جب تعلیم کا پہلا دروازہ ہی احساسِ محرومی میں کھلنے لگے
داخلوں کی دوڑ، بچپن کی پہلی شکست اور تعلیم کے بدلتے ہوئے چہرے کی داستان
ڈاکٹر اسد اللہ خان
وہ صبح، جس دن ایک بچہ پہلی بار ہار گیا
صبح کے سات بج رہے تھے۔ بارش ابھی تھمی ہی تھی اور کھڑکی کے شیشوں پر بارش کے چند قطرے اب بھی ایسے ٹھہرے ہوئے تھے جیسے کسی نے وقت کو چند لمحوں کے لیے روک دیا ہو۔ گلی میں اسکول بس کے ہارن کی آواز گونجی تو چار سالہ ساجد اچانک بستر سے اچھل کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی ننھی سی پانی کی بوتل اٹھائی، الماری سے نیلے رنگ کا ننھا سا بیگ نکالا، اسے اپنی پشت پر لٹکایا اور آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ وہ خود کو بار بار دیکھ رہا تھا؛ کبھی بیگ سیدھا کرتا، کبھی اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا، اور کبھی تصور ہی تصور میں کسی ٹیچر کو “گڈ مارننگ میم” کہہ کر مسکرا دیتا۔ اسے یقین تھا کہ آج وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح اسکول جائے گا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکول جانے کے لیے صرف معصومیت کافی نہیں رہی، اب اس کے لیے ایک ایسا امتحان ضروری ہے جس کی نہ اسے خبر ہے، نہ اس کے معنی معلوم ہیں، اور نہ اس کے نتائج۔ وہ تو صرف اتنا جانتا ہے کہ اسکول میں دوست ملتے ہیں، رنگ برنگی کتابیں ہوتی ہیں، جھولے ہوتے ہیں، اور شاید ایک ایسی ٹیچر بھی جو ماں کی طرح پیار کرتی ہوگی۔
لیکن اسی وقت گھر کے دوسرے کمرے میں ایک اور منظر چل رہا تھا۔ کھانے کی میز پر داخلہ فارم، آدھار کارڈ کی فوٹو کاپیاں، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، بجلی کا بل، بینک اسٹیٹمنٹ، پاسپورٹ سائز تصاویر، پین کارڈ، اور نہ جانے کتنے کاغذات بکھرے ہوئے تھے۔ ساجد کی ماں بار بار ایک فائل کھول کر بند کر رہی تھی۔ باپ خاموش بیٹھا تھا—ایک ایسی خاموشی جس کے اندر کئی طوفان تھے۔ وہ بار بار گھڑی دیکھتا، پھر فائل دیکھتا، پھر اپنے بیٹے کو اور پھر نہ جانے کیوں اپنی ذات کو تکنے لگتا۔ آج امتحان ساجد کا نہیں، بلکہ اس کے والدین کا تھا۔ ان کی زبان، انگریزی، ملازمت، آمدنی، رہن سہن، لباس، شخصیت اور شاید ان کے سماجی مرتبے کا بھی امتحان تھا۔ یہ وہ امتحان تھا جس کا نصاب کسی کتاب میں نہیں ملتا اور جس کی تیاری کسی استاد کے پاس نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ صرف “داخلہ ملا” یا “داخلہ نہیں ملا” نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات ایک ننھے سے دل میں یہ پہلا احساس بھی چھوڑ جاتا ہے کہ شاید وہ دوسروں سے کم تر ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بچپن پہلی بار زندگی کے سامنے ہارنے لگتا ہے۔
داخلے کا موسم یا والدین کا امتحان؟
