معصومیت پر الزام، درس گاہ میں تشدد اور ایک ننھی زندگی کا نوحہ
ڈاکٹر اسد اللہ خان
بازار میں دس روپے کی حیثیت اب اتنی رہ گئی ہے کہ دکان دار انھیں گننے میں وقت صرف نہیں کرتا۔ اس نوٹ پر چائے کی ایک پیالی آتی ہے، نہ رکشے کا کرایہ پورا ہوتا ہے، نہ کسی بھکاری کی دعا لمبی ہوتی ہے۔ مگر بائیس جولائی دو ہزار چھبیس کی دوپہر، مظفر نگر کے ایک گاؤں میں، یہی بے وقعت کاغذ اتنا بھاری ہو گیا کہ ایک دس سالہ بچی کی سانسیں اس کے نیچے دب گئیں۔
یہ مضمون کسی سنسنی خیز خبر کی تفصیل نہیں، ایک سوال کی تفتیش ہے: وہ کون سا نظام ہے، وہ کون سی سوچ ہے، وہ کون سی روایت ہے جو ایک درس گاہ کو — جہاں بچے کو دنیا کی سب سے محفوظ جگہ ہونا چاہیے تھا — اس کے لیے دنیا کی سب سے خطرناک جگہ بنا دیتی ہے؟ آیوشی نام کی وہ بچی اب کسی سوال کا جواب نہیں دے سکتی؛ اس لیے اب سارے سوالوں کا رخ ہماری طرف ہے۔
اترپردیش کے ضلع مظفر نگر میں نئی منڈی کوتوالی کے علاقے کا گاؤں پنچیڑا کلاں۔ گاؤں کا سرکاری پرائمری اسکول۔ چوتھی جماعت کی دس سالہ طالبہ آیوشی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اسکول کی ایک معلمہ نے الزام لگایا کہ بچی نے اس کے تھیلے سے دس روپے چرائے ہیں۔ اس شکایت پر ایک معلم نے اسکول ہی کے احاطے میں، دوسرے بچوں کے سامنے، اس بچی کو بری طرح پیٹا۔ محلے والوں اور ہم جماعت بچوں نے بتایا کہ وہ روتی ہوئی اسکول سے نکلی اور روتی ہوئی گھر پہنچی۔
گھر پہنچ کر اس نے اپنے گھر والوں سے صرف ایک جملہ بار بار کہا: میں نے چوری نہیں کی، مجھے یہ روپے میز کے نیچے پڑے ملے تھے۔ اسی دوپہر، اپنے ہی گھر میں، اس بچی نے اپنی زندگی ختم کر لی۔ باپ اشوک راجپوت کی تحریر پر پولیس نے دونوں اساتذہ کے خلاف بھارتیہ نیاے سنہتا کی دفعہ ۱۰۷ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، اور تفتیش جاری ہے۔ قانون اپنا راستہ طے کرے گا؛ الزام کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔ مگر جو سوال اس مضمون کا موضوع ہے، وہ کسی ایک مقدمے سے بہت بڑا ہے۔
اس واقعے کا سب سے ہولناک پہلو مار نہیں، وہ عدالت ہے جو چند منٹوں میں کمرۂ جماعت کے اندر قائم ہوئی اور چند منٹوں میں اپنا فیصلہ سنا کر برخاست بھی ہو گئی۔ اس عدالت میں سب کچھ موجود تھا: مدعی موجود، الزام موجود، گواہوں کا مجمع موجود، سزا دینے والا ہاتھ موجود۔ صرف ایک چیز موجود نہیں تھی — صفائی کا موقع۔ ملک کی سب سے چھوٹی عدالت میں بھی ملزم کو وکیل ملتا ہے؛ اس درس گاہ میں دس سال کی بچی کو ایک جملہ مکمل کرنے کی مہلت نہ ملی۔
انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ الزام ثابت ہونے تک آدمی بے قصور ہے۔ ہم نے یہ اصول اپنی عدالتوں کے لیے تو مان لیا، اپنے اسکولوں کے لیے نہیں مانا۔ وہاں الزام ہی ثبوت ہے، اور بڑے کی زبان ہی فیصلہ۔ ستم یہ ہے کہ بچی کا بیان — روپے میز کے نیچے پڑے ملے تھے — اتنا سادہ، اتنا قرینِ قیاس اور اتنا قابلِ تصدیق تھا کہ دو منٹ کی نرم گفتگو پورا معاملہ صاف کر سکتی تھی۔ مگر تصدیق کے لیے صبر چاہیے، اور صبر اسی سے کیا جاتا ہے جسے برابر کا انسان سمجھا جائے۔
یہ سانحہ کسی ایک شخص کے غصے کی پیداوار نہیں؛ یہ اس صدیوں پرانی فکری غلطی کا تازہ ثمر ہے جو مار کو تربیت کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ ہمارے سماج میں یہ فقرہ کہاوت کی سند پا چکا ہے کہ استاد کی مار سنوارتی ہے۔ نسل در نسل والدین نے اساتذہ سے کہا: ہڈی ہماری، کھال آپ کی۔ اس ایک جملے میں ہم نے اپنے بچوں کے جسم پر تشدد کا اجازت نامہ لکھ کر دستخط کر دیے۔
اس روایت کی جڑ ایک نفسیاتی مغالطہ ہے: خوف کو ادب سمجھ لینا اور سہم جانے کو سدھر جانا۔ بچہ مار کھا کر خاموش ضرور ہو جاتا ہے، مگر خاموشی سیکھنے کا نام نہیں۔ وہ غلطی چھوڑنا نہیں، غلطی چھپانا سیکھتا ہے؛ سچ بولنا نہیں، سزا سے بچنا سیکھتا ہے۔ اور جس دن الزام جھوٹا ہو، اس دن مار صرف جسم پر نہیں پڑتی — اس اعتماد پر پڑتی ہے جو بچے نے بڑوں کی دنیا پر کر رکھا تھا۔
کاغذ پر ہمارا ملک اس معاملے میں بے بس نہیں۔ حقِ تعلیم قانون ۲۰۰۹ء کی دفعہ ۱۷ بچوں کو جسمانی سزا اور ذہنی اذیت، دونوں سے صاف لفظوں میں تحفظ دیتی ہے اور خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی کا حکم دیتی ہے۔ قومی کمیشن برائے تحفظِ حقوقِ اطفال اسکولوں سے جسمانی سزا کے مکمل خاتمے کے لیے باقاعدہ رہنما اصول جاری کر چکا ہے۔ نوجوانوں کے تحفظ سے متعلق قوانین بچے کے ساتھ ظلم کو جرم قرار دیتے ہیں۔ یعنی قانون موجود ہے، واضح ہے، اور سخت ہے۔
پھر خرابی کہاں ہے؟ خرابی یہ ہے کہ قانون کی کتاب دارالحکومت میں رہتی ہے اور اسکول کا صحن گاؤں میں۔ دونوں کے درمیان جو فاصلہ ہے، وہ فاصلہ تربیت سے پُر ہونا تھا، نگرانی سے پُر ہونا تھا، احتساب سے پُر ہونا تھا — مگر وہ خالی رہا۔ قانون کا المیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ واقعے کے بعد پہنچتا ہے: پہلے جنازہ اٹھتا ہے، پھر دفعہ لگتی ہے۔ جو چیز جنازے سے پہلے پہنچ سکتی تھی، وہ قانون نہیں، تربیت تھی۔
تعلیم کے پیشے میں چالیس برس گزارنے کے بعد میں ایک بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں: نظم و ضبط اور تذلیل دو الگ دنیائیں ہیں۔ تادیب کا مقصد بچے کی اصلاح ہے اور اس کی پہلی شرط بچے کی عزتِ نفس کی حفاظت ہے؛ تذلیل کا مقصد بڑے کے غصے کی تسکین ہے اور اس کی پہلی قربانی وہی عزتِ نفس ہے۔ جو استاد بچے کو سب کے سامنے رسوا کرتا ہے وہ نظم قائم نہیں کرتا، صرف یہ اعلان کرتا ہے کہ اس کے پاس سکھانے کا کوئی اور طریقہ نہیں بچا۔
