مصروف والدین اور گم ہوتا بچپن

ڈاکٹر اسد اللہ خان

شام کا اُجالا کھڑکی سے رخصت ہو رہا ہے۔ گھر کے ایک گوشے میں ایک بڑا آدمی اپنے دن کی باقی ماندہ ذمہ داریاں سمیٹ رہا ہے۔ اُس کے چہرے پر کسی چراغ کی نہیں، ایک چھوٹی سی اسکرین کی نیلی روشنی پڑ رہی ہے۔ دروازے کی چوکھٹ پر ایک بچہ کھڑا ہے۔ اُس کے ہاتھ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے جس پر اُس نے دن بھر کی محنت سے کچھ بنایا ہے: ایک گھر، ایک درخت، اور دو ٹیڑھی سی شکلیں جو ماں اور باپ ہیں۔ وہ کہتا ہے، “دیکھیے، میں نے بنایا ہے۔” جواب آتا ہے، “ابھی نہیں، بیٹا۔ ذرا بعد میں۔”

بچہ لڑتا نہیں، روتا نہیں، ضد نہیں کرتا۔ وہ کاغذ کو نہایت احتیاط سے موڑتا ہے، جیسے اُسے کسی بہتر وقت کے لیے محفوظ رکھنا ہے، اور خاموشی سے پلٹ جاتا ہے۔ اِس منظر میں کوئی آواز بلند نہیں ہوتی، اور یہی اِس کی سب سے تکلیف دہ بات ہے۔ جو بچہ شکایت کرتا ہے، وہ ابھی اُمید رکھتا ہے۔ جو خاموشی سے لوٹ جاتا ہے، اُس نے ایک بات سیکھ لی ہے۔

یہ منظر کسی ایک گھر کا نہیں۔ یہ ہر اُس مکان میں دہرایا جا رہا ہے جہاں کمائی کا دباؤ ہے، فیس کی فکر ہے، اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں چھبیس گھنٹوں کا کام ہے۔ ہم اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں، اِس میں شبہ نہیں۔ سوال محبت کا نہیں، فرصت کا ہے۔ اور فرصت وہ واحد سرمایہ ہے جسے قرض پر نہیں لیا جا سکتا۔

بچپن کسی ایک دن رخصت نہیں ہوتا۔ اُس کی رخصتی قسطوں میں ہوتی ہے۔ “ابھی نہیں” کی ہر قسط کے ساتھ وہ ذرا سا سمٹتا ہے، اور ایک دن ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں رہتا؛ ایک نوجوان رہتا ہے جس کے کمرے کا دروازہ اب بند رہتا ہے، اور جس کے پاس ہمارے سوالوں کے مختصر جواب ہیں۔

اِن دنوں سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک پیغام گردش میں ہے۔ اُس کا مضمون یہ ہے کہ بچوں کا بچپن لوٹ کر نہیں آئے گا؛ اُن کی شرارتوں کو بوجھ نہ سمجھیے، کیونکہ یہی شرارتیں ایک دن آپ کی سب سے قیمتی یادیں بن جائیں گی۔ کام اور ذمہ داریاں ہمیشہ رہیں گی، بچپن ایک بار ملتا ہے۔ ایسے پیغامات تیزی سے پھیلتے ہیں، اور اُن کے پھیلنے کی وجہ اُن کی معلومات نہیں، اُن کا لہجہ ہے۔ وہ ہمیں کوئی نئی خبر نہیں دیتے؛ وہ ہمارے اندر ایک پرانا احساسِ جرم جگا دیتے ہیں جو پہلے ہی موجود تھا۔

اِس پیغام میں جو کہا گیا ہے، وہ سچ ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وہ ادھورا سچ ہے۔ احساسِ جرم ایک کمزور معلم ہے۔ وہ آنکھ نم کرتا ہے، عادت نہیں بدلتا۔ رات کو ہم یہ پیغام پڑھ کر بچے کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں، اور اگلی صبح دفتر کا وقت، ٹریفک اور بجلی کا بل ہمیں وہیں پہنچا دیتے ہیں جہاں ہم کل تھے۔ جو تحریک صرف جذبے پر کھڑی ہو، اُس کی عمر ایک رات ہوتی ہے۔

دوسری کمی اِس سے بڑی ہے۔ ایسے پیغامات پورا بوجھ اکیلے والدین کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں اور اُن ڈھانچوں کا نام نہیں لیتے جو والدین سے وقت چھینتے ہیں۔ جس باپ سے کہا جا رہا ہے کہ وہ بچے کو وقت دے، اُس سے کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ وقت کہاں سے آئے گا: اُس نوکری سے جس میں چھٹی کا تصور نہیں، یا اُس سفر سے جو روز اُس کے تین گھنٹے کھا جاتا ہے؟ جس ماں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ بچپن ایک بار ملتا ہے، اُسے یہ بھی معلوم ہے کہ کرایہ ہر مہینے آتا ہے۔

اِس مضمون کا مقصد اُس آہ کو دہرانا نہیں جو ہم سب کے سینے میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اُس آہ کو ایک سوال میں بدلا جائے، اور سوال کو ایک تدبیر میں۔ جذبہ اُس وقت تک بے کار ہے جب تک وہ تجزیے سے نہ گزرے، اور تجزیہ اُس وقت تک ادھورا ہے جب تک وہ عمل تک نہ پہنچے۔

بچپن: ایک حیاتیاتی حقیقت یا ایک تہذیبی سہولت؟

عام خیال یہ ہے کہ بچپن ایک قدرتی مرحلہ ہے جو ہر انسان کو خود بخود مل جاتا ہے۔ یہ خیال ادھورا ہے۔ عمر کے ابتدائی برس بلاشبہ حیاتیاتی حقیقت ہیں، مگر “بچپن” — یعنی وہ محترم، محفوظ اور الگ سے پہچانا جانے والا زمانہ جس میں انسان کو کام سے، کمائی سے اور کارآمد ہونے کے تقاضے سے مستثنیٰ رکھا جائے — یہ تہذیب کی دین ہے، فطرت کی نہیں۔

فرانسیسی مؤرخ فلپ آریئس نے تاریخِ بچپن پر اپنی معروف تحقیق میں یہ مقدمہ پیش کیا تھا کہ قدیم یورپی سماج میں بچپن کا وہ تصور موجود نہ تھا جو جدید دور میں پیدا ہوا؛ بچے کو چھوٹا بالغ سمجھا جاتا تھا۔ اہلِ علم نے اِس مقدمے کے بعض حصوں سے اختلاف بھی کیا ہے، اور اختلاف بجا ہے۔ مگر اِس بحث سے ایک بات بہرحال ثابت ہوتی ہے: بچپن کی حد بندی، اُس کا احترام اور اُس کا قانونی و اخلاقی تحفظ ایک طویل تاریخی عمل کا نتیجہ ہیں۔ جو چیز تاریخ نے بنائی ہو، اُسے تاریخ مٹا بھی سکتی ہے۔

ہماری اپنی مشرقی اور اسلامی روایت میں بچے پر شفقت کو محض ایک نرم مزاجی نہیں، دین داری کے مزاج کا حصہ قرار دیا گیا۔ سیرتِ طیبہ کے وہ واقعات جن میں نمازِ باجماعت کے دوران کسی ننھے وجود کو کندھے سے اتارا اور اٹھایا گیا، یا خطبے میں کسی بچے کے رونے پر اختصار برتا گیا، محض روایتیں نہیں؛ وہ ایک اصول کا اعلان ہیں کہ عبادت کی صف میں بھی بچے کی ضرورت کو جگہ ملتی ہے۔ یہ ایک بلند معیار ہے، اور ہم اِس سے بہت نیچے جی رہے ہیں۔

اِس مقام پر میں ایک اصطلاح تجویز کرنا چاہتا ہوں: بچپن ایک مہلت ہے۔ یہ وہ وقفہ ہے جو سماج ہر نئے انسان کو عطا کرتا ہے تاکہ اُسے کچھ برس صرف انسان ہونے کے لیے مل جائیں — کھیلنے، پوچھنے، غلطی کرنے، ٹھوکر کھانے اور بے مقصد ہونے کے لیے۔ یہ مہلت فضول خرچی نہیں، سرمایہ کاری ہے۔ جو سماج اِسے مختصر کر دے، وہ اپنے مستقبل کے بالغوں کو ادھورا تیار کرتا ہے، اور پھر تمام عمر اُن کی نامکمل شخصیت کا خسارہ اٹھاتا ہے۔

ہمارے عہد میں یہ مہلت دو طرفوں سے کاٹی جا رہی ہے۔ غریب کا بچہ مشقت کے ہاتھوں اپنا بچپن گنواتا ہے: ورکشاپ، ہوٹل، اینٹوں کا بھٹّا۔ متوسط طبقے کا بچہ مقابلے کے ہاتھوں: کوچنگ، ٹیسٹ، درجہ بندی۔ ظاہری صورتیں مختلف ہیں، پیغام ایک ہے۔ دونوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم جیسے ہو، ویسے قابلِ قبول نہیں؛ جلد از جلد کارآمد بنو۔

معاشی دوڑ اور والدین کی غیر حاضری

پہلی بات انصاف کی۔ آج کے والدین بے مہر نہیں ہیں۔ میں نے جو چہرے دیکھے ہیں، اُن میں محبت کی کمی کبھی نظر نہیں آئی؛ تھکن کی زیادتی ہمیشہ نظر آئی۔ محبت میں کمی نہیں آئی، فرصت میں آئی ہے۔ اور فرصت انفرادی خوبی نہیں، معاشی ڈھانچے کی پیداوار ہے۔

آج کا شہری گھر اکثر دو کمائیوں پر کھڑا ہے، اور یہ انتخاب نہیں، حساب ہے: کرایہ، فیس، علاج، قرض کی قسط۔ روزگار کی ایک بڑی مقدار غیر منظم ہے، جہاں نہ اوقات متعین ہیں نہ چھٹی محفوظ۔ شہر پھیل گیا ہے، تو سفر بھی روز کے کئی گھنٹے کھا جاتا ہے۔ اور سب سے بڑا انقلاب موبائل فون نے برپا کیا: اُس نے دفتر کو گھر کے اندر داخل کر دیا۔ اب آدمی جسمانی طور پر گھر پہنچتا ہے اور ذہنی طور پر دفتر ہی میں رہتا ہے۔ حاضری اور موجودگی میں یہی فرق ہے، اور بچے یہ فرق فوراً پہچان لیتے ہیں۔

