ڈاکٹر اسد اللہ خان
آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے باوجود نوکری پا لینا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ آپ میں سینکڑوں صلاحیتیں ہوں، مگر اگر ایک بھی “کمی” نظر آ جائے — کوئی جسمانی معذوری، کوئی کمزوری، کوئی “داغ” — تو پورا چراغ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کام ناممکن نہیں ہوتا، مگر مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔
مجھے ایک ایسے ہی ہونہار نوجوان کا قصہ یاد آتا ہے۔ ملک کے ایک ممتاز انجینئرنگ ادارے سے فارغ التحصیل، تعلیمی ریکارڈ اِس قدر شاندار کہ کاغذات دیکھتے ہی ایک بڑی کمپنی نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لینے کا ارادہ کر لیا۔ مگر جب انٹرویو میں یہ کھلا کہ وہ نوجوان قوتِ سماعت کی ایک بیماری میں مبتلا ہے، تو وہی کمپنی — جو ابھی ابھی اُس کی ذہانت پر فریفتہ تھی — چپ چاپ قدم پیچھے کھینچ لائی۔ ڈگری، محنت اور قابلیت — سب ایک “طبی رپورٹ” کے سامنے ہار گئے۔
مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ معذوری جسم کی ہوتی ہے، حوصلے کی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی، اُن میں سے بیشتر نے “کمی” کو “طاقت” میں بدلا۔ آئیے آج ایسے ہی دس روشن چراغوں کی داستانیں سنتے ہیں — جن کی لَو آندھیوں میں بھی بجھی نہیں، بلکہ اور تیز ہوئی۔
عظمت اور ہمت کی روشن مثالیں
انسان اگر سچے دل سے کچھ کرنے کا ارادہ کر لے تو جسمانی اعضاء کی محرومی اس کے خوابوں کے آڑے کبھی نہیں آ سکتی۔ تاریخ اور حال کے افق پر ایسے کئی درخشندہ ستارے چمک رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت کے بلبوتے پر طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔
شری کانت بولا (Srikanth Bolla):
پیدائشی طور پر مکمل نابینا شری کانت بولا کو بچپن ہی سے انتہائی غربت اور سماجی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دسویں جماعت کے بعد سائنس پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، تو بھارتی نظامِ تعلیم نے ان کے نابینا ہونے کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے اس ناانصافی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چھ ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد کامیابی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گیارہویں جماعت میں ۹۸ فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا۔ جب ملک کے مایہ ناز ادارے آئی آئی ٹی (IIT) نے بھی انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا، تو انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ایم آئی ٹی (MIT) کا رخ کیا اور وہاں داخلہ پانے والے پہلے بین الاقوامی نابینا طالب علم بن گئے۔ بھارت واپس آ کر انہوں نے “بولانٹ انڈسٹریز” (Bollant Industries) قائم کی جو ماحول دوست مصنوعات بناتی ہے اور جہاں سیکڑوں معذور افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ آج شری کانت کروڑوں روپے کی کمپنی کے مالک اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک عالمی رول ماڈل ہیں۔
سدھا چندرن (Sudha Chandran):
محض ۱۶ سال کی عمر میں ایک خوفناک سڑک حادثے اور ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سدھا چندرن کی دائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ایک کلاسیکل رقاصہ کے لیے یہ مصیبت کسی موت سے کم نہ تھی کیونکہ ان کا پورا کیریئر پاؤں کی تھرکنے سے وابستہ تھا۔ مگر سدھا نے بیساکھیوں کے سہارے جینے کو ٹھکرا دیا اور “جائپور فٹ” (مصنوعی ٹانگ) لگوا کر انتہائی شدید تکلیف کے باوجود دوبارہ رقص سیکھنا شروع کیا۔ مشق کے دوران اکثر ان کے زخموں سے خون بہہ نکلتا تھا، مگر ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اسٹیج پر واپسی کی اور ایسا شاندار رقص پیش کیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ آج وہ نہ صرف ایک عالمی شہرت یافتہ رقاصہ ہیں بلکہ بھارتی فلم و ٹیلی ویژن کی ایک مانی ہوئی اور کامیاب اداکارہ بھی بن چکی ہیں۔
ایرا سنگھل (Ira Singhal):
ریڑھ کی ہڈی کی ایک نایاب بیماری “اسکولیوسس” (Scoliosis) کی وجہ سے ایرا سنگھل کے دونوں بازوؤں کی حرکت انتہائی محدود تھی۔ انہوں نے اپنی اس کمزوری کو پڑھائی کے آڑے نہیں آنے دیا اور ۲۰۱۰ میں ملک کا سب سے مشکل امتحان یو پی ایس سی (UPSC) پاس کیا، مگر انتطامیہ نے ان کی جسمانی حالت کا بہانہ بنا کر انہیں سرکاری ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔ ایرا نے اس امتیازی سلوک کو چپ چاپ قبول کرنے کے بجائے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (CAT) میں کیس دائر کیا اور چار سال تک ایک صبر آزما قانونی جنگ لڑ کر اپنا حق جیتا۔ انہوں نے ۲۰۱۴ میں دوبارہ امتحان دیا اور اس بار نہ صرف کامیاب ہوئیں بلکہ پورے ملک میں پہلی پوزیشن (Rank 1) حاصل کر کے جنرل کیٹیگری میں ٹاپ کیا۔ آج وہ ایک بہترین اور نڈر سول سروسز آفیسر کے طور پر ملک کی خدمت کر رہی ہیں۔
ارونیما سنہا (Arunima Sinha):
قومی سطح کی والی بال کھلاڑی ارونیما سنہا کی زندگی میں ۲۰۱۱ میں اس وقت اندھیرا چھا گیا جب کچھ چوروں نے انہیں چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا، جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ہسپتال کے بستر پر جہاں لوگ ان پر ترس کھا رہے تھے اور انہیں “بے چاری” سمجھ رہے تھے، انہوں نے وہیں لیٹے لیٹے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کا ناقابل یقین فیصلہ کیا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی انہوں نے پہلی بھارتی خاتون ایورسٹ فاتح بچیندری پال سے سخت ٹریننگ شروع کی۔ سرپھرے عزم کی بدولت ۲۰۱۳ میں وہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی دنیا کی پہلی معذور خاتون بنیں اور اس کے بعد انہوں نے دنیا کے تمام ۷ براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں پر کامیابی سے اپنے ملک کا ترنگا لہرایا۔
تاریخ کے مزید روشن ستارے
نک وجیسک (Nick Vujicic):
آسٹریلیا میں ۱۹۸۲ میں پیدا ہونے والے نک وجیسک کی جسمانی حالت دیکھ کر لوگ کانپ اٹھتے تھے کیونکہ وہ بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں ہم جماعتوں کی ایذا رسانی اور شدید ذہنی اذیت سے تنگ آ کر محض ۱۰ سال کی عمر میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی اور روتے ہوئے اپنی ماں سے پوچھا تھا کہ “میں نے کیا گناہ کیا تھا؟”۔ مگر پھر انہوں نے حالات سے لڑنے اور خود اس سوال کا جواب بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کو جینے کا عزم کیا؛ تیرنا سیکھا، گٹار بجایا، فٹ بال کھیلا اور اپنی ایک چھوٹی سی “پاؤں نما” پیدائشی ساخت کی مدد سے کی بورڈ پر ٹائپ کرنا سیکھا۔ انہوں نے بائبل کے پیغام سے روحانی طاقت لی اور “لائف ود آؤٹ لمبز” (Life Without Limbs) نامی تنظیم قائم کر کے اپنی کہانی دنیا کو سنانے نکل پڑے۔ آج نک دنیا کے ۶۰ سے زیادہ ممالک میں لاکھوں مایوس لوگوں کو اپنی تقاریر سے نئی زندگی دے چکے ہیں، کئی عالمی بیسٹ سیلر کتابوں کے مصنف ہیں، ہنستی کھیلتی فیملی کے ساتھ شادی شدہ ہیں اور چار بچوں کے باپ ہیں۔
ہیلن کیلر (Helen Keller):
امریکہ میں ۱۸۸۰ میں پیدا ہونے والی ہیلن کیلر ابھی صرف انیس ماہ کی تھیں کہ ایک مہلک بیماری نے ان سے دیکھنے اور سننے کی صلاحیت ہمیشہ کے لیے چھین لی۔ ایک ننھی بچی اچانک ایک ایسی دنیا میں قید ہو گئی جہاں صرف اندھیرا اور ہو کا عالم تھا، جہاں نہ بولنا آتا تھا نہ پڑھنا۔ اس تاریکی میں ان کی معلمہ “این سولیون” ان کی زندگی میں روشنی بن کر آئیں جنہوں نے ہیلن کی ہتھیلی پر حروف لکھ کر ان کے لیے علم کے دروازے کھولے۔ ہیلن نے اس لمس کی زبان کو اپنی روح میں اتار لیا، برائل سسٹم سیکھا، اور دوسروں کے ہونٹوں کی کمپن کو محسوس کر کے بولنا سیکھا۔ وہ ریڈکلف کالج سے گریجویشن کرنے والی دنیا کی پہلی بہری اور نابینا شخصیت بنیں۔ ان کی خود نوشت سوانح حیات “دی اسٹوری آف مائی لائف” دنیا کی ۵۰ سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ وہ معذور افراد کے حقوق کی عالمی علمبردار بنیں اور امریکی صدر نے انہیں ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز “پریسیڈنشل میڈل آف فریڈم” سے نوازا۔
ولما رڈولف (Wilma Rudolph):
امریکہ کے ریاست ٹینیسی میں ۱۹۴۰ میں پیدا ہونے والی ولما رڈولف ایک غریب سیاہ فام خاندان کے ۲۲ بچوں میں سے ایک تھیں۔ چار سال کی عمر میں پولیو کے شدید حملے نے ان کی بائیں ٹانگ کو مکمل مفلوج کر دیا اور ڈاکٹروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ بچی کبھی اپنے پاؤں پر چل نہیں سکے گی، اوپر سے نسل پرستی اور غربت کا کڑا وقت تھا۔ مگر ولما کی ماں نے ہار ماننے سے انکار کر دیا اور چھوٹے بہن بھائی روزانہ باری باری ولما کی ٹانگ کی مالش کرتے۔ مسلسل جدوجہد کے بعد ۱۲ سال کی عمر میں ولما نے پیروں سے لوہے کا بریس اتار پھینکا اور ننگے پاؤں دوڑنا شروع کیا۔ ایک مقامی کوچ کی نظر ان کے اس جذبے پر پڑی تو انہوں نے ولما کو پروفیشنل ٹریننگ دی۔ پھر محنت اور لگن کا ایسا جادو چلا کہ ۱۹۶۰ کے روم اولمپکس میں ولما نے ۱۰۰ میٹر، ۲۰۰ میٹر اور ۴x۱۰۰ ریلے ریس میں سونے کے تین تمغے جیت کر دنیا کی تیز ترین خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی اس تاریخی کامیابی پر ان کے شہر کے گورنر کو مجبوراً نسل پرستی کی دیوار گرا کر پہلی بار سیاہ فام اور سفید فام شہریوں کو اکٹھے ان کا استقبال کرنے کا حکم دینا پڑا۔
لڈوگ وان بیتھوون (Ludwig van Beethoven):
جرمنی میں ۱۷۷۰ میں پیدا ہونے والے شہرہ آفاق موسیقار لڈوگ وان بیتھوون ابھی محض ۲۶ سال کے تھے جب ان کے کانوں میں عجیب سی آوازیں آنے لگیں اور ۴۰ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے وہ مکمل طور پر بہرے ہو گئے۔ ایک موسیقار کے لیے سماعت کا چھن جانا اس کی زندگی کی سب سے بڑی اور بدترین آزمائش ہے۔ انہوں نے مایوسی کے عالم میں اپنے دوست کو خط میں لکھا تھا کہ وہ خودکشی کا سوچ رہے ہیں مگر فن نے ان کا ہاتھ روک لیا ہے۔ بیتھوون نے فیصلہ کیا کہ اگر ان کے کان نہیں سن سکتے تو کیا ہوا، ان کی روح تو سن سکتی ہے۔ وہ پیانو کی لرزش اور وائبریشن کو محسوس کرنے کے لیے لکڑی کی ایک چھڑی کا ایک سرا دانتوں سے پکڑتے اور دوسرا پیانو کے ڈھکن سے لگاتے۔ اس مکمل بہرے پن کے دور میں انہوں نے اپنی زندگی کی عظیم ترین دھنیں اور موسیقی تخلیق کی۔ ان کی “نویں سمفنی” (Ninth Symphony)—جسے انہوں نے خود کبھی کانوں سے نہیں سنا—دنیا کی تاریخ کی عظیم ترین موسیقی شمار ہوتی ہے۔ جب یہ سمفنی پہلی بار اسٹیج پر پیش کی گئی تو بیتھوون پیٹھ کیے کھڑے تھے، تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے جب ہال گونج اٹھا تو ایک شاگرد نے انہیں موڑ کر پبلک کی طرف کیا، تب بیتھوون نے اپنی آنکھوں کے آنسوؤں سے اس داد کو محسوس کیا جسے ان کے کان نہ سن سکے تھے۔
فریدہ کہلو (Frida Kahlo):
میکسیکو کی مایہ ناز مصورہ فریدہ کہلو ۱۹۰۷ میں پیدا ہوئیں اور ابھی چھ سال کی تھیں کہ پولیو نے ان کی ایک ٹانگ کو کمزور کر دیا۔ ۱۸ سال کی عمر میں ایک بھیانک بس حادثے نے ان کی ریڑھ کی ہڈی، پسلیاں، کولہے اور ٹانگ کی ہڈیاں سرمے کی طرح توڑ دیں۔ زندگی میں ۳۵ سے زیادہ آپریشنز ہوئے اور ان کا بیشتر وقت بستر پر جپسم کی قید میں گزرا، جبکہ ازدواجی زندگی کے دھوکے نے ان کی روح کو الگ زخمی کیا۔ اس ناقابل برداشت جسمانی و ذہنی درد کے دوران ہسپتال کے بستر پر لیٹے لیٹے ان کی ماں نے انہیں برش اور رنگ لا کر دیئے اور چھت پر ایک آئینہ لگوایا تاکہ وہ خود کو دیکھ کر تصویریں بنا سکیں۔ فریدہ نے اپنے گوشت پوست کے درد کو کینوس پر رنگوں میں ڈھال دیا۔ ان کی ہر پینٹنگ ان کی زندگی کا مرثیہ اور داستان معلوم ہوتی ہے۔ آج ان کی بنائی ہوئی تصویریں کروڑوں ڈالر میں فروخت ہوتی ہیں اور ان کی پینٹنگ “دی ٹو فریداس” (The Two Fridas) عالمی شہرت کی حامل ہے۔ دنیا بھر کی خواتین انہیں حوصلے اور خودداری کی علامت مانتی ہیں اور میکسیکو نے انہیں اپنا سب سے بڑا قومی ہیرو قرار دیا ہے۔
ساتوشی تاجیری (Satoshi Tajiri):
جاپان میں پیدا ہونے والے ساتوشی تاجیری کو بچپن ہی میں “آٹزم” (Autism) کی تشخیص ہوئی، جو کہ ایک ایسی ذہنی حالت ہے جس میں انسان کے لیے سماجی تعلقات قائم کرنا اور عام لوگوں کی طرح بات چیت کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اسکول میں ان کا کوئی دوست نہیں بنتا تھا اور وہ اکیلے جنگلوں میں کیڑے مکوڑے پکڑتے رہتے تھے جس کی وجہ سے لڑکے انہیں “پاگل” کہہ کر چڑاتے تھے۔ مگر ساتوشی کے والدین نے ان کا یہ شوق چھڑوانے کے بجائے ان کا حوصلہ بڑھایا۔ ساتوشی نے اپنی اسی تنہائی اور کیڑے مکوڑے جمع کرنے کے شوق کو ایک منفرد آئیڈیا میں بدلا اور سوچا کہ کاش بچے ایک ہی جگہ ایسی مختلف خیالی مخلوقات جمع کر سکیں اور آپس میں شیئر کر سکیں۔ انہوں نے نینٹینڈو (Nintendo) کمپنی کو ایک گیم کا آئیڈیا بھیجا، کئی سالوں تک انتظار کیا اور شدید نامنظوری کا سامنا کیا مگر وہ اپنے آئیڈئے پر ڈٹے رہے۔ بالآخر ۱۹۹۶ میں ان کا یہ آئیڈیا “پوکیمون” (Pokémon) کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا جو آج تک کی دنیا کی سب سے کامیاب گیم اور میڈیا فرینچائز بن چکی ہے اور اربوں ڈالر کا بزنس کر چکی ہے۔ ساتوشی نے دنیا کو ثابت کر دکھایا کہ جو “فرق” آپ کو دنیا سے الگ تھلگ کرتا ہے، وہی دراصل آپ کی عظمت کی وجہ بن سکتا ہے.