جدید تعلیمی تحقیق جس نتیجے پر بار بار پہنچی ہے، وہ دراصل ہر تجربہ کار معلم کا روزمرہ مشاہدہ ہے: خوف زدہ ذہن سیکھ نہیں سکتا۔ جس بچے کو کمرۂ جماعت میں اپنی حفاظت کا یقین نہ ہو، اس کی ساری ذہنی توانائی سیکھنے کے بجائے بچنے پر صرف ہوتی ہے۔ اسی لیے درس گاہ کی پہلی اینٹ نصاب نہیں، اعتماد ہے۔ بچہ پہلے استاد پر ایمان لاتا ہے، پھر کتاب پر۔ اور جس دن استاد ہی خوف کی علامت بن جائے، اس دن کتاب بھی سزا کا پروانہ لگنے لگتی ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اسکول میں بچہ ہمارے پاس امانت ہوتا ہے۔ والدین اپنے جگر کا ٹکڑا ہمیں اس بھروسے پر سونپتے ہیں کہ ہم اسے علم دیں گے، زخم نہیں۔ امانت میں خیانت صرف مال کی نہیں ہوتی؛ کسی بچے کے اعتماد کو توڑ دینا بھی خیانت ہے — اور شاید سب سے سنگین خیانت۔
بالغ آدمی جھوٹے الزام کا بوجھ اس لیے سہار لیتا ہے کہ اس کے پاس وقت کا تجربہ ہوتا ہے؛ وہ جانتا ہے کہ آج کی رسوائی کل کی گرد میں دب جائے گی۔ دس سال کے بچے کے پاس یہ تجربہ نہیں ہوتا۔ اس کی دنیا میں آج ہی سب کچھ ہے: آج کا استاد، آج کی جماعت، آج کے ہم جماعتوں کی ہنسی۔ اس عمر میں استاد کا کہا ہوا لفظ رائے نہیں، حقیقت کا درجہ رکھتا ہے۔ استاد نے چور کہہ دیا تو گویا کائنات نے چور کہہ دیا۔
نفسیات ندامت اور رسوائی میں ایک باریک مگر فیصلہ کن فرق کرتی ہے۔ ندامت کہتی ہے: مجھ سے غلط کام ہوا۔ رسوائی کہتی ہے: میں ہی غلط ہوں۔ پہلا احساس اصلاح کی طرف لے جاتا ہے، دوسرا خود سے نفرت کی طرف۔ سرِ عام سزا بچے کو ندامت نہیں، رسوائی دیتی ہے — اور جب الزام جھوٹا ہو تو یہ رسوائی زہر میں بجھ جاتی ہے، کیونکہ بچہ اپنے اندر کی سچائی اور باہر کے فیصلے میں سے کسی ایک کو جھٹلانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اتنی چھوٹی عمر اتنا بڑا تضاد اٹھانے کے لیے بنی ہی نہیں۔
اس لیے یہ کہنا کہ بچی نے اتنی سی بات پر اتنا بڑا قدم کیوں اٹھا لیا، سوال ہی غلط باندھنا ہے۔ بات اتنی سی نہیں تھی۔ اس کے قد سے ناپیے تو وہ الزام پہاڑ تھا، وہ مار زلزلہ تھی، اور وہ رسوائی قیامت۔ بچوں کے دکھ کو بڑوں کے پیمانے سے ناپنا خود ایک قسم کی بے رحمی ہے۔
شہر کی گمنامی میں الزام دفتر کی فائل میں رہتا ہے؛ گاؤں کی قربت میں الزام ہوا میں گھل جاتا ہے۔ پنچیڑا کلاں جیسی بستی میں اسکول کی دیوار اور گھر کے آنگن کا فاصلہ چند قدم کا ہے، اور خبر ان چند قدموں کو بچے سے پہلے طے کر لیتی ہے۔ جو بچی روتی ہوئی گھر پہنچی، وہ جانتی تھی کہ اس کے آنسوؤں سے پہلے چور کا لفظ اس کے دروازے پر دستک دے چکا ہو گا۔ گاؤں کی معیشت میں دس روپے چھوٹی رقم سہی، گاؤں کی معاشرت میں چوری کا داغ عمر بھر کا خسارہ ہے — اور بیٹی کے ماتھے پر لگے تو اس کا وزن دوہرا ہو جاتا ہے۔
یہاں ایک اور تلخ حقیقت سے آنکھ ملانا ضروری ہے۔ غریب کا بچہ سرکاری اسکول میں صرف طالب علم نہیں ہوتا، ایک بے آواز فریق ہوتا ہے۔ اس کے والدین کے پاس نہ اثر و رسوخ ہوتا ہے، نہ شکایت کے راستوں کی واقفیت، نہ اسکول بدلنے کی گنجائش۔ تشدد ہمیشہ اسی سمت بہتا ہے جہاں مزاحمت سب سے کم ہو۔ اسی لیے جسمانی سزا کا سب سے زیادہ شکار وہی بچے ہوتے ہیں جن کی آواز سب سے کم سنی جاتی ہے۔
جو لوگ درس گاہ کی سختی کو مشرقی روایت کا حصہ کہہ کر سند فراہم کرتے ہیں، انھیں خود اپنی روایت کے سب سے بڑے دماغوں سے رجوع کرنا چاہیے۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن خلدون نے مقدمے میں لکھا کہ جس شاگرد کی تربیت جبر اور سختی سے ہو، سختی اس کے نفس کو دبا دیتی ہے، اس کی نشاط چھین لیتی ہے اور اسے جھوٹ اور مکر کی طرف دھکیل دیتی ہے، کیونکہ وہ سزا کے خوف سے اپنے دل کی بات چھپانے لگتا ہے۔ چھ سو برس پہلے کا یہ تجزیہ آج کی تعلیمی نفسیات کے کسی بھی باب میں رکھ دیجیے، اجنبی نہیں لگے گا۔
اور روایت کی اصل سند تو وہ نبیِ رحمت ﷺ ہیں جن کے خادمِ خاص حضرت انسؓ نے دس برس کی رفاقت کے بعد گواہی دی کہ اس پوری مدت میں انھوں نے کبھی مجھے اف تک نہیں کہا۔ جس دین نے فرمایا کہ جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں، اس کی تہذیب کے نام پر بچوں پر ہاتھ اٹھانا روایت کی پیروی نہیں، روایت پر بہتان ہے۔ چھڑی والا مکتب ہماری تاریخ کا حاصل نہیں، ہماری تاریخ کا زوال ہے؛ عروج کے زمانوں میں استاد کی عظمت اس کے رعب سے نہیں، اس کی شفقت سے قائم تھی۔
پنچیڑا کلاں کو الگ تھلگ حادثہ سمجھنا خود فریبی ہو گی۔ اخبار کی فائلیں پلٹیے: کہیں غلط جواب پر مار سے بچہ جان سے گیا، کہیں پہاڑا نہ سنا پانے پر ہم جماعتوں کے ہاتھوں پٹوایا گیا، کہیں امتحان کے خوف نے کسی کمرے کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ ریاستیں بدلتی ہیں، بہانے بدلتے ہیں، بچوں کے نام بدلتے ہیں — خبر کا ڈھانچہ نہیں بدلتا۔ اور ہر بار ہمارے غم کی عمر ایک ہفتہ ہوتی ہے: مذمت، معطلی، مقدمہ، خاموشی۔ اگلے سانحے تک۔
اس تسلسل کے پیچھے نظام کی وہ دراڑیں ہیں جن پر کوئی سرخی نہیں بنتی: پرائمری اسکولوں میں تربیت یافتہ مشیرِ نفسیات کا تصور تک موجود نہیں؛ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت میں بچوں کی نفسیات برائے نام ہے؛ بھری ہوئی جماعتیں اور غیر تدریسی بوجھ استاد کے صبر کو روز کترتے ہیں؛ اور شکایت کا کوئی ایسا راستہ نہیں جس پر دس سال کا بچہ خود چل سکے۔ جس عمارت میں اتنی دراڑیں ہوں، وہاں حادثہ استثنا نہیں، امکان بن جاتا ہے۔
ماتم فرض ہے، مگر ماتم پالیسی نہیں۔ اگر اس بچی کی موت سے کچھ تعمیر ہو سکتا ہے تو وہ ایک ایسا نظام ہے جس کی بنیاد بچے کی عزتِ نفس پر ہو۔ اس کے چند لازمی ستون یہ ہیں۔
اول، اساتذہ کی بنیادی اور دورانِ ملازمت تربیت میں بچوں کی نفسیات اور مثبت نظم و ضبط کو زبانی جمع خرچ کے بجائے باقاعدہ، قابلِ امتحان مضمون بنایا جائے؛ جسے بچے کا ذہن پڑھنا نہیں آتا، اسے بچے کی جماعت نہیں سونپی جا سکتی۔
دوم، ہر اسکول میں تحفظِ اطفال کی وہ کمیٹی جو کاغذ پر موجود ہے، عملاً زندہ کی جائے، اور اس میں والدین کی حقیقی نمائندگی ہو۔
سوم، ایک سنہری اصول ہر اسکول کی دیوار پر لکھا جائے اور ہر معلم کے دل پر: بچے پر کوئی بھی الزام کبھی بھری جماعت کے سامنے نہیں اٹھایا جائے گا؛ تحقیق تنہائی میں، نرمی سے اور ثبوت کے ساتھ ہو گی۔
چہارم، پرائمری سطح پر کم از کم خوشہ وار سطح کے مشیرِ نفسیات مقرر ہوں جن تک استاد بھی رسائی رکھے، کیونکہ ٹوٹا ہوا معلم بھی اتنا ہی خطرہ ہے جتنا ٹوٹا ہوا نظام۔
پنجم، والدین کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے: گھر وہ جگہ ہو جہاں بچہ اپنی رسوائی لا کر رکھ سکے اور وہ پگھل جائے۔ اور ششم، احتساب فوری اور شفاف ہو، کیونکہ قانون کا رعب سزا کی سختی سے نہیں، سزا کے یقین سے قائم ہوتا ہے۔
ان میں سے کوئی تجویز خرچ سے زیادہ ارادہ مانگتی ہے۔ جو قوم اپنے تعلیمی بجٹ میں عمارتوں کے لیے گنجائش نکال لیتی ہے، وہ بچوں کے وقار کے لیے بھی نکال سکتی ہے — بشرطیکہ وہ وقار کو بھی بنیادی ڈھانچہ سمجھے۔
اس سارے قصے کی سب سے چبھنے والی تفصیل وہی ہے جو سب سے چھوٹی ہےبچی نے کہا تھا کہ روپے اسے میز کے نیچے پڑے ملے تھے۔ یعنی معاملہ چوری کا تھا ہی نہیں؛ ایک جھکی ہوئی ننھی نظر کو زمین پر ایک نوٹ دکھائی دیا تھا۔ جو بات دو منٹ کی تصدیق سے کھل سکتی تھی، وہ اب ایک تفتیشی فائل، ایک سونا کمرہ اور ایک اجڑا ہوا آنگن بن چکی ہے۔ سچائی آخرکار سامنے آ ہی جاتی ہے — مگر کبھی کبھی اتنی دیر سے کہ اس کے سننے والے دنیا میں نہیں رہتے۔
عدالت اپنا کام کرے گی؛ دفعات، بیانات اور فیصلے قانون کے سپرد۔ مگر اصل مقدمہ کسی ایک کٹہرے میں نہیں چل رہا۔ وہ ہر اس کمرۂ جماعت میں چل رہا ہے جہاں آج بھی کوئی بچہ صفائی کا ایک جملہ کہنے کی مہلت مانگ رہا ہے۔ ہم سب اس مقدمے میں فریق ہیں — استاد کی حیثیت سے، والدین کی حیثیت سے، معاشرے کی حیثیت سے، اور اس خاموش تماشائی کی حیثیت سے جس کی خاموشی ہر بار ظلم کے حق میں گواہی بن جاتی ہے۔
ہزاروں بچوں کو قریب سے دیکھنے، سمجھنے اور ان کے ساتھ جینے کے بعد میرے دل میں ایک ہی بات نقش ہو کر رہ گئی ہےکہ بچہ ہم سے نصاب بعد میں مانگتا ہے، بھروسا پہلے مانگتا ہے۔ جس دن ہمارے اسکولوں میں بچے کی بات اتنی ہی توجہ سے سنی جانے لگے گی جتنی تیزی سے اس پر الزام لگا دیا جاتا ہے، اس دن سمجھیے کہ آیوشی کا مقدمہ اپنے اصل انجام کو پہنچا۔ اس دن تک دس روپے کا وہ نوٹ ہماری پوری تعلیمی عمارت کے ماتھے پر چسپاں رہے گا — ایک رسید کی طرح، جس پر لکھا ہے کہ ہم نے ایک بچی کی جان لے کر یہ سبق خریدا تھا۔ خدا کرے ہم اسے دوبارہ خریدنے پر مجبور نہ ہوں۔

