اُستاد — قوم کی روح، نسلوں کا معمار
نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی صورتِ حال
ڈاکٹر اسد اللہ خان
زمین کے سینے میں بیج بونے والے کا نام کوئی نہیں جانتا — مگر جب شجر پھل لاتا ہے تو سارا جہان اُسے سراہتا ہے۔ استاد کا مقام بھی ایسا ہی ہے۔ وہ نسلوں کو سیراب کرتا ہے، لیکن اُس کی پیاس کو کوئی نہیں پوچھتا۔ وہ آنے والوں کے لیے راستے روشن کرتا ہے، لیکن اپنی راہ میں خود اندھیرا سہتا ہے۔
میں نے چار دہائیوں سے زائد عرصے میں تعلیم کے اُس چہرے کو دیکھا ہے جو اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ وہ چہرہ جو اعلانیہ بیانات کی پیچھے چھپ جاتا ہے، جو سرکاری اعداد و شمار کے خانوں میں سما نہیں پاتا، جو سیاست کے گلیاروں میں نہیں بلکہ کلاس روم کی تنگ دیواروں کے درمیان زندہ ہے۔ یہ چہرہ استاد کا ہے — ہندوستان کے اُس استاد کا جو ہر صبح ایک نئی اُمید لے کر اسکول جاتا ہے اور ہر شام خاموش تھکاوٹ لے کر لوٹتا ہے۔
یہ مضمون کسی خاص ادارے کی شکایت نہیں، کسی فرد کی مذمت نہیں، کسی نظریاتی سیاست کا حصہ نہیں۔ یہ اُس تعلیمی ضمیر کی آواز ہے جو برسوں سے سوچتا آیا ہے: کیا ہم واقعی اپنے اساتذہ کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا وہ تعلیم جو ہم دیتے ہیں، پہلے خود اُن پر لاگو ہوتی ہے جو اسے دیتے ہیں؟
استاد کی آواز دبانا صرف ایک انسان کو خاموش کرنا نہیں — یہ آنے والی ہزار نسلوں کے حق کو غصب کرنا ہے۔
ہندوستان کی تعلیمی تاریخ میں نجی اداروں کا کردار ہمیشہ سے دو رُخا رہا ہے۔ ایک طرف وہ اداروں نے ہیں جنہوں نے سرکاری نظام کی خامیوں کو پُر کیا، غریب بستیوں میں علم کی شمعیں جلائیں، اردو، انگریزی اور علاقائی زبانوں میں معیاری تعلیم کو عام کیا۔ دوسری طرف وہ رجحانات ہیں جنہوں نے تعلیم کو ایک تجارتی منصوبے میں ڈھال لیا، جہاں اسکول کی عمارتیں بڑھتی رہیں، فیسوں کے بورڈ چمکتے رہے، لیکن اُن دیواروں کے اندر کام کرنے والا استاد کھوکھلا ہوتا رہا۔
اے ایس ای آر رپورٹ ۲۰۲۳ بتاتی ہے کہ ہندوستان میں پانچویں جماعت کے چالیس فیصد سے زائد بچے دوسری جماعت کی کتاب نہیں پڑھ پاتے۔ یہ اعداد ہمیں چونکاتے ہیں — مگر ہم کم ہی یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ استاد جسے تعلیم دینی ہے، خود کس حال میں ہے- رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ جن ممالک میں اساتذہ کو پیشہ ورانہ آزادی اور ادارتی احترام ملتا ہے، وہاں طلبہ کی کارکردگی خود بخود بلند ہو جاتی ہے۔ لیکن جہاں استاد محض ایک مزدور کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے، وہاں تعلیم کا معیار بھی اُسی کی اُجرت جتنا گر جاتا ہے۔
