سوچ کا مکتب
تعلیم بچے کو صرف جواب نہیں، سوال کرنا بھی سکھا دے ڈاکٹر اسد اللہ خان برسہابرس کمرۂ جماعت میں گزارنے کے بعد اب کوئی تعلیمی منظر ہمیں کم ہی چونکاتا ہے، مگر پچھلے دنوں لونی (غازی آباد) کے ایک اسکول کا واقعہ نظر سے گزرا تو دیر تک سوچ میں ڈوبا رہا۔ معلم نے تختۂ سیاہ پر صرف ایک عدد لکھا: ۲۰۲۵۔ لمحہ بھر کو خاموشی رہی، پھر یکایک کئی ننھے ہاتھ فضا میں بلند ہو گئے: ”سر! یہ تو دو ہزار پچیس ہے، ابھی تو دو ہزار چھبیس چل رہا ہے!“ بظاہر یہ کوئی بڑا واقعہ نہ تھا، مگر اُس کمرے میں اُس لمحے وہ کچھ ہوا جو ہماری روایتی درس گاہوں میں مدتوں سے نایاب ہے۔ بچوں نے تختے پر لکھی تحریر کو بے چون و چرا تسلیم نہیں کیا؛ اُنھوں نے اُسے اپنے علم کی کسوٹی پر پرکھا اور جہاں مطابقت نہ پائی، وہاں زبان کھول دی۔ معلم کی یہ ”غلطی“ دانستہ تھی۔ اُس کا مقصد درس دینا نہیں، تجسّس کو بھڑکانا تھا — اور تجسّس نے کام کر دکھایا۔ میں دیر تک سوچتا رہا کہ ہمارے ملک کے لاکھوں کمروں میں روز کتنے تختے لکھے جاتے ہیں اور کتنے ہاتھ بلند ہوتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ہم نے ہاتھ اٹھانا جواب دینے کے لیے سکھایا ہے، سوال کرنے کے لیے نہیں۔ اور یہی اِس تحریر کا موضوع ہے۔ اُسی نشست میں بچوں کے سامنے ایک ننھا سا معمّہ رکھا گیا۔ برسات کی ایک صبح ہے؛ بچے کا دل کہتا ہے کہ باہر جھڑی لگی ہے، پکوڑوں کی خوشبو اٹھ رہی ہے، آج گھر ہی رہنا چاہیے؛ اور دماغ یاد دلاتا ہے کہ آج اسکول کا دن ہے۔ سوال صرف اتنا تھا: بچہ کس کی سنے؟ اِس معصوم سے سوال نے پورے کمرے کو مباحثے کی آماج گاہ بنا دیا۔ کوئی دل کے حق میں بولا، کوئی دماغ کی وکالت پر اتر آیا، اور رفتہ رفتہ بات دل و دماغ کی کشمکش سے نکل کر اُس گتھی تک جا پہنچی کہ فیصلہ کرتے وقت ہم کن چیزوں کو بنیاد بناتے ہیں: خواہش کو یا شہادت کو؟ وقتی لذت کو یا دیرپا مصلحت کو؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے میرے قلم کا سفر شروع ہوتا ہے، کیوں کہ اُس کمرے میں جو کچھ سکھایا جا رہا تھا وہ کوئی مضمون نہ تھا؛ وہ سوچنے کا سلیقہ تھا۔ اور سوچنے کا سلیقہ ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی بھی ہے اور سب سے بڑی ضرورت بھی۔ ہم نے صدیوں سے تعلیم کو معلومات کی منتقلی سمجھ رکھا ہے: استاد جانتا ہے، شاگرد نہیں جانتا؛ استاد انڈیلتا ہے، شاگرد جذب کرتا ہے؛ اور امتحان میں وہی سرخرو ہے جو زیادہ سے زیادہ اگل دے۔ اِس ماڈل میں بچے کا ذہن ایک خالی برتن ہے جسے بھرنا مقصود ہے، حالاں کہ حقیقت میں وہ ایک چراغ ہے جسے روشن کرنا مطلوب ہونا چاہیے۔ برتن بھرنے اور چراغ جلانے میں جو فرق ہے، وہی فرق رٹنے اور سمجھنے میں ہے، اور وہی فرق ایک مطیع رعایا اور ایک باشعور شہری میں ہے۔ میں نے ایسے سیکڑوں طلبہ دیکھے جو نمبروں کی دوڑ میں اوّل آئے مگر زندگی کے پہلے ہی سوال پر ٹھٹھک گئے، اور ایسے بھی دیکھے جن کی مارک شیٹ معمولی تھی مگر سوچ روشن تھی — اور وقت نے ہمیشہ دوسروں ہی کو سرخرو کیا۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں سوچ کیوں مرجھا جاتی ہے؟ اِس کی جڑیں محض نصاب میں نہیں، ہمارے مجموعی مزاج میں پیوست ہیں۔ گھر میں بچے کا پہلا ”کیوں“ اکثر جھڑکی سے دبا دیا جاتا ہے۔ بڑوں کے سامنے سوال کرنا گستاخی سمجھا جاتا ہے، اختلاف کو بے ادبی مانا جاتا ہے اور شک کو ایمان کی کمزوری۔ میں نے ممبرا کے گھروں سے لے کر سولاپور کی بستیوں تک یہ منظر بارہا دیکھا ہے: ننھا بچہ پوچھتا ہے ”ایسا کیوں ہے؟“ اور جواب ملتا ہے ”بس، کہہ دیا ناں!“ پھر یہی بچہ جب مکتب پہنچتا ہے تو اُسے تیس چالیس ہم عمروں کے ساتھ ایک ایسے کمرے میں بٹھا دیا جاتا ہے جہاں خاموشی نظم کی علامت ہے اور سوال بدنظمی کا شاخسانہ۔ یوں گھر اور مکتب مل کر ایک ایسی نسل تیار کرتے ہیں جو حافظے میں امیر اور فکر میں نادار ہوتی ہے۔ اِس رویّے کے پیچھے ایک تاریخی سبب بھی ہے۔ نوآبادیاتی دور میں جو تعلیمی ڈھانچہ ہمیں ورثے میں ملا، اُس کا مقصد سوچنے والے شہری پیدا کرنا نہیں بلکہ حکم بجا لانے والے کارندے تیار کرنا تھا۔ فرنگی کو ایسے کلرک درکار تھے جو ہدایت پر عمل کریں، ہدایت پر سوال نہ اٹھائیں۔ افسوس کہ سامراج تو رخصت ہو گیا مگر اُس کا وضع کردہ سانچہ ہمارے کمرۂ جماعت میں آج بھی سانس لے رہا ہے۔ ہم آزاد ہو کر بھی ذہنی غلامی کے اُس نقشے کو توڑ نہ سکے جو ہمیں فرماں برداری کو ذہانت اور اطاعت کو تہذیب سمجھنا سکھاتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھ لینا ضروری ہے: معلومات اور فہم ایک شے نہیں۔ معلومات یہ جاننا ہے کہ پانی سو درجے پر کھولتا ہے؛ فہم یہ سمجھنا ہے کہ پہاڑ کی چوٹی پر وہی پانی کم درجۂ حرارت پر کیوں کھول اٹھتا ہے۔ پہلی شے حافظہ مانگتی ہے، دوسری غور و فکر۔ اِسی طرح ذہن کے لیے سب سے مشکل مگر سب سے قیمتی ہنر یہ ہے کہ وہ حقیقت اور رائے میں امتیاز کر سکے۔ ”آج بارش ہو رہی ہے“ ایک حقیقت ہے جسے پرکھا جا سکتا ہے؛ ”بارش اداس کر دیتی ہے“ ایک رائے ہے جو ہر دل میں مختلف ہے۔ جو ذہن اِن دونوں کو گڈمڈ کر دیتا ہے وہ زندگی بھر اپنے تعصبات کو حقائق سمجھ کر جیتا ہے اور دوسروں کے حقائق کو محض رائے کہہ کر ٹھکرا دیتا ہے۔ تنقیدی سوچ دراصل اِسی امتیاز کی تربیت کا نام ہے۔ یہ کوئی مغربی درآمد یا جدید ایجاد نہیں؛ یہ انسانی عقل کی وہ قدیم ترین صلاحیت ہے جسے ہر بڑی علمی روایت نے سراہا ہے۔ سقراط ایتھنز کے بازاروں میں جواب دینے کے بجائے سوال کرنا سکھاتا رہا، اِس یقین کے ساتھ کہ بے آزمائی زندگی جینے کے لائق نہیں۔ ہماری اپنی روایت میں ابنِ خلدون نے صدیوں پہلے ”مقدمہ“ میں اُس تعلیم










