’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘
’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘ عقیدت سے ذمہ داری تک — ایک لفظ کے فرق میں چھپا پورا عہد نامہ ڈاکٹر اسد اللہ خان زبانیں کبھی کبھی ایک حرف کے فرق میں پوری تاریخ سمو دیتی ہیں۔ ’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘ — بظاہر دونوں ترکیبیں جڑواں معلوم ہوتی ہیں، مگر ان کے درمیان صرف ایک لفظ کا نہیں، ایک پوری سمت کا فاصلہ ہے۔ ’’ہمارے‘‘ کہتے ہی گردن پیچھے مڑتی ہے اور نگاہ ماضی کے اُس روشن دریچے پر جا ٹھہرتی ہے جہاں عقیدت بستی ہے؛ ’’ہم‘‘ کہتے ہی وہی گردن سیدھی ہو جاتی ہے، اور آنکھ حال کے اُس دروازے پر جم جاتی ہے جہاں ذمہ داری دستک دے رہی ہے۔ پہلی ترکیب نسبت ہے، دوسری شناخت؛ پہلی میں ہم کسی کے شاگرد ہیں، دوسری میں کسی کے معمار۔ یہ مضمون انہی دو ترکیبوں کے درمیان پھیلے ہوئے سفر کی روداد ہے — وہ سفر جو ایک شاگرد کی جھکی ہوئی نظر سے شروع ہوتا ہے اور ایک معلم کے بوجھل کندھوں پر آ کر ٹھہرتا ہے۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں سے تعلیم کے مستقبل کا راستہ نکلتا ہے۔ ’’’’ہمارے‘‘ میں نگاہ ماضی کی طرف مڑتی ہے؛ ’’ہم‘‘ میں ذمہ داری حال کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔‘‘ ’’ہمارے اساتذہ‘‘ کہتے ہی حافظے کی الماری سے کچھ چہرے خود بخود اتر آتے ہیں۔ وہ ہستیاں جنہوں نے اُس وقت ہماری انگلی تھامی جب ہمیں قلم تھامنا بھی نہیں آتا تھا۔ ان کے پاس نہ لیپ ٹاپ تھا، نہ سمارٹ بورڈ، نہ تدریسی تربیت کے جدید سرٹیفکیٹ؛ ان کے پاس صرف ایک سرمایہ تھا — خالص خلوص۔ اور تجربہ گواہ ہے کہ خلوص وہ واحد تدریسی وسیلہ ہے جس کا کوئی نعم البدل آج تک ایجاد نہیں ہو سکا۔ ان کا ہدف نصاب کی تکمیل نہیں، شخصیت کی تعمیر تھا۔ وہ سبق کے ساتھ سلیقہ پڑھاتے تھے اور کتاب کے ساتھ کردار۔ ان کی سختی میں بھی شفقت کی آنچ ہوتی تھی؛ ان کی ڈانٹ بگاڑنے کے لیے نہیں، سنوارنے کے لیے اترتی تھی، اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سختی سے نہ بچے بگڑتے تھے، نہ والدین شکایت لے کر آتے تھے۔ راقم اپنی گیارہ برس کی اسکولی تعلیم کی گواہی دے سکتا ہے کہ اس پورے عرصے میں ایک واقعہ بھی ایسا یاد نہیں جس میں کسی استاد کو طلبہ یا والدین کے سامنے جواب دہ ہونا پڑا ہو۔ اچھے اور کم اچھے معلم اُس زمانے میں بھی تھے، مگر تکریم فرداً فرداً نہیں بٹتی تھی؛ وہ ’’استاد‘‘ کے منصب کے ساتھ آتی تھی، اور اس منصب کی چھاؤں میں سب برابر کے شریک تھے۔ اور انہی ہستیوں میں ایک ہستی ایسی بھی تھی جو راقم کے لیے دوہری نسبت رکھتی تھی — خان نصیب اللہ سر، جو ہمارے کلاس ٹیچر بھی تھے، اردو زبان دانی کے استاد بھی، اور میرے والد بھی۔ گھر میں جن کی انگلی تھام کر چلنا سیکھا تھا، جماعت میں انہی کی نگاہ کے سامنے پڑھنا سیکھا؛ گویا میری تربیت کے دونوں کنارے ایک ہی دریا سے سیراب ہوئے۔ جس ڈوب کر وہ نظمیں پڑھتے اور پڑھاتے تھے، وہ منظر دہائیاں گزرنے کے بعد بھی حافظے سے نہیں اترا: ماں کے موضوع پر نظم پڑھاتے تو خود ان کی آنکھیں بھیگ جاتیں، اور پوری جماعت پر ایک ایسی خاموشی اتر آتی جس میں سبق سے زیادہ کچھ اور منتقل ہو رہا ہوتا تھا۔ ہم اسی دن سمجھ گئے تھے کہ شاعری صرف پڑھنے کی نہیں، محسوس کرنے کی چیز ہے — اور یہ کہ جو معلم خود نہ پگھلے، وہ کسی دل کو نہیں پگھلا سکتا۔ غزل کی تشریح کراتے تو معنی کی تہوں میں اتنی گہرائی تک اتر جاتے کہ کلاس روم کی دیواریں غائب ہو جاتیں اور پوری جماعت ان کے ساتھ دنیا جہان کی سیر پر نکل جاتی — کبھی کسی شعر کی رعایت سے تاریخ کا دروازہ کھلتا، کبھی کسی تلمیح سے جغرافیے کا۔ مگر یہی نرم دل معلم نظم و ضبط اور تربیت کے باب میں کسی مصالحت کا روادار نہ تھا؛ وہاں ان کا معیار ایک انچ نہ ہلتا تھا۔ آنکھ میں آنسو اور اصول میں چٹان — نہ جانے وہ کیسی شخصیات تھیں جو ان دو انتہاؤں کو ایک ہی سینے میں سمو لیتی تھیں۔ شاید یہی وہ کیمیا تھی جو نصاب کو تربیت اور تدریس کو تاثیر بنا دیتی تھی۔ آج یہ قلم جس زبان میں رواں ہے، سچ پوچھیے تو وہ زبان انہی کے سبق کی امانت ہے، اور یہ مضمون اس امانت کی ایک قسط سے زیادہ کچھ نہیں۔ آج ہم زندگی کے جس مقام پر بھی کھڑے ہیں، وہ انہی ہستیوں کی سختیوں، دعاؤں اور ان تھک محنت کا ثمر ہے۔ ان کا احسان اتارا نہیں جا سکتا؛ صرف آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ پٹھان سر تاریخ پڑھاتے تھے اور جماعتِ پنجم میں ہمارے کلاس ٹیچر تھے۔ ایک بار بیٹ آفیسر ضمیر صاحب کے معائنے کی خبر آئی تو انہوں نے وہ اہتمام کیا جسے آج کی تدریسی اصطلاح میں شاید حکمتِ عملی کہا جائے: سبق سمجھایا گیا، دہرایا گیا، اور پھر نشستیں اس سلیقے سے ترتیب دی گئیں کہ کچھ ذہین بچے اگلی صفوں میں، کچھ درمیان میں اور کچھ پچھلی بنچوں پر بٹھا دیے گئے — تاکہ معائنہ کرنے والے کی نگاہ جدھر اٹھے، جواب ادھر سے آئے۔ معائنے کے دن ضمیر صاحب کمرۂ جماعت میں داخل ہوئے، ادھر ادھر نظر دوڑائی اور تاریخ کی کتاب اٹھا کر سوالات کرنے لگے۔ ہر گوشے سے بچے اچک اچک کر جواب دے رہے تھے، اور پہلی بنچ پر بیٹھا راقم ہر سوال پر ہاتھ اٹھائے دیتا تھا۔ وہ ہر بار میرا ہاتھ نرمی سے نیچے کر دیتے اور پچھلی نشستوں سے پوچھتے جاتے۔ آخر ہر سوال پر اٹھتا ہوا یہ ہاتھ دیکھ کر انہوں نے مجھے تھاما، باہر لے گئے، اور شفقت سے بازو گردن میں ڈال کر بولے: بہت قابل ہو، پٹھان سر نے سب کچھ پڑھا دیا ہے، چلو بتاؤ — پہلا مغل بادشاہ کون؟ میں نے کہا: بابر۔ اس کا بیٹا؟ ہمایوں۔ اس کا بیٹا؟ اکبر۔ اس کا بیٹا؟ جہانگیر۔ اس کا بیٹا؟ شاہ جہاں۔ اس کا بیٹا؟ اورنگ زیب۔ اور اورنگ زیب کا بیٹا؟ — اب میں خاموش تھا۔ انہوں نے پیار سے گال
’’ہمارے اساتذہ‘‘ اور ’’ہم اساتذہ‘‘ Read More »









