Asadullahkhanschool

’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘

’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘ عقیدت سے ذمہ داری تک — ایک لفظ کے فرق میں چھپا پورا عہد نامہ ڈاکٹر اسد اللہ خان زبانیں کبھی کبھی ایک حرف کے فرق میں پوری تاریخ سمو دیتی ہیں۔ ’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘ — بظاہر دونوں ترکیبیں جڑواں معلوم ہوتی ہیں، مگر ان کے درمیان صرف ایک لفظ کا نہیں، ایک پوری سمت کا فاصلہ ہے۔ ’’ہمارے‘‘ کہتے ہی گردن پیچھے مڑتی ہے اور نگاہ ماضی کے اُس روشن دریچے پر جا ٹھہرتی ہے جہاں عقیدت بستی ہے؛ ’’ہم‘‘ کہتے ہی وہی گردن سیدھی ہو جاتی ہے، اور آنکھ حال کے اُس دروازے پر جم جاتی ہے جہاں ذمہ داری دستک دے رہی ہے۔ پہلی ترکیب نسبت ہے، دوسری شناخت؛ پہلی میں ہم کسی کے شاگرد ہیں، دوسری میں کسی کے معمار۔ یہ مضمون انہی دو ترکیبوں کے درمیان پھیلے ہوئے سفر کی روداد ہے — وہ سفر جو ایک شاگرد کی جھکی ہوئی نظر سے شروع ہوتا ہے اور ایک معلم کے بوجھل کندھوں پر آ کر ٹھہرتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں سے تعلیم کے مستقبل کا راستہ نکلتا ہے۔ ’’’’ہمارے‘‘ میں نگاہ ماضی کی طرف مڑتی ہے؛ ’’ہم‘‘ میں ذمہ داری حال کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔‘‘ ’’ہمارے اساتذہ‘‘ کہتے ہی حافظے کی الماری سے کچھ چہرے خود بخود اتر آتے ہیں۔ وہ ہستیاں جنہوں نے اُس وقت ہماری انگلی تھامی جب ہمیں قلم تھامنا بھی نہیں آتا تھا۔ ان کے پاس نہ لیپ ٹاپ تھا، نہ سمارٹ بورڈ، نہ تدریسی تربیت کے جدید سرٹیفکیٹ؛ ان کے پاس صرف ایک سرمایہ تھا — خالص خلوص۔ اور تجربہ گواہ ہے کہ خلوص وہ واحد تدریسی وسیلہ ہے جس کا کوئی نعم البدل آج تک ایجاد نہیں ہو سکا۔ ان کا ہدف نصاب کی تکمیل نہیں، شخصیت کی تعمیر تھا۔ وہ سبق کے ساتھ سلیقہ پڑھاتے تھے اور کتاب کے ساتھ کردار۔ ان کی سختی میں بھی شفقت کی آنچ ہوتی تھی؛ ان کی ڈانٹ بگاڑنے کے لیے نہیں، سنوارنے کے لیے اترتی تھی، اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سختی سے نہ بچے بگڑتے تھے، نہ والدین شکایت لے کر آتے تھے۔ راقم اپنی گیارہ برس کی اسکولی تعلیم کی گواہی دے سکتا ہے کہ اس پورے عرصے میں ایک واقعہ بھی ایسا یاد نہیں جس میں کسی استاد کو طلبہ یا والدین کے سامنے جواب دہ ہونا پڑا ہو۔ اچھے اور کم اچھے معلم اُس زمانے میں بھی تھے، مگر تکریم فرداً فرداً نہیں بٹتی تھی؛ وہ ’’استاد‘‘ کے منصب کے ساتھ آتی تھی، اور اس منصب کی چھاؤں میں سب برابر کے شریک تھے۔ اور انہی ہستیوں میں ایک ہستی ایسی بھی تھی جو راقم کے لیے دوہری نسبت رکھتی تھی — خان نصیب اللہ سر، جو ہمارے کلاس ٹیچر بھی تھے، اردو زبان دانی کے استاد بھی، اور میرے والد بھی۔ گھر میں جن کی انگلی تھام کر چلنا سیکھا تھا، جماعت میں انہی کی نگاہ کے سامنے پڑھنا سیکھا؛ گویا میری تربیت کے دونوں کنارے ایک ہی دریا سے سیراب ہوئے۔ جس ڈوب کر وہ نظمیں پڑھتے اور پڑھاتے تھے، وہ منظر دہائیاں گزرنے کے بعد بھی حافظے سے نہیں اترا: ماں کے موضوع پر نظم پڑھاتے تو خود ان کی آنکھیں بھیگ جاتیں، اور پوری جماعت پر ایک ایسی خاموشی اتر آتی جس میں سبق سے زیادہ کچھ اور منتقل ہو رہا ہوتا تھا۔ ہم اسی دن سمجھ گئے تھے کہ شاعری صرف پڑھنے کی نہیں، محسوس کرنے کی چیز ہے — اور یہ کہ جو معلم خود نہ پگھلے، وہ کسی دل کو نہیں پگھلا سکتا۔ غزل کی تشریح کراتے تو معنی کی تہوں میں اتنی گہرائی تک اتر جاتے کہ کلاس روم کی دیواریں غائب ہو جاتیں اور پوری جماعت ان کے ساتھ دنیا جہان کی سیر پر نکل جاتی — کبھی کسی شعر کی رعایت سے تاریخ کا دروازہ کھلتا، کبھی کسی تلمیح سے جغرافیے کا۔ مگر یہی نرم دل معلم نظم و ضبط اور تربیت کے باب میں کسی مصالحت کا روادار نہ تھا؛ وہاں ان کا معیار ایک انچ نہ ہلتا تھا۔ آنکھ میں آنسو اور اصول میں چٹان — نہ جانے وہ کیسی شخصیات تھیں جو ان دو انتہاؤں کو ایک ہی سینے میں سمو لیتی تھیں۔ شاید یہی وہ کیمیا تھی جو نصاب کو تربیت اور تدریس کو تاثیر بنا دیتی تھی۔ آج یہ قلم جس زبان میں رواں ہے، سچ پوچھیے تو وہ زبان انہی کے سبق کی امانت ہے، اور یہ مضمون اس امانت کی ایک قسط سے زیادہ کچھ نہیں۔ آج ہم زندگی کے جس مقام پر بھی کھڑے ہیں، وہ انہی ہستیوں کی سختیوں، دعاؤں اور ان تھک محنت کا ثمر ہے۔ ان کا احسان اتارا نہیں جا سکتا؛ صرف آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ پٹھان سر تاریخ پڑھاتے تھے اور جماعتِ پنجم میں ہمارے کلاس ٹیچر تھے۔ ایک بار بیٹ آفیسر ضمیر صاحب کے معائنے کی خبر آئی تو انہوں نے وہ اہتمام کیا جسے آج کی تدریسی اصطلاح میں شاید حکمتِ عملی کہا جائے: سبق سمجھایا گیا، دہرایا گیا، اور پھر نشستیں اس سلیقے سے ترتیب دی گئیں کہ کچھ ذہین بچے اگلی صفوں میں، کچھ درمیان میں اور کچھ پچھلی بنچوں پر بٹھا دیے گئے — تاکہ معائنہ کرنے والے کی نگاہ جدھر اٹھے، جواب ادھر سے آئے۔ معائنے کے دن ضمیر صاحب کمرۂ جماعت میں داخل ہوئے، ادھر ادھر نظر دوڑائی اور تاریخ کی کتاب اٹھا کر سوالات کرنے لگے۔ ہر گوشے سے بچے اچک اچک کر جواب دے رہے تھے، اور پہلی بنچ پر بیٹھا راقم ہر سوال پر ہاتھ اٹھائے دیتا تھا۔ وہ ہر بار میرا ہاتھ نرمی سے نیچے کر دیتے اور پچھلی نشستوں سے پوچھتے جاتے۔ آخر ہر سوال پر اٹھتا ہوا یہ ہاتھ دیکھ کر انہوں نے مجھے تھاما، باہر لے گئے، اور شفقت سے بازو گردن میں ڈال کر بولے: بہت قابل ہو، پٹھان سر نے سب کچھ پڑھا دیا ہے، چلو بتاؤ — پہلا مغل بادشاہ کون؟ میں نے کہا: بابر۔ اس کا بیٹا؟ ہمایوں۔ اس کا بیٹا؟ اکبر۔ اس کا بیٹا؟ جہانگیر۔ اس کا بیٹا؟ شاہ جہاں۔ اس کا بیٹا؟ اورنگ زیب۔ اور اورنگ زیب کا بیٹا؟ — اب میں خاموش تھا۔ انہوں نے پیار سے گال

’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘ Read More »