UDISE+ کے اعداد کے مطابق ہندوستان میں نجی اسکولوں کی تعداد میں گزشتہ دہائی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اسی تناسب سے اساتذہ کی تنخواہوں، تحفظِ ملازمت اور پیشہ ورانہ کیفیت میں بہتری نہیں آئی۔ یہ وہ ناہمواری ہے جو نظامِ تعلیم کو بنیادی سطح پر کمزور کر رہی ہے۔جب نجی تعلیم کی عمارتیں اونچی ہوتی جائیں اور استاد کی قدر پست ہوتی جائے — تو وہ عمارتیں صرف دیواریں ہیں، درسگاہیں نہیں۔
سب سے پہلی اور سب سے گہری بیماری یہ ہے کہ بہت سے نجی ادارے تعلیم کو سیوا نہیں، سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ جب کوئی ادارہ منافع کو علم پر مقدم رکھے، تو اُس کا پہلا شکار استاد ہوتا ہے۔ تنخواہ کم سے کم رکھی جاتی ہے، آواز دبائی جاتی ہے، اور جب تک استاد فرمانبردار رہے — وہ ”قابل” ہے، جب وہ سوچنے لگے — وہ ”مسئلہ” بن جاتا ہے۔ یہ ذہنیت اُس تاریخی غلطی کا تسلسل ہے جسے فیلسوفِ تعلیم جان ڈیوی نے ”علم کی بازاری” کہا تھا۔
جب ہم دنیا بھر میں تعلیم کے لئے نطر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ فن لینڈ نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ استاد کو سب سے پہلے ماننا پڑتا ہے۔ وہاں نصاب سازی میں استاد کی رائے حتمی ہوتی ہے، پالیسی میں اُس کا تجربہ بنیاد بنتا ہے۔ اور نتیجہ؟ فن لینڈ کا تعلیمی نظام برسوں سے عالمی درجہ بندی میں سرِ فہرست ہے۔ ہمارے یہاں حال یہ ہے کہ جو روزانہ چالیس چالیس بچوں کے درمیان بیٹھتا ہے، اُس سے ایک پالیسی نہیں پوچھی جاتی۔ فیصلے وہ کرتے ہیں جنہوں نے سالوں سے کوئی کلاس روم نہیں دیکھا۔
رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ نے بچوں کے حقوق کی ضمانت دی — ایک تاریخی قدم۔ لیکن اُس ایکٹ میں وہ استاد گم ہو گیا جس کے بغیر یہ حق کھوکھلا ہے۔ نجی اسکولوں میں کام کرنے والے لاکھوں اساتذہ کے لیے من مانی برخواستگی کے خلاف کوئی مؤثر قانونی ڈھال نہیں۔ یہ خلاء ادارہ داروں کو لامحدود اختیار دیتا ہے اور استاد کو ایک ایسے جزیرے پر چھوڑتا ہے جہاں کوئی مددگار ساحل نہیں۔
دوسری طرف ایک اور المیہ ہے جو کم ظاہر مگر کم تکلیف دہ نہیں — غیرتدریسی بوجھ کا وہ پہاڑ جو آج کے استاد کے کندھوں پر لاد دیا گیا ہے۔ آج کا استاد درس گاہ میں کھڑا ضرور ہے، مگر اُس کا ذہن، اُس کا وقت اور اُس کی توانائی کلاس روم میں نہیں — کاغذوں، اسکرینوں اور سرکاری خانوں میں بکھری ہوئی ہے۔ UDISE+ کا ڈیٹا، مِڈ ڈے میل کا حساب کتاب، ڈیجیٹل حاضری کا اندراج، سرکاری اسکیموں کی نگرانی، والدین کی شکایات کا ازالہ، حکومتی مہمات میں لازمی شرکت — یہ سب ذمہ داریاں اُسی ایک انسان سے وصول کی جاتی ہیں جس سے بیک وقت یہ توقع بھی رکھی جاتی ہے کہ اُس کے تدریسی نتائج سو فیصد ہوں، ہر بچہ سیکھے، کوئی پیچھے نہ رہے۔ یہ ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے — کہ ایک ہی انسان سے وہ سب مانگا جائے جو پوری ایک ٹیم کے بس کا کام ہے؟یہ تعلیم کے مقاصد کے ساتھ بھی گہرا مذاق ہے۔استاد پر غیرتدریسی بوجھ ڈالنا ایسا ہی ہے جیسے جراح سے آپریشن کے ساتھ ساتھ ہسپتال کی صفائی بھی مانگی جائے.