اِس کے ساتھ ایک اور مرض شامل ہو گیا ہے: آرزو کا دباؤ۔ ہم نے یہ مان لیا ہے کہ بچے کو بہتر مستقبل دینے کا واحد راستہ زیادہ کمانا ہے۔ چنانچہ ہم ایک ایسا سودا کرتے ہیں جس کی شرطیں ہم نے کبھی غور سے نہیں پڑھیں: ہم بچے کے مستقبل کے لیے اُس کا حال بیچ دیتے ہیں۔ ہم اُسے وہ چیزیں دیتے ہیں جن کی رسید ملتی ہے، اور اُس سے وہ چیز لے لیتے ہیں جس کی کوئی رسید نہیں ہوتی۔

اِس سودے کی سب سے عجیب شکل وہ دائرہ ہے جو ہمارے ہاں مکمل ہو چکا ہے۔ باپ اضافی محنت اُس ٹیوشن کی فیس کے لیے کرتا ہے جو بچے کی شام کھا لیتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ شام کو نہ باپ گھر پر ہوتا ہے نہ بچہ۔ دونوں ایک ہی نظام کے دو ملازم ہیں، اور دونوں کی حاضری کسی تیسری جگہ لگ رہی ہے۔ ہم اِسے ترقی کہتے ہیں؛ سچ یہ ہے کہ یہ ایک مہنگی غیر حاضری ہے۔

ہمارے یہاں محبت کے اظہار کا محاورہ بھی معاشی ہو گیا ہے۔ “میں نے تمھارے لیے کیا نہیں کیا” — یہ فقرہ چیزیں گنتا ہے، لمحے نہیں۔ اور بچے کی یاد داشت ہمارے حساب کی کتاب کے مطابق کام نہیں کرتی۔ وہ اِس بات کا اندراج نہیں رکھتی کہ ہم نے اُس کے لیے کتنا کمایا؛ وہ اِس بات کا اندراج رکھتی ہے کہ جس شام اُسے ہماری ضرورت تھی، ہم کہاں تھے۔

اسکول: بچپن کا مہربان حریف

ایک بچے کے وقت کا سب سے بڑا صارف آج اسکول ہے، اور اسکول اِس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ ہم نے تعلیم کو بچے کی زندگی کا حصہ بنانے کے بجائے بچے کی زندگی کو تعلیم کا ضمیمہ بنا دیا ہے۔

اِس کی ایک ساختی وجہ ہے۔ ہمارے ہاں ہر اصلاح نے نصاب میں اضافہ کیا؛ کسی اصلاح نے کمی نہیں کی۔ نئے مضامین آئے، نئی مہارتیں آئیں، نئی سرگرمیاں آئیں — مگر دن میں گھنٹے وہی چوبیس رہے۔ چنانچہ کٹوتی وہاں سے ہوئی جہاں سے سب سے آسانی سے ہو سکتی تھی: بچے کی نیند، اُس کا کھیل، اُس کی وہ بے مقصد آوارگی جو دراصل اُس کی سب سے زرخیز ساعت تھی۔ ہم نے وقت کو ایک لامحدود وسیلہ سمجھ لیا، حالانکہ وہ واحد وسیلہ ہے جو بالکل محدود ہے۔

پھر امتحان کا خوف اسکول کی چار دیواری سے نکل کر گھر کے کمرے میں آ بیٹھا۔ آج بہت سے گھروں کا موسم رپورٹ کارڈ طے کرتا ہے۔ اچھے نمبر آئے تو گھر میں بہار، کم آئے تو کئی دن کی خزاں۔ اِس فضا میں بچہ ایک ایسی بات سیکھتا ہے جو تمام عمر اُس کا پیچھا کرتی ہے: میری قدر میری کارکردگی کے برابر ہے۔ جو محبت مشروط ہو، وہ محبت نہیں، معاہدہ ہے؛ اور معاہدے سے کوئی بچہ کبھی مطمئن نہیں ہوا۔

اِس تصویر کا ایک پہلو ایسا ہے جس پر کم بات ہوتی ہے۔ جو اُستاد دن بھر پڑھاتا ہے، شام کو کاپیاں جانچتا ہے، اور رات گئے رجسٹر مکمل کرتا ہے، وہ اپنے گھر میں ایک والد یا ایک والدہ بھی ہے۔ ادارے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اُنھوں نے اُستاد سے صرف اُس کا وقت نہیں لیا، اُس کے بچوں کا وقت بھی لیا ہے۔ جس ادارے میں معلم کے پاس اپنے بچے کے لیے فرصت نہ ہو، وہ ادارہ اپنے پڑھائے ہوئے سبق کی خود نفی کر رہا ہے۔

کھیل بچے کا کام ہے

بڑوں کے لیے کھیل تفریح ہے؛ بچے کے لیے کھیل کام ہے۔ نشو و نما کے ماہرین اِس بات پر بڑی حد تک متفق ہیں کہ ابتدائی برسوں میں بچہ دنیا کو نظریے کے ذریعے نہیں، عمل کے ذریعے سمجھتا ہے۔ ژاں پیاژے نے دکھایا کہ بچہ علم وصول نہیں کرتا، بناتا ہے؛ ویگوتسکی نے واضح کیا کہ کھیل کے دوران بچہ اپنی موجودہ صلاحیت سے آگے کی سطح پر کام کرتا ہے؛ اور وِنی کاٹ نے یاد دلایا کہ بچے کو کامل ماں کی ضرورت نہیں، ایک قابلِ اعتماد ماحول کی ضرورت ہے جس میں وہ بغیر خوف کے کھیل سکے۔ یہ تینوں بصیرتیں ایک ہی نتیجے پر پہنچتی ہیں: کھیل چھیننا نصاب چھیننا ہے۔