چراغِ جستجو کو، اک رہنما چاہیے

چراغِ جستجو کو، اک رہنما چاہیے بچوں کی جستجو اور اساتذہ کے تجربے کے درمیان وہ خاموش پُل، جسے ہم نے پہچاننا چھوڑ دیا از: ڈاکٹر اسداللہ خان تعلیم کے بارے میں ہمارے عہد میں سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال عموماً ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کتنے اسکول قائم ہوئے؟ کتنے بچے داخل ہیں؟ نتائج کا تناسب کیا ہے؟ ڈراپ آؤٹ کی شرح کتنی ہے؟ نئی عمارتیں کتنی بنیں؟ کتنی اسمارٹ کلاسیں قائم ہوئیں؟ کتنے ٹیبلیٹ تقسیم ہوئے؟ کتنے پورٹل فعال ہوئے؟ بلاشبہ یہ تمام سوال اپنی جگہ اہم ہیں، کیونکہ کسی بھی تعلیمی نظام کی ظاہری کیفیت کا اندازہ انہی اعداد و شمار سے لگایا جاتا ہے۔ لیکن ان تمام سوالوں کے شور میں ایک ایسا سوال خاموشی سے کہیں کھو گیا ہے، جو درحقیقت تعلیم کی روح سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ آخر کلاس روم کے اندر وہ کون سی قوت ہے جو ایک بچے کے اندر سیکھنے کی حقیقی خواہش پیدا کرتی ہے؟ وہ کون سا لمحہ ہے جب معلومات، علم میں ڈھلتی ہے، علم فہم میں تبدیل ہوتا ہے اور فہم، شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے؟ وہ کون سی روشنی ہے جو محض الفاظ کو معنی عطا نہیں کرتی بلکہ انسان کے باطن کو بھی روشن کر دیتی ہے۔ یہ سوال اس لیے کم پوچھا جاتا ہے کہ اس کا جواب کسی چارٹ، کسی گراف یا کسی سرکاری رپورٹ میں نہیں ملتا۔ جس حقیقت کو اعداد میں قید نہ کیا جا سکے، اسے پالیسی کی زبان میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔ حالانکہ تعلیم کی اصل جان انہی غیر مرئی حقیقتوں میں پوشیدہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کی بنیاد نصاب، عمارت، ٹیکنالوجی یا امتحانات پر نہیں، بلکہ ایک ایسے خاموش انسانی رشتے پر قائم ہوتی ہے جو ایک استاد اور اس کے شاگرد کے درمیان اعتماد، احترام، محبت اور رہنمائی کی صورت میں پروان چڑھتا ہے۔ یہی وہ رشتہ ہے جس کے بغیر علم محض معلومات رہ جاتا ہے، چاہے کلاس روم میں جدید ترین اسمارٹ بورڈ نصب ہوں یا مصنوعی ذہانت کی بے شمار سہولتیں موجود ہوں۔ آج کا بچہ شاید انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ باخبر بچہ ہے۔ اس کی انگلیوں کی ایک جنبش اسے تاریخ، جغرافیہ، سائنس، فلسفہ، ادب اور دنیا بھر کے علوم تک چند لمحوں میں پہنچا دیتی ہے۔ کوئی سوال ایسا نہیں جس کا جواب وہ چند سیکنڈ میں تلاش نہ کر سکے، کوئی واقعہ ایسا نہیں جس کی خبر اس تک فوراً نہ پہنچ جائے۔ لیکن ایک بنیادی حقیقت آج بھی اپنی جگہ قائم ہے: معلومات اور سمجھ ایک چیز نہیں ہوتیں۔ یہ دونوں اتنے ہی مختلف ہیں جتنا کسی نقشے کو دیکھ لینا اور واقعی اس سفر سے گزر جانا۔ نقشہ راستہ دکھا سکتا ہے، مگر سفر کا تجربہ نہیں دے سکتا۔ معلومات ذہن بھر سکتی ہیں، مگر بصیرت پیدا نہیں کر سکتیں۔ آج کے بچے کا سب سے بڑا بحران معلومات کی کمی نہیں، بلکہ معلومات کی فراوانی ہے۔ اس کے پاس جواب تو بے شمار ہیں، مگر سوالوں کی ترتیب نہیں۔ اس کے سامنے علم کا ایک وسیع سمندر موجود ہے، مگر سمت دکھانے والا قطب نما کہیں کھو گیا ہے۔ وہ ہر موضوع پر کچھ نہ کچھ جانتا ہے، لیکن یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہے کہ کون سی بات اہم ہے، کون سی غیر ضروری؛ کس اطلاع پر یقین کیا جائے اور کس دعوے کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نئی نسل معلومات کے ایک بے کنار دریا میں تیرنے کے بجائے اس میں بہتی چلی جا رہی ہو۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پانی کم ہے، مسئلہ یہ ہے کہ انہیں تیرنا سکھانے والا کوئی نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک استاد کی موجودگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ معلومات کا انبار انسان کو عالم نہیں بناتا. علم بھی اس وقت تک حکمت میں تبدیل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ ایک صاحبِ بصیرت رہنما موجود نہ ہو۔ حقیقی سمجھ کہاں سے جنم لیتی ہے؟ تعلیمی نفسیات برسوں کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ حقیقی سمجھ — جسے آج Deep Comprehension کہا جاتا ہے — اُس وقت جنم لیتی ہے جب بچہ کسی نئے تصور کو اپنے ذاتی تجربات، اپنے جذبات، اپنے مشاہدات اور اپنی زندگی سے جوڑنے لگتا ہے۔ یہ ربط کسی سرچ انجن، کسی ویڈیو یا کسی الگورتھم کے ذریعے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ ربط ایک ایسے استاد پیدا کرتا ہے جو صرف مضمون نہیں جانتا بلکہ بچے کو بھی جانتا ہے؛ جو صرف سبق نہیں پڑھاتا بلکہ ذہنوں کو پڑھنا بھی جانتا ہے؛ جو بچے کی الجھن کو محسوس کرتا ہے، اس کے سوال کو سمجھتا ہے اور پھر اس کی ذہنی سطح کے مطابق اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسی حقیقت کو معروف ماہرِ تعلیم Lev Vygotsky نے اپنی مشہور نظریاتی تعبیر Zone of Proximal Development میں بیان کیا تھا۔ ان کے نزدیک ہر بچہ اپنی موجودہ صلاحیت سے کچھ آگے بڑھنے کی استعداد رکھتا ہے، لیکن اس اگلے مرحلے تک پہنچنے کے لیے اسے ایک ایسے رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں تک لے جائے جہاں وہ اکیلا نہیں پہنچ سکتا۔ وہ رہنما کوئی اسکرین نہیں ہوتا، کوئی الگورتھم نہیں ہوتا، کوئی مصنوعی ذہانت نہیں ہوتی — وہ ایک حساس، باشعور، صاحبِ تجربہ اور انسان دوست استاد ہوتا ہے۔ اسی لیے شاید آج کے تعلیمی منظرنامے کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ بچوں کے ہاتھوں میں کتنی معلومات موجود ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان معلومات کے اس بے کنار سمندر میں ان کی رہنمائی کون کر رہا ہے؟ استاذ کا تجربہ ،وہ خاموش علم جو کتاب میں نہیں ملتا، یہ تجربہ کوئی سند نہیں جسے دیوار پر آویزاں کر دیا جائے، نہ یہ کسی ورکشاپ کا سرٹیفکیٹ ہے اور نہ چند روزہ تربیتی کورس کا حاصل۔ حقیقی تجربہ برسوں کی مسلسل تدریس، سیکڑوں بچوں کی نفسیات کو سمجھنے، ہزاروں سوالوں کا سامنا کرنے، بے شمار ناکامیوں سے سیکھنے اور ہر روز اپنے آپ کو بہتر بنانے کے عمل سے جنم لیتا ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جسے نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ چند مہینوں میں حاصل

چراغِ جستجو کو، اک رہنما چاہیے Read More »

जब स्कूल ही नाकाम तो बच्चे कैसे होंगे कामयाब?

डॉ. असदुल्लाह ख़ान मकसद, जिम्मेदारी और समाधान की तलाश   एक पुराना रोना, एक नया ज़ख़्म मेयार-ए-तालीम का रोना कोई नया तो है नहीं, मनमोहन सिंह भी रो चुके और कपिल सिब्बल भी, लेकिन अभी फ़र्क़ नहीं पड़ा। शायद इसी लिए अब यह कहा जाने लगा है कि मौक़ा बह मौक़ा इस उनवान पर मातम ज़रूरी हो जाता है। बात ख़ुदा लगती है — हमारे उर्दू स्कूलों का इन्तिज़ामिया हो कि असातिज़ा, बस इसी ज़ेम में जिए जा रहे हैं कि अपने यहाँ तो सब ठीक ठाक है। मेयार के झंझट में कौन पड़े? हमारे तो सभी स्कूल मेयारी हैं। जब कि आलम यह है कि मेयारी स्कूल की कसौटी पर परखे जाएँ तो चंद एक को छोड़ कर बेशतर स्कूल किसी शुमार क़तार में ही नहीं। और हद तो यह है कि उन्हें ख़बर भी नहीं कि अच्छे स्कूल के लिए पैमाने क्या हैं — और जानने की कोई तड़प भी नहीं। शहर के मशहूर अंग्रेज़ी अख़बार में छपी इस ख़बर ने ज़ी शऊर और बेदार शहरियों को झंझोड़ कर रख दिया: रवाँ तालीमी साल में मुंबई के स्कूलों की सालाना जाँच में एक तिहाई से ज़ाइद स्कूल नाकाम रहे। महाराष्ट्र स्टेट बोर्ड की जानिब से ३२२८ स्कूलों में से सिर्फ़ ३८९ स्कूल ही दर्जा A से कामयाब क़रार दिए गए — यानी महज़ १३ फ़ीसद। यह अदाद-ओ-शुमार कोई मामूली तशवीश नहीं, यह हमारे पूरे तालीमी ढाँचे पर एक फ़र्द-ए-जुर्म है। अफ़सोस कि उर्दू हल्क़ों में इस ख़बर की बाज़गश्त भी नहीं सुनी गई। हमें तो एह्तिसाब करते रहने की पुरानी बीमारी है। इसी लिए आईना पोंछने के बजाए हम अपने चेहरे के धब्बों की ख़बर लेने में दिलचस्पी रखते हैं।   २००९ء से २०२६ء तक — क्या बदला, क्या नहीं बदला? वक़्त गुज़रा, साल बदले, हुकूमतें आईं और गईं… मगर स्कूल के दरवाज़े पर वही पुराना सवाल खड़ा है जब २००९ء में यह ख़बर शाइअ हुई कि मुंबई के ३२२८ स्कूलों में से सिर्फ़ ३८९ यानी महज़ १३ फ़ीसद स्कूल A ग्रेड से कामयाब हुए, तो यह एक धचका था — एक तकलीफ़देह आईना जिस में हम ने अपना चेहरा देखने से मुँह मोड़ लिया। उस वक़्त सोचा गया कि शायद एक नस्ल में हालात बदल जाएँगे। अब पंद्रह साल बाद, २०२६ء में, आईए देखते हैं कि क्या वाक़ई कोई बुनियादी तब्दीली आई — या बस काग़ज़ात पर अदाद बदले? पंद्रह साल बाद UDISE+ 2024-25 और ASER 2024 की रिपोर्टें हमारे सामने हैं। आईए आठ अहम पैमानों पर ईमानदारी से देखते हैं — क्या बदला, क्या वही रहा, और क्या अब भी बुह्रान है।   १. स्कूलों का मेयार — निज़ाम-ए-जाँच बदला ज़रूर है लेकिन तालीमी मेयार का बुह्रान अपनी जगह बरक़रार है!!! २००९ء में महाराष्ट्र स्टेट बोर्ड की इस जाँच ने मुंबई के स्कूलों की दर्जाबंदी की थी — और नतीजा सब के सामने था: सिर्फ़ १३ फ़ीसद स्कूल A ग्रेड के क़ाबिल। यह अदाद एक निज़ाम की नाकामी का एतिराफ़ थे। अब २०२४-२५ء में सूरतहाल यह है कि वह पुराना A/B/C/D/E दर्जाबंदी का निज़ाम अब मौजूद नहीं — UDISE+ ने स्कूलों की जाँच का पूरा तरीक़ा-ए-कार बदल दिया है। अब स्कूलों को उन के इन्फ़्रा इस्ट्रक्चर, दाख़िले, असातिज़ा की तादाद और डिजिटल सहूलियात की बुनियाद पर Online Report Card मिलता है। बज़ाहिर यह तब्दीली बेहतरी की अलामत है — मगर सवाल वही है कि क्या निज़ाम बदलने से हक़ीक़त बदली? दुख की बात यह है कि ASER 2024 की रिपोर्ट, जो लाखों बच्चों पर ज़मीनी सर्वे के बाद बनाई गई, बताती है कि बच्चों की सीखने की सलाहियत अभी भी एक बड़ा मसला है। तीसरी जमाअत के ७६.६ फ़ीसद बच्चे दूसरी जमाअत का मतन नहीं पढ़ सकते। यानी स्कूल का कार्ड बदल गया — बच्चे का नतीजा नहीं बदला।   २. बैत-उल-ख़ला की दस्तयाबी में कुछ बेहतरी हुई मगर वह नामुकम्मल है — सफ़ाई का सवाल जोंका तोंका मुँह पहाड़े खड़ा है। २००९ء में मुल्क के स्कूलों में बैत-उल-ख़ला की दस्तयाबी ६३ फ़ीसद से भी कम थी — और जो थे वह अक्सर नाक़ाबिल-ए-इस्तेमाल। यह वह वक़्त था जब लड़कियाँ सिर्फ़ इस लिए स्कूल छोड़ देती थीं कि बुलूग़त के बाद उन की बुनियादी ज़रूरत का कोई इन्तिज़ाम न था। अब UDISE+ 2024-25 के मुताबिक़ ९८.६ फ़ीसद स्कूलों में बैत-उल-ख़ला मौजूद है — यह वाक़ई एक क़ाबिल-ए-ज़िक्र पेशरफ़्त है। मगर अदाद की तह में उतरते हैं तो पता चलता है कि “मौजूद होना” और “क़ाबिल-ए-इस्तेमाल होना” दो अलग चीज़ें हैं। ASER 2024 बताती है कि २०२४ء में सिर्फ़ ७२ फ़ीसद स्कूलों में लड़कियों के लिए काम करने वाला और साफ़ बैत-उल-ख़ला मौजूद था — यानी २६ फ़ीसद में बैत-उल-ख़ला था ही नहीं या बंद पड़ा था। दीवार और दरवाज़ा लग गया — सफ़ाई और देखभाल नहीं आई। और सब से अहम बात: Swachh Bharat Mission के तहत अरब रुपए ख़र्च हुए — मगर वह लड़कियाँ जो आज भी नाक़ाबिल-ए-इस्तेमाल बैत-उल-ख़ला की वजह से परेशान होती हैं, उन्हें काग़ज़ी अदाद से कोई फ़र्क़ नहीं पड़ता। बेहतरी अधूरी है मगर सफ़ाई और देखभाल का मसला अब भी बाक़ी है।   ३. कहीं कहीं नल मौजूद लेकिन पीने का पानी नदारद है। २००९ء में पीने के साफ़ पानी की सहूलियत स्कूलों में बड़े पैमाने पर ग़ैर मौजूद थी। बच्चे घर से पानी लाते थे, गर्मियों में प्यासे रहते थे, और बेहोशी के वाक़यात कोई नादर बात न थे। अब UDISE+ 2024-25 का दावा है कि ९९ फ़ीसद स्कूलों में पीने का पानी दस्तयाब है — यह अदाद काग़ज़ों पर इन्क़िलाब है। मगर यहाँ भी वही सवाल: “दस्तयाब” की तारीफ़ क्या है? क्या पानी साफ़ है? क्या रोज़ाना मिलता है? क्या बर्तन साफ़ हैं? बहुत से स्कूलों में नल लगा है मगर पानी नहीं आता, या आता है तो आलूदा आता है। ASER 2024 ने पीने के पानी की दस्तयाबी ७७.७ फ़ीसद दर्ज की — यानी काग़ज़ों के ९९ फ़ीसद और ज़मीनी हक़ीक़त के ७७.७ फ़ीसद के दरमियान २१ फ़ीसद का फ़र्क़ है। यह फ़र्क़ ही असल कहानी है। यह ज़ाहिरी बेहतरी है मगर काग़ज़ और ज़मीन के दरमियान का फ़र्क़ ख़तरनाक है।   ४. स्कूलों में कंप्यूटर और इंटरनेट के मामले में बड़ी पेशरफ़्त हुई है — लेकिन तस्वीर अब भी नामुकम्मल है। २००९ء में कंप्यूटर का तसव्वुर