انسانی نفسیات ایک بنیادی سچائی پر قائم ہے: جب کوئی شخص اپنی آواز سے محروم کر دیا جائے، تو وہ صرف خاموش نہیں ہوتا — وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ وہ ملازمین جنہیں فیصلوں میں شرکت کا حق نہیں ملتا، اُن میں burnout کی شرح تین گنا زیادہ ہوتی ہے۔ استاد کوئی مشین نہیں — وہ احساس، جذبہ اور شعور رکھنے والا انسان ہے۔ جب اُس کے خیالات کو بار بار رد کیا جائے، اُس کی تجاویز کو تحقیر کا سامنا ہو، اُس کی موجودگی کو محض ایک ضرورت سمجھا جائے — تو وہ رفتہ رفتہ اُس روح سے خالی ہو جاتا ہے جو تدریس کو فن بناتی تھی۔اور جب استاد کی روح مر جائے — تو کلاس روم میں صرف آوازیں ہوتی ہیں، تعلیم نہیں۔ خوف کی فضا میں تخلیقیت پروان نہیں چڑھتی۔ ڈر کے سائے میں بچے سوال کرنا بھول جاتے ہیں۔ اور جو معاشرہ سوال کرنا بھول جائے، اُس کی ترقی کا سفر وہیں رک جاتا ہے۔
ماہرِ نفسیات ابراہام مزلو نے ضروریاتِ انسانی کے اپنے معروف ڈھانچے میں ‘تعلق’ اور ‘احترام’ کو بنیادی انسانی ضرورت قرار دیا۔ ایک ایسا استاد جسے ادارے میں نہ تعلق کا احساس ہو، نہ احترام کی گرمی — وہ اپنی اعلیٰ ترین صلاحیتیں کبھی نہیں جھونک سکتا۔ یہ کوئی کمزوری نہیں — یہ انسان ہونے کا تقاضا ہے۔
کیا سرکار اور انتظامیہ جانتے نہیں کہ ہندوستان کے معاشرتی آئینے میں استاد کا مقام کیا تھا؟
قدیم ہندوستانی فلسفے میں گرو کو برہما، وشنو اور مہیش سے تشبیہ دی گئی۔ یہ محض تعریف نہ تھی — یہ سماجی معاہدے کا اظہار تھا کہ جو علم دیتا ہے، اُس کا مقام سب سے اونچا ہے۔ ملتِ اسلامیہ میں بھی علم اور عالِم کو جو مرتبہ دیا گیا، اُس کی گونج آج بھی قرآنی آیات اور نبوی ارشادات میں محفوظ ہے: جو علم سیکھے اور سکھائے، اُس کے لیے سارا جہان دعا کرتا ہے۔
مغربی فکر نے بھی اس سچائی کو مختلف الفاظ میں بیان کیا۔ ارسطو نے کہا: ”جو بچوں کو تعلیم دیتے ہیں وہ اُن والدین سے زیادہ قابلِ احترام ہیں جنہوں نے انہیں جنم دیا — والدین صرف زندگی دیتے ہیں، استاد اچھی زندگی گزارنا سکھاتا ہے۔” آج ہم کس راستے پر ہیں؟ جب ایک نجی اسکول کا استاد ماہانہ چند ہزار روپے پر گزارہ کرے، نوکری کا کوئی تحفظ نہ ہو، کوئی سنے نہ — تو کیا ہم اُس آدرش کے قریب بھی ہیں جو ہمارے تہذیبی ورثے نے ہمیں سونپا تھا؟جس قوم نے اپنے استاد کو فراموش کیا، اُس نے اپنی تہذیب کی جڑیں خود کاٹ لیں۔
جب استاد کو عزت ملی تو تاریخ بدل گئی—سنگاپور ۱۹۶۰ کی دہائی میں ایک غریب، وسائل سے محروم ملک تھا۔ لی کوان یو کی حکومت نے جب یہ فیصلہ کیا کہ اساتذہ کو ڈاکٹروں اور وکیلوں کے برابر تنخواہ اور عزت ملے گی — تو محض ایک نسل میں سنگاپور دنیا کے بہترین تعلیمی نظاموں میں شامل ہو گیا۔ آج سنگاپور کے بچے عالمی تعلیمی مقابلوں میں سرِفہرست ہیں — اور اس کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ وہاں استاد کو سب سے قیمتی قومی وسیلہ مانا جاتا ہے۔
