ڈاکٹر اسد اللہ خان
کچھ دن پہلے پوری دنیا سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھی۔ لوگ حفاظتی چشمے خرید رہے تھے، دوربینیں لگا رہے تھے اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائے اس نادر فلکیاتی منظر کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن افسوس… ہم آسمان پر چھانے والے چند لمحوں کے اندھیرے کو تو دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنے دلوں، اپنے معاشرے اور اپنی تہذیب پر چھا جانے والے دائمی اندھیرے کو محسوس نہیں کرتے۔ سورج پر لگنے والا گرہن چند منٹوں میں ختم ہو جاتا ہے، مگر انسان کے ضمیر پر لگنے والا گرہن نسلوں تک باقی رہتا ہے۔
ممبئی کی لوکل ٹرین میں پیش آنے والا مینک لوہار کا المناک قتل اسی اندرونی گرہن کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی، ہمارے بکھرتے ہوئے سماجی رشتوں اور مرتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے۔
ممبئی لوکل… صرف ٹرین نہیں، پورے شہر کا دل ہے
ممبئی کی لوکل ٹرین کو لوگ محض ایک ٹرانسپورٹ سسٹم سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ شہر کی شہ رگ ہے۔ یہ روزانہ لاکھوں خوابوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ کوئی مزدور اپنے بچوں کی روٹی کے لیے سفر کر رہا ہوتا ہے، کوئی طالب علم اپنے مستقبل کی تلاش میں نکلتا ہے، کوئی ماں اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے جا رہی ہوتی ہے، اور کوئی نوجوان اپنی پہلی ملازمت کے خواب سجا رہا ہوتا ہے۔ کوئی نوجوان اپنی پہلی تنخواہ کے خواب سجاتا ہے۔ان ہی ڈبوں میں کتنی دعائیں سفر کرتی ہیں، کتنی امیدیں بیٹھتی ہیں، کتنے منصوبے جنم لیتے ہیں۔ یہ ٹرین صرف جسموں کو نہیں بلکہ امیدوں، خوابوں، ذمہ داریوں اور مستقبل کو ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک پہنچاتی ہے۔ مگر جب اسی ٹرین کے اندر خون بہنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ صرف ایک مسافر نہیں مرا، بلکہ پورا معاشرہ زخمی ہوا ہے۔
صرف ایک جملہ… ایک درخوست اور ایک زندگی ہمیشہ کے لئے خاموش کر دی گئی۔
منگل، ۲۳ جون کی وہ رات بظاہر ہر رات کی طرح معمول کی تھی۔ چرچ گیٹ سے نالاسوپارا جانے والی فاسٹ لوکل اپنی رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ فرسٹ کلاس کوچ میں عام دنوں کی طرح لوگ بیٹھے تھے؛ کسی کے کانوں میں ائیر فون تھے، کوئی موبائل پر مصروف تھا، اور کوئی تھکن سے اونگھ رہا تھا۔ اسی دوران بائیس سالہ مینک لوہار نے صرف اتنی سی گزارش کی کہ دروازہ بند کر دیا جائے۔
سوچیے…
صرف ایک جملہ۔ صرف ایک گزارش۔ “براہِ کرم دروازہ بند کر دیجیے۔”
کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ جملہ موت کی سزا بن سکتا ہے؟ لیکن ممبئی کی اس لوکل ٹرین میں ایسا ہی ہوا۔
یہ ایک معمولی درخواست تھی، لیکن سامنے کھڑا شخص ۳۰ سالہ، ممبئی ائیر پورٹ کے کارگو سیکشن میں کام کرنے والا روشن سورنا، معمولی ذہنی کیفیت میں نہیں تھا۔ اس کے اندر شاید برسوں کا غصہ، ناکامیاں، مایوسیاں، شراب کا نشہ، اور انا کا زہر جمع تھا۔ ایک لمحے میں چاقو نکلا، چند سیکنڈ میں کئی وار ہوئے، اور ایک ہنستا کھیلتا نوجوان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ایک بائیس سالہ نوجوان، جس کے والدین نے شاید صبح اسے دعاؤں کے ساتھ گھر سے رخصت کیا ہوگا، جس کی ماں نے شام کو اس کے پسندیدہ کھانے کا سوچا ہوگا، جس کے خواب ابھی حقیقت بننے ہی والے تھے… چند لمحوں میں خون میں نہلا دیا گیا۔
قاتل صرف ایک شخص نہیں تھا…؟
اخبارات لکھیں گے کہ قاتل فلاں شخص تھا، پولیس چارج شیٹ داخل کرے گی، اور عدالت سزا سنائے گی۔ لیکن اگر ہم صرف اتنا سمجھ کر مطمئن ہو جائیں تو شاید ہم اصل مجرم کو کبھی نہ پہچان سکیں۔
