ڈاکٹر اسد اللہ خان
بچوں کو آپ اسکول کیوں بھیجتے ہیں؟
یہ سوال سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، اپنے باطن میں اتنا ہی طوفان سموئے ہوئے ہے۔ یہ ایک سوال نہیں، ایک تہذیب کا احتساب ہے۔ ایک تڑپتے ہوئے باپ کا، ایک فکرمند ماں کا اور ایک بکھرتی ہوئی قوم کا وہ مقدمہ ہے جو آج اپنے ہی ہاتھوں اپنی نسل کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے اور اسے خبر بھی نہیں!
جب بھی کسی باپ کی آنکھوں میں جھانک کر یہ پوچھا جائے تو جواب ایک ہی لے میں، ایک ہی بے فکری سے آتا ہے: ”بچے پڑھ لکھ کر کچھ بن جائیں۔” لیکن کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے کہ اس ”کچھ بننے” کا خواب کب کا سکڑ کر محض چند ہزار یا چند لاکھ کی کمائی کا ہدف بن چکا ہے؟ شخصیت کی تعمیر، کردار کی پرورش، ذہن کی روشنی — یہ الفاظ اب صرف اسکولوں کے چمکدار بروشروں میں خوبصورت فونٹ میں چھپتے ہیں، کسی کے دل میں نہیں اترتے۔ والدین بچوں کو اسکول ایسے بھیجتے ہیں جیسے خط کو لفافے میں بند کر کے پوسٹ باکس میں ڈال دیا جائے — کہ اب آگے کا ذمہ ڈاکخانے کا ہے، ہمارا کام ختم ہوا۔
سال ۲۰۲۶ء کا یہ وہ لحظہ ہے جب اس سوال کی گہرائی ہماری برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا طوفان اب دروازے پر دستک نہیں دے رہا، وہ تو ہمارے بیڈرومز اور کلاس رومز کے اندر آ بیٹھا ہے۔ ChatGPT اور Gemini اب ہر چوتھی جماعت کے بچے کی جیب میں ہیں، ہر اسمارٹ فون کے اندر موجود ہیں۔ وہ ہر سوال کا جواب چند سیکنڈ میں اگل دیتے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ آپ کے بچے کا حافظہ کتنا تیز ہے اور وہ کتنے جواب جانتا ہے — اب رونے کا مقام یہ ہے کہ کیا وہ سوچنا بھی جانتا ہے؟ کیا ہم ہڈ ماس کے انسان بنا رہے ہیں یا مائیکرو چپس سے چلنے والے بے جان آلے؟
اسکول کی چہار دیواری: درسگاہ یا عقوبت خانہ؟
جس اسکول میں دیر سے آنے کی سزا یہ ہو کہ آٹھ دس کلو کا بستہ کاندھوں پر لاد کر میدان کے دس چکر لگوائے جائیں — وہاں بچے کے قدم اسکول کی طرف شوق سے بڑھیں گے یا خوف سے؟ جس کلاس میں ایک کی غلطی پر پچاس بچوں کے معصوم ہاتھوں پر بید مار کر لال کر دیا جائے، وہاں محبت کا کون سا پھول اگے گا؟ وہاں صرف اور صرف انتقام کا کانٹا پروان چڑھے گا۔
یہ جسمانی اور ذہنی تشدد اب صرف ماضی کا قصہ نہیں رہا، بلکہ آج ہمارے آس پاس روز کا معمول بن چکا ہے۔ ملک کے الگ الگ کونوں سے آنے والی حالیہ خبریں پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے:
بنگلورو کا وحشیانہ واقعہ: ابھی حال ہی میں بنگلورو کے ایک نجی اسکول میں محض دو دن غیر حاضر رہنے پر پانچویں جماعت کے ایک معصوم ۹ سالہ بچے کو اسکول کے انتظامیا نے پلاسٹک کے پائپ سے اس بے رحمی سے پیٹا کہ اس کے پورے جسم پر نیل پڑ گئے، اور حد تو یہ ہے کہ اسے کئی گھنٹوں تک ایک اندھیرے کمرے میں اکیلا بند کر کے تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ جب دکھی والدین نے جواب مانگا، تو انہوں نے ڈھٹائی سے کہا: “ہمارے ہاں ڈسپلن سکھانے کا یہی طریقہ ہے!”