جاپان میں ”جوگیو کینکیو” — اساتذہ کی اجتماعی تحقیقی تدریس — کا نظام دہائیوں سے جاری ہے۔ اساتذہ مل کر اپنے درسی طریقوں پر غور کرتے ہیں، ایک دوسرے کی کلاسیں دیکھتے ہیں، بہتری کی تجاویز دیتے ہیں — اور یہ سب کچھ ایک ایسے ماحول میں ہوتا ہے جہاں استاد کو خوف نہیں، احترام ملتا ہے۔ اس نظام نے جاپانی تعلیم کو وہ گہرائی دی جو محض نصاب سے حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔
ہمارے اپنے ملک میں — مہاتما پھولے اور ساوتری بائی پھولے نے اُنیسویں صدی میں یہ ثابت کیا کہ ایک جوڑا اگر تعلیم کو اپنی زندگی کا مشن بنا لے تو وہ صدیوں کے ظلم کو چیلنج کر سکتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے تعلیم کو آزادی کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیا اور ڈاکٹر ذاکر حسین نے اپنی پوری عمر اُس خواب کو حقیقت بنانے میں لگا دی۔ یہ تمام مثالیں ایک ہی سبق دیتی ہیں: استاد کی عظمت کا اعتراف کریں اور تاریخ بدل جائے گی۔
قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ اُس نے پہلی بار یہ تسلیم کیا کہ استاد کا پیشہ قوم کا سب سے اہم پیشہ ہے اور اُسے وہ وقار، تربیت اور پیشہ ورانہ آزادی ملنی چاہیے جو دنیا کے بہترین تعلیمی نظاموں میں ملتی ہے۔ NCF 2023 نے اس سمت میں مزید قدم اٹھایا اور سمجھ کی تدریس، تخلیقیت اور سوال کرنے کی ثقافت کو مرکزی حیثیت دی۔
لیکن کاغذ پر لکھے وعدے اور کلاس روم کی حقیقت کے درمیان جو خلیج ہے، وہ ابھی بھی گہری ہے۔ جب تک ایک نجی اسکول کے استاد کو یہ یقین نہ ہو کہ وہ کل بھی اپنی ملازمت پر ہوگا، جب تک اُس کی بنیادی مالی ضروریات پوری نہ ہوں، جب تک اُس کی تجاویز کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے — تب تک NEP کے خوبصورت الفاظ صرف الفاظ ہی رہیں گے۔پالیسی کا کاغذ تعلیم نہیں دیتا — استاد کا جوش اور وقار دیتا ہے۔ وہ جوش اُسی وقت پیدا ہوتا ہے جب استاد خود عزت کے ساتھ جیے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ ہم کیا کریں
جو قوم اپنے معماروں کی قدر نہ جانے، اُس کی عمارت کبھی مستحکم نہیں ہوتی۔ اساتذہ محض تنخواہ دار ملازم نہیں — وہ نسلوں کے معمار ہیں، اور اُنہیں اُسی مقام پر رکھنا ہوگا جو اُن کا حق ہے۔ اُس مقام سے ہٹا کر اُنہیں انتظامی بوجھ تلے دبا دینا نہ صرف ناانصافی ہے — یہ اُس پوری نسل کے ساتھ زیادتی ہے جو اُن کے ہاتھوں تعلیم پاتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم انتظار کی زبان چھوڑیں اور عمل کی راہ اپنائیں۔ استاد تعلیمی عمل کا محض ایک حصہ نہیں — وہ اُس کی روح ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اُسے پالیسی کی میز پر وہ نشست ملے جس کا وہ حقدار ہے، نہ کہ صرف عمل درآمد کا ذریعہ بنایا جائے۔ ہر اسکول میں ماہانہ استاد کونسل قائم ہو — ایک ایسا فورم جہاں تجاویز باقاعدگی سے سنی جائیں، شفافیت سے جانچی جائیں اور اختیار کے ساتھ نافذ کی جائیں۔ استاد کا برسوں کا تجربہ کسی خام سونے سے کم نہیں — اسے قومی سرمایہ سمجھنا کوئی احسان نہیں، یہ ہماری اپنی بقا کی شرط ہے۔ اور یاد رہے — یہ کوئی انقلابی نعرہ نہیں، یہ بنیادی انتظامی دانش کا سادہ تقاضا ہے۔
