Urdu

بچےّ ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے!!!

جدید سماجی زوال، ڈیجیٹل یلغار اور معصومیت کا قتلِ عام ڈاکٹر اسداللہ خان دہلی پبلک اسکول کے اس پرانے ایم ایم ایس اسکینڈل کو گزرے برسوں بیت گئے، جسے کبھی سماج نے ایک غیر متوقع زلزلہ سمجھا تھا۔ اس وقت لوگ چونکے تھے کہ پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے۔ لیکن آج، سن 2026ء کے اس مہیب ڈیجیٹل دور میں جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو وہ پرانا واقعہ محض ایک معصومانہ لغزش محسوس ہوتا ہے۔ آج پانی سر سے اونچا نہیں ہوا، بلکہ پورا معاشرہ ہی اخلاقی دیوالیہ پن اور بے ہنگم ٹیکنالوجی کے طوفان میں غرق ہو چکا ہے۔ اب چونکنے کا وقت بھی گزر گیا، اب تو صرف ماتم کا دور ہے۔ کل کا بچہ وقت سے پہلے بالغ ہو رہا تھا، مگر آج کا بچہ وقت سے پہلے “چالباز” اور مجرمانہ ذہنیت کا حامل ہو رہا ہے۔ کل معصومیت داغدار ہوئی تھی، آج معصومیت کا بیج ہی دجالی ٹیکنالوجی کی بھٹی میں جھلس کر راکھ ہو چکا ہے۔آج ہندوستان، بالخصوص مہاراشٹرا اور ملک کے دیگر حصوں سے روزانہ جو خبریں اخبارات کی سرخیاں بنتی ہیں، وہ روح کو کپکپا دینے کے لیے کافی ہیں۔ ممبئی اور پونے جیسے میٹرو شہروں میں نویں اور دسویں جماعت کے معصوم نظر آنے والے بچے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا ایپس پر جعلی پروفائلز بنا کر اپنے ہی ہم جماعتوں یا بڑوں کو “ہنی ٹریپ” کر رہے ہیں اور لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں اب کسی کیمرے سے چوری چھپے ویڈیو بنانے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ اسکول کے بچے اپنے ہی دوستوں اور اساتذہ کی تصاویر کو چند سیکنڈز میں “ڈیپ فیک” ٹیکنالوجی کے ذریعے نازیبا تصاویر اور ویڈیوز میں تبدیل کر کے وائرل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ مہاراشٹرا سائبر سیل کے ریکارڈز ایسے نابالغ مجرموں کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ بچوں کے بستوں سے اب صرف مانع حمل ادویات ہی نہیں نکلتیں، بلکہ ان کے موبائل والٹس میں لاکھوں روپے کی ڈیجیٹل کرنسی اور آن لائن سستے نشے سپلائی کرنے والے نیٹ ورکس کے لنکس ملتے ہیں، جن کا سراغ لگانا قانون کے لیے بھی دردِ سر بن چکا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلور یا کولکتہ کا کوئی نام نہاد باوقار اسکول اب اس وبا سے محفوظ نہیں ہے۔ کچی عمر کی “ماریا” اب گلی کے نکر پر راکی کا انتظار نہیں کرتی، وہ ڈیٹنگ ایپس کے خفیہ چیٹ رومز میں رات بھر ورچوئل عریانیت کا سودا کرتی ہے۔ “پشپا” اب صرف بستہ لے کر گھر سے غائب نہیں ہوتی، وہ آن لائن گھوٹالے کے ذریعے سرحد پار بیٹھے مجرموں کے چنگل میں پھنس کر انسانی اسمگلنگ کا ایندھن بن جاتی ہے۔ عریانیت کا نیا روپ: او ٹی ٹی اور پرائیویٹ اسکرینز ہماری نسل نے جس “ایڈیٹ باکس” یعنی ٹیلی ویژن کا رونا رویا تھا، وہ تو اب ڈرائنگ روم کا ایک بے ضرر شو پیس بن کر رہ گیا ہے۔ اب اصل فتنہ ہر بچے کی جیب میں موجود “ذاتی اسکرین” ہے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر سنسرشپ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جو مواد پگھلا کر بچوں کے ذہنوں میں اتارا جا رہا ہے، اس نے حیا اور پاکیزگی کے مفاہیم ہی بدل دیے ہیں۔انسٹاگرام ریلز پر چند “لائکس” اور “ویوز” کے لیے بارہ چودہ سال کی بچیوں کا نیم برہنہ رقص اور لڑکوں کا گینگسٹر کلچر کو آئیڈیل بنانا اب ایک عام چلن ہے۔ انٹرنیٹ اب معلومات کا ذریعہ نہیں، شہوت، خشونت اور ذہنی گندگی کا وہ سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ نفسیاتی زوال اور خودکشیوں کا سیلاب جب ایک کچا اور ناپختہ ذہن اس مہیب دلدل میں قدم رکھتا ہے، تو وہ اس کے انجام سے بے خبر ہوتا ہے۔ وہ صرف ایک “تجربہ” کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ تجربہ اسے ایک ایسے اندھے کنویں میں دھکیل دیتا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ پہلے جھجک مرتی ہے، پھر حیا رخصت ہوتی ہے، پھر عقل کا چراغ گل ہوتا ہے اور آخر کار جب وہ عملی اقدام کی ذلت میں پھنستا ہے، تو بلیک میلنگ، بدنامی اور ذہنی دباؤ اسے موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے تازہ ترین اعداد و شمار گواہ ہیں کہ ملک میں نابالغ بچوں میں خودکشی کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ پچھلی دہائی کے مقابلے میں نشہ آور اشیاء کا استعمال اسکول کے بچوں میں دگنا ہو چکا ہے۔ کم عمر بچے اب جرائم کی دنیا کا صرف ایندھن نہیں ہیں، بلکہ وہ شوٹر، سپلائر اور ہیکر بن کر ابھر رہے ہیں۔ سماج کے دانشور اب بھی وہی پرانا راگ الاپ رہے ہیں: “سیکس ایجوکیشن۔” مگر سوال یہ ہے کہ کیا سیکس ایجوکیشن اس طوفان کو روک سکتی ہے؟ ہمارے اسکولوں کا نظام، جہاں اساتذہ خود اخلاقی زوال کا شکار ہیں یا اس موضوع کی حساسیت سے ناواقف ہیں، وہاں یہ تعلیم صرف ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے۔ حکومتیں نصاب بدلتی ہیں، کلاسیں چلاتی ہیں، لیکن نتیجہ؟ معصوم ذہنوں کو وقت سے پہلے وہ سب کچھ پتا چل جاتا ہے جس کی انہیں ضرورت بھی نہیں تھی۔ یہ علاج نہیں، بلکہ کچے ذہنوں میں جنسی جراثیم کی دانستہ پیوند کاری ہے۔ کام بننے کے بجائے مزید بگڑ جاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی کے ایک انتہائی مہنگے اور نامور انٹرنیشنل اسکول کا ایک واقعہ سامنے آیا، جس نے پولیس اور ماہرینِ نفسیات دونوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ دسویں جماعت کے تین لڑکوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ٹولز استعمال کر کے اپنی ہی ہم جماعت لڑکیوں کی تصاویر کو نازیبا اور برہنہ تصاویر میں تبدیل کر دیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ان چودہ پندرہ سال کے بچوں نے ان تصاویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر ان لڑکیوں سے لاکھوں روپے اور مہنگے گجٹس کا مطالبہ کیا۔ جب ایک لڑکی نے ڈپریشن میں آ کر خودکشی کی کوشش کی، تب جا کر یہ عقدہ کھلا۔ ذرا سوچیے، جس عمر میں بچے کھلونوں اور پڑھائی کے تناؤ سے گزرتے تھے، اس عمر میں وہ سائبر کرائم اور بلیک میلنگ کے ماسٹر مائنڈ بن چکے ہیں۔ نابالغوں میں

بچےّ ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے!!! Read More »

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری قدرت کی تنبیہ، قرآن کی رہنمائی اور انسانیت کے لیے ایک سبق ڈاکٹر اسد اللہ خان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاختِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ “بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور رات دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 190) ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ “خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا، اس سبب سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔” (سورۃ الروم: 41) بے بس انسان اور آفاقی سچائی دنیا روزانہ جاگتی ہے، لیکن ہر صبح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض صبحیں سورج کی روشنی کے ساتھ امید لے کر آتی ہیں، اور بعض صبحیں زمین کی لرزش کے ساتھ انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلا جاتی ہیں۔ کہیں زلزلہ آتا ہے، کہیں سیلاب بستیوں کو نگل جاتا ہے، کہیں آسمان آگ برساتا ہے، کہیں سمندر اپنی حدود توڑ دیتا ہے، اور کہیں ایک معمولی سا وائرس پوری دنیا کی طاقت، معیشت اور ٹیکنالوجی کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرتا ہے۔ ان واقعات کو اگر صرف “قدرتی آفات” کہہ کر اخبار کے ایک صفحے تک محدود کر دیا جائے تو شاید ہم بہت بڑی حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ مومن کے لیے یہ صرف خبریں نہیں ہوتییں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ قرآن انہیں “آیات” کہتا ہے؛ ایسی نشانیاں جو انسان کو اس کے رب، اس کی کمزوری، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں۔ آج کا انسان چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے، مصنوعی ذہانت کو اپنی عقل کا جانشین سمجھنے لگا ہے، اور چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے پر فخر کرتا ہے۔ اس نے فلک بوس عمارتیں کھڑی کر لیں، سمندر کی تہوں میں اتر گیا، پہاڑوں کو چیر کر شاہراہیں بنا دیں، مگر وہ اب بھی ایک ایسے معمولی سے زلزلے کے سامنے بے بس ہے جو چند لمحوں میں اس کی برسوں کی محنت، دولت، منصوبے اور غرور کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ یہی انسانی حقیقت ہے جسے قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔ ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ “انہوں نے اللہ کی قدر ویسی نہ پہچانی جیسی پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی۔” (سورۃ الزمر: 67) دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں مٹیں، بعض اوقات ایک جھٹکے نے پوری سلطنتوں کو قصۂ پارینہ بنا دیا۔ قومِ عاد اپنی طاقت پر ناز کرتی تھی، قومِ ثمود اپنے پہاڑ تراش کر محلات بنانے پر فخر کرتی تھی، فرعون اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتا تھا، قارون اپنی دولت پر اکڑتا تھا، مگر قدرت نے سب کو ایک لمحے میں تاریخ کا سبق بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھا؟ ﴿أفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ “کیا وہ زمین میں چلتے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے تھے؟” (سورۃ یوسف: 109) یہ سوال صرف تاریخ پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کے لیے ہے۔ سانحات، اخلاقی حس اور دل کا زلزلہ گزشتہ دنوں دنیا کے ایک خطے میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک مرتبہ پھر یہی سبق دہرایا۔ چند لمحوں میں مضبوط عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے، والدین اپنی اولاد کو ڈھونڈتے رہ گئے، اور وہ لوگ جو چند منٹ پہلے معمول کی زندگی گزار رہے تھے، اچانک موت اور زندگی کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ ایسے مناظر ہر حساس انسان کی آنکھ نم کر دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناظر ہمارے دل بھی بدلتے ہیں؟ افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب سانحات کو بھی ایک “وائرل ویڈیو” کی طرح دیکھنے لگا ہے۔ چند لمحے افسوس، چند دعائیں، چند تبصرے، اور پھر اگلی خبر؛ گویا انسانی جان کی حرمت بھی خبروں کی رفتار کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ» “زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔” (جامع الترمذی، حدیث: 1924) اسلام نے ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بنایا بلکہ دردِ دل رکھنے والا انسان بنایا ہے۔ مومن وہ ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، جو مصیبت زدہ کی مدد کرے، جو بھوکے کو کھانا کھلائے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے، بے گھر کے لیے پناہ بنے اور مصیبت کے وقت انسانیت کا سہارا بنے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ» “مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6011؛ صحیح مسلم، حدیث: 2586) یہی وہ معیار ہے جس پر ہمیں اپنے ایمان کو پرکھنا چاہیے۔ اگر دنیا کے کسی کونے میں آنے والی آفت ہمارے دل کو نہ ہلائے، اگر کسی ماں کی آہ ہمارے ضمیر کو نہ جگائے، اگر کسی یتیم بچے کے آنسو ہمیں بے چین نہ کریں، تو ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ قدرت کی ہر تنبیہ ہمیں دو سوالوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: پہلا سوال یہ کہ اگر آج یہ آزمائش ان پر آئی ہے تو کیا یقین ہے کہ کل ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے گی؟ اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال، اگر آج ہماری زندگی کا زلزلہ آ جائے، اگر موت اچانک ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہو، تو کیا ہم اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال کسی جغرافیے، کسی قوم، کسی مذہب یا کسی زبان کا نہیں؛ یہ ہر انسان کا

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری Read More »

چلو اسکول، ناکامی سیکھیں!

جب تعلیم کا پہلا دروازہ ہی احساسِ محرومی میں کھلنے لگے داخلوں کی دوڑ، بچپن کی پہلی شکست اور تعلیم کے بدلتے ہوئے چہرے کی داستان ڈاکٹر اسد اللہ خان وہ صبح، جس دن ایک بچہ پہلی بار ہار گیا صبح کے سات بج رہے تھے۔ بارش ابھی تھمی ہی تھی اور کھڑکی کے شیشوں پر بارش کے چند قطرے اب بھی ایسے ٹھہرے ہوئے تھے جیسے کسی نے وقت کو چند لمحوں کے لیے روک دیا ہو۔ گلی میں اسکول بس کے ہارن کی آواز گونجی تو چار سالہ ساجد اچانک بستر سے اچھل کر اٹھ بیٹھا۔ اس نے دوڑتے ہوئے اپنی ننھی سی پانی کی بوتل اٹھائی، الماری سے نیلے رنگ کا ننھا سا بیگ نکالا، اسے اپنی پشت پر لٹکایا اور آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ وہ خود کو بار بار دیکھ رہا تھا؛ کبھی بیگ سیدھا کرتا، کبھی اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتا، اور کبھی تصور ہی تصور میں کسی ٹیچر کو “گڈ مارننگ میم” کہہ کر مسکرا دیتا۔ اسے یقین تھا کہ آج وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح اسکول جائے گا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اسکول جانے کے لیے صرف معصومیت کافی نہیں رہی، اب اس کے لیے ایک ایسا امتحان ضروری ہے جس کی نہ اسے خبر ہے، نہ اس کے معنی معلوم ہیں، اور نہ اس کے نتائج۔ وہ تو صرف اتنا جانتا ہے کہ اسکول میں دوست ملتے ہیں، رنگ برنگی کتابیں ہوتی ہیں، جھولے ہوتے ہیں، اور شاید ایک ایسی ٹیچر بھی جو ماں کی طرح پیار کرتی ہوگی۔ لیکن اسی وقت گھر کے دوسرے کمرے میں ایک اور منظر چل رہا تھا۔ کھانے کی میز پر داخلہ فارم، آدھار کارڈ کی فوٹو کاپیاں، پیدائش کا سرٹیفکیٹ، بجلی کا بل، بینک اسٹیٹمنٹ، پاسپورٹ سائز تصاویر، پین کارڈ، اور نہ جانے کتنے کاغذات بکھرے ہوئے تھے۔ ساجد کی ماں بار بار ایک فائل کھول کر بند کر رہی تھی۔ باپ خاموش بیٹھا تھا—ایک ایسی خاموشی جس کے اندر کئی طوفان تھے۔ وہ بار بار گھڑی دیکھتا، پھر فائل دیکھتا، پھر اپنے بیٹے کو اور پھر نہ جانے کیوں اپنی ذات کو تکنے لگتا۔ آج امتحان ساجد کا نہیں، بلکہ اس کے والدین کا تھا۔ ان کی زبان، انگریزی، ملازمت، آمدنی، رہن سہن، لباس، شخصیت اور شاید ان کے سماجی مرتبے کا بھی امتحان تھا۔ یہ وہ امتحان تھا جس کا نصاب کسی کتاب میں نہیں ملتا اور جس کی تیاری کسی استاد کے پاس نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ صرف “داخلہ ملا” یا “داخلہ نہیں ملا” نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات ایک ننھے سے دل میں یہ پہلا احساس بھی چھوڑ جاتا ہے کہ شاید وہ دوسروں سے کم تر ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بچپن پہلی بار زندگی کے سامنے ہارنے لگتا ہے۔ داخلے کا موسم یا والدین کا امتحان؟ ہم نے تعلیم کو ہمیشہ روشنی، امید اور مساوات کی علامت سمجھا ہے۔ اسکول وہ جگہ تھی جہاں معاشرے کے ہر طبقے کا بچہ ایک ہی بینچ پر بیٹھ کر یہ سیکھتا تھا کہ علم انسانوں کے درمیان فرق نہیں کرتا۔ استاد وہ شخصیت تھا جو نام، نسب یا آمدنی نہیں پوچھتا تھا، بلکہ صرف یہ دیکھتا تھا کہ سامنے بیٹھا بچہ سیکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔ لیکن وقت نے تعلیم کا چہرہ بدل دیا ہے۔ آج بہت سے شہروں میں اسکول کا دروازہ علم سے پہلے سماجی شناخت کو دیکھنے لگا ہے۔ داخلہ فارم اب صرف بچے کی معلومات نہیں مانگتے، بلکہ والدین کی معاشی حیثیت، پیشہ، زبان، تعلیمی قابلیت اور طرزِ زندگی تک جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا ایک چار سالہ بچے کی قسمت کا فیصلہ واقعی اس کے والدین کی تنخواہ، انگریزی لہجے یا ڈرائنگ روم کے سائز سے ہونا چاہیے؟ ہندوستان میں ہر سال جون کا مہینہ صرف تعلیمی سال کے آغاز کی خبر نہیں لاتا، بلکہ لاکھوں گھروں میں امید اور مایوسی کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد، پونے، چنئی اور کولکاتا جیسے بڑے شہروں میں ہر سال داخلوں کے موسم میں یہی بے چینی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اخبارات میں رات بھر لگنے والی قطاروں، محدود نشستوں اور نرسری داخلوں کے لیے قائم خصوصی کوچنگ سینٹرز پر مسلسل خبریں شائع ہوتی ہیں۔ عدالتوں، ماہرینِ تعلیم اور پالیسی سازوں کے درمیان یہ بحث جاری ہے کہ ابتدائی تعلیم کے دروازے پر انصاف کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ لیکن یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود سب سے زیادہ خاموش وہ بچہ ہوتا ہے جس کے نام پر یہ پوری جنگ لڑی جا رہی ہوتی ہے۔ بچپن کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ کامیابی اور ناکامی کی لغت سے بے خبر ہوتا ہے۔ چار سال کا بچہ نہ میرٹ جانتا ہے، نہ ویٹنگ لسٹ۔ وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ سامنے والے گھر کا علی آج اسکول گیا ہے، لہٰذا وہ بھی جانا چاہتا ہے۔ لیکن جب بڑوں کی دنیا اس کی راہ میں اپنی شرطیں اور دیواریں کھڑی کر دیتی ہے، تو وہ کچھ نہیں سمجھتا۔ وہ صرف اتنا پوچھتا ہے: “ابو… میرا اسکول کب شروع ہوگا؟” یہ سوال بظاہر چھوٹا ہے، مگر ایک حساس باپ کے لیے اس کا جواب پوری زندگی کے مشکل ترین سوالوں میں سے ایک بن جاتا ہے۔ میرے ایک دوست ہیں، نام بدل کر انہیں راشد کہہ لیتے ہیں۔ پیشہ صحافت، کتابوں سے محبت، سچ بولنے کی عادت اور اپنے چار سالہ بیٹے ساجد سے بے پناہ عشق۔ جس دن شہر کے ایک معروف اسکول میں انٹرویو تھا، اس دن راشد نے اپنی بہترین قمیص پہنی اور بیوی نے فائل ترتیب دی۔ ہر کاغذ اپنی جگہ موجود تھا، مگر ایک چیز کہیں درج نہیں تھی: اپنے بچے کے لیے ایک باپ کی محبت، کیونکہ اس محبت کا کوئی خانہ فارم میں موجود نہیں تھا۔ ہمارے معاشرے کا شاید ہی کوئی اور امتحان ہو جس کی تیاری تین سالہ بچہ کم اور اس کے والدین زیادہ کرتے ہوں۔ گھر میں روزانہ مشق ہوتی؛ “گڈ مارننگ”، “تھینک یو”، “ایپل، بال، کیٹ”۔ ماں تصویریں دکھاتی، باپ رنگ یاد کراتا، دادا دعائیں دیتا اور دادی نظر اتارتی۔ انٹرویو شروع ہوا تو راشد کے مطابق چند رسمی سوالات کے بعد گفتگو کا رخ اچانک بدل

چلو اسکول، ناکامی سیکھیں! Read More »

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا!

ڈاکٹر اسد اللہ خان آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے باوجود نوکری پا لینا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ آپ میں سینکڑوں صلاحیتیں ہوں، مگر اگر ایک بھی “کمی” نظر آ جائے — کوئی جسمانی معذوری، کوئی کمزوری، کوئی “داغ” — تو پورا چراغ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کام ناممکن نہیں ہوتا، مگر مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ مجھے ایک ایسے ہی ہونہار نوجوان کا قصہ یاد آتا ہے۔ ملک کے ایک ممتاز انجینئرنگ ادارے سے فارغ التحصیل، تعلیمی ریکارڈ اِس قدر شاندار کہ کاغذات دیکھتے ہی ایک بڑی کمپنی نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لینے کا ارادہ کر لیا۔ مگر جب انٹرویو میں یہ کھلا کہ وہ نوجوان قوتِ سماعت کی ایک بیماری میں مبتلا ہے، تو وہی کمپنی — جو ابھی ابھی اُس کی ذہانت پر فریفتہ تھی — چپ چاپ قدم پیچھے کھینچ لائی۔ ڈگری، محنت اور قابلیت — سب ایک “طبی رپورٹ” کے سامنے ہار گئے۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ معذوری جسم کی ہوتی ہے، حوصلے کی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی، اُن میں سے بیشتر نے “کمی” کو “طاقت” میں بدلا۔ آئیے آج ایسے ہی دس روشن چراغوں کی داستانیں سنتے ہیں — جن کی لَو آندھیوں میں بھی بجھی نہیں، بلکہ اور تیز ہوئی۔ عظمت اور ہمت کی روشن مثالیں انسان اگر سچے دل سے کچھ کرنے کا ارادہ کر لے تو جسمانی اعضاء کی محرومی اس کے خوابوں کے آڑے کبھی نہیں آ سکتی۔ تاریخ اور حال کے افق پر ایسے کئی درخشندہ ستارے چمک رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت کے بلبوتے پر طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ شری کانت بولا (Srikanth Bolla): پیدائشی طور پر مکمل نابینا شری کانت بولا کو بچپن ہی سے انتہائی غربت اور سماجی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دسویں جماعت کے بعد سائنس پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، تو بھارتی نظامِ تعلیم نے ان کے نابینا ہونے کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے اس ناانصافی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چھ ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد کامیابی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گیارہویں جماعت میں ۹۸ فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا۔ جب ملک کے مایہ ناز ادارے آئی آئی ٹی (IIT) نے بھی انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا، تو انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ایم آئی ٹی (MIT) کا رخ کیا اور وہاں داخلہ پانے والے پہلے بین الاقوامی نابینا طالب علم بن گئے۔ بھارت واپس آ کر انہوں نے “بولانٹ انڈسٹریز” (Bollant Industries) قائم کی جو ماحول دوست مصنوعات بناتی ہے اور جہاں سیکڑوں معذور افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ آج شری کانت کروڑوں روپے کی کمپنی کے مالک اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک عالمی رول ماڈل ہیں۔ سدھا چندرن (Sudha Chandran): محض ۱۶ سال کی عمر میں ایک خوفناک سڑک حادثے اور ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سدھا چندرن کی دائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ایک کلاسیکل رقاصہ کے لیے یہ مصیبت کسی موت سے کم نہ تھی کیونکہ ان کا پورا کیریئر پاؤں کی تھرکنے سے وابستہ تھا۔ مگر سدھا نے بیساکھیوں کے سہارے جینے کو ٹھکرا دیا اور “جائپور فٹ” (مصنوعی ٹانگ) لگوا کر انتہائی شدید تکلیف کے باوجود دوبارہ رقص سیکھنا شروع کیا۔ مشق کے دوران اکثر ان کے زخموں سے خون بہہ نکلتا تھا، مگر ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اسٹیج پر واپسی کی اور ایسا شاندار رقص پیش کیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ آج وہ نہ صرف ایک عالمی شہرت یافتہ رقاصہ ہیں بلکہ بھارتی فلم و ٹیلی ویژن کی ایک مانی ہوئی اور کامیاب اداکارہ بھی بن چکی ہیں۔ ایرا سنگھل (Ira Singhal): ریڑھ کی ہڈی کی ایک نایاب بیماری “اسکولیوسس” (Scoliosis) کی وجہ سے ایرا سنگھل کے دونوں بازوؤں کی حرکت انتہائی محدود تھی۔ انہوں نے اپنی اس کمزوری کو پڑھائی کے آڑے نہیں آنے دیا اور ۲۰۱۰ میں ملک کا سب سے مشکل امتحان یو پی ایس سی (UPSC) پاس کیا، مگر انتطامیہ نے ان کی جسمانی حالت کا بہانہ بنا کر انہیں سرکاری ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔ ایرا نے اس امتیازی سلوک کو چپ چاپ قبول کرنے کے بجائے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (CAT) میں کیس دائر کیا اور چار سال تک ایک صبر آزما قانونی جنگ لڑ کر اپنا حق جیتا۔ انہوں نے ۲۰۱۴ میں دوبارہ امتحان دیا اور اس بار نہ صرف کامیاب ہوئیں بلکہ پورے ملک میں پہلی پوزیشن (Rank 1) حاصل کر کے جنرل کیٹیگری میں ٹاپ کیا۔ آج وہ ایک بہترین اور نڈر سول سروسز آفیسر کے طور پر ملک کی خدمت کر رہی ہیں۔ ارونیما سنہا (Arunima Sinha): قومی سطح کی والی بال کھلاڑی ارونیما سنہا کی زندگی میں ۲۰۱۱ میں اس وقت اندھیرا چھا گیا جب کچھ چوروں نے انہیں چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا، جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ہسپتال کے بستر پر جہاں لوگ ان پر ترس کھا رہے تھے اور انہیں “بے چاری” سمجھ رہے تھے، انہوں نے وہیں لیٹے لیٹے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کا ناقابل یقین فیصلہ کیا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی انہوں نے پہلی بھارتی خاتون ایورسٹ فاتح بچیندری پال سے سخت ٹریننگ شروع کی۔ سرپھرے عزم کی بدولت ۲۰۱۳ میں وہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی دنیا کی پہلی معذور خاتون بنیں اور اس کے بعد انہوں نے دنیا کے تمام ۷ براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں پر کامیابی سے اپنے ملک کا ترنگا لہرایا۔ تاریخ کے مزید روشن ستارے نک وجیسک (Nick Vujicic): آسٹریلیا میں ۱۹۸۲ میں پیدا ہونے والے نک وجیسک کی جسمانی حالت دیکھ کر لوگ کانپ اٹھتے تھے کیونکہ وہ بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں ہم جماعتوں کی ایذا رسانی اور شدید ذہنی اذیت سے تنگ آ کر محض ۱۰ سال کی عمر میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی اور روتے ہوئے اپنی ماں سے پوچھا تھا کہ

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا! Read More »