سوال یہ ہے کہ اس بوگی میں بیٹھے ہوئے درجنوں مسافر کیا کر رہے تھے؟ کیا ان میں سے کوئی ایک شخص بھی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا؟ کیا چار پانچ افراد مل کر قاتل کو قابو نہیں کر سکتے تھے؟ یا پھر ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انسان صرف اپنی جان بچانے کا نام ہے؟
یہ خاموش تماشائی کون تھے؟ ہم… آپ… ہم سب۔
قاتل صرف ایک شخص تھا… یا ہم سب؟
پولیس اپنی کارروائی مکمل کر لے گی۔
تب شاید عدالت قاتل کو سزا دے۔
اور پھر اخبارات نئی سرخیاں تلاش کر لیں گے۔
لیکن ایک سوال شاید کبھی ختم نہ ہو۔
جب مینک زمین پر گرا تھا… جب اس پر وار ہو رہے تھے… جب وہ زندگی اور موت کے درمیان آخری سانسیں لے رہا تھا… تب اس بوگی میں بیٹھے ہوئے درجنوں لوگ کیا کر رہے تھے؟
کیا ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے؟
کیا ان کی زبانیں گونگی ہو گئی تھیں؟
یا پھر ان کے دلوں سے انسانیت رخصت ہو چکی تھی؟
یہ سوال صرف ان مسافروں سے نہیں… یہ سوال ہم سب سے ہے۔
ہم کب اتنے بے بس، اتنے خوف زدہ اور اتنے خود غرض ہو گئے کہ ایک انسان کو مرتا دیکھ کر بھی خاموش بیٹھے رہے؟
یہی وہ لمحہ تھا جب ایک شخص نے چاقو چلایا، مگر درحقیقت پورا معاشرہ خاموش کھڑا رہا۔
دنیا میں سب سے خطرناک آواز گولی کی نہیں ہوتی… سب سے خطرناک آواز اچھے لوگوں کی خاموشی کی ہوتی ہے۔
اب ہمیں انسانوں سے نہیں، ان کے غصے سے ڈر لگتا ہے
آج اگر کوئی شخص ٹرین میں بلند آواز میں موبائل چلا رہا ہو… اگر کوئی بدتمیزی کر رہا ہو… اگر کوئی دوسروں کو تکلیف پہنچا رہا ہو… تو اکثر لوگ خاموش رہتے ہیں۔
اس لیے نہیں کہ وہ غلط کو صحیح سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ اب ہمیں قانون سے زیادہ انسانوں کے اندر چھپے ہوئے غصے سے خوف آنے لگا ہے۔
ہر شخص سوچتا ہے… “اگر میں نے کچھ کہا تو؟” “اگر سامنے والا ذہنی دباؤ کا شکار ہوا تو؟” “اگر اس کے ہاتھ میں چاقو ہوا تو؟” “اگر کل اخبار میں میری تصویر چھپ گئی تو؟”
سوچیے… جس معاشرے میں صحیح بات کہنا جان کا خطرہ بن جائے، وہاں تہذیب زندہ کیسے رہ سکتی ہے؟
یہ خوف صرف ایک فرد کا نہیں، یہ پورے شہر کی نفسیات بن چکا ہے۔
ہم سب کے اندر ایک خاموش جنگ جاری ہے۔ ایک ماہرِ نفسیات کی نظر سے دیکھیں تو اکثر لوگ اس بات پر غصہ نہیں کرتے جس پر وہ چیختے ہیں، اصل غصہ کہیں اور ہوتا ہے۔ کوئی بے روزگاری سے ٹوٹ چکا ہے، کوئی قرض میں ڈوبا ہوا ہے، کوئی دفتر میں روزانہ ذلیل ہوتا ہے، کوئی ازدواجی زندگی کی کشمکش میں گھرا ہے، کوئی بیمار والدین کی فکر میں ہے، کوئی بچوں کی فیس ادا نہیں کر پا رہا، اور کوئی سوشل میڈیا پر دوسروں کی کامیابیاں دیکھ کر خود کو ناکام محسوس کر رہا ہے۔ یہ تمام زخم خاموشی سے اندر جمع ہوتے رہتے ہیں۔ پھر ایک معمولی سی بات، ایک چھوٹا سا اعتراض، ایک ہلکا سا دھکا، یا صرف ایک درخواست، اس پورے آتش فشاں کو پھاڑ دیتی ہے۔ اور ہم حیران رہ جاتے ہیں کہ آخر اتنی معمولی بات پر اتنا بڑا جرم کیسے ہو گیا؟
دراصل ہم مشینیں بنتے جا رہے ہیں۔ ہم صبح گھر سے نکلتے ہیں، ٹرین پکڑتے ہیں، دفتر جاتے ہیں، واپس آتے ہیں، موبائل چلاتے ہیں، اور سو جاتے ہیں؛ پھر یہی سلسلہ۔
ہم زندہ ضرور ہیں، لیکن کیا واقعی جی رہے ہیں؟ ہم ایک دوسرے کے چہروں کو دیکھتے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے دکھ نہیں دیکھتے۔ ہم ہزاروں لوگوں کے درمیان سفر کرتے ہیں، لیکن اندر سے پہلے سے زیادہ تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ ہجوم میں انسان جتنا گھرتا جارہا ہے تنہائیاں اتنا ہی اس کا تعاقب کررہی ہیں۔ ٹیکنالوجی نے رابطے بڑھا دیے، مگر تعلقات کم کر دیے۔
کیا کبھی آپ نے سوچا کہ ہم ترقی کر رہے ہیں… یا انسانیت کھو رہے ہیں؟
