حیا کے سائے میں علم

جنسی تعلیم کا اسلامی تناظر: قرآن و سنت کی رہنمائی اور امتِ مسلمہ کا فکری منظرنامہ

ڈاکٹر اسد اللہ خان

جب ریاست اعلان کرتی ہے کہ اسکولوں میں جامع جنسی تعلیم دی جائے گی تو مسلمان والدین کے دل میں سب سے پہلا سوال نہ نصاب کا ہوتا ہے نہ طریقِ تدریس کا؛ پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ دین اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ یہ سوال نہ کم علمی کی علامت ہے نہ تنگ نظری کی؛ یہ اُس قوم کا فطری ردِعمل ہے جس کے نزدیک علم اور اخلاق کبھی الگ الگ خانوں میں نہیں رہے۔ اس لیے مَیں نے مناسب سمجھا کہ اپنے مضمون «خاموشی کا نصاب» کے بعد اس سوال کو الگ سے اٹھاؤں اور دیانت داری سے دیکھوں کہ قرآن و سنت کا اسلوب اس باب میں کیا ہے، ہماری فقہی اور تعلیمی روایت نے یہ مضامین کیسے برتے ہیں، اور آج کی امتِ مسلمہ — مراکش سے انڈونیشیا تک — اس مسئلے پر عملاً کہاں کھڑی ہے۔ نتیجہ پڑھنے والے کو شاید چونکا دے: ہماری روایت اس معاملے میں ہماری موجودہ خاموشی سے کہیں زیادہ گویا رہی ہے۔

قرآن کا اسلوب: خاموشی نہیں، سلیقہ

قرآنِ مجید کو کھول کر دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتاب جسے ہم منبروں پر غلافوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں، انسانی زندگی کے انہی موضوعات پر کھلے مگر پاکیزہ اسلوب میں کلام کرتی ہے جن پر ہم اپنے گھروں میں لب کشائی گوارا نہیں کرتے۔ سورۂ بقرہ میں صحابہ کا سوال اور اللہ کا جواب موجود ہے: «وَیَسْـَٔلُونَکَ عَنِ الْمَحِیضِ» — لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں (البقرہ: ۲۲۲) — اور جواب میں نہ جھجک ہے نہ ابہام، صرف حکم اور حکمت ہے۔ سورۂ مومنون انسانی تخلیق کے مراحل — نطفہ، علقہ، مضغہ — کی منظم تعلیم دیتی ہے (المومنون: ۱۲ تا ۱۴)۔ ازدواجی تعلق، طہارت، غسل اور عدت کے احکام قرآن کے صفحات پر جا بجا بکھرے ہیں۔ غور کیجیے: وحی نے ان موضوعات کو نہ فحش سمجھا نہ ممنوع؛ اس نے انہیں علم کا درجہ دیا اور بیان کا ایسا معیار قائم کیا جس میں صراحت بھی ہے اور وقار بھی۔ گویا اصل قرآنی سبق مضمون سے زیادہ اسلوب کا ہے: بات کیجیے، مگر اس زبان میں جو حیا کو مجروح نہ کرے۔

سورۂ نور کا نصاب: عمر کے مطابق تربیت

جس اصول کو آج کی تعلیمی اصطلاح میں “عمر کے مطابق تعلیم” کہا جاتا ہے، قرآن نے اسے چودہ صدیاں قبل ایک مکمل ضابطے کی صورت میں اتار دیا تھا۔ سورۂ نور حکم دیتی ہے کہ گھر کے نابالغ بچے تین اوقات میں — نمازِ فجر سے پہلے، دوپہر کے آرام کے وقت، اور عشا کے بعد — والدین کے کمرے میں اجازت لے کر داخل ہوں، اور جب وہ بلوغ کو پہنچ جائیں تو ہر وقت اجازت لے کر آئیں (النور: ۵۸ اور ۵۹)۔ اس ایک حکم میں جدید تعلیمی نفسیات کے کتنے اصول سمٹے ہوئے ہیں: بچے کو خلوت اور بے پردگی کے تصور سے بتدریج روشناس کرانا؛ عمر کے مرحلوں کے مطابق تقاضے بدلنا؛ اور جسمانی حدود کا شعور خود گھر کے اندر سے شروع کرنا۔ آج کی کمیٹی جسے “بنیادی مرحلے سے ذاتی حفاظت کی تعلیم” کہتی ہے، سورۂ نور اسے گھریلو تربیت کا حصہ بنا چکی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نے اپنی ہی کتاب کا یہ باب پڑھنا چھوڑ دیا۔

نبویؐ درس گاہ میں سوال کی آزادی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس دنیا کی وہ واحد درس گاہ تھی جہاں کوئی سوال شرمندہ نہیں کیا جاتا تھا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں اور برملا پوچھا کہ اگر عورت خواب میں وہی دیکھے جو مرد دیکھتا ہے تو کیا اس پر غسل ہے؟ سوال سے پہلے انہوں نے جو جملہ کہا وہ اس پورے باب کی اساس ہے: «اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِی مِنَ الْحَقِّ» — اللہ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا — اور نبی کریمؐ نے نہ ٹالا، نہ جھڑکا، صاف جواب عطا فرمایا (بخاری و مسلم)۔ صحیح مسلم کی وہ روایت بھی سن لیجیے جس میں ایک مشرک نے حضرت سلمان فارسیؓ سے طنزاً کہا کہ تمہارے نبی تو تمہیں سب کچھ سکھاتے ہیں، حتیٰ کہ قضائے حاجت کے آداب بھی؛ سلمانؓ نے فخر سے فرمایا: ہاں، بے شک۔ جس تعلیمی تحریک نے طہارت کے باریک ترین مسائل سکھانے کو اپنا امتیاز سمجھا ہو، وہ جسم کی صفائی اور حفاظت کے اسباق سے کیسے شرما سکتی ہے؟ اور مسند احمد کا وہ نوجوان یاد کیجیے جو دربارِ نبویؐ میں بدکاری کی اجازت مانگنے آ پہنچا؛ آپؐ نے اسے دھتکارا نہیں، پاس بٹھایا اور پوچھا: کیا تو یہ اپنی ماں کے لیے پسند کرے گا؟ اپنی بیٹی کے لیے؟ نوجوان کا دل بدل گیا۔ یہ ہے وہ نبوی طریقِ تدریس — دلیل سے تطہیر، ڈانٹ سے نہیں — جس کی گواہی آج بچوں کی نفسیات کا ہر ماہر دیتا ہے۔

تربیت کے نبوی ضابطے: علم کے ساتھ حدود

مگر اسلام کا کمال صرف بات کرنے کی اجازت نہیں؛ اس کا کمال یہ ہے کہ وہ علم اور حدود کو ایک ساتھ سکھاتا ہے۔ حدیثِ پاک میں حکم ہے کہ بچوں کو سات برس کی عمر میں نماز کی تلقین کرو اور دس برس کے ہو جائیں تو ان کے بستر الگ کر دو (ابوداؤد)۔ بستر الگ کرنے کا یہ حکم بلوغ سے پہلے کی حفاظتی تربیت ہے — وہی جسے آج کی زبان میں “ذاتی حدود کا شعور” کہا جاتا ہے۔ قرآن مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے (النور: ۳۰ اور ۳۱)، بدکاری سے صرف روکتا نہیں بلکہ اس کے قریب جانے سے روکتا ہے: «وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰی» (بنی اسرائیل: ۳۲)، اور والدین کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: «قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا» — اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ (التحریم: ۶)۔ نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا (بخاری و مسلم)۔ گویا اسلامی تصور میں یہ تعلیم والدین کی ذمہ داری سے شروع ہوتی ہے، علم سے آگے بڑھتی ہے اور تقویٰ پر تمام ہوتی ہے۔ معلومات دینا آدھا کام ہے؛ کردار بنانا پورا کام۔

فقہ اور مدرسے کی روایت: صدیوں کا کھلا باب

ہماری علمی تاریخ کا ایک دلچسپ ستم یہ ہے کہ جو مضامین ہم آج اسکول کے نصاب میں دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں، وہ ہمارے مدرسوں کے نصاب میں صدیوں سے پڑھائے جا رہے ہیں۔ فقہ کی ہر بنیادی کتاب کتاب الطہارت سے شروع ہوتی ہے؛ بلوغ کی علامات، غسل کے موجبات، حیض و نفاس کے احکام اور ازدواجی زندگی کے مسائل ہر درسِ نظامی کے طالب علم نے کم عمری ہی میں پڑھے ہیں — صاف زبان میں، سنجیدہ فضا میں، استاد کے سامنے۔ اور عرب دنیا کے ممتاز عالم شیخ عبداللہ ناصح علوان نے اپنی مشہور کتاب «تربیۃ الاولاد فی الاسلام» میں بچوں کی جنسی تربیت کو باقاعدہ ایک مستقل باب کا درجہ دیا اور اسے والدین کی شرعی ذمہ داریوں میں شمار کیا۔ سوال یہ ہے کہ جس روایت نے یہ سب کچھ اپنے علمی نظام میں سمو رکھا تھا، اس کے وارثوں کے گھروں میں یہ موضوع ممنوع کیسے ہو گیا؟ سچ یہ ہے کہ ہماری موجودہ خاموشی اسلامی نہیں، محض رواجی ہے — اور رواج کو دین کا مقام دینا خود ایک بدعت ہے۔

اسلامی تصور اور مروجہ تصور کا فرق

یہ سب کہنے کے بعد دیانت کا تقاضا ہے کہ فرق بھی صاف صاف بیان کر دیا جائے۔ اسلام جس تعلیم کی اجازت دیتا ہے وہ بے قید معلومات کا نام نہیں؛ وہ ایک اخلاقی نظام کے اندر رکھا ہوا علم ہے۔ مغرب کے بعض نصابوں کا مرکزی اصول فرد کی رضامندی ہے: جو کچھ باہمی رضا سے ہو، روا ہے۔ اسلام رضامندی کو ضروری مانتا ہے مگر کافی نہیں؛ اس کے ہاں حلال و حرام کی حد رضامندی سے اوپر ہے، عفت مقصود ہے اور نکاح اس علم کی جائز منزل۔ اس لیے مسلمان والدین اور معلمین کے لیے راہِ عمل نہ اندھی مخالفت ہے نہ اندھی قبولیت، بلکہ تیسرا راستہ ہے: مندرجات کی چھان پھٹک۔ جسم کی حفاظت، لمس کی تمیز، بلوغ کی تبدیلیاں، تولیدی صحت اور استحصال سے بچاؤ — یہ سب ہماری اپنی روایت کے موافق ہے اور اس کا خیرمقدم ہونا چاہیے۔ البتہ جہاں کوئی مواد عفت کے تصور سے متصادم ہو، وہاں شائستہ، علمی اور مکالماتی انداز میں اپنا موقف رکھنا ہر والدین کا حق ہے — اور یہ حق خود اس کمیٹی نے تسلیم کیا ہے جس نے والدین کے آگہی اجلاسوں کو منصوبے کا حصہ بنایا ہے۔

امتِ مسلمہ کیا سوچتی ہے

اب اس سوال کی طرف آئیے کہ دنیا کے مسلمان اس مسئلے پر عملاً کہاں کھڑے ہیں۔ منظرنامہ یکساں نہیں، مگر عبرت انگیز ضرور ہے۔ ملائیشیا میں یہ مضامین اسلامی تعلیمات اور حیاتیات دونوں مضامین کے اندر سمو کر پڑھائے جاتے ہیں، یعنی سائنس اور شریعت ایک ہی درس گاہ میں ساتھ چلتے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا میں ہونے والے ایک وسیع سروے نے وہ نتیجہ دیا جو ہمارے عمومی تاثر کو الٹ دیتا ہے: تقریباً اٹھانوے فیصد والدین نے — جن کی عظیم اکثریت خود کو گہرا مذہبی بتاتی تھی — اسکولوں میں اس تعلیم کی حمایت کی، اور اسی فیصد نے کہا کہ یہ پرائمری ہی سے شروع ہو۔ انڈونیشیا کے دینی مدارس (پیسنترین) میں طلبہ کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے باقاعدہ اسلامی بنیادوں پر یہ تربیت دینے کے تجربات ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف کئی مسلم معاشروں میں جھجک اور ممانعت کی فضا بھی بدستور موجود ہے، اور تحقیق بتاتی ہے کہ اس جھجک کی جڑ اکثر نصوصِ دین میں نہیں، سماجی رواج میں ہے۔ خلاصہ یہ کہ امت کے اندر اصل بحث اس پر نہیں کہ بچوں کو علم دیا جائے یا نہیں — اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ حفاظت کا علم دینا فرض ہے — بحث صرف اس پر ہے کہ کتنا، کب، کس زبان میں اور کس اخلاقی چوکھٹے کے اندر۔ اور یہی وہ بحث ہے جس میں شریک ہونا ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی۔

ہندوستانی مسلمانوں کے لیے لائحۂ عمل

اس پس منظر میں ہندوستان کے مسلمانوں — بالخصوص اردو مدارس و مکاتب اور مسلم انتظامیہ کے اسکولوں — کے لیے چند معروضات۔

اول، اس نصاب سے کنارہ کشی کے بجائے اس کی تشکیل میں شریک ہوا جائے: جب این سی ای آر ٹی مواد مرتب کرے تو مسلم ماہرینِ تعلیم اور علما مل کر تجاویز بھیجیں، کیونکہ جو قوم میز سے اٹھ جاتی ہے اس کا حصہ دوسرے لکھتے ہیں۔

دوم، اردو میں اس مضمون کی ایسی اصطلاحات وضع کی جائیں جو علمی بھی ہوں اور شائستہ بھی؛ ہماری زبان کے پاس طہارت، بلوغ، عفت اور حرمتِ جسم جیسا وقیع ذخیرہ پہلے سے موجود ہے۔

سوم، مدارس اپنی فقہی روایت کے متعلقہ ابواب کو تازہ اعتماد کے ساتھ پڑھائیں اور مساجد کے منبر سے والدین کی رہنمائی ہو کہ گھر میں بچوں کے سوالوں کا سواگت کیسے کیا جائے۔

چہارم، مسلم اسکول اس باب میں نمونہ بنیں: تربیت یافتہ معلم، والدین کے اجلاس، اور بچیوں کے لیے معلمات کا اہتمام۔

اور پنجم، یہ یاد رہے کہ ہمارے بچوں کو استحصال سے بچانے والی ہر شق دراصل حفظِ نسل اور حفظِ عزت کے انہی مقاصدِ شریعت کی خدمت گزار ہے جن کی حفاظت کو فقہا نے دین کے بنیادی مقاصد میں گنا ہے۔

حیا ایمان کی شاخ ہے — یہ نبویؐ ارشاد ہمارے دل کی دھڑکن ہے۔ مگر اسی نبیؐ کی مجلس میں ایک خاتون غسل کا مسئلہ پوچھ سکتی تھی اور ایک نوجوان اپنی سب سے تاریک خواہش کا اقرار کر سکتا تھا۔ معلوم ہوا کہ حیا اور علم دشمن نہیں؛ حیا علم کا اسلوب متعین کرتی ہے، اس کا دروازہ بند نہیں کرتی۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے وہی مجلس دوبارہ تعمیر کرنی ہے — گھر میں بھی، اسکول میں بھی — جہاں سوال گناہ نہ ہو اور جواب بے حجاب نہ ہو۔ ریاست اپنا نصاب لا رہی ہے؛ ہم اپنا ورثہ لے کر اس سے مکالمہ کریں گے۔ اور ہمارا ورثہ یہ ہے کہ جس دین نے قضائے حاجت کے آداب سکھانے کو اعزاز جانا، وہ اپنے بچوں کو ان کے جسم کی حرمت سکھانے سے کبھی نہیں شرمائے گا — شرمانا تو انہیں چاہیے جنہوں نے علم کو حیا کے نام پر قید کیا اور بچوں کو جہالت کے حوالے کر کے سمجھا کہ انہوں نے تہذیب بچا لی۔