जब स्कूल ही नाकाम तो बच्चे कैसे होंगे कामयाब? Read More »

جب اسکول ہی ناکام تو بچے کیسے ہوں گے کامیاب؟

ڈاکٹر اسد اللہ خان ایک پرانا رونا، ایک نیا زخم معیارِ تعلیم کا رونا کوئی نیا تو ہے نہیں، منموہن سنگھ بھی رو چکے اور کپل سبّل بھی، لیکن ابھی فرق نہیں پڑا۔ شاید اسی لیے اب یہ کہا جانے لگا ہے کہ موقع بہ موقع اس عنوان پر ماتم ضروری ہو جاتا ہے۔ بات خدا لگتی ہے — ہمارے اردو اسکولوں کا انتظامیہ ہو کہ اساتذہ، بس اسی زعم میں جیے جا رہے ہیں کہ اپنے یہاں تو سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ معیار کے جھنجھٹ میں کون پڑے؟ ہمارے تو سبھی اسکول معیاری ہیں۔ جب کہ عالم یہ ہے کہ معیاری اسکول کی کسوٹی پر پرکھے جائیں تو چند ایک کو چھوڑ کر بیشتر اسکول کسی شمار قطار میں ہی نہیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ انہیں خبر بھی نہیں کہ اچھے اسکول کے لیے پیمانے کیا ہیں — اور جاننے کی کوئی تڑپ بھی نہیں۔ شہر کے مشہور انگریزی اخبار میں چھپی اس خبر نے ذی شعور اور بیدار شہریوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا: رواں تعلیمی سال میں ممبئی کے اسکولوں کی سالانہ جانچ میں ایک تہائی سے زائد اسکول ناکام رہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کی جانب سے ۳۲۲۸ اسکولوں میں سے صرف ۳۸۹ اسکول ہی درجہ A سے کامیاب قرار دیے گئے — یعنی محض ۱۳ فیصد۔ یہ اعداد و شمار کوئی معمولی تشویش نہیں، یہ ہمارے پورے تعلیمی ڈھانچے پر ایک فرد جرم ہے۔ افسوس کہ اردو حلقوں میں اس خبر کی بازگشت بھی نہیں سنی گئی۔ ہمیں تو احتساب کرتے رہنے کی پرانی بیماری ہے۔ اسی لیے آئینہ پونچھنے کے بجائے ہم اپنے چہرے کے دھبوں کی خبر لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۶ء تک — کیا بدلا، کیا نہیں بدلا؟ وقت گزرا، سال بدلے، حکومتیں آئیں اور گئیں۔۔۔مگر اسکول کے دروازے پر وہی پرانا سوال کھڑا ہے جب ۲۰۰۹ء میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ممبئی کے ۳۲۲۸ اسکولوں میں سے صرف ۳۸۹ یعنی محض ۱۳ فیصد اسکول A گریڈ سے کامیاب ہوئے، تو یہ ایک دھچکا تھا — ایک تکلیف دہ آئینہ جس میں ہم نے اپنا چہرہ دیکھنے سے منہ موڑ لیا۔ اس وقت سوچا گیا کہ شاید ایک نسل میں حالات بدل جائیں گے۔ اب پندرہ سال بعد، ۲۰۲۶ء میں، آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی کوئی بنیادی تبدیلی آئی — یا بس کاغذات پر اعداد بدلے؟ پندرہ سال بعد UDISE+ 2024-25 اور ASER 2024 کی رپورٹیں ہمارے سامنے ہیں۔ آئیے آٹھ اہم پیمانوں پر ایمانداری سے دیکھتے ہیں — کیا بدلا، کیا وہی رہا، اور کیا اب بھی بحران ہے۔ ۱۔ اسکولوں کا معیار — نظامِ جانچ بدلا ضرور ہے لیکن تعلیمی معیار کا بحران اپنی جگہ برقرار ہے!!! ۲۰۰۹ء میں مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کی اس جانچ نے ممبئی کے اسکولوں کی درجہ بندی کی تھی — اور نتیجہ سب کے سامنے تھا: صرف ۱۳ فیصد اسکول A گریڈ کے قابل۔ یہ اعداد ایک نظام کی ناکامی کا اعتراف تھے۔ اب ۲۰۲۴-۲۵ء میں صورتحال یہ ہے کہ وہ پرانا A/B/C/D/E درجہ بندی کا نظام اب موجود نہیں — UDISE+ نے اسکولوں کی جانچ کا پورا طریقہ کار بدل دیا ہے۔ اب اسکولوں کو ان کے انفرا اسٹرکچر، داخلے، اساتذہ کی تعداد اور ڈیجیٹل سہولیات کی بنیاد پر Online Report Card ملتا ہے۔ بظاہر یہ تبدیلی بہتری کی علامت ہے مگر سوال وہی ہے کہ کیا نظام بدلنے سے حقیقت بدلی؟ دکھ کی بات یہ ہے کہ ASER 2024 کی رپورٹ ، جو لاکھوں بچوں پر زمینی سروے کے بعد بنائی گئی ، بتاتی ہے کہ بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تیسری جماعت کے ۷۶.۶ فیصد بچے دوسری جماعت کا متن نہیں پڑھ سکتے۔ یعنی اسکول کا کارڈ بدل گیا ، بچے کا نتیجہ نہیں بدلا۔ ۲۔ بیت الخلاء کی دستیابی میں کچھ بہتری ہوئی مگر وہ نامکمل ہے ، صفائی کا سوال جوں کا توں منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ ۲۰۰۹ء میں ملک کے اسکولوں میں بیت الخلاء کی دستیابی ۶۳ فیصد سے بھی کم تھی — اور جو تھے وہ اکثر ناقابلِ استعمال۔ یہ وہ وقت تھا جب لڑکیاں صرف اس لیے اسکول چھوڑ دیتی تھیں کہ بلوغت کے بعد ان کی بنیادی ضرورت کا کوئی انتظام نہ تھا۔ اب UDISE+ 2024-25 کے مطابق ۹۸.۶ فیصد اسکولوں میں بیت الخلاء موجود ہے — یہ واقعی ایک قابلِ ذکر پیش رفت ہے۔ مگر اعداد کی تہہ میں اترتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ‘موجود ہونا’ اور ‘قابلِ استعمال ہونا’ دو الگ چیزیں ہیں۔ ASER 2024 بتاتی ہے کہ ۲۰۲۴ء میں صرف ۷۲ فیصد اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے کام کرنے والا اور صاف بیت الخلاء موجود تھا — یعنی ۲۶ فیصد میں بیت الخلاء تھا ہی نہیں یا بند پڑا تھا۔ دیوار اور دروازہ لگ گیا، صفائی اور دیکھ بھال نہیں آئی۔ اور سب سے اہم بات: Swachh Bharat Mission کے تحت ارب روپے خرچ ہوئے — مگر وہ لڑکیاں جو آج بھی ناقابلِ استعمال بیت الخلاء کی وجہ سے پریشان ہوتی ہیں، انہیں کاغذی اعداد سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بہتری ادھوری ہے مگر صفائی اور دیکھ بھال کا مسئلہ اب بھی باقی ہے۔ ۳۔ کہیں کہیں نل موجود لیکن پینے کا پانی نداردہے ۔ ۲۰۰۹ء میں پینے کے صاف پانی کی سہولت اسکولوں میں بڑے پیمانے پر غیر موجود تھی۔ بچے گھر سے پانی لاتے تھے، گرمیوں میں پیاسے رہتے تھے، اور بے ہوشی کے واقعات کوئی نادر بات نہ تھے۔اب UDISE+ 2024-25 کا دعویٰ ہے کہ ۹۹ فیصد اسکولوں میں پینے کا پانی دستیاب ہے — یہ اعداد کاغذوں پر انقلاب ہے۔ مگر یہاں بھی وہی سوال: ‘دستیاب’ کی تعریف کیا ہے؟ کیا پانی صاف ہے؟ کیا روزانہ ملتا ہے؟ کیا برتن صاف ہیں؟ بہت سے اسکولوں میں نل لگا ہے مگر پانی نہیں آتا، یا آتا ہے تو آلودہ آتا ہے۔ ASER 2024 نے پینے کے پانی کی دستیابی ۷۷.۷ فیصد درج کی — یعنی کاغذوں کے ۹۹ فیصد اور زمینی حقیقت کے ۷۷.۷ فیصد کے درمیان ۲۱ فیصد کا فرق ہے۔ یہ فرق ہی اصل کہانی ہے۔ یہ ظاہری بہتری ہے مگر کاغذ اور زمین کے درمیان کا فرق خطرناک ہے۔ ۴۔ اسکولوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے معاملے میں بڑی پیش رفت ہوئی

جب اسکول ہی ناکام تو بچے کیسے ہوں گے کامیاب؟ Read More »

उस्ताद: मस्लूब फ़रिश्ता

डॉ۔ असद उल्लाह ख़ान जो मुअल्लिम हो वह मुफ़क्किर हो, जो मुफ़क्किर हो वह आज़ाद हो — और जो आज़ाद न हो वह न ख़ुद जी सकता है न दूसरों को जीना सिखा सकता है हर अहद अपने उस्ताद को एक नए सलीब पर चढ़ाता है। कभी ग़ुरबत की सलीब, कभी ग़ुलामी की, कभी पोर्टल और डेटा की, और कभी अपनी ही ज़ात के ज़वाल की। यह मज़मून दो मुख़्तलिफ़ लम्हों, दो मुख़्तलिफ़ मौसमों और दो मुख़्तलिफ़ कैफ़ियतों में लिखा गया था — एक में उस्ताद मज़लूम था, दूसरे में उस की अपनी ज़िम्मेदारी ज़ेरे-बहस थी। मगर जब दोनों आवाज़ों को एक साथ सुना जाए तो एक ही सच्चाई उभरती है: उस्ताद आज दोहरी चक्की में पिस रहा है — एक तरफ़ निज़ाम उसे ग़ुलाम बनाता है, दूसरी तरफ़ ज़िम्मेदारी का बोझ उसे आज़माइश में डालता है। यह तहरीर इसी दोहरे सच का हिसाब है। बाब अव्वल: हडपसर का सबक़ — जब उस्ताद, प्यून से भी कम था हम पूना में हडपसर के मक़ाम पर एक तालीमी कांफ्रेंस में मदऊ थे। हमें लेने के लिए जो साहब इस्टेशन पर आए, उन के लिबास और अंदाज़ से हरगिज़ यह गुमान न गुज़रा कि वह एक उस्ताद हैं। उन्हों ने हमारा सामान उठाया, बड़ी अक़ीदत से अपने स्कूटर पर बिठाया और जलसा-गाह तक ले आए। कांफ्रेंस के दौरान वह यहाँ वहाँ दौड़ते रहे, मेहमानों के हाथ धुलवाते रहे, और हम ने अपनी आँखों से देखा कि वह प्लेटें धो रहे थे जब कि उन के साथी खाना परोसने में मसरूफ़ थे। कांफ्रेंस में असातिज़ा की ज़िम्मेदारियों पर ख़ूब धुआँ-धार तक़रीरें हुईं, और मेज़बान चेयरमैन को उस दौर के सर सय्यद का ख़िताब दिया गया। हम उसे प्यून ही समझते रहे, यहाँ तक कि वापसी के आधे रास्ते में उन के स्कूटर का पेट्रोल ख़त्म हो गया। दम लेने को हम ने उन्हें चाय की दावत दी, और चाय की चुस्कियों के दौरान जो हक़ायक़ सामने आए, उन्हों ने हमें हैरत के समुन्दर में ग़र्क़ कर दिया। यह दुबला-पतला नौजवान, जिस की तालीमी लियाक़त बी.ए, बी.एड थी, एक मुआविन मुदर्रिस था — मगर इस्कूल में उस की और उस के साथियों की औक़ात प्यून से बदतर थी। कई बरसों से वह इस इस्कूल में मुलाज़िम था, 5-7 हज़ार रुपये माहवार का यह ग़ुलाम इस्कूल के लिए रेती-गारा भी ढो चुका था और दीवारों को रंग-ओ-रोग़न भी कर चुका था। अगर कभी अपना हक़ माँगे तो इस्कूल से निकाल दिया जाए। पूरी तनख़्वाह माँगने की मजाल तो क्या, वह स्कूटर में तेल भरवाने के लिए भी अपने आक़ा के सामने गिड़गिड़ाने पर मजबूर था। शायद यही वजह थी कि रुख़सत होते वक़्त पेट्रोल के पैसे माँगने पर चेयरमैन साहब की अहलिया ने उसे बुरी तरह डाँटा था, और अब वह उसी की सज़ा आधे रास्ते से स्कूटर घसीट कर भुगत रहा था। अपनी बेबसी की दास्तान सुनाते हुए उस की हिचकियाँ बंध गईं। ऐन उसी लम्हे हमारे कानों में कांफ्रेंस के उन मक़ालों की गूँज सुनाई दे रही थी जिन में असातिज़ा को उन की ज़िम्मेदारियों का एहसास दिलाया गया था। यह सिर्फ़ एक हडपसर की कहानी नहीं — यह रियासत भर के बेशतर उर्दू इस्कूलों का नौहा है। मर्दुम-शुमारी हो, सर्वे हो, इलेक्शन की ड्यूटी हो, शनाख़्ती कार्ड बाँटने हों या झोंपड़ों के फ़ोटो पास — हर सरकारी काम इन्हीं के कंधों पर आ कर टिकता है। और जब वह यह ग़ैर-तदरीसी काम करने हफ़्तों, महीनों के लिए जमाअतों से ग़ायब रहते हैं तो इन्हीं जमाअतों का कबाड़ा हो जाता है। नतीजा? खेप की खेप बरबाद। “हम इस्कूल की बुनियाद के पत्थर हैं, हम ने अपने लहू से उसे सींचा है — लेकिन क्या है हमारी औक़ात?” बाब दोम: अहद-ए-जदीद का ग़ुलाम — जब पोर्टल, इज़्ज़त से बड़ा हो गया हडपसर के इस उस्ताद की ज़ंजीर आज भी नहीं टूटी — सिर्फ़ उस की शक्ल बदल गई है। कल वह प्लेटें धो रहा था, आज वह स्क्रीन पर डेटा भर रहा है। कल स्कूटर का पेट्रोल माँगने पर डाँट पड़ती थी, आज GPS लोकेशन न मिलने पर तनख़्वाह रोक ली जाती है। आज हमारे तालीमी निज़ाम का सब से गहरा बहरान निसाब का नहीं, इमारत का नहीं, वसाइल का नहीं — उस्ताद का है। वह उस्ताद जो सदियों से तहज़ीब का अमीन और रूह का मुरब्बी रहा, आज आहिस्ता आहिस्ता एक इंतिज़ामी कारकुन, डेटा ऑपरेटर और पोर्टल मुलाज़िम में तब्दील किया जा रहा है। इस्कूल गर्मियों की छुट्टियों के लिए बंद हो जाते हैं, क्लासरूम ख़ामोश हो जाते हैं, बच्चे आज़ाद हो जाते हैं — मगर उस्ताद आज़ाद नहीं होता। उस के मोबाइल पर पैग़ामात जारी रहते हैं, व्हाट्सऐप ग्रुप्स ज़िंदा रहते हैं, पोर्टल खुले रहते हैं और नए अहकामात किसी भी वक़्त उस का सुकून मंसूख़ कर देते हैं। यही वजह है कि असातिज़ा के लिए आख़िरी पीरियड कभी नहीं आया। यह महज़ टाइम-टेबल का आख़िरी पीरियड नहीं — यह ज़िंदगी का वह वक़्फ़ा है जिस के बाद इंसान को सुकून, ग़ौर-ओ-फ़िक्र और अपने वुजूद की तरफ़ लौटने का मौक़ा मिलता है। जदीद उस्ताद की ज़िंदगी से यह मौक़ा छिन चुका है। अदाद-ओ-शुमार की ज़बान में देखें तो भारत में एक करोड़ से ज़ाइद असातिज़ा तालीमी निज़ाम से वाबस्ता हैं, और उन में से साठ फ़ीसद से ज़्यादा ग़ैर-तदरीसी फ़राइज़ के बोझ तले दबे हैं। एक लाख से ज़ाइद ऐसे इस्कूल हैं जहाँ सिर्फ़ एक उस्ताद, अकेले, पाँच जमाअतों को पढ़ाने, खाना पकवाने, डेटा भरने और मर्दुम-शुमारी करने की ज़िम्मेदारी निभाता है। UDISE+، DIKSHA، MDM، SATS، NISHTHA और ULLAS जैसे दर्जनों पोर्टल्स पर इतना वक़्त सर्फ़ होता है कि हक़ीक़ी तदरीसी वक़्त सिकुड़ता चला जाता है। एक उस्ताद के अल्फ़ाज़ याद रखने के क़ाबिल हैं: शाम चार बजे की घंटी बजती है मगर मैं फिर भी नहीं जाता — अभी पोर्टल बाक़ी है। दिसम्बर 2025 में महाराष्ट्र के वज़ीरे-तालीम ने वज़ीरे-आला को ख़त लिख कर मुतालबा किया कि असातिज़ा को बूथ लेवल ऑफ़िसर और दीगर इंतिख़ाबी कामों से फ़ौरी छुटकारा दिया जाए, क्योंकि तालीमी हक़ के क़ानून की दफ़ा सत्ताईस वाज़ेह कहती है कि उस्ताद का बुनियादी फ़रीज़ा सिर्फ़ तदरीस है। अक्तूबर 2025 में पंजाब के वज़ीरे-तालीम ने भी यही पुकार दोहराई: असातिज़ा सिर्फ़ सरकारी मुलाज़िम नहीं, वह इल्म के परचम-बरदार

उस्ताद: मस्लूब फ़रिश्ता Read More »

استاد: مصلوب فرشتہ

عہدِ حاضر میں معلم کی مظلومیت، مسئولیت اور معراج کا نوحہ اور احتساب نامہ ڈاکٹر اسد اللہ خان جو معلم ہو وہ مفکر ہو، جو مفکر ہو وہ آزاد ہو — اور جو آزاد نہ ہو وہ نہ خود جی سکتا ہے نہ دوسروں کو جینا سکھا سکتا ہے ہر عہد اپنے استاد کو ایک نئے صلیب پر چڑھاتا ہے۔ کبھی غربت کی صلیب، کبھی غلامی کی، کبھی پورٹل اور ڈیٹا کی، اور کبھی اپنی ہی ذات کے زوال کی۔ یہ مضمون دو مختلف لمحوں، دو مختلف موسموں اور دو مختلف کیفیتوں میں لکھا گیا تھا — ایک میں استاد مظلوم تھا، دوسرے میں اس کی اپنی ذمہ داری زیرِ بحث تھی۔ مگر جب دونوں آوازوں کو ایک ساتھ سنا جائے تو ایک ہی سچائی ابھرتی ہے: استاد آج دہری چکی میں پس رہا ہے — ایک طرف نظام اسے غلام بناتا ہے، دوسری طرف ذمہ داری کا بوجھ اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔ یہ تحریر اسی دوہرے سچ کا حساب ہے۔ باب اول: ہڈپسر کا سبق — جب استاد، پیون سے بھی کم تھا ہم پونہ میں ہڈپسر کے مقام پر ایک تعلیمی کانفرنس میں مدعو تھے۔ ہمیں لینے کے لیے جو صاحب اسٹیشن پر آئے، ان کے لباس اور انداز سے ہرگز یہ گمان نہ گزرا کہ وہ ایک استاد ہیں۔ انہوں نے ہمارا سامان اٹھایا، بڑی عقیدت سے اپنے اسکوٹر پر بٹھایا اور جلسہ گاہ تک لے آئے۔ کانفرنس کے دوران وہ یہاں وہاں دوڑتے رہے، مہمانوں کے ہاتھ دھلواتے رہے، اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ پلیٹیں دھو رہے تھے جب کہ ان کے ساتھی کھانا پروسنے میں مصروف تھے۔ کانفرنس میں اساتذہ کی ذمہ داریوں پر خوب دھواں دھار تقریریں ہوئیں، اور میزبان چیئرمین کو اس دور کے سرسید کا خطاب دیا گیا۔ ہم اسے پیون ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ واپسی کے آدھے راستے میں ان کے اسکوٹر کا پیٹرول ختم ہو گیا۔ دم لینے کو ہم نے انہیں چائے کی دعوت دی، اور چائے کی چسکیوں کے دوران جو حقائق سامنے آئے، انہوں نے ہمیں حیرت کے سمندر میں غرق کر دیا۔ یہ دبلا پتلا نوجوان، جس کی تعلیمی لیاقت بی۔اے، بی۔ایڈ تھی، ایک معاون مدرّس تھا — مگر اسکول میں اس کی اور اس کے ساتھیوں کی اوقات پیون سے بدتر تھی۔ کئی برسوں سے وہ اس اسکول میں ملازم تھا، 5-7 ہزار روپے ماہوار کا یہ غلام اسکول کے لیے ریتی گارا بھی ڈھو چکا تھا اور دیواروں کو رنگ و روغن بھی کر چکا تھا۔ اگر کبھی اپنا حق مانگے تو اسکول سے نکال دیا جائے۔ پوری تنخواہ مانگنے کی مجال تو کیا، وہ اسکوٹر میں تیل بھروانے کے لیے بھی اپنے آقا کے سامنے گڑگڑانے پر مجبور تھا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ رخصت ہوتے وقت پیٹرول کے پیسے مانگنے پر چیئرمین صاحب کی اہلیہ نے اسے بری طرح ڈانٹا تھا، اور اب وہ اسی کی سزا آدھے راستے سے اسکوٹر گھسیٹ کر بھگت رہا تھا۔ اپنی بے بسی کی داستان سناتے ہوئے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ عین اسی لمحے ہمارے کانوں میں کانفرنس کے ان مقالوں کی گونج سنائی دے رہی تھی جن میں اساتذہ کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا تھا۔ یہ صرف ایک ہڈپسر کی کہانی نہیں — یہ ریاست بھر کے بیشتر اردو اسکولوں کا نوحہ ہے۔ مردم شماری ہو، سروے ہو، الیکشن کی ڈیوٹی ہو، شناختی کارڈ بانٹنے ہوں یا جھونپڑوں کے فوٹو پاس — ہر سرکاری کام انہی کے کندھوں پر آ کر ٹکتا ہے۔ اور جب وہ یہ غیر تدریسی کام کرنے ہفتوں، مہینوں کے لیے جماعتوں سے غائب رہتے ہیں تو انہی جماعتوں کا کباڑہ ہو جاتا ہے۔ نتیجہ؟ کھیپ کی کھیپ برباد۔ “ہم اسکول کی بنیاد کے پتھر ہیں، ہم نے اپنے لہو سے اسے سینچا ہے — لیکن کیا ہے ہماری اوقات؟” باب دوم: عہدِ جدید کا غلام — جب پورٹل، عزت سے بڑا ہو گیا ہڈپسر کے اس استاد کی زنجیر آج بھی نہیں ٹوٹی — صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ کل وہ پلیٹیں دھو رہا تھا، آج وہ اسکرین پر ڈیٹا بھر رہا ہے۔ کل اسکوٹر کا پیٹرول مانگنے پر ڈانٹ پڑتی تھی، آج GPS لوکیشن نہ ملنے پر تنخواہ روک لی جاتی ہے۔ آج ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے گہرا بحران نصاب کا نہیں، عمارت کا نہیں، وسائل کا نہیں — استاد کا ہے۔ وہ استاد جو صدیوں سے تہذیب کا امین اور روح کا مربی رہا، آج آہستہ آہستہ ایک انتظامی کارکن، ڈیٹا آپریٹر اور پورٹل ملازم میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اسکول گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے بند ہو جاتے ہیں، کلاس روم خاموش ہو جاتے ہیں، بچے آزاد ہو جاتے ہیں — مگر استاد آزاد نہیں ہوتا۔ اس کے موبائل پر پیغامات جاری رہتے ہیں، واٹس ایپ گروپس زندہ رہتے ہیں، پورٹل کھلے رہتے ہیں اور نئے احکامات کسی بھی وقت اس کا سکون منسوخ کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اساتذہ کے لیے آخری پیریڈ کبھی نہیں آیا۔ یہ محض ٹائم ٹیبل کا آخری پیریڈ نہیں — یہ زندگی کا وہ وقفہ ہے جس کے بعد انسان کو سکون، غور و فکر اور اپنے وجود کی طرف لوٹنے کا موقع ملتا ہے۔ جدید استاد کی زندگی سے یہ موقع چھن چکا ہے۔ اعداد و شمار کی زبان میں دیکھیں تو بھارت میں ایک کروڑ سے زائد اساتذہ تعلیمی نظام سے وابستہ ہیں، اور ان میں سے ساٹھ فیصد سے زیادہ غیر تدریسی فرائض کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ایک استاد، اکیلے، پانچ جماعتوں کو پڑھانے، کھانا پکوانے، ڈیٹا بھرنے اور مردم شماری کرنے کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ UDISE+، DIKSHA، MDM، SATS، NISHTHA اور ULLAS جیسے درجنوں پورٹلز پر اتنا وقت صرف ہوتا ہے کہ حقیقی تدریسی وقت سکڑتا چلا جاتا ہے۔ ایک استاد کے الفاظ یاد رکھنے کے قابل ہیں: شام چار بجے کی گھنٹی بجتی ہے مگر میں پھر بھی نہیں جاتا — ابھی پورٹل باقی ہے۔ دسمبر 2025 میں مہاراشٹر کے وزیرِ تعلیم نے وزیرِ اعلیٰ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو بوتھ لیول آفیسر اور دیگر انتخابی کاموں سے فوری چھٹکارا دیا

استاد: مصلوب فرشتہ Read More »

दस्ते-ख़िज़्र से शम्अ-ए-हिदायत ही छिन गई!

इस्तिदाद का क़हत, असातिज़ा की ऑनलाइन तिजारत और नई नस्ल का फ़िक्री क़त्ले-आम डॉ. असदुल्लाह ख़ान इत्तिलाआत व मालूमात का यह धमाका-ख़ेज़ दौर, जहाँ मस्नूई ज़ेहानत इंसानी सोच के मुतबादिल के तौर पर उभर रही है, वहाँ एक ऐसे उस्ताद की ज़रूरत थी जो मादी तरक़्क़ी के इस दौर में नई नस्ल के ज़मीर का निगहबान बनता। क़ौमों की तामीरे-नौ में उस्ताद का वुजूद रीढ़ की हड्डी की मानिंद होता है, क्योंकि उस्ताद सिर्फ़ किताब नहीं पढ़ाता, वह रूह की तराश-ख़राश करता है। कारे-मुअल्लिमी दरअसल कारे-नुबुव्वत है, जिसका मंसब तक़द्दुस और ज़िम्मेदारी का तक़ाज़ा करता है। लेकिन अफ़सोस! आज सन 2026 के हिंदुस्तान में जब हम अपने तालीमी ढाँचे और असातिज़ा की तरबियत के निज़ाम (Teacher Education) पर निगाह डालते हैं, तो रूह काँप उठती है। रहबर ही जब राहज़न बन जाएँ, तो कारवाँ की तबाही का गिला किससे किया जाए? हमने जिस दौर में बी.एड. कॉलेजों की बोलियों का रोना रोया था, वह तो महज़ नक़्द रक़म और चंद हज़ार रुपये की हीरा-फेरी का इब्तिदाई दौर था। आज का दौर तो डिजिटल माफ़िया और इदाराजाती बदउनवानी का वह मुहीब समंदर है जिसने पूरे मुल्क के मुस्तक़बिल को अपनी लपेट में ले लिया है। आज मीडिया की सुर्ख़ियां और अदालतों के फ़ैसले गवाह हैं कि असातिज़ा की तय्यारी से लेकर उनकी तअय्युनाती तक का पूरा निज़ाम कैंसर की आख़िरी स्टेज पर खड़ा है। महाराष्ट्र का (TAIT) और (TET) अभी ज़्यादा अर्सा नहीं गुज़रा जब महाराष्ट्र टीचर्स एलिजिबिलिटी टेस्ट (TET) में हज़ारों ऐसे असातिज़ा के नाम सामने आए जिन्होंने लाखों रुपये की रिशवत देकर कम्प्यूटराइज़्ड रिज़ल्ट शीट्स में अपने नम्बर बढ़वाए। जो उस्ताद ख़ुद एक अहलकार को चाय-पानी के नाम पर रिशवत देकर, या सर्वर हैक करवा कर पास हुआ हो, वह पुणे, नागपुर या मुम्बई के स्कूलों में बैठकर अगली नस्ल को दियानतदारी का क्या सबक़ देगा? उत्तर प्रदेश में असातिज़ा की भर्ती टीचर भर्ती के इम्तिहानात और बिहार के बीपीएससी टीचर इम्तिहानात के दौरान ब्लूटूथ डिवाइसेस, सॉल्वर गैंग्स (Solver Gangs) और पेपर लीक के जो शर्मनाक वाक़िआत सामने आए, उन्होंने मेरिट का जनाज़ा निकाल दिया। दसवीं जमाअत की किताब का दुरुस्त तलफ़्फ़ुज़ न कर पाने वाले, और ब्लैकबोर्ड पर अंग्रेज़ी में एजुकेशन की हिज्जे ग़लत लिखने वाले लोग लाखों रुपये की बोली लगाकर स्कूलों में ‘मुस्तक़्बिल के मेमार’ बनकर बैठ गए। बी.एड. और एम.एड. कालिजेस अब तालीमगाहें नहीं, शादी हॉलों की तरह नफ़ा-बख़्श कारोबार हैं। नेशनल काउंसिल फॉर टीचर एजुकेशन और यूनिवर्सिटियों की जो मुआइना टीमें आती हैं, उनके लिए फ़ाइव स्टार होटलों में क़ियाम और डिजिटल ट्रांसफ़र्स के ज़रिए पहले ही सब कुछ तय कर दिया जाता है। कालिज में न लाइब्रेरी है, न लेबोरेटरी, न लेसन प्लान का वजूद—बस साल के आख़िर में एक सर्टिफ़ाइड मज़दूर तैयार करके मार्केट में फेंक दिया जाता है। उस्ताद जब ख़ुद इल्म के समन्दर से महरूम हो, तो वह दूसरों की प्यास क्या बुझाएगा? आज जो फ़ौज इन ट्रेनिंग कालिजों से निकल रही है, वह तालीम की ग़ैर-पैदावारी प्रोडक्ट है। यह वह भीड़ है जो किसी और पेशे में जगह न पा सकी, तो आख़िरी हर्बे के तौर पर मुअल्लिमी के मुक़द्दस पेशे में घुस आई। रवायती तालीमी निज़ाम का उस्ताद अपनी ज़ात में एक चलती-फिरती दरसगाह हुआ करता था। उसका अस्ल सरमाया उसका ज़ाती मुताला, किताबों से गहरा तअल्लुक़, लाइब्रेरियों से वाबस्तगी और इल्म के लिए न ख़त्म होने वाली प्यास होती थी। उसकी शख़्सियत में वक़ार, गुफ़्तार में संजीदगी और किरदार में ऐसी पुख़्तगी होती थी जो तुलबा के लिए ख़ुद एक ज़िन्दा नमूना बन जाती थी। उसके नज़दीक तदरीस सिर्फ़ निसाब मुकम्मल करने का नाम नहीं थी, बल्कि वह तालिब-ए-इल्म की शख़्सियत साज़ी, अख़लाक़ी तरबियत, फ़िक्री बालीदगी और किरदार की तामीर को अपनी सबसे बड़ी ज़िम्मेदारी समझता था। इम्तिहानात भी उसके नज़दीक महज़ नम्बर हासिल करने का ज़रिया नहीं थे, बल्कि वह सख़्त मेहनत, गहरी फ़िक्र, अस्ल इल्म और दियानतदाराना जांच के ज़रिए तालिब-ए-इल्म की हक़ीक़ी सलाहियत को परखने का पैमाना होते थे। इसके बरअक्स, जदीद दौर का नाम-निहाद सर्टिफ़ाइड उस्ताद एक ऐसे निज़ाम की पैदावार बनता जा रहा है जहां ख़ुद मुताला तक़रीबन ख़त्म हो चुका है। किताबों की जगह गूगल सर्च, तहक़ीक़ी मुताले की जगह वाट्सएप यूनिवर्सिटी, और इल्मी गुफ़्तगू की जगह सोशल मीडिया के मुख़्तसर क्लिप्स और रील्स ने ले ली है। क्लास रूम, जो कभी इल्म व हिकमत का मरकज़ था, अब बाज़ औक़ात महज़ रस्मी हाज़िरी और वक़्त गुज़ारी का मुक़ाम बनकर रह गया है। तदरीस का मक़सद भी तालिब-ए-इल्म की फ़िक्री और अख़लाक़ी तरबियत के बजाय सिर्फ़ हाज़िरी मुकम्मल करना, तन्ख़वाह हासिल करना और फ़ोटोकॉपी शुदा नोट्स तक़सीम करके अपनी ज़िम्मेदारी पूरी समझ लेना रह गया है। इसी ज़वाल का सबसे अफ़सोसनाक इज़हार इम्तिहानी निज़ाम में दिखाई देता है, जहां कभी मेहनत, इस्तिदाद और इल्मी क़ाबलियत कामयाबी का मेआर हुआ करती थी, वहां आज पेपर लीक, सॉल्वर गैंग्स, ग़ैर-क़ानूनी ज़राए, नुक़्ल, और जाली कामयाबियों की मण्डी ने मेरिट का गला घोंट दिया है। नतीजतन ऐसे अफ़राद तदरीस जैसे मुक़द्दस पेशे में दाख़िल हो रहे हैं जिनके पास डिग्रियां तो मौजूद हैं, मगर न इल्म की गहराई है, न तहक़ीक़ की सलाहियत, न किरदार की मज़बूती और न ही नई नस्ल की रहनुमाई का शुऊर। यही वह बुनियादी फ़र्क़ है जो रवायती मुअल्लिम और जदीद सर्टिफ़ाइड उस्ताद के दरमियान एक फ़िक्री, अख़लाक़ी और तहज़ीबी ख़लीज पैदा कर देता है, और यही ख़लीज आज हमारे पूरे तालीमी निज़ाम के ज़वाल की सबसे बड़ी अलामत बन चुकी है। जज़बाती और फ़िक्री दीवालियापन (हमें यह मानना होगा) कि हमारी अगली नस्लें गूंगी और ज़ेहनी तौर पर अपाहज होती जा रही हैं। इसकी वजह यह नहीं कि उनके पास मालूमात नहीं हैं, बल्कि वजह यह है कि उनके पास सही रहबर नहीं है। जब एक उस्ताद क्लास रूम में जाकर ख़ुद अपने मोबाइल में मसरूफ़ हो जाता है, या यूट्यूब की किसी सस्ती वीडियो का सहारा लेकर अपना लेक्चर पूरा करता है, तो वह तालिब-ए-इल्म के अन्दर छुपी तक़्लीक़ी सलाहियत का गला घोंट देता हैं। अलिफ़ के नाम पर लट्ठ लिए फिरने वाले यह पी.एच.डी. और अपना नाम तक दुरुस्त अंग्रेज़ी या उर्दू में न लिख पाने वाले यह बी.एड. असातिज़ा, दरअसल इस निज़ाम के मुजरिम हैं जिसने सलाहियत के बजाय ‘सिफ़ारिश और सरमाये’ को तरजीह

दस्ते-ख़िज़्र से शम्अ-ए-हिदायत ही छिन गई! Read More »

बच्चे हमारे अहद के चालाक हो गए!!!