ہم نے تعلیم کو ہمیشہ روشنی، امید اور مساوات کی علامت سمجھا ہے۔ اسکول وہ جگہ تھی جہاں معاشرے کے ہر طبقے کا بچہ ایک ہی بینچ پر بیٹھ کر یہ سیکھتا تھا کہ علم انسانوں کے درمیان فرق نہیں کرتا۔ استاد وہ شخصیت تھا جو نام، نسب یا آمدنی نہیں پوچھتا تھا، بلکہ صرف یہ دیکھتا تھا کہ سامنے بیٹھا بچہ سیکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ لیکن وقت نے تعلیم کا چہرہ بدل دیا ہے۔ آج بہت سے شہروں میں اسکول کا دروازہ علم سے پہلے سماجی شناخت کو دیکھنے لگا ہے۔ داخلہ فارم اب صرف بچے کی معلومات نہیں مانگتے، بلکہ والدین کی معاشی حیثیت، پیشہ، زبان، تعلیمی قابلیت اور طرزِ زندگی تک جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ایک چار سالہ بچے کی قسمت کا فیصلہ واقعی اس کے والدین کی تنخواہ، انگریزی لہجے یا ڈرائنگ روم کے سائز سے ہونا چاہیے؟
ہندوستان میں ہر سال جون کا مہینہ صرف تعلیمی سال کے آغاز کی خبر نہیں لاتا، بلکہ لاکھوں گھروں میں امید اور مایوسی کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد، پونے، چنئی اور کولکاتا جیسے بڑے شہروں میں ہر سال داخلوں کے موسم میں یہی بے چینی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اخبارات میں رات بھر لگنے والی قطاروں، محدود نشستوں اور نرسری داخلوں کے لیے قائم خصوصی کوچنگ سینٹرز پر مسلسل خبریں شائع ہوتی ہیں۔ عدالتوں، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ ابتدائی تعلیم کے دروازے پر انصاف کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود سب سے زیادہ خاموش وہ بچہ ہوتا ہے جس کے نام پر یہ پوری جنگ لڑی جا رہی ہوتی ہے۔ بچپن کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ کامیابی اور ناکامی کی لغت سے بے خبر ہوتا ہے۔ چار سال کا بچہ نہ میرٹ جانتا ہے، نہ ویٹنگ لسٹ۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ سامنے والے گھر کا علی آج اسکول گیا ہے، لہٰذا وہ بھی جانا چاہتا ہے۔ لیکن جب بڑوں کی دنیا اس کی راہ میں اپنی شرطیں اور دیواریں کھڑی کر دیتی ہے، تو وہ کچھ نہیں سمجھتا۔ وہ صرف اتنا پوچھتا ہے: “ابو… میرا اسکول کب شروع ہوگا؟” یہ سوال بظاہر چھوٹا ہے، مگر ایک حساس باپ کے لیے اس کا جواب پوری زندگی کے مشکل ترین سوالوں میں سے ایک بن جاتا ہے۔
میرے ایک دوست ہیں، نام بدل کر انہیں راشد کہہ لیتے ہیں۔ پیشہ صحافت، کتابوں سے محبت، سچ بولنے کی عادت اور اپنے چار سالہ بیٹے ساجد سے بے پناہ عشق۔ جس دن شہر کے ایک معروف اسکول میں انٹرویو تھا، اس دن راشد نے اپنی بہترین قمیص پہنی اور بیوی نے فائل ترتیب دی۔ ہر کاغذ اپنی جگہ موجود تھا، مگر ایک چیز کہیں درج نہیں تھی: اپنے بچے کے لیے ایک باپ کی محبت، کیونکہ اس محبت کا کوئی خانہ فارم میں موجود نہیں تھا۔ ہمارے معاشرے کا شاید ہی کوئی اور امتحان ہو جس کی تیاری تین سالہ بچہ کم اور اس کے والدین زیادہ کرتے ہوں۔ گھر میں روزانہ مشق ہوتی؛ “گڈ مارننگ”، “تھینک یو”، “ایپل، بال، کیٹ”۔ ماں تصویریں دکھاتی، باپ رنگ یاد کراتا، دادا دعائیں دیتا اور دادی نظر اتارتی۔
انٹرویو شروع ہوا تو راشد کے مطابق چند رسمی سوالات کے بعد گفتگو کا رخ اچانک بدل گیا۔ “آپ کیا کرتے ہیں؟ ماہانہ آمدنی کتنی ہے؟ گھر اپنا ہے یا کرائے کا؟ کتنے کمروں کا فلیٹ ہے؟ گھر میں کون سی زبان بولی جاتی ہے؟” سوال ختم نہیں ہو رہے تھے اور راشد جواب دے رہا تھا۔ لیکن ہر جواب کے بعد اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کا بیٹا نہیں، وہ خود کسی کسوٹی پر پرکھا جا رہا ہے۔ میں یہاں کسی ایک اسکول کی بات نہیں کر رہا، نہ ہی تمام نجی تعلیمی اداروں کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا انصاف ہوگا۔ ملک میں ہزاروں ایسے اسکول بھی ہیں جو انتہائی دیانت داری اور مساوی مواقع کے اصولوں پر داخلے دیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ضرور ہے کہ اگر کہیں بھی بچے کے بجائے والدین کی معاشی حیثیت یا سماجی شناخت فیصلہ کن عنصر بننے لگے تو کیا یہ تعلیم کی روح کے مطابق ہے؟ تعلیم کا مقصد تو معاشرتی فاصلے کم کرنا تھا، اگر داخلہ ہی فاصلے پیدا کرنے لگے تو پھر تعلیم اور تجارت میں فرق کہاں باقی رہ جاتا ہے؟
نتیجہ آ گیا: ایک خاموش گھر اور ایک معصوم سوال
اس دن شام کچھ عجیب تھی۔ سورج روز کی طرح ہی غروب ہوا تھا، مگر راشد کے گھر میں جیسے روشنی کچھ پہلے ہی بجھ گئی تھی۔ موبائل کی گھنٹی بجی تو راشد نے بے اختیار اسکرین کی طرف دیکھا۔ اسکول کا نام جگمگا رہا تھا۔ دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور انگلیاں کانپنے لگیں۔ اس نے پیغام کھولا، صرف چند سطریں تھیں: “ہمیں افسوس ہے کہ اس مرتبہ آپ کے بچے کا انتخاب نہیں ہو سکا۔” نہ کوئی وجہ، نہ کوئی وضاحت، صرف ایک جملہ جس نے مہینوں کی امیدوں اور خوابوں کو خاموشی سے سمیٹ دیا۔ کاغذ پر تو صرف ایک درخواست مسترد ہوئی تھی، لیکن حقیقت میں ایک ماں کی امید ہاری تھی اور ایک باپ کا اعتماد مجروح ہوا تھا۔
دروازہ کھلتے ہی ساجد دوڑ کر آیا، اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی: “ابو… کل بس آئے گی نا؟ میرا اسکول کب شروع ہوگا؟” راشد نے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔ وہ جواب دینا چاہتا تھا مگر الفاظ جیسے گلے میں اٹک گئے تھے۔ یہ شاید زندگی کا پہلا موقع تھا جب اسے محسوس ہوا کہ خاموشی بھی انسان کو رُلا سکتی ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ زندگی میں ناکامی انسان کو مضبوط بناتی ہے، مگر کیا چار سال کا بچہ اس فلسفے کو سمجھ سکتا ہے؟ جسے ابھی حروفِ تہجی مکمل یاد نہیں، اسے “میرٹ لسٹ” کا مطلب کون سمجھائے؟ بچپن کا سب سے قیمتی سرمایہ خود اعتمادی ہوتی ہے، اور نفسیات کے ماہرین برسوں سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ابتدائی عمر میں مسلسل موازنہ اور رد کیے جانے کا احساس بچے کی شخصیت پر دیرپا منفی اثرات چھوڑ سکتا ہے۔
تعلیم کا حسن اس بات میں نہیں کہ وہ بہترین بچوں کو چن لے، اصل حسن تو اس میں ہے کہ وہ عام بچے کو بہترین بنا دے۔ ورنہ اگر صرف ذہین اور خوش حال بچوں کو ہی منتخب کرنا معیار بن جائے تو پھر تعلیمی ادارہ باغبان کم اور پھولوں کا خریدار زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ مجھے اپنے بچپن کے ایک استاد یاد آتے ہیں جو کبھی یہ نہیں پوچھتے تھے کہ کس کے والد کیا کرتے ہیں، وہ صرف ایک سوال پوچھتے تھے: “بیٹا، آج کچھ نیا سیکھا؟” شاید یہی سوال تعلیم کی اصل روح ہے، کیونکہ تعلیم انسان کی جیب سے نہیں، اس کے ذہن اور دل سے گفتگو کرتی ہے۔ ایک عظیم اسکول وہ ہے جہاں ایک معمولی مزدور کا بچہ بھی اسی عزت سے داخل ہو جس عزت سے کسی صنعت کار کا بچہ، جہاں تعلیم تفاخر نہیں بلکہ مساوات کا نام ہو۔ اس رات ساجد جلدی سو گیا اور اپنے جوتے صاف کرکے بستر کے قریب رکھ دیے۔ راشد دیر تک اس کے سرہانے بیٹھا رہا، اس نے آہستہ سے ساجد کے ماتھے کو چوما اور دل ہی دل میں کہا: “بیٹا… تم ناکام نہیں ہوئے، ہماری تعلیمی سوچ کہیں نہ کہیں ضرور ناکام ہو گئی ہے۔”
جب تعلیم بازار بننے لگے اور والدین اداکار
کسی زمانے میں اسکول کی شناخت اس کے استاد سے ہوتی تھی، لوگ ایئر کنڈیشن کلاس روم نہیں بلکہ اخلاق، سچائی اور تربیت کا ماحول پوچھتے تھے۔ استاد کو تنخواہ سے نہیں عزت سے ناپا جاتا تھا، لیکن پھر وقت نے کروٹ لی اور تعلیم بھی منڈی کی معیشت کا حصہ بنتی چلی گئی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ گزشتہ چند دہائیوں میں نجی تعلیم نے جدید تدریسی طریقے اور بہترین انفراسٹرکچر فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن جب تعلیم میں سرمایہ کاری بڑھی تو برانڈنگ بھی آگئی۔ اب اسکول صرف تعلیمی ادارے نہیں رہے بلکہ ایک “اسٹیٹس سمبل” بن گئے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ بچہ اسکول کے لیے موزوں ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ بن گیا ہے کہ کون سا بچہ اسکول کے برانڈ کے لیے موزوں ہے؟ ان سب کے درمیان کہیں ایک معصوم سا سوال گم ہوگیا: “کیا بچے کے چہرے کی مسکراہٹ بھی نصاب کا حصہ ہے؟”
ہندوستان کی قومی تعلیمی تحقیق و تربیت کونسل (NCERT) اور قومی تعلیمی پالیسی (NEP 2020) نے بھی ابتدائی بچپن کو پوری تعلیمی عمارت کی بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تین سے چھ سال کے بچوں پر رسمی تعلیم، امتحان اور تعلیمی دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔ اس عمر میں کھیل، کہانی، تخلیقی اظہار اور جذباتی تحفظ ہی اصل تعلیم ہیں۔ یونیسکو کی تازہ عالمی رپورٹ بھی کہتی ہے کہ ابتدائی بچپن کی تعلیم صرف پرائمری اسکول کی تیاری نہیں بلکہ پوری زندگی کی تیاری ہے، جہاں بچے کے اندر سیکھنے کی محبت پیدا کرنا زیادہ ضروری ہے، اسے دوسروں سے آگے نکالنا نہیں۔ بچپن میں ہر پھول ایک ہی موسم میں نہیں کھلتا، مالی کبھی اس پودے کو نہیں کاٹتا جو ذرا دیر سے کھلے، وہ صرف اس کی آبیاری کرتا ہے۔
یہ شاید اس کہانی کا سب سے تلخ باب ہے کہ داخلے کے موسم میں والدین خود کو اس دوراہے پر کھڑا پاتے ہیں جہاں انہیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید صرف سچ کافی نہیں۔ راشد کو اس کے دوست مشورے دے رہے تھے: “آمدنی زیادہ بتا دینا، انگریزی ہی میں بات کرنا، کپڑے سادہ نہ پہننا۔” راشد سنتا رہا، مگر ہر مشورہ اس کے ضمیر پر ایک نئی دستک تھا۔ اگر داخلے کے ایک مرحلے پر والدین کو یہ محسوس ہونے لگے کہ کامیابی کے لیے حقیقت سے زیادہ “تاثر” اور بناوٹ ضروری ہے، تو بچہ سب سے پہلا سبق گھر سے ہی سیکھے گا۔ بچے ہماری باتیں ہی نہیں سنتے، ہماری خاموشیاں بھی پڑھتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ابو گھر میں سچ کی بات کرتے ہیں، مگر اسکول کے دفتر میں جا کر لہجہ بدل لیتے ہیں۔ ایک بزرگ ماہرِ تعلیم نے سچ کہا تھا کہ بچے اسکول کے گیٹ کے باہر ہی یہ سبق سیکھ لیتے ہیں کہ دنیا میں حقیقت سے زیادہ پیشکش (Presentation) کی قیمت ہے۔ چند دن بعد جب میں نے راشد سے پوچھا کہ کیا تم اپنے حالات بدل کر پیش کرتے؟ تو وہ مسکرایا اور بولا: “شاید میرا بچہ اسکول میں داخلہ نہ پا سکا ہو، لیکن میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ اپنے باپ کو پہلی مرتبہ جھوٹ بولتے ہوئے دیکھے۔” اس دن میں نے محسوس کیا کہ بعض لوگ میرٹ لسٹ میں شامل نہیں ہوتے، مگر وہ اپنی اولاد کی تربیت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے کامیاب ہو جاتے ہیں۔
ایک اسکول، دو بچے اور قسمت کا عجیب فیصلہ
زندگی کی بعض کہانیاں اتنی خاموش ہوتی ہیں کہ ان کی آواز برسوں بعد سنائی دیتی ہے۔ ایک ہی شہر، ایک ہی اسکول اور ایک ہی دن دو بچوں کا انٹرویو ہوا۔ فرض کیجیے ایک کا نام احمد ہے، اسے داخلہ مل گیا اور پورے خاندان نے مٹھائی بانٹ کر جشن منایا۔ دوسرے کا نام ساجد مان لیجیے، اسے داخلہ نہیں ملا اور گھر پر خاموشی اتر آئی۔ اب ذرا وقت کو دس سال آگے بڑھائیے۔ احمد ایک معروف اسکول میں پڑھ رہا ہے اور ساجد محلے کے ایک نسبتاً معمولی اسکول میں۔ کیا اب آپ یقین سے بتا سکتے ہیں کہ ان دونوں میں سے کون زیادہ کامیاب ہوگا؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ تعلیم کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ انسان کی منزل کا فیصلہ صرف اس کے پہلے اسکول سے نہیں ہوتا۔ کتنے ہی بچے ایسے ہیں جنہوں نے وسائل سے محروم اسکولوں سے تعلیم حاصل کی مگر آگے چل کر علم، سائنس اور ادب کے میدانوں میں اپنی مثال آپ بن گئے۔ اسکول موقع فراہم کرتا ہے، تقدیر نہیں لکھتا۔
کسی بھی بچے کی کامیابی صرف اسکول، نصاب یا امتحان سے طے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ گھر کا ماحول، والدین کی توجہ، استاد کی محبت، اخلاقی تربیت اور ناکامی سے سیکھنے کا حوصلہ شامل ہوتا ہے۔ تعلیمی میدان میں چار دہائیوں سے زیادہ وقت گزارنے کے بعد میں نے ایسے طلبہ دیکھے ہیں جو ابتدائی جماعتوں میں اوسط درجے کے تھے مگر عملی زندگی میں غیر معمولی کامیاب ہوئے، اور ایسے بچے بھی دیکھے جو ہر امتحان میں اول آتے تھے مگر معمولی سی ناکامی برداشت نہ کر سکے۔ نمبر ذہانت کا ایک پہلو ضرور بتاتے ہیں، مگر انسان کی پوری شخصیت کا احاطہ نہیں کرتے۔ اصل امتحان تو استاد کا ہوتا ہے؛ کیا وہ ایک شرمیلے بچے کو اعتماد دے سکتا ہے؟ کیا وہ کمزور طالب علم میں امید جگا سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو وہ عظیم استاد ہے۔ کسی بچے کو یہ یقین دلانا کہ “تم کر سکتے ہو”، یہ چار لفظ نصاب اور ڈگری سے بڑے ہیں، کیونکہ جس دن ایک بچہ اپنے بارے میں اچھا سوچنے لگتا ہے، اسی دن اس کی اصل تعلیم شروع ہوتی ہے۔
