بچےّ ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے!!!
جدید سماجی زوال، ڈیجیٹل یلغار اور معصومیت کا قتلِ عام ڈاکٹر اسداللہ خان دہلی پبلک اسکول کے اس پرانے ایم ایم ایس اسکینڈل کو گزرے برسوں بیت گئے، جسے کبھی سماج نے ایک غیر متوقع زلزلہ سمجھا تھا۔ اس وقت لوگ چونکے تھے کہ پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے۔ لیکن آج، سن 2026ء کے اس مہیب ڈیجیٹل دور میں جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو وہ پرانا واقعہ محض ایک معصومانہ لغزش محسوس ہوتا ہے۔ آج پانی سر سے اونچا نہیں ہوا، بلکہ پورا معاشرہ ہی اخلاقی دیوالیہ پن اور بے ہنگم ٹیکنالوجی کے طوفان میں غرق ہو چکا ہے۔ اب چونکنے کا وقت بھی گزر گیا، اب تو صرف ماتم کا دور ہے۔ کل کا بچہ وقت سے پہلے بالغ ہو رہا تھا، مگر آج کا بچہ وقت سے پہلے “چالباز” اور مجرمانہ ذہنیت کا حامل ہو رہا ہے۔ کل معصومیت داغدار ہوئی تھی، آج معصومیت کا بیج ہی دجالی ٹیکنالوجی کی بھٹی میں جھلس کر راکھ ہو چکا ہے۔آج ہندوستان، بالخصوص مہاراشٹرا اور ملک کے دیگر حصوں سے روزانہ جو خبریں اخبارات کی سرخیاں بنتی ہیں، وہ روح کو کپکپا دینے کے لیے کافی ہیں۔ ممبئی اور پونے جیسے میٹرو شہروں میں نویں اور دسویں جماعت کے معصوم نظر آنے والے بچے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا ایپس پر جعلی پروفائلز بنا کر اپنے ہی ہم جماعتوں یا بڑوں کو “ہنی ٹریپ” کر رہے ہیں اور لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں اب کسی کیمرے سے چوری چھپے ویڈیو بنانے کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ اسکول کے بچے اپنے ہی دوستوں اور اساتذہ کی تصاویر کو چند سیکنڈز میں “ڈیپ فیک” ٹیکنالوجی کے ذریعے نازیبا تصاویر اور ویڈیوز میں تبدیل کر کے وائرل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ مہاراشٹرا سائبر سیل کے ریکارڈز ایسے نابالغ مجرموں کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ بچوں کے بستوں سے اب صرف مانع حمل ادویات ہی نہیں نکلتیں، بلکہ ان کے موبائل والٹس میں لاکھوں روپے کی ڈیجیٹل کرنسی اور آن لائن سستے نشے سپلائی کرنے والے نیٹ ورکس کے لنکس ملتے ہیں، جن کا سراغ لگانا قانون کے لیے بھی دردِ سر بن چکا ہے۔ دہلی، ممبئی، بنگلور یا کولکتہ کا کوئی نام نہاد باوقار اسکول اب اس وبا سے محفوظ نہیں ہے۔ کچی عمر کی “ماریا” اب گلی کے نکر پر راکی کا انتظار نہیں کرتی، وہ ڈیٹنگ ایپس کے خفیہ چیٹ رومز میں رات بھر ورچوئل عریانیت کا سودا کرتی ہے۔ “پشپا” اب صرف بستہ لے کر گھر سے غائب نہیں ہوتی، وہ آن لائن گھوٹالے کے ذریعے سرحد پار بیٹھے مجرموں کے چنگل میں پھنس کر انسانی اسمگلنگ کا ایندھن بن جاتی ہے۔ عریانیت کا نیا روپ: او ٹی ٹی اور پرائیویٹ اسکرینز ہماری نسل نے جس “ایڈیٹ باکس” یعنی ٹیلی ویژن کا رونا رویا تھا، وہ تو اب ڈرائنگ روم کا ایک بے ضرر شو پیس بن کر رہ گیا ہے۔ اب اصل فتنہ ہر بچے کی جیب میں موجود “ذاتی اسکرین” ہے۔ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر سنسرشپ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جو مواد پگھلا کر بچوں کے ذہنوں میں اتارا جا رہا ہے، اس نے حیا اور پاکیزگی کے مفاہیم ہی بدل دیے ہیں۔