جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں!

کبھی کبھی ایک خبر صرف خبر نہیں ہوتی۔وہ ایک سوال ہوتی ہے جو پورے معاشرے کے ضمیر کے دروازے پر دستک دیتی ہے۔کبھی کوئی رپورٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ ان کروڑوں نوجوانوں کی خاموش چیخ ہوتی ہے جن کے خواب کسی دفتر کی میز، کسی بدعنوان اہلکار کی جیب، کسی خفیہ واٹس ایپ گروپ یا کسی منظم مافیا کے ہاتھوں نیلام ہو چکے ہوتے ہیں۔

حال ہی میں ہندوستان کے ایک ممتاز قومی اخبار کی تحقیق نے ملک کے امتحانی نظام کے ایک ایسے تاریک پہلو سے پردہ اٹھایا ہے جس نے نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ پورے ملک کے سنجیدہ اذہان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔تحقیق کے مطابق 2002 سے 2025 تک ایسے پینتالیس بڑے امتحانات کے پرچے لیک ہوئے جن میں ہر امتحان میں ایک لاکھ سے زائد امیدوار شریک تھے۔ کروڑوں نوجوانوں کی محنت، امیدیں اور مستقبل ان امتحانات سے وابستہ تھے۔

مگر اصل المیہ صرف پرچوں کا لیک ہونا نہیں۔اصل المیہ یہ ہے کہ ان پینتالیس بڑے مقدمات میں صرف دو مقدمات سزا تک پہنچ سکے۔

جی ہاں، صرف دو!

باقی مقدمات یا تو تحقیقات کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئے، یا عدالتی راہداریوں میں برسوں تک سرگرداں رہے، یا پھر وقت کی گرد نے ان کے نشانات تک دھندلا دیے۔اس لیے آج سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ پرچے کس نے لیک کیے؟

اصل سوال یہ ہے کہ اس پورے نظام میں انصاف کہاں لیک ہو گیا؟

ایک قوم کے خوابوں کی قیمت کتنی ہوتی ہے؟

کسی متوسط یا غریب گھرانے کے دروازے پر دستک دیجیے۔آپ کو ایک نوجوان ملے گا جو رات گئے تک کتابوں میں گم رہتا ہے۔اس کی میز پر نصابی کتابیں ہوں گی۔دیواروں پر خوابوں کے نقشے آویزاں ہوں گے۔ماں کی دعائیں اس کے ساتھ ہوں گی۔باپ کی امیدیں اس کے مستقبل سے وابستہ ہوں گی۔گھر کے اخراجات کم کر کے کوچنگ کی فیس ادا کی گئی ہوگی۔بہن نے اپنی خواہشات ملتوی کی ہوں گی۔والد نے اضافی وقت کام کیا ہوگا۔اور پھر ایک دن اچانک معلوم ہوتا ہے کہ امتحان کا پرچہ امتحان سے پہلے ہی فروخت ہو چکا تھا۔

سوچیے!اس لمحے صرف ایک سوالیہ پرچہ لیک نہیں ہوتا۔اس لمحے ایک نوجوان کا اعتماد لیک ہو جاتا ہے۔ایک خاندان کی امید لیک ہو جاتی ہے۔ایک ماں کی دعا زخمی ہو جاتی ہے اور ایک قوم کے مستقبل پر ثبت اعتماد کا مہر بند لفافہ پھٹ جاتا ہے۔

جانچ کے نظام پر اعتماد کا بحران!

جب امتحان کی کاغذی پرچیوں کے ساتھ بچوں کا مستقبل اور والدین کی راتوں کی نیندیں بھی بازار میں بکنے لگیں، تو پورے جانچ کے نظام پر سے ایک نسل کا بھروسہ ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے۔

امتحان کسی بھی تعلیمی نظام کی روح ہوتے ہیں۔یہ محض نمبروں کا کھیل نہیں بلکہ صلاحیت، محنت، قابلیت اور کردار کی جانچ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔طالب علم جب امتحانی ہال میں داخل ہوتا ہے تو دراصل وہ ریاست کے ساتھ ایک خاموش معاہدہ کرتا ہے۔اسے یقین ہوتا ہے کہ امتحان منصفانہ ہوگا،سوالات محفوظ ہوں گے،جانچ غیر جانب دار ہوگی اور کامیابی صرف قابلیت اور محنت کی بنیاد پر ملے گی۔

مگر جب امتحانات بار بار منسوخ ہونے لگیں، سوالیہ پرچے لیک ہونے لگیں اور نتائج متنازع بننے لگیں تو نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک نہایت خطرناک سوال جنم لیتا ہے کہ کیا واقعی میری محنت ہی میری کامیابی کا فیصلہ کرے گی؟

یہ بظاہر ایک سادہ سوال ہے، مگر درحقیقت پورے تعلیمی فلسفے کو چیلنج کرتا ہے۔

کسی بھی تعلیمی نظام کی اصل طاقت اس کی عمارتیں، ٹیکنالوجی یا نصاب نہیں ہوتے،اس کی اصل طاقت اس کی ساکھ ہوتی ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک—فن لینڈ، سنگاپور، جنوبی کوریا اور جاپان—نے صرف وسائل کی بنیاد پر ترقی نہیں کی بلکہ امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو اپنی قومی ترقی کا ستون بنایا۔اگر ہندوستان جیسے عظیم ملک میں نوجوان امتحانی نظام پر اعتماد کھو دیں تو اس کا نقصان صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے انسانی سرمائے (Human Capital) کو متاثر کرتا ہے۔

اس لئے یہ صرف امتحان کا بحران نہیں۔یہ Meritocracy یعنی قابلیت اور اہلیت پر مبنی معاشرتی نظام کا بحران ہے۔

کیا یہ عوامی اداروں میں احتساب کی ناکامی نہیں ہے؟

کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل قوت اس کے اداروں کی شفافیت اور جواب دہی میں پوشیدہ ہوتی ہے لیکن جب ہزاروں گرفتاریاں ہوں، سینکڑوں چارج شیٹس داخل ہوں، لاکھوں امیدوار متاثر ہوں اور پھر بھی سزائیں نہ ہونے کے برابر ہوں تو ایک بنیادی سوال سر اٹھاتا ہے کہ آخر ذمہ دار کون ہے؟

بدقسمتی سے ہمارے معاشروں میں اکثر چھوٹے کردار پکڑے جاتے ہیں جبکہ بڑے کردار نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔کسی واٹس ایپ گروپ کے منتظم کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔کسی درمیانی درجے کے ملازم کو معطل کر دیا جاتا ہے۔مگر وہ ادارہ جاتی کمزوریاں، وہ پالیسی خامیاں اور وہ انتظامی ناکامیاں جنہوں نے اس جرم کو ممکن بنایا، اکثر احتساب کے دائرے سے باہر رہ جاتی ہیں۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں عوام کا اعتماد ریاستی اداروں سے متزلزل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔احتساب صرف مجرم کو سزا دینے کا نام نہیں۔احتساب دراصل اس پورے نظام کی اصلاح کا نام ہے جو جرم کو جنم دیتا ہے۔

جب تک تحقیقات بروقت نہیں ہوں گی، مقدمات غیر ضروری تاخیر کا شکار رہیں گے، ذمہ دار افسران جواب دہ نہیں ہوں گے اور اصلاحات مستقل بنیادوں پر نافذ نہیں کی جائیں گی، تب تک ہر نیا امتحان ایک نئے خطرے کے ساتھ منعقد ہوگا۔

تعلیمی اداروں کا سب سے بڑا سرمایہ ان کی عمارتیں نہیں بلکہ ان کی Credibility ہوتی ہے اور Credibility کی بنیاد ہمیشہ Accountability پر قائم ہوتی ہے۔

کیا کبھی آپ نے سوچا کہ نوجوان نسل پر امتحانی بدانتظامی کے کیا نفسیاتی اثرات ہوں گے؟

اس پورے بحران کا سب سے کم زیرِ بحث مگر سب سے سنگین پہلو نوجوانوں کی ذہنی صحت ہے۔ہر سال لاکھوں نوجوان مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔وہ برسوں کوچنگ سینٹروں میں وقت گزارتے ہیں۔وہ اپنی نیند، آرام، تفریح اور سماجی زندگی قربان کر دیتے ہیں۔وہ اپنی شناخت کو اپنے امتحانی نتائج کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔

پھر اچانک انہیں بتایا جاتا ہے کہ امتحان منسوخ ہو گیا۔پرچہ لیک ہو گیا۔دوبارہ امتحان ہوگا۔تحقیقات جاری ہیں۔

یہ الفاظ بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، مگر ایک نوجوان ذہن کے لیے یہ کسی زلزلے سے کم نہیں۔

اس کے نتیجے میں اضطراب (Anxiety) بڑھتا ہے۔افسردگی (Depression) جنم لیتی ہے۔خود اعتمادی (Self-Esteem) متاثر ہوتی ہے۔مستقبل کے بارے میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات شدید مایوسی نوجوانوں کو خطرناک نفسیاتی کیفیتوں تک پہنچا دیتی ہے۔

جو نوجوان برسوں سے ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا سول سرونٹ بننے کا خواب دیکھ رہا ہو،اس کے لیے امتحان کا منسوخ ہونا صرف انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے پورے مستقبل پر ایک کاری ضرب ہوتی ہے۔

اسی لیے جدید تعلیمی نفسیات امتحانات کو صرف Academic Event نہیں بلکہ Emotional Event بھی قرار دیتی ہے۔

ہر ناکام امتحانی انتظام دراصل ہزاروں نوجوان ذہنوں پر ایک ایسا زخم چھوڑ جاتا ہے جو بسا اوقات برسوں تک مندمل نہیں ہوتا۔

اصل بحران پرچہ لیک نہیں، اعتماد لیک ہونا ہے۔

میرے نزدیک اصل مسئلہ صرف سوالیہ پرچوں کا لیک ہونا نہیں۔اصل مسئلہ نوجوانوں کے اعتماد کا مجروح ہونا ہے۔اعتماد ریاست اور شہری کے درمیان سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔بینک سرمائے سے کم اور اعتماد سے زیادہ چلتے ہیں۔عدالتیں عمارتوں سے کم اور اعتماد سے زیادہ قائم رہتی ہیں اور تعلیمی ادارے نصاب سے کم اور اعتماد سے زیادہ زندہ رہتے ہیں۔

جس دن نوجوان یہ یقین کھو دے کہ اس کی محنت کا منصفانہ صلہ ملے گا، اسی دن تعلیم اپنی معنویت، ادارے اپنی ساکھ اور معاشرہ اپنی اخلاقی بنیاد کھونے لگتا ہے۔اسی لیے امتحانی اصلاحات کو محض انتظامی معاملہ سمجھنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔یہ قومی تعمیر کا مسئلہ ہے۔یہ سماجی انصاف کا مسئلہ ہے۔یہ نوجوانوں کی ذہنی صحت کا مسئلہ ہے۔یہ ملک کے مستقبل کا مسئلہ ہے کیونکہ قوموں کا مستقبل سوالیہ پرچوں میں نہیں لکھا جاتا، بلکہ ان سوالیہ پرچوں پر عوام کے اعتماد میں لکھا جاتا ہے۔

مگر ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جب قوموں کے امتحانی پرچے لیک ہوتے ہیں تو صرف سوالات نہیں بکھرتے، خواب بکھرتے ہیں،صرف نتائج متاثر نہیں ہوتے، نسلیں متاثر ہوتی ہیں،اور جب اعتماد لیک ہو جائے تو صرف امتحان نہیں، پوری قوم امتحان میں پڑ جاتی ہے۔

وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *