بستے میں رکھا آخری خط

نوعمر خودکشیوں کا بڑھتا المیہ — اسباب کی بازیافت، ذمہ داریوں کا تعین اور امید کی تلاش

ڈاکٹر اسد اللہ خان

اُس شام دہلی کے ایک گھر میں بستہ کھلا تو اس میں سے نصاب کی کتابیں نکلیں، آدھی لکھی ہوئی کاپیاں نکلیں، اور ایک ایسا خط برآمد ہوا جو کسی نصاب کا حصہ نہیں تھا۔ سولہ برس کے بچے نے ماں باپ سے معافی مانگی تھی اور اپنی آخری خواہش کے طور پر صرف اتنا لکھا تھا کہ جو کچھ اس پر گزری، وہ کسی اور بچے پر نہ گزرے۔ یہ سطریں کسی امتحان کا جواب نہیں تھیں؛ یہ ہمارے پورے تعلیمی، خاندانی اور سماجی نظام کے نام لکھا گیا سوال تھا۔ المیہ یہ ہے کہ سوال لکھنے والا جواب سننے کے لیے موجود نہیں رہا، اور جواب دینے والے ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے کہ مخاطب کون ہے۔

میں نے بستوں کے ہزاروں رنگ دیکھے ہیں،کسی میں ادھوری نظمیں، کسی میں چھپا کر رکھی گئی کہانیوں کی کتاب، کسی میں ماں سے چرا کر رکھا گیا خشک نان۔ مگر جس نسل کے بستوں سے الوداعی خط نکلنے لگیں، اُس نسل کے معلّموں اور والدین کو راتوں کی نیند پر شرمندہ ہونا چاہیے۔ یہ مضمون اسی شرمندگی سے پھوٹا ہے — ماتم کے لیے نہیں، محاسبے اور مداوے کے لیے۔

تین شہر، تین بجھے ہوئے چراغ

نومبر ۲۰۲۵ء کے ایک ہی ہفتے نے ملک کے تین مختلف خطوں سے تین جنازے اٹھوائے۔ دہلی کے ایک مشہور مشنری اسکول کا دسویں جماعت کا طالب علم، جو اپنے ڈراما کلب میں اداکاری کے خواب دیکھتا تھا اور دوستوں سے کہا کرتا تھا کہ ایک دن وہ اپنے اسکول کا شاہ رخ خان بنے گا، اساتذہ کی مسلسل تحقیر اور تضحیک سے ٹوٹ کر دنیا چھوڑ گیا۔ اس کے رخصتی نامے میں اُن اساتذہ کے نام درج تھے جن کے طنز کے نشتر برسوں اس کے وجود پر چلتے رہے۔ ایف آئی آر درج ہوئی، چار ملازمین معطل ہوئے، والدین سڑکوں پر انصاف مانگتے رہے — مگر جو چلا گیا، وہ کسی تفتیش سے واپس نہیں آتا۔

جے پور کے مشہور نیرجا مودی اسکول میں چوتھی جماعت کی نو سالہ طالبہ امائرہ مینا ڈیڑھ برس تک اپنے ہم جماعتوں کی اُس بدزبانی کا نشانہ بنتی رہی جس میں جنسی اشاروں کی آمیزش تھی۔ والدین کے بقول انہوں نے بارہا اسکول سے شکایت کی، مگر شنوائی نہ ہوئی — اور یکم نومبر ۲۰۲۵ء کی صبح یہ بچی اپنے گھر والوں سے ہمیشہ کے لیے چھن گئی۔ نو برس — یہ وہ عمر ہے جب بچہ ابھی پہاڑے یاد کر رہا ہوتا ہے؛ اس عمر میں زندگی سے دستبرداری کا فیصلہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر تازیانہ ہے۔ اس مقدمے کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا، کیونکہ یہ اِس وقت پورے ملک کی عدالتِ ضمیر میں زیرِ سماعت ہے۔ اور مہاراشٹر کے ضلع جالنہ میں آٹھویں جماعت کی تیرہ سالہ بچی اپنے ہی اسکول کی عمارت سے زندگی کا رشتہ توڑ گئی؛ اہلِ خانہ اساتذہ کے رویّے پر انگلی اٹھاتے رہے اور تفتیش سوالوں کے گرد گھومتی رہی۔

تین شہر، تین عمریں، تین مختلف اسباب — مگر تینوں واقعات میں ایک قدر مشترک ہے: ہر بچے نے مرنے سے پہلے کسی نہ کسی صورت مدد مانگی تھی۔ کسی نے والدین سے کہا، کسی نے دوستوں سے، کسی کے والدین نے اسکول کے دروازے کھٹکھٹائے۔ ہر دروازہ یا تو بند ملا یا اس کے پیچھے بیٹھے لوگ سننے کے آداب بھول چکے تھے۔ نوعمر خودکشی دراصل اُس چیخ کا آخری پڑاؤ ہے جو بہت پہلے سرگوشی کی صورت بلند ہوئی تھی اور جسے ہم نے شرارت، نازک مزاجی یا بہانہ سمجھ کر ٹال دیا تھا۔

قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۲ء میں ملک بھر میں ایک لاکھ ستر ہزار سے زائد افراد نے خودکشی کی، جن میں تیرہ ہزار سے زیادہ — یعنی ہر ساڑھے سات فیصد میں سے ایک — طلبہ تھے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ہر روز اوسطاً پینتیس سے زائد گھروں میں کسی طالب علم کی چارپائی خالی رہ گئی۔۔ انہی اعداد میں دو ہزار دو سو سے زائد اموات براہِ راست امتحان میں ناکامی سے منسوب کی گئیں۔ ۲۰۰۱ء میں طلبہ کی خودکشیوں کی تعداد تقریباً ساڑھے پانچ ہزار تھی؛ دو دہائیوں میں یہ عدد دگنے سے بھی تجاوز کر گیا، اور ۲۰۱۳ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیانی عشرے میں اس میں پینسٹھ فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

یہ اعداد صرف بڑھ نہیں رہے، اپنا مقام بھی بدل رہے ہیں۔ تحقیقی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ طلبہ کی خودکشیاں اب کسانوں کی خودکشیوں سے تجاوز کر چکی ہیں — یعنی جس ملک کا سب سے مشہور المیہ اس کے کھیت تھے، اس کا سب سے بڑا المیہ اب اس کی درسگاہیں بنتی جا رہی ہیں۔ پندرہ سے انتیس برس کے عمری خانے میں خودکشی نوجوان لڑکیوں کی اموات کا سب سے بڑا اور لڑکوں کی اموات کا دوسرا بڑا سبب بن چکی ہے؛ بیماریاں اس دوڑ میں پیچھے رہ گئی ہیں۔ جس سماج میں جوان موت کا سب سے بڑا سبب کوئی وبا نہیں بلکہ مایوسی ہو، اُسے اپنے بخار کی نہیں، اپنی روح کی تشخیص کرانی چاہیے۔

اور یاد رہے کہ یہ صرف وہ اعداد ہیں جو تھانوں کے رجسٹر تک پہنچے۔ بدنامی کے خوف سے چھپائے گئے واقعات، حادثہ قرار دی گئی اموات، اور خودکشی کی وہ ناکام کوششیں جو کبھی گنتی میں نہیں آتیں — ان سب کو ملا لیجیے تو برفانی تودے کا وہ حصہ سامنے آتا ہے جو پانی کے نیچے ہے۔ ہر مکمل خودکشی کے پیچھے ماہرین کے بقول کئی گنا ادھوری کوششیں اور بے شمار خاموش ارادے ہوتے ہیں۔ گویا ہم صرف اس درد کا شمار کر رہے ہیں جو موت تک پہنچ گیا؛ جو درد ابھی جماعتوں میں بیٹھا سانس لے رہا ہے، اس کا کوئی رجسٹر نہیں۔

جے پور کے اس واقعے کو ذرا ٹھہر کر دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ محض ایک المیہ نہیں، ہمارے پورے اسکولی نظام کا ایکسرے ہے۔ یکم نومبر ۲۰۲۵ء کو امائرہ اپنی جماعت میں معمول کے مطابق داخل ہوئی — کیمرے کی آنکھ گواہ ہے کہ اس نے سہیلی کو سلام کیا اور ایک سرگرمی میں حصہ بھی لیا۔ پھر وہی ہوا جو والدین کے بقول ڈیڑھ برس سے ہوتا آ رہا تھا: ہم جماعتوں نے اسے تضحیک کا نشانہ بنایا، اور بچی بار بار اپنی استانی کی طرف بڑھی — التجا کرتی، صفائی دیتی، مدد مانگتی۔ خاندان کا کہنا ہے کہ اُس روز بھی کوئی ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھا۔ تھوڑی دیر بعد یہ بچی، جس کی جماعت زمینی منزل پر تھی، تنہا چوتھی منزل تک جا پہنچی — اور راستے بھر کسی نگرانی، کسی روک ٹوک، کسی پکارنے والی آواز نے اس کا راستہ نہ کاٹا۔ نگرانی کے کیمرے سب کچھ ریکارڈ کرتے رہے؛ افسوس کہ ریکارڈ کرنے والی مشینیں موجود تھیں، دیکھنے والی آنکھیں نہیں۔

پھر وہ سب ہوا جو ایسے سانحوں کے بعد ہمارے ہاں رسم بن چکا ہے: پہلے خاموشی، پھر دباؤ، پھر واقعے کے کوئی پچاس دن بعد دو اساتذہ کی معطلی — احتساب نہیں، احتساب کی نقل۔ مگر اس مقدمے نے رسم توڑ دی، کیونکہ ماں باپ نے تھکنے سے انکار کر دیا۔ سی بی ایس ای کی تحقیقات نے وہ لکھ دیا جو اس مضمون کی مرکزی دلیل ہے: بچی طویل عرصے تک ہراسانی کا نشانہ بنتی رہی، اور اسکول کے شکایتی و مشاورتی نظام بڑی حد تک صرف کاغذ پر زندہ تھے۔ بورڈ نے اسکول کا الحاق منسوخ کیا، ریاستی محکمۂ تعلیم نے مخصوص جماعتوں میں نئے داخلوں پر پابندی لگائی، اور بالآخر پولیس نے اسکول کے مالک، پرنسپل اور کلاس ٹیچر کے خلاف مجرمانہ غفلت کی دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کی۔ خاندان اب بھی مطمئن نہیں۔ اس کا اصرار ہے کہ چائلڈ پروٹیکشن سے متعلق سخت تر قانونی دفعات نظرانداز کی گئیں اور بااثر لوگوں کو بچایا جا رہا ہے؛ وہ عدالتِ عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کر چکا ہے۔

اس مقدمے کی اصل عبرت یہ ہے کہ کٹہرے میں کوئی ایک فرد نہیں، ایک طرزِ انتظام کھڑا ہے۔ داخلے کے وقت جو ادارہ اپنے تشہیری کتابچوں میں ‘مکمل تحفظ’ اور ‘ماہر مشیروں’ کا وعدہ بیچتا ہے، سانحے کے بعد اس کی الماریوں سے صرف فائلیں برآمد ہوتی ہیں۔ انسدادِ ہراسانی کمیٹی کاغذ پر، مشیر کاغذ پر، نگرانی کاغذ پر — اور بچی زمین پر۔ یہ فرق صرف نیرجا مودی اسکول کا نہیں؛ ایمانداری سے پوچھیے تو ملک کے کتنے اداروں میں یہ نظام کاغذ سے اتر کر برآمدوں تک پہنچے ہیں؟ امائرہ کے والدین نے فوٹیج جاری کر کے دراصل ہر اسکول کے سربراہ سے ایک ہی سوال کیا ہے: تمہارے کیمرے تو چل رہے ہیں، مگر کیا کوئی دیکھ بھی رہا ہے؟ اس مقدمے کا فیصلہ جو بھی ہو، اس کی سماعت ہر اسٹاف روم میں ہونی چاہیے۔

سطحی تجزیہ اس بحران کو ‘امتحان کے دباؤ’ کے ایک لفظ میں سمیٹ دیتا ہے، مگر برسو ں کا مشاہدہ گواہ ہے کہ امتحان محض وہ آخری تنکا ہے جو پہلے سے جھکی ہوئی کمر پر گرتا ہے۔ اصل بوجھ کہیں اور سے آتا ہے۔ پہلا بوجھ اُس تعلیمی تصور کا ہے جس نے علم کو مقابلے میں اور مقابلے کو بقا کی جنگ میں بدل دیا۔ جب داخلے کے فارم پر بچے کی پہچان اس کا نام نہیں بلکہ اس کا فیصد بن جائے، تو ہر کم نمبر بچے کو اپنی نفی محسوس ہوتا ہے۔ ہم نے نصاب میں سے حیرت نکال دی، مطالعے میں سے لذت نکال دی، اور جو خلا بچا اسے درجہ بندی سے بھر دیا۔

دوسرا بوجھ تحقیر کی وہ درس گاہی روایت ہے جسے ہم آج بھی تربیت کا نام دیتے ہیں۔ دہلی کے اس بچے کو ڈراما کلب میں ‘اوور ایکٹنگ’ کا طعنہ دیا گیا، گرنے پر سب کے سامنے ہنسی کا نشانہ بنایا گیا، اور روتے ہوئے کہا گیا کہ لڑکے روتے نہیں۔ تادیب اور تذلیل میں وہی فرق ہے جو جراح کے نشتر اور رہزن کے خنجر میں ہے: ایک کاٹتا ہے تاکہ زندگی بچے، دوسرا کاٹتا ہے تاکہ انا جیتے۔ جو معلّم بھری جماعت میں کسی بچے کی توہین کرتا ہے، وہ صرف ایک دل نہیں توڑتا؛ وہ تیس بچوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ کمزور کی تضحیک اختیار والوں کا حق ہے۔

تیسرا بوجھ گھر سے اٹھتا ہے۔ ہماری نسل نے اپنی ادھوری خواہشیں وراثت میں تقسیم کرنے کا انوکھا طریقہ نکالا ہے: باپ جو ڈاکٹر نہ بن سکا، بیٹے کی پیشانی پر نیٹ کا نشان لگا دیتا ہے؛ ماں جس کا خواب افسری تھا، بیٹی کے بچپن کو کوچنگ کے حوالے کر دیتی ہے۔ محبت اور توقع کا فرق مٹ جائے تو گھر بھی ایک امتحان گاہ بن جاتا ہے جہاں بچہ ہر شام اپنے ہونے کا جواز پیش کرتا ہے۔ اس پر رشتہ داروں کا موازنہ، پڑوس کے ٹاپر کی مثالیں اور ‘لوگ کیا کہیں گے’ کی تلوار — بچے کے پاس وہ کون سا گوشہ بچتا ہے جہاں وہ صرف بچہ ہو؟

چوتھا بوجھ نیا ہے اور اسی لیے زیادہ خطرناک ہے: ہتھیلی میں دبی وہ اسکرین جس نے تنہائی کو تماشے میں بدل دیا۔ پچھلی نسلیں ناکام ہوتی تھیں تو محلے کی حد تک؛ آج کا نوجوان اپنی ہر لغزش کو ہزاروں نگاہوں کے سامنے محسوس کرتا ہے۔ سوشل میڈیا نے موازنے کو چوبیس گھنٹے کا کاروبار بنا دیا ہے — ہر لمحہ کوئی نہ کوئی زیادہ کامیاب، زیادہ حسین، زیادہ مقبول نظر آتا ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے بسنے والے گھرانے جزیروں میں بٹ چکے ہیں؛ رابطے بڑھ گئے، تعلق گھٹ گیا۔ جس بچے کے پاس پانچ سو ‘دوست’ ہوں مگر ایک بھی سننے والا کان نہ ہو، وہ ہجوم میں کھڑا صحرا کا مسافر ہے۔

اور ان سب کے نیچے وہ خاموش بنیاد ہے جس پر بات کرنے سے ہم آج بھی کتراتے ہیں: ذہنی صحت کو ہم نے یا تو پاگل پن کا مترادف بنا رکھا ہے یا نخرے کا۔ جس گھر میں بخار کی دوا فوراً آ جاتی ہے، وہاں اداسی کا ذکر کرنے والے بچے کو ‘شکر ادا کرو’ کی تلقین ملتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ درد اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے، اور جب پھوٹتا ہے تو اخبار کی سرخی بن کر۔

نوعمر ذہن کی نازک ساخت

نوعمری کو سمجھے بغیر اس المیے کو سمجھنا ممکن نہیں۔ ماہرینِ نفسیات بتاتے ہیں کہ نوعمر دماغ میں جذبات کا مرکز پوری شدت سے بیدار ہو چکا ہوتا ہے، مگر عواقب پر غور کرنے والا حصہ ابھی تعمیر کے مرحلے میں ہوتا ہے۔ گویا گاڑی کا انجن پوری طاقت سے چل رہا ہے اور بریک ابھی نصب ہو رہے ہیں۔ اسی لیے نوعمری کا دکھ بالغ دکھ سے مختلف ہوتا ہے۔ بالغ آدمی جانتا ہے کہ ہر رات کی صبح ہوتی ہے؛ نوعمر کو ہر رات ابدی محسوس ہوتی ہے۔ آج کی رسوائی اسے ساری عمر کی رسوائی دکھائی دیتی ہے، اور آج کی ناکامی پوری زندگی کا فیصلہ۔

یہی وجہ ہے کہ نوعمر خودکشی اکثر طویل منصوبے سے زیادہ ایک شدید لمحے کا فیصلہ ہوتی ہے — تحقیق گواہ ہے کہ ارادے اور اقدام کے درمیان کا وقفہ بسا اوقات چند منٹوں پر محیط ہوتا ہے۔ اس حقیقت میں خوف بھی ہے اور امید بھی: خوف یہ کہ ایک تلخ جملہ، ایک بھری محفل کی تضحیک، ایک تھپڑ اُس لمحے کو جنم دے سکتا ہے؛ امید یہ کہ اُس لمحے میں موجود ایک ہمدرد آواز، ایک سنبھالنے والا ہاتھ، ایک کھلا دروازہ پوری زندگی بچا سکتا ہے۔ خودکشی کی روک تھام کوئی برسوں کا فلسفہ نہیں، بہت دفعہ صرف اُس ایک لمحے میں موجودگی کا نام ہے۔

اس نفسیات کا ایک اور پہلو شرم کی حساسیت ہے۔ نوعمری وہ زمانہ ہے جب انسان اپنی شناخت ہم عمروں کی آنکھوں میں تلاش کرتا ہے؛ اسی لیے سب کے سامنے کی گئی توہین اس عمر میں زخم نہیں، عضو بریدگی کا درجہ رکھتی ہے۔ اور لڑکوں کے معاملے میں ہم نے اس زخم پر ایک اور پٹی چڑھا دی ہے۔ ‘مرد رویا نہیں کرتے’ کا وہ سبق جو آنسوؤں کا راستہ بند کر کے درد کو اندر کی طرف موڑ دیتا ہے۔ جو غم زبان سے نہیں نکلتا، وہ کسی اور راستے سے نکلتا ہے — کبھی چڑچڑاہٹ بن کر، کبھی گرتے نمبر بن کر، کبھی بند دروازے بن کر، اور بدقسمت گھروں میں الوداعی خط بن کر۔

درسگاہ کا کھویا ہوا منصب

سوال یہ نہیں کہ ہمارے اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؛ سوال یہ ہے کہ ہمارے اسکول کیا بن گئے ہیں۔ درسگاہ کا اصل منصب یہ تھا کہ وہ گھر اور دنیا کے درمیان ایک محفوظ پُل ہو — ایسی جگہ جہاں غلطی سیکھنے کا وسیلہ سمجھی جائے، جرم نہیں۔ ہم نے اس پل کو چھلنی بنا دیا ہے۔ ہر امتحان ایک چھید، ہر درجہ بندی ایک چھید، اور بچے اس چھلنی سے چھن چھن کر ‘کامیاب’ اور ‘ناکام’ کے ڈھیروں میں بٹتے رہتے ہیں۔ جس ادارے کی دیواروں پر صرف ٹاپروں کی تصویریں لگتی ہوں، وہ باقی سیکڑوں بچوں کو روز خاموشی سے بتاتا ہے کہ تمہاری تصویر لگنے کے لائق نہیں۔

مجھے یہ لکھتے ہوئے کوئی تکلف نہیں کہ اس بحران کی ایک بڑی ذمہ داری ہم معلّموں پر ہے۔ معلّم کا لفظ ہر روز نشتر کی طرح چلتا ہے — چاہے تو ناسور چیر کر شفا دے، چاہے تو صحت مند بافت کاٹ کر معذور کر دے۔ میں نے اپنے طویل سفر میں ایسے اساتذہ دیکھے جن کے ایک حوصلہ افزا جملے نے پتھر کو ہیرا بنا دیا، اور ایسے بھی جن کی ایک پھبتی برسوں کسی بچے کے خواب کا تعاقب کرتی رہی۔ افسوس کہ ہمارے تربیتِ اساتذہ کے نصابوں میں سبق کی منصوبہ بندی تو ہے، دلوں کی مرہم بندی نہیں؛ بی ایڈ کی ڈگری ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے مگر یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ٹوٹے ہوئے بچے کی پہچان کیسے ہو اور نفسیاتی ابتدائی طبی امداد کیسے دی جائے۔

تاریخ سے موازنہ کیجیے تو فرق اور نمایاں ہوتا ہے۔ امتحان کل بھی تھے اور سخت تھے؛ اساتذہ کل بھی ڈانٹتے تھے، شاید آج سے زیادہ۔ مگر کل کے بچے کے گرد حفاظتی تہیں موجود تھیں: بھرا پرا گھر، دادی کی کہانی، محلے کا کھیل، مسجد و مکتب کا تعلق، اور سب سے بڑھ کر وہ فرصت جس میں زخم آہستہ آہستہ بھر جاتے تھے۔ آج امتحان وہی ہے مگر تہیں اتر چکی ہیں؛ بچہ ننگی جلد کے ساتھ اسی آگ کے سامنے کھڑا ہے۔ مسئلہ صرف دباؤ کا بڑھنا نہیں، سہاروں کا گرنا ہے — اور تعلیمی پالیسی بناتے وقت ہم دباؤ ناپتے ہیں، سہارے نہیں گنتے۔

عزت کی منڈی میں بچپن

یہ المیہ صرف درسگاہوں کا نہیں، اُس سماجی منڈی کا ہے جس میں ہم نے عزت کے بھاؤ مقرر کر رکھے ہیں۔ ہمارے ہاں بچے کا نمبر خاندان کی ناک بن چکا ہے: نوے فیصد پر مٹھائی بٹتی ہے، ستر فیصد پر فون بند کر دیے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کی محفلوں میں اولاد کے پیکیج پوچھے جاتے ہیں جیسے فصل کا بھاؤ پوچھا جائے۔ کوچنگ کی صنعت نے اس نفسیات کو خوب پہچانا اور خوف کو کاروبار بنا لیا: ‘اب نہیں تو کبھی نہیں’ کے اشتہار، صبح چھ بجے سے رات گیارہ بجے تک کے ٹائم ٹیبل، اور ہاسٹلوں کے وہ کمرے جہاں سے مہینوں گھر کی صرف آواز پہنچتی ہے، خوشبو نہیں۔

اس منڈی کا سب سے بے رحم اصول یہ ہے کہ اس میں صرف ایک ہی سیڑھی تسلیم کی جاتی ہے: ڈاکٹری اور انجینئری کی سیڑھی، اور اب کچھ برسوں سے مقابلہ جاتی ملازمتوں کی۔ حالانکہ زندگی نے کامیابی کے ہزار دروازے کھول رکھے ہیں — فن، دستکاری، تجارت، زراعت، کھیل، ادب، خدمت — مگر ہم نے بچوں کو ایک ہی تنگ دروازے کی طرف ہانک دیا ہے، اور جو اس دروازے سے نہ گزر سکے اسے ناکارہ ٹھہرا دیا ہے۔ جس دہلیز پر ہزاروں کھڑے ہوں اور گزرنے کی جگہ چند سو کے لیے ہو، وہاں کچلے جانا نظام کا حادثہ نہیں، نظام کا نتیجہ ہے۔

فریقوں کی ذمہ داریاں: کون کیا کرے؟

والدین پہلے مخاطب ہیں، کیونکہ بچے کی زندگی کا پہلا اور آخری قلعہ گھر ہے۔ والدین کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے کان بحال کریں۔ بچے سے روز صرف دو سوال — ‘نمبر کتنے آئے’ اور ‘ہوم ورک ہوا’ — پوچھنے والا گھر رفتہ رفتہ دفتر بن جاتا ہے۔ کبھی یہ بھی پوچھیے کہ آج کس بات پر ہنسی آئی، کس بات پر دل دکھا، کون سا دوست روٹھا۔ دوسرا فرض یہ کہ اپنی خواہشوں اور بچے کی صلاحیتوں میں تمیز کریں؛ بچہ آپ کے خوابوں کی تکمیل کا آلہ نہیں، اپنے امکانات کا امین ہے۔ اور تیسرا فرض سب سے کٹھن ہے: بچے کو یقین دلائیے — الفاظ سے بھی اور عمل سے بھی — کہ اس گھر میں اس کی قدر اس کے رزلٹ سے مشروط نہیں۔ جس بچے کو معلوم ہو کہ ناکامی کے بعد بھی دستر خوان پر اس کی جگہ محفوظ ہے، وہ ناکامی سے لڑ لیتا ہے؛ جسے جگہ چھن جانے کا خوف ہو، وہ زندگی سے دستبردار ہو جاتا ہے۔

اساتذہ اور ادارے دوسرا ستون ہیں۔ ہر معلّم کو یہ سادہ سا اصول حرزِ جاں بنانا چاہیے کہ اصلاح تنہائی میں اور تعریف محفل میں کی جاتی ہے۔ درجہ بندی کے اعلانات، رزلٹ کی تشہیر اور کمزور بچوں کی نشان دہی جیسے طریقے فوراً ترک ہونے چاہئیں۔ ادارے اپنے ہاں شکایت کا ایسا خفیہ اور محفوظ راستہ بنائیں جس پر چل کر بچہ بغیر انتقام کے خوف کے اپنی بات کہہ سکے، اور ہر شکایت کا تحریری جواب لازم ہو۔ سالانہ نتائج کی طرح سالانہ ‘ماحول کا جائزہ’ بھی ہو: کتنے بچے خوف میں جیتے ہیں، کتنے اکیلے ہیں، کتنوں کے چہرے بجھے ہوئے ہیں — یہ اعداد فیصد سے زیادہ اہم ہیں۔ اور امائرہ کے مقدمے نے اداروں کو یہ سبق بھی دے دیا ہے کہ حفاظتی نظام کو فائلوں تک محدود رکھنے کی قیمت اب صرف بدنامی نہیں، الحاق کی منسوخی اور مجرمانہ چارج شیٹ بھی ہو سکتی ہے۔

حکومت اور عدلیہ کی سطح پر پیش رفت ہوئی ہے، مگر کاغذ اور کمرۂ جماعت کا فاصلہ ابھی بہت ہے۔ سپریم کورٹ نے جولائی ۲۰۲۵ء میں ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے تمام تعلیمی اداروں اور کوچنگ مراکز کے لیے پندرہ لازمی ہدایات جاری کیں، جن میں سو یا زائد طلبہ والے ہر ادارے میں تربیت یافتہ مشیر (کاؤنسلر) کی تقرری، عملے کی باقاعدہ نفسیاتی تربیت، اور ‘ٹیلی مانس’ جیسی چوبیس گھنٹے کی ہیلپ لائن کی نمایاں تشہیر شامل ہے۔ عدالت نے ایک قومی ٹاسک فورس بھی قائم کی جس نے اس بحران کو محض ذہنی مرض نہیں بلکہ تعلیمی ڈھانچے کی ‘ساختی بیماری’ قرار دیا۔ اب حکومتوں کا امتحان یہ ہے کہ یہ ہدایات معائنہ رپورٹوں کی زینت بنتی ہیں یا واقعی ہر اسکول کے برآمدے تک پہنچتی ہیں۔ کوچنگ صنعت کے اوقات، اشتہارات اور ہاسٹل کے ماحول پر ضابطہ بندی، امتحانی نظام میں مسلسل جائزے کا فروغ، اور اساتذہ کی تربیت میں ذہنی صحت کے لازمی مضمون کی شمولیت — یہ سب ریاست کے کرنے کے کام ہیں۔

میڈیا اور سماج بھی بری الذمہ نہیں۔ خودکشی کی خبر جس سنسنی خیزی سے پیش کی جاتی ہے، وہ ماہرین کے نزدیک مزید کمزور ذہنوں کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے؛ ذمہ دارانہ صحافت واقعے کی تفصیل کے بجائے مدد کے راستے نمایاں کرتی ہے۔ محلے، مساجد، مندر اور سماجی تنظیمیں اپنی سطح پر وہ کام کر سکتی ہیں جو کوئی قانون نہیں کر سکتا: ناکام بچے کے سر پر ہاتھ رکھنا۔ خطبوں اور اجتماعات میں زندگی کی حرمت، مایوسی کے علاج اور والدین کی تربیت کو موضوع بنایا جائے۔ اور خود طلبہ کو یہ سکھایا جائے کہ دوست کی اداسی کو مذاق نہیں، امانت سمجھیں؛ کتنی ہی جانیں محض اس لیے بچ گئیں کہ کسی ہم جماعت نے وقت پر کسی بڑے کو خبر کر دی۔

نوعمر کی موت صرف ایک زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتی؛ یہ کئی زندگیوں کا زلزلہ ہے۔ ماں باپ عمر بھر اُس آخری صبح کو دہراتے رہتے ہیں — کاش اس دن چھٹی کرا لیتے، کاش وہ جملہ نہ کہا ہوتا۔ بہن بھائی ایک ایسے سائے میں جوان ہوتے ہیں جس کا نام گھر میں لینا منع ہو جاتا ہے۔ ہم جماعتوں کے لیے خطرہ اور بھی سنگین ہے: ماہرین اسے سرایت کا اثر کہتے ہیں — ایک واقعہ کمزور دلوں میں دبی سوچ کو راستہ دکھا سکتا ہے، اسی لیے ہر واقعے کے بعد اسکول میں ماہرانہ مداخلت ناگزیر ہوتی ہے۔

اجتماعی سطح پر نقصان کا اندازہ لگانا ہو تو سوچیے کہ جو تیرہ ہزار بچے ایک برس میں گئے، ان میں کتنے معالج، کتنے معلّم، کتنے شاعر، کتنے کاریگر چھپے تھے۔ قومیں اپنے معدنی ذخائر سے نہیں، اپنے نوجوانوں کے حوصلوں سے امیر ہوتی ہیں؛ ہم ہر روز پینتیس چراغ بجھا کر روشن مستقبل کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس سے بھی گہرا نقصان اعتماد کا ہے: جس سماج کے بچے درسگاہ سے ڈرنے لگیں اور والدین اسکول بھیجتے ہوئے دل میں خوف رکھیں، وہاں تعلیم کا پورا رشتہ زہر آلود ہو جاتا ہے۔ خوف کی فضا میں رٹا تو ممکن ہے، تعلیم ممکن نہیں — کیونکہ سیکھنے کے لیے وہ بے فکری چاہیے جو صرف تحفظ کے احساس سے جنم لیتی ہے۔

مرہم کہاں سے آئے گا؟

پہلا قدم کامیابی کی تعریفِ نو ہے۔ گھر، اسکول اور سماج تینوں سطحوں پر یہ بات نصاب سے پہلے پڑھائی جانی چاہیے کہ عزت کے راستے ہزار ہیں اور ہر بچہ اپنی الگ گھڑی پر کھلنے والا پھول ہے۔ داخلوں اور تقریبات میں صرف نمبروں کے تمغے نہیں، خدمت، دیانت، محنت اور ہنر کے اعزازات بھی ہوں۔ دوسرا قدم امتحانی اصلاح ہے: ایک دن کے فیصلہ کن معرکے کے بجائے سال بھر پھیلا ہوا جائزہ، مضامین کے انتخاب میں لچک، اور ناکامی کے بعد دوبارہ اٹھنے کے آسان راستے۔ قومی تعلیمی پالیسی نے اس سمت اشارے کیے ہیں؛ انہیں کاغذ سے کمرۂ جماعت تک لانا ہم سب کا فرض ہے۔

تیسرا قدم ہر اسکول میں سننے والے کانوں کی فراہمی ہے — تربیت یافتہ مشیر جہاں ممکن ہو، اور جہاں وسائل نہ ہوں وہاں کم از کم ہر عملے کا ایک فرد نفسیاتی ابتدائی امداد کی تربیت رکھتا ہو۔ ٹیلی مانس (۱۴۴۱۶) جیسی سرکاری ہیلپ لائنیں ہر نوٹس بورڈ، ہر ڈائری، ہر شناختی کارڈ پر درج ہوں تاکہ آدھی رات کے اندھیرے میں بھی کوئی نمبر روشن رہے۔ چوتھا قدم والدین کی تعلیم ہے: جس طرح ہم بچوں کے لیے اسکول کھولتے ہیں، والدین کے لیے سال میں چند نشستیں رکھی جائیں جن میں نوعمری کی نفسیات، خطرے کی علامات اور بات چیت کے آداب سکھائے جائیں۔ خطرے کی علامات کوئی راز نہیں: بڑھتی تنہائی، نیند اور خوراک کی تبدیلی، پسندیدہ مشاغل سے کنارہ کشی، اپنی چیزیں بانٹ دینا، اور ‘میرے بغیر سب بہتر ہوں گے’ جیسے جملے۔ ایسا کوئی اشارہ ملے تو وعظ نہیں، موجودگی درکار ہوتی ہے — اور بلا تاخیر کسی ماہر سے رجوع۔

اور پانچواں قدم وہ ہے جو کسی بجٹ کا محتاج نہیں: روزمرہ کی زبان کی اصلاح۔ ‘تم سے کچھ نہیں ہو گا’، ‘ڈوب مرو’، ‘فلاں کو دیکھو’ — یہ جملے ہمارے گھروں اور جماعتوں میں اتنے عام ہیں کہ ہمیں ان کا زہر محسوس نہیں ہوتا۔ لفظ معمولی نہیں ہوتے؛ نوعمر ذہن پر یہ قطرہ قطرہ ٹپکتے ہیں اور برسوں میں چٹان کاٹ دیتے ہیں۔ جس دن ہم اپنے بچوں سے وہ لہجہ اختیار کر لیں جو ہم اپنے مہمانوں سے کرتے ہیں، اس دن اس بحران کی آدھی جڑ کٹ جائے گی۔

چراغ بجھنے سے پہلے

اس تحریر کا آغاز ایک بستے سے ہوا تھا؛ اختتام بھی اسی پر ہو۔ ہر صبح کروڑوں بستے کندھوں پر لد کر درسگاہوں کی طرف چلتے ہیں۔ ان میں کتابیں ہیں، کاپیاں ہیں، اور وہ نازک شے بھی جو کسی فہرست میں درج نہیں: بچے کا دل۔ یہ فیصلہ ہر روز ہمارے ہاتھ میں ہوتا ہے کہ شام کو یہ بستہ کیا لے کر لوٹے — سیکھنے کی سرشاری یا تحقیر کا زخم؛ کل کا حوصلہ یا کل سے خوف۔ نظام بدلنے میں برس لگیں گے، مگر لہجہ آج بدلا جا سکتا ہے؛ پالیسی دلی سے آئے گی، مگر شفقت اپنے ہی دل سے برآمد ہوتی ہے۔

ایمان کی نگاہ سے دیکھیے تو ہر بچہ امانت ہے، اور امانت کا حساب ہو گا — نمبروں کا نہیں، اس نگہداشت کا جو ہم نے اس نازک جان کی کی یا نہ کی۔ چالیس برس کے تجربے نے مجھے ایک یقین دیا ہے: کوئی بچہ پیدائشی طور پر جینے سے مایوس نہیں ہوتا؛ مایوسی اسے قسطوں میں سکھائی جاتی ہے — اور جو چیز سکھائی جا سکتی ہے، اس کا بھلایا جانا بھی ممکن ہے۔ ہماری مٹی بانجھ نہیں ہوئی؛ اسے صرف اُس نمی کی حاجت ہے جو شفقت کی آنکھ سے ٹپکتی ہے۔ چراغ ابھی بجھے نہیں، لَو کانپ رہی ہے — اور کانپتی لَو کو ہتھیلی کی اوٹ چاہیے ہوتی ہے، فتویٰ نہیں۔ آئیے، اپنی ہتھیلیاں ان ننھی لووں کے گرد رکھ دیں، اس سے پہلے کہ کسی اور بستے سے کوئی اور آخری خط برآمد ہو۔