کئی برس بعد جب ساجد نے لکھنا سیکھ لیا، تو ایک دن اس نے اپنی ڈائری کے پہلے صفحے پر صرف ایک جملہ لکھا: “میں بڑا ہو کر ایسا استاد بنوں گا جو کسی بچے کو رُلائے گا نہیں۔” راشد نے یہ جملہ پڑھا تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے محسوس کیا کہ جسے وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی شکست سمجھ رہا تھا، وہ دراصل اس کے بیٹے کے دل میں انسانیت کا سب سے خوبصورت بیج بو گئی تھی۔ بعض اوقات محرومیاں انسان کو توڑتی نہیں، بلکہ اسے دوسروں کے درد کا احساس عطا کر دیتی ہیں۔
اسکولوں سے سوال، والدین سے گزارش اور اساتذہ کے نام خط
آئیے آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور خود سے چند سوال پوچھتے ہیں، کیونکہ تعلیم صرف اسکول یا والدین کی نہیں، بلکہ ایک مشترکہ امانت ہے۔
محترم پرنسپلز اور منتظمین! آپ کے پاس نشستیں محدود ہوتی ہیں، یہ حقیقت ہم سمجھتے ہیں، لیکن فیصلہ صرف انتظامی نہ ہو، انسانی بھی ہو۔ جس بچے کو آپ داخلہ نہیں دے سکے، وہ صرف ایک فارم نمبر نہیں، کسی کا خواب ہے۔ انکار بھی ایسا ہو جس میں احترام، شفافیت اور انسانیت ہو۔
میرے عزیز اساتذہ! آپ صرف کتابیں نہیں پڑھاتے، آپ مستقبل لکھتے ہیں۔ جب بھی کسی بچے کو دیکھیں، اس کے آج کو نہیں، اس کے امکان کو دیکھیے۔ تعلیم کا کام موجودہ صلاحیت ناپنا نہیں، مستقبل کی صلاحیت جگانا ہے۔
عزیز والدین! بہترین اسکول ہمیشہ بہترین زندگی کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اگر گھر میں محبت، سچائی اور والدین کا اعتماد ہو، تو بچے اکثر ان راستوں تک پہنچ جاتے ہیں جہاں پہنچنے کا خواب بڑے بڑے ادارے بھی دکھاتے ہیں۔ اپنے بچوں کو یہ یقین دیجیے کہ: “تم ہمارے لیے اس وقت بھی اتنے ہی قیمتی تھے جب تمہیں داخلہ نہیں ملا تھا، اور آج بھی ہو۔”
پالیسی سازوں سے سوال: کیا ابتدائی تعلیم میں والدین کے لیے واضح اور یکساں اصول موجود ہیں؟ کیا انکار کی صورت میں مناسب رہنمائی یا متبادل تعلیمی راستوں کی نشاندہی کی جاتی ہے؟ یہ سوال اس لیے ہیں تاکہ تعلیم میں مسلسل بہتری آتی رہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر سو فیصد نتائج اور ٹاپرز کے اشتہار بہت نظر آتے ہیں، لیکن میں اس دن زیادہ خوش ہوسکوں گا جب کسی اسکول کا اشتہار یہ کہے گا: “اس سال ہمارے کسی بچے نے احساسِ کمتری کے ساتھ اسکول نہیں چھوڑا، ہم نے مقابلے سے پہلے انسانیت کو رکھا۔” وہ دن ہندوستانی تعلیم کا حقیقی جشن ہوگا۔ ساجد صرف راشد کا بیٹا نہیں، وہ ہر اس گھر میں موجود ہے جہاں والدین اپنے بچے کے مستقبل کے لیے بے چین ہیں۔ وہ ہمارے تعلیمی نظام کے سامنے رکھا ہوا ایک آئینہ ہے۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم آنے والی نسل کو یہ سکھائیں کہ دنیا صرف طاقتوروں کے لیے ہے، یا یہ یقین دلائیں کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔
پچیس برس بعد… چلو اسکول، انسان بننا سیکھیں!
