خلیل جبران نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ”پیغمبر“ میں اسی حقیقت کو ایک جملے میں سمو دیا تھا جس کا مفہوم یہ ہے تمہاری اولاد تمہاری نہیں؛ وہ تمہارے ذریعے آتی ہے، تم سے نہیں، اور تمہارے پاس رہتی ہے، مگر تمہاری ملکیت نہیں۔
کوئی رویہ خلا میں جنم نہیں لیتا۔ اگر آج کے والدین بچوں پر خواب مسلط کر رہے ہیں تو اس کی جڑیں ان کی اپنی زندگی کی مٹی میں پیوست ہیں، اور ان جڑوں کو پہچانے بغیر شاخیں کاٹنے سے درخت نہیں بدلتا۔
پہلی جڑ احساسِ محرومی ہے۔ جس نسل کو خود اپنے خواب دیکھنے کی مہلت نہیں ملی — کسی کو غربت نے روکا، کسی کو حالات نے، کسی کو اس کے اپنے والدین نے — وہ اپنی محرومی کو اولاد کے ذریعے فتح کرنا چاہتی ہے۔ نفسیات اس رجحان کو تلافی کہتی ہے: انسان اپنے اندر کے خلا کو کسی اور کے وجود سے بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس تلافی کی قیمت وہ ادا کرتا ہے جس کا اس محرومی سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
دوسری جڑ سماجی دباؤ ہے۔ ہمارے ہاں بچے کا امتحانی نتیجہ صرف بچے کا نتیجہ نہیں سمجھا جاتا؛ وہ خاندان کی عزت کا اعلامیہ بن جاتا ہے۔ رشتہ داروں کی محفلوں میں بچوں کے نمبر والدین کے تمغے بن کر پیش ہوتے ہیں، اور جس گھر کا بچہ اس دوڑ میں پیچھے رہ جائے وہاں شرمندگی کا سایہ اترتا ہے۔ ایسے ماحول میں بچے کی فطری صلاحیت نہیں، برادری کی نگاہ فیصلہ کن ہو جاتی ہے۔
تیسری جڑ تصورِ رزق کی تنگی ہے۔ ہم نے عزت اور روزی کو گنتی کے تین چار پیشوں میں قید کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، افسر — بس یہی کامیابی کے معتبر عنوانات ہیں؛ باقی سب راستے یا تو ”شوق“ کہلاتے ہیں یا ”وقت کا زیاں“۔ حالانکہ جو معاشرہ صرف تین دروازوں کو معتبر مانے، وہ اپنے ہزاروں بچوں کو دیوار سے سر ٹکرانے پر مجبور کرتا ہے۔
بچہ اپنے والدین کا تسلسل ضرور ہے، مگر ان کی کاربن کاپی نہیں۔ وہ ان کا دوسرا ایڈیشن ہے نہ ری میک، نہ کسی نامکمل منصوبے کی تکمیل۔ اس کی اپنی سوچ ہے، اپنا مزاج، اپنی رفتار، اپنے خواب، اور سب سے بڑھ کر اس کا اپنا مقدر۔ ہر بچہ اس دنیا میں ایک نئی کتاب بن کر آتا ہے؛ افسوس یہ ہے کہ ہم اس کتاب کو پڑھنے کے بجائے اس کے صفحات پر اپنی پرانی کہانی لکھنے لگتے ہیں۔
قدرت نے کبھی یکسانیت کو پسند نہیں کیا۔ اگر پوری کائنات میں صرف ایک ہی قسم کے پھول کھلتے تو بہار کتنی بے رنگ ہوتی۔ اگر ہر انسان صرف ڈاکٹر یا افسر بنتا تو شاعری کون کرتا؟ ادب کون تخلیق کرتا؟ استاد کون بنتا؟ سائنس کو نئی جہتیں کون دیتا؟ مصوری، کھیل، تجارت، تحقیق، صحافت اور سماجی خدمت کے میدان کس کے سپرد ہوتے؟ معاشرے کی اصل قوت اس کے تنوع میں ہے، اس کی یکسانیت میں نہیں۔
اور سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ہم ایک فطری مصور کو ریاضی دان بنانے پر تل جائیں، یا ایک پیدائشی معلم کو صرف اس لیے ڈاکٹر بنا دیں کہ معاشرہ اس لقب کو زیادہ عزت دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دنیا ایک اچھا ڈاکٹر بھی نہیں پاتی اور ایک عظیم فنکار بھی کھو دیتی ہے۔ نقصان دوہرا ہے، اور خاموش بھی — کیونکہ جو کچھ کھویا گیا، وہ کبھی وجود میں آیا ہی نہیں کہ اس کا ماتم کیا جا سکے۔