जदीद समाजी ज़वाल, डिजिटल यल्ग़ार और मासूमियत का क़त्ल-ए-आम डॉ. असदुल्लाह ख़ान देहली पब्लिक स्कूल के उस पुराने एमएमएस स्कैंडल को गुज़रे बरसों बीत गए, जिसे कभी समाज ने एक ग़ैर-मुतवक़्क़े (अप्रत्याशित) ज़लज़ला समझा था। उस वक़्त लोग चौंके थे कि पानी सर से ऊँचा हो चुका है। लेकिन आज, सन 2026 ई. के इस महीब (भयानक) डिजिटल दौर में जब हम पीछे मुड़कर देखते हैं, तो वो पुराना वाक़िया महज़ एक मासूमना लग़ज़िश (भूल) महसूस होता है। आज पानी सर से ऊँचा नहीं हुआ, बल्कि पूरा मुआशरा (समाज) ही इख़लाक़ी (नैतिक) दिवालियेपन और बे-हंगम टेक्नोलॉजी के तूफ़ान में ग़र्क़ हो चुका है। अब चौंकने का वक़्त भी गुज़र गया, अब तो सिर्फ़ मातम का दौर है। कल का बच्चा वक़्त से पहले बालिग़ हो रहा था, मगर आज का बच्चा वक़्त से पहले “चालबाज़” और मुजरिमाना ज़ेहनियत का हामिल (युक्त) हो रहा है। कल मासूमियत दाग़दार हुई थी, आज मासूमियत का बीज ही दज्जाली टेक्नोलॉजी की भट्टी में झुलसकर राख हो चुका है। आज हिंदुस्तान, बा-ख़ूसूस (विशेषकर) महाराष्ट्र और मुल्क के दीगर (अन्य) हिस्सों से रोज़ाना जो ख़बरें अख़बारात की सुर्खियाँ बनती हैं, वो रूह को कपकपा देने के लिए काफ़ी हैं। मुंबई और पुणे जैसे मेट्रो शहरों में नौवीं और दसवीं जमात (कक्षा) के मासूम नज़र आने वाले बच्चे इंस्टाग्राम और दीगर सोशल मीडिया ऐप्स पर जाली (फ़र्ज़ी) प्रोफ़ाइल्स बनाकर अपने ही हम-जमातों (सहपाठियों) या बड़ों को “हनी ट्रैप” कर रहे हैं और लाखों रुपये बटोर रहे हैं। मसनूई ज़हानत (आर्टिफिशियल इंटेलिजेंस) के इस दौर में अब किसी कैमरे से चोरी-छिपे वीडियो बनाने की ज़रूरत भी नहीं रही। स्कूल के बच्चे अपने ही दोस्तों और असातिज़ा (शिक्षकों) की तस्वीरों को चंद सेकेंड्स में “डीपफेक” टेक्नोलॉजी के ज़रिए नाज़ेबा (आपत्तिजनक) तस्वीरों और वीडियोज़ में तब्दील करके वायरल करने की धमकियाँ दे रहे हैं। महाराष्ट्र साइबर सेल के रिकॉर्ड्स ऐसे ना-बालिग़ मुजरिमों की दास्तानों से भरे पड़े हैं। बच्चों के बस्तों से अब सिर्फ़ मानए-हमल अद्वियात (गर्भनिरोधक दवाएँ) ही नहीं निकलतीं, बल्कि उनके मोबाइल वॉलेट्स में लाखों रुपये की डिजिटल करेंसी और ऑनलाइन सस्ते नशे सप्लाई करने वाले नेटवर्क्स के लिंक्स मिलते हैं, जिनका सुराग़ लगाना क़ानून के लिए भी दर्द-ए-सर बन चुका है। दिल्ली, मुंबई, बैंगलोर या कोलकाता का कोई नाम-निहाद बा-वक़ार (प्रतिष्ठित) स्कूल अब इस वबा (महामारी) से महफ़ूज़ नहीं है। कच्ची उम्र की “मारिया” अब गली के नुक्कड़ पर ‘रॉकी’ का इंतज़ार नहीं करती, वो डेटिंग ऐप्स के ख़ुफ़िया चैट रूम्स में रात भर वर्चुअल उरियानियत (अश्लीलता) का सौदा करती है। “पुष्पा” अब सिर्फ़ बस्ता लेकर घर से ग़ायब नहीं होती, वो ऑनलाइन घोटाले के ज़रिए सरहद पार बैठे मुजरिमों के चंगुल में फँसकर इंसानी स्मगलिंग का ईंधन बन जाती है। उरियानियत का नया रूप: ओटीटी और प्राइवेट स्क्रीन्स हमारी नस्ल ने जिस “इडियट बॉक्स” यानी टेलीविज़न का रोना रोया था, वो तो अब ड्रॉइंग रूम का एक बे-ज़रर (हानिरहित) शो-पीस बनकर रह गया है। अब असल फ़ित्ना (आफ़त) हर बच्चे की जेब में मौजूद “ज़ाती स्क्रीन” (पर्सनल स्क्रीन) है। ओटीटी प्लेटफ़ॉर्म्स पर सेंसरशिप की धज्जियाँ उड़ाते हुए जो मवाद (कांटेंट) पिघलाकर बच्चों के ज़ेहन में उतारा जा रहा है, उसने हया और पाकीज़गी के मफ़ाहीम (मायने) ही बदल दिए हैं। इंस्टाग्राम रील्स पर चंद “लाइक्स” और “व्यूज़” के लिए बारह-चौदह साल की बच्चियों का नीम-बरहना (अर्ध-नग्न) रक़्स और लड़कों का गैंग्स्टर कल्चर को आइडियल बनाना अब एक आम चलन है। इंटरनेट अब मालूमात (जानकारी) का ज़रिया नहीं, शहवत (कामुकता), ख़ुशूनत (हिंसा) और ज़ेहनी गंदगी का वो समंदर है जिसका कोई किनारा नहीं। नफ़्सियाती ज़वाल और ख़ुदकुशियों का सैलाब जब एक कच्चा और ना-पुख़्ता ज़ेहन इस महीब दलदल में क़दम रखता है, तो वो इसके अंजाम से बे-ख़बर होता है। वो सिर्फ़ एक “तजुर्बा” करना चाहता है, लेकिन ये तजुर्बा उसे एक ऐसे अंधे कुएँ में धकेल देता है जहाँ से वापसी का कोई रास्ता नहीं होता। पहले झिझक मरती है, फिर हया रुख़्सत होती है, फिर अक़्ल का चिराग़ गुल होता है और आख़िरकार जब वो अमली इक़दाम (कदम उठाने) की ज़िल्लत में फँसता है, तो ब्लैकमेलिंग, बदनामी और ज़ेहनी दबाव (तनाव) उसे मौत के मुँह में धकेल देते हैं। ये कोई फ़र्ज़ी कहानी नहीं है। नेशनल क्राइम रिकॉर्ड्स ब्यूरो के ताज़ा तरीन आदाद-ओ-शुमार (आँकड़े) गवाह हैं कि मुल्क में ना-बालिग़ बच्चों में ख़ुदकुशी की शरह (दर) में होल्नाक हद तक इज़ाफ़ा हुआ है। पिछली दहाई (दशक) के मुक़ाबले में नशा-आवर अश्या (मादक पदार्थों) का इस्तेमाल स्कूल के बच्चों में दुगना हो चुका है। कम-उम्र बच्चे अब जड़ाईम (अपराधों) की दुनिया का सिर्फ़ ईंधन नहीं हैं, बल्कि वो शूटर, सप्लायर और हैकर बनकर उभर रहे हैं। समाज के दानिशवर (बुद्धिजीवी) अब भी वही पुराना राग अलाप रहे हैं: “सेक्स एजुकेशन।” मगर सवाल ये है कि क्या सेक्स एजुकेशन इस तूफ़ान को रोक सकती है? हमारे स्कूलों का निज़ाम, जहाँ असातिज़ा ख़ुद इख़लाक़ी ज़वाल का शिकार हैं या इस मौज़ू (विषय) की हस्सासियत (संवेदनशीलता) से ना-वाक़िफ़ हैं, वहाँ ये तालीम सिर्फ़ एक तमाशा बनकर रह जाती है। हुकूमतें निसाब (पाठ्यक्रम) बदलती हैं, क्लासें चलाती हैं, लेकिन नतीजा? मासूम ज़ेहनों को वक़्त से पहले वो सब कुछ पता चल जाता है जिसकी उन्हें ज़रूरत भी नहीं थी। ये इलाज नहीं, बल्कि कच्चे ज़ेहनों में जिंसी जरासीम (यौन कीटाणुओं) की दानिस्ता (जानबूझकर) पैवंदकारी (प्लांटेशन) है। काम बनने के बजाय मज़ीद (और) बिगड़ जाता है। अभी हाल ही में महाराष्ट्र के दारुल-हुकूमत (राजधानी) मुंबई के एक इंतिहाई महँगे और नामवर इंटरनेशनल स्कूल का एक वाक़िया सामने आया, जिसने पुलिस और माहिरीन-ए-नफ़्सियात (मनोवैज्ञानिकों) दोनों को हिलाकर रख दिया। दसवीं जमात के तीन लड़कों ने आर्टिफिशियल इंटेलिजेंस के टूल्स इस्तेमाल करके अपनी ही हम-जमात लड़कियों की तस्वीरों को नाज़ेबा और बरहना तस्वीरों में तब्दील कर दिया। बात यहाँ ख़त्म नहीं हुई। इन चौदह-पंद्रह साल के बच्चों ने इन तस्वीरों को सोशल मीडिया पर वायरल करने की धकमी देकर उन लड़कियों से लाखों रुपये और महँगे गैजेट्स का मुतालबा (माँग) किया। जब एक लड़की ने डिप्रेशन में आकर ख़ुदकुशी की कोशिश की, तब जाकर ये उक़्दा (राज़) खुला। ज़रा सोचिए, जिस उम्र में बच्चे खिलौनों और पढ़ाई के तनाव से गुज़रते थे, उस उम्र में वे साइबर क्राइम और ब्लैकमेलिंग के मास्टरमाइंड बन चुके हैं। ना-बालिग़ों में नशाख़ोरी का चलन महाराष्ट्र के

बच्चे हमारे अहद के चालाक हो गए!!! Read More »

دستِ خضر سے شمعِ ہدایت ہی چھن گئی!

استعداد کا قحط، اساتذہ کی آن لائن تجارت اور نئی نسل کا فکری قتلِ عام ڈاکٹر اسد اللہ خان اطلاعات و معلومات کا یہ دھماکہ خیز دور، جہاں مصنوعی ذہانت انسانی سوچ کے متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے، وہاں ایک ایسے استاد کی ضرورت تھی جو مادی ترقی کے اس دور میں نئی نسل کے ضمیر کا نگہبان بنتا۔ قوموں کی تعمیرِ نو میں استاد کا وجود ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتا ہے، کیونکہ استاد صرف کتاب نہیں پڑھاتا، وہ روح کی تراش خراش کرتا ہے۔ کارِ معلمی دراصل کارِ نبوت ہے، جس کا منصب تقدس اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن افسوس! آج سن 2026ء کے ہندوستان میں جب ہم اپنے تعلیمی ڈھانچے اور اساتذہ کی تربیت کے نظام (Teacher Education) پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ رہبر ہی جب راہزن بن جائیں، تو کارواں کی تباہی کا گلہ کس سے کیا جائے؟ ہم نے جس دور میں بی ایڈ کالجوں کی بولیوں کا رونا رویا تھا، وہ تو محض نقد رقم اور چند ہزار روپے کی ہیرا پھیری کا ابتدائی دور تھا۔ آج کا دور تو ڈیجیٹل مافیا اور ادارہ جاتی بدعنوانی کا وہ مہیب سمندر ہے جس نے پورے ملک کے مستقبل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ آج میڈیا کی سرخیاں اور عدالتوں کے فیصلے گواہ ہیں کہ اساتذہ کی تیاری سے لے کر ان کی تعیناتی تک کا پورا نظام کینسر کی آخری اسٹیج پر کھڑا ہے۔ مہاراشٹرا کا ٹی اے آئی ٹی (TAIT) اور ٹی ای ٹی (TET) ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب مہاراشٹرا ٹیچرز ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (TET) میں ہزاروں ایسے اساتذہ کے نام سامنے آئے جنہوں نے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر کمپیوٹرائزڈ رزلٹ شیٹس میں اپنے نمبر بڑھوائے۔ جو استاد خود ایک اہلکار کو چائے پانی کے نام پر رشوت دے کر، یا سرور ہیک کروا کر پاس ہوا ہو، وہ پونے، ناگپور یا ممبئی کے اسکولوں میں بیٹھ کر اگلی نسل کو دیانت داری کا کیا سبق دے گا؟ اتر پردیش میں اساتذہ کی بھرتی ٹیچر بھرتی کے امتحانات اور بہار کے بی پی ایس سی ٹیچر امتحانات کے دوران بلیو ٹوتھ ڈیوائسز، سالور گینگز (Solver Gangs) اور پیپر لیک کے جو شرمناک واقعات سامنے آئے، انہوں نے میرٹ کا جنازہ نکال دیا۔ دسویں جماعت کی کتاب کا درست تلفظ نہ کر پانے والے، اور بلیک بورڈ پر انگریزی میں ایجوکیشن کی ہجے غلط لکھنے والے لوگ لاکھوں روپے کی بولی لگا کر اسکولوں میں ‘مستقبل کے معمار’ بن کر بیٹھ گئے۔ بی ایڈ اور ایم ایڈ کالجز اب تعلیم گاہیں نہیں، شادی ہالوں کی طرح نفع بخش کاروبار ہیں۔ نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن اور یونیورسٹیوں کی جو معائنہ ٹیمیں آتی ہیں، ان کے لیے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام اور ڈیجیٹل ٹرانسفرز کے ذریعے پہلے ہی سب کچھ طے کر دیا جاتا ہے۔ کالج میں نہ لائبریری ہے، نہ لیبارٹری، نہ لیسن پلان کا وجود—بس سال کے آخر میں ایک سرٹیفائیڈ مزدور تیار کر کے مارکیٹ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ استاد جب خود علم کے سمندر سے محروم ہو، تو وہ دوسروں کی پیاس کیا بجھائے گا؟ آج جو فوج ان ٹریننگ کالجوں سے نکل رہی ہے، وہ تعلیم کی غیر پیداواری پروڈکٹ ہے۔ یہ وہ بھیڑ ہے جو کسی اور پیشے میں جگہ نہ پا سکی، تو آخری حربے کے طور پر معلمی کے مقدس پیشے میں گھس آئی۔ روایتی تعلیمی نظام کا استاد اپنی ذات میں ایک چلتی پھرتی درسگاہ ہوا کرتا تھا۔ اس کا اصل سرمایہ اس کا ذاتی مطالعہ، کتابوں سے گہرا تعلق، لائبریریوں سے وابستگی اور علم کے لیے نہ ختم ہونے والی پیاس ہوتی تھی۔ اس کی شخصیت میں وقار، گفتار میں سنجیدگی اور کردار میں ایسی پختگی ہوتی تھی جو طلبہ کے لیے خود ایک زندہ نمونہ بن جاتی تھی۔ اس کے نزدیک تدریس صرف نصاب مکمل کرنے کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ طالب علم کی شخصیت سازی، اخلاقی تربیت، فکری بالیدگی اور کردار کی تعمیر کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ امتحانات بھی اس کے نزدیک محض نمبر حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھے، بلکہ وہ سخت محنت، گہری فکر، اصل علم اور دیانت دارانہ جانچ کے ذریعے طالب علم کی حقیقی صلاحیت کو پرکھنے کا پیمانہ ہوتے تھے۔ اس کے برعکس، جدید دور کا نام نہاد سرٹیفائیڈ استاد ایک ایسے نظام کی پیداوار بنتا جا رہا ہے جہاں خود مطالعہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ کتابوں کی جگہ گوگل سرچ، تحقیقی مطالعے کی جگہ واٹس ایپ یونیورسٹی، اور علمی گفتگو کی جگہ سوشل میڈیا کے مختصر کلپس اور ریلز نے لے لی ہے۔ کلاس روم، جو کبھی علم و حکمت کا مرکز تھا، اب بعض اوقات محض رسمی حاضری اور وقت گزاری کا مقام بن کر رہ گیا ہے۔ تدریس کا مقصد بھی طالب علم کی فکری اور اخلاقی تربیت کے بجائے صرف حاضری مکمل کرنا، تنخواہ حاصل کرنا اور فوٹو کاپی شدہ نوٹس تقسیم کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لینا رہ گیا ہے۔ اسی زوال کا سب سے افسوسناک اظہار امتحانی نظام میں دکھائی دیتا ہے، جہاں کبھی محنت، استعداد اور علمی قابلیت کامیابی کا معیار ہوا کرتی تھی، وہاں آج پیپر لیک، سالور گینگز، غیر قانونی ذرائع، نقل، اور جعلی کامیابیوں کی منڈی نے میرٹ کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ نتیجتاً ایسے افراد تدریس جیسے مقدس پیشے میں داخل ہو رہے ہیں جن کے پاس ڈگریاں تو موجود ہیں، مگر نہ علم کی گہرائی ہے، نہ تحقیق کی صلاحیت، نہ کردار کی مضبوطی اور نہ ہی نئی نسل کی رہنمائی کا شعور۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو روایتی معلم اور جدید سرٹیفائیڈ استاد کے درمیان ایک فکری، اخلاقی اور تہذیبی خلیج پیدا کر دیتا ہے، اور یہی خلیج آج ہمارے پورے تعلیمی نظام کے زوال کی سب سے بڑی علامت بن چکی ہے۔ جذباتی اور فکری دیوالیہ پن ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہماری اگلی نسلیں گونگی اور ذہنی طور پر اپاہج ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے پاس معلومات نہیں ہیں، بلکہ وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس صحیح رہبر نہیں ہے۔ جب ایک استاد کلاس روم میں جا کر

دستِ خضر سے شمعِ ہدایت ہی چھن گئی! Read More »

بچےّ ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے!!!

جدید سماجی زوال، ڈیجیٹل یلغار اور معصومیت کا قتلِ عام ڈاکٹر اسداللہ خان دہلی پبلک اسکول کے اس پرانے ایم ایم ایس اسکینڈل کو گزرے برسوں بیت گئے، جسے کبھی سماج نے ایک غیر متوقع زلزلہ سمجھا تھا۔ اس وقت لوگ چونکے تھے کہ پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے۔ لیکن آج، سن 2026ء کے اس مہیب ڈیجیٹل دور میں جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو وہ پرانا واقعہ محض ایک معصومانہ لغزش محسوس ہوتا ہے۔ آج پانی سر سے اونچا نہیں ہوا، بلکہ پورا معاشرہ ہی اخلاقی دیوالیہ پن اور بے ہنگم ٹیکنالوجی کے طوفان میں غرق ہو چکا ہے۔ اب چونکنے کا وقت بھی گزر گیا، اب تو صرف ماتم کا دور ہے۔ کل کا بچہ وقت سے پہلے بالغ ہو رہا تھا، مگر آج کا بچہ وقت سے پہلے “چالباز” اور مجرمانہ ذہنیت کا حامل ہو رہا ہے۔ کل معصومیت داغدار ہوئی تھی، آج معصومیت کا بیج ہی دجالی ٹیکنالوجی کی بھٹی میں جھلس کر راکھ ہو چکا ہے۔آج ہندوستان، بالخصوص مہاراشٹرا اور ملک کے دیگر حصوں سے روزانہ جو خبریں اخبارات کی سرخیاں بنتی ہیں، وہ روح کو کپکپا دینے کے لیے کافی ہیں۔ ممبئی اور پونے جیسے میٹرو شہروں میں نویں اور دسویں جماعت کے معصوم نظر آنے والے بچے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا ایپس پر جعلی پروفائلز بنا کر اپنے ہی ہم جماعتوں یا بڑوں کو “ہنی ٹریپ” کر رہے ہیں اور لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں اب کسی کیمرے سے چوری چھپے ویڈیو بنانے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ اسکول کے بچے اپنے ہی دوستوں اور اساتذہ کی تصاویر کو چند سیکنڈز میں “ڈیپ فیک” ٹیکنالوجی کے ذریعے نازیبا تصاویر اور ویڈیوز میں تبدیل کر کے وائرل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ مہاراشٹرا سائبر سیل کے ریکارڈز ایسے نابالغ مجرموں کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ بچوں کے بستوں سے اب صرف مانع حمل ادویات ہی نہیں نکلتیں، بلکہ ان کے موبائل والٹس میں لاکھوں روپے کی ڈیجیٹل کرنسی اور آن لائن سستے نشے سپلائی کرنے والے نیٹ ورکس کے لنکس ملتے ہیں، جن کا سراغ لگانا قانون کے لیے بھی دردِ سر بن چکا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلور یا کولکتہ کا کوئی نام نہاد باوقار اسکول اب اس وبا سے محفوظ نہیں ہے۔ کچی عمر کی “ماریا” اب گلی کے نکر پر راکی کا انتظار نہیں کرتی، وہ ڈیٹنگ ایپس کے خفیہ چیٹ رومز میں رات بھر ورچوئل عریانیت کا سودا کرتی ہے۔ “پشپا” اب صرف بستہ لے کر گھر سے غائب نہیں ہوتی، وہ آن لائن گھوٹالے کے ذریعے سرحد پار بیٹھے مجرموں کے چنگل میں پھنس کر انسانی اسمگلنگ کا ایندھن بن جاتی ہے۔ عریانیت کا نیا روپ: او ٹی ٹی اور پرائیویٹ اسکرینز ہماری نسل نے جس “ایڈیٹ باکس” یعنی ٹیلی ویژن کا رونا رویا تھا، وہ تو اب ڈرائنگ روم کا ایک بے ضرر شو پیس بن کر رہ گیا ہے۔ اب اصل فتنہ ہر بچے کی جیب میں موجود “ذاتی اسکرین” ہے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر سنسرشپ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جو مواد پگھلا کر بچوں کے ذہنوں میں اتارا جا رہا ہے، اس نے حیا اور پاکیزگی کے مفاہیم ہی بدل دیے ہیں۔انسٹاگرام ریلز پر چند “لائکس” اور “ویوز” کے لیے بارہ چودہ سال کی بچیوں کا نیم برہنہ رقص اور لڑکوں کا گینگسٹر کلچر کو آئیڈیل بنانا اب ایک عام چلن ہے۔ انٹرنیٹ اب معلومات کا ذریعہ نہیں، شہوت، خشونت اور ذہنی گندگی کا وہ سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ نفسیاتی زوال اور خودکشیوں کا سیلاب جب ایک کچا اور ناپختہ ذہن اس مہیب دلدل میں قدم رکھتا ہے، تو وہ اس کے انجام سے بے خبر ہوتا ہے۔ وہ صرف ایک “تجربہ” کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ تجربہ اسے ایک ایسے اندھے کنویں میں دھکیل دیتا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ پہلے جھجک مرتی ہے، پھر حیا رخصت ہوتی ہے، پھر عقل کا چراغ گل ہوتا ہے اور آخر کار جب وہ عملی اقدام کی ذلت میں پھنستا ہے، تو بلیک میلنگ، بدنامی اور ذہنی دباؤ اسے موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے تازہ ترین اعداد و شمار گواہ ہیں کہ ملک میں نابالغ بچوں میں خودکشی کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ پچھلی دہائی کے مقابلے میں نشہ آور اشیاء کا استعمال اسکول کے بچوں میں دگنا ہو چکا ہے۔ کم عمر بچے اب جرائم کی دنیا کا صرف ایندھن نہیں ہیں، بلکہ وہ شوٹر، سپلائر اور ہیکر بن کر ابھر رہے ہیں۔ سماج کے دانشور اب بھی وہی پرانا راگ الاپ رہے ہیں: “سیکس ایجوکیشن۔” مگر سوال یہ ہے کہ کیا سیکس ایجوکیشن اس طوفان کو روک سکتی ہے؟ ہمارے اسکولوں کا نظام، جہاں اساتذہ خود اخلاقی زوال کا شکار ہیں یا اس موضوع کی حساسیت سے ناواقف ہیں، وہاں یہ تعلیم صرف ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے۔ حکومتیں نصاب بدلتی ہیں، کلاسیں چلاتی ہیں، لیکن نتیجہ؟ معصوم ذہنوں کو وقت سے پہلے وہ سب کچھ پتا چل جاتا ہے جس کی انہیں ضرورت بھی نہیں تھی۔ یہ علاج نہیں، بلکہ کچے ذہنوں میں جنسی جراثیم کی دانستہ پیوند کاری ہے۔ کام بننے کے بجائے مزید بگڑ جاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی کے ایک انتہائی مہنگے اور نامور انٹرنیشنل اسکول کا ایک واقعہ سامنے آیا، جس نے پولیس اور ماہرینِ نفسیات دونوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ دسویں جماعت کے تین لڑکوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ٹولز استعمال کر کے اپنی ہی ہم جماعت لڑکیوں کی تصاویر کو نازیبا اور برہنہ تصاویر میں تبدیل کر دیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ان چودہ پندرہ سال کے بچوں نے ان تصاویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر ان لڑکیوں سے لاکھوں روپے اور مہنگے گجٹس کا مطالبہ کیا۔ جب ایک لڑکی نے ڈپریشن میں آ کر خودکشی کی کوشش کی، تب جا کر یہ عقدہ کھلا۔ ذرا سوچیے، جس عمر میں بچے کھلونوں اور پڑھائی کے تناؤ سے گزرتے تھے، اس عمر میں وہ سائبر کرائم اور بلیک میلنگ کے ماسٹر مائنڈ بن چکے ہیں۔ نابالغوں میں

بچےّ ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے!!! Read More »