جب معمارِ قوم کا خواب سرِ بازار نیلام ہوا!

(مہاراشٹرا ٹی ای ٹی امتحان: امتحانی نظام کی ارتھی پر ایک ادبی نوحہ)

ڈاکٹر اسد اللہ خان

تاریخ کے صفحات جب بھی کسی قوم کی تنزلی کی داستان رقم کرتے ہیں، تو سب سے پہلی ضرب اس کے نظامِ تعلیم پر لگاتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک اور دردناک خبر ہے۔ ایک ایسے معاشرے کے لیے جہاں استاد کو “معمارِ قوم” مانا جاتا ہے، وہاں استاد بننے کے امتحان (TET) کی حرمت کا سرِ بازار نیلام ہو جانا کسی المیے سے کم نہیں۔ آج ریاستِ مہاراشٹرا کے ضلع تھانے سے آنے والی خبر محض ایک امتحان کی منسوخی کی اطلاع نہیں ہے، بلکہ یہ اس دھرتی کے لاکھوں ہونہار، محنتی اور بے گناہ نوجوانوں کے خوابوں کا قتلِ عام ہے۔ یہ استاد کی عظمت، علم کی حرمت اور عدل و انصاف کے جنازے کی وہ شہ سرخیاں ہیں، جنہیں دیکھ کر قلم خون کے آنسو روتا ہے اور زبان گنگ رہ جاتی ہے۔

علم کی منڈی اور ضمیر کے سوداگر

کتنی ستم ظریفی ہے کہ جس امتحان کا مقصد معاشرے کو “صالح اور ایماندار معمار” فراہم کرنا تھا، اسی امتحان کا پرچہ امتحانی مراکز تک پہنچنے سے پہلے ہی چند ٹکوں کے عوض ضمیر کے سوداگروں کی تجوریوں کی زینت بن گیا۔ پولیس کا تھانے میں چھاپہ مارنا، سوالیہ پرچوں کا ضبط ہونا اور چند کالی بھیڑوں کا حراست میں لیا جانا—یہ اس گلے سڑے نظام کی وہ بدبو ہے جو اب پورے معاشرے کا دم گھونٹ رہی ہے۔

تعلیم جو روشنی کا مینار تھی، آج اسے ہوس اور بدعنوانی کے اندھیروں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جب رہزن ہی پاسبان بن جائیں، تو قافلے کا لٹ جانا حیرت انگیز نہیں رہتا۔

ان امتحانی پرچوں کو بیچنے والوں نے صرف کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں بیچے، انہوں نے اس ٹیچر طالب علم کی راتوں کی نیندیں بیچی ہیں جو مٹی کے تیل کے دیے کی مدہم روشنی میں کتابیں چاٹ رہا تھا۔ انہوں نے اس بوڑھے باپ کی پونجی بیچی ہے جس نے اپنے بچے کو ‘شکشک’ (استاد) بنانے کے لیے اپنی کمر سیدھی نہیں ہونے دی۔

امتحانی نظام کا تاریک ماضیِ:تھانے کا یہ حالیہ واقعہ کوئی پہلی لغزش نہیں ہے، بلکہ یہ اس طویل اور گہرے کینسر کی ایک نئی علامت ہے جو مہاراشٹرا اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشنز (MSCE) کو اندر سے کھوکھلا کر چکا ہے۔ اگر ہم ماضی کے اوراق الٹیں، تو TET امتحانات کی تاریخ بدعنوانی اور گھوٹالوں کی سیاہی سے لت پت نظر آتی ہے۔تھانے کا یہ حالیہ سانحہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہرے کینسر کی ایک ہولناک کڑی ہے جو مہاراشٹرا اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشنز کی رگوں میں برسوں سے سرایت کیے ہوئے ہے۔ مہاراشٹرا کا امتحانی نظام خصوصاً اس وقت رہنِ ستم ہوا جب پونے سائبر پولیس نے ماضی کے امتحانات میں ہونے والی ایسی سنسنی خیز دھاندلیوں کا پردہ فاش کیا جس نے پورے تعلیمی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ انکشافات محض سرسری بے ضابطگیاں نہیں تھیں، بلکہ میرٹ کے مقتل میں قابلیت کا باقاعدہ اور منظم قتلِ عام تھا، جہاں عہدیداروں اور دلالوں کے گٹھ جوڑ نے ہر بار کامیابی کے نئے طریقے ایجاد کیے۔ اس گھوٹالے کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ امتحانی بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار ہی رشوت خوری کے بازار میں سب سے بڑے خریدار نکلے۔

اس منظم لوٹ مار کا ایک بدترین باب سال 2018 کے ٹی ای ٹی امتحان میں رقم کیا گیا۔ اس دوران ضمیر کے سوداگروں نے چوری چھپے امتحانی نظام کے دل یعنی او ایم آر (OMR) شیٹس کے ساتھ مجرمانہ ہیر پھیر کی۔ وہ امیدوار جو قابلیت کی دوڑ میں بری طرح ناکام (فیل) ہو چکے تھے، راتوں رات ان کے کھوٹے سکوں کو کھرے نوٹوں کے عوض کامیابی کے تمغوں میں بدل دیا گیا۔ جب پولیس نے اس گھناونے کھیل کی تہیں اکھاڑیں، تو قانون کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں؛ تحقیقات کے بعد 1,663 ایسے فرضی امیدواروں کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوا جنہوں نے رشوت کے بلبوتے پر کامیابی کی سند خریدی تھی، جس کے بعد ان پر تاحیات امتحانی پابندی عائد کر دی گئی۔