دوسری اہم بات وابستگی کے مطالعے سے ملتی ہے۔ بچہ توجہ کی شدت سے نہیں، اُس کے قابلِ پیش گوئی ہونے سے اطمینان پاتا ہے۔ جو والد ہفتے میں ایک دن بہت زیادہ مہربان ہو اور باقی چھ دن ناقابلِ رسائی، وہ بچے کو محفوظ نہیں، محتاط بناتا ہے۔ اطمینان تسلسل سے پیدا ہوتا ہے، تحفے سے نہیں۔

یہیں ایک مقبول مغالطے کی اصلاح ضروری ہے: “معیاری وقت” کا مغالطہ۔ ہم نے مان لیا ہے کہ کم وقت کی تلافی زیادہ معیار سے ہو سکتی ہے۔ مگر بچے اپنی اہم باتیں طے شدہ اوقات میں نہیں کہتے۔ وہ اہم بات ہمیشہ ضمناً کہتے ہیں — جوتے کا تسمہ باندھتے ہوئے، بازار کے راستے میں، رات کو بتی بجھنے کے بعد۔ اُن کا دل کسی ملاقات کے وقت کا پابند نہیں۔ جو باپ صرف اتوار کو دستیاب ہے، وہ ہفتے کے وہ چھ لمحے کھو دیتا ہے جن میں بچہ بولنا چاہتا تھا، اور اتوار کو جب وہ پوچھتا ہے “بتاؤ، کیا ہوا تھا؟” تو بچہ کہتا ہے “کچھ نہیں۔” یہ بدتمیزی نہیں؛ یہ اُس لمحے کا ماتم ہے جو گزر گیا۔

نفسیات کے ایک معروف تجربے میں یہ دیکھا گیا کہ اگر ماں کا چہرہ اچانک بے تاثر ہو جائے تو شیرخوار بچہ پہلے آواز اور حرکت سے توجہ کھینچنے کی کوشش کرتا ہے، پھر بے چین ہوتا ہے، اور آخر میں منہ پھیر لیتا ہے۔ آج ہمارے گھروں میں یہی تجربہ روز دہرایا جا رہا ہے، مگر ماہرینِ نفسیات کے بغیر۔ اسکرین پر جھکا ہوا چہرہ بچے کے لیے وہی بے تاثر چہرہ ہے: موجود، مگر جواب دینے سے معذور۔ بچہ پہلے شور کرتا ہے، پھر ضد، پھر شرارت — اور جب اِن سب کا جواب ڈانٹ ہو تو وہ آخری مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے: منہ پھیر لینا۔ ہم اُس کی خاموشی کو تربیت کی کامیابی سمجھ لیتے ہیں۔

اور اب شرارت کے بارے میں وہ بات جو ہمیں سب سے پہلے سیکھنی چاہیے۔ شرارت بغاوت نہیں، تحقیق ہے۔ گھڑی کھول کر اُس کے پرزے میز پر بکھیرنے والا بچہ اور تجربہ گاہ میں مفروضہ آزمانے والا محقق ایک ہی جبلت کے تابع ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ محقق کو وظیفہ ملتا ہے اور بچے کو ڈانٹ۔ جس گھر میں تجسس کی قیمت سزا ہو، اُس گھر کا بچہ سوال پوچھنا بند کر دیتا ہے — اور سوال بند ہونے کا مطلب ذہن بند ہونا ہے۔

میدان کا خاتمہ

غیر حاضری کا ایک بڑا حصہ اُس تنہائی سے پیدا ہوا ہے جو خاندان کے سکڑنے سے آئی۔ پہلے گھر میں کئی بالغ ہوتے تھے۔ اِس کا فائدہ محض محبت کی کثرت نہ تھا؛ اصل فائدہ یہ تھا کہ اگر ایک فرد مصروف ہو تو دوسرا دستیاب ہوتا تھا۔ دادی، نانی، پھوپھی، چچا — یہ رشتے صرف رشتے نہیں تھے، وہ وقت کا ایک ادارہ تھے۔ اُس ادارے کے بند ہونے سے بچے کی نگرانی اور رفاقت کا سارا بوجھ دو تھکے ہوئے افراد پر آ گیا۔

دوسرا نقصان محلے کی سطح پر ہوا۔ میدان عمارتیں بن گئے، صحن پارکنگ، اور گلی گاڑیوں کی گزرگاہ۔ بچے کے پاس اب کوئی ایسی جگہ نہیں بچی جو بالغوں کی مسلسل نگرانی سے آزاد ہو۔ یہ معمولی نقصان نہیں۔ گلی بچے کی پہلی سماجی درسگاہ تھی: وہاں وہ اپنی عمر کے لوگوں کے ساتھ خود قاعدے بناتا تھا، خود جھگڑتا تھا، اور خود صلح کرتا تھا۔ اِس مشق کا کوئی نعم البدل کسی نصاب میں نہیں۔