انگریزی لفظ ایجوکیشن کی اصل لاطینی مصدر میں ہے جس کے معنی ”اندر سے باہر نکالنے“ کے ہیں۔ گویا تعلیم اپنی روح میں بھرنے کا نہیں، اُبھارنے کا عمل ہے — بچے کے اندر جو کچھ ودیعت ہے اسے دریافت کر کے پروان چڑھانا۔ مگر ہم نے تعلیم کو سانچہ بنا لیا ہے جس میں ہر بچے کو ڈھال کر ایک ہی شکل کا شہری تیار کیا جاتا ہے، اور جو بچہ سانچے میں پورا نہ اترے اسے ناکارہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
معروف ماہرِ تعلیم ہاورڈ گارڈنر نے اپنی تحقیق میں یہ نظریہ پیش کیا کہ ذہانت کوئی ایک اکائی نہیں بلکہ اس کی متعدد جہتیں ہیں — لسانی، ریاضیاتی، موسیقیائی، جسمانی، معاشرتی، داخلی اور فطری۔ ہر بچہ ان میں سے کسی نہ کسی جہت میں غیر معمولی استعداد لے کر آتا ہے۔ مگر ہمارا امتحانی نظام ان تمام جہتوں میں سے صرف دو کو ناپتا ہے زبان اور حساب۔ جو بچہ ان دو پیمانوں پر پورا نہ اترے اسے ”کمزور“ کہہ دیا جاتا ہے، حالانکہ ممکن ہے وہ کسی اور پیمانے کا سردار ہو۔ ہم فیتے سے وزن ناپتے ہیں اور پھر بچے کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں کہ وہ ناپ میں نہیں آیا۔
تعلیم کا مقصد صرف روزگار پیدا کرنا نہیں، شخصیت کو دریافت کرنا بھی ہے۔ افسوس کہ ہم نے درس گاہ کو ملازمت کی تیاری کا کارخانہ سمجھ لیا ہے، جبکہ اصل تعلیم انسان کو سب سے پہلے اس کی اپنی پہچان تک پہنچاتی ہے۔ جس دن والدین یہ ماننے لگیں گے کہ رپورٹ کارڈ بچے کے وجود کا ترجمان نہیں بلکہ اس کے وجود کا ایک معمولی سا حاشیہ ہے، اس دن تعلیم اپنے اصل مقصد کی طرف لوٹنا شروع کر دے گی۔
بیسویں صدی کے مشہور ماہرِ نفسیات کارل یونگ نے اپنے مشاہدے کا نچوڑ ان الفاظ میں بیان کیا تھا کہ بچے کی نفسیات پر سب سے گہرا اور سب سے بھاری اثر والدین کی وہ زندگی ڈالتی ہے جو وہ خود نہ جی سکے۔ یہ ایک سطر گویا ہمارے پورے موضوع کا خلاصہ ہے۔ والدین کی ادھوری خواہش بچے کے لاشعور میں اترتی ہے اور وہاں سے اس کی پوری شخصیت کی تشکیل پر اثر انداز ہوتی ہے۔
جب بچے کی شناخت اس کی اپنی رغبت کے بجائے دوسروں کی توقعات سے تعمیر ہونے لگتی ہے تو وہ رفتہ رفتہ اپنی اصل ذات سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایسے بچے اکثر دو زندگیاں جیتے ہیں: ایک وہ جو وہ جینا چاہتے ہیں، اور دوسری وہ جو انہیں جینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ظاہر کی زندگی میں فرمانبرداری ہوتی ہے، باطن کی زندگی میں بغاوت یا شکستگی۔ یہی اندرونی دوئی آگے چل کر اضطراب، احساسِ ناکامی، خود اعتمادی کے زوال اور بعض اوقات شدید ذہنی بحرانوں کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
جدید نفسیاتی تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ خودمختاری — یعنی اپنے فیصلوں پر کچھ نہ کچھ اختیار کا احساس — انسان کی بنیادی نفسیاتی غذا ہے۔ جس بچے سے یہ اختیار مکمل طور پر چھین لیا جائے، اس کا داخلی محرک بجھ جاتا ہے۔ پھر وہ محنت تو کرتا ہے مگر شوق سے نہیں، خوف سے؛ آگے تو بڑھتا ہے مگر منزل کی کشش سے نہیں، پیچھے کھڑی توقعات کے کوڑے سے۔ اور خوف کی توانائی کبھی دیرپا نہیں ہوتی۔