انسٹاگرام ریلز پر چند “لائکس” اور “ویوز” کے لیے بارہ چودہ سال کی بچیوں کا نیم برہنہ رقص اور لڑکوں کا گینگسٹر کلچر کو آئیڈیل بنانا اب ایک عام چلن ہے۔ انٹرنیٹ اب معلومات کا ذریعہ نہیں، شہوت، خشونت اور ذہنی گندگی کا وہ سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ نفسیاتی زوال اور خودکشیوں کا سیلاب جب ایک کچا اور ناپختہ ذہن اس مہیب دلدل میں قدم رکھتا ہے، تو وہ اس کے انجام سے بے خبر ہوتا ہے۔ وہ صرف ایک “تجربہ” کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ تجربہ اسے ایک ایسے اندھے کنویں میں دھکیل دیتا ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ پہلے جھجک مرتی ہے، پھر حیا رخصت ہوتی ہے، پھر عقل کا چراغ گل ہوتا ہے اور آخر کار جب وہ عملی اقدام کی ذلت میں پھنستا ہے، تو بلیک میلنگ، بدنامی اور ذہنی دباؤ اسے موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں۔ یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے تازہ ترین اعداد و شمار گواہ ہیں کہ ملک میں نابالغ بچوں میں خودکشی کی شرح میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ پچھلی دہائی کے مقابلے میں نشہ آور اشیاء کا استعمال اسکول کے بچوں میں دگنا ہو چکا ہے۔ کم عمر بچے اب جرائم کی دنیا کا صرف ایندھن نہیں ہیں، بلکہ وہ شوٹر، سپلائر اور ہیکر بن کر ابھر رہے ہیں۔ سماج کے دانشور اب بھی وہی پرانا راگ الاپ رہے ہیں: “سیکس ایجوکیشن۔” مگر سوال یہ ہے کہ کیا سیکس ایجوکیشن اس طوفان کو روک سکتی ہے؟ ہمارے اسکولوں کا نظام، جہاں اساتذہ خود اخلاقی زوال کا شکار ہیں یا اس موضوع کی حساسیت سے ناواقف ہیں، وہاں یہ تعلیم صرف ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے۔ حکومتیں نصاب بدلتی ہیں، کلاسیں چلاتی ہیں، لیکن نتیجہ؟ معصوم ذہنوں کو وقت سے پہلے وہ سب کچھ پتا چل جاتا ہے جس کی انہیں ضرورت بھی نہیں تھی۔ یہ علاج نہیں، بلکہ کچے ذہنوں میں جنسی جراثیم کی دانستہ پیوند کاری ہے۔ کام بننے کے بجائے مزید بگڑ جاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں مہاراشٹرا کے دارالحکومت ممبئی کے ایک انتہائی مہنگے اور نامور انٹرنیشنل اسکول کا ایک واقعہ سامنے آیا، جس نے پولیس اور ماہرینِ نفسیات دونوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ دسویں جماعت کے تین لڑکوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ٹولز استعمال کر کے اپنی ہی ہم جماعت لڑکیوں کی تصاویر کو نازیبا اور برہنہ تصاویر میں تبدیل کر دیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ ان چودہ پندرہ سال کے بچوں نے ان تصاویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر ان لڑکیوں سے لاکھوں روپے اور مہنگے گجٹس کا مطالبہ کیا۔ جب ایک لڑکی نے ڈپریشن میں آ کر خودکشی کی کوشش کی، تب جا کر یہ عقدہ کھلا۔ ذرا سوچیے، جس عمر میں بچے کھلونوں اور پڑھائی کے تناؤ سے گزرتے تھے، اس عمر میں وہ سائبر کرائم اور بلیک میلنگ کے ماسٹر مائنڈ بن چکے ہیں۔ نابالغوں میں
بچےّ ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے!!! Read More »