پھر شہری مکان کی تنگی ہے۔ دو کمروں کے فلیٹ میں شور کی گنجائش نہیں ہوتی، اور جس گھر میں شور کی گنجائش نہ ہو، وہاں بچپن کی گنجائش بھی کم ہوتی ہے۔ اونچی آواز کو جغرافیہ درکار ہوتا ہے۔ ہم بچے سے کہتے ہیں “آہستہ!” اور یہ کہتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ ہم اُس سے صرف آواز نہیں، حرکت بھی کم کرنے کو کہہ رہے ہیں۔

اور آخر میں خوف۔ والدین کا اندیشہ بے بنیاد نہیں: سڑک، ٹریفک، اجنبی، حادثہ۔ مگر اِس خوف کا جو حل ہم نے نکالا، اُس کی قیمت بھاری ہے۔ ہم نے بچے کو چار دیواری میں محفوظ کر دیا اور اِس عمل میں اُسے تجربے سے بھی محفوظ کر دیا۔ جو نسل کبھی گری نہیں، وہ سنبھلنا کہاں سے سیکھے گی؟

اسکرین: ایک خاموش دایہ

جب گھر میں فرصت نہ ہو تو ہم ایک آسان راستہ اختیار کرتے ہیں: بچے کے ہاتھ میں ایک روشن مستطیل تھما دیتے ہیں۔ سودا صاف ہے — ابھی سکون، بعد میں فاصلہ۔ یہ آلہ بچے کو مصروف رکھتا ہے، خوش رکھتا ہے، خاموش رکھتا ہے، اور اُسے ایک ایسی چیز سکھا دیتا ہے جو ہم نے سکھانے کا ارادہ نہیں کیا تھا: توجہ مشین سے ملتی ہے، انسان سے نہیں۔

انصاف کا تقاضا ہے کہ الزام کا رخ درست رکھا جائے۔ بچہ اسکرین کا عادی نہیں، وارث ہے۔ وہ وہی کر رہا ہے جو اُس نے اپنے گھر میں دیکھا۔ ایک بچے کے لیے سب سے مؤثر نصاب وہ نہیں جو اُسے پڑھایا جاتا ہے؛ وہ ہے جو اُس کے سامنے کیا جاتا ہے۔ جس گھر میں کھانے کی میز پر تین افراد تین اسکرینوں میں مصروف ہوں، وہاں بچے سے پرہیز کا مطالبہ اخلاقی طور پر کمزور ہے۔

نیل پوسٹمین نے کئی دہائیاں پہلے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ برقی ذرائع ابلاغ بچپن اور بڑی عمر کے درمیان معلومات کی وہ دیوار گرا دیتے ہیں جس پر بچپن کا تصور قائم تھا۔ آج یہ دیوار صرف گری نہیں، اُس کا ملبہ بھی اٹھا لیا گیا ہے۔ ایک آٹھ سالہ بچہ جو دنیا کی ہر خبر، ہر تشدد اور ہر تشہیر تک پہنچ رکھتا ہے، وہ معلومات کے لحاظ سے بالغ اور تجربے کے لحاظ سے بچہ ہے۔ یہ عدم توازن اُس کے اعصاب پر بھاری ہے۔ اِسی سلسلے میں شیری ٹرکل نے اُس عجیب کیفیت کی طرف اشارہ کیا تھا جس میں لوگ ایک ساتھ ہوتے ہیں مگر تنہا۔

ایک نقصان ایسا ہے جس کا ذکر شاذ ہوتا ہے۔ اسکرین بچے کو بور ہونے سے بچاتی ہے، اور بوریت تخیل کی کارگاہ ہے۔ جو بچہ خالی وقت سے گزرا نہ ہو، وہ اپنے اندر جھانکنے کا ہنر نہیں سیکھتا۔ کھیل ایجاد کرنا، کہانی گھڑنا، کاغذ کی کشتی بنانا — یہ سب اُس خلا سے پیدا ہوتے ہیں جسے ہم آج فوراً بھر دیتے ہیں۔ ہم نے بچے سے اُس کی بوریت چھین کر اُس کی تخلیقی صلاحیت پر قرض چڑھا دیا ہے۔

کم وسائل، زیادہ وقت

پچھلی نسل کے بچپن میں وسائل کم تھے اور وقت زیادہ۔ آنگن تھا، دادی کی کہانی تھی، ایک ساتھ کھایا جانے والا کھانا تھا، اور محلے کی وہ اجتماعی نگرانی تھی جس میں ہر بڑا آدمی ہر بچے کا سرپرست سمجھا جاتا تھا۔ اُس زمانے کے ماں باپ آج سے کم محنت نہیں کرتے تھے؛ فرق یہ تھا کہ اُن کی محنت اکثر گھر کے قریب ہوتی تھی، اور کام ختم ہونے کے بعد واقعی ختم ہو جاتا تھا۔

لیکن اُس بچپن کا رومان بھی محاسبے کا محتاج ہے، ورنہ ہم نوستالجیا کو دلیل سمجھ لیں گے۔ اُس دور میں بیماری زیادہ تھی، بچوں کی مشقت عام تھی، مار پیٹ کو تربیت کا حصہ سمجھا جاتا تھا، بہت سی بچیوں کے لیے اسکول کا دروازہ بند تھا، اور بہت سے بچے جوان ہونے سے پہلے رخصت ہو جاتے تھے۔ ہم اُس زمانے کی طرف نہ لوٹ سکتے ہیں اور نہ ہمیں لوٹنا چاہیے۔