اس عذاب کی سب سے دردناک گواہی ہمارے اپنے ملک کے اعداد و شمار دیتے ہیں۔ قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ہندوستان میں ہر سال تیرہ ہزار سے زائد طلبہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں — گویا اوسطاً ہر روز پینتیس سے زیادہ گھروں کے چراغ بجھتے ہیں۔ کوچنگ کے مرکز کوٹا کے ہاسٹلوں کی کھڑکیوں اور پنکھوں پر لگائی جانے والی حفاظتی جالیاں اس عہد کی المناک ترین علامت ہیں: ہم نے کھڑکیاں تو بند کر دیں، مگر وہ سوال کھلا چھوڑ دیا جو ان جالیوں کی ضرورت بنا۔ ہر ایسے سانحے کے پیچھے صرف نصاب کا دباؤ نہیں ہوتا؛ اکثر اس خواب کا بوجھ بھی ہوتا ہے جو بچے کا اپنا تھا ہی نہیں۔
ہمارے بچےموازنے کی منڈی میں جی رہےہیں.ہمارے گھروں میں ایک اور زہر نہایت شائستہ لہجے میں گھولا جاتا ہے: موازنہ۔ ”دیکھو، فلاں کا بیٹا…“ ”تمہاری کزن نے…“ ”تمہارے دوست کے اتنے نمبر آئے…“ یہ جملے بظاہر معمولی معلوم ہوتے ہیں، مگر بچے کے دل میں یہ احساس بو دیتے ہیں کہ وہ اپنی ذات میں شاید کافی نہیں۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی قدر دوسروں کی کامیابی کے پیمانے سے ناپنے لگتا ہے، اور یہی احساسِ کم تری اس کی شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس منڈی کو ہر گھر کے دالان تک پہنچا دیا ہے۔ اب بچوں کے نتائج والدین کی حیثیت کا اشتہار بن گئے ہیں؛ داخلے، تمغے اور ڈگریاں خاندانی گروپوں میں نمائش کے لیے سجائی جاتی ہیں۔ جس بچے کی تصویر اس نمائش میں شامل نہ ہو سکے، وہ خاموشی سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس کے وجود کی قیمت اس کی کارکردگی سے مشروط ہے۔ اس سے بڑی محرومی کیا ہو گی کہ بچہ ماں باپ کی محبت کو بھی مشروط سمجھنے لگے؟
حالانکہ ہر بچے کی گھڑی الگ رفتار سے چلتی ہے۔ کوئی جلد کھلتا ہے، کوئی دیر سے؛ کوئی ریاضی میں چمکتا ہے، کوئی ادب میں، کوئی کھیل میں، کوئی قیادت میں۔ ہر پھول کا موسم جدا ہے، اور موسم سے پہلے کھلنے پر اصرار پھول کو کھلاتا نہیں، مسل دیتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ کامیابی اور خوشی ہمیشہ مترادف نہیں ہوتیں: ہمارے اردگرد ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جن کے پاس اعلیٰ ڈگریاں، کشادہ دفاتر اور بلند مناصب ہیں، مگر دل کے کسی گوشے میں ایک ایسا خلا ہے جو کسی عہدے یا تنخواہ سے نہیں بھرتا۔ وہ ہر صبح اس کام پر جاتے ہیں جس سے انہیں محبت نہیں، اور ہر رات اس سوال کے ساتھ سوتے ہیں کہ اگر انہیں اپنی راہ چننے دی جاتی تو زندگی کیا ہوتی۔
یہ مسئلہ نیا سہی، مگر اس کا جواب ہماری علمی روایت میں صدیوں پہلے موجود تھا۔ امام غزالی نے بچے کے دل کو ایک سادہ اور بیش قیمت جوہر سے تعبیر کیا تھا جو ہر نقش قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے — اور اسی لیے نقش بنانے والے پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ استعارہ اختیار کا نہیں، امانت کا ہے: جوہر تراشنے والا سنار جوہر کی ساخت دیکھ کر تراشتا ہے، اپنی خواہش دیکھ کر نہیں۔ ابنِ خلدون نے اپنے شہرۂ آفاق ”مقدمے“ میں صاف لکھا کہ تعلیم میں جبر اور سختی متعلم کی شخصیت کو مسخ کر دیتی ہے اور اسے ظاہرداری و کم ہمتی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ گویا چودہ سو برس کی درس گاہی روایت کا حاصل یہ ہے کہ طبیعت کے خلاف تعلیم، تعلیم نہیں، تشدد ہے۔
اور تاریخ کے اوراق الٹیے تو ایک دلچسپ اصول بار بار جھلکتا ہے: انسانیت کے بڑے کارنامے فرمانبرداری کی پیداوار نہیں، دریافت کی پیداوار ہیں۔ رابندر ناتھ ٹیگور کو قانون کی تعلیم کے لیے ولایت بھیجا گیا؛ وہ ڈگری لیے بغیر لوٹ آئے اور ادب کی اس راہ پر چل پڑے جس نے ایشیا کو پہلا نوبیل انعام دلایا۔ سوچیے، اگر وہ ایک فرمانبردار وکیل بن جاتے تو دنیا ”گیتانجلی“ سے محروم رہتی اور عدالتوں کو ایک اوسط درجے کا وکیل ملتا۔ ہر عہد میں وہی چراغ سب سے زیادہ روشن ہوئے جنہیں اپنے تیل سے جلنے دیا گیا۔
ہمارا عہد اس پرانے مرض کی نئی اور شدید تر شکلیں دیکھ رہا ہے۔ کوچنگ اب رہنمائی نہیں، ایک عظیم صنعت ہے جس کی بنیاد ہی والدین کے خوف اور خواب پر ہے۔ نرسری کے داخلوں کے لیے قطاریں لگتی ہیں، تین برس کے بچے انٹرویو دیتے ہیں، اور دس برس کا بچہ ”کیریئر“ کے نام سے اس بوجھ کو پہچاننے لگتا ہے جو ابھی اس کے کندھوں پر رکھا جانا باقی ہے۔ کھیل کے میدان سکڑ گئے ہیں اور ٹیوشن کی میزیں پھیل گئی ہیں؛ بچپن مختصر ہو گیا ہے اور مقابلہ طویل۔
قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء نے کاغذ کی حد تک اس جکڑبندی کو توڑنے کی بات کی ہے — مضامین کی سخت تقسیم کا خاتمہ، رجحان کی بنیاد پر انتخاب کی آزادی، اور ہنر و فن کو علمی مضامین کے برابر وقار۔ یہ اعتراف بجائے خود اہم ہے کہ ریاست نے مان لیا ہے کہ سانچہ ٹوٹنا چاہیے۔ مگر پالیسی درس گاہ تک اور درس گاہ سے دسترخوان تک تبھی پہنچتی ہے جب والدین کا ذہن بدلے۔ قانون نصاب بدل سکتا ہے، نیت نہیں بدل سکتا۔ جب تک گھر کے کھانے کی میز پر بیٹے کی مصوری کو ”فضول مشغلہ“ اور بیٹی کے ادبی ذوق کو ”وقت کا زیاں“ کہا جاتا رہے گا، دستاویزوں میں لکھی ہوئی آزادی بچوں تک نہیں پہنچے گی۔
تو پھر والدین کریں کیا؟ جواب ایک لفظ میں سمٹ سکتا ہے: باغبانی۔ ایک اچھا باغبان کبھی گلاب سے چنبیلی کی خوشبو کی توقع نہیں رکھتا اور آم کے درخت سے سیب نہیں مانگتا۔ وہ صرف زمین کو زرخیز بناتا ہے، پانی دیتا ہے، دھوپ کا انتظام کرتا ہے اور پودے کو آندھیوں سے بچاتا ہے۔ رنگ، خوشبو اور پھل کا فیصلہ بیج کے اندر لکھا ہوتا ہے۔ والدین کا حصہ محبت ہے، تربیت ہے، اقدار ہیں، اعتماد ہے، ماحول ہے اور مواقع ہیں؛ منزل کا انتخاب فطرت اور بچے کی شخصیت مل کر کرتی ہیں۔
اس باغبانی کے چند عملی اصول ہیں۔
پہلا اصول مشاہدہ ہے: دیکھیے آپ کا بچہ کس کام میں وقت کا احساس کھو دیتا ہے، کون سی سرگرمی اسے بغیر کسی انعام کے کھینچتی ہے — یہی اس کے رجحان کا سب سے سچا اشارہ ہے۔
دوسرا اصول مکالمہ ہے: حکم دینے کے بجائے سوال پوچھیے، فیصلے سنانے کے بجائے امکانات پر گفتگو کیجیے؛ جس گھر میں بچہ اپنی بات کہہ سکتا ہے وہاں بغاوت کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