آندھرا پردیش میں معصومیت پر وار: چتور کے ایک اسکول میں چھٹی جماعت کی ۱۱ سالہ بچی کلاس میں کسی سے بات کر رہی تھی۔ تیش میں آکر استاد نے اس کی طرف اسکول کا بھاری بستہ اٹھا کر پھینکا۔ بستے کے اندر موجود اسٹیل کا لنچ باکس بچی کے سر پر اتنی زور سے لگا کہ وہ وہیں چکرا کر گر گئی۔ بعد میں جب درد نہ رکا تو ہسپتال کے اسکین میں معلوم ہوا کہ اس معصوم بچی کے سر کی ہڈی (Skull) میں فریکچر آچکا ہے۔
کرناٹک کی بربریت: ایک اور دل سوز لہر اس وقت دوڑی جب ایک رہائشی اسکول (Residential School) کے استاد نے ۹ سال کے ایک چھوٹے سے بچے کو صرف اس لیے زمین پر گرا کر بے رحمی سے لاتوں اور تھپڑوں سے پیٹا کیونکہ اس نے ہاسٹل سے اپنے گھر فون کرنے کی “جسارت” کی تھی۔ وہ معصوم بچہ استاد کے پیروں میں گر کر روتے ہوئے معافیاں مانگ رہا تھا، لیکن اس جلاد کا دل نہیں پگھلا۔
یہ چند مثالیں تو وہ ہیں جو میڈیا کی نظر چڑھیں اور ایف آئی آر تک پہنچیں، ورنہ روزانہ ہزاروں معصوم روحیں ان چہار دیواریوں کے پیچھے سسکتی ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ ہم ڈسپلن کے نام پر بچوں کو تہذیب نہیں سکھا رہے، بلکہ ان کے اندر کے انسان کو قتل کر رہے ہیں۔
یہ تو وہ جسمانی وحشت ہے جو نظر آ جاتی ہے، لیکن اب جو نئی ڈیجیٹل بربریت آئی ہے، اس نے روحوں کو ایسے زخم دیے ہیں جن کا کوئی ایکسرے نہیں ہو سکتا۔ ممبرا، کلیان اور بھیونڈی کے بعض انگریزی اسکولوں میں اب بچوں کے ہوم ورک کا ‘آن لائن ریکارڈ’ رکھا جاتا ہے۔ بچہ رات کو تھک کر سو گیا، ہوم ورک ادھورا رہ گیا۔ صبح کلاس واٹس ایپ گروپ میں، جہاں پچاس دیگر والدین موجود ہیں، بچے کا نام سرخ حروف میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہو۔ ستر سال پہلے اسکولوں میں سزا کے طور پر بچے کے گلے میں تختی لٹکائی جاتی تھی جس پر لکھا ہوتا تھا: ‘I am Donkey’۔ آج وہ تختی ڈیجیٹل ہو گئی ہے — اسکول ایپ پر ریڈ الرٹ، پیرنٹ پورٹل پر نام، ڈیش بورڈ پر رسوائی! ذریعہ بدل گیا، اساتذہ کی وحشیانہ ذہنیت نہیں بدلی۔
کیا یہ تعلیم ہے؟ یا کسی نازک، معصوم آئینے پر پتھر مار مار کر اسے چکنا چور کرنا اور پھر اس کے ملبے کو پالش کر کے کہنا کہ دیکھو ہم نے کتنا چمکدار شیشہ بنایا ہے؟
انگریزی کا بت اور والدین کا سجدہ
ہماری قوم نے انگریزی زبان کے ساتھ جو رشتہ جوڑا ہے، وہ اب زبان کا رشتہ نہیں رہا، وہ اندھی پوجا بن چکا ہے۔ ایک ایسا بت جس کے سامنے ہم اپنی غیرت، اپنی تہذیب، اور اپنا سکون قربان کر رہے ہیں۔
ایک غریب باپ کو دیکھیے، جو بارہ بارہ گھنٹے اوور ٹائم کرتا ہے، اس کی چپل گھس چکی ہے، قمیص کے کالر پھٹ چکے ہیں۔ ماں اپنے منہ کا نوالہ کاٹتی ہے، زیور گروی رکھتی ہے، ادھار کے لیے لوگوں کے طعنے سہتی ہے — صرف اس لیے کہ بچے کا داخلہ کسی ایسے اسکول میں ہو جائے جس کے نام کے آگے ”انٹرنیشنل” لکھا ہو۔
جب وہ چار سال کا بچہ ہکلاتی ہوئی زبان میں ”مما، پاپا” کہتا ہے تو باپ کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا ہے۔ جب وہ انگریزی کی کوئی بے معنی نظم سناتا ہے تو ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ جاتے ہیں۔ لیکن خدارا مجھے بتائیے! جب وہی بچہ اپنے بوڑھے دادا کے پاس بیٹھ کر اردو کا ایک جملہ صحیح نہیں بول پاتا، جب وہ اپنی مادری زبان میں دعا مانگنے سے قاصر ہوتا ہے — تو گھر میں جو سناٹا چھا جاتا ہے، کیا وہ سناٹا آپ کو سنائی نہیں دیتا؟ یہ خاموشی صرف لاتعلقی نہیں ہے، یہ ہماری تہذیب کی موت کا اعلان ہے!
آج ہر گلی کے کونے پر ”Cambridge Affiliated” اور ”International Board” کے بڑے بڑے فلیکس بورڈ آویزاں ہیں۔ کبھی غور سے دیکھیے، ان بورڈز پر انگریزی کی ایسی فاش غلطیاں ہوتی ہیں کہ شرم آ جائے۔ اسکول کا پرنسپل خود اپنے اسکول کا نام صحیح تلفظ سے ادا نہیں کر پاتا، لیکن چونکہ ان کی فیس کا ہندسہ پانچ رقموں میں ہے، اس لیے ہمارے معصوم والدین سمجھتے ہیں کہ جو جتنا مہنگا ہے، وہ اتنا ہی اعلیٰ ہے۔
نیشنل کریکولم فریم ورک ۲۰۲۳ء (NCF 2023) چلا چلا کر کہہ رہا ہے کہ بچے کی ابتدائی تعلیم اس کی مادری زبان میں ہونی چاہیے، کیونکہ تصورات (Concepts) ہمیشہ اسی زبان میں جڑ پکڑتے ہیں جس میں ماں لوری سناتی ہے۔ لیکن جس قوم کی آنکھوں پر انگریزی کا موٹا چشمہ چڑھا ہو، اسے اصول اور سائنسی حقائق کہاں نظر آئیں گے؟
دوہری محنت، آدھا علم اور ChatGPT کا شارٹ کٹ
آج کا بچہ جب سائنس یا ریاضی کی کتاب کھولتا ہے، تو مجھے اس پر ترس آتا ہے۔ معصوم ایک ساتھ دو جنگیں لڑ رہا ہوتا ہے: پہلے وہ انگریزی کے مشکل الفاظ کا ترجمہ اپنے ذہن میں کرتا ہے، پھر سائنس کا اصول سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ ریاضی کا فارمولا حل کرنے سے پہلے سوال کی انگریزی عبارت پڑھ کر ہانپنے لگتا ہے۔
نتیجہ؟ نہ انگریزی آتی ہے، نہ سائنس سمجھ میں آتی ہے۔ اور المیہ دیکھیے، اس کو پڑھانے والے اساتذہ خود بھی اسی ادھوری اور کمزور انگریزی میڈیم کی پیداوار ہیں، وہ خود اندھیرے میں ہیں تو بچے کو روشنی کہاں سے دیں گے؟