ان مثالوں پر غور کریں، تو روح کو جھنجھوڑ دینے والا ایک ہی سچ سامنے آتا ہے کہ رکاوٹیں صرف ذہن کی ہوتی ہیں، جسم کی نہیں۔ ان تمام عظیم شخصیات کی زندگی کا ہر ایک ورق ہمیں پکار پکار کر کہتا ہے کہ جب حوصلے سلامت ہوں تو جسمانی محرومیاں انسان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتی ہیں۔
سوچیے ذرا! جب اسٹیفن ہاکنگ کا پورا جسم موٹر نیورون کی بیماری کی وجہ سے مفلوج ہو گیا، تو انہوں نے دنیا کو سکھایا کہ قید صرف جسم کی ہوتی ہے، ذہن ہمیشہ آزاد ہونا چاہیے۔ اسی آزاد ذہن کی بدولت انہوں نے بلیک ہول تھیوری جیسے کائنات کے وہ راز فاش کیے جن تک رسائی عام انسان کے بس میں نہ تھی۔ جب پیدائشی نابینا پن کے ساتھ جینے والے شری کانت بولا کے سامنے دنیا نے دیواریں کھڑی کیں، تو انہوں نے ایم آئی ٹی (MIT) سے گریجویشن کر کے اور “بولانٹ انڈسٹریز” کا سی ای او بن کر یہ ثابت کیا کہ معذوری کبھی کاروبار یا ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
دل کو رلا دینے والی اور روح کو گرما دینے والی داستانوں میں ارونیما سنہا کا نام بھی شامل ہے، جنہوں نے کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ جب ماؤنٹ ایورسٹ اور دنیا کے ساتوں براعظموں کی فلک بوس چوٹیوں کو اپنے قدموں تلے روندا، تو دنیا نے مان لیا کہ انسان کا حوصلہ پہاڑوں سے بھی بلند ہوتا ہے۔ اسی طرح، جب ریڑھ کی ہڈی کی شدید معذوری کے باوجود ایرا سنگھل نے یو پی ایس سی (UPSC) کے امتحان میں پورے ملک میں پہلا رینک حاصل کیا، تو انہوں نے معاشرے کو ایک لازوال سبق دیا کہ اپنے حق کے لیے لڑنا سیکھیں۔
فن کی دنیا پر نظر ڈالیں تو سدھا چندرن کی کٹی ہوئی ٹانگ اور ان کی مصنوعی ٹانگ کا رقص ہمیں یہ گہرا احساس دلاتا ہے کہ فن کو جسم نہیں، بلکہ روح چلاتی ہے۔ اور جب ہم نک وجیسک کو دیکھتے ہیں، جن کے چاروں اعضاء — بازو اور ٹانگیں — غائب ہیں، لیکن وہ ایک عالمی مقرر بن کر ۶۰ سے زیادہ ممالک میں لاکھوں بجھے ہوئے دلوں کو جینے کی امید دے رہے ہیں، تو دل گواہی دیتا ہے کہ اگر اندر کا حوصلہ زندہ ہو تو جسم کی کوئی کمی، کمی نہیں رہتی۔
تاریخ کے اوراق میں چھپی ہیلن کیلر کی وہ سسکی اور پھر ان کی فتح، جو بچپن ہی سے نابینا اور بہری تھیں لیکن دنیا کی پہلی ڈیف بلائنڈ گریجویٹ اور عالمی مصنفہ بنیں، ہمیں یقین دلاتی ہے کہ گھپ اندھیرے میں بھی امید کی روشنی مل ہی جاتی ہے۔ بچپن میں پولیو کا شکار ہونے والی وہ بچی جو چل بھی نہیں سکتی تھی، یعنی ولما رڈولف، جب اولمپک میں تین گولڈ میڈلز جیت کر دنیا کی تیز ترین خاتون بنتی ہے، تو وہ ثابت کرتی ہے کہ جب انسان سچے دل سے دوڑنا چاہے تو بے جان پاؤں بھی راستہ دے دیتے ہیں۔ اور آخر میں، موسیقار کا سب سے بڑا خوف یعنی بہرا پن، جب لڈوگ وان بیتھوون کا مقدر بنا تو انہوں نے نویں سمفنی جیسی دنیا کی عظیم ترین موسیقی تخلیق کر کے کائنات کو یہ پیغام دیا کہ حسنِ فطرت کو سننے کی ضرورت نہیں، اسے روح سے محسوس کرو۔
یہ تمام واقعات محض الفاظ نہیں، بلکہ انسانی عزم کے وہ روشن چراغ ہیں جو ہمارے اندر کی مایوسی کو جلا کر راکھ کر دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ خدا جب کسی سے کوئی ایک صلاحیت لیتا ہے، تو اس کے بدلے اسے وہ باطنی طاقت عطا کر دیتا ہے جو عام انسانوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں دو کروڑ سے زائد افرادِ باصلاحیت کسی نہ کسی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ قانون (معذور افراد کے حقوق کا ایکٹ ۲۰۱۶) اُنھیں تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں حصہ داری کا حق دیتا ہے، اور آج کی ٹیکنالوجی — اسکرین ریڈر، مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون آلات، سماعتی مشینیں — نے بہت سی دیواریں گرا دی ہیں۔
مگر سب سے اونچی دیوار اب بھی وہی ہے جو ہمارے ذہنوں میں کھڑی ہے: وہ ترحم بھری نظر جو کسی کو “بے چارہ” کہہ کر اُس کی صلاحیت کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ نک وجیسک کے بازو نہیں تھے، مگر انہوں نے لاکھوں زندگیاں تھامیں۔ ہیلن کیلر کی آنکھیں نہ تھیں، مگر انہوں نے دنیا کو راہ دکھائی۔ فریدہ کہلو کا جسم درد میں تھا، مگر ان کی تصویریں روحوں کو رنگتی ہیں۔ ہمیں ان افراد کو ہمدردی کی نہیں، بلکہ برابر کے مواقع کی ضرورت فراہم کرنی ہوگی۔
معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ اداروں میں ریمپ بنائے، اسکولوں میں برائل مواد فراہم کرے، کام کی جگہوں پر صوتی آلات نصب کرے — مگر سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ نگاہ بدلے۔ جب نگاہ بدلتی ہے تو دنیا بدل جاتی ہے۔
تو کیا عبرت حاصل کی آپ نے ؟
سبق یہ ہے کہ نہ تو کسی کو اپنی کسی کمی کو زنجیر بنانا چاہیے، اور نہ سماج کو کسی کمی کو پیمانہ۔ سخت محنت اور جاں فشانی کے سامنے بڑے سے بڑا پہاڑ بھی راستہ دے دیتا ہے۔ کوہکن نے تیشہ اٹھایا تو پتھر سے دودھ کی نہر نکال لائی۔ کامیابی کسی کے باپ کی میراث نہیں؛ یہ اُسی کے قدم چومتی ہے جو گرنے سے نہیں، رک جانے سے ڈرتا ہے۔
نک نے بازوؤں کے بغیر دنیا کو گلے لگایا۔ ہیلن نے آنکھوں کے بغیر روشنی دکھائی۔ بیتھوون نے کانوں کے بغیر موسیقی کو ابدی بنایا۔ ولما نے پولیو زدہ ٹانگوں سے اولمپک کا سنہری تمغہ جیتا۔ فریدہ نے درد کو رنگ دیا اور ساتوشی نے اپنی “کمی” سے کھیلوں کی تاریخ لکھ دی۔
اِس لیے اے محنت کش طالب علمو! یہ نہ دیکھو کہ تمہارے پاس کیا نہیں ہے؛ یہ دیکھو کہ تمہارے پاس جو ہے، اُس کا تم نے کیا کیا۔ راستے کانٹوں سے بھرے ہوں تو ہوں، حوصلہ اگر سلامت ہے تو منزل بھی سلامت ہے۔ کیونکہ تاریخ نے ہمیشہ اُنھی کا نام لکھا ہے جنھوں نے طوفانوں سے دوستی کی، ساحل کی خاموشی سے نہیں۔
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں

