روز پچیس چراغ بجھتے ہیں!!!

سرکاری اسکولی تعلیم کا بدلتا منظرنامہ — نیتی آیوگ کی رپورٹ کے آئینے میں

ڈاکٹر اسد اللہ خان

شام کا جھٹپٹا ہے۔ گاؤں کے کنارے وہ پرانی عمارت کھڑی ہے جس کی دیواروں پر کبھی حروفِ تہجی کے رنگین نقش تھے اور جس کے آنگن میں گھنٹی کی آواز دن میں کئی بار زندگی کا اعلان کرتی تھی۔ آج اس کے دروازے پر ایک زنگ آلود قفل جھول رہا ہے۔ نہ گھنٹی، نہ قاعدہ، نہ وہ شور جو دنیا کے ہر شور سے زیادہ مقدس ہے — بچوں کے پڑھنے کا شور۔ قفل کی کوئی زبان نہیں ہوتی، مگر وہ بولتا ہے؛ اور جو قفل کسی مکتب کے دروازے پر پڑا ہو، وہ محض ایک عمارت کو نہیں، ایک پوری بستی کے مستقبل کو مقفل کر دیتا ہے۔

یہ منظر کسی ایک گاؤں کا نہیں۔ نیتی آیوگ کی تازہ رپورٹ گواہی دیتی ہے کہ گزشتہ دس برسوں میں اس ملک کے چورانوے ہزار سرکاری اسکول بند ہو چکے ہیں — یعنی اوسطاً ہر روز پچیس۔ ہر روز پچیس چراغ بجھتے ہیں اور بستیاں خاموش رہتی ہیں۔ کسی بینک کی شاخ بند ہو تو خبر بنتی ہے، کسی کارخانے پر تالا پڑے تو ایوانوں میں سوال گونجتے ہیں؛ مگر مکتب کا قفل ایسی چپ چاپ پڑتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ شاید اس لیے کہ اس نقصان کا اندراج کسی بہی کھاتے میں نہیں ہوتا؛ اس کا خمیازہ وہ نسل بھگتتی ہے جو ابھی ووٹ نہیں دیتی، جس کا کوئی مطالبہ ٹیلی ویژن کی سرخی نہیں بنتا، اور جس کی سسکی اخبار کے صفحۂ اول تک پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیتی ہے۔

یہ مضمون اسی خاموشی کے خلاف ایک صدا ہے۔ اس کا مقصد ماتم نہیں، محاسبہ ہے؛ اور محاسبہ بھی صرف حکومتوں کا نہیں، اس پورے معاشرتی مزاج کا جس نے تعلیم کو حق سے گھٹا کر سودا بنا دیا اور مکتب کو امانت سے گھٹا کر عمارت۔

مئی ۲۰۲۶ء میں نیتی آیوگ نے اپنی جامع رپورٹ جاری کی جس کا عنوان ہے: ”اسکول ایجوکیشن سسٹم اِن انڈیا: ٹیمپورل اینالسس اینڈ پالیسی روڈ میپ فار کوالٹی اینہانسمنٹ“۔ یہ رپورٹ یو ڈائس پلس ۲۵-۲۰۲۴ء، پرکھ راشٹریہ سروے ۲۰۲۴ء، قومی حصولیابی جائزوں اور اَسر ۲۰۲۴ء جیسے مستند سرکاری و نیم سرکاری ماخذوں پر مبنی ہے، اس لیے اس کے اعداد کو نہ جذباتی مبالغہ کہہ کر ٹالا جا سکتا ہے نہ سیاسی الزام کہہ کر جھٹلایا جا سکتا ہے۔ یہ خود ریاست کے اپنے آئینے میں ریاست کی اپنی صورت ہے۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ ۱۵-۲۰۱۴ء میں ملک میں سرکاری اسکولوں کی تعداد ۱۱ لاکھ ۷ ہزار تھی جو ۲۵-۲۰۲۴ء میں گھٹ کر ۱۰ لاکھ ۱۳ ہزار رہ گئی۔ امدادی اسکول ۸۳ ہزار سے کم ہو کر ۷۹ ہزار ہوئے، جب کہ اسی عرصے میں نجی اسکول ۲ لاکھ ۸۸ ہزار سے بڑھ کر ۳ لاکھ ۳۹ ہزار تک جا پہنچے۔ اسکولوں میں داخل بچوں کی مجموعی تعداد ۲۶ کروڑ ۹۵ لاکھ سے گھٹ کر ۲۴ کروڑ ۶۹ لاکھ رہ گئی — یعنی ۲ کروڑ ۲۶ لاکھ بچوں کی کمی۔ اور سب سے کچوکے دینے والا عدد یہ ہے کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کا تناسب، جو ۲۰۰۵ء میں اکہتر فیصد تھا، اب گھٹ کر تقریباً انچاس فیصد رہ گیا ہے۔ ملک کی نصف سے زیادہ اولاد اب اس نظام سے باہر پڑھتی ہے جو کبھی پورے ملک کی درس گاہ تھا۔

اعداد و شمار اپنی فطرت میں سرد ہوتے ہیں، مگر ان کے پیچھے ہمیشہ گرم لہو دوڑتا ہے۔ چورانوے ہزار محض ایک رقم نہیں، چورانوے ہزار آنگن ہیں جن کی گھنٹیاں ہمیشہ کے لیے چپ ہو گئیں؛ لاکھوں سیاہ تختے ہیں جن پر اب کوئی سفید لکیر نہیں کھنچتی؛ اور بے شمار وہ ننھے قدم ہیں جنھیں اب علم تک پہنچنے کے لیے پہلے سے زیادہ لمبا، زیادہ سنسان اور زیادہ غیر محفوظ راستہ طے کرنا ہے۔ تاریخ کی عدالت میں یہ اعداد گواہ کے کٹہرے میں کھڑے ہیں، اور ان کی گواہی کسی جرح سے نہیں ٹوٹتی۔

یہ دروازے کیوں بند ہوئے؟

کوئی بھی بڑا زوال کسی ایک سبب سے جنم نہیں لیتا؛ تین ندیاں الگ الگ پہاڑوں سے اتر کر اسی ایک بند دروازے تک پہنچی ہیں۔ پہلی ندی آبادیاتی ہے۔ ملک میں شرحِ پیدائش مسلسل گھٹ رہی ہے، اس لیے اسکول جانے کی عمر کے بچوں کی تعداد بھی سکڑ رہی ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے، مگر اس کے سہارے پورے زوال کی صفائی پیش کرنا ایسا ہی ہے جیسے سوکھتے ہوئے باغ کا سارا الزام موسم پر ڈال کر مالی اپنی غفلت چھپا لے۔ آبادی کم ہونے سے جماعتیں چھوٹی ہوتی ہیں، اسکول لازماً بند نہیں ہوتے؛ بند کرنے کا فیصلہ موسم نہیں، انسان کرتا ہے۔

دوسری ندی پالیسی کی ہے، جسے دفتری زبان میں ”معقولیت پسندی“ اور ”انضمام“ کا خوش نما نام دیا گیا ہے۔ کم داخلوں والے اسکولوں کو قریبی اسکولوں میں ضم کرنے کی دلیل بظاہر وزن دار ہے: وسائل یکجا ہوں گے، اساتذہ کا بہتر استعمال ہوگا، انتظام سہل ہوگا۔ مگر یہ حساب کاغذ پر جتنا صاف ہے، زمین پر اتنا ہی دھندلا۔ نقشے پر دو اسکولوں کا فاصلہ ایک لکیر ہے؛ زمین پر وہی فاصلہ ایک ندی، ایک شاہراہ، ایک سنسان پگڈنڈی اور ایک باپ کا وہ خوف ہے جو بیٹی کو دور کے اسکول بھیجنے سے پہلے سو بار سوچتا ہے۔ حقِ تعلیم قانون نے ہر بچے کے لیے قریبی اسکول کی ضمانت دی تھی؛ انضمام کی ہر کارروائی جو اس ضمانت کو نظر انداز کرے، قانون کی روح پر کاری ضرب ہے، چاہے اس کے کاغذات کتنے ہی درست کیوں نہ ہوں۔

تیسری ندی سب سے گہری ہے: والدین کی وہ خاموش ہجرت جو سرکاری آنگن سے نجی عمارتوں کی طرف جاری ہے۔ اسی ہجرت نے نجی اسکولوں کی تعداد میں اکاون ہزار کا اضافہ کیا ہے۔ اور یہی ندی اس بحث کو اس کے اصل سوال تک لے آتی ہے — یہ ہجرت کیوں ہو رہی ہے؟

جمہوریت میں رائے صرف ووٹ سے ظاہر نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی قوم اپنا فیصلہ قدموں سے سناتی ہے۔ جب ایک مزدور، جس کی دن بھر کی کمائی چند سو روپے ہے، اپنے بچے کو مفت سرکاری اسکول سے اٹھا کر فیس والے نجی اسکول میں داخل کراتا ہے تو وہ دراصل ایک ووٹ ڈال رہا ہوتا ہے — سرکاری نظامِ تعلیم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ۔ اکہتر فیصد سے انچاس فیصد تک کا سفر محض شماریاتی تبدیلی نہیں؛ یہ کروڑوں گھرانوں کا وہ خاموش ریفرنڈم ہے جس کا نتیجہ کسی انتخابی کمیشن نے نہیں، جیبوں کی قربانی نے مرتب کیا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ یہ اعتماد جن ہاتھوں سے ٹوٹا، وہ خود اس نظام پر بھروسا نہیں کرتے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کو ۲۰۱۵ء میں یہ حکم دینا پڑا تھا کہ سرکاری خزانے سے تنخواہ پانے والوں کے بچے سرکاری اسکولوں ہی میں پڑھیں — یہ حکم اپنے نفاذ میں جو بھی رہا ہو، اپنی تشخیص میں نشتر کی طرح درست تھا۔ جس دسترخوان پر میزبان خود نہ بیٹھے، مہمان اس کے کھانے پر کیسے اعتبار کرے؟ جب افسر، معلم اور منتخب نمائندہ سبھی اپنی اولاد کے لیے دوسرا دروازہ چنیں تو غریب کو کیوں کر یقین آئے کہ پہلا دروازہ اس کے بچے کے لیے کافی ہے؟

مگر اس ہجرت کا دوسرا رخ بھی دیکھنا لازم ہے۔ نجی اسکول کا اجلا یونیفارم، ٹائی کی گرہ اور انگریزی نام اکثر معیار کی ضمانت نہیں، اس کی نقالی ہوتے ہیں۔ تعلیمی تحقیق بارہا بتا چکی ہے کہ کم فیس والے نجی اسکولوں کی کارکردگی، جب بچوں کے خاندانی پس منظر کا فرق نکال دیا جائے، سرکاری اسکولوں سے کچھ خاص بہتر نہیں نکلتی۔ گویا غریب اپنی محنت کی کمائی سے اکثر بہتر تعلیم نہیں، بہتر تعلیم کا گمان خریدتا ہے۔ اعتماد کے اس بحران نے ایک ایسا بازار پیدا کر دیا ہے جہاں امید بکتی ہے اور اس کی قیمت وہ ادا کرتا ہے جس کے پاس کھونے کو سب سے کم ہے۔

اس عدم اعتماد کی جڑ تلاش کرنی ہو تو کسی دور دراز اسکول کے اس کمرے میں جھانکیے جہاں ایک اکیلا استاد پانچ جماعتوں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے ایک لاکھ چار ہزار سے زائد اسکول — یعنی ہر چودہ میں سے ایک — صرف ایک معلم کے سہارے چل رہے ہیں۔ وہ ایک ہی وقت میں پہلی جماعت کو حروف سکھاتا ہے، تیسری کا پہاڑا سنتا ہے، پانچویں کی کاپیاں جانچتا ہے، دوپہر کے کھانے کا حساب رکھتا ہے اور دفتر کے ہر کاغذ کا جواب بھی وہی لکھتا ہے۔ ہم اسے اسکول کہتے ہیں؛ درحقیقت وہ ایک انسان کی ہمت کا آخری مورچہ ہے۔

جہاں اسکول چل رہے ہیں وہاں بھی معلم کا وجود تقسیم در تقسیم ہے۔ صرف بہار میں ابتدائی سطح کے دو لاکھ آٹھ ہزار سے زیادہ اسامیاں خالی پڑی ہیں، اور پورے ملک میں تدریسی ایام کا تقریباً چودہ فیصد انتخابات، مردم شماری اور طرح طرح کے سرووں کی نذر ہو جاتا ہے۔ جس قوم نے اپنے معلم کو گنتی کا کارندہ اور قطار کا نگراں بنا دیا ہو، اسے حیران نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے بچے گنتی سیکھ کر بھی سوچنا نہیں سیکھ پاتے۔ استاد قوم کے شاہین بچوں کا مربی ہے؛ اسے دفتری خاک بازی میں الجھا دینا صرف اس کی توہین نہیں، آنے والی نسل کی پرواز کی تحقیر ہے۔اقبال کے زمانے میں خاک بازی کا سبق نصاب دیتا تھا؛ آج نظام خود معلم کو خاک بازی پر مامور کر دیتا ہے۔

عمارت بنی، علم نہ بنا؟؟

انصاف کا تقاضا ہے کہ تصویر کا روشن رخ بھی دیکھا جائے۔ گزشتہ دہائی میں اسکولوں کی عمارتیں بلاشبہ بہتر ہوئی ہیں: بجلی پہنچی، بیت الخلا بنے، کمپیوٹر آئے، چار دیواریاں اٹھیں۔ مگر رپورٹ کا سب سے تلخ انکشاف یہی ہے کہ عمارت کی یہ ترقی علم کی ترقی میں نہیں ڈھل سکی۔ بنیادی جماعتوں میں فہم و ادراک کی سطح تشویش ناک ہے اور آٹھویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے ریاضی اور اِدراکی صلاحیتوں کا معیار بعض پیمانوں پر پہلے سے بھی نیچے چلا گیا ہے۔ ہم نے برتن سنوار لیے، مگر ان میں پانی بھرنا بھول گئے۔

اس ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہمارے تعلیمی ڈھانچے کی وہ ساخت ہے جسے رپورٹ ”مخروطی“ یعنی اہرام نما کہتی ہے: نیچے پرائمری اسکولوں کا وسیع فرش اور اوپر ثانوی و اعلیٰ ثانوی اداروں کی تنگ چوٹی۔ نتیجہ یہ کہ ابتدائی سطح پر شرحِ اندراج نوے فیصد سے اوپر ہے، مگر ثانوی سطح پر گھٹ کر اناسی کے قریب اور اعلیٰ ثانوی تک پہنچتے پہنچتے صرف اٹھاون فیصد رہ جاتی ہے۔ اپر پرائمری سے ثانوی جماعت میں منتقلی کی شرح بھی ایک دہائی میں تقریباً بانوے فیصد سے گھٹ کر ساڑھے چھیاسی فیصد پر آ گئی ہے۔ گویا ہمارا نظام بچوں کو بلاتا سب کو ہے، مگر منزل تک پہنچاتا آدھوں کو بھی نہیں۔ سیڑھی کے نچلے زینے چوڑے اور اوپر کے زینے غائب ہوں تو چڑھنے والے کا گرنا حادثہ نہیں، ڈھانچے کا منطقی نتیجہ ہے۔

رپورٹ کا یہ مشورہ اس لیے وزنی ہے کہ اہرام کو ”استوانہ“ بنایا جائے: ایسے جامع اسکول جہاں بچہ پہلی جماعت سے بارہویں تک ایک ہی ادارے کے سائے میں پروان چڑھے۔ مگر اس معماری کی بنیاد بھی وہی پرانی اینٹ ہے جس کا ذکر پیچھے ہوا — معلم۔ رٹنے رٹانے کا وہ چلن، جو تفہیم کی جگہ حافظے کو اور سوال کی جگہ جواب کو تخت پر بٹھاتا ہے، عمارتوں سے نہیں، تربیت یافتہ اور باوقار اساتذہ سے بدلے گا۔

پالیسی کی دستاویزیں فاصلہ کلومیٹر میں ناپتی ہیں؛ بچے کا دل اسے حوصلے میں ناپتا ہے۔ جس بچی کے گاؤں کا اسکول بند ہوا اور نیا اسکول دو گاؤں پرے چلا گیا، اس کے لیے یہ محض دو کلومیٹر کا اضافہ نہیں — یہ غربت کو دو کلومیٹر لمبا وہ بہانہ مل جانا ہے جس کے سہارے وہ بچی کو واپس چولھے، کھیت یا قالین کے کارخانے کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ تعلیمی نفسیات کا ایک سیدھا سا اصول ہے: پہلی نسل کے پڑھنے والوں کی لگن شمع کی لو کی طرح ہوتی ہے — روشن مگر نازک؛ ہوا کا ایک جھونکا، ایک رکاوٹ، ایک بند دروازہ اسے بجھانے کو کافی ہے۔

پھر اس پیغام کو بھی سنیے جو بند اسکول کی خاموش دیواریں بچے کے لاشعور میں اتارتی ہیں۔ بچہ الفاظ سے پہلے اشارے پڑھتا ہے۔ جب وہ روز اپنی بستی کے مقفل مکتب کے سامنے سے گزرتا ہے تو اس کے ننھے شعور پر یہ نقش گہرا ہوتا جاتا ہے کہ اس کی بستی، اس کے لوگ اور خود اس کا وجود کسی بڑی ترجیح میں شامل نہیں۔ ماہرینِ نفسیات جسے ”سیکھی ہوئی بے بسی“ کہتے ہیں، اس کا پہلا سبق کسی کتاب سے نہیں، ایسے ہی مشاہدوں سے ملتا ہے۔ ریاست جب ایک اسکول بند کرتی ہے تو دراصل ایک اعلان جاری کرتی ہے، اور اس اعلان کا سب سے دقیق قاری وہ بچہ ہوتا ہے جس نے ابھی پڑھنا بھی نہیں سیکھا۔

وہ اسکول جو گاؤں کا دل تھا، بند ہو گیا

دیہی ہندوستان میں سرکاری اسکول کبھی محض درس گاہ نہیں رہا؛ وہ بستی کا دھڑکتا ہوا دل تھا۔ اسی کے آنگن میں دوپہر کا کھانا پکتا، اسی کے کمرے میں ووٹ پڑتے، اسی کے میدان میں جلسے ہوتے اور قومی تہواروں کا پرچم اسی کی چھت پر لہراتا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی ٹاٹ پٹی پر مزدور کا بیٹا اور دکان دار کی بیٹی برابر بیٹھتے تھے — وہ واحد فرش جہاں سماج کی اونچ نیچ کچھ گھنٹوں کے لیے دم سادھ لیتی تھی۔ مشترکہ اسکول دراصل جمہوریت کی نرسری تھا؛ برابری وہاں پڑھائی نہیں جاتی تھی، برتی جاتی تھی۔

یہ فرش اب تیزی سے چٹخ رہا ہے۔ ملک کا بچپن دو خانوں میں بٹتا جا رہا ہے: ایک وہ جو ائیرکنڈیشنڈ بسوں میں انگریزی نام والے اداروں کو جاتا ہے، دوسرا وہ جو ٹوٹی چپل گھسیٹتا ہوا اس اسکول تک پہنچتا ہے جہاں شاید استاد بھی اکیلا ہے۔ یہ دونوں بچے ایک ہی ملک میں رہتے ہیں مگر ایک دوسرے کے ملک کو نہیں جانتے۔ معیشت دان البرٹ ہرشمین نے سمجھایا تھا کہ جب کسی نظام سے بااثر طبقہ ”خروج“ کر جاتا ہے تو اس کی اصلاح کے لیے اٹھنے والی ”آواز“ بھی رخصت ہو جاتی ہے۔ سرکاری اسکول کے ساتھ یہی ہوا: جن کی شکایت میں وزن تھا وہ نکل گئے، اور پیچھے وہ رہ گئے جن کی شکایت کوئی نہیں سنتا۔ سو نظام بگڑتا گیا، خروج بڑھتا گیا، اور یہ چکی اپنے ہی دانے پیستی رہی۔ تعلیم جب حق کے خانے سے نکل کر جنس کے خانے میں آ جائے تو معیار قیمت کے تابع ہو جاتا ہے — اور جس ملک میں بچپن کا معیار باپ کی جیب طے کرے، وہاں آئین کی مساوات کتاب میں رہ جاتی ہے، کوچے میں نہیں اترتی۔

یہ زوال اور بھی چبھتا ہے جب تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے۔ انیسویں صدی کے چوتھے عشرے میں ولیم ایڈم نے بنگال اور بہار کے دیہی مکاتب کا جو مشہور جائزہ لیا تھا، اس میں اندازہ ظاہر کیا گیا تھا کہ صرف ان دو خطوں میں لگ بھگ ایک لاکھ دیسی مکتب اور پاٹھ شالائیں سانس لے رہی ہیں — ہر بستی کا اپنا معلم، اپنی درس گاہ، اپنا علمی چراغ۔ نوآبادیاتی نظام نے اس شبکے کی جڑیں کاٹیں تو گاندھی جی نے ۱۹۳۱ء میں لندن کی ایک مجلس میں وہ تاریخی جملہ کہا کہ انگریزوں نے ہندوستان کے علم کے ”خوب صورت درخت“ کو اکھاڑ ڈالا اور دھرتی پہلے سے زیادہ ان پڑھ ہو گئی۔

تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے: جس درخت کو غیروں کے کلہاڑے کا نوحہ سنا کر ہم آزاد ہوئے، اسی کی بچی کھچی شاخیں اب اپنے ہی فیصلوں سے چھٹ رہی ہیں۔ آزادی کے بعد کوٹھاری کمیشن نے جو خواب دیکھا تھا — ہر محلے کا مشترکہ اسکول، جہاں افسر اور مزدور کی اولاد ایک صف میں بیٹھے، اور تعلیم پر قومی پیداوار کا چھ فیصد خرچ — وہ خواب چھ عشروں بعد بھی دستاویزوں میں سویا پڑا ہے۔ ہم نے اس خواب کی تعبیر تو نہ نکالی، البتہ اس کے برعکس تصویر ضرور مکمل کر لی: خرچ وعدے سے کم، اسکول پہلے سے کم، اور صفیں پہلے سے زیادہ جدا جدا۔

عصری تقاضے اور مستقبل کا قرض

قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء نے سب کے لیے مساوی اور معیاری تعلیم کا جو عہد باندھا ہے، بند ہوتے اسکول اس عہد کے حاشیے پر لکھا ہوا سوالیہ نشان ہیں۔ ادھر ۲۰۴۷ء تک ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب دکھایا جا رہا ہے، اور یہ سیدھا سا حساب بھلا دیا جاتا ہے کہ ۲۰۴۷ء کا انجینئر، معالج، منصف اور معلم اس وقت کسی نہ کسی جماعت میں بیٹھا ہے — یا نہیں بیٹھا ہے، اور یہی ”نہیں“ اصل خطرہ ہے۔ آبادی کے جس تناسب کو ہم فخر سے اپنا سرمایہ کہتے ہیں، وہ کوئی مستقل خزانہ نہیں بلکہ ریت کی وہ گھڑی ہے جو چند عشروں میں الٹ جائے گی؛ جوان بازوؤں کی یہ بہار تعلیم پائے تو دولت ہے، نہ پائے تو بوجھ — اور بوجھ بھی ایسا جو صرف معیشت پر نہیں، معاشرت اور امن پر بھی پڑتا ہے۔

پھر یہ عہد مصنوعی ذہانت کا ہے، جہاں مشین وہ سارے کام سمیٹتی جا رہی ہے جو محض رٹے اور دہرانے سے ہوتے تھے۔ کل کی معیشت میں روزی اسی کی ہوگی جو سوچ سکے، سوال کر سکے، سیکھنے کا ہنر جانتا ہو — اور یہ تینوں صلاحیتیں ابتدائی جماعتوں کی مضبوط بنیاد ہی سے اٹھتی ہیں۔ صنعتی دور ان پڑھ کو مزدوری دے دیتا تھا؛ علمی دور اسے دہلیز پر بھی کھڑا نہیں ہونے دے گا۔ گویا آج کا ہر بند اسکول کل کی معیشت پر لکھا ہوا قرض ہے، جو سود سمیت اسی قوم سے وصول ہوگا۔

نوحہ گری آسان ہے، نشان دہی مشکل؛ مگر اس بحران کا علاج نہ ناممکن ہے نہ نامعلوم۔

پہلی بات یہ کہ انضمام کے فیصلے کلہاڑی سے نہیں، قلمِ جراح سے ہوں۔ جہاں دو اسکولوں کا ملنا واقعی ناگزیر ہو وہاں بھی حقِ تعلیم قانون کے فاصلاتی اصول کی پابندی، بچوں کے لیے آمد و رفت کا مفت انتظام اور بستی کی رائے شماری لازمی شرط بنے۔ کون سا اسکول کیوں بند ہوا، کتنے بچے کہاں منتقل ہوئے اور کتنے راستے ہی میں رہ گئے — یہ سارا حساب عوامی دستاویز کی صورت سامنے آئے، کیوں کہ جو فیصلہ اندھیرے میں ہو اس پر اعتماد اجالے میں نہیں پنپتا۔

دوسری اور فیصلہ کن بات معلم کی بازیابی ہے: خالی اسامیاں مہم کی صورت پُر ہوں، غیر تدریسی ڈیوٹیوں کا بار معلم کے کندھے سے اتار کر الگ عملے کو سونپا جائے، اور تربیت رسمی خانہ پری کے بجائے مسلسل پیشہ ورانہ ارتقا کا ذریعہ بنے۔

تیسری بات ڈھانچے کی اصلاح ہے: اہرام کو استوانہ بنانے کی تجویز پر عمل ہو اور جامع اسکول اس طرح قائم ہوں کہ بچی پہلی جماعت میں جس دہلیز سے داخل ہو، بارہویں کی سند بھی اسی دہلیز سے لے۔ چوتھی بات بستی کی شراکت ہے: اسکول انتظامی کمیٹیوں کو اختیار اور تربیت دونوں ملیں، پرانے شاگرد اور مقامی اہلِ خیر اپنے مکتب کی سرپرستی کو اعزاز سمجھیں — کیوں کہ جس اسکول کو بستی اپنا سمجھ لے، اسے بند کرنے کی جرأت کوئی دفتر نہیں کر سکتا۔

اور آخری بات سب سے بنیادی ہے: سرکاری اسکول کو ترس کا نہیں، رشک کا ادارہ بنانا۔ اس کی پہلی سیڑھی مالی ہے — تعلیم پر خرچ کو کوٹھاری کمیشن کے بتائے ہوئے چھ فیصد کے ہدف کی طرف سنجیدگی سے بڑھانا۔ دوسری سیڑھی تعلیمی ہے — بنیادی جماعتوں میں مادری زبان کی مضبوط بنیاد اور اس کے ساتھ انگریزی کی ایسی مؤثر تدریس کہ والدین کو یہ نہ لگے کہ سرکاری دروازہ چننے کا مطلب اپنے بچے کے لیے کوئی دروازہ بند کرنا ہے۔ اور تیسری سیڑھی علامتی مگر گہری ہے — وہ دن جب کلکٹر کی بیٹی اور معلم کا بیٹا محلے کے سرکاری اسکول میں داخل ہوں، اشتہاروں کے کروڑوں روپے جو کام نہیں کر سکتے، وہ کام اس ایک داخلے کی خبر کر دے گی۔ اعتماد تقریروں سے نہیں لوٹتا؛ قدموں سے گیا ہے، قدموں ہی سے لوٹے گا۔

بجھتے چراغوں کی طرف لوٹنا ہوگا

یہ مضمون ایک قفل سے شروع ہوا تھا؛ اسے ایک کنجی پر ختم ہونا چاہیے۔ ہم نے دیکھا کہ چورانوے ہزار بند دروازوں کے پیچھے صرف گھٹتی آبادی نہیں، ٹوٹتا اعتماد ہے؛ صرف انضمام کی مصلحت نہیں، ترجیحات کا زوال ہے؛ اور صرف آج کی سہولت کا سوال نہیں، کل کے ہندوستان کی صورت گری کا فیصلہ ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اس مرض کی دوا کسی انہونی ایجاد کی محتاج نہیں: معلم کو وقار، بستی کو شراکت، فیصلے کو شفافیت اور خزانے کو انصاف — یہی چار حرف اس کنجی کے دندانے ہیں۔

قوموں کی عظمت ان عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی جو وہ تعمیر کرتی ہیں، بلکہ ان دروازوں سے ناپی جاتی ہے جو وہ اپنے کمزور ترین بچے کے لیے کھلے رکھتی ہیں۔ زمین اب بھی وہی ہے جس نے کبھی ہر بستی میں ایک مکتب اگایا تھا؛ پیاس اب بھی وہی ہے جو مزدور کو اپنی آدھی کمائی فیس میں لٹانے پر آمادہ کر دیتی ہے۔ کمی صرف اس نم کی ہے جو ارادے سے ٹپکتی ہے:

آج بھی ہر شام پچیس چراغ بجھتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے، چراغ بجھنے سے روشنی کی ضرورت ختم نہیں ہوتی، صرف اندھیرا بڑھتا ہے۔ اور تاریخ کا انصاف بڑا بے رحم ہے: جو دروازے ہم آج اپنے ہاتھوں بند کر رہے ہیں، کل انھی دروازوں کے آگے ہماری نسلیں دستک دیں گی — اور اس دستک کا جواب دینے کے لیے اندر کوئی نہ ہوگا۔ ابھی وقت ہے کہ قفل کھولے جائیں، گھنٹیاں بحال ہوں اور ہر بستی کا مکتب پھر وہی بن جائے جو وہ صدیوں سے تھا: زمین پر امید کا سب سے سستا اور سب سے سچا چراغ۔