چنانچہ خسارے کی تعیین احتیاط سے کرنی ہو گی۔ آج کا بچہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہے، زیادہ صحت مند ہے، زیادہ پڑھا لکھا ہے، اور اُس کے سامنے مواقع کی وہ کھڑکیاں کھلی ہیں جن کا اُس کے دادا نے خواب بھی نہ دیکھا تھا۔ جو چیز کم ہوئی ہے، وہ آسائش نہیں، رفاقت ہے۔ ہم نے بچے کو بہت کچھ دیا ہے، سوائے اپنے آپ کے۔

دوسرا مرض: حد سے زیادہ حاضری

اِس بحث کو یک طرفہ کر دینا آسان ہے، اور غلط بھی۔ مسئلہ صرف غیر حاضر والدین کا نہیں۔ ایک اور مرض ہے جو ہمارے متوسط طبقے میں تیزی سے پھیل رہا ہے: حد سے زیادہ حاضری۔ ایسے والدین جو ہر لمحہ موجود ہیں، مگر صرف تین حیثیتوں میں — نگران، مربی، اور منصف۔

اِس صورت میں بچے کا دن صبح سے رات تک “کارآمد” سرگرمیوں سے بھر دیا جاتا ہے۔ ہر گھنٹے کا ایک مقصد ہے، ہر مشغلے کا ایک صلہ۔ بچہ ایک شخص نہیں، ایک منصوبہ بن جاتا ہے، اور اُس کی ہر حرکت اِس معیار پر جانچی جاتی ہے کہ اُس سے مستقبل میں کیا فائدہ ہو گا۔ یہ بھی ایک قسم کی غیر حاضری ہے، اور شاید زیادہ لطیف: اِس میں بچے کو دیکھا نہیں جاتا، ناپا جاتا ہے۔

اِس لیے یہ بات کہنے میں کوئی تناقض نہیں کہ بچے کو کچھ ایسا وقت بھی چاہیے جس میں کوئی بڑا اُس پر نظر نہ رکھے۔ اُسے ایسی ساعتیں بھی درکار ہیں جن کا کوئی حاصل نہ ہو۔ توجہ اور نگرانی ایک چیز نہیں؛ پہلی چیز بچے کو مضبوط کرتی ہے، دوسری اُس پر بوجھ ڈالتی ہے۔ آزادی کے بغیر موجودگی محبت نہیں، محاسبہ ہے۔

اِسی مقام پر ایک اخلاقی بات بھی ضروری ہے۔ کسی ملازمت پیشہ ماں سے یہ کہنا کہ وہ اپنے بچے کا بچپن چھین رہی ہے، مشورہ نہیں، بے رحمی ہے۔ بہت سے والدین کی غیر حاضری اُن کا انتخاب نہیں، اُن کی مجبوری ہے، اور اُن کی مشقت خود بچے کی خدمت ہے۔ ہمارا مقصد والدین کو مجرم ٹھہرانا نہیں، اُنھیں یہ یاد دلانا ہے کہ محدود وقت کو بھی ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ بچے کو کامل والدین کی ضرورت نہیں؛ اُسے قابلِ اعتماد والدین کی ضرورت ہے۔

شرارت کا نصاب: ٹوٹے ہوئے گلاس کا سبق

اُس پیغام میں ایک جملہ سب سے قیمتی ہے: شرارتوں کو بوجھ نہ سمجھیے۔ مگر اِس جملے کو صرف جذباتی نصیحت سمجھ لینا اُس کی توہین ہے۔ اِس میں ایک پورا تعلیمی نظریہ چھپا ہوا ہے، کیونکہ شرارت میں بچہ وہ سب سیکھتا ہے جو کوئی کتاب اُسے نہیں سکھا سکتی: سبب اور نتیجہ کا رشتہ، توازن کی حد، اپنے جسم کی طاقت کا اندازہ، اور دوسروں سے معاملہ کرنے کا سلیقہ۔

ایک عام واقعہ لیجیے۔ گھر میں گلاس ٹوٹتا ہے۔ اِس ایک لمحے میں تربیت کے دو راستے کھلتے ہیں۔ جو بچہ سچ بولے اور محفوظ رہے، وہ سیکھتا ہے کہ سچ بولنا فائدہ مند ہے۔ جو بچہ سچ بولے اور پٹے، وہ بھی سیکھتا ہے — مگر یہ کہ آئندہ چھپانا بہتر ہے۔ بچے کا پہلا جھوٹ عام طور پر اُس کی فطرت کی پیداوار نہیں ہوتا؛ وہ ہمارے ردعمل کی ایجاد ہوتا ہے۔

یہاں سے ایک اہم نتیجہ نکلتا ہے جس پر ہمارے ہاں کم غور کیا جاتا ہے۔ سزا شرارت کو ختم نہیں کرتی، منتقل کر دیتی ہے۔ وہ اُسے بیٹھک سے چھت پر لے جاتی ہے، اور نو عمری میں گھر سے باہر۔ جن گھروں میں سات سال کی عمر میں شرارت کی گنجائش نہیں ہوتی، اُنھی گھروں میں سترہ سال کی عمر میں سب سے زیادہ راز ہوتے ہیں۔ والدین سمجھتے ہیں کہ اُنھوں نے نظم قائم کیا؛ حقیقت میں اُنھوں نے صرف اطلاع کا راستہ بند کیا ہے۔