وقت کے قدموں کی آہٹ شاید سب سے خاموش ہوتی ہے۔ پچیس برس گزر چکے تھے، راشد کے بال سفید ہو چکے تھے مگر آنکھوں میں وہی شفقت باقی تھی۔ ایک صبح اس کے موبائل پر ایک پیغام آیا، جس میں انہیں ایک نئے کیمپس کے افتتاح کی تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا تھا، اور نیچے دستخط تھے: ڈاکٹر ساجد راشد (Founder & Director, The Learning House)۔
یہ وہی ساجد تھا جسے کبھی چار برس کی عمر میں ایک اسکول نے یہ کہہ کر واپس لوٹا دیا تھا کہ اس کے لیے جگہ نہیں ہے۔
تقریب شروع ہوئی، بڑے بڑے تعلیمی ماہرین اور نامور افراد موجود تھے۔ ساجد اسٹیج پر آیا، مگر اس نے نہ اپنی ڈگریوں کا ذکر کیا اور نہ اپنی کامیابیوں کا۔ اس نے اپنی جیب سے ایک پرانا، زرد پڑا ہوا کاغذ نکالا—وہی مسترد شدہ داخلہ فارم۔ پورا ہال خاموش ہو گیا۔ ساجد نے کاغذ ہوا میں بلند کرتے ہوئے کہا: “آپ سب شاید سمجھ رہے ہوں گے کہ یہ ایک ناکام داخلے کا فارم ہے، لیکن میرے لیے یہ میری پہلی ڈگری ہے۔ اسی کاغذ نے مجھے سکھایا کہ اگر کبھی مجھے کسی ادارے کی ذمہ داری ملی، تو میں کسی بچے کو صرف اس لیے کمتر محسوس نہیں ہونے دوں گا کہ اس کے والدین میری توقعات کے مطابق نہیں تھے۔”
پھر اس نے اپنے اسکول کے اصول پڑھے: “ہمارے یہاں کسی بچے کا انٹرویو نہیں ہوگا، ہم والدین کا فیصلہ ان کی زبان، لباس یا آمدنی سے نہیں کریں گے۔ ہم نتائج سے پہلے اعتماد پیدا کریں گے، درجہ بندی سے پہلے انسانیت سکھائیں گے، اور اگر نشستیں کم ہوئیں تو انکار بھی احترام اور شفافیت کے ساتھ ہوگا جہاں متبادل راستوں کی رہنمائی بھی دی جائے گی۔” پوری تقریب تالیوں سے گونج اٹھی۔
تقریب ختم ہوئی تو ساجد نے اپنے بوڑھے والد کا ہاتھ پکڑا۔ راشد نے صرف اتنا کہا: “بیٹا… آج مجھے سمجھ آیا، اس دن ہمیں اسکول نے نہیں ٹھکرایا تھا، اللہ نے ہمیں ایک بڑا مقصد دے دیا تھا۔” ساجد نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: “ابو… اگر اُس دن مجھے داخلہ مل جاتا، تو شاید میں بھی ایک روایتی کامیاب طالب علم بن جاتا، لیکن داخلہ نہ ملنے نے مجھے ایک بہتر انسان بننے کا سبق دیا۔”
تعلیم کا آغاز اسکول کے گیٹ سے نہیں، بلکہ اس دن ہوتا ہے جس دن کوئی بڑا انسان کسی چھوٹے انسان کی عزت کرتا ہے۔ اسکول عمارت یا اسمارٹ بورڈ سے نہیں بنتا، اسکول اُس لمحے وجود میں آتا ہے جب ایک استاد کسی خوف زدہ بچے سے مسکرا کر کہتا ہے: “آؤ بیٹا… یہاں تمہاری جگہ ہے۔”
دنیا کی کوئی مسترد شدہ فہرست اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر سے بڑی نہیں ہوتی، اور کسی ادارے کا “نہیں” آپ کی صلاحیت کا آخری فیصلہ نہیں ہوتا۔
آئیے اپنے بچوں کو صرف یہ نہ سکھائیں کہ امتحان میں کیسے کامیاب ہونا ہے، انہیں یہ بھی سکھائیں کہ اگر کبھی زندگی کا کوئی دروازہ بند ہو جائے تو اپنی عزتِ نفس، سچائی اور امید کا دروازہ کبھی بند نہ ہونے دیں۔ تعلیم کا پہلا مقصد کامیاب انسان پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسا انسان پیدا کرنا ہے جس کی کامیابی سے پہلے اس کی انسانیت پہچانی جائے۔ جس دن ہمارے اسکول یہ سبق پڑھانے لگیں گے، اس دن ہم فخر سے کہیں گے: چلو اسکول… انسان بننا سیکھیں