اس مٹی پلید تعلیمی نظام پر رہی سہی کسر اب اسمارٹ فون اور ChatGPT نے پوری کر دی ہے۔ بچوں کو ایک جادوئی چابی مل گئی ہے: اسکول سے پروجیکٹ ملا، AI پر ٹائپ کیا، وہاں سے کاپی کیا، خوبصورت پرنٹ نکالا اور استاد کے سامنے رکھ دیا۔ استاد بھی خوش کہ پروجیکٹ کتنا شاندار ہے، والدین بھی خوش کہ بچہ کتنا ذہین ہے! لیکن اس چمکتے ہوئے رپورٹ کارڈ کے پیچھے جو ذہنی پسماندگی اور اندھیرا چھپا ہے، اسے کوئی دیکھنا نہیں چاہتا۔
یہ ہے ہمارے دور کی تعلیم: نمبر ہیں، پر علم غائب ہے۔ سرٹیفکیٹ ہے، پر صلاحیت تڑپ رہی ہے۔ ڈگری ہے، پر سوچنے والا دماغ مر چکا ہے۔
جبکہ ہر سال بورڈ امتحانات کے اعداد و شمار گواہی دیتے ہیں کہ مادری زبان (اردو، ہندی، مراٹھی) میں پڑھنے والے بچے اکثر انگریزی میڈیم والوں سے تصورات کے معاملے میں کہیں آگے ہوتے ہیں۔ کیوں؟ چونجے جب زبان اپنی ہوتی ہے، تو مضمون دل میں اترتا ہے۔ جب بنیاد مٹی کے اندر گہری ہو، تو عمارت زلزلوں میں بھی سیدھی کھڑی رہتی ہے۔
جڑوں سے کٹی ہوئی نسل: ریلز (Reels) کا اسیر بچپن
زبان صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں ہوتی، یہ اس لنگر کی طرح ہوتی ہے جو جہاز کو طوفان میں ساحل سے جوڑے رکھتا ہے۔ جب یہ لنگر ٹوٹ جائے تو جہاز سمندر کی بے رحم لہروں کے رحم و کرم پر بہتا رہتا ہے، اسے کبھی کنارہ نصیب نہیں ہوتا۔
ہماری نئی نسل آج سوشل میڈیا پر Trending تو ہے، لیکن اپنی زمین میں Rooted (جڑ پکڑو) نہیں ہے۔ وہ مال (Mall) کلچر، برانڈڈ کپڑوں، پیزا برگر اور انسٹاگرام ریلز کے الگورتھم سے تو سیکنڈوں میں جڑ جاتی ہے، لیکن اسے اپنے اسلاف کی تاریخ کا علم نہیں ہے۔ وہ انگریزی کے ناول پڑھ کر تو مسکرا سکتے ہیں، لیکن وہ علامہ اقبال کی خودی اور میر تقی میر کے دل کے درد سے بالکل اجنبی ہیں۔ وہ نیٹ فلکس کی فلموں کے کرداروں کی موت پر تو زار و قطار روتے ہیں، لیکن ان کے اپنے گھر میں بوڑھی دادی جو اکیلی بیٹھ کر ماضی کی کہانیاں سنانے کے لیے تڑپ رہی ہے، اس کے پاس بیٹھنے کے لیے ان کے پاس پانچ منٹ نہیں ہیں۔
اسمارٹ فون نے ہماری نسل پر جو سب سے بڑا وار کیا ہے، وہ ہے ان کی توجہ کا سکڑ جانا (Attention Span)۔ جو بچہ ساری رات اسکرین پر ریلز اوپر نیچے کر سکتا ہے، وہ کتاب کا ایک صفحہ پڑھنے بیٹھتا ہے تو اس کا سر چکرانے لگتا ہے۔ گہرا سوچنا، کسی خیال پر ٹھہرنا، کتاب کی خوشبو کو محسوس کرنا — یہ سب صلاحیتیں آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں، اور ہم تماشائی بنے بیٹھے ہیں، بلکہ سچ تو یہ ہے کہ بچوں کے ہاتھوں میں یہ ذہنی خودکش بم ہم نے خود اپنے پیسوں سے خرید کر تھمایا ہے!
