رام پور سے کاکریال تک: قانون، تناسب، اور بند ہوتے دروازوں کا ملک
ڈاکٹر اسد اللہ خان
رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے پھاٹک کے باہر جو مجمع کھڑا ہے، اُس میں ایک آدمی سب سے الگ دکھائی دیتا ہے۔ وہ نہ طالب علم ہے، نہ استاد، نہ کسی جماعت کا کارکن۔ وہ ایک بڑھئی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اُس نے اپنے دن کی مزدوری چھوڑ کر یہاں آنا قبول کیا، اور اُس کے ہاتھ کی تختی پر سب سے اوپر ایک ہی لفظ لکھا ہے: علم۔ وہ خود اسکول پورا نہیں کر سکا۔ اِس ادارے سے اُس کا رشتہ صرف ایک ہے — اِس کی لکڑی کا کام اُس کے ہاتھوں سے ہوا ہے۔جس شخص نے اِن دروازوں کو رندہ کیا، وہ آج اِن دروازوں کے باہر کھڑا ہے۔ اُس کا خوف کسی سیاسی بیان سے زیادہ صاف ہے: اگر یہ درسگاہ نہ رہی تو اِس علاقے کے لڑکے بھی مزدوری کریں گے، جیسے وہ کرتا ہے۔
چند قدم کے فاصلے پر پلاسٹک کے ایک شامیانے تلے سو کے قریب طلبہ بیٹھے ہیں۔ حبس اور گرمی میں، گودوں میں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویریں اور ہاتھوں میں آئین کے نسخے۔ ایک طالبہ، جو خبر سنتے ہی اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ سے چل کر آئی ہے، کہتی ہے کہ اِس احتجاج کا کوئی قائد نہیں؛ یہ کیریئر اور تحفظ کا سوال ہے، اور اُس کے والدین اِس ادارے پر بھروسا کرتے ہیں۔
مگر اِس منظر کا سب سے غیر متوقع حصہ وہ ہے جو پھاٹک کے باہر سے بھی باہر سے آیا۔ بیس جولائی کو سکھ برادری کے دو نمائندے — ایک رام پور سے، ایک اتراکھنڈ سے — وائس چانسلر کے کمرے میں اظہارِ یکجہتی کے لیے آ کر بیٹھے۔ اور اِنہی دنوں ایک اردو روزنامے میں ایک کالم چھپا، جس کے لکھنے والے کا نام پون سنگھ ہے، اور جس کا لہجہ کسی مسلم تنظیم کی قرارداد سے زیادہ تیکھا تھا۔
یعنی اِس مقدمے کی سب سے غیر مشتبہ گواہی اُس صف سے آئی جسے ہم عادتاً “دوسری طرف” کہ دیتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اِس مضمون میں پھاٹک کے دونوں طرف کھڑے ہو کر دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے: انتظامیہ کے کاغذ کے ساتھ، ادارے کے کاغذ کے ساتھ، اور اُس پورے ملک کے اعداد کے ساتھ جس میں یہ جھگڑا ہو رہا ہے۔ کیونکہ اِس واقعے کو صرف رام پور کا واقعہ سمجھنا اُس کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔
اٹھائیس جون کو رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور یونیورسٹی کے رجسٹرار کو نوٹس دیا کہ کیمپس میں بیاسی ہزار تین سو نو مربع میٹر تعمیر منظوری کے بغیر ہوئی ہے۔ آٹھ جولائی کو ادارے نے جواب داخل کیا۔ پندرہ جولائی کو فریقین کے وکلا کی موجودگی میں سماعت ہوئی، اور اُسی روز ضلع مجسٹریٹ و اتھارٹی کے وائس چیئرمین اجے کمار دویدی نے اترپردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ ۱۹۷۳ کی دفعہ ۲۷(۱) کے تحت حکم جاری کیا: چالیس میں سے اڑتیس عمارتیں مقررہ مدت میں ادارہ خود ہٹا لے، ورنہ انتظامیہ ہٹائے گی۔ حکم کے مطابق ضلع پنچایت کے ریکارڈ میں صرف میڈیکل کالج کی عمارت اور ایک تعلیمی بلاک کے نقشے منظور شدہ ہیں۔ سترہ جولائی کو اتھارٹی نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں کیویٹ داخل کر دی — اِس اندیشے سے کہ ادارہ عدالت جا سکتا ہے۔ اٹھارہ جولائی سے طلبہ کا دھرنا جاری ہے۔
ایک تفصیل اِس ترتیب میں ایسی ہے جو بظاہر انتظامی ہے مگر معنوی طور پر فیصلہ کن۔ ادارے کی اپیل اتھارٹی کے چیئرمین و کمشنر مراد آباد کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور اُس کی تاریخ انتیس جولائی ہے، جب کہ خود ہٹانے کی مہلت جولائی کے آخری دنوں میں ختم ہو رہی ہے۔ اپیل اور مہلت کے درمیان فاصلہ چند دن کا ہے۔ جس نظام میں دادرسی کا دروازہ اور بلڈوزر کا انجن ایک ہی ہفتے میں کھلتے ہوں، وہاں دادرسی رسمی ہو جاتی ہے۔
انتظامیہ کا استدلال تین نکات پر کھڑا ہے: تعمیر بلا منظوری ہوئی؛ زمین کے مجوزہ استعمال کے ضابطے اِس تعمیر کی اجازت نہیں دیتے؛ اور چونکہ ادارے نے دو عمارتوں کی منظوری لی تھی، اِس لیے وہ قانونی تقاضے سے واقف تھا۔ اتھارٹی کا یہ جواب بھی ریکارڈ پر ہے کہ علاقہ اُس کے دائرے میں آنے سے پہلے بھی ضلع پنچایت کے قانون کے تحت منظوری لازم تھی، لہٰذا محض حدود کی تبدیلی کوئی رعایت نہیں دیتی۔ افسران کا کہنا ہے کہ یہ خلاف ورزیاں موجودہ قانون کے تحت باقاعدہ نہیں کی جا سکتیں۔
ادارے کا مؤقف بھی کاغذ پر موجود ہے: کیمپس کا بڑا حصہ ۲۰۱۶ سے پہلے بن چکا تھا؛ سنگن کھیڑا گاؤں، جو رام پور شہر سے بارہ کلومیٹر دور ہے، ۲۰۲۴ سے پہلے اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں نہیں تھا؛ لہٰذا بعد کے ضابطے ماضی کی تعمیر پر لاگو نہیں ہو سکتے۔ وائس چانسلر پروفیسر ظہیر الدین کے بقول آئین کی دفعہ ۲۲۶ اور ۳۲ کے دروازے بھی کھلے ہیں۔
۲۰۲۳ میں ریاستی حکومت نے یہ کہہ کر زمین کی لیز منسوخ کی کہ تحقیقی ادارے کے لیے دی گئی زمین پر یونیورسٹی بنا دی گئی؛ مارچ ۲۰۲۴ میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے منسوخی برقرار رکھی اور اکتوبر ۲۰۲۴ میں سپریم کورٹ نے مداخلت سے انکار کر دیا۔ بانی اور اُن کے صاحبزادے مختلف مقدمات میں سزا کاٹ رہے ہیں؛ مئی ۲۰۲۶ میں ۲۰۱۹ کی انتخابی تقریر کے ایک مقدمے میں بانی کو دو سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
یہ مضمون اِس لیے نہیں لکھا جا رہا کہ ادارہ معصوم ہے۔ یہ اِس لیے لکھا جا رہا ہے کہ سزا کا محل کیا ہے اور سزا کا نشانہ کون ہے۔
سوال یہ ہے کہ اڑتیس عمارتیں بغیر نقشے کے کیسے بن گئیں۔ جواب تلخ ہے اور کسی ایک ادارے تک محدود نہیں۔ ہمارے ملک میں تعمیر کا عام چلن یہی ہے: پہلے دیوار اٹھتی ہے، پھر فائل چلتی ہے۔ سرکاری دفتر، نجی کالونی، کارخانہ، اسپتال، مندر، مدرسہ — سب اِسی روایت کے شریک ہیں۔ جو خرابی سب کرتے ہیں، وہ خرابی جب چند پر لاگو ہوتی ہے تو قانون کے نفاذ سے زیادہ نفاذ کے انتخاب پر سوال اٹھتا ہے۔
مگر اِس سے آگے ایک ایسی وجہ ہے جس پر ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ عوامی چندے سے بننے والے ادارے قسطوں میں بنتے ہیں۔ ایک ہال اُس سال بنتا ہے جب چندا آتا ہے؛ ایک ہاسٹل اُس سال جب کوئی مخیر رخصت ہوتا ہے اور وصیت کرتا ہے؛ ایک لیبارٹری اُس دن جب پرانی چھت ٹپکنے لگتی ہے۔ ایسی تعمیر کے کاغذات بھی اُتنے ہی بے ترتیب ہوتے ہیں جتنی اُس کی آمدنی۔ برادری کے ادارے جذبے سے بنتے ہیں، منصوبے سے نہیں — اور یہی جذبہ برسوں بعد اُن کی سب سے بڑی قانونی کمزوری بن جاتا ہے۔
چار دہائیوں کے تجربے سے کہتا ہوں کہ ہمارے یہاں ادارہ سازی کا خواب دیکھنے والے اکثر معمار ہوتے ہیں، منتظم کم، اور قانون داں شاذ۔ ہم دیوار کی مضبوطی پر جتنی توجہ دیتے ہیں، دستاویز کی مضبوطی پر اُس کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔
کسی درسگاہ کا سب سے مضبوط دفاع اُس کا وکیل نہیں، اُس کی فائل ہے۔
اب اُس جملے کی طرف آئیے جو اِس پورے تنازعے کا مرکزی قانونی دعوی ہے: خلاف ورزی موجودہ قانون کے تحت باقاعدہ نہیں کی جا سکتی۔ اِسی برس اپریل میں مرکزی وزارتِ ہاؤسنگ اور دہلی حکومت نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ دارالحکومت کی سترہ سو اکتیس غیر مجاز کالونیوں میں سے پندرہ سو گیارہ کو “جوں ہے، جہاں ہے” کی بنیاد پر باقاعدہ کیا جا رہا ہے — لے آؤٹ پلان کی شرط کے بغیر، زمین کے استعمال کو رہائشی مان کر، اور بیس مربع میٹر تک کی دکانوں کو بھی شرائط کے ساتھ تحفظ دے کر۔ سرکاری اندازے کے مطابق اِس ایک فیصلے سے تقریباً پینتالیس لاکھ افراد کو ملکیت کے حقوق ملیں گے۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ دہلی کا فیصلہ غلط تھا۔ میرے نزدیک وہ ایک انسانی فیصلہ تھا، اور جو ریاست کروڑوں شہریوں کی چھت کو قانون کے دائرے میں لے آئے وہ قابلِ تعریف ہے۔ میں صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ ریاست کے صندوق میں انہدام کے علاوہ ایک دوسرا اوزار بھی موجود ہے، اور وہ اوزار پینتالیس لاکھ افراد کے لیے نکالا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اصل سوال قانون کی بے بسی کا نہیں، اوزار کے انتخاب کا ہے۔ اور جہاں اوزار کا انتخاب ہو، وہاں نیت کا سوال اٹھانا بدنیتی نہیں، شہری حق ہے۔
قانون بے بس نہیں ہے، مگر قانون بے تدریج بھی نہیں ہے۔ خلاف ورزی کے علاج کی ایک پوری سیڑھی موجود ہے: جرمانہ، تعمیر کی باقاعدگی، جزوی انہدام، سیل کرنا، اور آخر میں مکمل انہدام۔ سوال یہ نہیں کہ ریاست کو اختیار ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ نقشے کی خرابی درست کرنے کے لیے بیاسی ہزار مربع میٹر درسگاہ کو ملبہ بنانا سب سے کم نقصان دہ راستہ ہے یا سب سے زیادہ؟
تیرہ نومبر ۲۰۲۴ کو سپریم کورٹ نے انہدام کے معاملات پر ملک گیر ہدایات جاری کیں: پیشگی شو کاز نوٹس، جواب کے لیے کم از کم پندرہ دن، ذاتی سماعت اور اُس کی کارروائی کا اندراج، تحریری وجوہات، اپیل کا موقع، انہدام کی ویڈیو گرافی، اور یہ اصول کہ انہدام آخری حربہ ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ عدالت کا کردار ادا نہیں کر سکتی، اور کسی کا مکان محض اِس لیے نہیں گرایا جا سکتا کہ وہ ملزم یا مجرم ہے۔ مگر عدالت نے ایک بات اِس کے ساتھ کہی تھی جسے دہرانا اہلِ قلم کی ایمانداری کا حصہ ہے: یہ فیصلہ غیر قانونی تعمیرات کے لیے کوئی ڈھال نہیں۔
قانونی نظیریں بھی اِسی سیڑھی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اِس ماہ جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے حکومت سے نظرِ ثانی کی اپیل کرتے ہوئے کانپور کے رومہ صنعتی علاقے کے ایک انجینئری کالج، اور وارانسی، جھانسی و الٰہ آباد کی ترقیاتی اتھارٹیوں سے متعلق اُن مقدمات کا حوالہ دیا جن میں عدالتوں نے فوری انہدام کے بجائے باقاعدگی اور کمپاؤنڈنگ جیسے قانونی متبادل کو ترجیح دی۔ یعنی یہ راستہ نہ نیا ہے، نہ رعایتی؛ یہ خود قانون کے اندر کا راستہ ہے۔
چنانچہ اِس مقدمے کا اصل مرکز نہ سیاست ہے، نہ مذہب — تناسب ہے۔ جرمانہ ٹرسٹ کو سزا دیتا ہے۔ انہدام طالب علم کو سزا دیتا ہے۔ اور جس نظام میں قانون کا نشانہ اور قانون کا شکار دو مختلف افراد ہوں، وہاں قانون اپنا اخلاقی جواز خود کھو دیتا ہے۔
ایک اور پہلو خالص قانونی ہے اور بہت کم زیرِ بحث آیا۔ اپیل اُس افسر کی عدالت میں ہے جو مراد آباد کے ڈویژنل کمشنر اور اتھارٹی کے چیئرمین ہیں، اور رپورٹوں کے مطابق یہی وہ عہدہ ہے جس سے متعلق ۲۰۱۹ کی انتخابی مہم میں کیے گئے کلمات پر ادارے کے بانی کو سزا سنائی گئی۔ ممکن ہے فیصلہ پوری دیانت سے ہو، اور کسی افسر کی نیت پر شبہ کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ مگر انصاف کا ایک قدیم اصول ہے: کوئی شخص اپنے ہی معاملے میں منصف نہ ہو۔ انصاف صرف ہونا کافی نہیں، ہوتا نظر آنا بھی ضروری ہے۔ اِس فورم کی ساخت خود ایک بے چینی پیدا کرتی ہے، اور اِس بے چینی کا ازالہ عدالتی نہیں، انتظامی حکمت سے ہونا چاہیے تھا۔
جو لوگ اِس معاملے کو “اقلیت کے ساتھ ہونے والا سلوک” کہہ کر بند کر دیتے ہیں، اُن سے میں ایک اور مقدمہ سننے کی درخواست کرتا ہوں — ایسا مقدمہ جس میں ادارے کا انتظام مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں تھا۔
جموں کے ضلع ریاسی میں، کٹرا کے قریب کاکریال میں، شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے زیرِ اہتمام ایک نیا طبی ادارہ قائم ہوا: شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلینس۔ اُس سے متصل سپر اسپیشلٹی اسپتال ۲۰۱۶ میں افتتاح پا چکا تھا۔ ۲۰۲۵-۲۶ کے تعلیمی سال کے لیے اُسے ایم بی بی ایس کی پچاس نشستوں کی اجازت ملی اور پہلا بیچ داخل ہوا۔ داخلہ کسی کی صوابدید سے نہیں ہوا تھا: نیٹ-یو جی کے نمبروں اور ریاستی کونسلنگ کی میرٹ سے ہوا تھا۔
پھر ایک عدد سامنے آ گیا۔ رپورٹوں کے مطابق پچاس میں سے بیالیس نشستیں — یعنی چوراسی فیصد — مسلم طلبہ کے حصے میں آئیں۔ اِس کے بعد مقامی سطح پر ایک تحریک اٹھی جس کا مطالبہ دو ٹوک تھا: اِن طلبہ کو یہاں سے ہٹایا جائے۔
اب اِس کے بعد کی ترتیب پر غور کیجیے۔ دو جنوری ۲۰۲۶ کو نیشنل میڈیکل کمیشن کے میڈیکل اسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ نے این ایم سی ایکٹ ۲۰۱۹ کی دفعہ ۲۸(۷) کے تحت اچانک معائنہ کیا۔ چار دن بعد، چھ جنوری کو، ادارے کا لیٹر آف پرمیشن واپس لے لیا گیا۔ وجوہات یہ درج ہوئیں: اساتذہ کی کمی، کلینیکل میٹیریل کی قلت، ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کا فقدان، اور بنیادی ڈھانچے کا ناکافی ہونا۔
انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ بھی کہا جائے: یہ وجوہات فرضی نہیں ہیں۔ ملک میں نئے میڈیکل کالجوں کا یہ مرض عام ہے، اور کمیشن کا فرض ہی یہ ہے کہ اُس ڈاکٹر کی تربیت پر سمجھوتہ نہ ہونے دے جس کے ہاتھ میں کل کسی کی نبض ہو گی۔ مگر تنقید کرنے والوں کا سوال بھی سادہ ہے، اور اُسے صرف حزبِ اختلاف نے نہیں اٹھایا: اجازت چند ماہ پہلے اُسی کمیشن نے دی تھی، جب یہی سہولتیں معیار پر پوری اترتی سمجھی گئی تھیں۔ سترہ جنوری کو جموں و کشمیر اسمبلی میں ایک قرارداد پیش ہوئی کہ مرکز اِس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے۔ بعض اخبارات نے اپنے اداریوں میں اِسے غیر تعلیمی اسباب سے جوڑا۔
اب دونوں مقدمے ایک ساتھ رکھیے، کیونکہ وہ ایک دوسرے کا آئینہ ہیں، اور آئینہ اُلٹا دکھاتا ہے۔ کاکریال میں انتظام ایک ہندو مذہبی بورڈ کے پاس تھا اور نقصان اٹھانے والے زیادہ تر مسلم طلبہ تھے۔ رام پور میں انتظام ایک مسلم ٹرسٹ کے پاس ہے اور نقصان اٹھانے والوں میں ہر برادری کے طلبہ شامل ہیں۔ دونوں جگہ اوزار ایک ہی تھا: کاغذ۔ دونوں جگہ سوال ایک ہی اٹھا: کاغذ اِسی وقت کیوں دیکھا گیا؟ اور دونوں جگہ قیمت ایک ہی فریق نے ادا کی: طالب علم نے۔ جو منطق کسی درسگاہ کو کھاتی ہے، وہ کھاتے وقت اُس کا مذہب نہیں پوچھتی۔
اِس سے ایک اصول برآمد ہوتا ہے جو کسی برادری کی ملکیت نہیں۔ آج جو ہتھیار ایک طرف چلتا ہے، کل وہ دوسری طرف چلے گا؛ اُس دن مظلوم اپنی جگہ بدل چکا ہو گا، مگر ہتھیار وہی رہے گا۔ اِسی لیے تناسب کا مطالبہ کمزور کی رعایت نہیں، ہر ادارے کا بیمہ ہے۔
اور اب اُس فرق کی طرف آئیے جو اِس مضمون کا سب سے عملی نکتہ ہے۔ کاکریال میں کمیشن نے اجازت واپس لیتے ہوئے ایک حکم ساتھ دیا تھا: داخل شدہ تمام طلبہ کو یونین ٹیریٹری کے دوسرے میڈیکل کالجوں میں مقررہ تعداد سے اوپر، یعنی سپر نیومریری نشستوں پر، جگہ دی جائے۔ مقصد یہ تھا کہ کسی طالب علم کی ایم بی بی ایس کی نشست ضائع نہ ہو۔ عمل میں یہ منتقلی تکلیف دہ رہی — کلاسیں اچانک بند ہوئیں، کیمپس فوراً خالی کرایا گیا، اور بچوں نے سال کے وسط میں شہر بدلا — مگر ایک اصول ریکارڈ پر آ گیا: ادارے پر کارروائی سے پہلے طلبہ کے تعلیمی تسلسل کا انتظام۔
رام پور کے حکم میں یہ انتظام موجود نہیں۔ وہاں طلبہ کے لیے جو تجویز ہے وہ کیمپس میں کونسلنگ کیمپ ہے۔ کونسلنگ مشورہ ہے، منتقلی کا حکم نہیں۔ اور انجینئری، فارمیسی، قانون، زراعت اور طب کے چوبیس سو سے زائد طلبہ کے لیے مشورہ کوئی متبادل نہیں۔
یعنی ریاست کے پاس اِس مسئلے کا حل پہلے سے موجود ہے، اور وہ اُس نے خود چھ ماہ پہلے استعمال کیا تھا۔ جو ریاست ایک ادارے کے پچاس طلبہ کا سال بچا سکتی ہے، وہ دوسرے ادارے کے چوبیس سو طلبہ کا سال بھی بچا سکتی ہے — اگر بچانا مقصود ہو۔
قانونی کاغذ میں لکھا ہے: بیاسی ہزار مربع میٹر۔ تعلیم کی زبان میں اِس کا ترجمہ مختلف ہے۔ یہ ایک ایسا کیمپس ہے جہاں انجینئری، فارمیسی، قانون، زراعت اور طب کے شعبے چوبیس سو سے زائد طلبہ کو پڑھا رہے ہیں۔ عمارت اور ادارے کا فرق یہی ہے: عمارت اینٹوں کا مجموعہ ہے، ادارہ تسلسل کا نام ہے۔
اینٹ دوبارہ رکھی جا سکتی ہے۔ سمسٹر دوبارہ نہیں رکھا جا سکتا۔ ایک نصف لکھا ہوا مقالہ، ایک درمیان میں رکا ہوا تجربہ، ایک استاد کے دس برس کے مرتب کیے ہوئے نوٹس، ایک لڑکی کا وہ اعتماد جو تین سال میں پیدا ہوا — یہ سب کسی معاوضے کی فہرست میں درج نہیں ہوتے۔
اور طب کی تعلیم میں معاملہ اِس سے بھی نازک ہے۔ کاکریال کے مقدمے نے ہمیں یہ سبق مفت دیا ہے کہ طبی تعلیم کی سند اینٹوں سے بندھی ہوتی ہے: مخصوص عمارت، مخصوص وارڈ، مخصوص بستروں کی تعداد، مریضوں کا مخصوص بہاؤ۔ جہاں تسلیم شدگی کا رشتہ اِس قدر مادی ہو، وہاں دیوار کا گرنا صرف دیوار کا گرنا نہیں ہوتا؛ وہ ایک قانونی حیثیت کا گرنا ہوتا ہے۔
ریاست کسی عمارت کو ایک رات میں گرا سکتی ہے۔ ریاست کسی سند کو ایک رات میں دوبارہ معتبر نہیں کر سکتی۔ یہی وہ عدم توازن ہے جو ہر انتظامی فیصلے سے پہلے میز پر رکھا جانا چاہیے۔
طلبہ کا الزام ہے کہ نوٹس کے اگلے ہی روز پھاٹک کے باہر ایک کیمپ لگا، جس میں دوسرے اداروں کے نمائندے موجود تھے، اور طلبہ کو یہ تاثر دیا گیا کہ یونیورسٹی جلد گرا دی جائے گی؛ اور یہ کیمپ اُس وقت ہٹا جب وائس چانسلر نے ایک عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس بھیجا۔ انتظامیہ اِس تصویر سے اتفاق نہیں کرتی، اور معاملہ عدالت کے سامنے ہے۔ مگر ایک بات الزام سے آزاد ہے: تعلیم بدحالی سہ لیتی ہے، بے یقینی نہیں سہ پاتی۔
بچہ ٹوٹی چھت کے نیچے پڑھ لیتا ہے۔ وہ اُس چھت کے نیچے نہیں پڑھ پاتا جس پر تاریخ لکھی ہو۔ پندرہ دن انتظامی زبان میں ایک مہلت ہے؛ اُنیس سال کے کسی نوجوان کے لیے وہ بے خوابی کا ایک پورا موسم ہے۔ نفسیات ہمیں بتاتی ہے کہ ذہن خطرے سے زیادہ اُس خطرے سے تھکتا ہے جس کا وقت معلوم نہ ہو۔
اور اِس شامیانے میں ایک اور تعلیم بھی ہو رہی ہے، جو نصاب سے باہر ہے اور نصاب سے زیادہ پائیدار ہے۔ وہ طلبہ جو گودوں میں امبیڈکر کی تصویر اور ہاتھوں میں آئین لیے بیٹھے ہیں، اِن دنوں ایک سبق سیکھ رہے ہیں۔ اگر قانون نے اُن کے ادارے کو تناسب کے ساتھ پرکھا تو وہ عمر بھر یہ جانیں گے کہ آئین کام کرتا ہے۔ اگر نہیں، تو وہ بھی یہ عمر بھر جانیں گے۔ سب سے مہنگی تعلیم وہی ہوتی ہے جو ریاست اپنے رویّے سے دیتی ہے۔
اِس بحث میں سب سے کم پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ اِس کیمپس کی کلاسوں میں کون بیٹھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک معذور طالب علم علی گڑھ سے یہاں منتقل ہوا کیونکہ یہاں معذور طلبہ کو فیس میں زیادہ رعایت ملتی ہے۔ ایک انجینئری کا طالب علم بتاتا ہے کہ اُس نے تنہا ماؤں کے بچوں کے لیے مخصوص رعایت سے فائدہ اٹھایا۔ طالبات محفوظ اور سستی بس اور رکشا سروس کا ذکر کرتی ہیں۔ اور بارہویں جماعت کی ایک طالبہ، جس کا نام کسی ایک مذہبی شناخت کا پابند نہیں، یہاں داخلے کا خواب رکھتی ہے اور کہتی ہے کہ غریب کے ہاتھ میں قلم آیا تھا۔
یہ فہرست کسی ایک برادری کی فہرست نہیں؛ یہ ایک پورے علاقے کے کمزور طبقات کی فہرست ہے۔ اقلیتی ادارے کی حیثیت آئین کی دفعہ ۳۰ سے آتی ہے، مگر اُس کے فیض کا دائرہ اقلیت پر ختم نہیں ہوتا — اور یہی ہمارے دستور کی اصل خوبی ہے۔ اِسی لیے پھاٹک پر سکھ نمائندوں کا آنا کوئی رسمی خبر نہیں تھی؛ وہ اِس فہرست کی تصدیق تھی۔
ایک اور حقیقت، جسے شمالی ہند کا ہر تعلیمی کارکن جانتا ہے: لڑکیوں کی تعلیم کا سب سے بڑا دشمن غربت سے پہلے فاصلہ ہے۔ جہاں کالج قریب ہو، وہاں لڑکی پڑھ لیتی ہے؛ جہاں دو گھنٹے کا سفر ہو، وہاں والدین کا فیصلہ بدل جاتا ہے۔ کسی ضلع میں ایک کیمپس کا ختم ہونا صرف عمارتوں کا کم ہونا نہیں، درجنوں گھروں میں لڑکیوں کی تعلیم کا فاصلہ بڑھ جانا ہے۔ یہ نقصان کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا، مگر یہ بیس برس تک محسوس ہوتا ہے۔
اِس مہینے اِس موضوع پر جو سب سے سخت جملے لکھے گئے، وہ کسی مسلم قلم کار نے نہیں لکھے۔ پون سنگھ نے اپنے کالم میں جو مقدمہ قائم کیا اُس کا خلاصہ یہ ہے: تباہی کا سلسلہ درختوں، تالابوں، کھیتوں اور بستیوں سے شروع ہوا اور اب اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں تک آ گیا ہے؛ ہمارے ہاں ایک نئی اور بھونڈی رسم چل نکلی ہے کہ کسی درسگاہ کے بند ہونے پر مٹھائیاں بانٹی جاتی ہیں؛ اور اگر ضابطے کی بات ہے تو ضابطہ پہلے دارالحکومتوں کی اپنی گلیوں میں لاگو ہونا چاہیے۔ اُس کالم کا اختتام یونیورسٹی کے پھاٹک پر بیٹھی طالبات کے مطالبے کو سننے کی درخواست پر ہوتا ہے۔
اِس آواز کی قیمت اُس کے دلائل سے زیادہ اُس کے پتے میں ہے۔ اقلیت جب اپنے ادارے کا دفاع کرتی ہے تو اُسے مفاد پڑھا جاتا ہے۔ اکثریت جب اقلیت کے ادارے کا دفاع کرتی ہے تو وہی بات اصول بن جاتی ہے۔ اِس مہینے جوہر یونیورسٹی کے حق میں سب سے مؤثر دلیل نہ اردو میں دی گئی، نہ کسی مسلمان نے دی — اور یہ ہمارے لیے تسلی سے زیادہ آئینہ ہے۔
مگر اِس ہمدردی کے ساتھ ایک خطرہ بھی چلتا ہے، اور اُس کی طرف اشارہ نہ کرنا خوشامد ہو گی۔ باہر سے آنے والی حمایت قرض ہوتی ہے، آمدنی نہیں۔ کوئی کالم ہماری فائلوں کی خرابی درست نہیں کر سکتا، کوئی جلوس ہمارے ٹرسٹ ڈیڈ کی ابہام دور نہیں کر سکتا، اور کسی کی یکجہتی ہمارے ہاں جانشینی کے ضابطے کی جگہ نہیں لے سکتی۔ حمایت وہ چھتری ہے جو بارش میں کام آتی ہے؛ چھت ہمیں خود بنانی ہے۔
اور دوسرا تقاضا اِس سے بھی سخت ہے۔ اگر ہم یہ اصول صرف اپنے اداروں کے لیے یاد رکھیں تو یہ اصول نہیں، دعوی ہے۔ کاکریال کے اُس میڈیکل کالج کے حق میں ہمارے ہاں کتنی تحریریں لکھی گئیں؟ اُس شرائن بورڈ کے ادارے کے ساتھ جو ہوا، اُس پر ہماری زبان کتنی کھلی؟ جو قوم اپنے اصول کو اپنی ذات تک محدود رکھے، اُس کے اصول کی عمر ایک مقدمے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اور جو قوم دوسروں کے ادارے کے لیے بھی بولے، اُس کے بولنے کا وزن اُس دن سو گنا ہو جاتا ہے جب اُس کا اپنا ادارہ زد پر آئے۔
اب اُس پس منظر کی طرف آئیے جس کے بغیر رام پور کا واقعہ ایک مقامی جھگڑا لگتا ہے۔ نیتی آیوگ کی مئی ۲۰۲۶ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں سرکاری اسکولوں کی تعداد ۲۰۱۴-۱۵ کے گیارہ لاکھ سات ہزار سے گھٹ کر ۲۰۲۴-۲۵ میں دس لاکھ تیرہ ہزار رہ گئی ہے۔ یعنی ایک دہائی میں تقریباً چورانوے ہزار سرکاری اسکول ختم ہو گئے۔ لوک سبھا میں وزارتِ تعلیم کے دیے ہوئے اعداد بھی یہی کہانی کہتے ہیں: ترانوے ہزار سے زائد اسکول بند ہوئے، جن میں سے ساڑھے چوہتر ہزار پہلے چھ برسوں میں اور تقریباً اٹھارہ ہزار سات سو اُس کے بعد۔ حساب سیدھا ہے: دس برس تک، ہر روز، اوسطاً پچیس اسکول۔
ریاستوں کی سطح پر یہ بوجھ برابر نہیں بٹا۔ ۲۰۱۴-۱۵ سے ۲۰۱۹-۲۰ کے دورانیے میں سب سے زیادہ اسکول اترپردیش میں بند ہوئے — چوبیس ہزار پانچ سو نوے — اور اُس کے بعد مدھیہ پردیش میں بائیس ہزار چار سو اڑتیس۔ اور یہ سلسلہ ماضی کی خبر نہیں۔ وزارتِ تعلیم ہی کی یو ڈائس پلس ۲۰۲۵-۲۶ رپورٹ بتاتی ہے کہ ملک میں اسکولوں کی کل تعداد چودہ لاکھ اکہتر ہزار سے کم ہو کر چودہ لاکھ چھیاسٹھ ہزار رہ گئی: ایک ہی برس میں چار ہزار سات سو اکانوے اسکول بند، یعنی روزانہ تقریباً تیرہ۔ اِن میں سے دو ہزار چار سو چھبیس اکیلے مدھیہ پردیش میں تھے — ملک کے کل نقصان کا نصف سے زیادہ۔
اور صرف تعداد نہیں گھٹی۔ اُسی نیتی آیوگ رپورٹ کے مطابق سرکاری اسکولوں میں داخلے کا حصہ ۲۰۰۵ کے اکہتر فیصد سے گر کر ۲۰۲۴-۲۵ میں تقریباً انچاس فیصد رہ گیا ہے، ایک لاکھ چار ہزار سے زائد اسکول اکیلے ایک استاد پر چل رہے ہیں، اور دہائی بھر میں کل داخلے میں دو کروڑ چھبیس لاکھ کی کمی آئی ہے۔
یہاں دیانت داری کا تقاضا ہے کہ دوسری طرف کی دلیل بھی مکمل رکھی جائے۔ اِن میں سے بہت سے اسکول گرائے نہیں گئے، ضم کیے گئے۔ شرحِ پیدائش گر رہی ہے، بستیوں کی آبادی بدل رہی ہے، اور ایسے اسکول موجود ہیں جن میں طلبہ کی تعداد اِس قدر کم ہو گئی تھی کہ ایک استاد کو پانچ جماعتیں ایک ساتھ پڑھانی پڑتی تھیں۔ انضمام کے حق میں ایک حقیقی انتظامی اور تعلیمی دلیل موجود ہے، اور خود نیتی آیوگ نے مربوط اسکولوں کی سفارش اِسی بنیاد پر کی ہے۔ جو شخص اِس دلیل کو نظرانداز کرے، وہ بحث نہیں کر رہا، نعرہ لگا رہا ہے۔
مگر انضمام کی دلیل اوسط کی زبان میں لکھی جاتی ہے، اور اُس کی قیمت فاصلے کی زبان میں ادا ہوتی ہے۔ کسی پہاڑی گاؤں کے دس سالہ بچے کے لیے، یا روہیل کھنڈ کی کسی بستی کی لڑکی کے لیے، “معقول بندی” کا مطلب دو گھنٹے کا اضافی سفر ہے — اور اکثر تعلیم کا خاتمہ۔ کاغذ پر اسکول ضم ہوتا ہے؛ زمین پر ایک بچہ کم ہو جاتا ہے۔
اور یہیں وہ بات ہے جو مجھے اِس پورے موضوع میں سب سے زیادہ بے چین کرتی ہے۔ رام پور کا معاملہ شور مچا رہا ہے کیونکہ بلڈوزر تصویر بنتا ہے۔ روز کے پچیس تالے خاموش ہیں کیونکہ تالا تصویر نہیں بنتا۔ ہماری بے چینی اعداد سے نہیں، آواز سے طے ہوتی ہے۔ ہم اُس ادارے کا ماتم کرتے ہیں جو دھماکے سے مرے، اور اُن ہزاروں کا نہیں جو دبے پاؤں مرتے ہیں — حالانکہ دوسری قسم پہلی سے ہزاروں گنا زیادہ ہے۔
اِس کا مطلب یہ نہیں کہ رام پور پر آواز نہ اٹھائی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ جو ضمیر رام پور پر جاگا ہے، اُسے اپنے ضلع کے اُن سرکاری اسکولوں پر بھی جاگنا چاہیے جن پر پچھلے دس برسوں میں چپکے سے تالا پڑ گیا اور کسی نے احتجاجاً ایک تختی بھی نہیں اٹھائی۔
جب کسی درسگاہ کے مٹنے کی بات ہوتی ہے تو ہمارے ہاں فوراً نالندہ کا نام آتا ہے، اور اُس کے ساتھ ایک مقدمہ بھی جو صدیوں سے ایک ہی سمت میں چل رہا ہے۔ اِس مقام پر ایک محقق کو ٹھہرنا چاہیے، کیونکہ اکثر مورخین یہاں جلد باز ثابت ہوئے ہیں۔
مقبول روایت یہ ہے کہ بارہویں صدی کے آخر میں بختیار خلجی نے نالندہ کو جلا دیا۔ مگر جو فارسی مآخذ اِس واقعے کا سب سے قریبی گواہ ہے — منہاجِ سراج کی طبقاتِ ناصری — اُس میں ایک قلعہ بند مقام “بہار” کے تسخیر کیے جانے کا ذکر ہے، جسے محققین کی ایک بڑی تعداد اُدنت پوری سے متعلق کرتی ہے، اور اُس بیان میں نالندہ کا نام موجود نہیں۔ اِس سے بھی زیادہ اہم ایک تبتی سیاح کی گواہی ہے: چاگ لوتساوا دھرم سوامی، جو تیرہویں صدی کی چوتھی دہائی میں یہاں پہنچا، اُس نے کچھ عمارتیں سلامت پائیں اور دیکھا کہ ایک ضعیف عالم راہول شری بھدر کے گرد چند طلبہ اب بھی درس لے رہے ہیں۔ اُس کی روداد یہ بھی بتاتی ہے کہ نالندہ کے دوبارہ نہ اٹھنے کا بڑا سبب سرپرستی کا خاتمہ تھا۔
میں اِس تفصیل سے کسی کو بری نہیں کر رہا اور کسی پر فردِ جرم نہیں لگا رہا۔ میں ایک قانون کی طرف اشارہ کر رہا ہوں: درسگاہیں کم ہی ایک رات میں مرتی ہیں۔ وہ سرپرستی کے اٹھ جانے سے مرتی ہیں، ہمسائے کی بے مہری سے مرتی ہیں، اور اُن کاغذات سے مرتی ہیں جن کی تجدید کوئی نہیں کرتا۔ آگ عموماً اُس کتاب کا آخری باب ہوتی ہے جس کے پہلے باب بے توجہی لکھ چکی ہوتی ہے۔ اِس اعتبار سے آج کے وہ پچیس روزانہ تالے بھی نالندہ ہی کی موت ہیں — صرف رفتار کم ہے، اور رفتار کم ہونے سے موت کی نوعیت نہیں بدلتی۔
اور دوسری طرف اُس روایت کو دیکھیے جس سے یہی ادارہ نکلا ہے۔ سر سید نے ۱۸۷۵ میں علی گڑھ میں جو مدرسہ قائم کیا، اُس کے لیے وہ دروازوں پر گئے اور طعنے سنے۔ مولانا محمد علی جوہر نے “کامریڈ” اور “ہمدرد” نکالے، خلافت تحریک کی قیادت کی، قید کاٹی، اور ۱۹۲۰ میں علی گڑھ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد رکھی — ایسی جامعہ جو ابتدا میں بے سرمایہ تھی، کرائے کی جگہوں میں منتقل ہوتی رہی، اور جس کے بانیوں نے تنخواہ کے بجائے قرض پر کام کیا۔ ۱۹۳۱ میں مولانا لندن میں انتقال کر گئے اور بیت المقدس میں دفن ہوئے — ایک ایسا آدمی جس کے پاس اپنا مکان بھی نہ تھا اور جس کے نام پر آج سیکڑوں ایکڑ کا کیمپس ہے۔
تاریخ کا پہلا سبق برادریوں کے لیے ہے: اُن کے ادارے کبھی ریاست کی گود میں پیدا نہیں ہوتے؛ وہ ریاست کی بے توجہی میں پیدا ہوتے ہیں اور اکثر ریاست کی نظر میں آ کر مشکل میں پڑتے ہیں۔ اِس لیے اُن کا اصل سرمایہ سرپرستی نہیں، ساکھ ہوتی ہے۔
دوسرا سبق حاکموں کے لیے ہے: تاریخ حکومتوں کو اُن کے اعلانات سے یاد نہیں رکھتی؛ وہ اُنہیں اُن کے کھنڈرات سے یاد رکھتی ہے۔ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی جب کسی درسگاہ کی راکھ کا ذکر آتا ہے، تو ساتھ ایک نام آتا ہے — اور وہ نام کبھی عزت سے نہیں آتا۔ جو ریاست تعمیر کرتی ہے، اُسے قوم یاد رکھتی ہے؛ جو ریاست گراتی ہے، اُسے تاریخ یاد رکھتی ہے۔ دونوں یادوں میں فرق ہے۔
یہ سب اُس وقت ہو رہا ہے جب ریاستی اسمبلی کے انتخابات ایک برس کے فاصلے پر ہیں، اور یہ سیاق نظرانداز کرنا سادگی ہو گی۔ حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ یہ کارروائی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور صف بندی کے لیے ہے۔ حکمراں جماعت کے ایک وزیر کا کہنا ہے کہ اِس یونیورسٹی کے قیام کا مقصد معیاری تعلیم دینا نہیں تھا۔ اُسی جماعت کے مقامی کارکنوں میں سے کوئی کہتا ہے کہ شہر طلبہ کے ساتھ ہے مگر بانی کے ساتھ نہیں۔ اور بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اِس تنازعے کا انتخابی فائدہ درجنوں حلقوں میں حکمراں جماعت ہی کو ملے گا۔
اِن سب اندازوں میں ایک بات مشترک ہے، اور وہی سب سے تکلیف دہ ہے۔ ہر فریق اِس ادارے کو ایک اثاثہ سمجھ رہا ہے — کسی کے لیے یہ ہمدردی کمانے کا اثاثہ ہے، کسی کے لیے صف بندی کا۔ اِس حساب کتاب میں طالب علم نہ نفع ہے نہ نقصان؛ وہ محض عدد ہے۔ سیاست کی زبان میں اِسے ووٹ بینک کہتے ہیں۔ تعلیم کی زبان میں اِسے ضائع شدہ سال کہا جاتا ہے، اور یہ نقصان کسی جماعت کے کھاتے میں درج نہیں ہوتا۔
یہاں ایک آزمائشی سوال رکھتا ہوں، جو ہر فریق پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ اگر تشویش واقعی طلبہ کی ہے، تو ہر وہ راستہ قابلِ ترجیح ہے جو تعلیم کو جاری رکھے: جرمانے کے ساتھ تعمیر کی باقاعدگی، عدالتی نگرانی میں آڈٹ، ٹرسٹ کی تنظیمِ نو، یا انتہائی صورت میں ادارے کا کسی سرکاری یونیورسٹی میں انضمام۔ اِن میں سے کوئی بھی صورت ملبے سے بہتر ہے۔ جو شخص یا جماعت اِن سب پر ملبے کو ترجیح دے، اُس کی تشویش طلبہ کی نہیں تھی۔ اور جو ہمدردی صرف جلوس تک محدود رہے، وہ بھی طلبہ کے کام نہیں آتی — احتجاج سستا ہوتا ہے، وقف اور وکالت مہنگی۔
ریاست اور قانون کے لیے چار باتیں۔
پہلی، جب معاملہ زیرِ سماعت ہو تو ناقابلِ واپسی کارروائی نہ ہو۔ گری ہوئی عمارت کے حق میں کوئی عدالت راحت نہیں دے سکتی؛ فیصلے کے بعد کا انصاف ملبے پر لاگو نہیں ہوتا۔
دوسری، اپیل کی سماعت ایسے فورم میں ہو جس کا فریقین کے ساتھ کوئی ذاتی سابقہ نہ ہو۔ یہ ریاست کے وقار کا تقاضا ہے، ادارے کی رعایت نہیں۔
تیسری، اور یہ ایک قانون سازی کی تجویز ہے: جس طرح زیرِ علاج اسپتال کے لیے خصوصی احتیاط برتی جاتی ہے، اُسی طرح یہ اصول وضع کیا جائے کہ کسی فعال تعلیمی ادارے کی درسی عمارتیں تعلیمی سال کے دوران، اور طلبہ کے تعلیمی تسلسل کا متبادل انتظام کیے بغیر، منہدم نہ کی جائیں۔ خلاف ورزی کی سزا ادارے کو دی جائے، نسل کو نہیں۔
چوتھی، اور یہ نظیر ریاست کے اپنے ریکارڈ میں موجود ہے: اگر کارروائی ناگزیر ہو تو پہلے وہی کیجیے جو کاکریال میں کیا گیا — ہر داخل شدہ طالب علم کے لیے دوسری جگہ سپر نیومریری نشست کا حکم، اور اُس کے بعد اینٹ پر ہاتھ۔ پہلے بچہ، پھر عمارت۔
اور اُن سب کے لیے جو ادارے چلاتے ہیں — یہی حصہ اِس مضمون کا اصل پیغام ہے:
ہر ادارہ سال میں ایک بار قانونی صحت کا جائزہ کرائے، بالکل اُسی طرح جیسے حسابات کا آڈٹ ہوتا ہے: زمین کی ملکیت اور لیز کی شرائط، زمین کے مجاز استعمال کا اندراج، ہر عمارت کا منظور شدہ نقشہ، آگ اور ساخت سے متعلق اجازت نامے، اقلیتی حیثیت اور الحاق کی دستاویزات، ٹرسٹ ڈیڈ اور جانشینی کا ضابطہ، اور بیمہ۔ ہر منظوری کی رسید محفوظ رہے۔ کوئی دیوار منظور شدہ نقشے کے بغیر نہ اٹھے، چندہ خواہ کتنا ہی بروقت آ جائے۔
اور ایک نازک بات، جو خیرخواہی سے کہہ رہا ہوں۔ ادارے کو کسی فرد کی سیاسی زندگی کا ضمیمہ نہ بنائیے۔ رواں برس جنوری میں ٹرسٹ کی صدارت خاندان کے دوسرے افراد کو منتقل کی گئی، مگر خاندان کے اندر منتقلی اور ادارے کی سیاست سے علیحدگی دو مختلف چیزیں ہیں۔ جس درسگاہ کا مستقبل ایک شخص کے مقدمات سے بندھا ہو، وہ اُس شخص کے ساتھ ہی کمزور ہوتی ہے۔ ادارے کو اپنی سانس چاہیے: خود مختار مجلسِ منتظمہ، شفاف حسابات، اور ایسی جانشینی جو خون سے نہیں، ضابطے سے طے ہو۔
اور برادری اور سماجی اداروں کے لیے دو تجاویز، جو جلوس سے سستی اور جلوس سے زیادہ کارگر ہیں۔ پہلی، ہر ریاست میں ایک ایسا مستقل شعبہ قائم ہو جس میں ریٹائرڈ افسران، ٹاؤن پلانر اور وکیل شامل ہوں اور جس کا واحد کام یہ ہو کہ چھوٹے اسکولوں اور کالجوں کے کاغذات درست کرائے۔ علاج سے سستا ہمیشہ احتیاط ہوتی ہے۔ دوسری، ایک مشترکہ وقف اور قانونی دفاعی فنڈ، تاکہ نوٹس آنے کے بعد چندہ نہ اٹھایا جائے بلکہ نوٹس آنے سے پہلے وکیل مقرر ہو۔
اور آخر میں ایک درخواست عام شہری اور صحافی سے۔ اسکولوں کے بند ہونے کے اعداد کو خبر سمجھیے۔ اپنے علاقے کے رکنِ اسمبلی سے صرف ایک سوال پوچھ لیجیے: پچھلے دس برسوں میں ہمارے ضلعے میں کتنے سرکاری اسکول بند ہوئے؟ یہ ایک سوال سو جلوسوں سے زیادہ وزن رکھتا ہے۔
اُس بڑھئی کی طرف واپس آئیے جس سے یہ مضمون شروع ہوا تھا۔ اُس نے اِس یونیورسٹی کے دروازے بنائے، مگر اُن دروازوں سے کبھی طالب علم بن کر داخل نہیں ہوا۔ اُس کے ہاتھ کی محنت اندر ہے اور وہ خود باہر کھڑا ہے۔ اُس کا مطالبہ سیاسی نہیں، حسابی ہے: اگر یہ درسگاہ رہی تو اُس کے علاقے کا لڑکا بڑھئی کے بجائے کچھ اور بھی بن سکتا ہے۔ ایک ملک کی ترقی کا اِس سے سادہ اور اِس سے سچا پیمانہ کوئی نہیں۔
قانون کا احترام لازم ہے، اور جو غلطی ہوئی ہے اُس کی قیمت ادا ہونی چاہیے۔ مگر قیمت اُس سے وصول کی جائے جس نے غلطی کی، اور اُس سکّے میں جو اُس نے کمایا ہے۔ طالب علم کے سال کسی کی غلطی کا سکّہ نہیں ہیں۔
اور اِس مضمون کا سب سے بڑا سبق اُس آئینے میں ہے جو کاکریال نے رام پور کو دکھایا۔ وہاں ادارہ ایک مذہبی بورڈ کا تھا اور نقصان مسلم طلبہ کا ہوا؛ یہاں ادارہ ایک مسلم ٹرسٹ کا ہے اور نقصان ہر برادری کے طلبہ کا ہو گا۔ جو شخص صرف اپنی صف کے نقصان پر بولتا ہے، وہ اصول کا نہیں، صف کا وکیل ہے۔ اور اصول کے بغیر صفیں ایک ایک کر کے ہاری جاتی ہیں۔
ایک عمارت گرانے میں چند گھنٹے لگتے ہیں۔ ایک ادارہ بنانے میں نسلیں لگتی ہیں۔ اور کسی قوم کی سب سے قیمتی جائیداد نہ زمین ہوتی ہے نہ عمارت، بلکہ وہ اعتماد ہوتا ہے جس کے سہارے ایک غریب باپ اپنے بچے کو گھر سے نکال کر کسی درسگاہ کے حوالے کرتا ہے۔ ملک بھر میں روز پچیس دروازے چپکے سے بند ہو رہے ہیں؛ رام پور کا دروازہ اُن سب سے صرف اِس لیے مختلف ہے کہ اِس کے بند ہونے کی آواز سنائی دے رہی ہے۔
رام پور میں اِس وقت جو امتحان ہو رہا ہے، اُس کا پرچہ طلبہ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ وہ ریاست کے ہاتھ میں ہے۔ اور اِس کا نتیجہ نمبروں میں نہیں، نسلوں میں آئے گا۔