تعلیم کے ذریعے ۔۔۔ تعمیر یا تخریب ؟ ۔۔۔

ڈاکٹر اسد اللہ خان بچوں کو آپ اسکول کیوں بھیجتے ہیں؟ یہ سوال سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، اپنے باطن میں اتنا ہی طوفان سموئے ہوئے ہے۔ یہ ایک سوال نہیں، ایک تہذیب کا احتساب ہے۔ ایک تڑپتے ہوئے باپ کا، ایک فکرمند ماں کا اور ایک بکھرتی ہوئی قوم کا وہ مقدمہ ہے جو آج اپنے ہی ہاتھوں اپنی نسل کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہے اور اسے خبر بھی نہیں! جب بھی کسی باپ کی آنکھوں میں جھانک کر یہ پوچھا جائے تو جواب ایک ہی لے میں، ایک ہی بے فکری سے آتا ہے: ”بچے پڑھ لکھ کر کچھ بن جائیں۔” لیکن کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے کہ اس ”کچھ بننے” کا خواب کب کا سکڑ کر محض چند ہزار یا چند لاکھ کی کمائی کا ہدف بن چکا ہے؟ شخصیت کی تعمیر، کردار کی پرورش، ذہن کی روشنی — یہ الفاظ اب صرف اسکولوں کے چمکدار بروشروں میں خوبصورت فونٹ میں چھپتے ہیں، کسی کے دل میں نہیں اترتے۔ والدین بچوں کو اسکول ایسے بھیجتے ہیں جیسے خط کو لفافے میں بند کر کے پوسٹ باکس میں ڈال دیا جائے — کہ اب آگے کا ذمہ ڈاکخانے کا ہے، ہمارا کام ختم ہوا۔ سال ۲۰۲۶ء کا یہ وہ لحظہ ہے جب اس سوال کی گہرائی ہماری برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا طوفان اب دروازے پر دستک نہیں دے رہا، وہ تو ہمارے بیڈرومز اور کلاس رومز کے اندر آ بیٹھا ہے۔ ChatGPT اور Gemini اب ہر چوتھی جماعت کے بچے کی جیب میں ہیں، ہر اسمارٹ فون کے اندر موجود ہیں۔ وہ ہر سوال کا جواب چند سیکنڈ میں اگل دیتے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ آپ کے بچے کا حافظہ کتنا تیز ہے اور وہ کتنے جواب جانتا ہے — اب رونے کا مقام یہ ہے کہ کیا وہ سوچنا بھی جانتا ہے؟ کیا ہم ہڈ ماس کے انسان بنا رہے ہیں یا مائیکرو چپس سے چلنے والے بے جان آلے؟ اسکول کی چہار دیواری: درسگاہ یا عقوبت خانہ؟ جس اسکول میں دیر سے آنے کی سزا یہ ہو کہ آٹھ دس کلو کا بستہ کاندھوں پر لاد کر میدان کے دس چکر لگوائے جائیں — وہاں بچے کے قدم اسکول کی طرف شوق سے بڑھیں گے یا خوف سے؟ جس کلاس میں ایک کی غلطی پر پچاس بچوں کے معصوم ہاتھوں پر بید مار کر لال کر دیا جائے، وہاں محبت کا کون سا پھول اگے گا؟ وہاں صرف اور صرف انتقام کا کانٹا پروان چڑھے گا۔ یہ جسمانی اور ذہنی تشدد اب صرف ماضی کا قصہ نہیں رہا، بلکہ آج ہمارے آس پاس روز کا معمول بن چکا ہے۔ ملک کے الگ الگ کونوں سے آنے والی حالیہ خبریں پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے: بنگلورو کا وحشیانہ واقعہ: ابھی حال ہی میں بنگلورو کے ایک نجی اسکول میں محض دو دن غیر حاضر رہنے پر پانچویں جماعت کے ایک معصوم ۹ سالہ بچے کو اسکول کے انتظامیا نے پلاسٹک کے پائپ سے اس بے رحمی سے پیٹا کہ اس کے پورے جسم پر نیل پڑ گئے، اور حد تو یہ ہے کہ اسے کئی گھنٹوں تک ایک اندھیرے کمرے میں اکیلا بند کر کے تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ جب دکھی والدین نے جواب مانگا، تو انہوں نے ڈھٹائی سے کہا: “ہمارے ہاں ڈسپلن سکھانے کا یہی طریقہ ہے!” آندھرا پردیش میں معصومیت پر وار: چتور کے ایک اسکول میں چھٹی جماعت کی ۱۱ سالہ بچی کلاس میں کسی سے بات کر رہی تھی۔ تیش میں آکر استاد نے اس کی طرف اسکول کا بھاری بستہ اٹھا کر پھینکا۔ بستے کے اندر موجود اسٹیل کا لنچ باکس بچی کے سر پر اتنی زور سے لگا کہ وہ وہیں چکرا کر گر گئی۔ بعد میں جب درد نہ رکا تو ہسپتال کے اسکین میں معلوم ہوا کہ اس معصوم بچی کے سر کی ہڈی (Skull) میں فریکچر آچکا ہے۔ کرناٹک کی بربریت: ایک اور دل سوز لہر اس وقت دوڑی جب ایک رہائشی اسکول (Residential School) کے استاد نے ۹ سال کے ایک چھوٹے سے بچے کو صرف اس لیے زمین پر گرا کر بے رحمی سے لاتوں اور تھپڑوں سے پیٹا کیونکہ اس نے ہاسٹل سے اپنے گھر فون کرنے کی “جسارت” کی تھی۔ وہ معصوم بچہ استاد کے پیروں میں گر کر روتے ہوئے معافیاں مانگ رہا تھا، لیکن اس جلاد کا دل نہیں پگھلا۔ یہ چند مثالیں تو وہ ہیں جو میڈیا کی نظر چڑھیں اور ایف آئی آر تک پہنچیں، ورنہ روزانہ ہزاروں معصوم روحیں ان چہار دیواریوں کے پیچھے سسکتی ہیں اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ ہم ڈسپلن کے نام پر بچوں کو تہذیب نہیں سکھا رہے، بلکہ ان کے اندر کے انسان کو قتل کر رہے ہیں۔ یہ تو وہ جسمانی وحشت ہے جو نظر آ جاتی ہے، لیکن اب جو نئی ڈیجیٹل بربریت آئی ہے، اس نے روحوں کو ایسے زخم دیے ہیں جن کا کوئی ایکسرے نہیں ہو سکتا۔ ممبرا، کلیان اور بھیونڈی کے بعض انگریزی اسکولوں میں اب بچوں کے ہوم ورک کا ‘آن لائن ریکارڈ’ رکھا جاتا ہے۔ بچہ رات کو تھک کر سو گیا، ہوم ورک ادھورا رہ گیا۔ صبح کلاس واٹس ایپ گروپ میں، جہاں پچاس دیگر والدین موجود ہیں، بچے کا نام سرخ حروف میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی مجرم ہو۔ ستر سال پہلے اسکولوں میں سزا کے طور پر بچے کے گلے میں تختی لٹکائی جاتی تھی جس پر لکھا ہوتا تھا: ‘I am Donkey’۔ آج وہ تختی ڈیجیٹل ہو گئی ہے — اسکول ایپ پر ریڈ الرٹ، پیرنٹ پورٹل پر نام، ڈیش بورڈ پر رسوائی! ذریعہ بدل گیا، اساتذہ کی وحشیانہ ذہنیت نہیں بدلی۔ کیا یہ تعلیم ہے؟ یا کسی نازک، معصوم آئینے پر پتھر مار مار کر اسے چکنا چور کرنا اور پھر اس کے ملبے کو پالش کر کے کہنا کہ دیکھو ہم نے کتنا چمکدار شیشہ بنایا ہے؟ انگریزی کا بت اور والدین کا سجدہ ہماری قوم نے انگریزی زبان کے ساتھ جو رشتہ جوڑا ہے، وہ اب زبان کا رشتہ نہیں رہا، وہ اندھی پوجا بن چکا ہے۔ ایک ایسا بت

تعلیم کے ذریعے ۔۔۔ تعمیر یا تخریب ؟ ۔۔۔ Read More »

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا!

محنت کرے انسا ن تو کیا ہو نہیں سکتا! ڈاکٹر اسد اللہ خان آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر لینے کے باوجود نوکری پا لینا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ آپ میں سینکڑوں صلاحیتیں ہوں، مگر اگر ایک بھی ‘کمی’ نظر آ جائے — کوئی جسمانی معذوری، کوئی کمزوری، کوئی ‘داغ’ — تو پورا چراغ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کام ناممکن نہیں ہوتا، مگر مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔ مجھے ایک ایسے ہی ہونہار نوجوان کا قصہ یاد آتا ہے۔ ملک کے ایک ممتاز انجینئرنگ ادارے سے فارغ التحصیل، تعلیمی ریکارڈ اِس قدر شاندار کہ کاغذات دیکھتے ہی ایک بڑی کمپنی نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لینے کا ارادہ کر لیا۔ مگر جب انٹرویو میں یہ کھلا کہ وہ نوجوان قوتِ سماعت کی ایک بیماری میں مبتلا ہے، تو وہی کمپنی — جو ابھی ابھی اُس کی ذہانت پر فریفتہ تھی — چپ چاپ قدم پیچھے کھینچ لائی۔ ڈگری، محنت اور قابلیت — سب ایک ‘طبی رپورٹ’ کے سامنے ہار گئے۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ معذوری جسم کی ہوتی ہے، حوصلے کی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا بدلی، اُن میں سے بیشتر نے ‘کمی’ کو ‘طاقت’ میں بدلا۔ آئیے آج ایسے ہی دس روشن چراغوں کی داستانیں سنتے ہیں — جن کی لَو آندھیوں میں بھی بجھی نہیں، بلکہ اور تیز ہوئی۔ عظمت اور ہمت کی روشن مثالیں انسان اگر سچے دل سے کچھ کرنے کا ارادہ کر لے تو جسمانی اعضاء کی محرومی اس کے خوابوں کے آڑے کبھی نہیں آ سکتی۔ تاریخ اور حال کے افق پر ایسے کئی درخشندہ ستارے چمک رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہمت کے بلبوتے پر طوفانوں کا رخ موڑ دیا۔ شری کانت بولا (Srikanth Bolla): پیدائشی طور پر مکمل نابینا شری کانت بولا کو بچپن ہی سے انتہائی غربت اور سماجی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ حد تو یہ ہوئی کہ جب انہوں نے دسویں جماعت کے بعد سائنس پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، تو بھارتی نظامِ تعلیم نے ان کے نابینا ہونے کا بہانہ بنا کر صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے اس ناانصافی کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور چھ ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد کامیابی حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گیارہویں جماعت میں ۹۸ فیصد نمبر لے کر سب کو حیران کر دیا۔ جب ملک کے مایہ ناز ادارے آئی آئی ٹی (IIT) نے بھی انہیں داخلہ دینے سے انکار کیا، تو انہوں نے ہمت ہارنے کے بجائے امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ایم آئی ٹی (MIT) کا رخ کیا اور وہاں داخلہ پانے والے پہلے بین الاقوامی نابینا طالب علم بن گئے۔ بھارت واپس آ کر انہوں نے ‘بولانٹ انڈسٹریز’ (Bollant Industries) قائم کی جو ماحول دوست مصنوعات بناتی ہے اور جہاں سیکڑوں معذور افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ آج شری کانت کروڑوں روپے کی کمپنی کے مالک اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک عالمی رول ماڈل ہیں۔ سدھا چندرن (Sudha Chandran): محض ۱۶ سال کی عمر میں ایک خوفناک سڑک حادثے اور ڈاکٹروں کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے سدھا چندرن کی دائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ایک کلاسیکل رقاصہ کے لیے یہ مصیبت کسی موت سے کم نہ تھی کیونکہ ان کا پورا کیریئر پاؤں کی تھرکنے سے وابستہ تھا۔ مگر سدھا نے بیساکھیوں کے سہارے جینے کو ٹھکرا دیا اور ‘جائپور فٹ’ (مصنوعی ٹانگ) لگوا کر انتہائی شدید تکلیف کے باوجود دوبارہ رقص سیکھنا شروع کیا۔ مشق کے دوران اکثر ان کے زخموں سے خون بہہ نکلتا تھا، مگر ان کا عزم متزلزل نہ ہوا۔ انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اسٹیج پر واپسی کی اور ایسا شاندار رقص پیش کیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی۔ آج وہ نہ صرف ایک عالمی شہرت یافتہ رقاصہ ہیں بلکہ بھارتی فلم و ٹیلی ویژن کی ایک مانی ہوئی اور کامیاب اداکارہ بھی بن چکی ہیں۔ ایرا سنگھل (Ira Singhal): ریڑھ کی ہڈی کی ایک نایاب بیماری ‘اسکولیوسس’ (Scoliosis) کی وجہ سے ایرا سنگھل کے دونوں بازوؤں کی حرکت انتہائی محدود تھی۔ انہوں نے اپنی اس کمزوری کو پڑھائی کے آڑے نہیں آنے دیا اور ۲۰۱۰ میں ملک کا سب سے مشکل امتحان یو پی ایس سی (UPSC) پاس کیا، مگر انتطامیہ نے ان کی جسمانی حالت کا بہانہ بنا کر انہیں سرکاری ملازمت دینے سے انکار کر دیا۔ ایرا نے اس امتیازی سلوک کو چپ چاپ قبول کرنے کے بجائے سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل (CAT) میں کیس دائر کیا اور چار سال تک ایک صبر آزما قانونی جنگ لڑ کر اپنا حق جیتا۔ انہوں نے ۲۰۱۴ میں دوبارہ امتحان دیا اور اس بار نہ صرف کامیاب ہوئیں بلکہ پورے ملک میں پہلی پوزیشن (Rank 1) حاصل کر کے جنرل کیٹیگری میں ٹاپ کیا۔ آج وہ ایک بہترین اور نڈر سول سروسز آفیسر کے طور پر ملک کی خدمت کر رہی ہیں۔ ارونیما سنہا (Arunima Sinha): قومی سطح کی والی بال کھلاڑی ارونیما سنہا کی زندگی میں ۲۰۱۱ میں اس وقت اندھیرا چھا گیا جب کچھ چوروں نے انہیں چلتی ٹرین سے نیچے پھینک دیا، جس کے باعث ان کی ایک ٹانگ کاٹنی پڑی۔ ہسپتال کے بستر پر جہاں لوگ ان پر ترس کھا رہے تھے اور انہیں ‘بے چاری’ سمجھ رہے تھے، انہوں نے وہیں لیٹے لیٹے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کا ناقابل یقین فیصلہ کیا۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی انہوں نے پہلی بھارتی خاتون ایورسٹ فاتح بچیندری پال سے سخت ٹریننگ شروع کی۔ سرپھرے عزم کی بدولت ۲۰۱۳ میں وہ مصنوعی ٹانگ کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی دنیا کی پہلی معذور خاتون بنیں اور اس کے بعد انہوں نے دنیا کے تمام ۷ براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں پر کامیابی سے اپنے ملک کا ترنگا لہرایا۔ تاریخ کے مزید روشن ستارے نک وجیسک (Nick Vujicic): آسٹریلیا میں ۱۹۸۲ میں پیدا ہونے والے نک وجیسک کی جسمانی حالت دیکھ کر لوگ کانپ اٹھتے تھے کیونکہ وہ بغیر بازوؤں اور ٹانگوں کے پیدا ہوئے تھے۔ بچپن میں ہم جماعتوں کی ایذا رسانی اور شدید ذہنی اذیت سے تنگ آ کر محض ۱۰ سال کی عمر میں انہوں نے خودکشی کی کوشش کی

محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا! Read More »

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری قدرت کی تنبیہ، قرآن کی رہنمائی اور انسانیت کے لیے ایک سبق ڈاکٹر اسد اللہ خان بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاختِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ “بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، اور رات دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔” (سورۃ آل عمران: 190) ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾ “خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا، اس سبب سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔” (سورۃ الروم: 41) بے بس انسان اور آفاقی سچائی دنیا روزانہ جاگتی ہے، لیکن ہر صبح ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض صبحیں سورج کی روشنی کے ساتھ امید لے کر آتی ہیں، اور بعض صبحیں زمین کی لرزش کے ساتھ انسان کو اس کی اصل حیثیت یاد دلا جاتی ہیں۔ کہیں زلزلہ آتا ہے، کہیں سیلاب بستیوں کو نگل جاتا ہے، کہیں آسمان آگ برساتا ہے، کہیں سمندر اپنی حدود توڑ دیتا ہے، اور کہیں ایک معمولی سا وائرس پوری دنیا کی طاقت، معیشت اور ٹیکنالوجی کو گھٹنوں کے بل لا کھڑا کرتا ہے۔ ان واقعات کو اگر صرف “قدرتی آفات” کہہ کر اخبار کے ایک صفحے تک محدود کر دیا جائے تو شاید ہم بہت بڑی حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ مومن کے لیے یہ صرف خبریں نہیں ہوتییں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ قرآن انہیں “آیات” کہتا ہے؛ ایسی نشانیاں جو انسان کو اس کے رب، اس کی کمزوری، اس کی ذمہ داری اور اس کے انجام کی یاد دلاتی ہیں۔ آج کا انسان چاند پر بستیاں بسانے کے خواب دیکھ رہا ہے، مصنوعی ذہانت کو اپنی عقل کا جانشین سمجھنے لگا ہے، اور چند سیکنڈ میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانے پر فخر کرتا ہے۔ اس نے فلک بوس عمارتیں کھڑی کر لیں، سمندر کی تہوں میں اتر گیا، پہاڑوں کو چیر کر شاہراہیں بنا دیں، مگر وہ اب بھی ایک ایسے معمولی سے زلزلے کے سامنے بے بس ہے جو چند لمحوں میں اس کی برسوں کی محنت، دولت، منصوبے اور غرور کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔ یہی انسانی حقیقت ہے جسے قرآن نے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔ ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ “انہوں نے اللہ کی قدر ویسی نہ پہچانی جیسی پہچاننے کا حق تھا، حالانکہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی۔” (سورۃ الزمر: 67) دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبیں صرف جنگوں سے نہیں مٹیں، بعض اوقات ایک جھٹکے نے پوری سلطنتوں کو قصۂ پارینہ بنا دیا۔ قومِ عاد اپنی طاقت پر ناز کرتی تھی، قومِ ثمود اپنے پہاڑ تراش کر محلات بنانے پر فخر کرتی تھی، فرعون اپنے اقتدار کو دائمی سمجھتا تھا، قارون اپنی دولت پر اکڑتا تھا، مگر قدرت نے سب کو ایک لمحے میں تاریخ کا سبق بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار انسان سے سوال کرتا ہے کہ کیا تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھا؟ ﴿أفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ﴾ “کیا وہ زمین میں چلتے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے تھے؟” (سورۃ یوسف: 109) یہ سوال صرف تاریخ پڑھنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کے لیے ہے۔ سانحات، اخلاقی حس اور دل کا زلزلہ گزشتہ دنوں دنیا کے ایک خطے میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک مرتبہ پھر یہی سبق دہرایا۔ چند لمحوں میں مضبوط عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو گئیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے، بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے، والدین اپنی اولاد کو ڈھونڈتے رہ گئے، اور وہ لوگ جو چند منٹ پہلے معمول کی زندگی گزار رہے تھے، اچانک موت اور زندگی کے درمیان کھڑے ہو گئے۔ ایسے مناظر ہر حساس انسان کی آنکھ نم کر دیتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مناظر ہمارے دل بھی بدلتے ہیں؟ افسوس یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب سانحات کو بھی ایک “وائرل ویڈیو” کی طرح دیکھنے لگا ہے۔ چند لمحے افسوس، چند دعائیں، چند تبصرے، اور پھر اگلی خبر؛ گویا انسانی جان کی حرمت بھی خبروں کی رفتار کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ» “زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔” (جامع الترمذی، حدیث: 1924) اسلام نے ہمیں صرف عبادت گزار نہیں بنایا بلکہ دردِ دل رکھنے والا انسان بنایا ہے۔ مومن وہ ہے جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، جو مصیبت زدہ کی مدد کرے، جو بھوکے کو کھانا کھلائے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھے، بے گھر کے لیے پناہ بنے اور مصیبت کے وقت انسانیت کا سہارا بنے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ الْوَاحِدِ» “مومن آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں، جس کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، حدیث: 6011؛ صحیح مسلم، حدیث: 2586) یہی وہ معیار ہے جس پر ہمیں اپنے ایمان کو پرکھنا چاہیے۔ اگر دنیا کے کسی کونے میں آنے والی آفت ہمارے دل کو نہ ہلائے، اگر کسی ماں کی آہ ہمارے ضمیر کو نہ جگائے، اگر کسی یتیم بچے کے آنسو ہمیں بے چین نہ کریں، تو ہمیں اپنے ایمان کی کیفیت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ قدرت کی ہر تنبیہ ہمیں دو سوالوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے: پہلا سوال یہ کہ اگر آج یہ آزمائش ان پر آئی ہے تو کیا یقین ہے کہ کل ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے گی؟ اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال، اگر آج ہماری زندگی کا زلزلہ آ جائے، اگر موت اچانک ہمارے دروازے پر آ کھڑی ہو، تو کیا ہم اپنے رب سے ملاقات کے لیے تیار ہیں؟ یہ سوال کسی جغرافیے، کسی قوم، کسی مذہب یا کسی زبان کا نہیں؛ یہ ہر انسان کا

زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری Read More »

جب معمارِ قوم کا خواب سرِ بازار نیلام ہوا!

(مہاراشٹرا ٹی ای ٹی امتحان: امتحانی نظام کی ارتھی پر ایک ادبی نوحہ) ڈاکٹر اسد اللہ خان تاریخ کے صفحات جب بھی کسی قوم کی تنزلی کی داستان رقم کرتے ہیں، تو سب سے پہلی ضرب اس کے نظامِ تعلیم پر لگاتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک اور دردناک خبر ہے۔ ایک ایسے معاشرے کے لیے جہاں استاد کو “معمارِ قوم” مانا جاتا ہے، وہاں استاد بننے کے امتحان (TET) کی حرمت کا سرِ بازار نیلام ہو جانا کسی المیے سے کم نہیں۔ آج ریاستِ مہاراشٹرا کے ضلع تھانے سے آنے والی خبر محض ایک امتحان کی منسوخی کی اطلاع نہیں ہے، بلکہ یہ اس دھرتی کے لاکھوں ہونہار، محنتی اور بے گناہ نوجوانوں کے خوابوں کا قتلِ عام ہے۔ یہ استاد کی عظمت، علم کی حرمت اور عدل و انصاف کے جنازے کی وہ شہ سرخیاں ہیں، جنہیں دیکھ کر قلم خون کے آنسو روتا ہے اور زبان گنگ رہ جاتی ہے۔ علم کی منڈی اور ضمیر کے سوداگر کتنی ستم ظریفی ہے کہ جس امتحان کا مقصد معاشرے کو “صالح اور ایماندار معمار” فراہم کرنا تھا، اسی امتحان کا پرچہ امتحانی مراکز تک پہنچنے سے پہلے ہی چند ٹکوں کے عوض ضمیر کے سوداگروں کی تجوریوں کی زینت بن گیا۔ پولیس کا تھانے میں چھاپہ مارنا، سوالیہ پرچوں کا ضبط ہونا اور چند کالی بھیڑوں کا حراست میں لیا جانا—یہ اس گلے سڑے نظام کی وہ بدبو ہے جو اب پورے معاشرے کا دم گھونٹ رہی ہے۔ تعلیم جو روشنی کا مینار تھی، آج اسے ہوس اور بدعنوانی کے اندھیروں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جب رہزن ہی پاسبان بن جائیں، تو قافلے کا لٹ جانا حیرت انگیز نہیں رہتا۔ ان امتحانی پرچوں کو بیچنے والوں نے صرف کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں بیچے، انہوں نے اس ٹیچر طالب علم کی راتوں کی نیندیں بیچی ہیں جو مٹی کے تیل کے دیے کی مدہم روشنی میں کتابیں چاٹ رہا تھا۔ انہوں نے اس بوڑھے باپ کی پونجی بیچی ہے جس نے اپنے بچے کو ‘شکشک’ (استاد) بنانے کے لیے اپنی کمر سیدھی نہیں ہونے دی۔ امتحانی نظام کا تاریک ماضیِ:تھانے کا یہ حالیہ واقعہ کوئی پہلی لغزش نہیں ہے، بلکہ یہ اس طویل اور گہرے کینسر کی ایک نئی علامت ہے جو مہاراشٹرا اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشنز (MSCE) کو اندر سے کھوکھلا کر چکا ہے۔ اگر ہم ماضی کے اوراق الٹیں، تو TET امتحانات کی تاریخ بدعنوانی اور گھوٹالوں کی سیاہی سے لت پت نظر آتی ہے۔تھانے کا یہ حالیہ سانحہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس گہرے کینسر کی ایک ہولناک کڑی ہے جو مہاراشٹرا اسٹیٹ کونسل آف ایگزامینیشنز کی رگوں میں برسوں سے سرایت کیے ہوئے ہے۔ مہاراشٹرا کا امتحانی نظام خصوصاً اس وقت رہنِ ستم ہوا جب پونے سائبر پولیس نے ماضی کے امتحانات میں ہونے والی ایسی سنسنی خیز دھاندلیوں کا پردہ فاش کیا جس نے پورے تعلیمی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ انکشافات محض سرسری بے ضابطگیاں نہیں تھیں، بلکہ میرٹ کے مقتل میں قابلیت کا باقاعدہ اور منظم قتلِ عام تھا، جہاں عہدیداروں اور دلالوں کے گٹھ جوڑ نے ہر بار کامیابی کے نئے طریقے ایجاد کیے۔ اس گھوٹالے کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ امتحانی بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار ہی رشوت خوری کے بازار میں سب سے بڑے خریدار نکلے۔ اس منظم لوٹ مار کا ایک بدترین باب سال 2018 کے ٹی ای ٹی امتحان میں رقم کیا گیا۔ اس دوران ضمیر کے سوداگروں نے چوری چھپے امتحانی نظام کے دل یعنی او ایم آر (OMR) شیٹس کے ساتھ مجرمانہ ہیر پھیر کی۔ وہ امیدوار جو قابلیت کی دوڑ میں بری طرح ناکام (فیل) ہو چکے تھے، راتوں رات ان کے کھوٹے سکوں کو کھرے نوٹوں کے عوض کامیابی کے تمغوں میں بدل دیا گیا۔ جب پولیس نے اس گھناونے کھیل کی تہیں اکھاڑیں، تو قانون کی آنکھیں بھی کھلی کی کھلی رہ گئیں؛ تحقیقات کے بعد 1,663 ایسے فرضی امیدواروں کا بھیانک چہرہ بے نقاب ہوا جنہوں نے رشوت کے بلبوتے پر کامیابی کی سند خریدی تھی، جس کے بعد ان پر تاحیات امتحانی پابندی عائد کر دی گئی۔ ابھی اس زخم کی سیاہی چھٹی بھی نہ تھی کہ سال 2019 کا ٹی ای ٹی امتحان اس تعلیمی تاریخ کا سب سے بڑا اور ہولناک دھچکا ثابت ہوا۔ اس بار سازش کاروں نے دستی ہیر پھیر کے بجائے براہِ راست ڈیجیٹل نظام پر شب خون مارا اور کمپیوٹرائزڈ رزلٹ ڈیٹا بیس کے اندر گھس کر نمبروں کے ہندسے بدل دیے۔ یہ بدعنوانی کا وہ طوفان تھا جس نے قابلیت کی ہر دیوار کو منہدم کر دیا۔ اس سازش کے نتیجے میں 7,880 نااہل امیدواروں کو غیر قانونی طور پر ‘کامیاب’ قرار دے کر اسناد بانٹ دی گئیں، جنہیں بعد میں سنگین تحقیقات کے بعد منسوخ کرنا پڑا۔ اس پورے ریکیٹ کا سب سے لرزہ خیز اور حیرت انگیز پہلو وہ گرفتاریاں تھیں جنہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ باڑھ ہی کھیت کو کھا رہی ہے۔ جب قانون کا شکنجہ کسا، تو اس نظام کے سب سے بڑے پاسبان ہی رہزن نکلے۔ امتحانی بورڈ کے سابق کمشنر سکھدیو ڈیرے، پونے کے اسسٹنٹ کمشنر، اور امتحانات کا انتظام سنبھالنے والی ‘جی اے سافٹ ویئر کمپنی’ کے اعلیٰ ڈائریکٹرز ایک ایک کر کے سلاخوں کے پیچھے پہنچ گئے۔ ان مقتدر کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کی گرفتاری نے یہ مہرِ تصدیق ثبت کر دی کہ امتحانی نظام پر سے اب طلبہ کا اعتماد سو فیصد اٹھ چکا ہے، اور جس محکمے کو قوم کا مستقبل سنوارنا تھا، اس کی اپنی ساکھ اب تاریخ کے سب سے گہرے ملبے کے نیچے دفن ہو چکی ہے۔ ان پچھلے گھوٹالوں کے دوران لگ بھگ 9,500 سے زائد ایسے اساتذہ کی فہرست جاری کی گئی تھی جنہوں نے لاکھوں روپے کی رشوت دے کر فرضی اسناد حاصل کیں اور ریاست کے اسکولوں میں نوکریاں حاصل کر لیں۔ یہ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ جب امتحانی نظام کے چوکیدار ہی چور بن جائیں، تو قابلیت اور میرٹ کی موت یقینی ہو جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے طلبہ کی مایوسی کے اس منظر کا!مہینوں کی ریاضت، دن رات کی بیداری، کتابوں سے عشق اور آنکھوں میں ایک روشن

جب معمارِ قوم کا خواب سرِ بازار نیلام ہوا! Read More »

تعلیم:انسان بنانے کا فن یا امتحان پاس کرانے کی مشین؟

علم وہ ہے جو انسان کو انسان بنائے، نہ کہ وہ جو اسے مشین بنا دے ڈاکٹر اسداللہ خان زندگی میں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی تحریر ہاتھ میں لیتے ہیں اور پڑھتے پڑھتے اچانک رک جاتے ہیں۔ قلم نیچے رکھ دیتے ہیں۔ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اور دل کے کسی گہرے گوشے سے ایک آواز آتی ہے کہ یہی تو میں کہہ رہاتھا۔ ہوا یوں کہ آج کے ٹائمز آف انڈیا میں این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر، پروفیسر دنیش پرساد سکلانی کا مضمون پڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے میرے دل و دماغ میں مدتوں سے گردش کرنے والے خیالات کو کسی اور نے لفظوں کے قالب میں ڈھال دیا ہو۔ ہر سطر، ہر استدلال اور ہر سوال میرے اپنے فکری سفر کی بازگشت معلوم ہوا۔ ایسا لگا گویا میرے لاشعور میں پوشیدہ تصورات، میرے دل کی دھڑکنوں اور میرے تعلیمی فلسفے کو صفحۂ قرطاس پر منتقل کر دیا گیا ہو۔ میں نے مضمون نہیں پڑھا، بلکہ اپنے ہی خیالات کو ایک نئے قلم سے لکھا ہوا پایا۔ مجھے میر کا وہ مصرع یاد آ گیا جو اردو شاعری کی سب سے لطیف نفسیاتی دریافتوں میں سے ایک ہے “میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے”۔ یہ مصرع محض ایک شعری تجربے کا بیان نہیں — یہ اس کیفیت کا نام ہے جب کوئی بات آپ کے اندر اتنی گہری اتر چکی ہو کہ آپ اسے اپنی سمجھتے ہی نہیں، اور پھر جب کوئی دوسرا انسان وہی بات کہہ دے تو آپ چونک اٹھتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ رَٹّا لگانا کبھی ہندوستان کی روح نہیں رہا۔ کہ اس سرزمین نے نچیکیتا کو پیدا کیا جس نے موت سے سوال کیا، گارگی پیدا کی جس نے برہمنوں کے سردار کو خاموش کیا، کناد پیدا کیا جس نے ایٹم کا تصور دیا، سشروت پیدا کیا جس نے جراحی سکھائی، آریہ بھٹ پیدا کیا جس نے صفر دریافت کیا — اور یہ سب رَٹّے سے نہیں، سوال سے، تجربے سے، مشاہدے سے، دلیل سے پیدا ہوئے۔ اور کہ پھر ایک نوآبادیاتی طوفان آیا اور اس نے اس روایت کو چھین لیا۔ علم کی جگہ ملازمت نے لے لی۔ سوال کی جگہ رَٹّے نے لے لی۔ تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی۔ یہ پڑھ کر میں نے سوچا — کیا یہ صرف تعلیم کی کہانی ہے؟ نہیں۔ یہ ہماری پوری تہذیبی روح کی کہانی ہے۔ اگر آج نچیکیتا کسی اسکول میں داخل ہو جائے تو کیا ہوگا؟ وہی نچیکیتا جس نے موت کے دیوتا یمراج کے دروازے پر تین دن اور تین رات کھڑے رہ کر علم طلب کیا تھا۔ وہی نچیکیتا جس کے سوالوں نے کٹھ اُپنشد کو جنم دیا اور جس کی جستجو نے آنے والی نسلوں کے لیے فکر کا ایک لافانی سرچشمہ کھول دیا۔ وہ بچہ جو موت سے نہ ڈرا، کیا وہ ہمارے نصاب کی تنگ گلیوں میں سانس لے پاتا؟ کیا آج کا استاد اس کی حوصلہ افزائی کرتا؟ کیا آج کے اسکول میں اس کے لیے کوئی جگہ ہوتی؟ یا اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا کہ یہ سوال نصاب میں نہیں ہے، امتحان میں نہیں آئے گا، وقت ضائع مت کرو۔ یہ سوال محض ایک فرضی تصور نہیں۔ یہ ہمارے پورے نظامِ تعلیم کے لیے ایک بے رحم آئینہ ہے جس میں ہم اپنی خامیاں دیکھنے سے ڈرتے ہیں۔ کیونکہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے بچے کیا پڑھ رہے ہیں۔ اصل اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم انہیں سوچنے دے رہے ہیں یا نہیں۔ جب ہم ہندوستانی علمی روایت کی گہرائیوں میں اترتے ہیں تو ایک انوکھا اور فخر انگیز منظر سامنے آتا ہے۔ یہاں علم کبھی بھی ایک مُردہ معلومات کا ذخیرہ نہیں رہا۔ یہاں سوال عبادت تھا، مکالمہ تعلیم تھا، تلاشِ حقیقت زندگی کا مقصد تھی۔ اُپنشدوں کے عظیم مباحثے دیکھیے — جہاں استاد شاگرد کو جواب نہیں دیتا تھا، بلکہ سوال پوچھتا تھا۔ گارگی اور یاجنوالکیہ کے درمیان وہ تاریخی فکری مناظرہ دیکھیے جس میں ایک خاتون نے براہمنوں کے سردار کو ایسے سوالوں سے جھنجھوڑا کہ وہ خاموش ہو گئے۔ آچاریہ کناد کے ایٹم کے تصور کو دیکھیے جو آج کی جدید طبیعیات کا پیشرو تھا۔ آریہ بھٹ کے ریاضیاتی انکشافات دیکھیے جو اپنے عہد سے صدیوں آگے تھے۔ نالندہ اور تکشیلا کی مہان درسگاہوں کو دیکھیے جہاں دنیا کے کونے کونے سے طالبِ علم آتے تھے — نہ ڈگری کے لیے، بلکہ علم کی پیاس بجھانے کے لیے۔ نالندہ میں دس ہزار سے زائد طالبِ علم اور دو ہزار اساتذہ تھے۔ وہاں کا کتب خانہ اتنا عظیم تھا کہ جب اسے جلایا گیا تو وہ تین ماہ تک جلتا رہا۔ یہ صرف عمارتیں نہیں تھیں — یہ ایک تہذیبی دماغ تھا، ایک زندہ روح تھی جو ہزاروں انسانوں کی فکر سے مل کر بنی تھی۔ ہمارے آباء نے کتابوں کو مقدس ضرور سمجھا، مگر سوچنے کے دروازے کبھی بند نہیں کیے۔ وہ جانتے تھے کہ بند دروازے والا ذہن علم کا نہیں، خوف کا گھر بنتا ہے۔ پھر ایسا کیا ہوا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر محب تعلیم کی نیند اڑا دیتا ہے۔ ایسا کیا ہوا کہ سوال کرنے والی قوم رَٹّا کرنے والی قوم بن گئی؟ ایسا کیا ہوا کہ تحقیق کی جگہ تقلید نے لے لی؟ ایسا کیا ہوا کہ فہم کی جگہ نمبروں نے اور علم کی جگہ سرٹیفکیٹ نے لے لی؟ اس سوال کا جواب ہمیں نوآبادیاتی تاریخ کے تاریک اوراق میں ملتا ہے۔ ۱۸۳۵ء میں جب لارڈ میکالے نے اپنا وہ بدنامِ زمانہ منٹ لکھا تو اس نے صرف ایک نصاب نہیں بدلا — اس نے ایک پوری قوم کے سوچنے کا انداز بدل دیا۔ آہستہ آہستہ تعلیم زندگی کی تیاری کے بجائے امتحان کی تیاری بن گئی۔ اسکول شخصیت سازی کے مراکز کے بجائے امتحانی کارخانے بن گئے۔ اور استاد — علم کا وہ چراغ جو تاریکیوں میں روشنی دیتا تھا — نصاب مکمل کرنے والا ملازم بنتا گیا۔ ۱۹۴۷ء میں ہم نے سیاسی آزادی حاصل کی لیکن ذہنی آزادی؟ وہ ابھی بھی نوآبادیاتی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ ہم نے عمارتیں بدل دیں، پرچم بدل دیا، حکمران بدل دیے مگر تعلیم کا وہ نوآبادیاتی

تعلیم:انسان بنانے کا فن یا امتحان پاس کرانے کی مشین؟ Read More »

ممبئی لوکل ٹرین کا ایک المیہ، خاموش معاشرہ اور مرتی ہوئی انسانیت

ڈاکٹر اسد اللہ خان کچھ دن پہلے پوری دنیا سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھی۔ لوگ حفاظتی چشمے خرید رہے تھے، دوربینیں لگا رہے تھے اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائے اس نادر فلکیاتی منظر کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن افسوس… ہم آسمان پر چھانے والے چند لمحوں کے اندھیرے کو تو دیکھ لیتے ہیں، مگر اپنے دلوں، اپنے معاشرے اور اپنی تہذیب پر چھا جانے والے دائمی اندھیرے کو محسوس نہیں کرتے۔ سورج پر لگنے والا گرہن چند منٹوں میں ختم ہو جاتا ہے، مگر انسان کے ضمیر پر لگنے والا گرہن نسلوں تک باقی رہتا ہے۔ ممبئی کی لوکل ٹرین میں پیش آنے والا مینک لوہار کا المناک قتل اسی اندرونی گرہن کی ایک خوفناک علامت ہے۔ یہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی، ہمارے بکھرتے ہوئے سماجی رشتوں اور مرتی ہوئی تہذیب کا نوحہ ہے۔ ممبئی لوکل… صرف ٹرین نہیں، پورے شہر کا دل ہے ممبئی کی لوکل ٹرین کو لوگ محض ایک ٹرانسپورٹ سسٹم سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ شہر کی شہ رگ ہے۔ یہ روزانہ لاکھوں خوابوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔ کوئی مزدور اپنے بچوں کی روٹی کے لیے سفر کر رہا ہوتا ہے، کوئی طالب علم اپنے مستقبل کی تلاش میں نکلتا ہے، کوئی ماں اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے جا رہی ہوتی ہے، اور کوئی نوجوان اپنی پہلی ملازمت کے خواب سجا رہا ہوتا ہے۔ کوئی نوجوان اپنی پہلی تنخواہ کے خواب سجاتا ہے۔ان ہی ڈبوں میں کتنی دعائیں سفر کرتی ہیں، کتنی امیدیں بیٹھتی ہیں، کتنے منصوبے جنم لیتے ہیں۔ یہ ٹرین صرف جسموں کو نہیں بلکہ امیدوں، خوابوں، ذمہ داریوں اور مستقبل کو ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن تک پہنچاتی ہے۔ مگر جب اسی ٹرین کے اندر خون بہنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ صرف ایک مسافر نہیں مرا، بلکہ پورا معاشرہ زخمی ہوا ہے۔ صرف ایک جملہ… ایک درخوست اور ایک زندگی ہمیشہ کے لئے خاموش کر دی گئی۔ منگل، ۲۳ جون کی وہ رات بظاہر ہر رات کی طرح معمول کی تھی۔ چرچ گیٹ سے نالاسوپارا جانے والی فاسٹ لوکل اپنی رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ فرسٹ کلاس کوچ میں عام دنوں کی طرح لوگ بیٹھے تھے؛ کسی کے کانوں میں ائیر فون تھے، کوئی موبائل پر مصروف تھا، اور کوئی تھکن سے اونگھ رہا تھا۔ اسی دوران بائیس سالہ مینک لوہار نے صرف اتنی سی گزارش کی کہ دروازہ بند کر دیا جائے۔ سوچیے… صرف ایک جملہ۔ صرف ایک گزارش۔ “براہِ کرم دروازہ بند کر دیجیے۔” کیا کسی مہذب معاشرے میں یہ جملہ موت کی سزا بن سکتا ہے؟ لیکن ممبئی کی اس لوکل ٹرین میں ایسا ہی ہوا۔ یہ ایک معمولی درخواست تھی، لیکن سامنے کھڑا شخص ۳۰ سالہ، ممبئی ائیر پورٹ کے کارگو سیکشن میں کام کرنے والا روشن سورنا، معمولی ذہنی کیفیت میں نہیں تھا۔ اس کے اندر شاید برسوں کا غصہ، ناکامیاں، مایوسیاں، شراب کا نشہ، اور انا کا زہر جمع تھا۔ ایک لمحے میں چاقو نکلا، چند سیکنڈ میں کئی وار ہوئے، اور ایک ہنستا کھیلتا نوجوان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ ایک بائیس سالہ نوجوان، جس کے والدین نے شاید صبح اسے دعاؤں کے ساتھ گھر سے رخصت کیا ہوگا، جس کی ماں نے شام کو اس کے پسندیدہ کھانے کا سوچا ہوگا، جس کے خواب ابھی حقیقت بننے ہی والے تھے… چند لمحوں میں خون میں نہلا دیا گیا۔ قاتل صرف ایک شخص نہیں تھا…؟ اخبارات لکھیں گے کہ قاتل فلاں شخص تھا، پولیس چارج شیٹ داخل کرے گی، اور عدالت سزا سنائے گی۔ لیکن اگر ہم صرف اتنا سمجھ کر مطمئن ہو جائیں تو شاید ہم اصل مجرم کو کبھی نہ پہچان سکیں۔ سوال یہ ہے کہ اس بوگی میں بیٹھے ہوئے درجنوں مسافر کیا کر رہے تھے؟ کیا ان میں سے کوئی ایک شخص بھی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا؟ کیا چار پانچ افراد مل کر قاتل کو قابو نہیں کر سکتے تھے؟ یا پھر ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں انسان صرف اپنی جان بچانے کا نام ہے؟ یہ خاموش تماشائی کون تھے؟ ہم… آپ… ہم سب۔ قاتل صرف ایک شخص تھا… یا ہم سب؟ پولیس اپنی کارروائی مکمل کر لے گی۔ تب شاید عدالت قاتل کو سزا دے۔ اور پھر اخبارات نئی سرخیاں تلاش کر لیں گے۔ لیکن ایک سوال شاید کبھی ختم نہ ہو۔ جب مینک زمین پر گرا تھا… جب اس پر وار ہو رہے تھے… جب وہ زندگی اور موت کے درمیان آخری سانسیں لے رہا تھا… تب اس بوگی میں بیٹھے ہوئے درجنوں لوگ کیا کر رہے تھے؟ کیا ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے؟ کیا ان کی زبانیں گونگی ہو گئی تھیں؟ یا پھر ان کے دلوں سے انسانیت رخصت ہو چکی تھی؟ یہ سوال صرف ان مسافروں سے نہیں… یہ سوال ہم سب سے ہے۔ ہم کب اتنے بے بس، اتنے خوف زدہ اور اتنے خود غرض ہو گئے کہ ایک انسان کو مرتا دیکھ کر بھی خاموش بیٹھے رہے؟ یہی وہ لمحہ تھا جب ایک شخص نے چاقو چلایا، مگر درحقیقت پورا معاشرہ خاموش کھڑا رہا۔ دنیا میں سب سے خطرناک آواز گولی کی نہیں ہوتی… سب سے خطرناک آواز اچھے لوگوں کی خاموشی کی ہوتی ہے۔ اب ہمیں انسانوں سے نہیں، ان کے غصے سے ڈر لگتا ہے آج اگر کوئی شخص ٹرین میں بلند آواز میں موبائل چلا رہا ہو… اگر کوئی بدتمیزی کر رہا ہو… اگر کوئی دوسروں کو تکلیف پہنچا رہا ہو… تو اکثر لوگ خاموش رہتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ غلط کو صحیح سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس لیے کہ اب ہمیں قانون سے زیادہ انسانوں کے اندر چھپے ہوئے غصے سے خوف آنے لگا ہے۔ ہر شخص سوچتا ہے… “اگر میں نے کچھ کہا تو؟” “اگر سامنے والا ذہنی دباؤ کا شکار ہوا تو؟” “اگر اس کے ہاتھ میں چاقو ہوا تو؟” “اگر کل اخبار میں میری تصویر چھپ گئی تو؟” سوچیے… جس معاشرے میں صحیح بات کہنا جان کا خطرہ بن جائے، وہاں تہذیب زندہ کیسے رہ سکتی ہے؟ یہ خوف صرف ایک فرد کا نہیں، یہ پورے شہر کی نفسیات بن چکا ہے۔ ہم سب کے اندر ایک خاموش جنگ جاری

ممبئی لوکل ٹرین کا ایک المیہ، خاموش معاشرہ اور مرتی ہوئی انسانیت Read More »