ہمارے فون پہلے سے زیادہ اسمارٹ ہو گئے ہیں۔ عمارتیں پہلے سے زیادہ بلند ہو گئی ہیں۔ سڑکیں پہلے سے زیادہ چوڑی ہو گئی ہیں۔ لیکن دل پہلے سے زیادہ تنگ ہو گئے ہیں۔ ہماری گفتگو کم اور اسکرین ٹائم زیادہ ہو گیا ہے۔ ہمارے رابطے ہزاروں ہیں، مگر تعلقات چند بھی نہیں۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ سفر ضرور کرتے ہیں… لیکن ایک دوسرے کے ساتھ جینا بھول گئے ہیں۔
حل صرف پولیس نہیں… معاشرے کی تعمیر ہے۔ ہر واقعے کے بعد ہم کہتے ہیں کہ مزید پولیس تعینات کی جائے، مزید کیمرے لگا دیے جائیں، اور سخت قانون بنایا جائے۔ یہ سب ضروری ہیں، لیکن یہ علاج نہیں، صرف حفاظتی پٹیاں ہیں۔
اصل علاج کہیں زیادہ گہرا ہے:
۱۔ ذہنی صحت کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ اسکولوں، کالجوں، کمپنیوں اور سرکاری اداروں میں ذہنی صحت، جذباتی تربیت اور غصے پر قابو پانے کی باقاعدہ تعلیم دی جائے۔
۲۔ خاموش تماشائی نہیں، ذمہ دار شہری بنیں: تشدد کے وقت ویڈیو بنانے کے بجائے، اگر حالات اجازت دیں، تو اجتماعی طور پر مداخلت اور فوری مدد کی تربیت دی جائے۔ محفوظ انداز میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا شعور پیدا کیا جائے۔
۳۔ شہری آداب کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں آدابِ سفر، دوسروں کے سکون، ذاتی حدود اور باہمی احترام کو ابتدائی تعلیم سے ہی سکھایا جائے۔
۴۔ گھروں میں برداشت کی تربیت واپس لائی جائے۔ اگر بچوں نے اپنے والدین کو ہر مسئلے پر چیختے ہوئے دیکھا، تو وہ بڑے ہو کر برداشت کہاں سے سکھیں گے؟
۵۔ مساجد، مندروں، گرجا گھروں، اسکولوں اور سماجی تنظیموں کو صرف مذہبی یا تعلیمی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انہیں برداشت، مکالمے، باہمی احترام اور جذباتی توازن کی عملی تربیت کے مراکز بھی بننا ہوگا۔
کیا کبھی آپ نے سوچا کہ ہم نے برادران وطن تک بھی یہ آفاقی پیغام پہنچایا کہ جو لوگ غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، ایسے لوگوں سے رب کریم محبت کرتا ہے۔ کیا کبھی رحمت اللعالمین کا یہ فرمان سنایا کہ طاقتور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو گرا دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔ آج ہمارے معاشرے کو شاید ایسی بات بتانے کی زیادہ ضرورت ہے۔
مینک لوہار صرف ایک نام نہیں، وہ ہر اس نوجوان کی علامت ہے جو صبح گھر سے یہ کہہ کر نکلتا ہے: “امی! شام کو جلدی واپس آؤں گا۔” لیکن شام اس کا جسم واپس آتا ہے، خواب نہیں۔ اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اگلے دن وہی ٹرین دوبارہ چل پڑتی ہے، وہی پلیٹ فارم آباد ہو جاتا ہے، لوگ پھر جلدی میں ہوتے ہیں، اور زندگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، آگے بڑھ جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ضمیر کو بھی اتنی آسانی سے آگے بڑھ جانا چاہیے؟
مینک کے قتل نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اصل گرہن سورج پر نہیں، ہمارے دلوں پر لگا ہے۔ ہم سورج گرہن ختم ہونے کا انتظار کر لیتے ہیں، لیکن اپنے دلوں پر چھائے ہوئے غصے، نفرت، بے حسی اور خود غرضی کے گرہن کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
یاد رکھیے، معاشرے صرف بلندوبالا عمارتوں سے نہیں بنتے، معاشرے انسانوں سے بنتے ہیں اور انسان صرف تعلیم سے نہیں بنتے، بلکہ برداشت، ہمدردی، اخلاق، احساسِ ذمہ داری اور ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرنے سے بنتے ہیں۔
اگر ہم نے آج بھی اپنے اندر کے اندھیرے کو روشنی میں نہ بدلا، تو کل کسی لوکل ٹرین، کسی بس، کسی بازار یا کسی گلی میں مرنے والا شاید کوئی اجنبی نہیں ہوگا، بلکہ شاید وہ ہم میں سے ہی کوئی ہوگا۔