خوف کے سائے میں کوئی انسان اپنی بہترین صلاحیتیں نہیں جھونک سکتا — اور ایک استاد جو ہر روز اس اندیشے میں جیے کہ کل اُس کی ملازمت باقی ہے یا نہیں، وہ کلاس روم میں اپنا پورا وجود کیسے لگائے؟ یہ سوال محض انسانی ہمدردی کا نہیں — یہ تعلیمی معیار کا سوال ہے جو براہِ راست ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ نجی اسکول ریگولیشن ایکٹ کو اُس خلاء سے نجات دلائی جائے جو برسوں سے استاد کو بے یارومددگار چھوڑتا آیا ہے۔ قانون میں ایسی واضح اور ناقابلِ التوا شقیں شامل ہوں جو من مانی برخواستگی کو روکیں، کم از کم تنخواہ کا ایک انسانی معیار مقرر کریں، اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک آزاد، غیرجانبدار نظام قائم کریں۔ یہ قانونی ضمانت اساتذہ کو صرف تحفظ نہیں دے گی — یہ اُن کے اندر وہ اطمینان پیدا کرے گی جس سے حقیقی تخلیقیت جنم لیتی ہے، وہ حوصلہ ملتا ہے جو بہترین تدریس کی پہلی شرط ہے۔ کیونکہ جب استاد خود محفوظ ہو — تبھی وہ دوسروں کا مستقبل محفوظ کر سکتا ہے۔
ایک ماہر جراح کو اگر آپریشن تھیٹر کے ساتھ ساتھ ہسپتال کی صفائی بھی سونپ دی جائے تو اُس کا قصور نہیں کہ مریض میز پر تڑپتا رہے۔ استاد کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے — وہ جس وقت UDISE+ کا ڈیٹا بھر رہا ہے، کوئی بچہ اُس سبق سے محروم ہو رہا ہے جو صرف وہی دے سکتا تھا۔ انتظامی کاموں کے لیے الگ عملہ اور ڈیٹا انٹری کے لیے الگ آپریٹر کوئی عیاشی نہیں — یہ اُس بنیادی ترجیح کا اعلان ہے کہ استاد کا وقت، اُس کی توانائی اور اُس کی تخلیقی صلاحیت صرف کلاس روم کی ملکیت ہے۔ جو اسے سرمایہ کاری نہیں، اخراجات سمجھتے ہیں — وہ بھول جاتے ہیں کہ اس سرمایہ کاری کا منافع ہر وہ بچہ ہے جو ایک باشعور، باصلاحیت اور با کردار شہری بن کر نکلتا ہے۔
اور جب استاد کو وقت مل جائے — تو اُس وقت کو صرف تدریس پر نہیں، اپنی پیشہ ورانہ نشوونما پر بھی لگانا ہوگا۔ ایک درخت جو خود پانی نہ پیے، دوسروں کو سایہ کیسے دے؟ ہر استاد کے لیے سالانہ کم از کم پچاس گھنٹے کی منظم اور ہدفی پیشہ ورانہ تربیت لازمی ہونی چاہیے — جدید تدریسی اسالیب، بچوں کی نفسیات، ذہنی صحت اور ٹیکنالوجی کے تخلیقی استعمال پر۔ یہ تربیت محض ایک رسمی تقاضا نہیں — یہ اُس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جو استاد خود سیکھنا بند کر دے، وہ سکھانے کا حق بھی کھو دیتا ہے۔ علم ایک بہتا دریا ہے — جو اس سے کٹ جائے، وہ ٹھہرا ہوا تالاب بن جاتا ہے۔
دنیا کی تمام اصلاحات میں سب سے سستی اور سب سے گہری اصلاح یہ ہے کہ انسان کو انسان سمجھا جائے۔ نہ بجٹ چاہیے، نہ قانون، نہ کوئی نئی پالیسی — بس ایک لمحہ چاہیے جب انتظامیہ استاد کی بات سنے، واقعی سنے — نہ برداشت کے طور پر، نہ رسم کے طور پر، بلکہ اس یقین کے ساتھ کہ اس آواز میں کچھ کام کی بات ہو سکتی ہے۔