احساسِ کمتری کا جھوٹا بت
جب بھی میں اس درد کو بیان کرتا ہوں، کچھ لوگ فوراً دلیل لاتے ہیں: ”ڈاکٹر صاحب! اگر انگریزی نہیں پڑھائیں گے تو بچے IAS، IPS یا بڑے امتحانات میں کیسے بیٹھیں گے؟ وہ تو پیچھے رہ جائیں گے!”
یہ دلیل نہیں ہے، یہ والدین کا وہ خوف ہے جسے اسکول مافیا نے ان کے دلوں میں تجارتی فائدے کے لیے بویا ہے۔ ذرا UPSC اور MPSC کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں۔ مادری زبان (اردو, ہندی، مراٹھی) سے پڑھ کر آنے والے دیہاتوں اور غریب بستیوں کے بچے ہر سال ٹاپ کرتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ انہوں نے رٹا نہیں لگایا تھا، انہوں نے موضوع کو اپنی زبان میں جذب کیا تھا۔ ان کی سوچنے کی صلاحیت بیدار تھی۔
انگریزی ایک اوزار ہے — قیمتی ہے، ضروری ہے، میں اس کا منکر نہیں ہوں۔ لیکن اوزار کو زندگی کا مقصد بنا لینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی بڑھئی لکڑی کی خوبصورت الماری بنانے کے بجائے، اپنے ہتھوڑے اور آری کو سونے کے فریم میں جڑ کر دیوار پر لٹکا دے اور کہے: ”یہی میرا فن ہے۔” اگر بچے کا ذہن ہی کمزور رہ گیا، اگر اس کی شخصیت ہی مسخ ہو گئی، تو اس کی فر فر انگریزی کس کام کی؟ وہ صرف ایک مہنگا، لیکن کھوکھلا انسان بنے گا۔
جب بنیاد ہی ٹیڑھی ہو
شعر یاد آتا ہے,
خشتِ اول چوں نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج
(اگر معمار پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دے، تو دیوار آسمان تک بھی چلی جائے تب بھی ٹیڑھی ہی رہے گی)
ہم نے اپنے بچوں کی تعلیم کی پہلی اینٹ ہی غلط رکھ دی ہے۔ ہم نے سمجھ کی جگہ رٹے کو دے دی، کردار کی جگہ نمبروں کو دے دیا، اور ایک جیتے جاگتے معصوم انسان کو فیکٹری میں بننے والی پروڈکٹ بنا دیا۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم جاگ جائیں۔ تعلیم کا مقصد فیس کی رسیدیں اور چمکتی ہوئی ڈگریاں نہیں، ایک سچا اور باکردار انسان بنانا ہے۔ اسکول کا کام فیکٹری کی طرح سرٹیفکیٹ چھاپنا نہیں، پتھروں کو تراش کر ہیرا بنانا ہے۔ والدین کی ذمہ داری صرف بھاری فیسیں وقت پر بھرنا نہیں، بلکہ اپنے بچے کی تڑپتی ہوئی روح کی نگہبانی کرنا ہے۔ زبان وہ چراغ ہے جو ذہن کے اندر جلتا ہے — اگر مادری زبان کا وہ اندرونی چراغ ہی بجھ گیا، تو باہر کی دنیا میں انگریزی کی کتنی ہی لائٹس کیوں نہ جلیں، بچے کے اندر اندھیرا ہی رہے گا۔
جب تک ہم تعلیم کو اس تجارت کے چنگل سے آزاد نہیں کرائیں گے، جب تک بچے کی مادری زبان کو اس کی عزتِ نفس نہیں مانیں گے، تب تک یہ سوال اس کائنات کی فضاؤں میں گونجتا رہے گا اور ہم سے جواب مانگے گا:
تعلیم کے ذریعے …… تعمیر یا تخریب؟
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے — یا تو ہم اپنی نسلوں کی تعمیر کر لیں، یا پھر اپنے ہی ہاتھوں سے ان کے شاندار مستقبل کی تخریب کا تماشا دیکھیں۔