اِس سے یہ نتیجہ نہ نکالا جائے کہ حد بندی غیر ضروری ہے۔ شرارت اور بدتمیزی میں فرق ہے، اور یہ فرق سکھانا والدین کا فرض ہے۔ بچے کو حد کی ضرورت ہے، کیونکہ حد اُسے تحفظ کا احساس دیتی ہے؛ جس بچے کے سامنے کوئی دیوار نہ ہو، وہ خود کو کھلے میدان میں تنہا محسوس کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ حد نرمی سے بھی لگائی جا سکتی ہے، اور جو حد وضاحت کے ساتھ لگائی جائے، وہ خوف سے لگائی گئی حد سے زیادہ دیر قائم رہتی ہے۔

عملی تدابیر

چند تدابیر، اِس اصول کے ساتھ کہ ہر تدبیر اتنی چھوٹی ہو کہ نبھائی جا سکے۔ بڑی قسمیں توڑی جاتی ہیں؛ چھوٹے وعدے نبھتے ہیں۔

گھر کی سطح پر۔ پہلی تدبیر ایک محفوظ وقفہ ہے: روزانہ بیس منٹ، ایک ہی وقت پر، بغیر فون۔ بیس منٹ روز اُس ایک پورے اتوار سے زیادہ قیمتی ہیں جو کبھی آتا نہیں۔

دوسری تدبیر ایک مشترکہ کھانا ہے، جس میں اسکرین سب کے لیے بند ہو — اور بڑوں کے لیے پہلے بند ہو۔

تیسری تدبیر سننے کا ادب ہے: بچہ جب بولنا شروع کرے تو ابتدائی چند منٹ صرف سنیے؛ نہ نصیحت، نہ اصلاح، نہ کسی دوسرے بچے سے موازنہ۔ جو بچہ بغیر ٹوکے سنا جائے، وہ دوبارہ آتا ہے۔

چوتھی تدبیر ہفتے میں ایک بے مقصد دوپہر ہے، جس کا کوئی شیڈول نہ ہو۔

پانچویں تدبیر شرارت کا بجٹ ہے: گھر کا ایک گوشہ، ایک میز، ایک صحن جہاں گندگی کی اجازت ہو، تاکہ بچے کو ہر تجربے کے لیے اجازت نہ مانگنی پڑے۔

چھٹی تدبیر رات کی کہانی ہے، اور یہ محض تفریح نہیں: زبان، محاورہ اور تہذیب کی وراثت اِسی راستے منتقل ہوتی ہے۔

ساتویں تدبیر معافی ہے۔ جس گھر میں والد یہ کہ سکے کہ “مجھ سے غلطی ہوئی”، اُس گھر کا بچہ عمر بھر کے لیے یہ سیکھ لیتا ہے کہ اعتراف کمزوری نہیں۔

اور آٹھویں تدبیر سب سے مشکل ہے: توقعات کا وزن کم کرنا۔ بچے سے اپنی ادھوری خواہشیں پوری نہ کرائیے؛ وہ آپ کا تسلسل ہے، آپ کی تصحیح نہیں۔

اسکول کی سطح پر۔ ہوم ورک کا سالانہ آڈٹ ہونا چاہیے، اور سوال یہ نہ ہو کہ کتنا دیا گیا، بلکہ یہ کہ اُس سے سیکھنے میں کیا اضافہ ہوا۔ کھیل کا پیریڈ محفوظ قرار دیا جائے اور کسی حال میں نصاب کی تلافی کے لیے استعمال نہ ہو۔ والدین سے ملاقات کو نمبروں کی عدالت بنانے کے بجائے بچے کی شخصیت کی مشترکہ مطالعہ گاہ بنایا جائے۔ اساتذہ کی تربیت میں بچوں کی نفسیات کو رسمی حیثیت دی جائے، کیونکہ جو معلم بچے کی عمر کے تقاضے نہ جانے، وہ اُس کی خوبی کو عیب سمجھ بیٹھتا ہے۔ اور ادارے اپنے اساتذہ کے اوقات ایسے رکھیں کہ معلم کے گھر میں بھی روشنی رہے۔

سماج اور انتظامیہ کی سطح پر۔ شہری منصوبہ بندی میں بچے کا کوئی نمائندہ نہیں ہوتا، اور یہ ہمارے دور کی خاموش زیادتی ہے: کھیل کے میدان، محفوظ راستے اور کھلی جگہیں تعیش نہیں، بنیادی ڈھانچہ ہیں۔ کام کے انسانی اوقات محض مزدور کا حق نہیں، بچے کا حق بھی ہیں۔ اور محلے کی اجتماعی زندگی کو بحال کرنے کی ہر کوشش — عید کا اجتماعی کھیل، مسجد یا مندر کے احاطے میں بچوں کی محفل، محلے کی لائبریری — دراصل والدین کے وقت کی کمی کو پورا کرنے کا اجتماعی بندوبست ہے۔

اگر یہ رجحان اِسی رفتار سے چلتا رہے تو ہمیں ایک ایسی نسل ملے گی جو معلومات میں امیر اور تجربے میں غریب ہو گی۔ اُس کے پاس ہر سوال کا جواب ہو گا اور کسی جھگڑے کو خود نبٹانے کا سلیقہ نہ ہو گا۔ آزاد کھیل درحقیقت جمہوریت کی پہلی درسگاہ ہے: وہاں بچے مل کر قاعدہ بناتے ہیں، اُس پر تنازع کرتے ہیں، اور کسی منصف کے بغیر صلح کرتے ہیں۔ جو نسل یہ مشق نہ کرے، وہ اختلاف کو برداشت کرنا کہاں سے سیکھے گی؟ ہمارے سماج میں مکالمے کی جو قلت آج نظر آتی ہے، اُس کی ایک جڑ اُن میدانوں میں ہے جو عمارتیں بن گئے۔

دوسرا مضمرہ صبر سے متعلق ہے۔ جس بچے کی ہر خواہش فوراً پوری ہوئی ہو، اُس کے لیے انتظار ایک اجنبی تجربہ بن جاتا ہے، اور زندگی بڑی حد تک انتظار کا نام ہے۔ تیسرا مضمرہ تنہائی کی صلاحیت سے متعلق ہے۔ جو بچہ کبھی خاموشی میں نہ بیٹھا ہو، وہ بالغ ہو کر اپنے آپ سے گھبراتا ہے، اور پھر عمر بھر کسی ایسی مصروفیت کی تلاش میں رہتا ہے جو اُسے اپنے آپ سے بچائے۔

اور ایک مضمرہ سب سے زیادہ سوچنے کا ہے: غیر حاضری وراثت میں منتقل ہوتی ہے۔ ہم والدین بننا سیکھتے نہیں، نقل کرتے ہیں۔ جس بچے کی بات نہیں سنی گئی، وہ عام طور پر ایسا بالغ بنتا ہے جس کے پاس سننے کا وقت نہیں ہوتا — نہ اپنے بچوں کے لیے، اور نہ اُن بوڑھے والدین کے لیے جو اب اُس کے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ کوئی سزا نہیں، محض تسلسل ہے: جس گھر میں بچپن میں گفتگو نہ ہوئی ہو، وہاں بڑھاپے میں خاموشی رہتی ہے۔

ہم اپنے بچوں کے لیے جو کچھ خریدتے ہیں، وہ اُن کی یاد داشت میں محفوظ نہیں رہتا۔ کھلونا ٹوٹ جاتا ہے، لباس چھوٹا ہو جاتا ہے، تحفہ پرانا پڑ جاتا ہے۔ جو محفوظ رہتا ہے وہ کچھ اور ہے: ایک کندھے کی خوشبو، ایک ہنسی کی آواز، سر پر رکھا ہوا ہاتھ، اور وہ لمحہ جب کسی بڑے نے اپنا کام روک کر کہا تھا، “دکھاؤ، کیا بنایا ہے؟” بچے کی یاد داشت ہمارے تحفوں کا نہیں، ہمارے چہروں کا محافظ ہے۔

اُس مضمون کے آغاز میں جو منظر تھا، اُس کا ایک دوسرا حصہ بھی ہے۔ برسوں بعد ایک دراز کھلتی ہے، اور اُس میں کاغذ کا وہ مڑا ہوا ٹکڑا ملتا ہے جس پر ایک گھر، ایک درخت اور دو ٹیڑھی شکلیں بنی ہیں۔ اُس وقت وہ ہاتھ بڑا ہو چکا ہوتا ہے جس نے اُسے موڑا تھا۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اُس بڑے ہوئے ہاتھ کے پاس بھی اب اپنا ایک “ابھی نہیں” ہوتا ہے، جو وہ اپنے کسی بچے سے کہہ رہا ہوتا ہے۔ زنجیر یوں ہی چلتی ہے، جب تک کوئی ایک کڑی توڑنے کا فیصلہ نہ کرے۔

یہ فیصلہ کسی عظیم قربانی کا نام نہیں۔ نہ کسی کو ملازمت چھوڑنے کی ضرورت ہے، نہ کوئی گھر بیچنے کا مطالبہ ہے۔ صرف اِتنا کافی ہے کہ ہم اپنے دن کے چند منٹ اُس فہرست میں لکھ دیں جسے ہم ناقابلِ تنسیخ سمجھتے ہیں — جیسے دوا کا وقت، جیسے نماز کا وقت۔ اور یہ بھی جان لیں کہ اِس معاملے میں پچھتاوے کا کوئی مصرف نہیں۔ پچھتاوا گزرے ہوئے وقت کو واپس نہیں لاتا؛ وہ صرف موجود وقت کو بھی خراب کر دیتا ہے۔

بچپن واقعی لوٹ کر نہیں آتا۔ یہ اِس عمر کی سب سے مختصر اور سب سے سچی بات ہے۔ مگر ایک چیز ہے جو ہر روز لوٹ کر آتی ہے، اور وہ شام ہے۔ آج کی شام ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اور اگر آپ غور سے دیکھیں تو اِس وقت بھی دروازے کی چوکھٹ پر کوئی کھڑا ہے، ہاتھ میں ایک کاغذ لیے، اِس اُمید میں کہ آپ نظر اٹھائیں گے۔