تیسرا اصول موازنے کا مکمل ترک ہے: بچے کا مقابلہ صرف اس کے اپنے کل سے کروائیے، کسی اور کے آج سے نہیں۔
چوتھا اصول ناکامی کی اجازت ہے: جس بچے کو گرنے کی اجازت نہیں دی جاتی وہ چلنا نہیں، صرف سہمنا سیکھتا ہے۔ پانچواں اصول معلومات کی وسعت ہے: دنیا میں باعزت رزق کے سیکڑوں دروازے ہیں؛ والدین کا فرض ہے کہ بچے کو تین دروازے دکھانے کے بجائے پورا شہر دکھائیں۔ اور چھٹا اصول سب سے کٹھن ہے — اپنا محاسبہ۔ ہر بڑے فیصلے سے پہلے ایک لمحہ رک کر اپنے دل سے یہ سوال پوچھیے: کیا میں اپنے بچے کا خواب پورا کر رہا ہوں، یا اپنا؟
اس ایک سوال کا سچا جواب شاید آپ کی پوری تربیت کا رخ بدل دے۔
یہ محض گھریلو معاملہ نہیں، قومی مسئلہ ہے۔ قومیں افراد سے بنتی ہیں، اور جو معاشرہ اپنے بچوں کے خواب چھین لیتا ہے وہ دراصل اپنا مستقبل گروی رکھ دیتا ہے۔ فرمانبردار مگر بجھے ہوئے ذہنوں کی نسل امتحان پاس کر سکتی ہے، مگر نئے راستے نہیں کھول سکتی؛ ہدایات پر عمل کر سکتی ہے، مگر ہدایت نہیں دے سکتی۔ اقبال نے فرد اور ملت کے اسی رشتے کو یوں بیان کیا تھا:
اور اب تو زمانہ خود ہمارے پرانے پیمانوں کو رد کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے اس عہد میں سب سے پہلے وہی مہارتیں بے وقعت ہوں گی جو رٹنے اور دہرانے پر قائم ہیں — یعنی وہی یکسانیت جس کے لیے ہم اپنے بچوں کی انفرادیت قربان کرتے آئے ہیں۔ آنے والا وقت انہی کا ہے جو اپنے کام سے محبت کرتے ہیں، کیونکہ تخلیق، جدت اور گہرائی صرف محبت سے جنم لیتی ہیں، جبر سے نہیں۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ جس ”محفوظ مستقبل“ کے نام پر ہم بچوں کے فطری رجحان کچلتے ہیں، وہی رجحان کل کے سب سے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔
اس پوری بحث کا حاصل چند سطروں میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ اولاد امانت ہے، ملکیت نہیں۔ محبت رہنمائی کا نام ہے، حکمرانی کا نہیں۔ والدین کا اصل کردار راستہ دکھانا ہے، راستہ بن جانا نہیں؛ حوصلہ دینا ہے، خوف پیدا کرنا نہیں؛ سوال پوچھنا ہے، فیصلے مسلط کرنا نہیں۔ ایک باشعور ماں باپ کی کامیابی اس میں نہیں کہ ان کا بچہ وہ بن جائے جو وہ چاہتے تھے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ بن جائے جس کے لیے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔
ہو سکتا ہے آپ کا بچہ وہ نہ بنے جس کا خواب آپ نے دیکھا تھا۔ مگر اگر اسے اپنی فطرت، اپنی صلاحیت اور اپنے شوق کے مطابق آگے بڑھنے کا پورا موقع ملا تو بعید نہیں کہ وہ اس مقام تک جا پہنچے جہاں تک آپ کی خواہشیں بھی کبھی نہ پہنچ سکی تھیں۔ بیج پر بھروسا کیجیے — یہ مٹی بانجھ نہیں، بس اسے اپنے موسم کا انتظار ہے۔
اپنے بچوں کو اپنی نامکمل کہانی کا آخری باب مت بنائیے۔ انہیں اپنی زندگی کی کتاب کا پہلا لفظ خود لکھنے دیجیے۔ بعید نہیں کہ ان کے قلم سے لکھی جانے والی کہانی آپ کی تمام ادھوری کہانیوں سے کہیں زیادہ خوبصورت، کہیں زیادہ وسیع اور کہیں زیادہ روشن ہو — اور تب آپ جان لیں گے کہ جو خواب آپ نے چھوڑ دیا تھا، وہ ضائع نہیں ہوا تھا؛ اس نے صرف اپنا اصل خواب دیکھنے والا ڈھونڈ لیا تھا۔

