گھر کا آنگن — شخصیت کی پہلی درس گاہ
پُرسکون گھر بچے کے اعتماد، کردار اور تعلیمی کامیابی کی اصل بنیاد کیوں ہے؟
ڈاکٹر اسد اللہ خان
بچہ اسکول بعد میں داخل ہوتا ہے، تربیت پہلے پا چکا ہوتا ہے۔ دنیا کی قدیم ترین درس گاہ وہ ہے جس کا نہ کوئی نصاب ہے، نہ گھنٹی، نہ داخلہ فارم، نہ سالانہ امتحان؛ مگر اس کے پڑھائے ہوئے سبق عمر بھر ساتھ چلتے ہیں۔ اس درس گاہ کا نام گھر ہے۔ ماں کی گود اس کی پہلی جماعت ہے، باپ کا رویہ اس کا نصاب، دسترخوان اس کی تجربہ گاہ، اور گھر کی فضا وہ ان لکھی کتاب جسے بچہ پڑھتا نہیں، جیتا ہے۔
ہم اسکول بدلتے ہیں، ٹیوشن بڑھاتے ہیں، نصاب پر بحث کرتے ہیں اور فیسوں کا موازنہ کرتے ہیں؛ مگر جس چار دیواری میں بچہ اپنی عمر کا سب سے بڑا حصہ گزارتا ہے، اس کی فضا پر غور کرنے کی زحمت کم ہی اٹھاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کا بچہ کس اسکول میں پڑھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کا گھر اسے کیا پڑھا رہا ہے؟
’’بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم انہیں سکھاتے ہیں؛ وہ سیکھتے ہیں جو ہم ان کے سامنے جی کر دکھاتے ہیں۔‘‘
گزشتہ نصف صدی میں تعلیم پر جتنی گفتگو ہوئی، اس کا مرکز و محور اسکول رہا۔ عمارتیں، بورڈ، نتائج، درجہ بندیاں، سمارٹ کلاسیں — گویا بچے کی تقدیر کا سارا فیصلہ صبح آٹھ سے دوپہر تین بجے کے درمیان ہوتا ہے۔ مگر تعلیمی تحقیق کی دنیا اس مفروضے کو کب کی رد کر چکی ہے۔ امریکہ میں ۱۹۶۶ء کی مشہور کولمین رپورٹ نے، جو ہزاروں اسکولوں اور لاکھوں طلبہ کے مطالعے پر مبنی تھی، یہ چونکا دینے والا نتیجہ پیش کیا کہ بچے کی تعلیمی کارکردگی پر اس کے خاندانی پس منظر کا اثر اسکول کے وسائل سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرِ نفسیات یوری برونفن برینر نے اپنے معروف ماحولیاتی نظریے میں بچے کو دائروں کے مرکز میں رکھا: سب سے اندرونی اور سب سے طاقت ور دائرہ خاندان ہے؛ اسکول، محلہ اور معاشرہ بعد کے حلقے ہیں۔ گویا بچہ اسکول کی پیداوار نہیں، گھر کی تخلیق ہے؛ اسکول تو اس تخلیق کو تراشتا بھر ہے۔ جس بنیاد پر عمارت کھڑی ہونی ہے، وہ بنیاد گھر کے آنگن میں رکھی جاتی ہے۔
پھر یہ غفلت پیدا کیسے ہوئی کہ ہم نے تربیت کا سارا بوجھ اسکول کے کندھوں پر ڈال دیا؟ اس کی پہلی جڑ وہ خاموش مفروضہ ہے جو ہمارے ذہنوں میں بیٹھ گیا: تعلیم ایک خدمت ہے جو خریدی جا سکتی ہے۔ جب والدین فیس ادا کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کردار سازی کی ذمے داری بھی اسی رسید میں شامل ہے۔ دوسری جڑ معاشی دباؤ ہے: روزگار کی دوڑ نے گھروں سے فرصت چھین لی، اور فرصت کے بغیر تربیت ممکن نہیں، کیونکہ تربیت لمحوں میں نہیں، رفاقت میں ہوتی ہے۔
تیسری جڑ خاندانی ڈھانچے کی تبدیلی ہے۔ مشترکہ خاندان اپنی تمام خامیوں کے باوجود بچے کو رشتوں کی ایک پوری کائنات دیتا تھا: دادی کی کہانی، چچا کی شفقت، بہن بھائیوں کی رفاقت۔ سمٹتے ہوئے گھرانوں میں بچہ اکثر دو مصروف بڑوں اور ایک روشن اسکرین کے حوالے ہے۔ اور چوتھی جڑ سب سے نازک ہے: ہم نے گھر کو رہنے کی جگہ تو رکھا، جینے کی جگہ نہیں رہنے دیا۔ جہاں مکین ایک چھت تلے الگ الگ دنیاؤں میں بستے ہوں، وہ عمارت مکان تو ہے، گھر نہیں۔
جب استاد کی نگاہ جماعت پر پڑتی ہے تو اسے صرف چہرے نہیں، گھروں کے موسم دکھائی دیتے ہیں۔ ہر بچہ اپنے بستے کے ساتھ ایک اَن دیکھا بوجھ بھی اٹھائے آتا ہے وہ اپنے گھر کی فضا بھی ساتھ لاتا ہے۔ جس بچے نے رات گھر میں تکرار سنی ہو، وہ صبح سبق پر توجہ نہیں دے سکتا، خواہ استاد کتنا ہی ماہر ہو۔ فکر مند ذہن سیکھنے کے لیے آزاد نہیں ہوتا؛ وہ پہلے اپنی حفاظت کے سوال حل کرتا ہے، پھر ریاضی کے۔ اسی لیے تجربہ کار معلم جانتے ہیں کہ کمزور نتائج کی جڑیں اکثر کاپیوں میں نہیں، آنگنوں میں ہوتی ہیں۔
گھر کا اثر صرف سکون تک محدود نہیں؛ زبان اور تجسس بھی وہیں پروان چڑھتے ہیں۔ امریکی محققین ہارٹ اور رزلے کے مشہور مطالعے نے دکھایا کہ جن گھروں میں بچوں سے کثرت سے بات کی جاتی ہے، وہ اسکول پہنچنے سے پہلے ہی الفاظ کے اتنے بڑے ذخیرے کے مالک ہوتے ہیں کہ کم گو گھرانوں کے بچے برسوں ان کا ساتھ نہیں پا سکتے۔ دسترخوان کی گفتگو دراصل ایک غیر رسمی نصاب ہے: وہاں بچہ سوال کرنا، اختلاف سننا، رائے بنانا اور لفظ برتنا سیکھتا ہے۔ جس گھر میں کتاب نظر آتی ہے، وہاں بچہ پڑھنے کو زندگی کا حصہ سمجھتا ہے؛ جس گھر میں کتاب صرف بستے میں بند ہو، وہاں پڑھائی محض سزا کی ایک صورت بن جاتی ہے۔
’’کمزور نتائج کی جڑیں اکثر کاپیوں میں نہیں، آنگنوں میں ہوتی ہیں۔‘‘
جدید نفسیات نے جس حقیقت کو تجربہ گاہوں میں ثابت کیا، دانائے راز مائیں اسے صدیوں سے جانتی تھیں: بچے کو سب سے پہلے کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ تحفظ کا احساس ہے۔ جان بولبی کے نظریۂ وابستگی کے مطابق جس بچے کو ابتدائی برسوں میں ایک مستحکم، شفیق اور قابلِ اعتماد سہارا میسر آتا ہے، وہ دنیا کو تجربہ گاہ سمجھ کر اس میں اترتا ہے؛ اور جسے یہ سہارا نہیں ملتا، وہ دنیا کو خطرہ سمجھ کر اپنے آپ میں سمٹ جاتا ہے۔ اعتماد کوئی تقریری مقابلہ جیتنے سے نہیں آتا؛ وہ اس یقین سے آتا ہے کہ میرے پیچھے ایک محفوظ آنگن ہے جہاں میری ناکامی پر بھی دروازہ کھلا ملے گا۔
البرٹ بنڈورا کی تحقیق نے دوسری حقیقت آشکار کی: بچہ سب سے زیادہ مشاہدے سے سیکھتا ہے۔ والدین کا غصہ ضبط کرنا اسے ضبط سکھاتا ہے، ان کی بدکلامی اسے بدکلامی۔ نصیحت کان تک جاتی ہے، کردار دل میں اترتا ہے۔ اور تیسری حقیقت سب سے سنگین ہے: بچپن کے تلخ تجربات پر ہونے والی وسیع طبی تحقیق بتاتی ہے کہ گھریلو کشیدگی کا مسلسل دباؤ بڑھتے ہوئے دماغ کی ساخت تک پر اثر انداز ہوتا ہے؛ یادداشت، توجہ اور جذباتی توازن سب متاثر ہوتے ہیں۔ گویا گھر کا شور صرف کان تک نہیں جاتا، اعصاب میں بس جاتا ہے۔
گھر بچے کے لیے معاشرے کا پہلا نقشہ ہے۔ انصاف کیا ہے؟ یہ وہ سب سے پہلے اس وقت سیکھتا ہے جب والدین دو بھائیوں کے جھگڑے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ عورت کا احترام کیا ہے؟ یہ وہ کتاب سے نہیں، باپ کے لہجے سے سیکھتا ہے جس میں وہ ماں سے مخاطب ہوتا ہے۔ سچائی کی قیمت کیا ہے؟ یہ اسے اس دن معلوم ہوتی ہے جب گھر کا کوئی بڑا دروازے پر آئے شخص سے کہلواتا ہے کہ صاحب گھر پر نہیں۔ معاشرتی اقدار پہلے آنگن میں سانس لیتی ہیں، پھر گلیوں میں چلتی ہیں۔
اسی لیے جب ہم معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے صبری، بدکلامی اور عدم برداشت کا نوحہ پڑھتے ہیں تو دراصل ہم اپنے گھروں کا اجتماعی رزلٹ کارڈ پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ کوئی قوم اپنے آنگنوں سے بہتر نہیں ہو سکتی۔ سڑک پر بگڑنے والا لڑکا اکثر وہ ہوتا ہے جو گھر میں سنا نہیں گیا؛ اور جو گھر میں سنا نہیں جاتا، وہ باہر شور بن کر سنائی دیتا ہے۔
انسانی تہذیب کی ہر بڑی روایت نے یہ راز پا لیا تھا۔ مشہور قول کہ ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہے، محض ایک خوش نما جملہ نہیں بلکہ صدیوں کے مشاہدے کا نچوڑ ہے۔ ہماری علمی تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے اہلِ کمال کے پیچھے کوئی عالی شان ادارہ نہیں، ایک باکردار آنگن کھڑا ملتا ہے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ بزرگوں کی مائیں اپنے بچوں کو سچ بولنے کا ایسا پختہ عہد کرا کے گھر سے نکالتی تھیں کہ راہ کے رہزن بھی اس سچائی کے آگے ہتھیار ڈال دیتے۔ سبق واضح ہے: کردار وراثت میں مال کی طرح نہیں ملتا، ماحول کی طرح ملتا ہے۔
خود ہمارے عہد کے بڑے لوگوں کی آپ بیتیاں پڑھیے تو ایک ہی نقش بار بار ابھرتا ہے: سادہ گھر، محدود وسائل، مگر اقدار کی فراوانی۔ ڈاکٹر عبدالکلام نے اپنی یادداشتوں میں رامیشورم کے جس گھر کا ذکر کیا ہے، وہاں دولت نہیں تھی مگر دیانت تھی؛ آسائش نہیں تھی مگر آبرو تھی۔ تاریخ کا فیصلہ دوٹوک ہے: قومیں محلوں میں نہیں، آنگنوں میں بنتی ہیں۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ ہمارے گھر چیزوں سے بھر گئے اور وقت سے خالی ہو گئے۔ ایک ہی کمرے میں چار افراد بیٹھے ہیں اور چاروں الگ الگ اسکرینوں میں گم ہیں؛ فاصلے سمٹ گئے، قربتیں بکھر گئیں۔ گفتگو کی جگہ اطلاع نے لے لی: کھانا لگ گیا، فیس بھر دی، رزلٹ کب ہے۔ بچے سے مکالمہ صرف نمبروں پر ہوتا ہے، اور نمبر بھی اکثر کسی اور کے بچے سے موازنے کی صورت میں۔ یہ موازنہ بچے کے اعتماد پر وہ خاموش کلہاڑی ہے جس کا زخم برسوں نہیں بھرتا؛ کیونکہ جسے بار بار کسی اور جیسا بننے کو کہا جائے، وہ آہستہ آہستہ خود جیسا رہنا چھوڑ دیتا ہے۔
پھر امتحانوں کے موسم میں گھروں کی فضا عدالت جیسی ہو جاتی ہے: تفتیش، تنبیہ، دھمکی۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ دباؤ سے کارکردگی کی رسّی ایک حد تک ہی کھنچتی ہے؛ اس کے بعد وہ ٹوٹتی ہے، اور ٹوٹتی بھی وہاں ہے جہاں سب سے نازک ہو — بچے کے دل میں۔ کتنے ہی ذہین بچے محض اس لیے پیچھے رہ گئے کہ ان کی صلاحیت کو سلیقے سے سینچنے والا آنگن میسر نہ آیا؛ بیج عمدہ تھا، زمین بے قرار تھی۔
خوش قسمتی سے اس مسئلے کا حل کسی بجٹ، کسی پالیسی، کسی ادارے کا محتاج نہیں؛ وہ ہر گھر کی دسترس میں ہے۔ پہلی تدبیر: دن میں ایک وقت کا کھانا پورا گھر ساتھ کھائے، اور دسترخوان پر اسکرین کا داخلہ ممنوع ہو۔ یہ ایک نشست بچے کو جو کچھ دیتی ہے، مہنگی ٹیوشن نہیں دے سکتی۔ دوسری تدبیر: بڑوں کے اختلاف بند دروازوں کے پیچھے طے ہوں؛ بچے کے سامنے اٹھی ہوئی آواز اس کے تحفظ کے احساس میں دراڑ ڈالتی ہے۔ تیسری تدبیر: روز صرف دس منٹ بچے کو بولنے دیجیے اور آپ صرف سنیے — نہ نصیحت، نہ تصحیح، صرف سماعت۔ جو بچہ گھر میں سنا جاتا ہے، وہ زندگی بھر اپنی بات کہنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
چوتھی تدبیر: محنت کی تعریف کیجیے، موازنے سے توبہ کیجیے؛ بچے کا مقابلہ صرف اس کے اپنے کل سے ہونا چاہیے۔ پانچویں: گھر میں کتاب کو وہ جگہ دیجیے جو آپ ٹیلی ویژن کو دیتے ہیں؛ بچہ وہی پڑھتا ہے جو والدین کے ہاتھ میں دیکھتا ہے۔ چھٹی: غلطی پر بچے سے معافی مانگنے کا حوصلہ پیدا کیجیے؛ یہ عمل آپ کو چھوٹا نہیں کرتا، بچے کی نظر میں انصاف کو بڑا کر دیتا ہے۔ اور ساتویں، سب سے بنیادی تدبیر: گھر کو وہ جگہ بنائیے جہاں ناکامی کا اعتراف خطرہ نہ ہو۔ جس بچے کو یقین ہو کہ کم نمبر لانے پر بھی گھر کا دروازہ اور والدین کا دل کھلا ملے گا، وہ کبھی جھوٹ، فریب یا مایوسی کی پناہ نہیں ڈھونڈے گا۔
یہ بحث محض خانگی مسئلہ نہیں، قومی سرمایہ کاری کا سوال ہے۔ جو نسل پرسکون گھروں میں پلے گی، وہ متوازن دفتر، منصف عدالتیں اور مہذب بازار بنائے گی؛ جو نسل کشیدہ آنگنوں میں سہم کر بڑی ہو گی، وہ اپنی بے چینی ہر ادارے میں منتقل کرے گی۔ اسکول اس عمل میں شریک ضرور ہے، مگر وہ نگینہ تراش سکتا ہے، کان سے ہیرا نہیں نکال سکتا؛ ہیرا گھر کی کان سے آتا ہے۔ کل کے ہندوستان کی تصویر آج کے دسترخوانوں پر بن رہی ہے — سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس تصویر میں کون سے رنگ بھر رہے ہیں۔
مضمون کے آغاز میں ہم نے پوچھا تھا کہ آپ کا گھر آپ کے بچے کو کیا پڑھا رہا ہے۔ اب اس سوال کا جواب واضح ہے: گھر ہر لمحہ پڑھا رہا ہے — لہجے سے، رویّے سے، خاموشی سے، معافی سے، محبت سے۔ دیواریں اینٹوں سے اٹھتی ہیں، گھر لہجوں سے بنتا ہے۔ ہم اپنی اولاد کے لیے جائیدادیں جوڑتے ہیں، حالانکہ سب سے قیمتی ورثہ جو ہم انہیں دے سکتے ہیں، وہ ایک پرسکون بچپن ہے — ایسا بچپن جس کی یاد آئے تو دل میں دھوپ نہیں، چھاؤں اترے۔
اس لیے آج شام گھر لوٹیے تو ایک لمحے کو دہلیز پر رکیے اور سوچیے: اس دروازے کے اندر میرا بچہ ایک درس گاہ میں داخل ہو چکا ہے جس کا واحد معلم میں ہوں، جس کا نصاب میرا کردار ہے اور جس کا امتحان میری اولاد کی پوری زندگی ہے۔ اسکول بچے کو علم دے گا، دنیا اسے تجربہ دے گی؛ مگر اعتماد، سکون اور کردار — یہ تین چراغ صرف گھر کے آنگن میں روشن ہوتے ہیں۔ اور جس آنگن میں یہ چراغ جل جائیں، اس گھر کا بچہ دنیا کے کسی اندھیرے سے نہیں ہارتا۔