احترام کوئی انعام نہیں جو ماتحت کو بخشا جائے — یہ وہ بیج ہے جو ادارے کی زمین میں وفاداری، تخلیقیت اور محنت کے درخت اُگاتا ہے۔ جب استاد یہ محسوس کرے کہ اُس کی تجویز — چاہے انتظامیہ کی سوچ سے مختلف ہی کیوں نہ ہو — غور سے سنی گئی، تو وہ خود کو محض ایک ملازم نہیں، ادارے کا حقیقی شریکِ سفر سمجھتا ہے۔ اور جو انسان کسی چیز کو اپنا سمجھے — وہ اُس کے لیے وہ کچھ بھی کر گزرتا ہے جو کوئی تنخواہ نہیں خرید سکتی، کوئی ضابطہ نہیں نکلوا سکتا۔ احترام کی یہی وہ خاموش طاقت ہے جو ادارے کو ادارہ بناتی ہے — محض ایک عمارت نہیں۔
تاریکی کو کوسنا آسان ہے — لیکن جو شمع جلتی دیکھ چکا ہو، اُسے اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا۔ میں نے اپنے چار دہائیوں کے تعلیمی سفر میں صرف مسائل ہی نہیں دیکھے — میں نے وہ اسکول بھی دیکھے ہیں جو اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ جب نیت سچی ہو تو نظام بدلا جا سکتا ہے۔
وہ اسکول جہاں پرنسپل کی کرسی اقتدار کی علامت نہیں بلکہ خدمت کی جگہ ہے۔ جہاں وہ ہر ماہ اساتذہ کے درمیان بیٹھتا ہے — نہ فیصلے سنانے، بلکہ باتیں سننے۔ جہاں ایک نوآموز استاد کی تجویز کو اُتنا ہی وزن ملتا ہے جتنا تیس برس کے تجربہ کار کو — کیونکہ وہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ تازہ نگاہ بھی ایک قسم کی دانش ہے۔ جہاں خوف کی جگہ تجسس نے لے لی ہے اور خاموشی کی جگہ مکالمے نے۔
اُن اسکولوں میں داخل ہوتے ہی فضا بدل جاتی ہے۔ اساتذہ کے چہروں پر وہ تھکاوٹ نہیں جو بوجھ تلے دبے انسان کی پہچان ہے — وہاں ایک اور ہی روشنی ہے، جو پرانی عمارتوں اور محدود وسائل کے باوجود بجھتی نہیں۔ اور بچے — وہاں کے بچوں کی آنکھوں میں سوال ہیں، اور اُن سوالوں کو پوچھنے کی جرأت بھی۔ یہی وہ تعلیم ہے جو صرف نصاب نہیں، نسلیں بدلتی ہے۔
اور یہ سب کسی معجزے کا نتیجہ نہیں — یہ اُس سادہ سچائی کا ثمر ہے کہ جب استاد آزاد ہو، محفوظ ہو اور با وقار ہو، تو کلاس روم خود بخود ایک زندہ، سوچتی اور تخلیق کرتی جگہ بن جاتا ہے۔ اسکول اونچی عمارتوں سے نہیں پہچانا جاتا — اسکول وہ ہے جہاں استاد کی آنکھ میں جوش ہو اور بچے کے دل میں سوال۔
ہم ایک ایسے دور میں کھڑے ہیں جہاں مشینیں انسان کی نقل اتارنے لگی ہیں — اور اس دور میں یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ انسانی استاد کا مقام کیا ہے، اور کیا رہے گا؟ جواب اُتنا ہی پرانا ہے جتنی تعلیم کی تاریخ — آرٹیفیشل انٹیلی جنس معلومات منتقل کر سکتی ہے، لیکن معنی نہیں دے سکتی۔ الگورتھم حساب سکھا سکتا ہے، لیکن ضمیر نہیں بنا سکتا۔ مشین جواب دے سکتی ہے، لیکن سوال کرنے کا حوصلہ نہیں جگا سکتی۔
وہ لمحہ — جب ایک استاد کی نگاہ کسی بچے کی آنکھ سے ملتی ہے اور اُس چہرے پر سمجھ کی وہ روشنی پھیلتی ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہوتی — اُسے دنیا کا کوئی سرکٹ، کوئی کوڈ، کوئی اسکرین نہیں دہرا سکتی۔ یہ لمحہ خالص انسانی ہے — اور یہی وہ لمحہ ہے جس پر پوری تہذیب کی بنیاد ہے۔
لیکن یہ لمحہ اُسی وقت ممکن ہے جب استاد خود ایک مکمل، محفوظ اور باوقار انسان ہو۔ جو استاد خوف میں جیے، وہ بچوں کو جرأت کیا سکھائے گا؟ جو خود کمزور ہو، وہ مضبوط نسل کیسے تراشے گا؟ جو تھکا ہوا، بے حوصلہ اور بے یقین ہو — وہ کسی تازہ ذہن میں وہ چنگاری کیسے سلگائے گا جو ایک پوری زندگی کو روشن کر دے؟ استاد کی سلامتی دراصل نسلوں کی سلامتی ہے — اور یہ بات جتنی جلدی سمجھ لی جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔
مستقبل اُن قوموں کا ہوگا جو آج اپنے اساتذہ کو وہ مقام دیں جس کے وہ حقدار ہیں۔ یہ کوئی جذباتی نعرہ نہیں — یہ تاریخ کا سبق ہے جسے ہم یا تو آج سمجھیں، یا کل پچھتائیں۔
یہ مضمون ختم ہوتا ہے — لیکن وہ کہانی ختم نہیں ہوتی جس کا یہ ایک چھوٹا سا باب ہے۔ میں یہاں کوئی نعرہ نہیں لگانا چاہتا، کوئی فتح کا اعلان نہیں کرنا چاہتا۔ میں صرف اُن لاکھوں اساتذہ کی خاموشی کو زبان دینا چاہتا ہوں جو ہر صبح اُمید کا بستہ اٹھا کر اسکول جاتے ہیں، بچوں کے چہروں میں اپنا مقصد ڈھونڈتے ہیں — اور شام کو جب لوٹتے ہیں تو اپنا درد کسی کو نہیں بتاتے، کیونکہ جانتے ہیں کہ سننے والا کوئی نہیں۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں — یہ اُس انسان کا صبر ہے جو اپنے فرض کو اپنی شکایت سے بڑا سمجھتا ہے۔
اور اُن لوگوں سے — جو اداروں کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور واقعی کچھ بہتر کرنا چاہتے ہیں — میری گزارش صرف اتنی ہے: استاد کو سننا آپ کی انا کا نہیں، آپ کی دانش کا امتحان ہے۔ جو شخص ہر روز آپ کے ادارے کی ساکھ بناتا ہے، جو خاموشی سے نسلوں کو سنوارتا ہے — اُس کی بات میں شاید وہ روشنی ہو جسے آپ برسوں سے کہیں اور تلاش کر رہے ہیں۔ استاد کو ماننا آپ کو چھوٹا نہیں کرتا — یہ آپ کو اُس مقام پر لے جاتا ہے جہاں حقیقی قیادت بستی ہے۔
تعلیم کوئی کاروبار نہیں — یہ ایک مقدس امانت ہے۔ اور امانت میں خیانت کا حساب دینا پڑتا ہے — ادارہ داروں کو، حکومتوں کو، معاشرے کو۔ تاریخ ایک دن ضرور پوچھے گی کہ جو استاد تمہاری نسلوں کے لیے اپنی توانائی، اپنا وقت اور اپنا وجود خرچ کرتا رہا — اُس کے ساتھ تم نے کیا کیا؟
اور آخر میں — اُس استاد سے جو یہ سطریں پڑھ رہا ہے، جس کی آنکھیں شاید بھیگ گئی ہوں، جس کے سینے میں شاید کوئی پرانا درد تازہ ہو گیا ہو:
آپ کی خاموشی شکست نہیں — یہ اُس طوفان کی خاموشی ہے جو ابھی آنا باقی ہے۔ آپ کا قلم ابھی زندہ ہے — اور جب سچا قلم اٹھتا ہے تو وہ صرف صفحہ نہیں بھرتا، تاریخ لکھتا ہے۔ وہ قلم جو حق کے لیے چلے، نہ تھکتا ہے نہ مرتا ہے — وہ نسل در نسل روشنی بانٹتا چلا جاتا ہے۔