ابھی اس زخم کی سیاہی چھٹی بھی نہ تھی کہ سال 2019 کا ٹی ای ٹی امتحان اس تعلیمی تاریخ کا سب سے بڑا اور ہولناک دھچکا ثابت ہوا۔ اس بار سازش کاروں نے دستی ہیر پھیر کے بجائے براہِ راست ڈیجیٹل نظام پر شب خون مارا اور کمپیوٹرائزڈ رزلٹ ڈیٹا بیس کے اندر گھس کر نمبروں کے ہندسے بدل دیے۔ یہ بدعنوانی کا وہ طوفان تھا جس نے قابلیت کی ہر دیوار کو منہدم کر دیا۔ اس سازش کے نتیجے میں 7,880 نااہل امیدواروں کو غیر قانونی طور پر ‘کامیاب’ قرار دے کر اسناد بانٹ دی گئیں، جنہیں بعد میں سنگین تحقیقات کے بعد منسوخ کرنا پڑا۔

اس پورے ریکیٹ کا سب سے لرزہ خیز اور حیرت انگیز پہلو وہ گرفتاریاں تھیں جنہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ باڑھ ہی کھیت کو کھا رہی ہے۔ جب قانون کا شکنجہ کسا، تو اس نظام کے سب سے بڑے پاسبان ہی رہزن نکلے۔ امتحانی بورڈ کے سابق کمشنر سکھدیو ڈیرے، پونے کے اسسٹنٹ کمشنر، اور امتحانات کا انتظام سنبھالنے والی ‘جی اے سافٹ ویئر کمپنی’ کے اعلیٰ ڈائریکٹرز ایک ایک کر کے سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔ ان مقتدر کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کی گرفتاری نے یہ مہرِ تصدیق ثبت کر دی کہ امتحانی نظام پر سے اب طلبہ کا اعتماد سو فیصد اٹھ چکا ہے، اور جس محکمے کو قوم کا مستقبل سنوارنا تھا، اس کی اپنی ساکھ اب تاریخ کے سب سے گہرے ملبے کے نیچے دفن ہو چکی ہے۔

ان پچھلے گھوٹالوں کے دوران لگ بھگ 9,500 سے زائد ایسے اساتذہ کی فہرست جاری کی گئی تھی جنہوں نے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر فرضی اسناد حاصل کیں اور ریاست کے اسکولوں میں نوکریاں حاصل کر لیں۔ یہ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ جب امتحانی نظام کے چوکیدار ہی چور بن جائیں، تو قابلیت اور میرٹ کی موت یقینی ہو جاتی ہے۔

ذرا تصور کیجیے طلبہ کی مایوسی کے اس منظر کا!مہینوں کی ریاضت، دن رات کی بیداری، کتابوں سے عشق اور آنکھوں میں ایک روشن مستقبل کا خواب لیے جب ہزاروں طلبہ امتحان گاہ کی طرف قدم بڑھا رہے ہوں، اور اچانک ان کے کانوں میں یہ آواز گونجے: “امتحان منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ پرچہ پہلے ہی بک چکا تھا!”

یہ سن کر ان معصوم دلوں پر کیا گزری ہوگی؟ جب ایک غریب اور قابل امیدوار پچھلے گھوٹالوں کے ان 9,543 فرضی اساتذہ کی فہرست کو دیکھتا ہے، تو اس کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ مایوسی، یہ دل شکستگی کسی دیمک کی طرح ان کی صلاحیتوں کو چاٹ جائے گی۔ اب وہ کس پر بھروسہ کریں؟ اس نظام پر جو ان کی قابلیت کا مذاق اڑاتا ہے، یا ان اشتہارات پر جو شفافیت کا ڈھونگ رچاتے ہیں؟

کیا قابلیت کا معیار اب صرف پیسہ ہے؟

ماضی میں بھی مسابقتی امتحانات (Competitive Exams) کے پرچے پھٹتے رہے ہیں، اور ہر بار نظامِ حکومت تحقیقات کی لوری سنا کر نوجوانوں کو سلا دیتا ہے۔ اگر استاد بننے کی اہلیت کا فیصلہ علم کے بجائے نوٹوں کی گڈیوں اور او ایم آر شیٹ کی خرد برد سے ہوگا، تو کل کلاس رومز میں جو نسل تیار ہوگی، وہ کیسی ہوگی؟

کیا وہ علم کا احترام کرے گی؟

کیا وہ ملک و ملت سے وفادار ہوگی؟

کیا وہ آنے والی نسلوں کو دیانتداری کا سبق پڑھا پائے گی؟

اب وقت آ گیا ہے کہ محکمہ تعلیم اور اربابِ اقتدار اپنی گہری نیند سے بیدار ہوں۔ صرف “امتحان ملتوی” کرنا یا چند مہروں کو گرفتار کر لینا اس کینسر کا علاج نہیں ہے۔ جب تک اس ریکیٹ کے اصل سرغنہ، وہ سفید پوش درندے جو پسِ چلمن بیٹھ کر نوجوانوں کے مستقبل کا سودا کرتے ہیں، کیفرِ کردار تک نہیں پہنچائے جاتے، تب تک کوئی امتحان محفوظ نہیں ہو سکتا۔

ہمیں صرف نئی امتحانی تاریخوں کا انتظار نہیں ہے، ہمیں اس بیمار نظام کی تطہیر (Purification) کا انتظار ہے۔ ہمیں انصاف چاہیے—ان لاکھوں طلبہ کے لیے جن کی امیدوں کا خون تھانے کی گلیوں میں ہوا ہے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، اور علم کی یہ شمع ہمیشہ کے لیے گل ہو جائے گی۔

عدالتِ وقت سے صرف ایک ہی دہائی ہے کہ خوابوں کے ان قاتلوں کو سرِ عام سزا دو، اس سے پہلے کہ نوجوانوں کا عدل سے یقین ہی اٹھ جائے!

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *